Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

اسلام علیکم


Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

ﷲ آپ کو جزا ئے خیر دے

7 months ago | [YT] | 13

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آمین

7 months ago | [YT] | 111

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

ایک جدید شہر میں ایک عجیب و خاص منظر نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک بڑی شاہراہ پر ایک بہت بڑا ٹرک رواں دواں تھا، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس پر ایک عام سامان نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان قرآن مجید رکھا تھا — اتنا بڑا کہ جیسے ایک عمارت ہو!

لوگ راستے کے دونوں طرف کھڑے ہو کر حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ آنکھوں میں آنسو، کچھ دل میں سکون، اور کچھ زبان پر سبحان اللہ کہہ رہے تھے۔ مسجدوں کے مینار خاموشی سے اس قرآن کا استقبال کر رہے تھے، جیسے شہر کی روح کو نئی زندگی مل رہی ہو۔

یہ قرآن صرف ایک نقل نہیں تھا، بلکہ علامت تھا اُس وعدے کا جو اللہ نے فرمایا: "ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
(سورۃ الحجر: 9)

یہ منظر ہر دل کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ چاہے دنیا کتنی ہی ترقی کر جائے، قرآن کی روشنی ہر سڑک، ہر دل، اور ہر قوم میں چمکتی رہے گی۔ یہ ٹرک، دراصل ایک "قرآنی کشتی" بن چکا تھا جو دلوں کے سمندر میں سفر کر رہا تھا — ہدایت، سکون، اور رحمت کا پیغام لے کر۔

🌙 سبق:
قرآن کو صرف کتاب نہ سمجھو، یہ زندگی کا راستہ ہے۔ جہاں بھی جائے، وہاں روشنی، سکون اور برکت لے آتا ہے۔

8 months ago | [YT] | 2

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

چاندنی رات کا انتظار

ایک خاموش گاؤں کی سنسان گلی میں، جہاں رات کا اندھیرا اور چاندنی روشنی ایک ساتھ کھیل رہے تھے، ایک چھوٹے سے پرانے گھر میں اماں جی اپنے بیٹے فہد کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ شہر گیا تھا کام کی تلاش میں، اور آج وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئے گا۔

گھر کے باہر لگے درخت کی شاخیں ہوا سے جھول رہی تھیں، اور اماں جی نے دروازے کے پاس چھوٹا سا چراغ جلایا تھا، تاکہ فہد دور سے آتے ہوئے سمجھ جائے کہ ماں ابھی جاگی ہوئی ہے۔

وقت گزرتا رہا، راستہ سنسان ہوتا گیا۔ اماں کی آنکھیں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں، دل میں دعا کرتی رہیں:
“یا اللہ میرا بچہ خیر سے لوٹ آئے، بس ایک بار دیکھ لوں…”

چاند سر پر آ چکا تھا جب دور سے کسی کے قدموں کی آہٹ آئی۔ اماں جی کے چہرے پر ایک چمک سی آ گئی۔ وہ دروازے کی طرف لپکیں۔ فہد تھا، گرد آلود، تھکا ہوا، مگر ماں کی گود کے سائے میں سکون میں تھا۔

اس رات نہ صرف ایک بیٹا لوٹا تھا، بلکہ ایک ماں کا دل بھی مکمل ہو گیا تھا۔

8 months ago | [YT] | 1

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک بوڑھی خاتون "زینب" حج کی سعادت حاصل کرنے مکہ مکرمہ آئیں۔ وہ برسوں سے دعائیں مانگتی رہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے گھر بلا لے۔ آخرکار، کئی سالوں کی محنت، بچت اور صبر کے بعد، وہ دن آ ہی گیا جب وہ میدانِ عرفات پہنچیں۔

جبلِ رحمہ کے سامنے، لاکھوں حاجیوں کا ہجوم تھا۔ ہر طرف سفید احرام پہنے اللہ کے بندے عاجزی سے کھڑے تھے، ہاتھ بلند کیے، آنکھوں سے آنسو رواں تھے، زبان پر صرف اللہ کا ذکر تھا۔

زینب اماں، جو سیاہ عبایا میں تھیں، ان سب کے بیچ زمین پر بیٹھ کر خاموشی سے دعا کرنے لگیں۔ ان کے دل کی ہر دھڑکن میں ایک ہی دعا تھی:

"یا اللہ! میری زندگی بھر کی تھکن تیرے در پر لا کر رکھ دی ہے۔ میرے بچوں کو ہدایت دے، میرے مرحوم شوہر کو بخش دے، اور مجھے ایسی موت دے کہ تیرا دیدار نصیب ہو۔"

اس وقت، آسمان پر فرشتے اترتے اور دعاؤں کو لے کر جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عرفات کا دن گناہوں سے پاک ہونے کا دن ہے۔

زینب اماں کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے دل کی سچائی بیان کر رہے تھے۔ وہ لاکھوں لوگوں کے بیچ اکیلی تھی، مگر اس کا دل صرف ایک ذات سے بات کر رہا تھا: اللہ رب العالمین۔

اسی لمحے آسمان سے ایک ٹھنڈی ہوا چلی، جیسے رب نے اس کی دعا سن لی ہو۔ وہ اٹھیں، مسکرائیں اور دل میں ایک یقین لیے واپس چل پڑیں کہ "میرا رب سننے والا ہے۔"

سبق:
اللہ ہر دل کی پکار سنتا ہے، چاہے ہم کتنے ہی لوگوں کے بیچ کیوں نہ ہوں۔ میدانِ عرفات پر ہر آنکھ اشک بار ہوتی ہے، مگر رب ہر آنسو کا جواب دیتا ہے۔

8 months ago | [YT] | 2

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

ایک بہت پرانے گاؤں میں، جہاں مٹی کے گھر، دھول بھری گلیاں، اور دیسی خوشبوئیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں، وہاں دو درخت تھے—مگر عام درخت نہیں۔ ان کی شاخیں اور تنے ایسے مڑے ہوئے تھے جیسے انسان ایک دوسرے کو گلے لگائے کھڑے ہوں۔ اور ان کے بیچ ایسا مقام تھا جہاں ایسا لگتا تھا جیسے دو چہرے ایک دوسرے کو محبت سے چوم رہے ہوں۔

گاؤں کے لوگ انہیں "محبت والے درخت" کہتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ کئی سو سال پہلے اس جگہ دو عاشق رہتے تھے، زینب اور سلیم۔ ان کے خاندان ایک دوسرے کے دشمن تھے، اور ان کی محبت کبھی قبول نہ ہوئی۔ جب ان کی محبت کی کہانی سب کو پتہ چلی، تو انہیں الگ کر دیا گیا۔ مگر دونوں نے دعا کی کہ اگر اس دنیا میں نہ مل سکے، تو قدرت ہمیں کسی اور شکل میں ابدی ملاپ عطا کرے۔

وقت گزرا، اور وہ دونوں ایک ہی جگہ دفن ہو گئے۔ کچھ سال بعد، اُن کی قبروں سے دو درخت اگ آئے۔ شروع میں وہ عام درخت لگتے تھے، لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، ان کے تنوں نے ایسی شکل اختیار کر لی جو انسانوں کی طرح چہرے بناتی تھی—ایک دوسرے کی طرف جھکے، چومتے ہوئے۔

لوگ ان درختوں کو چھو کر دعائیں مانگتے، اور کہتے: "یہ درخت ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچی محبت کبھی مرتی نہیں۔"

ان کے قریب بیٹھے بزرگ ہمیشہ بچوں کو یہی کہتے: "جب محبت خالص ہو، تو وہ درخت بن کر بھی زندہ رہتی ہے۔"

8 months ago | [YT] | 0

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

گرمیوں کی وہ تپتی دوپہر تھی، جب عید الضحٰی کا دن آیا۔ سورج آسمان پر چمک رہا تھا، مگر زمین پر ایک اور روشنی بکھری ہوئی تھی—خلوص، محبت اور بھائی چارے کی روشنی۔

گاؤں کے بیچ ایک بڑی چادر بچھی ہوئی تھی، جس پر قربانی کا گوشت ڈھیر سا رکھا تھا۔ ہر طرف سے مرد، بزرگ اور نوجوان جمع تھے۔ کوئی چھری سے گوشت کاٹ رہا تھا، کوئی چپ چاپ بیٹھا تھا، کوئی چائے کا انتظار کر رہا تھا، تو کوئی اپنے حصے کی صفائی میں لگا تھا۔ وہ سب ایک مقصد کے لیے اکٹھے تھے—قربانی کے گوشت کو مستحقین میں تقسیم کرنا۔

گوشت کے درمیان بیٹھا چاچا نذیر اپنی چھری سے گوشت کے ٹکڑے بنا رہا تھا، منہ میں سگریٹ تھا، مگر آنکھوں میں عاجزی اور دل میں خدمت کا جذبہ۔ "بیٹا، یہ گوشت صرف کھانے کا سامان نہیں، یہ اللہ کا انعام ہے، بانٹنے کا وقت ہے!" اُس نے پاس بیٹھے لڑکے کو کہا جو گوشت کو تولنے کی مشق کر رہا تھا۔

اسی دوران، دور سے ایک بڑھیا آئی، پاؤں ننگے، چہرے پر وقت کے نشان۔ سب نے یکدم اپنی جگہ چھوڑ دی، اور اُس کے لیے گوشت کا ایک حصہ الگ کیا۔ وہ آنکھوں میں آنسو لیے کہنے لگی، "اللہ تم سب کو سلامت رکھے، یہ عید میرے لیے بھی عید بن گئی۔"

یہ وہ لمحہ تھا جب عید کی اصل روح نظر آئی۔ نہ کوئی امیر تھا نہ غریب، نہ کوئی بڑا نہ چھوٹا۔ سب ایک صف میں تھے، ایک کام میں، ایک دل سے۔

جب شام ہوئی، گوشت کے ڈھیر ختم ہو چکے تھے، لیکن محبت، بھائی چارہ اور قربانی کا پیغام سب کے دلوں میں بھر چکا تھا۔

سبق:
قربانی صرف جانور کاٹنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس، غرور اور دنیاوی تمناؤں کو کاٹ کر دوسروں کا خیال رکھنے کا نام ہے۔ عید قربان ہمیں یہی سکھاتی ہے: دوسروں کے لیے جیو، اللہ کے لیے دو۔

8 months ago | [YT] | 0

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

مکہ کی سرزمین پر ایک غریب، یتیم بچہ آوارہ پھرتا تھا۔ نام تھا اس کا زائر۔ ماں باپ ایک حادثے میں گزر چکے تھے، اور وہ ایک پناہ گاہ میں پرورش پا رہا تھا۔ روز وہ مکہ کے راستوں پر بھیک مانگتا، لوگوں کے جوتے صاف کرتا، اور کبھی کبھی پانی بیچتا تاکہ پیٹ کا دوزخ بجھا سکے۔

زائر کا ایک خواب تھا — کعبۃ اللہ کو چھونے کا۔ وہ روز دور سے بیت اللہ کو تکتا، آنکھوں میں آنسو اور دل میں شوق لے کر۔ وہ دیکھتا تھا لوگ لبیک کہتے ہوئے طواف کر رہے ہیں، اور وہ صرف باہر سے تکتا رہتا، جیسے کوئی فقیر کسی بادشاہ کے دروازے پر کھڑا ہو۔

ایک دن زائر کی قسمت نے ایک نیا موڑ لیا۔ زائر بارش میں کیچڑ سے لت پت ہو کر کعبہ کے قریب پہنچ گیا۔ وہ خوشی سے دیوانہ ہو گیا، اور دوڑتا ہوا حجرِ اسود کے قریب پہنچا۔ محافظوں نے روکنے کی کوشش کی، مگر شاید رب کی طرف سے دروازہ کھل چکا تھا۔ وہ لپک کر کعبہ سے لپٹ گیا، کیچڑ سے بھرا ہوا چہرہ، آنکھیں بند، دل میں صرف ایک دعا:

"یا اللہ! میں یتیم ہوں، میرا کوئی نہیں... بس تو ہی میرا ہے۔ مجھے اپنا بنا لے..."

لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے، کسی نے اسے نہیں روکا۔ سب خاموش تھے، جیسے وقت تھم گیا ہو۔

آسمان پر بادل گرج رہے تھے، مگر اس ننھے زائر کے دل میں سکون تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب وہ تنہا نہیں۔ جس گھر سے لپٹا ہے، وہ ساری دنیا کے یتیموں، غریبوں، اور بے سہاروں کا سہارا ہے۔

پیغام:
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رب کا در کبھی بند نہیں ہوتا۔ نہ لباس دیکھا جاتا ہے، نہ حیثیت۔ بس نیت سچی ہو، آنکھ میں نمی ہو، اور دل میں دعا ہو — تو رب ضرور گلے لگاتا ہے۔

8 months ago | [YT] | 5

Hakim Pali umerkot Ai Short and gulam Mustfa qadri

مکہ مکرمہ کی پاک سرزمین پر ایک خوبصورت صبح تھی۔ سورج کی نرم کرنیں مسجد الحرام پر پڑ رہی تھیں، اور خانہ کعبہ کے گرد ہزاروں لوگ طواف کر رہے تھے۔ انھی لوگوں میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا، جس کا نام ایمان تھا۔ وہ ابھی صرف دو سال کا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں نور اور چہرے پر سکون تھا۔

ایمان کے والدین اسے پہلی بار عمرے پر لائے تھے۔ وہ خود تو زیادہ کچھ سمجھ نہیں سکتا تھا، لیکن خانہ کعبہ دیکھتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اچانک وہ بیٹھ گیا، اپنے ننھے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے، اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا جیسے اللہ سے کچھ مانگ رہا ہو۔

لوگ رک گئے، اس ننھے زائر کو دیکھنے لگے۔ ایک بوڑھی خاتون نے کہا، "یہ بچہ تو ہم سب کو سکھا گیا کہ دعا صرف زبان سے نہیں، دل سے مانگی جاتی ہے۔"

ایمان کے والد نے حیرت سے پوچھا، "بیٹا، کیا مانگا اللہ سے؟"

بچہ معصوم لہجے میں مسکرایا، اور صرف اتنا کہا:
"اللہ سب کو خوش رکھے، سب کو یہاں لے آئے!"

اس دن خانہ کعبہ کے سائے میں صرف ایک بچے نے دعا نہیں کی تھی، بلکہ اس کی دعا نے سب کے دلوں کو چھو لیا تھا۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور زبانوں پر صرف ایک ہی بات:

"بچے کی دعا رد نہیں ہوتی!"

8 months ago | [YT] | 2