Islamic Point India

Welcome To Islamic Point India

Is Channel Par Aap ko Dil Ko Chhoo Lene Wala Islamic Content Milega Hamd Naat Nazam Nasheed Manqabat Aur Roohani Aur Motivational Islamic Tracks Ke Saath Agar Aap Deen Se Judi Khoobsurat Aur Sukoon Bhari Naat Nazam dekhna Sunna Pasand Karte Hain To Hamara Channel Islamic Point India Ko Subscribe Karein Aur Bell Icon Dabakar Hamare Har Naye Video Se Jude Rahe

--------------------:::::::::::::::::::::::::-------------------

On This Channel You Will Find Soulful Islamic Content Including Hamd Naat Nazam Nasheed Manqabat And Motivational Islamic Tracks Subscribe and turn on the Bell icon To Stay connected with our Latest videos



Islamic Point India

حضرت مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ — یادوں کا ایک روشن چراغ (3 اپریل 2021 – 3 اپریل 2026)


آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے، 3 اپریل 2021 کا وہ دن تھا جب امتِ مسلمہ نے ایک عظیم رہنما، ایک مدبر عالمِ دین، اور ایک بے مثال خادمِ ملت کو کھو دیا۔ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی زندگی، ان کے کارنامے، اور ان کی جدوجہد آج بھی ہمارے درمیان ایک روشن چراغ کی مانند موجود ہیں۔

مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ وہ ایک مکمل ادارہ تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی، اور خاص طور پر تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی شخصیت میں علم، حکمت، بصیرت اور قیادت کا ایسا حسین امتزاج تھا جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

آپ آلِ رحمانی کے چشم و چراغ تھے، اور آپ کے والد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے دور کے عظیم رہنما تھے۔ اسی عظیم وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا ولی رحمانی نے نہ صرف اس امانت کو سنبھالا بلکہ اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

تعلیم کے میدان میں بے مثال خدمات:
مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کا سب سے بڑا کارنامہ “رحمانی 30” ہے۔ یہ ایک ایسا تعلیمی مشن ہے جس نے ہزاروں غریب اور باصلاحیت طلبہ کو ڈاکٹر، انجینئر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ صرف ایک کوچنگ سینٹر نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، ایک انقلاب ہے، جس نے امت کے اندر امید کی نئی کرن جگائی۔

رحمانی 30 کے ذریعے ایسے نوجوان سامنے آئے جو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری قوم کا سہارا بنے۔ مولانا کا یہ خواب تھا کہ ملت کا ہر بچہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے، اور انہوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل کر دکھایا۔

امارتِ شرعیہ اور ملی قیادت:
مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیرِ شریعت بھی رہے۔ اس حیثیت سے انہوں نے ملت کے مسائل کو نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ اتحاد، بھائی چارے اور امن کے داعی رہے۔

ملی اور قومی سطح پر بھی آپ کی آواز کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ آپ نے ہر اس موقع پر ملت کی نمائندگی کی جہاں ضرورت محسوس ہوئی، اور ہمیشہ حق و انصاف کی بات کی۔

انصاف اور خودداری کا پیغام:
مولانا کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں، اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا، اور ملت کو بھی یہی سبق دیا کہ اپنے حقوق کے لیے باوقار طریقے سے کھڑے رہیں۔

سادگی اور اخلاص کی مثال:
اتنی بڑی شخصیت ہونے کے باوجود مولانا کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ وہ ہمیشہ عام لوگوں کے درمیان رہتے، ان کے مسائل سنتے، اور ان کے حل کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ ان کا دل امت کے درد سے بھرا ہوا تھا، اور یہی ان کی سب سے بڑی پہچان تھی۔

آج کا دن — ایک عہد کی تجدید:
3 اپریل کا یہ دن ہمیں صرف غمگین ہونے کے لیے نہیں بلکہ یہ عہد کرنے کے لیے ہے کہ ہم مولانا کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کے خوابوں کو پورا کریں گے، تعلیم کو عام کریں گے، اور ملت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

آج جب ہم ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ایسی شخصیات کبھی مرتی نہیں، بلکہ اپنے کاموں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت مولانا ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

1 week ago | [YT] | 198