Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

0300-8411403 is the helpline through which you can seek guidance...Non Custodial Fighting Parents in Pakistan..We are Working for Shared Parenting & for at home visitation Rights of Equal Parenting for Non Custodial Parents involved in Child Custody Litigation

If u r a Non Custodial Parent and facing a Legal Problem in ur Child Custody Litigation or is allowed a within court Visitation, feel free to contact us at 0300-8411403 or email us at qaslaw@gmail.com


Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

وہ والدین جو بعد از علیحدگی اپنے بچوں سے ملاقات فیملی و گارڈین عدالتوں کے حکم نامے کے تحت کرتے ہیں انکے لئے عدالتی تعطیلات گرما میں میں ملاقات کرنے کا طریقہ

2 years ago | [YT] | 1

Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

اپ کے لیئے کتاب کی تعارفی قیمت، فقط 800 روپے مقرر کی گئی ہے جسمیں کوریئر/ڈاک کا خرچ شامل ہے۔ اپ اپنا مکمل پتہ مع ادائیگی کا سکرین شارٹ بھیجیں اور ہم اپکو اپکی کاپی بزریعہ کوریئر روانہ کر دیں گے۔ جو کہ ان شاء اللہ اپکو دو دن میں موصول ہوجائگی
Easy paisa: 03458911403
Fahad Ahmad Siddiqi

Jazz cash : 03008411403
Fahad Ahmad Siddiqi

3 years ago | [YT] | 3

Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

جس کسی کو فہد احمد صدیقی ایڈووکیٹ صاحب کی یہ کتاب *نان کسٹوڈیل باپ اور گارڈین/فیملی لاء* پی ڈی ایف فارمیٹ میں چاہیئے وہ ان کی ویب سایئٹ کے اس لنک پر جا کر اسے فری ڈاونلوڈ کرسکتا ہے 😍

cclsip.com/books/

3 years ago | [YT] | 7

Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

On the suggestion of friends and family i have included my humble pleadings in the book. Lets hope that this book may form basis for installation of concept of shared parenting in child custody litigation against the prevailing system of sole custody in Pakistan.
May we succeed in bringing emancipation to a divorce affected child.

#familylaw #familylawyer #childcustody #welfareofminor #parentalrights #divorce #separation #childrenswellbeing #childprotection #visitation #visitationrights #court #courthouse

3 years ago | [YT] | 4

Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

کسٹڈی کے معاملات میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ہوش سے زیادہ جذبات سے کام لیتے ہیں۔ عورتوں کے پاس بچے کی کسٹڈی جانے پر اتنے تلملاتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد خود بھی ایک نفسیاتی مریض بن چکے ہوتے ہیں، اور دوسری جانب قانون میں ثقوم کی وجہ سے عورتیں بھی بچوں کو خوب باپ کے خلاف استعمال کرتی ہیں، مگر دوسری جانب بچوں کو بھی ایک نفسیاتی مریض ہی بنا دیتی ہیں جن کے دل و دماغ میں ہمیشہ نفرت ہی پروان چڑھتی ہے اور ایک وقت کے بعد ایسی مائیں ہی اس نفرت کے طوفان کے سامنے تنکے کا آشیانہ ثابت ہوتی ہیں۔ بچہ تو ۔۔۔۔ معاف کیجییئے گا، دھوبی کا کُتّا بن چکا ہوتا ہے۔

لیکن اس معاملے کو اگر جذبات کی عینک اتار کر دیکھا جائے، تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ قانونِ قدرت کیا کہتا ہے؟ کبھی جانوروں میں دیکھیئے، چھوٹے بچے ہمیشہ ماں کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ گھر کی بِلّی سے لے کر جنگل کے شیر تک کو دیکھ لیجیئے، وہ ماں ہی ہوتی ہے جس کے ساتھ بچے رہتے ہیں اور یہ قانونِ قدرت اللہ کی ذاتِ اقدس نے بنایا ہے۔ ہاں، لیکن جب ان بچوں کی عمر اپنا شکار یا خوراک وغیرہ کو جمع کرنے کے قریب ہوتی ہے، تب اسے اپنے باپ یا برادری کے کچھ نَر ہی یہ کام بخوبی سکھاتے ہیں۔

عدالت میں صرف ایک اناء کی جنگ میں پھنسے مرد اور عورت، بچوں کا کباڑہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ سارا زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ میرے پاس آجائے اور مخالف فریق کو بچوں سے ملاقات کے لیئے ترسایا جائے یا بچے کے اندر اس کے خلاف نفرت ڈال کر اسے مزید ذلیل کروایا جائے۔

یہ سوال دونوں فریقین یعنی ایک ماں اور باپ سے ہے کہ آپ لوگ خود اپنے بچوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
اور پھر عدالت کو، قانون کو اور نظام کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں، ایک لمحے کے لیئے ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیجیئے

میرے خیال میں تو ماں اور باپ وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کے لیئے بے تحاشہ قربانیاں دیتے ہیں، لیکن معلوم نہیں جب یہی ماں اور باپ عدالت پہنچتے ہیں تو صرف سابقہ بیوی اور سابقہ شوہر ہی کیوں بن جاتے ہیں۔

چلیں جہاں آپکا گھر نہیں بس سکا یا شریکِ حیات ٹھیک نہیں ملا، تو کم از کم اس بات کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپکو اور آپ کی نسل کو بے نام نہیں چھوڑا۔ بچوں کا خیال کریں۔ اللہ آپ کی نیّتیں جانتا ہے اور بے فکر رہیں، وہ اسی کی مطابق آپکو اجر بھی عطا کرتا ہے۔ اسی چیز کا نام ایمان ہے اور قانونِ قدرت کا احترام ہی انسانیت کی بنیاد ہے۔



باپ کا کام بچوں کی تربیت کے اوپر نظر رکھنا ہوتا ہے، جب تک کہ وہ خود اپنا روزگار کمانے کا ہنر سیکھنے کے قریب نہیں ہوتے۔ اسلیئے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنا، ان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے معاملات کا دھیان رکھنا اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے ان کی تربیت کرنا باپ کا ہی حق ہے، اسلیئے اسے مساوی بنیاد پر بچوں کی نگرانی کے حقوق حاصل ہونے چاہیئں۔ جس میں گھر کی ملاقات ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

گو کہ اس قانون میں ابھی بھی میری نظر میں کچھ کمی ہے، لیکن ظاہر سی بات ہے، روم ایک دن میں تو تعمیر نہیں ہوا تھا۔ اسلیئے ایک جہدِ مسلسل ضرور درکار ہے۔

میری گزارش ان تمام والدین سے ہے جو اپنی اناء کی جنگ عدالتوں میں لڑ رہے ہیں اور ہر طرف خاک اڑاتے پھرتے ہیں، کہ خدا کے واسطے، اپنے بچوں کا خیال کریں۔ ان کے لیئے آج کچھ قربانی دیں گے تو کل کو آپکو یہ پودے کچھ پھل بھی دیں گے۔ اپنے آپ پر قابو رکھیں، اپنے جذبات کو لگام ڈالیں، نہ بچے ماں سے دور کریں اور نہ ہی باپ سے۔ شیئرڈ پیرنٹنگ پر اپنی توجہ مرتکز کیجیے ، شیئرڈ پیرنٹگ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیئے ہمارا فیس بک پیج وزٹ کیجیئے

www.facebook.com/CCLSIP/

4 years ago (edited) | [YT] | 15

Child Custody Law Services In Pakistan & Adv Fahad

#Share2Educate

In sha Allah moving Honourable Lahore High Court in a Joint Writ / Constitutional Petition in pure Public Interest Litigation to initiate legal/procedural reforms in matters pertaining to Child Custody Litigation under the jurisdiction provided by Article 4; 10 - A and 14 of the Constitution of Islamic Republic of Pakistan.
If you are a resident of any city of Province of Punjab, a Victim of faulty practices carried out by Our Family Courts, and conscious enough to bring fundamental change in the procedure that is adopted by Family /Guardian Courts, you are invited to join us and be a part of an endeavour to bring change

4 years ago | [YT] | 8