This channel focuses on Karachi news, current affairs, and real issues often ignored by mainstream media.
It highlights the voices of oppressed and underreported people through factual reporting and documentary-style analysis.
This is an independent and neutral platform with no political support or opposition.
All content is for public awareness and journalistic commentary only.
Backed by 25 years of professional journalism experience, this channel delivers verified and balanced reporting.
Subscribe for authentic Karachi-based journalism and responsible analysis.
www.facebook.com/share/1ScurYo1ki/
Z.B.J news
*سندھ میں 61 فیصد کم بارشیں، زمین بنجر ہونے لگی: زرعی سائنسدانوں کی گلوبل سائنٹیفک کوآرڈینیشن، زرعی ڈیجیٹلائزیشن اور سوائل بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ کی تجاویز*
ٹنڈوجام (پریس ریلیز) زرعی سائنسدانوں اور ماحولیاتی ماہرین نے سندھ کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے محفوظ بنانے، گرین اکانومی کے فروغ اور مٹی کی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے عالمی سطح پر گلوبل سائنٹیفک کوآرڈینیشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا کہ مٹی میں موجود حیاتیاتی تنوع کو مفت دستیاب وسیلہ سمجھنے کے بجائے اسے قدرتی سرمایہ (نیچرل کیپٹل) تسلیم کیا جائے۔سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی سندھ زرعی سائنس سوسائٹی کے زیر اہتمام اور وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال کی زیر صدارت ’’سوائل سے سوسائٹی تک‘‘ کے عنوان سے خصوصی سیمینار اور لیکچر کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین نے سندھ میں بدلتے ہوئے موسمی حالات، مٹی کی صحت، حیاتیاتی تنوع اور زرعی معیشت کو درپیش خطرات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی اور ماحولیاتی صورتحال تیزی سے خشک سالی سے متاثرہ خطے (ایرڈ زون) میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال جولائی ماھ کے دوران سندھ میں ماضی کے مقابلے میں 61 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جو زراعت، آبی وسائل اور مٹی کی صحت کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ مٹی کی صحت اور بائیو ڈائیورسٹی کو صرف زرعی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے معیشت، روزگار اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مٹی کی زرخیزی میں کمی براہ راست زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدنی اور غذائی تحفظ کو متاثر کرتی ہے۔ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ جامعات میں ہونے والی سائنسی تحقیق، بالخصوص پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ جات کو عام فہم اور مقامی زبانوں میں منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ اس تحقیق کے ثمرات لیبارٹریوں اور کتب خانوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عام کسان تک پہنچیں اور وہ جدید سائنسی معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کھیتوں کی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل زراعت کا ہے، اس لیے کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بروقت موسمی معلومات اور جدید پیداواری تکنیکوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سیمینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے سوائل فرٹیلیٹی انسٹیٹیوٹ ٹنڈوجام کے پرنسپل سائنٹسٹ اور ڈائریکٹر ڈاکٹر حفیظ اللہ ببر نے کہا کہ کرہ ارض کی مجموعی حیاتیاتی تنوع کا 25 فیصد سے زائد حصہ مٹی کے اندر موجود ہے، تاہم سائنس اب تک مٹی میں موجود ایک فیصد سے بھی کم مائیکرو آرگنزمز کو دریافت کر سکی ہے۔سندھ کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ اللہ بابر نے بتایا کہ صوبے کا تقریباً 62 فیصد رقبہ بنجر یا محدود طور پر قابلِ کاشت ہے، جبکہ تقریباً 61 فیصد مٹی سیم و تھور، نمکیات اور دیگر عوامل سے متاثر ہے۔انہوں نے ورلڈ بینک کے حوالے سے بتایا کہ قدرتی وسائل کے نقصان اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث سندھ کو ہر سال اپنی GDP کے 4 سے 6 فیصد کے برابر معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جس میں تقریباً 46 فیصد نقصان زرعی فصلوں کو پہنچتا ہے۔ڈاکٹر حفیظ اللہ ببر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مٹی کی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور تحقیق کے لیے فوری طور پر ’’نیشنل سوائل بائیو ڈائیورسٹی مشن‘‘ اور ’’نیشنل سوائل مائیکرو بائیوم اٹلس‘‘ تشکیل دیا جائے، جبکہ مختلف زرعی خطوں میں ’’لیونگ سوائل لیبارٹریز‘‘ قائم کی جائیں۔انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے مٹی کی صحت اور اس کے حیاتیاتی نظام کے تحفظ کو قومی پالیسیوں کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔تقریب سے فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے ڈین ڈاکٹر عبدالمبین لودھی، سندھ زرعی سائنس سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر بھائی خان سولنگی اور ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر نے بھی خطاب کیا اور مٹی کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی نظام کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔سیمینار میں جامعہ کے اساتذہ، زرعی تحقیق سے وابستہ ماہرین اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ طور پر پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا۔
5 hours ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/XfQRiiMrgO8
کیا ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کے معاملے میں واقعی کوئی بڑا فیصلہ ہونے جا رہا ہے؟ 🤔
مصطفیٰ کمال کے حوالے سے سامنے آنے والی سیاسی بحث کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ اور خالد مقبول صدیقی کی موجودگی میں پارٹی کی قیادت کا معاملہ کس سمت بڑھ رہا ہے؟ 👀
کراچی، جو سندھ کا دارالخلافہ اور پاکستان کی سیاسی و معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے، وہاں ایم کیو ایم پاکستان کی اندرونی سیاسی صورتحال ہمیشہ خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندر مختلف گروپس کے درمیان اختلافات اور رابطوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد قیادت کے حوالے سے کئی سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔
کیا مصطفیٰ کمال کے سیاسی کردار کے حوالے سے کوئی نیا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے؟ کیا قیادت کے معاملے پر پارٹی کے اندر سوچ تبدیل ہو رہی ہے؟ یا پھر جو کچھ نظر آ رہا ہے، اصل سیاسی تصویر اس سے کہیں مختلف ہے؟ 🔎
اس پروگرام میں مصطفیٰ کمال، خالد مقبول صدیقی اور ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کراچی اور سندھ کی مجموعی سیاست، وفاقی سطح پر سیاسی معاملات اور آنے والے دنوں میں ممکنہ سیاسی اثرات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک شخصیت یا عہدے تک محدود نہیں۔ کراچی کی سیاست کا تعلق سندھ کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پاکستان کے وسیع تر سیاسی منظرنامے سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ایم کیو ایم پاکستان میں ہونے والی ہر اہم پیش رفت کو بڑے سیاسی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ 🇵🇰
اصل سوال یہ ہے کہ اگر قیادت کے معاملے میں کوئی فیصلہ زیرِ غور ہے تو اس کا فائدہ کس سیاسی حکمتِ عملی کو ہوگا؟ مصطفیٰ کمال کا کردار کہاں کھڑا ہے؟ خالد مقبول صدیقی کی قیادت کے بارے میں پارٹی کے اندر کیا سوچ پائی جاتی ہے؟ اور کیا آنے والے دنوں میں کوئی ایسا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے جو کراچی کی سیاست کا رخ مزید بدل دے؟ 🤔
ان تمام سوالات پر تفصیلی سیاسی تجزیہ اسی پروگرام میں پیش کیا گیا ہے۔ ویڈیو مکمل دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔ 🎙️
یہ پروگرام کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ دستیاب معلومات، سیاسی حالات اور سامنے آنے والے سوالات کی بنیاد پر تجزیہ پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔
#MustafaKamal #MQMPakistan #KarachiPolitics #PakistanPolitics
7 hours ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
بیلجیئم میں 18 سالہ نوجوان گرمیوں کی عارضی ملازمت کے دوران ایک پرانی عمارت کی مرمت کے کام میں مصروف تھا کہ زیرِ زمین کام کے دوران اسے ساتھی مزدوروں کے ساتھ دیوار میں چھپا ہوا سونے کا خزانہ مل گیا۔ خزانے میں سونے کی اینٹیں، سکے اور ڈلیاں شامل تھیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو، یعنی 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔
نوجوان اور اس کے ساتھیوں نے خزانہ اپنے پاس رکھنے کے بجائے فوری طور پر پولیس اور متعلقہ حکام کو اطلاع دے دی، جس کے بعد سونا محفوظ سرکاری خزانے میں منتقل کردیا گیا۔ حکام اب اس خزانے کے اصل مالک اور اس کی تاریخ کا سراغ لگا رہے ہیں۔
بیلجیئم کے قانون کے تحت اصل مالک کو خزانے پر دعویٰ کرنے کے لیے پانچ سال کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر اس مدت میں کوئی قانونی مالک سامنے نہ آیا تو قانون کے مطابق خزانے کی ملکیت کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دریافت کرنے والے مزدوروں کو کتنی رقم ملے گی، اس لیے ہر مزدور کے لیے 46 کروڑ 25 لاکھ پاکستانی روپے ملنے کا دعویٰ فی الحال حتمی نہیں ہے۔
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/UPFE1E0urNY
دریائے سندھ پر کینال منصوبے کا معاملہ ایک بار پھر اہم سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ 🌊
سندھ میں اس منصوبے کی مخالفت کے باوجود دریائے سندھ سے منسلک کینالوں پر کام شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک کینال کی تکمیل اور دیگر کینالوں پر تیزی سے جاری کام نے سندھ کی سیاست میں ایک نیا سوال پیدا کر دیا ہے۔ 🤔
اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں سندھ حکومت کا مؤقف کیا ہے؟ کیا سندھ حکومت واقعی اس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہے، یا پسِ پردہ کوئی ایسا معاملہ موجود ہے جس کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی؟ 👀
پیپلز پارٹی کا اس منصوبے کے حوالے سے مؤقف کیا ہے؟ کیا وفاق اور پنجاب کے درمیان اس معاملے پر کوئی پیش رفت ہو رہی ہے؟ اور اگر سندھ کے اعتراضات موجود ہیں تو پھر دریائے سندھ پر کینالوں کی تعمیر کا عمل کس طرح آگے بڑھ رہا ہے؟
کراچی، سندھ کا دارالحکومت، سمیت پورے صوبے میں پانی اور دریائے سندھ سے متعلق یہ معاملہ عوامی اور سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ 🇵🇰
اس پروگرام میں انہی سوالات کا سیاسی اور صحافتی تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ معاملے کے مختلف پہلو کیا ہیں، سیاسی بیانات کے پیچھے اصل مؤقف کیا دکھائی دیتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس تنازع کی سمت کیا ہو سکتی ہے؟ 🔎
کیا یہ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ ہے یا اس کے پیچھے سندھ کے پانی سے متعلق ایک بڑی سیاسی بحث جنم لے رہی ہے؟ فیصلہ آپ خود کیجیے۔
#PakistanPolitics #Sindh #BreakingNews #TikTokPakistan
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/P639rCrNuLs
کراچی، سندھ کا دارالخلافہ، ہمیشہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور کراچی کی سیاست میں ہونے والی کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات صرف شہر تک محدود نہیں رہتے۔ 🇵🇰🏙️
ایم کیو ایم پاکستان کے مستقبل کی قیادت کا معاملہ ایک بار پھر اہم سوال بن کر سامنے آ رہا ہے۔ آخر پارٹی کی سربراہی کے حوالے سے اندرونی سطح پر کیا صورتحال ہے؟ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے سیاسی کردار کے درمیان آنے والے وقت میں کیا تصویر بن سکتی ہے؟ 🤔
اس خصوصی انٹرویو میں ایم کیو ایم کے وجود سے لے کر آج تک کی سیاسی تاریخ، پارٹی کے مختلف ادوار، قیادت میں آنے والی تبدیلیاں، اختلافات، پارٹی انتخابات اور موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ 🎙️
سوال صرف یہ نہیں کہ آج ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی سمت کیا ہوگی؟ کیا موجودہ قیادت ہی آگے بڑھے گی یا سیاسی منظرنامہ کسی نئے نام کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ اور اگر تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات کراچی، سندھ اور پاکستان کی مجموعی سیاست پر کس حد تک پڑ سکتے ہیں؟ 🔎
اس گفتگو میں کئی ایسے سیاسی پہلو بھی زیرِ بحث آئے ہیں جنہیں عام سیاسی بیانات سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بعض سوالات کے جواب شاید الفاظ میں موجود ہوں، جبکہ کچھ اشارے آنے والے وقت کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 👀
ذوالفقار علی ببر، آزاد صحافی، نے اس خصوصی گفتگو میں سراج احمد کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی قیادت سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ مقصد کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ موجودہ سیاسی صورتحال کو صحافتی اور تجزیاتی انداز میں عوام کے سامنے رکھنا ہے۔ 🎤
آپ ویڈیو مکمل دیکھیے اور اپنی رائے ضرور دیجیے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سیاسی مستقبل میں اگلا اہم موڑ کہاں سے آ سکتا ہے؟ 🇵🇰
#MQMPakistan #KarachiPolitics #PakistanPolitics #MustafaKamal
3 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/hqzbE-qZdLs
کراچی، سندھ کا دارالخلافہ، ایک بار پھر سیاسی اور انتظامی بحث کے مرکز میں ہے۔ 🏙️🇵🇰
علی حسن زرداری سے متعلق سامنے آنے والی خبروں، سیاسی سوالات اور سندھ کی مجموعی صورتحال پر اس پروگرام میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ معاملہ صرف ایک نام یا ایک شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کراچی کے انتظامی معاملات، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری نظام میں فیصلے کس انداز میں ہوتے ہیں اور ان کے اثرات عوام تک کس شکل میں پہنچتے ہیں؟ 🔎
کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب ایک بیان سے نہیں ملتا… اور کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کی اصل تصویر وقت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ 👀
سندھ حکومت، کراچی کے شہری معاملات، محکمہ جاتی فیصلوں اور سیاسی صورتحال سے متعلق مختلف دعووں اور رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے، سوالات کہاں سے اٹھ رہے ہیں اور ان کے جواب کس کے پاس ہیں۔
کراچی سندھ سے الگ نہیں، بلکہ سندھ کا دارالخلافہ اور پورے صوبے کی سیاسی، معاشی اور انتظامی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ اسی لیے کراچی میں ہونے والی کسی بھی بڑی سیاسی یا انتظامی پیش رفت کے اثرات سندھ کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کی سیاست تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ 🇵🇰
🌍 پاکستان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی سیاسی فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں کراچی اور سندھ کے معاملات کو صرف مقامی تناظر میں نہیں بلکہ ملکی اور علاقائی سیاست کے وسیع پس منظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔
❓ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ سامنے دکھائی دے رہا ہے، کیا کہانی صرف اتنی ہی ہے؟
❓ کیا تمام فیصلوں کی اصل وجوہات عوام کے سامنے موجود ہیں؟
❓ اور جن معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ان کے جواب آنے والے دنوں میں کس رخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟ 👀
یہ پروگرام کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ سامنے آنے والی خبروں، دعووں، سوالات اور سیاسی صورتحال کا صحافتی و تجزیاتی جائزہ ہے۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقات، سرکاری ریکارڈ اور مستند معلومات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
📌 مکمل پروگرام دیکھیے، معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھیے اور اپنی رائے خود قائم کیجیے۔
آخرکار سیاست میں اصل کہانی ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو پہلی نظر میں دکھائی دیتی ہے… بعض سوالات کے جواب وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں، اور بعض جواب مزید سوالات پیدا کر دیتے ہیں۔ 🔥
#PakistanNews #KarachiNews #SindhNews #PoliticalNews
```0
4 days ago | [YT] | 2
View 0 replies
Z.B.J news
کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے واقعات خاتون جاں بحق 68 افراد زخمی ہو گئے ۔ ریسکیو
5 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
آزادی کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد مجاہدین سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے
5 days ago | [YT] | 6
View 1 reply
Z.B.J news
اپ ڈیٹ۔۔۔
سیلانی کے بانی مولانا بشیر فاروق قادری ترکیہ میں وضو خانے میں پھسل کر زخمی ہوگئے
فوری طور پر کراچی منتقلی ، مقامی نجی اسپتال میں داخل کرادیا گیا ،،طبیعت بہتر ہے،دعائے صحت کی اپیل
کراچی(14 اگست 2026) سيلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے بانی اور چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری اپنے دورہ ترکیہ کے دوران سیلانی ہیڈ آفس ترکیہ کے وضوخانہ ميں پاؤں پھسلنے کے باعث گرکر زخمی ہو گئے، جس کی وجہ سے ان کے کاندھے کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا ہے۔سیلا نی ویلفیئر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کےذریعے تمام احباب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مولانا بشیر فاروق قادری جمعے کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ترکی سے کراچی پہنچ گئے ہیں جس کے بعد انہیں فوری طور پر نجی اسپتال (آغا خان ہسپتال) منتقل کردیا گیاہے۔ان کی طبیعت بہتر اور مستحکم ہے،البتہ ضروری ایکس رے، ٹیسٹ اور طبی کے بعد کنسلٹنٹ ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال حضرت صاحب کا آپریشن مؤخر کیا جائے گا۔ ان کی طبیعت اور رپورٹس کا مزید مشاہدہ کیا جائے گا اور دو دن بعد کنسلٹنٹ ڈاکٹرز دوبارہ معائنہ کرکے فیصلہ کریں گے کہ آپریشن کی ضرورت ہے یا نہیں۔سیلانی ویلفیئر کی مجلس منتظمہ نے احباب سے اپیل کی ہے کہ وہ سب بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضرت صاحب کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ہر تکلیف اور بیماری کو دور فرمائے، انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے، لمبی، صحت مند اور بابرکت زندگی عطا فرمائے، اور ہر آنے والا مرحلہ آسان فرمائے۔
جاری کردہ:
شعبہ تعلقات عامہ،،سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ،،بہادر آباد
5 days ago (edited) | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
گڈز ٹرانسپورٹرز کا ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان، پورٹس سے ٹرانسپورٹ بحال
15 گڈز ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے حکومت کی جانب سے 8 فوری مطالبات کی منظوری اور دیگر مسائل کے لیے کمیٹیوں کی قیام کے بعد پہیہ جام ہڑتال ختم کر دی ہے۔
کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سے مال برداری بحال کر دی گئی جبکہ رہنماؤں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیرِ مواصلات کا شکریہ ادا کیا۔
5 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Load more