This channel focuses on Karachi news, current affairs, and real issues often ignored by mainstream media.
It highlights the voices of oppressed and underreported people through factual reporting and documentary-style analysis.
This is an independent and neutral platform with no political support or opposition.
All content is for public awareness and journalistic commentary only.
Backed by 25 years of professional journalism experience, this channel delivers verified and balanced reporting.
Subscribe for authentic Karachi-based journalism and responsible analysis.
www.facebook.com/share/1ScurYo1ki/
Z.B.J news
https://youtu.be/1tsAJfyF29U
🌍⚡ کیا یورینیم واقعی دنیا کی سب سے خطرناک حقیقت ہے… یا یہی انسانیت کا مستقبل بھی ہو سکتا ہے؟ 🤔
اس ویڈیو میں ہم ایک ایسے موضوع کو کھول رہے ہیں جس پر اکثر بات تو ہوتی ہے، مگر سچ پوری طرح سامنے نہیں آتا… یورینیم کیا ہے؟ اس کی افزودگی (Enrichment) کیسے ہوتی ہے؟ اور یہ طاقت انسان کے لیے نعمت ہے یا آزمائش؟ ☢️
بین الاقوامی سطح پر International Atomic Energy Agency (IAEA) جیسے ادارے کیوں اس پر نظر رکھتے ہیں؟ کیا واقعی دنیا میں سب کچھ کنٹرول میں ہے… یا کچھ راز اب بھی چھپے ہوئے ہیں؟ 🌐
پاکستان جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے لیے یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے 🇵🇰
کراچی اور سندھ کے تناظر میں، جہاں ترقی اور چیلنجز ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کیا نیوکلیئر ٹیکنالوجی مستقبل کی روشنی ہے یا ایک خاموش خطرہ؟ ⚠️
یہ ویڈیو صرف معلومات نہیں دیتی… بلکہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے:
کیا دنیا ایٹمی طاقت کو صحیح استعمال کر رہی ہے؟
یا ہم ایک ایسے راستے پر ہیں جہاں ایک غلط قدم سب کچھ بدل سکتا ہے؟ 😶
📌 اس ویڈیو میں آپ جانیں گے:
✔️ یورینیم کی حقیقت
✔️ افزودگی کا مکمل عمل
✔️ فائدے اور نقصانات
✔️ عالمی سیاست میں اس کا کردار
✔️ پاکستان کا مؤقف اور حقیقت
اگر آپ حقیقت جاننا چاہتے ہیں… تو یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں 👀
اور اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں 💬
👍 ویڈیو کو لائک کریں
🔁 دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
🔔 اور چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں
#Uranium #NuclearEnergy #IAEA #PakistanNews #GeoNews #WorldPolitics #TrendingNow #ViralVideo #TikTokTrending #InstagramReels #BreakingNews #ScienceFacts
18 hours ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
مفادات کا نظام یا فلاح کا فریب؟
ترتیب
نظام الدین
دنیا میں کچھ ایسے عالمی نظام موجود ہیں جو ابتدا میں ریاست اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لیے تشکیل دیے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے حقوق اور مفادات سے جوڑ دیے گئے۔ پینشن فنڈ بھی ایسا ہی ایک نظام ہے، جسے آج عام افراد اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جب دنیا میں سوشلسٹ تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، اسی زمانے میں جرمنی میں بھی مزدور تحریکیں عروج پر تھیں۔ اس پس منظر میں جرمنی کے چانسلر اوٹو فان بسمارک نے 1889 میں پینشن کا قانون متعارف کروایا۔ یہ نظام محض فلاحی جذبے کے تحت نہیں، سیاسی اور سماجی ضروریات کے پیشِ نظر نافذ کیا گیا تھا۔ دراصل اس کا مقصد مزدوروں کو ریاست کے قریب لانا اور ابھرتی ہوئی انقلابی تحریکوں کو کمزور کرنا تھا۔ حکومت یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ ریاست اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، تاکہ بغاوت اور انتشار کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ اس دور میں پینشن صرف 70 سال کی عمر کے بعد دی جاتی تھی، اور اس کے لیے مزدور، آجر اور حکومت تینوں حصہ ڈالتے تھے۔ یہی نظام بعد ازاں دنیا بھر کے سوشل سیکیورٹی ماڈلز کی بنیاد بنا، اور آج تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک عجیب تضاد بھی جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف انسان اپنی بڑھاپے کی سلامتی کے لیے پینشن فنڈ میں سرمایہ جمع کرتا ہے، اور دوسری طرف یہی سرمایہ عالمی معیشت کے ان پہیوں کو بھی حرکت دیتا ہے جن کا تعلق جنگ، اسلحہ سازی اور طاقت کی سیاست سے ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایسا ممکن ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ عمل کس حد تک ہو رہا ہے اور ہم اس سے کتنے باخبر ہیں۔ بین الاقوامی ادارے OECD کے مطابق دنیا بھر میں پینشن فنڈز کے اثاثے کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ رقم محض محفوظ نہیں رکھی جاتی بلکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھائی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام شہری کی محنت کی کمائی عالمی مالیاتی نظام میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد یہ سرمایہ اکثر ایسے راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے جن سے خود سرمایہ کار بھی لاعلم ہوتا ہے۔ دنیا کی بڑی دفاعی کمپنیاں، جیسے لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون ٹیکنالوجیز اور بی اے ای سسٹمز، ان سرمایہ کاریوں کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری براہِ راست نہیں بلکہ انڈیکس فنڈز اور اثاثہ جاتی منیجرز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
یہاں مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ جب کوئی پینشن فنڈ عالمی انڈیکس، مثلاً MSCI، کو فالو کرتا ہے تو وہ خود بخود ان تمام کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر لیتا ہے جو اس انڈیکس کا حصہ ہوتی ہیں، چاہے ان کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہو یا اسلحہ سازی سے۔ اسی طرح بڑے سرمایہ کاری ادارے، جیسے بلیک راک، اپنے فیصلے منافع کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ لازماً اخلاقی ترجیحات پر۔
یہ صورتحال ایک بنیادی اخلاقی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ایک استاد، ایک کلرک یا ایک مزدور کی بچت کو ایسے نظام کا حصہ بننا چاہیے جو جنگی صنعت سے منسلک ہو؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں اس سوال نے عملی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ کئی مالیاتی ادارے، جن میں پینشن فنڈز بھی شامل ہیں، ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس کے ردعمل میں کچھ ممالک نے ایسی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے، جس سے “اخلاقی سرمایہ کاری” کا تصور مضبوط ہو رہا ہے۔
اسلامی دنیا میں صورتحال مختلف مگر یکساں طور پر پیچیدہ ہے۔ خلیجی ممالک کے بڑے فنڈز عالمی سطح پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگرچہ اسلامی مالیاتی اصول سرمایہ کاری کو اخلاقی حدود میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عملی طور پر عالمی مارکیٹ سے مکمل علیحدگی ممکن نہیں رہتی۔ یہ بحث ہمیں ایک تلخ حقیقت کے قریب لے جاتی ہے: عالمی معیشت میں پیسہ غیر جانبدار نہیں ہوتا، بلکہ وہ طاقت کے مراکز سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک عام شہری اپنی پینشن کے لیے رقم جمع کرتا ہے تو اس کا مقصد صرف تحفظ ہوتا ہے، مگر وہی رقم ایک ایسے نظام میں شامل ہو جاتی ہے جہاں منافع کی دوڑ انسانی اقدار پر سبقت لے جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شفافیت، مؤثر پالیسی سازی اور عوامی شعور کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔وقت
آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال بلند آواز میں کریں:
ہماری بچت کہاں جا رہی ہے؟ کون اس کا فیصلہ کر رہا ہے؟ اور کیا ہمیں اس فیصلے سے آگاہی حاصل ہے؟ اگر یہ سوالات نظرانداز کیے گئے تو ممکن ہے آنے والی نسلیں نہ صرف اپنی معیشت بلکہ اپنی اخلاقی سمت بھی کھو بیٹھیں، اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان میں پینشن کا نظام برصغیر کے نوآبادیاتی دور سے جڑا ہوا ہے، جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے مراعات کا ایک بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہی نظام تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے جاری رکھا گیا، اور بعد ازاں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے ذریعے اسے قانونی شکل دی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ نظام محدود اور قابلِ برداشت تھا، کیونکہ سرکاری ملازمین کی تعداد کم اور اوسط عمر نسبتاً کم تھی۔ مگر وقت کے ساتھ حالات بدل گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کا ایک بڑا حصہ صرف پینشن کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، اور یہ رقم ہر سال خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ نجی شعبے کے لیے 1976 میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) قائم کیا گیا، جس کا مقصد مزدور طبقے کو بڑھاپے میں سہارا دینا تھا۔ اصولی طور پر یہ ایک اہم قدم تھا، مگر عملی طور پر یہ ادارہ بھی بدانتظامی، کمزور سرمایہ کاری اور بدعنوانی کے الزامات سے محفوظ نہ رہ سکا۔
کئی بار یہ سوال اٹھا کہ کروڑوں روپے کے فنڈز آخر کہاں جا رہے ہیں اور مستحقین کو مناسب فائدہ کیوں نہیں مل رہا۔
اصل مسئلہ پاکستان کے روایتی پینشن نظام میں ہے، جس کے تحت حکومت ملازمین کو ان کی آخری تنخواہ کے مطابق تاحیات پینشن دیتی ہے۔ یہ نظام اُس وقت قابلِ عمل تھا جب ریٹائرڈ افراد کی تعداد کم تھی، مگر آج جب اوسط عمر اور ملازمین کی تعداد دونوں بڑھ چکی ہیں، تو یہی نظام حکومتی خزانے پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے حالیہ برسوں میں کنٹری بیوٹری پینشن اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، جو عالمی طرز کے نظام سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم اس پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں: کیا اس میں شفافیت ہوگی؟ کیا سرمایہ کاری محفوظ ہوگی؟ اور کیا مستقبل میں ملازمین کو واقعی وہ فوائد حاصل ہوں گے جن کا وعدہ کیا جا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھی تیزی سے عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بنتا جا رہا ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں یہاں کے پینشن فنڈز بھی عالمی سرمایہ کاری کے دھارے میں شامل ہو جائیں گے،،
21 hours ago | [YT] | 3
View 0 replies
Z.B.J news
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
سرخیاں (Headlines)
ڈاکٹر عشرت العباد خان اور شمس العباد خان کی MPP سیکریٹری اطلاعات رضوان احمد فکری کی عیادت
نہال احمد صدیقی کی فوری خیریت دریافت، مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت
معروف ڈاکٹر نبیل سمدانی کی جانب سے طبی صورتحال پر بریفنگ
سیاسی، سماجی و صحافتی شخصیات کی خیریت دریافت، عیادت کا سلسلہ جاری
اینکرز ذوالفقار بابر اور شکیل سواتی کا بھی رابطہ، نیک خواہشات کا اظہار
---
کراچی (میڈیا سیل MPP / اسٹاف رپورٹر)
سابق گورنر سندھ اور چیف میری پہچان پاکستان (MPP) ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے صاحبزادے شمس العباد خان کے ہمراہ سیکریٹری اطلاعات میری پہچان پاکستان رضوان احمد فکری کی عیادت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے رضوان احمد فکری کی طبیعت سے متعلق تفصیلی آگاہی حاصل کی اور ان کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز کی مشاورت کے مطابق مکمل آرام اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انچارج مرکزی کمیٹی نہال احمد صدیقی نے بھی فوری طور پر رضوان احمد فکری کی خیریت دریافت کی اور مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق اپڈیٹس لینے کی ہدایت کی۔
معروف ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر نبیل سمدانی نے مریض کی موجودہ صورتحال سے قیادت کو آگاہ کیا اور بتایا کہ بروقت طبی امداد کے باعث حالت میں بہتری آ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات سمیت میڈیا سے وابستہ افراد نے بھی رضوان احمد فکری کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ معروف اینکرز ذوالفقار بابر اور شکیل سواتی نے بھی ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ کر کے خیریت معلوم کی۔
رات گئے تک عیادت اور خیریت دریافت کرنے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ تنظیمی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے بھی ہمدردی اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے انچارج مرکزی کمیٹی کو ہدایت کی کہ رضوان احمد فکری کی صحت کے حوالے سے مسلسل اپڈیٹس فراہم کی جائیں اور ان کی مکمل دیکھ بھال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
تنظیمی ذرائع کے مطابق MPP قیادت اپنے کارکنان اور عہدیداران کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
2 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/U0z8PidW9s8
🌍🔥 مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیش رفت؟ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہر لمحہ نئی خبر جنم لے رہی ہے۔ عالمی طاقتیں متحرک، سفارتی رابطے تیز، اور پسِ پردہ ہونے والی بات چیت نے صورتحال کو نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
🤔 کیا واقعی خطے میں امن کا کوئی راستہ نکلنے والا ہے یا یہ صرف وقتی خاموشی ہے کسی بڑے طوفان سے پہلے؟ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے دنیا بھر کی نظریں اس خطے پر جما دی ہیں، جبکہ امریکہ کی حکمتِ عملی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
🇵🇰 پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں، امن کے لیے مسلسل آواز، اور بین الاقوامی سطح پر متوازن پالیسی ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ خاص طور پر کراچی اور سندھ جیسے معاشی مراکز پر اس عالمی صورتحال کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
⛽ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ نے عوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کی امید پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اگر حالات بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، پیٹرول کی قیمتوں اور روزمرہ زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔
📊 یہ ویڈیو ان تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیتی ہے:
▪️ ایران امریکہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال
▪️ ایران اسرائیل کشیدگی کے ممکنہ اثرات
▪️ پاکستان کا سفارتی کردار اور حکمتِ عملی
▪️ عالمی تیل کی قیمتوں کا مستقبل
▪️ کراچی، سندھ اور پاکستان پر ممکنہ اثرات
⚠️ کیا دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے؟ کیا امن ممکن ہے یا خطرات بڑھ رہے ہیں؟ مکمل تجزیہ جاننے کے لیے ویڈیو ضرور دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔
📢 اگر آپ سنجیدہ خبروں، عالمی سیاست اور تحقیق پر مبنی تجزیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس مواد کو ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستند معلومات تک پہنچ سکیں۔
#BreakingNews #IranNews #USATalks #MiddleEastCrisis #PakistanNews #KarachiUpdates #SindhNews #GlobalPolitics #OilPrices #WorldNews #TrendingNow #ViralNews #GeoNews #InternationalNews #PeaceTalks
2 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/ctFs89E9wmY
🔥 کراچی کی سیاست میں ایک اور بڑا موڑ… آخر پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟ 🤔
آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے Afaq Ahmed کے حالیہ سخت بیان کی، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف کھل کر ردعمل دیا بلکہ ایسے سوالات بھی اٹھائے جو کافی عرصے سے دبے ہوئے تھے۔
⚡ دوسری جانب Khalid Maqbool Siddiqui کے بیان نے بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کیا واقعی کراچی کی سیاست ایک نئے رخ پر جا رہی ہے؟ یا یہ صرف بیانات کی جنگ ہے جس کے پیچھے کچھ اور کہانی چھپی ہوئی ہے؟
🎯 اس ویڈیو میں آپ دیکھیں گے:
✔️ تازہ ترین سیاسی صورتحال
✔️ اہم رہنماؤں کے بیانات کا اصل مطلب
✔️ کراچی کے عوام پر ان اثرات کا تجزیہ
✔️ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہو سکتا ہے؟
💥 حیران کن بات یہ ہے کہ ماضی کے کچھ فیصلے آج بھی حال کی سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا کوئی بڑی حکمت عملی؟
📢 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو پاکستان کی سیاست، خاص طور پر کراچی کی بدلتی ہوئی صورتحال کی ہر خبر بروقت اور درست ملے تو اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں، اپنی رائے کمنٹس میں دیں اور چینل کو فالو کریں۔
👇 اپنی رائے ضرور دیں:
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانات کراچی کی سیاست کو بدل دیں گے یا یہ سب وقتی شور ہے؟
#KarachiPolitics #PakistanNews #BreakingNews #CurrentAffairs #AfaqAhmed #MQM #AltafHussain #PoliticalUpdate #TrendingNow #ViralNews #TikTokTrending #InstagramReels #NewsUpdate #PakistanPolitics
2 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
آج World Press Freedom Day ہے…
اور میں، ذوالفقار علی ببر — آزاد صحافی، یہ سب کچھ دل کے درد کے ساتھ لکھ رہا ہوں… 💔
ڈیڑھ سال سے زیادہ ہو چکا ہے مجھے بے روزگار ہوئے…
اور میرا قصور صرف اتنا تھا… کہ میں سچ بولتا تھا… 😔
میں News One میں کام کرتا تھا…
لیکن وہاں بھی یہی سوال تھا:
"یہ سچ کیوں بولتا ہے؟"
اور اگر میں یہ کہتا تھا کہ تنخواہ وقت پر دے دیں…
یا معاوضہ بڑھا دیں…
تو یہ بات اوپر والوں کو بری لگتی تھی…
شاید انہیں وہ لوگ پسند ہیں جو چاپلوسی کریں…
جو خوشامد کریں…
جو ہر بات پر “جی سر” کہیں…
شاید اسی لیے مجھے نکال دیا گیا… 💔
صحافت ایک جنگ ہے…
ہماری عید بھی ہماری نہیں ہوتی…
Eid al-Adha پر لوگ قربانی کرتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں…
اور ہم سڑکوں پر کھڑے ہوتے ہیں… 🎤
پھر Ashura آتا ہے جہاں لوگ نیاز اور سبیلوں میں مصروف ہوتے ہیں…
اور Mawlid پر نذر و نیاز اور محفلیں ہوتی ہیں…
لیکن ہم؟
ہم ہر حال میں ڈیوٹی پر ہوتے ہیں… 😢
بارش، آندھی، طوفان…
سیلاب، ریسکیو، پولیس مقابلے…
یہاں تک کہ COVID-19 میں بھی ہم سب سے آگے تھے…
لیکن صلہ؟
کچھ بھی نہیں… 😔
کیمرے کا صحافی… 📹
قلم کا صحافی… ✍️
مائیک کا صحافی… 🎤
سب ایک ہی درد سے گزرتے ہیں…
ہم سب کی خبریں چلاتے ہیں…
لیکن جب ہم خود خبر بنتے ہیں…
تو ہماری خبر کوئی نہیں چلاتا… 💔
ہم انصاف کی بات کرتے ہیں…
لوگ انصاف کے لیے بھاگتے ہیں… ترستے ہیں…
لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا…
اور جب بات ہماری آتی ہے…
تو ہمیں انصاف دینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا… 😢
نہ عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہوتی ہے…
نہ عام لوگ ہمیں سمجھتے ہیں…
ہر کوئی ہمیں برا سمجھتا ہے…
کوئی نہیں جانتا…
کہ ہمارے گھر میں چولہا جل رہا ہے یا نہیں…
بچوں کی فیس دی گئی ہے یا نہیں…
بائیک میں پیٹرول ہے یا نہیں…
ہماری مجبوریاں…
ہماری پریشانیاں…
کوئی نہیں سمجھتا… 💔
United Nations سے لے کر حکومتوں تک سب باتیں کرتے ہیں…
لیکن عملی طور پر صحافی آج بھی تنہا ہے…
George Orwell نے کہا تھا:
"صحافت وہ ہے جو کوئی چھپانا چاہتا ہے، باقی سب اشتہار ہے"
اور شاید ہم وہی سچ بول رہے ہیں…
اسی لیے ہم برداشت نہیں کیے جاتے…
لیکن ایک بات ہے…
ہمیں جھوٹ نہیں آتا…
ہمیں چاپلوسی نہیں آتی…
ہمیں صرف سچ کہنا آتا ہے… ✊
اور اگر سچ بولنے کی سزا یہ ہے…
تو ہم یہ سزا قبول کرتے ہیں… 💔
— ذوالفقار علی ببر
آزاد صحافی
4 days ago | [YT] | 8
View 3 replies
Load more