This channel focuses on Karachi news, current affairs, and real issues often ignored by mainstream media.
It highlights the voices of oppressed and underreported people through factual reporting and documentary-style analysis.
This is an independent and neutral platform with no political support or opposition.
All content is for public awareness and journalistic commentary only.
Backed by 25 years of professional journalism experience, this channel delivers verified and balanced reporting.
Subscribe for authentic Karachi-based journalism and responsible analysis.
www.facebook.com/share/1ScurYo1ki/
Z.B.J news
https://youtu.be/j1FfVj2Q6b4
🔥 کیا دنیا ایک نئے سیاسی طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے؟
🌍 کیا چین اور امریکہ کے بدلتے تعلقات آنے والے وقت میں پوری دنیا کی سیاست بدل سکتے ہیں؟
😳 کیا پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑنے والے ہیں؟
آج کے اس خصوصی پروگرام میں ہم انہی اہم سوالات پر تفصیل سے بات کر رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں عالمی سطح پر ہونے والی سیاسی ملاقاتیں، طاقتور ممالک کے بیانات اور خفیہ سفارتی اشارے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ 🤔
کیا یہ صرف سیاسی بیانات ہیں یا واقعی دنیا ایک نئے “ورلڈ آرڈر” کی طرف بڑھ رہی ہے؟
کیا امریکہ اور چین کی بڑھتی قربت یا ممکنہ کشیدگی عالمی معیشت، سیاست اور ایشیا کے مستقبل کو بدل سکتی ہے؟ 🌐
پاکستان کے تناظر میں بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کراچی سے لے کر اسلام آباد تک سیاسی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں، جبکہ بھارت میں بھی اس صورتحال کو خاص نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ 👀
اس ویڈیو میں آپ دیکھیں گے:
⚡ عالمی سیاست کے بدلتے رخ
⚡ چین اور امریکہ کے تعلقات کی اندرونی کہانی
⚡ پاکستان پر ممکنہ اثرات
⚡ بھارت اور ایشیا کی نئی صورتحال
⚡ آنے والے وقت کے بڑے سیاسی اشارے
ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں کیونکہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو شاید آنے والے دنوں میں عالمی خبروں کا سب سے بڑا موضوع بن جائیں۔ 🔥
📌 اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں
📌 ویڈیو پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں
📌 مزید اہم سیاسی تجزیوں کے لیے چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں ❤️
#PakistanNews #ChinaNews #DonaldTrump #WorldPolitics #BreakingNews #InternationalNews #ViralNews #TrendingNow #PoliticalAnalysis #KarachiNews #IndiaNews #TikTokViral #InstagramReels #GlobalNews #LatestUpdate
2 hours ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
پردیس میں رہنے والے بچے اکثر اپنے ماں باپ کی تنہائی کو internet connection کی طرح سمجھنے لگتے ہیں… جب تک آواز آ رہی ہو، سب ٹھیک ہے۔
میری امّی پچاسی برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔
میں سترہ سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم کے لیے۔
پھر نوکری مل گئی۔
پھر گرین کارڈ۔
پھر شادی۔
پھر بچے۔
اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف calendar کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”
پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔
امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔
بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔
مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:
“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”
اور ہم یقین کر لیتے۔
پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک پاکستان جانا پڑا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔
سوچا surprise دوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
وہی بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندے۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”
بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔
گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔
وہی پردے۔
وہی ابو کی پرانی کرسی۔
مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:
“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“سترہ سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”
چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔
دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔
لاہور۔
فرق: دس گھنٹے۔
مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو time zones میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔
اور ایک ہمارے لیے۔
چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔
سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔
“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
“عادت ہے نا۔
پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”
خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔
اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
میں نے کہا:
“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟”
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”
اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔
وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔
میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔
ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔
اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:
“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:
“کل کہیں باہر چلیں؟”
ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔
وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔
“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر بولیں:
“پتہ نہیں بیٹا…
ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”
اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔
بڑی گاڑیاں۔
بڑی تنخواہیں۔
بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔
وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:
“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔
پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:
“فکر نہ کرو۔
میں ٹھیک ہوں۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔
اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔
میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے میں نے ڈرائیور سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ، بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ، امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں میں نے آہستگی سے انکے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔
چہرے پر حیرت " تم گۓ نہیں ، فلائٹ نکل جاۓ گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔
میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔
معلوم نہیں کِس کی تحریر ہے لیکن اچھی لگی تو لگا دی ۔
11 hours ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/MrbZ8wdZa7k
🔥 کراچی کی سیاست میں ایک اور ہلچل؟ آخر پسِ پردہ کیا چل رہا ہے؟
ایم کیو ایم، سندھ حکومت، طاقتور حلقے اور بدلتی ہوئی سیاسی فضا نے ایک بار پھر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 🏛️⚡
اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے اُن اہم سیاسی اشاروں کی جو اس وقت کراچی سے اسلام آباد تک زیرِ بحث ہیں۔ کیا واقعی حالات کسی بڑے سیاسی موڑ کی طرف جا رہے ہیں؟ کیا سندھ کی سیاست میں نئی صف بندیاں بن رہی ہیں؟ اور وہ کون سے فیصلے ہیں جنہوں نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے؟ 🤔🔥
کراچی کی گلیوں سے لے کر ایوانِ اقتدار تک، ہر طرف بے چینی اور چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اصل کہانی کیا ہے؟ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے؟ اور آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست کس رخ پر جا سکتی ہے؟ 🇵🇰📢
یہ ویڈیو صرف خبروں تک محدود نہیں بلکہ ان سوالات کا بھی جائزہ ہے جو عام لوگ سوشل میڈیا، سیاسی محفلوں اور نجی گفتگوؤں میں مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ 📺🗣️
اگر آپ کراچی، سندھ اور پاکستان کی سیاست کو قریب سے فالو کرتے ہیں تو یہ ویڈیو آپ کے لیے نہایت اہم ہے۔ مکمل ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔ 💬👇
🔔 تازہ ترین سیاسی اپڈیٹس، بریکنگ نیوز اور اندرونی کہانیوں کے لیے چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔
#KarachiNews #PakistanPolitics #MQM #SindhNews #BreakingNews #PoliticalUpdate #TrendingNow #ViralVideo #TikTokViral #InstagramReels #PakistanNews #KarachiUpdates #LatestNews #PoliticalDrama #NewsUpdate #ViralNews #PakistanTrending #ExplorePage #Foryou #fyp
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
1 day ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/xQP74jGaeUE
🔥 کراچی کی سیاست میں ایک اور بڑا موڑ…!
ایسے راز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جنہوں نے طاقت کے ایوانوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ 👀
کچھ فیصلے بظاہر معمول کے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپی کہانی پورے سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ سندھ کی سیاست، کراچی کی بدلتی صورتحال اور پسِ پردہ ہونے والی سرگرمیوں نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ⚠️
آخر وہ کون سی طاقتیں ہیں جو خاموشی کے ساتھ نئی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہیں؟
کیا آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست کسی بڑے دھماکے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
اور کیوں بعض اہم شخصیات مسلسل دباؤ میں دکھائی دے رہی ہیں؟ 🏛️
یہ ویڈیو صرف ایک خبر نہیں بلکہ ان اشاروں کی مکمل کہانی ہے جنہیں عام لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر سیاسی حلقے انہی اشاروں سے آنے والے وقت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ 📢
کراچی سے اسلام آباد تک طاقت کے مراکز میں غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف دعوے اور تبصرے تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں۔ 🌍
اگر آپ پاکستان کی سیاست، کراچی کی اندرونی صورتحال، سندھ کے بدلتے حالات اور اہم سیاسی پیش رفت کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ 🎥
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں ✍️
ویڈیو پسند آئے تو شیئر کریں تاکہ سچ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ❤️
#KarachiNews #PakistanPolitics #BreakingNews #SindhNews #ViralVideo #PoliticalUpdate #TrendingNow #PakistanNews #TikTokViral #InstagramReels #CurrentAffairs #NewsUpdate #PPP #Karachi #ViralNews #YouTubeShorts #ExplorePage #Politics #Trending #HeadlineNews
2 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/FX11143NGn0
🔥 کراچی سے لے کر پورے پاکستان تک سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور شہری مسائل سے پریشان ہیں، کچھ ایسے معاملات بھی منظرِ عام پر آ رہے ہیں جن پر کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ 👀
آخر اصل حقیقت کیا ہے؟
کیا صرف دعوے کیے جا رہے ہیں یا واقعی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے؟ 🤔
شہری حکومتوں کی کارکردگی، سیاسی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان فرق آخر کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ ⚠️
اس ویڈیو میں انہی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جو اس وقت سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور سیاسی ایوانوں میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ 📢
کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو کھل کر سامنے نہیں آتیں لیکن اشارے بہت کچھ بتا رہے ہیں… 😶🌫️
کراچی کی صورتحال ہو، سندھ کی سیاست یا پاکستان کے بدلتے حالات، ہر طرف ایک نئی بحث چل رہی ہے۔
عوام سوال پوچھ رہی ہے جبکہ حکومتی حلقے اپنی اپنی وضاحتیں دے رہے ہیں۔ ایسے میں اصل حقیقت جاننا ضروری ہو جاتا ہے۔ 🎯
ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں کیونکہ کچھ نکات ایسے ہیں جو شاید آپ نے پہلے کبھی اس انداز میں نہ سنے ہوں۔ ⏳
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں کیونکہ آپ کی آواز ہی اصل طاقت ہے۔ 💬
📌 مزید تازہ سیاسی خبروں، تجزیوں اور بریکنگ اپڈیٹس کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں اور ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ❤️
#Karachi #Pakistan #BreakingNews #ViralVideo #Trending #PakistanPolitics #KarachiNews #GeoNews #TikTokViral #InstagramReels #CurrentAffairs #PakistanUpdates #ViralNews #ExplorePage #NewsUpdate #PoliticalNews #Sindh #PublicReaction #TrendingNow #FYP
3 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
عید الاضحی کے دوسرے روز نیاز اے کھوکھر کی جانب سے دوستوں کے اعزاز میں پُروقار عید ملن پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جہاں محبت، خلوص اور خوشگوار ماحول نے محفل کو یادگار بنا دیا۔ 💖
اس خوبصورت موقع پر ذوالفقار علی ببر، سینیئر صحافی شیر محمد کھاوڑ، قاضی آصف، جی ایم کھوکھر، سارنگ خاصخیلی، عبدالرحمان ہاشمی، ساجد لاکھیر ایڈوکیٹ، مشتاق کھوکھر، شاہد بروہی، لیاقت کھوکھر، مصباح احمد اور تیمور خان کھوکھر سمیت دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں۔
“محبتیں وہی خوبصورت ہوتی ہیں جہاں تکلف نہیں، خلوص بولتا ہے” 🌹
نیاز اے کھوکھر کی بہترین میزبانی، شاندار انتظامات اور دوستوں سے بھرپور اپنائیت نے اس محفل کو خاص بنا دیا جبکہ یادگار لمحات تصاویر کی صورت ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے۔
3 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Z.B.J news
https://youtu.be/BvXwRUapiVo
🔥 بھارت میں عید الاضحیٰ، گائے اور سیاست کے گرد گھومتی ایک ایسی کہانی جس نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ برسوں سے جاری ایک روایت اچانک تنازع بن گئی؟ 🤔
کیا واقعی حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ لوگ اب خوف، دباؤ اور سیاست کے درمیان فیصلے کرنے پر مجبور ہیں؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی حکمتِ عملی کام کر رہی ہے؟ 🧐
اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی، مختلف ریاستوں میں نافذ قوانین، سیاسی جماعتوں کے بیانات، سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اور ان سوالات کی جن پر مین اسٹریم میڈیا کھل کر بات نہیں کرتا۔ ⚠️
کراچی، سندھ، پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والے لوگ اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟ 🌍
کیا جنوبی ایشیا ایک نئے سماجی اور سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے؟
اور سب سے اہم سوال… اس تمام صورتحال کا عام لوگوں کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟ 📢
ویڈیو میں مکمل تجزیہ، عوامی ردعمل، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور وہ حقائق شامل ہیں جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے۔ 💥
📌 اگر آپ سیاست، عالمی حالات، جنوبی ایشیا کی خبریں، بھارت پاکستان تعلقات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔
👍 ویڈیو پسند آئے تو لائک کریں
🗣️ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں
📲 اور مزید اپڈیٹس کے لیے شیئر اور فالو کرنا نہ بھولیں
#IndiaNews #EidUlAdha #BreakingNews #PakistanNews #KarachiNews #TrendingNow #ViralVideo #SouthAsia #PoliticalNews #WorldNews #IndianPolitics #MuslimNews #TikTokViral #InstagramReels #YouTubeShorts #LatestNews #GeoPolitics #Trending #Viral #NewsUpdate
4 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Z.B.J news
5 days ago | [YT] | 14
View 0 replies
Z.B.J news
**سیدھی بات...**
**ون یونٹ سے نئے صوبوں کے مطالبے تک سندھ کی مزاحمت**
**جاوید مہر**
سندھ کی وحدت کے خلاف مختلف طریقوں سے سازشیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سلسلہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا تھا تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اس کا ثبوت ملک بننے کے صرف ایک دہائی بعد ون یونٹ کے نفاذ سے ملتا ہے، جس کے ذریعے سندھ کو نشانہ بناتے ہوئے صوبوں کی زبان، ثقافت اور تاریخ پر حملہ کیا گیا۔ اس کے خلاف کس نے کتنی مزاحمت کی اور سندھ نے کیا کردار ادا کیا، یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔
آج جو لوگ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں، اگر وہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ سندھیوں نے اپنی دھرتی، زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے کتنی مزاحمت کی اور اپنی سرزمین سے کتنی محبت کی۔
ون یونٹ کیوں نافذ کیا گیا؟ اس کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہوئی؟ اور اس سے کس کو فائدہ پہنچایا گیا؟ یہ سب اب کوئی راز نہیں رہا۔ اگر آج کے جدید دور میں، جہاں اے آئی جیسی ٹیکنالوجی موجود ہے، کچھ لوگ پھر بھی تاریخ سے لاعلم ہیں یا تعصب کی وجہ سے حقیقتوں سے نظریں چرا رہے ہیں، تو انہیں کم از کم وکی پیڈیا پر موجود چند سطریں ضرور پڑھنی چاہئیں۔ ان میں لکھا ہے کہ:
“ون یونٹ” بنانے والوں نے غیر ارادی طور پر ایک کے بجائے دو پاکستان بنا دیے: “مغربی پاکستان” اور “مشرقی پاکستان”۔ بظاہر ون یونٹ کے دو بنیادی مقاصد بیان کیے گئے: ایک صوبائی تعصب ختم کرنا اور دوسرا انتظامی اخراجات کم کرنا، لیکن اصل مقصد بنگالی عوام کی آبادی کی اکثریت ختم کرنا تھا، کیونکہ بنگالی پاکستان کی کل آبادی کا 54 فیصد تھے اور قیامِ پاکستان کے وقت آئین ساز اسمبلی کے 69 ارکان میں سے 44 ارکان (یعنی 60 فیصد سے زیادہ) بنگال سے تھے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی قانون یا آئینی ترمیم بنگالیوں کی رضامندی کے بغیر منظور نہیں ہوسکتی تھی۔
آج کل سندھ کی وحدت کے خلاف بھی کچھ اسی قسم کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ منظم انداز میں ہر طرف سندھ کے نقشے سے چھیڑ چھاڑ کی کوششیں جاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو سینکڑوں پیجز اس مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جہاں گرافکس کے ذریعے کبھی سندھ کو دو حصوں میں تو کبھی چار حصوں میں تقسیم کرکے پیش کیا جاتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ کی وحدت کے خلاف ایک طاقتور مافیا سرگرم ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر نئے صوبوں کے نام پر مباحثے کروائے جاتے ہیں، جن میں تعصب پسند عناصر کو بلا کر مسلسل گفتگو کرائی جاتی ہے، مگر سندھ کے اصل باشندوں، سیاستدانوں، دانشوروں، تاریخ دانوں، تجزیہ کاروں اور صحافیوں کا مؤقف لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اسی لیے ایسے یکطرفہ پروگراموں کے ذریعے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس پوری مہم میں کوئی یہ تلخ حقیقت بیان کرنے کے لیے تیار نہیں کہ پاکستان کے اصل مسائل بدانتظامی، آمروں کی مداخلت، جمہوریت کی کمزوری، عدلیہ کی غیر آزادی، کرپشن اور سفارش کلچر ہیں۔ مگر ان بنیادی مسائل پر بات کرنا بعض لوگوں کے نزدیک ملکی سالمیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
میڈیا کے اس کردار سے وہ جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ مایوس ہوئے ہیں جو میڈیا کو اپنا مضبوط ہتھیار سمجھتے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی کسی شہر میں احتجاج کا اعلان ہوتا ہے تو پریس کلبوں کے اطراف کی سڑکیں بند کردی جاتی ہیں، مگر کوئی صحافتی تنظیم اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی۔
اسی وجہ سے اب پولیس کی جانب سے پریس کلبوں کے اندر جا کر پریس کانفرنس کرنے والوں کو ڈرانا دھمکانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ چند روز قبل یہی سلوک شیما کرمانی کے ساتھ ہوا، جنہیں کراچی پریس کلب کے باہر پولیس تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور اندر جانے نہیں دیا گیا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حکومتی ناکامیوں پر بات کریں گی۔ لیکن اگر طاقتور حلقوں کو معلوم ہوتا کہ وہ سندھ میں نئے صوبوں کی حمایت کریں گی تو شاید ان کے لیے سہولتیں پیدا کی جاتیں۔
اسی قسم کی سہولت کاری اس وقت ملک بھر، خاص طور پر کراچی کے میڈیا میں نظر آتی ہے۔ اگر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کوئی غیر معروف شخص بھی کرتا ہے تو اس خبر کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے، جبکہ سندھ دوست حلقوں کے مؤقف کو جگہ نہیں ملتی۔
گزشتہ ایک سال سے ملک میں نئے صوبے بنانے کا بھوت کچھ لوگوں کے سروں پر سوار ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت کو دشمن ملک قرار دینے والے لوگ نئے صوبوں کی مثال دیتے وقت اسی بھارت کا حوالہ بڑے فخر سے دیتے ہیں۔ کراچی کی دو کروڑ آبادی کو بنیاد بنا کر الگ صوبے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت نہیں بتائی جاتی کہ بھارت میں پاکستان کی آبادی جتنے کئی صوبے موجود ہیں۔
اردو بولنے والوں کو، جو کبھی تعلیم یافتہ طبقہ سمجھے جاتے تھے، تعلیم اور مثبت سیاست سے دور کرکے جذباتی نعروں میں الجھایا گیا۔ کبھی “اردو کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے” جیسے نعرے لگائے گئے اور کبھی لسانی فسادات کے ذریعے سندھی زبان سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ طویل عرصے تک تنہائی کا شکار رہے۔
اب جبکہ ایم کیو ایم کے زوال کے بعد اردو بولنے والوں نے لسانی سیاست سے نکل کر قومی سطح کی جماعتوں کی طرف رخ کرنا شروع کیا ہے، تو بعض عناصر دوبارہ کراچی صوبہ بنانے کے نام پر انہیں تعصب کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کبھی پریس کانفرنسیں کی جاتی ہیں اور کبھی تقریبات میں نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اس بار نئے صوبوں کے لیے منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ پنجاب سے بھی بعض سیاسی گروہ اس مہم میں سرگرم ہیں۔ چند روز قبل فواد چوہدری، بیرسٹر سیف اور محمد علی درانی کراچی پریس کلب آئے، جن کی سہولت کاری عمران اسماعیل اور مولوی محمود نے کی۔ انہوں نے “نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی” قائم کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت بنائی جائے اور سندھ سمیت جہاں ضرورت ہو نئے صوبے بنائے جائیں۔ جب فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ سندھ کے لوگ اپنی وحدت پر حملہ برداشت نہیں کریں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ سندھ کا نام برقرار رہے مگر مختلف شہروں میں تین چار بڑے وزراء مقرر کیے جائیں۔
اس سے واضح تھا کہ اصل مقصد کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی مہم ہے۔ ان رہنماؤں کی گفتگو سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
بہرحال یہ حقیقت واضح ہے کہ اس بار سندھ کی وحدت کے خلاف سازشیں ماضی سے زیادہ منظم اور طاقتور انداز میں ہو رہی ہیں۔ بظاہر بات پورے ملک میں نئے صوبوں کی ہو رہی ہے، مگر اصل ہدف سندھ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہروں کو وفاق کے کنٹرول میں دینے کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں سب سے اہم ہدف کراچی ہے۔
حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکمران حلقوں کو خدشہ ہے کہ سندھ توڑنے کی کوشش پر شدید مزاحمت ہوگی، اس لیے نئے صوبوں کے بجائے کراچی، گوادر، فاٹا اور دیگر اہم اسٹریٹجک شہروں کو وفاق کے کنٹرول میں دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کو وفاقی کنٹرول میں دینے کے باوجود سندھ کا دارالحکومت برقرار رکھا جائے گا، اور اس سلسلے میں بھارت کے شہر چندی گڑھ کی مثال دی گئی، جو پنجاب اور ہریانہ دونوں کا دارالحکومت ہے۔
یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ عوامی ردعمل کے خوف سے نئے صوبوں کے معاملے پر بعض حلقے پیچھے ہٹے ہیں، مگر اب ان کا نیا ہدف کراچی اور دیگر اہم شہروں کو سکیورٹی یا اسٹریٹجک اہمیت کے نام پر صوبوں سے الگ کرنا ہے۔
لیکن سندھ اس معاملے پر بالکل واضح ہے۔ جیسے ون یونٹ کے خلاف مزاحمت کی گئی تھی، ویسے ہی سندھ اپنے شہروں اور وسائل پر کسی بھی قسم کے کنٹرول کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ کیونکہ کراچی سے کشمور تک سندھ ایک ہے۔ نہ کراچی کو الگ صوبہ بننے دیا جائے گا اور نہ ہی اسے اسٹریٹجک یا وفاقی کنٹرول کے نام پر سندھ سے جدا ہونے دیا جائے گا۔
5 days ago | [YT] | 2
View 2 replies
Load more