Khalil Ahmad Khosa

Pakistan Govt Jobs & Schemes 2026

Daily Govt Job Alerts for Students & Job Seekers.
Latest PPSC, FPSC, Police, Teaching, Health & All Punjab Govt Jobs.

Get Eligibility, Last Date, and Direct Apply Links in every video.

Subscribe for Daily Updates.
"Your Job, Our Responsibility"

#PunjabJobs #SarkariNaukri #GovtJobs2026



Khalil Ahmad Khosa

📢 An international school in East Riyadh (Al-Khaleej district) requires:

* Computer teacher – immediate hiring

* Art teacher – immediate hiring

Contact via WhatsApp only – send CV to:

0560485804

2 days ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*یوم دفاع پاکستان*

وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت

پاکستان زندہ باد

3 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*چرواہے سے امامِ قرآن تک —*


مکّہ کے سنگلاخ پہاڑوں اور وادیوں میں ایک کم سن چرواہا روزانہ صبح سویرے بکریوں کا ریوڑ لے کر نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس لوٹ آتا۔

قد چھوٹا، جسم دبلا پتلا، ٹانگیں باریک اور رنگت گندمی تھی، مگر چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی چمک اس کی ذہانت کی گواہی دیتی تھی۔

یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔

والدین نے عرب کے جاہلانہ ماحول میں بھی انہیں ابتدائی تعلیم دلوائی تھی، چنانچہ وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ لیکن جب والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو اس باہمت بچے نے اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

دن بھر وہ خاموش اور ویران وادیوں میں بکریاں چراتا، کبھی ان کے پیچھے بھاگتا اور کبھی کسی بڑے پتھر کے سائے میں بیٹھ کر اپنے اردگرد کے حالات پر غور کرتا۔

وہ اپنے معاشرے کی اخلاقی پستی، جاہلانہ رسم و رواج اور معاشرتی برائیوں کو دل سے ناپسند کرتا تھا۔ وہ انہیں بدلنا چاہتا تھا، مگر کیسے؟ اس کا جواب اسے معلوم نہ تھا۔

بس وہ کسی اَن ہونی کا منتظر رہتا تھا۔

ایک دن زندگی بدل گئی!

ایک دن اس نے دیکھا کہ دو باوقار اور نورانی چہروں والے بزرگ، شدید تھکن اور پیاس کی حالت میں اس کی طرف چلے آ رہے ہیں۔

انہوں نے قریب آ کر پوچھا:

"اے لڑکے! ہم بہت پیاسے ہیں، کیا تم اس شدید گرمی میں کسی بکری کا دودھ ہمیں پلا سکتے ہو؟"

نوجوان چرواہے نے فوراً جواب دیا:

"بزرگو! میں ان بکریوں کا مالک نہیں، صرف چرواہا ہوں۔ ان کا مالک مکّے کا ایک سردار، عقبہ بن ابی معیط ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر دودھ نکالنا امانت میں خیانت ہوگی۔"

دونوں بزرگ اس جواب سے خوش ہوئے۔

پھر ان میں سے ایک نے پوچھا:

"اچھا، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو دودھ دینے کے قابل نہ ہو؟"

عبداللہؓ نے ایک بکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"ہاں، ایسی بکری موجود ہے، لیکن وہ آپ کے کس کام آئے گی؟ اس سے دودھ کیسے حاصل ہوگا؟"

ان بزرگوں میں سے ایک آگے بڑھے، بکری کے خشک اور چھوٹے تھنوں پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور دعا فرمائی۔

پھر ایک عجیب منظر پیش آیا!

دیکھتے ہی دیکھتے اس بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے۔

دونوں بزرگوں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا اور چرواہے کو بھی پلایا۔ جب سب دودھ پی چکے تو دوبارہ بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا گیا اور وہ اپنی پہلی حالت پر واپس آگئے۔

عبداللہ بن مسعودؓ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔

جب وہ بزرگ واپس جانے لگے تو انہوں نے چرواہے سے اس کا نام پوچھا۔

اس نے جواب دیا:

"میرا نام عبداللہ بن مسعود ہے۔"

اب عبداللہؓ کو بھی حوصلہ ہوا۔ انہوں نے پوچھا:

"صاحبو! اپنا تعارف بھی تو کروائیے۔"

جب انہیں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور دوسرے آپ ﷺ کے قریبی ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

وہ رسول اللہ ﷺ کے پیغام کے بارے میں پہلے ہی کچھ سن چکے تھے اور قریش کی مخالفت سے بھی واقف تھے۔

انہوں نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ ﷺ! یہ دعا مجھے بھی سکھا دیجیے۔"

رسول اللہ ﷺ نے شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:

"تم تو خود معلّم ہو۔"

قبولِ اسلام

اس اتفاقیہ ملاقات نے عبداللہ بن مسعودؓ کو اپنی منزل دکھا دی۔

اب ان کے لیے وقت گزارنا مشکل تھا۔ شام کو بکریاں مالک کے حوالے کیں، گھر پہنچے، رات بے قراری میں گزری اور صبح ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکل پڑے۔

بالآخر ایک پہاڑ کی گھاٹی میں اپنی مراد پا لی۔

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، بیعت کی، اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی خدمتِ نبوی ﷺ کے لیے وقف کردی۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ...

مکّہ کے مشرک سردار کی بکریاں چرانے والا ایک کم سن چرواہا، قرآن و فقہ کا امام بن گیا۔

میزانِ اعمال میں اصل قدر

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ایک درخت پر چڑھنے کا حکم دیا تاکہ وہ تازہ مسواک توڑ کر لائیں۔

جب وہ درخت پر چڑھے تو تیز ہوا کے باعث ان کا لباس ٹانگوں سے ہٹ گیا اور ان کی دبلی پتلی پنڈلیاں نظر آئیں۔ وہاں موجود کچھ لوگ بے اختیار ہنس پڑے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟"

انہوں نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ ﷺ! ان کی پتلی اور کمزور ٹانگوں کو دیکھ کر۔"

آپ ﷺ نے فرمایا:

"تمہیں معلوم نہیں کہ میزانِ اعمال میں یہ ٹانگیں اُحد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی۔"

یہی تو اصل معیار ہے!

اللہ کے ہاں جسم نہیں، ایمان اور عمل کی قدر ہے۔

غزوات میں شرکت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔

غزوۂ بدر میں ابوجہل کو دو انصاری نوجوانوں نے شدید زخمی کردیا تھا۔ حضرت ابنِ مسعودؓ، رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اسے تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔

حضرت ابنِ مسعودؓ اس کے سینے پر سوار ہوئے، اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور فرمایا:

"اے اللہ کے دشمن! کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ آج اللہ نے تجھے ذلیل و رسوا کردیا۔"

ابوجہل نے پوچھا:

"یہ بتاؤ، فتح کس کی ہوئی ہے؟"

حضرت ابنِ مسعودؓ نے جواب دیا:

"اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی!"

پھر آپؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔

آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا:

"واقعی، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!"

پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور فرمایا:

"چلو، مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔"

حضرت ابنِ مسعودؓ آپ ﷺ کو وہاں لے گئے۔ لاش دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"یہ اس امت کا فرعون ہے۔"

(الرحیق المختوم)

قاضیِ کوفہ

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابنِ مسعودؓ کچھ عرصہ گوشہ نشین ہوگئے۔

بعد ازاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ عملی میدان میں آگے لایا اور کوفہ بھیجا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ تقریباً دس سال تک کوفہ میں قاضی، بیت المال کے نگران اور شعبۂ تعلیم کے سربراہ رہے۔

آپؓ نے اس عرصے میں کوفہ کو علمِ قرآن و فقہ کا عظیم مرکز بنا دیا۔

📖 سورۂ واقعہ کا کمال

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اپنی زندگی کے آخری ایام میں مرض الموت میں مبتلا تھے۔

خلیفۂ وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا:

"اے ابنِ مسعودؓ! کیا میں تمہاری بچیوں کے لیے وظیفہ مقرر کر دوں؟"

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا:

"امیرالمؤمنین! آپ میری بچیوں کی فکر نہ کریں۔ میں نے انہیں تلقین کردی ہے کہ ہر رات سونے سے پہلے سورۂ واقعہ پڑھ لیا کریں۔ مجھے امید ہے کہ وہ کبھی محتاجی اور فاقے میں مبتلا نہیں ہوں گی اور رزق میں کمی نہیں ہوگی۔"

وفات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا 32 ہجری میں، تقریباً 63 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور آپؓ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔

بعض روایات میں کوفہ میں تدفین کا ذکر بھی ملتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

اللہ تعالیٰ ہماری بھی زندگی کو ایمان، قرآن، علم اور خدمتِ دین سے بھر دے، اور ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

دوستو!

اگر کوئی واقعہ، قول یا تحریر آپ کے دل کو چھو جائے اور آپ کو اس میں کوئی سبق نظر آئے تو اسے دوسروں تک بھی ضرور پہنچایا کریں۔

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
Khalil Ahmad Khosa

3 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

🚨🚔 *نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی NCCIA میں بھرتیوں کا اعلان*

📌 *آسامیوں کی تفصیل:*
🔹 سب انسپکٹر (BS-14)
🔹 ٹیکنیکل اسسٹنٹ (BS-14)
🔹 اسٹینو ٹائپسٹ (BS-14)
🔹 اپر ڈویژن کلرک / UDC (BS-11)
🔹 اسسٹنٹ سب انسپکٹر / ASI (BS-09)
🔹 کانسٹیبل اور کانسٹیبل ڈرائیور (BS-05)

🎓 *مطلوبہ تعلیم:* میٹرک، انٹرمیڈیٹ، بیچلر (BA/BS)
⏳ *عمر کی حد:* 18 سے 30 سال

*Deadline 07 September 2026*

3 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*Applications for the CM electric bikes have been opened today. Students from govt & private schools, colleges, medical and vocational institutes, and universities across Punjab can now apply to:*

*bikes.punjab.gov.pk*

3 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*مکافاتِ عمل صرف ایک خیال نہیں بلکہ کائنات کا ایک اٹل قانون ہے*

اندلس (اسپین) کے ایک شہر میں ایک قاضی رہتا تھا جو بظاہر بہت مذہبی اور متقی سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت میں شدید لالچی تھا۔ ایک دن ایک غریب بیوہ عورت، جس کا شوہر حال ہی میں فوت ہوا تھا، اپنے چھوٹے سے مکان کی حفاظت کی درخواست لے کر قاضی کے پاس آئی۔ اس عورت کے پاس زندگی کی کل جمع پونجی **100 سونے کے سکے** تھے، جو اس نے ایک تھیلی میں سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے قاضی کو امانت کے طور پر وہ تھیلی دی اور کہا: "جب میں حج سے واپس آؤں گی، تو یہ امانت مجھے لوٹا دینا۔"

حج سے واپسی پر جب بیوہ نے قاضی سے اپنی امانت مانگی، تو قاضی کے دل میں خباثت آ گئی۔ اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا: "تم کون ہو؟ میں نے کبھی تم سے کوئی تھیلی نہیں لی!" عورت روتی بلکتی رہی، لیکن قاضی کے اثر و رسوخ کے آگے اس کی ایک نہ چلی۔ وہ عورت روز رات کو رو کر اللہ کے حضور فریاد کرتی اور کہتی

: *"اے اللہ! جو زہر اس نے مجھے پلایا ہے، وہی اس کے اپنے پیالے میں لوٹا دے۔"*

کچھ سال گزر گئے۔ قاضی کا ایک ہی جوان بیٹا تھا جس سے وہ حد درجے محبت کرتا تھا اور اسے ایک بڑا تاجر بنانا چاہتا تھا۔ بیٹے کو تجارت کے لیے بڑی رقم کی ضرورت پڑی، تو اس نے کسی سے ادھار لیا اور ضمانت کے طور پر ایک تھیلی اپنے پاس رکھی۔

اتفاق سے ایک دن وہ قاضی سخت بیمار ہوا اور بسترِ مرگ پر پہنچ گیا۔ اس کا بیٹا اپنے باپ کی دیکھ بھال کر رہا تھا کہ اچانک قاضی کی نظر کمرے کے طاقچے میں رکھی ہوئی اسی تھیلی پر پڑی جو اس نے سالوں پہلے بیوہ عورت سے چھینی تھی۔

قاضی نے کانپتی ہوئی آواز میں اپنے بیٹے سے پوچھا: "یہ تھیلی یہاں کہاں سے آئی؟"

بیٹے نے جواب دیا: "ابو! میں نے ایک تاجر سے تجارت کے لیے بڑی رقم ادھار لی ہے، اس نے مجھے یہ تھیلی ضمانت کے طور پر دی ہے۔ اگر میں وقت پر رقم نہ لوٹا سکا تو مجھے اپنی پوری جائیداد اس کے نام کرنی پڑے گی۔"

قاضی نے جب تھیلی کھولی تو اس میں وہی **100 سونے کے سکے** تھے اور تھیلی کے کونے پر اس بیوہ عورت کا خاص نشان ابھرا ہوا تھا۔ قاضی پر یہ حقیقت کھلی کہ اس کا بیٹا جس تاجر کا مقروض ہوا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اسی بیوہ عورت کا بیٹا تھا جو سالوں بعد بڑا تاجر بن چکا تھا!

قاضی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے تڑپ کر کہا: "جس ظلم کے ذریعے میں نے اپنی اولاد کے لیے دولت جمع کرنے کی کوشش کی تھی، قدرت نے وہی ظلم گھما کر میری ہی اولاد پر نافذ کر دیا!"

انسان دوسروں کی زندگی میں جو کڑواہٹ گھولتا ہے، وقت گھوم کر وہی کڑواہٹ اس کے اپنے ہی گلاس میں ڈال دیتا ہے

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی

3 weeks ago | [YT] | 1

Khalil Ahmad Khosa

🇵🇰 پاک فوج میں بھرتی 2026

عنوان:
پاک فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور سپاہی کی بھرتی 2026 🇵🇰

تفصیل:
پاکستان آرمی میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (نائب خطیب) اور مختلف سپاہی ٹریڈز کے لیے بھرتی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اہل مرد امیدوار پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے درخواست دے سکتے ہیں۔ مختلف ٹریڈز میں سپاہی جنرل ڈیوٹی، ڈرائیور، ٹیکنیکل، ملٹری پولیس، کلرک اور سینٹری ورکر شامل ہیں۔
رجسٹریشن یکم ستمبر 2026 سے شروع ہوگی۔

کل آسامیاں:
تعداد اشتہار میں واضح طور پر درج نہیں کی گئی۔

اپلائی کرنے کا طریقہ:
آن لائن رجسٹریشن کے لیے [joinpakarmy.gov.pk](www.joinpakarmy.gov.pk/?utm_source=chatgpt.com) وزٹ کریں۔ امیدوار قریبی Army Selection & Recruitment Office یا Regimental Centre جا کر بھی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ آن لائن رجسٹریشن لازمی نہیں ہے۔

آن لائن رجسٹریشن:
یکم ستمبر 2026 سے 16 نومبر 2026 تک۔

آفس کے ذریعے رجسٹریشن:
یکم ستمبر 2026 سے 23 نومبر 2026 تک۔
Contect for online apply
03306090284
Apply fee 500pkr

4 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*پچاس سال دیر سے پہنچنے والا خط...*

ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک بوڑھا ڈاکیہ رہتا تھا۔ چالیس برس تک اس کی زندگی ایک ہی راستے، ایک ہی تھیلے اور ایک ہی ذمہ داری کے گرد گھومتی رہی۔

ہر صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے وہ اپنے کندھے پر خطوں کا تھیلا ڈالتا، پہاڑی پگڈنڈیوں پر چل پڑتا اور لوگوں کے گھروں تک کبھی خوشی، کبھی غم اور کبھی امید کے پیغام پہنچاتا۔

گاؤں کے لوگ کہا کرتے تھے:

"اس کے ہاتھوں میں صرف کاغذ نہیں ہوتے، بلکہ کسی کی مسکراہٹ، کسی کی دعائیں اور کبھی کبھی کسی کی پوری دنیا ہوتی ہے۔"

وقت گزرتا گیا۔ بال سفید ہو گئے، قدموں میں پہلے جیسی تیزی نہ رہی اور آخرکار اس کی ریٹائرمنٹ کا دن بھی آ پہنچا۔

اپنے آخری دنوں میں وہ پرانے صندوق کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک ایک زرد پڑا ہوا لفافہ اس کے ہاتھ لگا۔

اس نے لفافے سے گرد صاف کی، تاریخ پر نظر پڑی تو اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔

یہ خط تقریباً پچاس برس پرانا تھا۔

لفافے پر ایک نوجوان سپاہی کا نام لکھا ہوا تھا۔

بوڑھے ڈاکیے نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔

اندر صرف چند سطریں تھیں، مگر ہر لفظ محبت میں ڈوبا ہوا تھا:

"میری پیاری... میں محاذِ جنگ کی طرف جا رہا ہوں۔ اگر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور میں واپس نہ آ سکا تو یہ جان لینا کہ میری آخری سانس تک صرف تم ہی میری دعا، میری امید اور میری محبت رہو گی۔ میرا انتظار مت کرنا۔ اپنی زندگی خوشی سے گزار لینا، کیونکہ تمہاری خوشی ہی میری آخری خواہش ہے۔"

خط پڑھتے ہی بوڑھے ڈاکیے کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اچانک اسے برسوں پرانا وہ زمانہ یاد آ گیا، جب جنگ کے دنوں میں سینکڑوں خطوط اس کے پاس آتے تھے۔

انہی خطوط میں یہ خط بھی شامل تھا، جو پتے کی معمولی سی غلطی اور اس کی ایک چھوٹی سی کوتاہی کے باعث کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔

اس رات وہ سو نہ سکا۔

ایک ہی سوال بار بار اس کے ذہن میں گردش کرتا رہا:

"کیا میری ایک غلطی نے کسی انسان کی پوری زندگی بدل دی؟"

اگلی صبح اس نے فیصلہ کیا کہ چاہے جتنی بھی محنت کرنی پڑے، وہ اس خط کی اصل حقدار کو ضرور تلاش کرے گا۔

کئی دنوں کی تلاش کے بعد وہ گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی کچی جھونپڑی تک جا پہنچا۔

وہاں ایک نحیف و کمزور بوڑھی عورت اکیلی رہتی تھی۔

لوگوں نے بتایا کہ اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ برسوں تک وہ ہر شام گاؤں کے راستے پر کھڑی اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔

پھر ایک دن اس نے خاموشی سے انتظار کرنا تو چھوڑ دیا، مگر اپنے دل سے امید کبھی نہ نکال سکی۔

بوڑھا ڈاکیہ آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے وہ پرانا لفافہ اس کی طرف بڑھایا اور دھیمی آواز میں کہا:

"یہ... شاید بہت دیر سے آپ تک پہنچ رہا ہے۔"

بوڑھی عورت نے حیرت سے لفافہ تھاما۔

جیسے ہی اس کی نظر لفافے پر لکھی ہوئی لکھائی پر پڑی، اس کی سانس جیسے رک گئی۔

وہ فوراً زمین پر بیٹھ گئی۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔

اس نے خط کھولا...

اور برسوں پہلے لکھے گئے وہ الفاظ پڑھنے لگی۔

ہر سطر کے ساتھ کبھی اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آتی، کبھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔

خط ختم ہوا تو اس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:

"میں نے پوری زندگی یہی سمجھا کہ وہ مجھے بھول گیا تھا... مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ آخری لمحے تک مجھ سے محبت کرتا رہا۔ کاش یہ خط وقت پر پہنچ جاتا... شاید میری پوری زندگی بدل جاتی۔"

یہ الفاظ سن کر بوڑھے ڈاکیے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

وہ خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا۔

اس دن اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ:

ایک خط صرف چند الفاظ اور کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی اس میں کسی انسان کی پوری زندگی، اس کی امید، اس کی محبت اور اس کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔

گاؤں سے واپس جاتے ہوئے اس کے قدم پہلے سے کہیں زیادہمیں فون پر اپنی بہن سے بات کر رہا تھا۔ گپ شپ کے دوران ہنستے ہوئے بتانے لگی کہ
بھیا آپ کو پتہ ہے میرے گھر ایک ہمسائی آئی۔ پوچھا کہ،
فلاں کی بہو ہو؟
بہن نے جواب دیا کہ "ہاں جی۔"
آکر ملی۔ قریب آکر دیکھا تو حیران و پریشان ہوکر منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگی کہ،
"ہائے اڑی چُھوہِر آ۔۔۔۔۔ تیڈا نَک کائینی سیتا ہویا؟" 🫢
(ہائے رے لڑکی، تیرا ناک نہیں سِلا ہوا؟)
بہن نے "نہیں" میں جواب دیا۔
پھر کہنے لگی کہ،
"اَڑی نَک سِوا گِھن۔۔۔۔۔ ، رات کوں بی بی سائینڑ (بی بی سائین) آندی ہے تے ساریاں ترِمتِیں دے منہ تے ہتھ پھِریندی اے۔ اگر کہیں دا نَک نہ سیتا ہویا ہووے تاں۔۔۔۔ اوکوں بددعا کڈھینڈی اے۔"
(ارے ناک سِلوا لو۔۔۔۔ رات کو بی بی سائین آتی ہیں اور ساری عورتوں کے منہ پر ہاتھ پھیرتی ہیں اگر کسی نہ ناک نہ سِلی ہو تو اسے بددعا دے جاتی ہیں)

میری بہن ہنسنا شروع ہوگئی اور وہ بوڑھی منہ بسورتے ہوئے باتیں سناتی چلی گئی۔😆

اتنی توہمات ہیں کہ انسان کہاں جائے؟ اللّہ معاف کرے میں تو ہنس ہنس کے پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یار یہ بی بی سائین کو اور کوئی کام نہیں ملا؟

کیونکہ اگرچہ بہت دیر ہو چکی تھی...

مگر ایک سچ آخرکار اپنی منزل تک پہنچ گیا تھا۔

اخلاقی سبق:

بعض اوقات ایک معمولی سی غفلت، ایک چھوٹی سی تاخیر یا ایک غلط فیصلہ کسی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

محبت، احساسات اور سچائی کو وقت پر اپنی منزل تک پہنچانا ہی ان کی اصل قدر ہے۔

کیونکہ...

گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔


منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی

4 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

تاریخ اگر مقدونیہ کے سکندر کو سکندر اعظم کہتی ہے تو یہ بلاوجہ نہیں. کیونکہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے بھی تین صدیاں پیچھے سکندر نے معلوم دُنیا کا بڑا حصہ صرف 12 سال میں فتح کر لیا تھا.

سکندر 32 سال 8 ماہ کی عمر میں فوت ہوگیا تھا. لیکن تھریس قبائل سے شروع جنگ کے بعد اس نے بلقان ایلیریائی قبائل تھیس فارسی سلطنت غزہ مصر بابل ہندوستان ہر طرف فتوحات کے جھنڈے گاڑ دئے تھے. سکندر نے یہ جادو کیسے کیا.؟

اُس دور کی جنگوں میں وہ ایک نئی ٹیکنالوجی لایا. یہ تقریباً 18 فٹ کے نیزے تھے. کندھے سے کندھا جوڑے قطار سے قطار جوڑے اس کی فوج جب یہ نیزے سیدھے کر کے آگے بڑھتی تو مخالف فوج کے پاس اسکا جواب ہی نہ ہوتا. کیونکہ ان کی دو تین فٹ کی تلواروں اور سکندر اعظم کی فوج کے درمیان 18 فٹ کے نیزے ہوتے.

ہزاروں یونانی فوجی مل کر جب زور لگاتے تو ہر فوج کو چیر کر نکل جاتے. کئی صدی بعد روم نے اسکا حل نکالا. رومی اپنی چھوٹی تلواروں اور بڑی ڈھالوں کے ساتھ آئے. یونان کی کندھے سے کندھا ملائی فوج کے مقابل انہوں نے چھوٹے یونٹوں میں تقسیم فوج کھڑی کی.

پیدنا کی جنگ میں لیکن اصل فرق محل وقوع کا تھا. روم یونانیوں کو کھینچ کر پہاڑ کی ناہموار ڈھلوان پر لے آیا جہاں یونان اپنی ترتیب قائم نہیں رکھ پایا. اور رومی ان کی صفوں میں گھس گئے. وہی نیزے جن سے انہوں نے دُنیا فتح کی وہ پھر کمزوری بن گئے. کیونکہ قریب کی لڑائی میں یہ نیزے کسی کام کے نہیں تھے.

ایک گھنٹے میں پیدنا کی ڈھلوان یونانیوں کی لاشوں سے بھر گئی. قدرت کا یہی طریقہ کار ہے. وقت کی طاقت کو جب قدرت زوال دیتی ہے تو بس صرف میدان بدل دیتی ہے. وہ ہتھیار جس پر وہ طاقت کھڑی ہوتی ہے وہی اس کی کمزوری بن جاتے ہیں. یہ تاریخ کا سبق ہے جسے طاقت کے نشے میں انسان بھول جاتا ہے۔

4 weeks ago | [YT] | 0

Khalil Ahmad Khosa

*بچوں کو تنہائی کے گناہ سے کیسے بچائیں*

بچوں کو تنہائی، انٹرنیٹ کے غلط استعمال یا دیگر نادانستہ غلطیوں اور گناہوں سے بچانے کے لیے حکمت، پیار اور مناسب نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل عملی اور تربیتی اقدامات کے ذریعے بچوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے:
​مثبت تعلق اور کھلی بات چیت
​دوستانہ ماحول-:
بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ دل کی بات بلا خوف بتا سکیں۔ اگر بچہ آپ سے باتیں چھپانے لگے، تو تنہائی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
​وقت دینا:
روزانہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور جذبات کو سنیں تاکہ انہیں اکیلاپن محسوس نہ ہو۔
​جدید ٹیکنالوجی اور سکرین کا درست استعمال
​سکرین کے لیے مشترکہ جگہ: کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل استعمال کرنے کے لیے گھر کا ایسا کونہ منتخب کریں جہاں سب کی آمدورفت ہو۔ بند کمرے میں انٹرنیٹ کے استعمال سے گریز کریں۔
​پیرنٹل کنٹرولز (Parental Controls):
موبائل اور ویب براؤزر پر مناسب فلٹرز اور پیرنٹل کنٹرولز فعال کریں تاکہ غیر اخلاقی مواد تک ان کی رسائی نہ ہو سکے۔
​گیجٹس کے وقت کی حد: رات کو سوتے وقت موبائل اور گیجٹس کو کمرے سے باہر رکھنے کا قانون بنائیں۔
​مذہبی و اخلاقی تربیت
​خدا ترسی اور احساسِ جوابدہی: بچوں کے دل میں یہ شعور اجاگر کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر جگہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
"خود ضبطی" (Self-Control) کا یہ جذبہ سب سے بڑا محافظ ہے۔
​نماز اور اذکار کی پابندی:
بچوں کو باقاعدگی سے نماز اور دعا کی عادت ڈالیں، کیونکہ نماز برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔
​سرگرمیوں میں مصروفیت
​مثبت مشغلے:
بچوں کو کھیل کود، کتابوں کے مطالعے، آرٹ يا دیگر تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیں۔ فارغ ذہن منفی فکر کی طرف جلدی مائل ہوتا ہے۔
​اچھی صحبت:
اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے دوست کون ہیں۔ بچوں کو اچھے اور بااخلاق ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں۔
​اگر بچہ سنِ بلوغت کے قریب ہے، تو اسے عمر کے تقاضوں کے مطابق اخلاقی حدود اور پاکدامنی کی اہمیت انتہائی شفقت اور حکمت سے سمجھائیں۔


منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی

1 month ago | [YT] | 1