Pakistan Govt Jobs & Schemes 2026
Daily Govt Job Alerts for Students & Job Seekers.
Latest PPSC, FPSC, Police, Teaching, Health & All Punjab Govt Jobs.
Get Eligibility, Last Date, and Direct Apply Links in every video.
Subscribe for Daily Updates.
"Your Job, Our Responsibility"
#PunjabJobs #SarkariNaukri #GovtJobs2026
Khalil Ahmad Khosa
🇵🇰 پاک فوج میں بھرتی 2026
عنوان:
پاک فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور سپاہی کی بھرتی 2026 🇵🇰
تفصیل:
پاکستان آرمی میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (نائب خطیب) اور مختلف سپاہی ٹریڈز کے لیے بھرتی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اہل مرد امیدوار پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے درخواست دے سکتے ہیں۔ مختلف ٹریڈز میں سپاہی جنرل ڈیوٹی، ڈرائیور، ٹیکنیکل، ملٹری پولیس، کلرک اور سینٹری ورکر شامل ہیں۔
رجسٹریشن یکم ستمبر 2026 سے شروع ہوگی۔
کل آسامیاں:
تعداد اشتہار میں واضح طور پر درج نہیں کی گئی۔
اپلائی کرنے کا طریقہ:
آن لائن رجسٹریشن کے لیے [joinpakarmy.gov.pk](www.joinpakarmy.gov.pk/?utm_source=chatgpt.com) وزٹ کریں۔ امیدوار قریبی Army Selection & Recruitment Office یا Regimental Centre جا کر بھی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ آن لائن رجسٹریشن لازمی نہیں ہے۔
آن لائن رجسٹریشن:
یکم ستمبر 2026 سے 16 نومبر 2026 تک۔
آفس کے ذریعے رجسٹریشن:
یکم ستمبر 2026 سے 23 نومبر 2026 تک۔
Contect for online apply
03306090284
Apply fee 500pkr
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
*پچاس سال دیر سے پہنچنے والا خط...*
ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک بوڑھا ڈاکیہ رہتا تھا۔ چالیس برس تک اس کی زندگی ایک ہی راستے، ایک ہی تھیلے اور ایک ہی ذمہ داری کے گرد گھومتی رہی۔
ہر صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے وہ اپنے کندھے پر خطوں کا تھیلا ڈالتا، پہاڑی پگڈنڈیوں پر چل پڑتا اور لوگوں کے گھروں تک کبھی خوشی، کبھی غم اور کبھی امید کے پیغام پہنچاتا۔
گاؤں کے لوگ کہا کرتے تھے:
"اس کے ہاتھوں میں صرف کاغذ نہیں ہوتے، بلکہ کسی کی مسکراہٹ، کسی کی دعائیں اور کبھی کبھی کسی کی پوری دنیا ہوتی ہے۔"
وقت گزرتا گیا۔ بال سفید ہو گئے، قدموں میں پہلے جیسی تیزی نہ رہی اور آخرکار اس کی ریٹائرمنٹ کا دن بھی آ پہنچا۔
اپنے آخری دنوں میں وہ پرانے صندوق کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک ایک زرد پڑا ہوا لفافہ اس کے ہاتھ لگا۔
اس نے لفافے سے گرد صاف کی، تاریخ پر نظر پڑی تو اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
یہ خط تقریباً پچاس برس پرانا تھا۔
لفافے پر ایک نوجوان سپاہی کا نام لکھا ہوا تھا۔
بوڑھے ڈاکیے نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔
اندر صرف چند سطریں تھیں، مگر ہر لفظ محبت میں ڈوبا ہوا تھا:
"میری پیاری... میں محاذِ جنگ کی طرف جا رہا ہوں۔ اگر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور میں واپس نہ آ سکا تو یہ جان لینا کہ میری آخری سانس تک صرف تم ہی میری دعا، میری امید اور میری محبت رہو گی۔ میرا انتظار مت کرنا۔ اپنی زندگی خوشی سے گزار لینا، کیونکہ تمہاری خوشی ہی میری آخری خواہش ہے۔"
خط پڑھتے ہی بوڑھے ڈاکیے کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اچانک اسے برسوں پرانا وہ زمانہ یاد آ گیا، جب جنگ کے دنوں میں سینکڑوں خطوط اس کے پاس آتے تھے۔
انہی خطوط میں یہ خط بھی شامل تھا، جو پتے کی معمولی سی غلطی اور اس کی ایک چھوٹی سی کوتاہی کے باعث کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔
اس رات وہ سو نہ سکا۔
ایک ہی سوال بار بار اس کے ذہن میں گردش کرتا رہا:
"کیا میری ایک غلطی نے کسی انسان کی پوری زندگی بدل دی؟"
اگلی صبح اس نے فیصلہ کیا کہ چاہے جتنی بھی محنت کرنی پڑے، وہ اس خط کی اصل حقدار کو ضرور تلاش کرے گا۔
کئی دنوں کی تلاش کے بعد وہ گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی کچی جھونپڑی تک جا پہنچا۔
وہاں ایک نحیف و کمزور بوڑھی عورت اکیلی رہتی تھی۔
لوگوں نے بتایا کہ اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ برسوں تک وہ ہر شام گاؤں کے راستے پر کھڑی اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔
پھر ایک دن اس نے خاموشی سے انتظار کرنا تو چھوڑ دیا، مگر اپنے دل سے امید کبھی نہ نکال سکی۔
بوڑھا ڈاکیہ آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے وہ پرانا لفافہ اس کی طرف بڑھایا اور دھیمی آواز میں کہا:
"یہ... شاید بہت دیر سے آپ تک پہنچ رہا ہے۔"
بوڑھی عورت نے حیرت سے لفافہ تھاما۔
جیسے ہی اس کی نظر لفافے پر لکھی ہوئی لکھائی پر پڑی، اس کی سانس جیسے رک گئی۔
وہ فوراً زمین پر بیٹھ گئی۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
اس نے خط کھولا...
اور برسوں پہلے لکھے گئے وہ الفاظ پڑھنے لگی۔
ہر سطر کے ساتھ کبھی اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آتی، کبھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔
خط ختم ہوا تو اس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:
"میں نے پوری زندگی یہی سمجھا کہ وہ مجھے بھول گیا تھا... مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ آخری لمحے تک مجھ سے محبت کرتا رہا۔ کاش یہ خط وقت پر پہنچ جاتا... شاید میری پوری زندگی بدل جاتی۔"
یہ الفاظ سن کر بوڑھے ڈاکیے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
وہ خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا۔
اس دن اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ:
ایک خط صرف چند الفاظ اور کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی اس میں کسی انسان کی پوری زندگی، اس کی امید، اس کی محبت اور اس کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔
گاؤں سے واپس جاتے ہوئے اس کے قدم پہلے سے کہیں زیادہمیں فون پر اپنی بہن سے بات کر رہا تھا۔ گپ شپ کے دوران ہنستے ہوئے بتانے لگی کہ
بھیا آپ کو پتہ ہے میرے گھر ایک ہمسائی آئی۔ پوچھا کہ،
فلاں کی بہو ہو؟
بہن نے جواب دیا کہ "ہاں جی۔"
آکر ملی۔ قریب آکر دیکھا تو حیران و پریشان ہوکر منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگی کہ،
"ہائے اڑی چُھوہِر آ۔۔۔۔۔ تیڈا نَک کائینی سیتا ہویا؟" 🫢
(ہائے رے لڑکی، تیرا ناک نہیں سِلا ہوا؟)
بہن نے "نہیں" میں جواب دیا۔
پھر کہنے لگی کہ،
"اَڑی نَک سِوا گِھن۔۔۔۔۔ ، رات کوں بی بی سائینڑ (بی بی سائین) آندی ہے تے ساریاں ترِمتِیں دے منہ تے ہتھ پھِریندی اے۔ اگر کہیں دا نَک نہ سیتا ہویا ہووے تاں۔۔۔۔ اوکوں بددعا کڈھینڈی اے۔"
(ارے ناک سِلوا لو۔۔۔۔ رات کو بی بی سائین آتی ہیں اور ساری عورتوں کے منہ پر ہاتھ پھیرتی ہیں اگر کسی نہ ناک نہ سِلی ہو تو اسے بددعا دے جاتی ہیں)
میری بہن ہنسنا شروع ہوگئی اور وہ بوڑھی منہ بسورتے ہوئے باتیں سناتی چلی گئی۔😆
اتنی توہمات ہیں کہ انسان کہاں جائے؟ اللّہ معاف کرے میں تو ہنس ہنس کے پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یار یہ بی بی سائین کو اور کوئی کام نہیں ملا؟
کیونکہ اگرچہ بہت دیر ہو چکی تھی...
مگر ایک سچ آخرکار اپنی منزل تک پہنچ گیا تھا۔
اخلاقی سبق:
بعض اوقات ایک معمولی سی غفلت، ایک چھوٹی سی تاخیر یا ایک غلط فیصلہ کسی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
محبت، احساسات اور سچائی کو وقت پر اپنی منزل تک پہنچانا ہی ان کی اصل قدر ہے۔
کیونکہ...
گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
منقول
─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
تاریخ اگر مقدونیہ کے سکندر کو سکندر اعظم کہتی ہے تو یہ بلاوجہ نہیں. کیونکہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے بھی تین صدیاں پیچھے سکندر نے معلوم دُنیا کا بڑا حصہ صرف 12 سال میں فتح کر لیا تھا.
سکندر 32 سال 8 ماہ کی عمر میں فوت ہوگیا تھا. لیکن تھریس قبائل سے شروع جنگ کے بعد اس نے بلقان ایلیریائی قبائل تھیس فارسی سلطنت غزہ مصر بابل ہندوستان ہر طرف فتوحات کے جھنڈے گاڑ دئے تھے. سکندر نے یہ جادو کیسے کیا.؟
اُس دور کی جنگوں میں وہ ایک نئی ٹیکنالوجی لایا. یہ تقریباً 18 فٹ کے نیزے تھے. کندھے سے کندھا جوڑے قطار سے قطار جوڑے اس کی فوج جب یہ نیزے سیدھے کر کے آگے بڑھتی تو مخالف فوج کے پاس اسکا جواب ہی نہ ہوتا. کیونکہ ان کی دو تین فٹ کی تلواروں اور سکندر اعظم کی فوج کے درمیان 18 فٹ کے نیزے ہوتے.
ہزاروں یونانی فوجی مل کر جب زور لگاتے تو ہر فوج کو چیر کر نکل جاتے. کئی صدی بعد روم نے اسکا حل نکالا. رومی اپنی چھوٹی تلواروں اور بڑی ڈھالوں کے ساتھ آئے. یونان کی کندھے سے کندھا ملائی فوج کے مقابل انہوں نے چھوٹے یونٹوں میں تقسیم فوج کھڑی کی.
پیدنا کی جنگ میں لیکن اصل فرق محل وقوع کا تھا. روم یونانیوں کو کھینچ کر پہاڑ کی ناہموار ڈھلوان پر لے آیا جہاں یونان اپنی ترتیب قائم نہیں رکھ پایا. اور رومی ان کی صفوں میں گھس گئے. وہی نیزے جن سے انہوں نے دُنیا فتح کی وہ پھر کمزوری بن گئے. کیونکہ قریب کی لڑائی میں یہ نیزے کسی کام کے نہیں تھے.
ایک گھنٹے میں پیدنا کی ڈھلوان یونانیوں کی لاشوں سے بھر گئی. قدرت کا یہی طریقہ کار ہے. وقت کی طاقت کو جب قدرت زوال دیتی ہے تو بس صرف میدان بدل دیتی ہے. وہ ہتھیار جس پر وہ طاقت کھڑی ہوتی ہے وہی اس کی کمزوری بن جاتے ہیں. یہ تاریخ کا سبق ہے جسے طاقت کے نشے میں انسان بھول جاتا ہے۔
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
*بچوں کو تنہائی کے گناہ سے کیسے بچائیں*
بچوں کو تنہائی، انٹرنیٹ کے غلط استعمال یا دیگر نادانستہ غلطیوں اور گناہوں سے بچانے کے لیے حکمت، پیار اور مناسب نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل عملی اور تربیتی اقدامات کے ذریعے بچوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے:
مثبت تعلق اور کھلی بات چیت
دوستانہ ماحول-:
بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ دل کی بات بلا خوف بتا سکیں۔ اگر بچہ آپ سے باتیں چھپانے لگے، تو تنہائی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
وقت دینا:
روزانہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور جذبات کو سنیں تاکہ انہیں اکیلاپن محسوس نہ ہو۔
جدید ٹیکنالوجی اور سکرین کا درست استعمال
سکرین کے لیے مشترکہ جگہ: کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل استعمال کرنے کے لیے گھر کا ایسا کونہ منتخب کریں جہاں سب کی آمدورفت ہو۔ بند کمرے میں انٹرنیٹ کے استعمال سے گریز کریں۔
پیرنٹل کنٹرولز (Parental Controls):
موبائل اور ویب براؤزر پر مناسب فلٹرز اور پیرنٹل کنٹرولز فعال کریں تاکہ غیر اخلاقی مواد تک ان کی رسائی نہ ہو سکے۔
گیجٹس کے وقت کی حد: رات کو سوتے وقت موبائل اور گیجٹس کو کمرے سے باہر رکھنے کا قانون بنائیں۔
مذہبی و اخلاقی تربیت
خدا ترسی اور احساسِ جوابدہی: بچوں کے دل میں یہ شعور اجاگر کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر جگہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
"خود ضبطی" (Self-Control) کا یہ جذبہ سب سے بڑا محافظ ہے۔
نماز اور اذکار کی پابندی:
بچوں کو باقاعدگی سے نماز اور دعا کی عادت ڈالیں، کیونکہ نماز برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔
سرگرمیوں میں مصروفیت
مثبت مشغلے:
بچوں کو کھیل کود، کتابوں کے مطالعے، آرٹ يا دیگر تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیں۔ فارغ ذہن منفی فکر کی طرف جلدی مائل ہوتا ہے۔
اچھی صحبت:
اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے دوست کون ہیں۔ بچوں کو اچھے اور بااخلاق ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں۔
اگر بچہ سنِ بلوغت کے قریب ہے، تو اسے عمر کے تقاضوں کے مطابق اخلاقی حدود اور پاکدامنی کی اہمیت انتہائی شفقت اور حکمت سے سمجھائیں۔
منقول
─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
4 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
عنوان: *سائیں !*
"سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی"
برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا.
"اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی" بنا ناراض ہوئے
، بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.
ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ تو کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی۔
بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے۔
"کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی".
*"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟*
"نوجوان جوشیلے انداز میں بولا...
"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو 'اس' سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی" پرسکون جواب۔۔۔
جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے...لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟
اچھا کیا چھوڑ دیا "نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا۔
بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا۔ تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا،کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے-
ــــ
*"میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی"*
بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا۔
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے۔ رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی۔ مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکر رہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے۔
وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟
لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں۔
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا *"میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں،اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا،یوں ہے بڑے دل والی، "اپنے سائیں" کو خوش رکھے گی"*,
وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا، سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار."
"باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔
ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی "آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے تو ایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی"-
کیا؟ اس مونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا۔
*"ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ "* غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے۔ میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی !
وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دو دن تک بستر پر پڑی رہی۔ مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
پھر اس نے گھر میں ہی
سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی
بے پرواہ ہوگیا
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں", میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی۔۔؟ غصہ حد سے سوا تھا،
بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا.
ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا اب آواز زیادہ واضح تھی وہ کہ رہی تھی:
*"سائیں ! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی, میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، جب تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بےعزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے۔۔۔
تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا"
وہ میری شکایت کررہی تھی؟ لیکن کس سے ؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟؟؟
میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر بیٹھی خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا۔
میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی, وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی, وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی۔
وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی، آج مجھے سمجھ آیا تھا۔
وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی۔ کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی خدا شناس تھی، میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔
دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
*"یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے.مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاؤ آگیا تو میرا حشر نہ کردے"* - حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا۔
اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ میرے پلٹنے پر کہنے لگا "میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس *"سائیں"* کو خوش رکھنا جانتی ہے" , اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا۔
جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا۔۔
*"تو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا"*، اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا۔
میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو
دو جہانوں کا رب تھا۔ وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا۔ میں واقعی ڈر گیا تھا۔ میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو۔
ٹھیک کہتے ہیں لوگ۔۔۔!!
کہاں میں کہاں وہ؟؟ "
بوڑھی آنکھوں میں نمی اتری تھی۔
"میں کور چشم اسے پہچان نہ سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے *سائیں* نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو"....
دلچسپ و عجیب تاریخ
4 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
🔥 Bank Alfalah Internship Program 2026
Bank Alfalah Internship Program 2026 | خواتین کے لیے 450 نشستیں | Rs. 45,000–70,000 Stipend | Apply Online
🎓 Bank Alfalah Internship Program 2026 🏦
خواتین امیدواروں کے لیے شاندار انٹرن شپ موقع! 👩🎓
✅ صرف خواتین کے لیے
🎓 تعلیم: BA, BSc, BS, MA
💼 کل نشستیں: 450
💰 ماہانہ معاوضہ: Rs. 45,000 تا Rs. 70,000
⏳ دورانیہ: 1 سال
📍 پنجاب کے مختلف بڑے شہر
📅 آخری تاریخ: 28 اگست 2026
📱 آن لائن اپلائی اور مزید معلومات کے لیے:
WhatsApp: 03306090284
⚠️ اپلائی کرنے سے پہلے تمام سرکاری معلومات اور اہلیت لازمی چیک کریں۔
Bank Alfalah Internship 2026, Bank Alfalah Jobs 2026, Bank Alfalah Internship Program, Internship 2026 Pakistan, Female Internship 2026, خواتین کے لیے انٹرن شپ, Bank Jobs 2026, Banking Internship Pakistan, Fresh Graduate Jobs Pakistan, Internship Opportunities Pakistan
#BankAlfalah #BankAlfalahInternship #Internship2026 #BankJobs2026 #Jobs2026 #FemaleJobs #FemaleInternship #InternshipPakistan #JobsInPakistan #BankJobs #CareerOpportunities #FreshGraduates #WomenJobs #PunjabJobs #PakistanJobs #ApplyOnline #JobAlert #LatestJobs #KhalilAhmadKhosa
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
OPF Girls College Jobs 2026
OPF Girls College Islamabad Jobs 2026 | Teaching & Non Teaching Jobs | Salary 45,000 | Apply Online
Alternative Viral Title:
OPF Girls College Jobs 2026 | Islamabad میں نئی سرکاری/کنٹریکٹ نوکریاں | Salary 45,000
OPF Girls College F-8/2 Islamabad Jobs 2026 کی نئی بھرتی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں Teaching اور Non-Teaching Staff کی تمام آسامیوں، اہلیت، عمر کی حد، تجربہ، تنخواہ اور Apply کرنے کے مکمل طریقہ کار کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
📌 Teaching Posts:
• English Female — 02
• Islamiat Female — 01
• Physics Female — 02
• Accounting & Finance Female — 01
• Female Internee Teacher English — 01
📌 Non-Teaching Posts:
• Admin Officer — 01
• Electrician — 01
• Carpenter — 01
💰 Salary: Rs. 25,000 سے Rs. 45,000 تک
📅 Last Date: 05 September 2026
📍 Location: F-8/2, Islamabad
🌐 Apply: OPF / OPF Girls College official websites
ویڈیو مکمل دیکھیں تاکہ آپ qualification، age limit، experience اور application process کی تمام تفصیلات جان سکیں۔
OPF Girls College Jobs 2026, OPF Jobs 2026, Islamabad Jobs 2026, OPF Girls College Islamabad Jobs, Teaching Jobs 2026, Female Teaching Jobs 2026, Non Teaching Jobs 2026, Admin Officer Jobs, Lecturer Jobs Islamabad, Government Jobs 2026, Pakistan Jobs 2026, Latest Jobs 2026, Jobs in Islamabad, Female Jobs Islamabad, OPF Jobs Apply Online
#OPFGirlsCollegeJobs2026 #OPFJobs2026 #IslamabadJobs2026 #TeachingJobs2026 #NonTeachingJobs #FemaleJobs #PakistanJobs #GovernmentJobs2026 #LatestJobs2026 #JobsInIslamabad #Jobs2026 #OPFJobs #ApplyOnline #JobAlert #KhalilAhmadKhosa
j
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
*ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک انجینئر کسی عمارت کی دسویں منزل پر کام کر رہا تھا*
جبکہ ایک مزدور نیچے زمین پر اپنے کام میں مگن تھا۔ انجینئر کو مزدور سے کچھ کام پڑا۔ اس نے مزدور کو کئی بار آوازیں دیں، لیکن مزدور نے نہ سنیں۔
انجینئر نے اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جیب سے 10 ڈالر کا ایک نوٹ نکالا اور نیچے پھینک دیا۔ مزدور نے نوٹ اٹھایا، جیب میں ڈالا اور اوپر دیکھے بغیر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
کچھ دیر بعد انجینئر نے 50 ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا تاکہ شاید اب کی بار مزدور اوپر دیکھ لے۔ مگر مزدور نے اس بار بھی اوپر دیکھے بغیر نوٹ جیب میں ڈالا اور کام میں لگا رہا۔
اب تیسری دفعہ انجینئر نے ایک چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور نیچے پھینک دی۔ کنکری کا مزدور کے سر پر لگنا تھا کہ اس نے فوراً اوپر کی طرف دیکھا، جس کے بعد انجینئر نے اسے اپنا کام سمجھا دیا۔
سبق:
یہ درحقیقت ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ ہمارا مہربان ربّ ہمیشہ ہم پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے تاکہ شاید ہم سر اٹھا کر اس کا شکر ادا کریں اور اس کی طرف متوجہ ہوں۔ لیکن ہم خوشحالی میں اسے اکثر بھول جاتے ہیں۔
تاہم، جوں ہی کوئی چھوٹی سی مشکل، پریشانی یا مصیبت ہماری زندگی میں آتی ہے، تو ہم فوراً اس ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ افسوس کہ ہمیں خدا صرف مشکلات میں ہی یاد آتا ہے۔
پس ہمیں چاہیے کہ جب بھی پروردگار کی طرف سے کوئی نعمت ملے، تو ہم فوراً اس کا شکر ادا کریں۔
خدا کا شکر ادا کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کے لیے ہمیں سر پر پتھر لگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
منقول
─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
*کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مشکلات سے نہیں گھبراتے بلکہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔* *آج کا چھوٹا سا قدم کل کے بڑے خواب کی بنیاد ہے۔ ہمت رکھیں، محنت جاری رکھیں، اور یقین رکھیں کہ آپ کی کوششیں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔*✨
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Khalil Ahmad Khosa
*نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں 351 آسامیوں کا اعلان*
*📌 خالی آسامیوں کی تفصیل:*
• سب انسپکٹر (BS-14) — 48 آسامیاں
• ٹیکنیکل اسسٹنٹ (BS-14) — 15 آسامیاں
• سٹینو ٹائپسٹ (BS-14) — 8 آسامیاں
• اپر ڈویژن کلرک UDC (BS-11) — 6 آسامیاں
• اسسٹنٹ سب انسپکٹر (BS-09) — 36 آسامیاں
• کانسٹیبل (BS-05) — 174 آسامیاں
• کانسٹیبل ڈرائیور (BS-05) — 64 آسامیاں
*🎓 تعلیمی قابلیت:*
مختلف آسامیوں کے لیے انٹرمیڈیٹ، بیچلرز ڈگری، کمپیوٹر/آئی ٹی سے متعلقہ ڈگری، میٹرک اور دیگر مطلوبہ قابلیت مقرر کی گئی ہے۔ تفصیلی اہلیت ہر پوسٹ کے مطابق مختلف ہے۔
*🎂 عمر کی حد:*
تمام درج بالا آسامیوں کے لیے عمر 18 سے 25 سال مقرر کی گئی ہے۔
*🏃 جسمانی معیار:*
کانسٹیبل، کانسٹیبل ڈرائیور، سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے لیے مقررہ جسمانی معیار اور دوڑ کا ٹیسٹ بھی ہوگا۔
*⏱️ رننگ ٹیسٹ:*
مرد امیدواروں کے لیے 1.6 کلومیٹر دوڑ 7 منٹ جبکہ خواتین امیدواروں کے لیے 1.6 کلومیٹر دوڑ 10 منٹ میں مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
*💻 درخواست دینے کا طریقہ:*
امیدوار اپنی درخواستیں National Police Foundation – Testing & Assessment Service (NPFTAS) کے آن لائن ریکروٹمنٹ پورٹل کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔
*💰 درخواست فیس:*
ہر پوسٹ کے لیے 2,000 روپے فی درخواست فیس مقرر ہے۔ ایک سے زیادہ پوسٹ کے لیے الگ الگ درخواست اور فیس جمع کرانا ہوگی۔
📅 درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ:
*7 ستمبر 2026*
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more