Ammar Khan Yasir

Welcome to our new YouTube channel!
Due to technical issues and community guideline strikes, our previous channel was affected—but our voice and mission remain strong. This channel continues the same purpose: standing for truth, justice, and awareness against falsehood and oppression.
We have sacrificed multiple channels for the sake of our faith, our Ummah, and the truth—but we will not stop, bend, or give up.
Support us by:
Subscribing to the channel
Sharing our videos
Joining us in this journey for truth
We stand for truth, and by Allah’s will, we will continue to do so.
JazakAllahu Khair
Ammar Khan Yasir & Team Focus Media

📱 WhatsApp: +92 323 0123777
Email : ammaryasirkhan498@gmail.com


Ammar Khan Yasir

‏حدیث بیان کرنے پر ایف آئی آر والی باتیں اب پرانی ہو چکیں…
‏اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ عالمی اداروں کو شکایات بھیجی جا رہی ہیں، اور اس بار کسی دوسرے یا تیسرے شخص کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست میرے خلاف شکایت کی گئی ہے۔

‏جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا…

‏آپ کے بھائی عمار خان یاسر کے خلاف ایک عالمی ادارے کو شکایت بھیجی گئی۔

‏دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عالمی ادارے نے مجھے باقاعدہ ای میل کر کے اطلاع دی کہ پاکستان کے فلاں سرکاری ادارے کی جانب سے آپ کی اس ویڈیو کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے۔

‏جب لنک کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس ویڈیو سے آخر کس کو تکلیف ؟ پھر سمجھ آیا کہ اس میں بھی تو میں نے دو احادیث پڑھی ہیں ،

‏سٹے ٹیونڈ مکمل تفصیلات شام کی ویڈیو میں۔

‏تب تک آپ یہ بتائیں کہ پس منظر میں نظر آنے والی بلڈنگ راولپنڈی کی کونسی مشہور بلڈنگ ہے اور لوکیشن کیا ہے؟ 🙂

3 days ago | [YT] | 1,814

Ammar Khan Yasir

مسجد الحرام میں غلاف کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر ۔۔۔
۔
۔
#focusmedianews #ammarkhanyasir

2 weeks ago | [YT] | 1,171

Ammar Khan Yasir

’’ اغواء برائے تاوان کیسے ہوتے ہیں
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے مجھے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ olx پر بھی اپنی پراڈکٹ لسٹ کیا کرو وہاں سے بھی اچھا بزنس ملتا ہے.
میں نے جھٹ سے olx ڈاؤنلوڈ کی اور بیری کے شہد کا ایڈ لگا دیا
اگلے دن سلاجیت کا اور پھر اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر ایڈ لگانے شروع کر دیئے مگر کوئی رسپانس نہیں ملا، لیکن ہم نے تو سیکھا ہے کہ نتیجے پر نظر رکھے بغیر محنت کرنی ہے، سو لگے رہے.
چند دن بعد olx کی طرف سے آفر ہوئی کہ صرف 500 روپے میں 1 ہفتے کے لیئے پوسٹ کو بوسٹر لگائیں اور پتا نہیں کتنے ہزار لوگو تک آواز پہنچائیں
میں نے جھٹ سے بیری شہد کی پوسٹ کو بوسٹر لگا دیا
اگلے ہی دن 1 صاحب نے رابطہ کیا اور کہنے لگے olx پر آپ کا بیری شہد کا ایڈ دیکھا
دراصل ہماری کمپنی پاکستان سے مختلف اشیاء باہر ممالک میں ایکسپورٹ کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک ٹن کے قریب بیری شہد کا ابتدائی آرڈر ہے
کیا آپ ہمیں اتنا شہد مہیا کر سکتے ہیں؟ کیا قیمت ہو گی، کوالٹی کیسی ہو گی وغیرہ وغیرہ
بار بار کہتا سر خیال رکھیں کوالٹی میں شکایت نا ہو اور ہمیں ہر مہینے اتنا ہی شہد چاہئیے ہو گا بس سپلائی نہیں رکنی چاہیے
کافی ساری باتیں اور معاملات ڈسکس کرنے کے بعد کہنے لگے کہ ہمارے باس فوجی جنرل ہیں اور یہ انکی کمپنی ہے
ابھی وہ انگلینڈ میں ہیں کل یا پرسوں واپس آ رہے ہیں تو میں آپ کی میٹنگ ارینج کرواتا ہوں
بس آپ نے خیال رکھنا ہے کہ اکیلے آنا ہے، میں نے پوچھا کہاں آنا ہے تو کہنے لگا فیصل آباد یا بہاولپور.
ان دو شہروں میں ہمارے آفس ہیں
میرے تو دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ لو بھئ میری تو چاندی لگ گئی
فون بند ہوا تو میں حساب کتاب لگانے لگا کہ کتنے پیسے بچیں گے، سپلائی کیسے مینج ہو گی وغیرہ وغیرہ
2 گھنٹے گذرے تو ان صاحب کا پھر سے فون آ گیا پوچھنے لگے کہ کمپنی میں آپ کے ساتھ کوئی شریک تو نہیں آپ اکیلے ہی ہیں فیصلہ خود ہی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
پھر کہنے لگے میری اپنے باس سے بات ہو گئی ہے وہ پرسوں آ رہے ہیں آپ نے پرسوں 2 بجے فیصل آباد پہنچنا ہے
پھر پوچھنے لگا کیسے آئیں گے اپنی گاڑی پر یا لوکل؟ میں نے کہا لوکل ہی آؤں گا آپ یہ بتائیں فیصل آباد میں آنا کہاں ہے؟
کہتا جب آپ فیصل آباد پہنچے تو بتا دینا ہمارا بندہ خود آپ کو لے آئے گا مگر خیال رکھیں کہ اکیلے ہی آنا.
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا
فون بند ہوا تو میں نے فوراً ڈائیو کی ایپ سے آن لائن فیصل آباد کی ٹکٹ بک کی اور اس بندے کو واٹس اپ کر کے اطلاع کر دی کہ ٹکٹ ہو گئی ہے کہتا بہت خوب بس خیال رہے کہ آپ نے اکیلے ہی آنا ہے
اب تو جیسے ہی اس نے ایسا کہا مجھے کھٹکا کہ یار یہ کیا بات ہوئی بار بار 1 ہی بات، کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں
میں نے بیگم صاحبہ کو ساری صورتحال بتائی وہ بھی کہنے لگی کہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے
چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، میں سوچنے لگا کہ اب کیا کروں، ایک طرف لمبی دیہاڑی تھی اور دوسری طرف خطرے کی گھنٹی.
فیصلہ کرنا کافی مشکل ہو رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے اس صورتحال کو کیسے مینج کروں
خیال آیا کہ استاد جی سے مشورہ کرتا ہوں، فون کیا ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو استاد جی کہنے لگے کوئی بات نہیں اب اگر فون آئے تو کہنا کہ ہم 2 سے 3 لوگ آئیں گے اپنی گاڑی پر اور اسکا ری ایکشن دیکھنا پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے دیکھتے ہیں.
کچھ ہی دیر گذری تھی کہ پھر فون آ گیا اور اس دفعہ تو مجھے اس بندے کا لہجہ بھی عجیب سا لگا، کچھ دیر بات کرنے کے بعد کہتا پھر ٹکٹ ہو گئی آپ کی، پھر اکیلے ہی آ رہے ہیں نا؟
میں نے کہا نہیں پروگرام بدل گیا ہے جی ہم 3 لوگ آئیں گے اور اپنی گاڑی سے آئیں گے
یہ سننا تھا کہ جناب کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے ایسے جیسے بوکھلا گیا ہو.
ذیشان صاحب آپ کا دماغ خراب ہے، آپ کو عقل نہیں، فلاں فلاں
میں نے کہا بھائی خیر تو ہے آپ کا تو رویہ ہی عجیب ہو گیا ہے،
مزید کچھ بات بڑھی تو غصے سے فون بند کر دیا
ایسے لگ رہا تھا جیسے جناب کا کوئی بہت بڑا پلان کینسل ہو گیا ہو
لہجے سے بوکھلاہٹ واضح تھی
خیر میں نے استاد جی کو فون کر کے ساری صورتحال بتائی تو کہتے اب تم نے کوئی رابطہ نہیں کرنا اگر وہ کرے تو میرا نمبر دے دینا میں دیکھ لوں گا.
چند دن گذرے ہوں گے کہ استاد جی کا فون آیا تو اوسان خطا ہوئے پڑے تھے سانس پھولا ہوا، میں نے کہا کیا ہوا خیر تو ہے؟
کہنے لگے ذیشان صاحب شکر کرو اللہ تمہیں اغوا ہونے سے بچا لیا میں نے کہا کیا مطلب ؟
تو کہنے لگے تمہیں جو فون آیا تھا نا وہ اغواء برائے تاوان والوں کا تھا
میں نے کہا کیا مطلب؟ تو کہنے لگے کہ مجھے کل اسی طرح سے شیخوپورہ کے مضافاتی علاقہ سے 1 مشین کی انکوائری آئی اور میں نے سوچے سمجھے بغیر کہ شیخوپورہ میں جہاں یہ بلا رہے ہیں وہاں تو کوئی بڑی انڈسٹری بھی نہیں ملنے کی حامی بھر لی اور آج صبح گاڑی پر شرقپور پہنچ گیا وہاں پہنچ کر رابطہ کیا تو واٹس اپ پر لوکیشن بھیج دی کہ اس جگہ پہنچیں ہم منتظر ہیں
کہتے میں لوکیشن فالو کرتے ہوئے جانے لگا تو محسوس ہوا کہ یہ جگہ تو بلکل ویران ہے غور کیا تو پتا چلا کہ پیچھے سے 1 گاڑی مسلسل پیچھا کرتی ہوئی آ رہی ہے
اتنے میں پکی سڑک ختم ہو کر کچا ٹریک شروع ہو چکا تھا اور دائیں بائیں مڑنے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا
کہتے اچانک دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس سے میں رابطے میں ہوں پیچھے آتی گاڑی میں تو نہیں
گاڑی کی رفتار کچھ کم کی تو پچھلی گاڑی ذرا قریب آئی میں نے نظریں اس پر جماتے ہوئے اس بندے کو فون ملایا
جیسے ہی رنگ ہوئی تو پچھلی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بندے نے فوراً فون اٹھایا اور کہنے لگا بھائی ہم انتظار میں ہیں آپ جلدی پہنچیں
استاد جی کہنے لگے میں ڈر تو پہلے ہی رہا تھا اب اور گھبرایا اور راستہ دیکھنے لگا کہ کیسے بھاگنا ہے
کہتے مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آئی تو میں نے فوراً گاڑی شیخوپورہ شہر کی طرف گھمائی اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بس بھگاتا ہی رہا اور شیخوپورہ پہنچ کر سانس لیا
اس بندے کے بار بار فون آتے رہے میں نے تو نمبر ہی بلاک کر دیا.
میں نے پوچھا اب کہاں ہو کہتے شیخوپورہ سے نکل رہا ہوں ابھی،
وہاں سے سیدھا 1 دوست کے پاس چلا گیا تھا جب اسے سٹوری سنائی تو کہتا شکر کرو بچ گئے یہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں اور اغواء کر کے کہیں لے جاتے ہیں ۔ پھر تاوان لیتے ہیں اور شدید ٹارچر کرتے ہیں.
یوں استاد شاگرد کو اللہ نے 1 بڑے حادثے سے بچا لیا
اب تو میں نے پکا اصول بنا لیا ہے کہ جو بھی ہو جتنا بھی بڑا گاہک ہو کبھی خود چل کر نہیں جانا بلکہ اسے اپنے پاس بلانا ہے
آج سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی کی وڈیو دیکھی تو اپنا سین یاد آگیا
اس بیچارے کو بکرے دینے کے بہانے راجن پور بلایا گیا اور دل دہلا دینے والے تشدد کیئے اور بھارا تاوان لینے کے بعد چھوڑا،
محمد ذیشان‘‘

3 weeks ago | [YT] | 739

Ammar Khan Yasir

ان بابا جی کی ویڈیو یا تصویر آپ نے گزشتہ دو تین دنوں میں سوشل میڈیا پر لازماً دیکھی ہوگی۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے لین دین کے ایک تنازعے پر اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا، جس کے بعد گرفتاری کے دوران ان کی گفتگو اور اندازِ بیان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

یقیناً اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اس میں دو رائے نہیں۔ لیکن اس سارے معاملے میں ایک اور پہلو بھی ہے جس پر شاید بہت کم لوگ غور کر رہے ہیں۔

اس شخص کی گفتگو، حرکات اور مجموعی کیفیت کو دیکھ کر کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ مکمل طور پر معمول کی ذہنی حالت میں ہے یا نہیں؟ یہ کام ماہرین کا ہے کہ وہ اس کی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کی حالت کو سمجھنے سے زیادہ اسے مذاق بنانا آسان سمجھا جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ گرفتاری کے بعد بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر کو اس انداز میں پھیلایا گیا جیسے کوئی سنجیدہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ تفریح کا سامان ہو۔ اگر کوئی شخص ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار ہو تو اس کی اس حالت کو عوامی تماشہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے کا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس اور دیگر ذمہ دار اداروں کا کام قانون پر عمل درآمد ہے، نہ کہ کسی انسان کی کمزوری کو لاکھوں لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کرنا۔

ایک لمحے کے لیے اس شخص کے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچئے۔ ایک طرف ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، دوسری طرف ان کے بچوں اور خاندان کو روزانہ سوشل میڈیا پر اپنے والد کو مذاق بنتا دیکھنا پڑ رہا ہے۔ یہ اذیت شاید وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس کرب سے گزر رہے ہوں۔

لیکن ہمارا اجتماعی مزاج اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سنجیدہ مسائل سے زیادہ دلچسپی ہمیں تماشوں میں ہے۔ کسی کی بے بسی، کسی کی ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور کسی کے خاندان کا دکھ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند ہزار لائکس اور چند لاکھ ویوز کے سامنے بے وقعت ہو جاتا ہے۔

جرم اپنی جگہ جرم ہے اور اس کا حساب قانون کو کرنا چاہیے، لیکن انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی کی ممکنہ ذہنی بیماری، کمزوری یا خاندانی المیے کو تفریح اور کاروبار کا ذریعہ نہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے دکھ کو تماشا بنانے کے بجائے اسے سمجھنے، محسوس کرنے اور کم کرنے کی توفیق عطا فرمائے
عمار خان یاسر

3 weeks ago | [YT] | 678

Ammar Khan Yasir

ہمارے سرکاری اداروں کی طرف سے بہت سی ایسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جن کا اکثر عوام کو علم ہی نہیں ہوتا، اور نتیجتاً ہم ان سے فائدہ بھی نہیں اٹھا پاتے۔ حالانکہ اگر ان سہولیات کے بارے میں آگاہی ہو تو روزمرہ کے بہت سے کام نہایت آسان ہو سکتے ہیں۔

اس کی ایک بہترین مثال اسلام آباد پولیس کے “خدمت مراکز” ہیں۔

مولانا ارسلان سیال کے پاس دبئی اور سعودی عرب کا ڈرائیونگ لائسنس تھا، لیکن کافی عرصے سے وہ پاکستان کا لائسنس بنوانا چاہتے تھے۔ اتفاقاً وہاڑی میں ملاقات کے دوران رانا ولید صاحب سے بات ہوئی، جنہوں نے بتایا کہ وہ جی-14 پولیس خدمت مرکز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میں نے لائسنس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ تشریف لائیں، چند منٹ میں کام ہو جائے گا۔

آج ہم جی-14 پولیس خدمت مرکز پہنچے تو واقعی خوشگوار حیرت ہوئی۔ نہ لمبی لائنیں، نہ غیر ضروری چکر، نہ کاغذات کا ڈھیر۔ صرف شناختی کارڈ ساتھ ہونا کافی تھا۔ تمام عمل آن لائن، فیس آن لائن، اور پورا نظام تقریباً پیپر لیس تھا۔ چند ہی منٹوں میں لائسنس کا عمل مکمل ہوا، ٹیسٹ بھی ہو گیا اور ہمیں ٹوکن دے دیا گیا کہ چند دنوں میں لائسنس گھر پہنچ جائے گا۔

خصوصی طور پر اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر ظفر اقبال ہرل صاحب، جو اس مرکز کے انچارج ہیں، انتہائی خوش اخلاق، پیشہ ور اور معاون ثابت ہوئے۔ ان کا رویہ واقعی قابلِ تعریف تھا۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سہولت صرف ڈرائیونگ لائسنس تک محدود نہیں۔ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، گاڑیوں کی ویریفکیشن، کرایہ نامہ رجسٹریشن، لرنر لائسنس، مستقل لائسنس، ایل ٹی وی، ایچ ٹی وی اور دیگر کئی خدمات بھی انہی مراکز میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد میں ایسے کئی پولیس خدمت مراکز کام کر رہے ہیں، جن کا مقصد عوام کو تھانوں اور غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں سے بچاتے ہوئے ایک ہی جگہ پر آسان اور تیز سروس فراہم کرنا ہے۔

اگر آپ اسلام آباد، راولپنڈی یا قریبی علاقوں میں رہتے ہیں اور ان خدمات کی ضرورت ہے تو اپنے قریب ترین پولیس خدمت مرکز سے ضرور استفادہ کریں۔

آخر میں رانا ولید صاحب، سب انسپکٹر ظفر اقبال ہرل صاحب اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جدید، شفاف اور عوام دوست نظام کے ذریعے شہریوں کے لیے سرکاری خدمات کے حصول کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ایسے مثبت اقدامات اور خوش اخلاق رویے یقیناً اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں

4 weeks ago | [YT] | 1,096

Ammar Khan Yasir

نواسہ امیر شریعت رحمہ اللہ امیر مجلس احرار پاکستان سید کفیل شاہ بخاری صاحب ❤️

1 month ago | [YT] | 1,780

Ammar Khan Yasir

ہائے گرمی، دھاڑ ووووو
بھائی ادھر وہاڑی میں تو آج بہت گرمی تھی مطلب یہ کہ تباہ شدہ گرمی، ناقابل برداشت گرمی۔ بچوں کا بھی برا حال
نجانے عید کے تین دن کیسے گزریں گے اور اسلام آباد واپسی ہو گی
آپ بتائیں آج کا دن کیسا گزرا موسم کیسا ہے آپکے شہر میں ؟

1 month ago | [YT] | 1,406

Ammar Khan Yasir

مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل صاحب ❤️
اللہ تعالی آپکو سلامت رکھے

1 month ago | [YT] | 2,278

Ammar Khan Yasir

صحافت کے عالمی دن کے موقع پہ فوکس میڈیا کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

2 months ago | [YT] | 3,160

Ammar Khan Yasir

مادرِ علمی جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں
استادِ محترم مفتی محمد طیب صاحب کے روبرو❤️
۔

2 months ago | [YT] | 2,174