Please subscribe my channel😊 and see beautiful videos about art & c
rafts🎨 and i also love tasty food🍲


Eshal Ali

یہ ایک حقیقی سچے واقعے کی تصویر ہے۔ اس لیے ہر انسان لازمی پڑھے اور سبق سیکھے۔

وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری ملازم تھا
اس کے تین بیٹے تھے ، تینوں سونے کا چمچ منہ میں لیے پیدا ہوئے اور شاہانہ زندگی گزرتی رہی

وقت تیزی سے گزرا
اور اس کے نام کے ساتھ (ریٹائرڈ ) لگ گیا
عہدے کی مدت ختم ہوئی
ریٹائرڈ ہو گئے اور اب زندگی کا سفر انتہاء کی طرف چل پڑا۔۔۔۔

بیٹوں نے باپ کے عہدے سے خوب لطف اٹھایا..

کہتے تھے ہمیں کیا فکر ہے
ہمارا باپ 22 گریڈ کا افسر ہے...
ہمارے کام خود بخود بنیں گے
اور بنتے بھی رہے
ایک ٹیلی فون کال پر سب کچھ قدموں میں حاضر ہو جاتا تھا

پھر وہ دن آ گیا ۔۔۔۔۔

جب بیٹے یہ بھول گئے کہ یہ وہی باپ ہے
جس کے نام و عہدے کی وجہ سے لوگ ہمیں سر سر کہتے تھے

باپ کسی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور ہو گیا
بیٹے کہنے لگے اب تو باپ کی کمزوری دیکھی نہیں جاتی

ایک بیٹے نے کہا کہ ابا کی جائیداد و مال کی تقسیم کرتے ہیں
نہ جانے کب مر جائے
اب تو شرم آتی ہے بتاتے ہوئے کہ
لوگ کیا کہیں گے
جب دوست آتے ہیں
تو سامنے یہ بوڑھا پڑا ہوتا ہے

چلو ایک نوکر مستقل ان کے ساتھ رہنے کے لیے رکھ لیتے ہیں جو ان کا خیال رکھے
بیس ہزار ماہانہ دے دیں گے

نوکر آ گیا اور اسی گھر کے ایک کمرے میں باپ کو فرش پر گدا لگا دیا گیا
نوکر کو کہا کہ اسکا پورا خیال رکھنا
ہمیں کوئی شکایت نہ ملے
بیٹوں کی شادیاں ہوئیں
ایک نے گرمی کی چھٹیاں گزارنے فرانس کا پروگرام بنایا
اور دوسرے نے لندن
اور تیسرے نے پیرس کا
اور ہر جگہ اپنا تعارف 22 گریڈ کے افسر کے بیٹے ہونے سے شروع کرتے۔
نوکر کو تاکید کی کہ ہماری 3 ماہ بعد واپسی ہوگی
تم بابا کا پورا خیال رکھنا اور وقت پر کھانا دینا
جی اچھا صاحب جی !

سب چلے گئے وہ باپ اکیلا گھر کے کمرے میں لیٹا سانس لیتا رہا
نہ چل سکتا تھا
نہ خود سے کچھ مانگ سکتا

نوکر گھر کو تالا لگا کر بازار سے بریڈ لینے گیا تو اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا لوگوں نے اسے ہاسپٹل پہنچایا
اور وہ قومے سے ہوش میں نہ آ سکا

بیٹوں نے نوکر کو صرف باپ کے کمرے کی چابی دے کر باقی سارے گھر کو تالے لگا کر چابیاں ساتھ لے گئے تھے

ملازم اس کمرے کو تالا لگا کر چابی ساتھ لے کر گیا تھا کہ ابھی واپس آ جاؤں گا
اب بوڑھا ریٹائرڈ سرکاری افسر کمرے میں لاک ہو چکا تھا
اور وہ چل پھر نہیں سکتا تھا
کسی کو آواز نہیں دے سکتا تھا
لہذا
تین ماہ بعد جب بیٹے واپس آئے اور تالا توڑ کر کمرہ کھولا گیا
تو لاش کی حالت وہ ہو چکی تھی جو تصویر میں دکھائی دے رہی ہے

محترم خواتین و حضرات
عبرت کا مقام ہے یہ واقعہ
ہم کس طرح اپنی اولاد کے لئے حلال و حرام کی پرواہ

کئے بغیر ان کا مستقبل سنوارنے کے لئے تن من دھن کھپاتے ہیں
اور زیادہ سے زیادہ دولت جائیدادیں بنا کر ان کا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں

اور سوچتے ہیں کہ یہ اولاد کل بڑھاپے میں میری خدمت کرے گی

اعلیٰ ترین غیر ملکی سکولوں میں دنیاوی تعلیم دلواتے ہیں
اور دین اسلام کی تعلیم
دلوانے کو توہین سمجھتے ہیں جس میں سکھایا جاتا ہے کہ والدین کی خدمت میں عظمت ہے مگر زیادہ تر اولادیں خود غرض اور نافرمان ہیں اللہ سب کو ہدایت دے۔ آمین

8 months ago | [YT] | 1

Eshal Ali

تمام مسلمانوں کو میری طرف سے عید مبارک

9 months ago | [YT] | 2

Eshal Ali

ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا۔ سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا۔ بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہا مگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا۔
بچے کا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا۔ باپ نے بچے سے پوچھا؛ بیٹے کیا بات ہے؟ بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا، باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا، آگ جلائی اور حرارت کے پاس ہی بیٹھ کر بچے سے باتیں کرنے لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گُزری تھی کہ کچھوا بھی حرارت لینے کیلئے آہستہ آہستہ اُن کے پاس آ گیا۔ باپ نے مُسکرا کر بچے کی طرف دیکھا جو کچھوے کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔
باپ نے بچے کو مُخاطب کرتے ہوئے کہا: بیٹے انسان بھی کچھوے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ اپنے خول اُتار کر تمہارے ساتھ کھلے دِل سے ملیں تو اُنہیں اپنی مُحبت کی حرارت پہنچایا کرو، نہ کہ اُنہیں ڈنڈے کے زور پر یا اپنا حُکم چلا کر۔ پُر کشش اور جادوئی شخصیت والے لوگوں کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ زندگی میں لوگوں کو اپنی مُحبت کی حِدت اور اپنے جذبات کی گرمی پہنچا کر اُنہیں اپنا گرویدہ بناتے ہیں، اُن کی تعریف و تحسین اور قدر سے اُن کے دِلوں میں اپنے لئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور پھر اِنہی جذبات کے بل بوتے پر اُن پر اور اُنکے دِلوں پر حکومتیں کرتے ہیں۔ اور انسانی مخلوق تو ہے ہی ایسی کہ کوئی بھی اُسکے دِل میں گھر نہیں کر سکتا سوائے اِس کے کہ اُس کے ساتھ جذبات کی گرمجوشی، سچے دِل اور روح کی پاکیزگی کے ساتھ مِلا جائے.

11 months ago | [YT] | 1

Eshal Ali

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہوں نے اس سے کہا کہ وہ انہیں دو سستے ترین کھانے پیش کرے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکل وقت سے گذر رہے ہیں ۔
ویٹریس سارہ نے زیادہ دیر نہیں سوچا۔ اس نے انہیں دو ڈشیں تجویز کیں اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان گئے کہ وہ سب سے سستے ہیں۔ وہ دونوں آرڈر لے کر آئی اور انہوں نے بھوک کی شدت سے جلدی سے کھانا کھایا، اور جانے سے پہلے انہوں نے ویٹریس سے بل مانگا۔ وہ اپنے بلنگ والیٹ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر ان کے پاس واپس آئی جس پر اس نے لکھا تھا کہ : "میں نے آپ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا بل اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیا۔ یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر ایک سو ڈالر کی رقم ہے، اور میں آپ کے لیے کم سے کم اتنا تو کر سکتی ہوں۔ آپ کی آمد کے لیے شکریہ۔ سارہ کے دستخط شدہ۔
ریستوراں سے نکلتے ہی یہ جوڑا بہت خوش تھا۔
مشکل صورتحال میں مبتلا سارہ کے لئے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنے سخت مالی حالات کے باوجود جوڑے کے کھانے کا بل ادا کرنے میں بے حد خوشی محسوس کی۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک سال سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کے لئے پیسے بچا رہی تھی کیونکہ پرانی واشنگ مشین سے کپڑے دھونے میں اسے بہت مشکل ہوتی تھی
لیکن جس چیز نے اسے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ یہ تھا کہ جب اس کی دوست کو اس معاملے کا پتہ چلا تو سارہ کی دوست نے اسے بہت ڈانٹا۔ کیونکہ اس نے خود اپنی اور اپنے بچے کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر یہ پیسے بچائے تھے اسے دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ اپنے لئے واشنگ مشین خریدنے کی ضرورت تھی۔
اسی دوران اسے اپنی ماں کا فون آیا جس میں اسے اونچی آواز میں کہا گیا: "سارہ تم نے کیا کیا؟"
اس نے ایک ناقابل برداشت جھٹکے سے ڈرتے ہوئے دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا: ’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ہوا؟"
اس کی والدہ نے جواب دیا: "فیس بک تمہاری تعریف کرنے اور تمہارے طرز عمل کی تعریف کرنے میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ اس بندے اور اسکی اہلیہ نے فیس بک پر تمہارا پیغام پوسٹ کیا جب تم نے ان کی طرف سے بل ادا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔" ...
اس نے بمشکل اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی تھی جب اسکول کے ایک دوست نے اسے فون کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کا پیغام تمام ڈیجیٹل سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔
جیسے ہی سارہ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، اسے ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں اور پریس رپورٹرز کے سینکڑوں پیغامات ملے جن میں اس سے ملنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اپنے مخصوص اقدام کے بارے میں بات کریں۔
اگلے دن، سارہ سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے امریکی ٹیلی ویژن شوز میں سے ایک پر نمودار ہوئی۔ پروگرام پیش کرنے والے نے اسے ایک بہت ہی پرتعیش واشنگ مشین، ایک جدید ٹیلی ویژن سیٹ اور دس ہزار ڈالر دیے۔ اس ایک الیکٹرانکس کمپنی سے پانچ ہزار ڈالر کا پرچیز واؤچر حاصل کیا۔ اس پر تحائف کی بارش ہوئی یہاں تک کہ اس کے عظیم انسانی رویے کی تعریف میں حاصل ہونے والی رقم $100,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
دو کھانے جن کی قیمت چند ڈالر + $100 سے زیادہ نہیں تھی نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔
سخاوت یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت نہیں ہے وہ کسی کو دے دیں بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیں۔
حقیقی غربت انسانیت اور رویوں کی غربت ہے۔

11 months ago | [YT] | 2

Eshal Ali

کہتے ہیں دنیا کا کوئی کنارہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایک مقام ایسا بھی ہے جسے "اینڈ آف دی ورلڈ" کہتے ہیں۔ یعنی دنیا یہاں ختم ہو جاتی ہے

ناروے کے شہر شون کے شمال کا مقام "اینڈ آف دی ورلڈ" کہلاتا ہے۔ اس مقام پرنارویجن سمندر دنیا کے 20 فیصد حصے کے مالک بحراوقیانوس سے ملتا ہے اور خشکی ‏کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔دنیا بھر سے ناروے آنے والے افراد اس مقام پر پہنچنا اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں۔

پانی میں ڈوبی چٹانیں اور صدیوں پرانے ٹوکری والے لائٹ ہائوس کا انداز اس مقام کو اور بھی دلچسپ بناتا ہے۔ اینڈ آف دی ورلڈ نامی اس مقام کا صرف نام ہی جازبیت کی نشانی نہیں۔ یہاں سرد ہوائیں اور تیز دھوپ دونوں ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔
ویسے تو دنیا گول ہے لیکن جسے بھی اینڈ آف دی ورلڈ دیکھنا ہو یہیں آتا ہے اور موسم کا خوب لطف اٹھاتا ہے۔

11 months ago | [YT] | 2

Eshal Ali

اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے

1 year ago | [YT] | 2

Eshal Ali

1 year ago | [YT] | 2

Eshal Ali

السلام علیکم

1 year ago | [YT] | 3

Eshal Ali

السلام علیکم آج جمعہ کے فضائل و اعمال دیکھیں اور پڑھ کر ثواب حاصل کریں

1 year ago | [YT] | 13

Eshal Ali

السلام علیکم آج اسلام میں پردا کی اہمیت کو جانیں۔

1 year ago | [YT] | 12