17ربیع الاول ظہورِ صادقین علیہ السلام مبارک ♥️💚 یہ اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جس دن کائنات کی✌️دو عظیم ہستیوں کا ظہور ہوا۔ اس بابرکت دن رحمتِ دوجہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے فرزند رئیسِ مذہبِ جعفریہ، امام جعفر صادق علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔
"سادات" و "مومنین" و "مسلمین" کو اس پر مسرت موقع پر مبارک باد پیش کرتے ھیں اور دعا گو ھیں پروردگار 🤲 اس عظیم دن کی برکت کے صدقے تمام محبانِ محمد ص و آل محمد ص کو وسیع رزق بہترین صحت عطاء کرے 🙏
یزید کی موت 11 نومبر 683ء (14 ربیع الاول 64 ہجری) کو شام کے علاقے حوارین میں ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر تقریباً 38 یا 39 سال تھی اور اس نے محض ساڑھے تین سال حکومت کی۔
شدید بیماری: معتبر تاریخی روایات کے مطابق، یزید پیٹ کے شدید عارضے، حوارین کے وبائی مرض یا پسلی کے درد میں مبتلا ہوا اور چند دن کی تکلیف کے بعد مر گیا۔
کچھ روایات کے مطابق، وہ نشے کی حالت میں شکار کے دوران گھوڑے سے گرا، جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
عبرت ناک انجام: بعض تاریخی کتابوں میں ذکر ہے کہ گھوڑے سے گرنے کے بعد اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا تھا اور گھوڑا اسے دور تک گھسیٹتا رہا، جس سے اس کا جسم پاش پاش ہو گیا۔
حوالہ جات: البدایہ والنہایہ (جلد 8) – علامہ ابن کثیر تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) – امام ابن جریر طبری انساب الاشراف – احمد بن یحییٰ البلاذری
فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام: "واقعہ کربلا کے بعد بنی ہاشم کی کسی خاتون نے (سوگ کی وجہ سے) اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کی تھی اور نہ ہی خضاب (مہندی) لگایا تھا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسینؑ کے قاتلوں کے سر ہمارے پاس بھیجے۔"
(بحوالہ: رجالِ کشّی، صفحہ 127)
آلِ محمدؑ کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے اس با برکت دن اور آغازِ امامتِ مہدیِ عج دوراںؑ کے پرمسرت موقع پر تمام محبانِ اہل بیتؑ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
پروردگار! ہمیں اپنے وقت کے امامؑ کی حقیقی معرفت، نصرت اور ان کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
"جب جنابِ رباب سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری لمحات آئے، تو آپ کا نحیف جسم مسلسل دھوپ کی تپیش اور گریہ و زاری کی وجہ سے شدید لاغر ہو چکا تھا۔
آپ نے زندگی کے اس آخری وقت میں بھی کربلا میں پیاسے شہید ہونے والے اپنے چھے ماہ کے معصوم بچے حضرت علی اصغر علیہ السلام اور زندانِ شام میں بچھڑ جانے والی اپنی مظلوم بیٹی بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کو یاد کیا۔
روایت اور لسانِ حال کے مطابق، آپ نے آخری بار اپنے مظلوم شوہر سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی روحِ مطہر کو مخاطب کیا اور رو کر عرض کی: ’یا حسینؑ! میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں نے آپ کی شہادت کے بعد کبھی سائے کا سکھ نہیں لیا اور ہمیشہ تپتی دھوپ میں آپ کا ماتم کیا۔ اب میری سانسیں ختم ہو رہی ہیں اور میں آپ کے پاس آ رہی ہوں‘۔ اسی حالتِ رنج و مصائب اور پیاس کی شدت میں آپ کی روحِ مطہر جسمِ اطہر سے پرواز کر گئی۔"
📚 حوالہ: یہ بیان تاریخی روایات اور عزاداری کی مستند کتب کے مجموعے سے ماخوذ ہے:
دھوپ میں بیٹھنے اور سائے سے پرہیز کا حوالہ: علامہ ابنِ کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 229۔ سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، جلد 6، صفحہ 449 (جہاں ذکر ہے کہ آپ نے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مدینہ میں ایک سال گزارا اور کبھی سائے میں نہ بیٹھیں، یہاں تک کہ اسی غم میں وفات پا گئیں)۔
شدید گریہ اور آنسو خشک ہونے کی روایت: ثقۃ الاسلام علامہ یعقوب کلینی، الکافی، جلد 1، صفحہ 460 (باب مولد الحسين بن علي علیہ السلام)۔ علی اصغرؑ کی پیاس اور ٹھنڈے پانی سے پرہیز (لسانِ حال و مصائب): علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 45 (کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت کے مصائب کا تذکرہ)۔ کتبِ مقاتل و مجالس (جیسے مقتل ابی مخنف اور ذبیحِ کربلا)، جن میں ذاکرین اور علماء کرام جنابِ ربابؑ کے آخری لمحات میں علی اصغرؑ کے خالی جھولے اور بی بی سکینہؑ کے صدمے کو بیان کرتے ہیں
3 ربیع الاول 64 ہجری: جب یزیدی فوج نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور آگ لگائی
تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن، جس نے کربلا کے بعد امتِ مسلمہ کے دلوں کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔تاریخی واقعہ:سانحہ کربلا اور واقعہ حرہ (مدینہ منورہ میں قتلِ عام) کے بعد، اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی سرکوبی کے لیے بھیجے گئے اس لشکر نے مکہ کا شدید محاصرہ کیا۔خانہ کعبہ کی بے حرمتی:3 ربیع الاول 64 ہجری کو حصین بن نمیر کی قیادت میں یزیدی فوج نے مکہ کے اطراف کے پہاڑوں سے منجنیقوں کے ذریعے شہر پر پتھر اور آگ کے گولے برسائے۔ اس بمباری کے نتیجے میں اللہ کے مقدس گھر، خانہ کعبہ کے غلاف اور لکڑی کے ڈھانچے کو آگ لگ گئی، جس سے کعبہ کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا اور حجرِ اسود بھی متاثر ہوا۔یہ ظلمِ عظیم ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کس طرح دنیاوی اقتدار کی خاطر اللہ کی زمین پر سب سے مقدس ترین مقام کی حرمت کو پامال کیا گیا۔
📚 حوالہ جات (References)اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل معتبر اسلامی اور تاریخی کتب میں موجود ہیں: تاریخ الطبری (جلد 5، زکرِ حوادث 64 ہجری، مکہ کا محاصرہ) الکامل فی التاریخ از ابن الاثیر (جلد 4، ذکرِ احراقِ کعبہ) البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر (جلد 8، سال 64 ہجری کے احوال)
درِ زہرا (سلام اللہ علیہا) پر حملے اور اسے جلائے جانے کے وقت بی بی پاک کا پسِ پردہ کلام (مکالمہ) اور استغاثہ تاریخ اور مصائب کی کتب میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
روایات کے مطابق، جب ظالموں نے گھر کا گھیراؤ کیا تو سیدہ کائناتؑ نے ان سے گفتگو فرمائی۔اس دردناک واقعے کی اہم روایات اور بی بی پاک کا کلام درج ذیل ہے:
♦️سیدہ فاطمہ زہراؑ کا ہجوم سے کلام: معتبر روایات کے مطابق، جب خلافت کی بیعت کے لیے سیدہؑ کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور لکڑیاں جمع کی گئیں، تو سیدہ زہراؑ دروازے کے پیچھے آئیں اور بلند آواز سے اس ہجوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"اے گمراہ اور جھوٹے لوگوں! تمہارا یہ کیا رویہ ہے؟ کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے؟ ابھی رسول اللہﷺ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا، ان کا جنازہ ابھی گھر میں ہے اور تم نے ہمارے حقوق غصب کر لیے اور ہمارے گھر پر حملہ کر دیا؟"
حوالہ 📚 جات:
اس کلام کا سب سے قدیم، اور بنیادی مآخذ پہلی صدی ہجری کی مایہ ناز کتاب "کتاب سلیم بن قیس ہلالی" ہے۔ بعد میں آنے والے جلیل القدر علمائے کرام اور مورخین نے اسی روایت کو تفصیل کے ساتھ اپنی تصانیف میں جگہ دی۔
♦️کتاب سُلَیم بن قَیس ہِلالی (اسرارِ آلِ محمدؐ) یہ کتاب اسلام کی پہلی مدون شدہ کتاب مانی جاتی ہے۔ اس واقعے اور بی بی پاکؑ کے اس کلام کا بنیادی متن اسی کتاب میں موجود ہے، جہاں ذکر ہے کہ جب ہجوم نے گھر کا گھیراؤ کیا تو سیدہؑ نے دروازے کے پیچھے سے بلند آواز میں امت کو جھنجھوڑا۔
حوالہ: سلیم بن قیس ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، مطبوعہ انصاریان، (اردو ترجمہ: اسرارِ آلِ محمدؐ)۔
♦️الاحتجاج (علامہ طبرسیؒ)شیعہ مکتبہ فکر کے معروف عالم احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی (صاحبِ تفسیر مجمع البیان) نے اپنی کتاب "الاحتجاج" میں درِ زہراؑ پر ہونے والے اس مکالمے اور استغاثے کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔ وہاں بی بی پاکؑ کا یہ کلام ان الفاظ کے ساتھ ملتا ہے کہ "ابھی رسول اللہﷺ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا..."۔
حوالہ: علامہ طبرسی، کتاب الاحتجاج، جلد 1، زیرِ عنوان "احتجاج فاطمۃ الزہراؑ علی ابی بکر و عمر"۔
♦️ بحار الانوار (علامہ مجلسیؒ)علامہ محمد باقر مجلسی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "بحار الانوار" میں تاریخ اور مصائبِ سیدہ فاطمہ زہراؑ کے ابواب میں سلیم بن قیس اور دیگر قدیم مآخذ کے حوالے سے اس واقعے اور بی بیؑ کی اس دردناک گفتگو کو پوری تفصیل سے جمع کیا ہے۔
♦️الامامۃ و السیاسۃ (ابنِ قتیبہ دینوری - اہل سنت مآخذ)اہل سنت کے قدیم اور معروف مورخ ابنِ قتیبہ دینوری نے بھی اپنی کتاب میں اس گھیراؤ کا ذکر کیا ہے کہ جب ہجوم گھر کے باہر جمع ہوا تو سیدہ زہراؑ نے دروازے کے پیچھے سے بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے امت کے اس رویے پر احتجاج فرمایا تھا۔
حوالہ: ابنِ قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ (المعروف بہ تاریخ الخلفاء)، جلد 1، صفحہ 12-13، ذکرِ بیعتِ علی کرم اللہ وجہہ۔
ایک جلیل القدر عالم نے خواب میں امام حسن مجتبیٰؑ کی زیارت کی اور عرض کیا:
"مولا! آپ کو کلمہ گو امت نے اتنے مصائب دیے، کئی بار زہر پلایا گیا، جگر طشت میں آ گیا اور آپ کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔ ان سب میں سے آپ کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور مصیبت کون سی تھی؟"
مظلومِ مدینہ امام حسنؑ نے گریہ فرماتے ہوئے جواب دیا:"میری سب سے بڑی مصیبت نہ تو زہر کا پینا تھا اور نہ ہی میرے جنازے پر تیروں کا برسنا تھا۔ میری سب سے بڑی مصیبت مدینے کی وہ گلی (کوچۂ بنی ہاشم) تھی، جب میری ماں فاطمہ زہراؑ کو ظالموں نے تماچہ مارا 😭
(روایت و مکاشفہ: یہ واقعہ معروف شیعہ مرجع آیت اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ کے معتبر مکاشفات اور مجالسِ عزاداری کی مستند تقاریر (جیسے کتبِ مجالس و مصائبِ اہل بیتؑ) سے ماخوذ ہے)
Hussaini Media Network
ولایتِ امیر المومنین ع اور انبیاء ع کی بعثت
15 hours ago | [YT] | 680
View 38 replies
Hussaini Media Network
17ربیع الاول ظہورِ صادقین علیہ السلام مبارک ♥️💚
یہ اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں دن ہے جس دن کائنات کی✌️دو عظیم ہستیوں کا ظہور ہوا۔ اس بابرکت دن رحمتِ دوجہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے فرزند رئیسِ مذہبِ جعفریہ، امام جعفر صادق علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔
"سادات" و "مومنین" و "مسلمین" کو اس پر مسرت موقع پر مبارک باد پیش کرتے ھیں اور دعا گو ھیں پروردگار 🤲 اس عظیم دن کی برکت کے صدقے تمام محبانِ محمد ص و آل محمد ص کو وسیع رزق بہترین صحت عطاء کرے 🙏
5 days ago | [YT] | 1,862
View 51 replies
Hussaini Media Network
یزید لعہ بن معاویہ کا انجام
یزید کی موت 11 نومبر 683ء (14 ربیع الاول 64 ہجری) کو شام کے علاقے حوارین میں ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر تقریباً 38 یا 39 سال تھی اور اس نے محض ساڑھے تین سال حکومت کی۔
شدید بیماری: معتبر تاریخی روایات کے مطابق، یزید پیٹ کے شدید عارضے، حوارین کے وبائی مرض یا پسلی کے درد میں مبتلا ہوا اور چند دن کی تکلیف کے بعد مر گیا۔
کچھ روایات کے مطابق، وہ نشے کی حالت میں شکار کے دوران گھوڑے سے گرا، جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
عبرت ناک انجام: بعض تاریخی کتابوں میں ذکر ہے کہ گھوڑے سے گرنے کے بعد اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا تھا اور گھوڑا اسے دور تک گھسیٹتا رہا، جس سے اس کا جسم پاش پاش ہو گیا۔
حوالہ جات: البدایہ والنہایہ (جلد 8) – علامہ ابن کثیر
تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) – امام ابن جریر طبری
انساب الاشراف – احمد بن یحییٰ البلاذری
6 days ago | [YT] | 691
View 23 replies
Hussaini Media Network
💚 رحمۃ اللعالمین (ص) کی آمد مرحبا ❤️
کائنات کی سب سے عظیم ہستی، سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰؐ کے جشنِ میلاد اور ہفتہ وحدت کا آغاز تمام عاشقانِ رسولؐ و آلِ رسولؑ کو مبارک 🌷
1 week ago | [YT] | 1,489
View 25 replies
Hussaini Media Network
9 ربیع الاول 🌹 عیدِ زہرا (سلام اللہ علیہا)
فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
"واقعہ کربلا کے بعد بنی ہاشم کی کسی خاتون نے (سوگ کی وجہ سے) اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کی تھی اور نہ ہی خضاب (مہندی) لگایا تھا، یہاں تک کہ مختار نے امام حسینؑ کے قاتلوں کے سر ہمارے پاس بھیجے۔"
(بحوالہ: رجالِ کشّی، صفحہ 127)
آلِ محمدؑ کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے اس با برکت دن اور آغازِ امامتِ مہدیِ عج دوراںؑ کے پرمسرت موقع پر تمام محبانِ اہل بیتؑ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
پروردگار! ہمیں اپنے وقت کے امامؑ کی حقیقی معرفت، نصرت اور ان کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الّلهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَج 🤲💚
1 week ago | [YT] | 2,406
View 70 replies
Hussaini Media Network
"جب جنابِ رباب سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری لمحات آئے، تو آپ کا نحیف جسم مسلسل دھوپ کی تپیش اور گریہ و زاری کی وجہ سے شدید لاغر ہو چکا تھا۔
آپ نے زندگی کے اس آخری وقت میں بھی کربلا میں پیاسے شہید ہونے والے اپنے چھے ماہ کے معصوم بچے حضرت علی اصغر علیہ السلام اور زندانِ شام میں بچھڑ جانے والی اپنی مظلوم بیٹی بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کو یاد کیا۔
روایت اور لسانِ حال کے مطابق، آپ نے آخری بار اپنے مظلوم شوہر سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی روحِ مطہر کو مخاطب کیا اور رو کر عرض کی: ’یا حسینؑ! میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں نے آپ کی شہادت کے بعد کبھی سائے کا سکھ نہیں لیا اور ہمیشہ تپتی دھوپ میں آپ کا ماتم کیا۔ اب میری سانسیں ختم ہو رہی ہیں اور میں آپ کے پاس آ رہی ہوں‘۔ اسی حالتِ رنج و مصائب اور پیاس کی شدت میں آپ کی روحِ مطہر جسمِ اطہر سے پرواز کر گئی۔"
📚 حوالہ: یہ بیان تاریخی روایات اور عزاداری کی مستند کتب کے مجموعے سے ماخوذ ہے:
دھوپ میں بیٹھنے اور سائے سے پرہیز کا حوالہ:
علامہ ابنِ کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 229۔
سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، جلد 6، صفحہ 449 (جہاں ذکر ہے کہ آپ نے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مدینہ میں ایک سال گزارا اور کبھی سائے میں نہ بیٹھیں، یہاں تک کہ اسی غم میں وفات پا گئیں)۔
شدید گریہ اور آنسو خشک ہونے کی روایت:
ثقۃ الاسلام علامہ یعقوب کلینی، الکافی، جلد 1، صفحہ 460 (باب مولد الحسين بن علي علیہ السلام)۔
علی اصغرؑ کی پیاس اور ٹھنڈے پانی سے پرہیز (لسانِ حال و مصائب):
علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 45 (کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت کے مصائب کا تذکرہ)۔
کتبِ مقاتل و مجالس (جیسے مقتل ابی مخنف اور ذبیحِ کربلا)، جن میں ذاکرین اور علماء کرام جنابِ ربابؑ کے آخری لمحات میں علی اصغرؑ کے خالی جھولے اور بی بی سکینہؑ کے صدمے کو بیان کرتے ہیں
2 weeks ago | [YT] | 1,874
View 68 replies
Hussaini Media Network
3 ربیع الاول 64 ہجری: جب یزیدی فوج نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا اور آگ لگائی
تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن، جس نے کربلا کے بعد امتِ مسلمہ کے دلوں کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔تاریخی واقعہ:سانحہ کربلا اور واقعہ حرہ (مدینہ منورہ میں قتلِ عام) کے بعد، اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی سرکوبی کے لیے بھیجے گئے اس لشکر نے مکہ کا شدید محاصرہ کیا۔خانہ کعبہ کی بے حرمتی:3 ربیع الاول 64 ہجری کو حصین بن نمیر کی قیادت میں یزیدی فوج نے مکہ کے اطراف کے پہاڑوں سے منجنیقوں کے ذریعے شہر پر پتھر اور آگ کے گولے برسائے۔ اس بمباری کے نتیجے میں اللہ کے مقدس گھر، خانہ کعبہ کے غلاف اور لکڑی کے ڈھانچے کو آگ لگ گئی، جس سے کعبہ کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا اور حجرِ اسود بھی متاثر ہوا۔یہ ظلمِ عظیم ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کس طرح دنیاوی اقتدار کی خاطر اللہ کی زمین پر سب سے مقدس ترین مقام کی حرمت کو پامال کیا گیا۔
📚 حوالہ جات (References)اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل معتبر اسلامی اور تاریخی کتب میں موجود ہیں:
تاریخ الطبری (جلد 5، زکرِ حوادث 64 ہجری، مکہ کا محاصرہ)
الکامل فی التاریخ از ابن الاثیر (جلد 4، ذکرِ احراقِ کعبہ)
البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر (جلد 8، سال 64 ہجری کے احوال)
2 weeks ago | [YT] | 1,243
View 19 replies
Hussaini Media Network
2 ربیع الاول بنتِ رسول ص کی دربار میں پیشی اور مظلومیت
2 weeks ago | [YT] | 1,212
View 68 replies
Hussaini Media Network
درِ زہرا (سلام اللہ علیہا) پر حملے اور اسے جلائے جانے کے وقت بی بی پاک کا پسِ پردہ کلام (مکالمہ) اور استغاثہ تاریخ اور مصائب کی کتب میں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
روایات کے مطابق، جب ظالموں نے گھر کا گھیراؤ کیا تو سیدہ کائناتؑ نے ان سے گفتگو فرمائی۔اس دردناک واقعے کی اہم روایات اور بی بی پاک کا کلام درج ذیل ہے:
♦️سیدہ فاطمہ زہراؑ کا ہجوم سے کلام:
معتبر روایات کے مطابق، جب خلافت کی بیعت کے لیے سیدہؑ کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور لکڑیاں جمع کی گئیں، تو سیدہ زہراؑ دروازے کے پیچھے آئیں اور بلند آواز سے اس ہجوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"اے گمراہ اور جھوٹے لوگوں! تمہارا یہ کیا رویہ ہے؟ کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے؟ ابھی رسول اللہﷺ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا، ان کا جنازہ ابھی گھر میں ہے اور تم نے ہمارے حقوق غصب کر لیے اور ہمارے گھر پر حملہ کر دیا؟"
حوالہ 📚 جات:
اس کلام کا سب سے قدیم، اور بنیادی مآخذ پہلی صدی ہجری کی مایہ ناز کتاب "کتاب سلیم بن قیس ہلالی" ہے۔ بعد میں آنے والے جلیل القدر علمائے کرام اور مورخین نے اسی روایت کو تفصیل کے ساتھ اپنی تصانیف میں جگہ دی۔
♦️کتاب سُلَیم بن قَیس ہِلالی (اسرارِ آلِ محمدؐ)
یہ کتاب اسلام کی پہلی مدون شدہ کتاب مانی جاتی ہے۔ اس واقعے اور بی بی پاکؑ کے اس کلام کا بنیادی متن اسی کتاب میں موجود ہے، جہاں ذکر ہے کہ جب ہجوم نے گھر کا گھیراؤ کیا تو سیدہؑ نے دروازے کے پیچھے سے بلند آواز میں امت کو جھنجھوڑا۔
حوالہ: سلیم بن قیس ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، مطبوعہ انصاریان، (اردو ترجمہ: اسرارِ آلِ محمدؐ)۔
♦️الاحتجاج (علامہ طبرسیؒ)شیعہ مکتبہ فکر کے معروف عالم احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی (صاحبِ تفسیر مجمع البیان) نے اپنی کتاب "الاحتجاج" میں درِ زہراؑ پر ہونے والے اس مکالمے اور استغاثے کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔ وہاں بی بی پاکؑ کا یہ کلام ان الفاظ کے ساتھ ملتا ہے کہ "ابھی رسول اللہﷺ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا..."۔
حوالہ: علامہ طبرسی، کتاب الاحتجاج، جلد 1، زیرِ عنوان "احتجاج فاطمۃ الزہراؑ علی ابی بکر و عمر"۔
♦️ بحار الانوار (علامہ مجلسیؒ)علامہ محمد باقر مجلسی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "بحار الانوار" میں تاریخ اور مصائبِ سیدہ فاطمہ زہراؑ کے ابواب میں سلیم بن قیس اور دیگر قدیم مآخذ کے حوالے سے اس واقعے اور بی بیؑ کی اس دردناک گفتگو کو پوری تفصیل سے جمع کیا ہے۔
حوالہ: علامہ مجلسی، بحار الانوار، جلد 28 (کتاب الفتن والمحن) اور جلد 43 (باب شہادتِ فاطمہ زہرا علیہا السلام)۔
♦️الامامۃ و السیاسۃ (ابنِ قتیبہ دینوری - اہل سنت مآخذ)اہل سنت کے قدیم اور معروف مورخ ابنِ قتیبہ دینوری نے بھی اپنی کتاب میں اس گھیراؤ کا ذکر کیا ہے کہ جب ہجوم گھر کے باہر جمع ہوا تو سیدہ زہراؑ نے دروازے کے پیچھے سے بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے امت کے اس رویے پر احتجاج فرمایا تھا۔
حوالہ: ابنِ قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ (المعروف بہ تاریخ الخلفاء)، جلد 1، صفحہ 12-13، ذکرِ بیعتِ علی کرم اللہ وجہہ۔
3 weeks ago | [YT] | 1,420
View 37 replies
Hussaini Media Network
ایک جلیل القدر عالم نے خواب میں امام حسن مجتبیٰؑ کی زیارت کی اور عرض کیا:
"مولا! آپ کو کلمہ گو امت نے اتنے مصائب دیے، کئی بار زہر پلایا گیا، جگر طشت میں آ گیا اور آپ کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔ ان سب میں سے آپ کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور مصیبت کون سی تھی؟"
مظلومِ مدینہ امام حسنؑ نے گریہ فرماتے ہوئے جواب دیا:"میری سب سے بڑی مصیبت نہ تو زہر کا پینا تھا اور نہ ہی میرے جنازے پر تیروں کا برسنا تھا۔ میری سب سے بڑی مصیبت مدینے کی وہ گلی (کوچۂ بنی ہاشم) تھی، جب میری ماں فاطمہ زہراؑ کو ظالموں نے تماچہ مارا 😭
(روایت و مکاشفہ: یہ واقعہ معروف شیعہ مرجع آیت اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ کے معتبر مکاشفات اور مجالسِ عزاداری کی مستند تقاریر (جیسے کتبِ مجالس و مصائبِ اہل بیتؑ) سے ماخوذ ہے)
3 weeks ago | [YT] | 2,209
View 63 replies
Load more