"تمہارا کیا بنے گا میثم! جب عبید اللہ بن زیاد تمہیں بیزاری کا حکم دے گا اور تم انکار کرو گے؟ "(مولا علی علیہ السلام نے میثم سے کہا)
"خدا کی قسم! میں کبھی اپنے مولا سے بیزاری اختیار نہیں کروں گا، چاہے میری زبان کاٹ دی جائے یا مجھے سولی چڑھا دیا جائے۔"(جنابِ میثم تمار کا جواب)
22 ذوالحجہ - تاریخِ اسلام کا وہ عظیم دن جب عشقِ علیؑ کی انتہا ہوئی۔ کٹی ہوئی زبان سے فضائلِ علیؑ بیان کرنے والے، دارِ رسن پر حق گوئی کی لاجواب تاریخ رقم کرنے والے، اور مولائے کائنات۴ کے مخلص ترین صحابی و رازدار جنابِ میثمِ تمار کا یومِ شہادت ہے۔
کمالِ عشق 🌹 جس کھجور کے درخت پر سولی دی جانی تھی، میثم برسوں اس کو پانی دیتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہی ان کی معراج کا مقام ہے۔
حق گوئی کا جذبہ🌹 سولی پر لٹک کر بھی بنو امیہ کے ظلم کو بے نقاب کیا اور کائنات کو بتایا کہ سر تو کٹ سکتا ہے لیکن حق کا دامن نہیں چھوٹ سکتا۔
سلام ہو جنابِ میثمِ تمار پر، جن کی زبان کاٹی گئی لیکن ولایتِ علیؑ کا نعرہ خاموش نہ ہو سکا
19 ذوالحجہ: شبِ رخصتیِ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا
📚 شیعہ روایات اور مستند کتب کے آئینے میں محدثِ اعظم علامہ محمد باقر مجلسی (صاحبِ بحار الانوار) اور دیگر جلیل القدر شیعہ علماء کی تصریحات کے مطابق،
19 ذوالحجہ 2 ہجری وہ بابرکت رات ہے جب کائنات کی سب سے طیب و طاہر شہزادی، خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہراؑ رخصت ہو کر مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کے حجرۂ انوار میں تشریف لائیں۔
اس ملکوتی اور تاریخی رات کے ایمان افروز احوال:
آسمانی اور زمینی جلوس: امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب رخصتی کی شب رسول اللہﷺ نے سیدہؑ کو اونٹنی پر سوار کیا، تو جبرائیل امینؑ اونٹنی کے دائیں جانب، میکائیلؑ بائیں جانب اور ستر ہزار ملائکہ اس مقدس کاروان کے پیچھے اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے چل رہے تھے۔
تکبیر کی سنت کا آغاز: اس نورانی جلوس میں سب سے پہلے جبرائیل امینؑ نے آسمان پر "اللہ اکبر" کا نعرہ بلند کیا، جس کی پیروی ملائکہ اور خود رسول خداﷺ نے کی، اور یوں شادی کے موقع پر تکبیر کہنا سنت بن گیا۔
امہات المومنین کے اشعار: رسول اللہﷺ کے حکم پر امہات المومنین (جنابِ ام سلمہؑ، جنابِ عائشہ اور جنابِ حفصہ) اونٹنی کے آگے آگے خوشی کے گیت اور فضائلِ اہلیبیتؑ پر مبنی اشعار پڑھتی ہوئیں چل رہی تھیں۔
جنابِ خدیجہ سلام اللہ علیہا سے کیا ہوا وعدہ: جب سب خواتین چلی گئیں تو حضرت اسماء بنت عمیسؑ حجرے میں رک گئیں۔ رسول اللہﷺ کے پوچھنے پر رو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے جنابِ خدیجہؑ کی وفات کے وقت وعدہ کیا تھا کہ فاطمہؑ کی رخصتی کی رات ماں بن کر ان کے پاس رہوں گی۔" یہ سن کر رسول اللہﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپؑ نے اسماء کے لیے دنیا و آخرت کی خیر کی دعا فرمائی۔
رسول اللہﷺ کی مخصوص دعا: رخصتی کے بعد رسول اللہﷺ نے نئے جوڑے پر مبارک پانی چھڑکا اور سیدہ فاطمہؑ اور مولا علیؑ کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دے کر فرمایا: "یا علی! فاطمہؑ تمہارے لیے بہترین زوجہ ہے، اور اے فاطمہ! علیؑ تمہارے لیے بہترین شوہر ہے۔ خدایا! ان کی نسل میں برکت عطا فرما۔
"(بحوالہ: بحار الانوار، امالیِ شیخ طوسی، کشف الغمہ)🌹
تمام محبانِ اہلیبیتؑ کو عقدِ نورین اور شبِ زفافِ سیدہؑ بہت بہت مبارک ہو! 🌹
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "جب قیامت کا دن ہوگا، تو چار دنوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح (سجا کر) لایا جائے گا جیسے دلہن کو اس کے حجلہ عروسی (شادی کے کمرے) کی طرف لایا جاتا ہے۔
آپؑ سے پوچھا گیا: مولا! یہ کون سے دن ہیں؟فرمایا: عید الاضحیٰ، عید الفطر، روزِ جمعہ، اور عیدِ غدیر۔اور یقیناً عیدِ غدیر کا دن عیدِ قربان، عیدِ فطر اور جمعہ کے درمیان ایسا ہی ہے جیسے ستاروں کے درمیان چاند🌙 چمکتا ہے۔
یہ وہ دن ہے جس میں حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ نے آگ سے نجات پائی تھی، پس انہوں نے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا۔
یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل فرمایا، جب نبی اکرمؐ نے حضرت علی امیر المؤمنینؑ کو امت کے لیے رہبر و علمبردار مقرر کیا،
پس رسول خداؐ نے اس دن روزہ رکھا۔ اور بے شک یہ کمال کا دن ہے، شیطان کو ذلیل کرنے کا دن ہے، اور شیعیان و محبانِ آلِ محمدؑ کے اعمال و دعاؤں کے قبول ہونے کا دن ہے۔
اور یہ وہ دن ہے جس میں مخالفین کے اعمال کو اللہ تعالیٰ (بے کار قرار دے کر) اڑتی ہوئی دھول (ہَبَاءً مَنْثُوراً) بنا دے گا۔"
سید جعفر الزمان نے اپنی کتاب 'مجالس المنتظرین' میں اس روایت کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ہے
حضرت مسلم بن عقیلؑ جب امام حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ آئے، تو وہ اپنے دونوں کمسن بیٹوں (محمد اور ابراہیم) کو بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔
کوفہ میں قیام کے دوران یہ بچے جنابِ ہانی بن عروہ کے گھر میں موجود تھے۔ جب ابنِ زیاد نے جنابِ ہانی کو گرفتار کر لیا، تو حضرت مسلم بن عقیلؑ نے وہاں سے خروج کیا۔ بچوں کی حفاظت کی خاطر انہیں ہانی بن عروہ کے گھر ہی چھوڑ دیا گیا۔
جب حضرت مسلم ع کو اکیلا کر کے شہید کر دیا گیا، تو دونوں معصوم بچوں نے ہانی کے گھر کی پچھلی دیوار پھلانگی، جس کی پشت قاضی شریح کے گھر سے ملتی تھی۔ وہ قاضی شریح کے گھر میں چھپ گئے۔
قاضی شریح نے ابنِ زیاد کے خوف سے بچوں کو اپنے گھر رکھنا خطرہ سمجھا۔ اس نے رات کے وقت اپنے بیٹے کے ہمراہ دونوں بچوں کو مدینہ کے قافلے کی طرف روانہ کر دیا تاکہ یہ بحفاظت نکل جائیں۔ لیکن راستے میں اندھیرے اور خوف کی وجہ سے بچے قافلے سے بچھڑ گئے، راستہ بھول گئے اور ابنِ زیاد کے سپاہیوں کے ہاتھ چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں کوفہ کے قید خانے میں ڈال دیا
Hussaini Media Network
اب سمجھ آیا __________ شاعر نے یہ کیوں کہا
یہ جہاں🌍 چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں ❤️
20 hours ago | [YT] | 889
View 23 replies
Hussaini Media Network
شہادتِ جنابِ میثمِ تمار (علیہ السلام)
"تمہارا کیا بنے گا میثم! جب عبید اللہ بن زیاد تمہیں بیزاری کا حکم دے گا اور تم انکار کرو گے؟
"(مولا علی علیہ السلام نے میثم سے کہا)
"خدا کی قسم! میں کبھی اپنے مولا سے بیزاری اختیار نہیں کروں گا، چاہے میری زبان کاٹ دی جائے یا مجھے سولی چڑھا دیا جائے۔"(جنابِ میثم تمار کا جواب)
22 ذوالحجہ - تاریخِ اسلام کا وہ عظیم دن جب عشقِ علیؑ کی انتہا ہوئی۔ کٹی ہوئی زبان سے فضائلِ علیؑ بیان کرنے والے، دارِ رسن پر حق گوئی کی لاجواب تاریخ رقم کرنے والے، اور مولائے کائنات۴ کے مخلص ترین صحابی و رازدار جنابِ میثمِ تمار کا یومِ شہادت ہے۔
کمالِ عشق 🌹
جس کھجور کے درخت پر سولی دی جانی تھی، میثم برسوں اس کو پانی دیتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہی ان کی معراج کا مقام ہے۔
حق گوئی کا جذبہ🌹
سولی پر لٹک کر بھی بنو امیہ کے ظلم کو بے نقاب کیا اور کائنات کو بتایا کہ سر تو کٹ سکتا ہے لیکن حق کا دامن نہیں چھوٹ سکتا۔
سلام ہو جنابِ میثمِ تمار پر، جن کی زبان کاٹی گئی لیکن ولایتِ علیؑ کا نعرہ خاموش نہ ہو سکا
2 days ago | [YT] | 2,811
View 48 replies
Hussaini Media Network
19 ذوالحجہ: شبِ رخصتیِ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا
📚 شیعہ روایات اور مستند کتب کے آئینے میں محدثِ اعظم علامہ محمد باقر مجلسی (صاحبِ بحار الانوار) اور دیگر جلیل القدر شیعہ علماء کی تصریحات کے مطابق،
19 ذوالحجہ 2 ہجری وہ بابرکت رات ہے جب کائنات کی سب سے طیب و طاہر شہزادی، خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہراؑ رخصت ہو کر مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کے حجرۂ انوار میں تشریف لائیں۔
اس ملکوتی اور تاریخی رات کے ایمان افروز احوال:
آسمانی اور زمینی جلوس:
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب رخصتی کی شب رسول اللہﷺ نے سیدہؑ کو اونٹنی پر سوار کیا، تو جبرائیل امینؑ اونٹنی کے دائیں جانب، میکائیلؑ بائیں جانب اور ستر ہزار ملائکہ اس مقدس کاروان کے پیچھے اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے چل رہے تھے۔
تکبیر کی سنت کا آغاز:
اس نورانی جلوس میں سب سے پہلے جبرائیل امینؑ نے آسمان پر "اللہ اکبر" کا نعرہ بلند کیا، جس کی پیروی ملائکہ اور خود رسول خداﷺ نے کی، اور یوں شادی کے موقع پر تکبیر کہنا سنت بن گیا۔
امہات المومنین کے اشعار:
رسول اللہﷺ کے حکم پر امہات المومنین (جنابِ ام سلمہؑ، جنابِ عائشہ اور جنابِ حفصہ) اونٹنی کے آگے آگے خوشی کے گیت اور فضائلِ اہلیبیتؑ پر مبنی اشعار پڑھتی ہوئیں چل رہی تھیں۔
جنابِ خدیجہ سلام اللہ علیہا سے کیا ہوا وعدہ:
جب سب خواتین چلی گئیں تو حضرت اسماء بنت عمیسؑ حجرے میں رک گئیں۔ رسول اللہﷺ کے پوچھنے پر رو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے جنابِ خدیجہؑ کی وفات کے وقت وعدہ کیا تھا کہ فاطمہؑ کی رخصتی کی رات ماں بن کر ان کے پاس رہوں گی۔" یہ سن کر رسول اللہﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپؑ نے اسماء کے لیے دنیا و آخرت کی خیر کی دعا فرمائی۔
رسول اللہﷺ کی مخصوص دعا:
رخصتی کے بعد رسول اللہﷺ نے نئے جوڑے پر مبارک پانی چھڑکا اور سیدہ فاطمہؑ اور مولا علیؑ کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دے کر فرمایا:
"یا علی! فاطمہؑ تمہارے لیے بہترین زوجہ ہے، اور اے فاطمہ! علیؑ تمہارے لیے بہترین شوہر ہے۔ خدایا! ان کی نسل میں برکت عطا فرما۔
"(بحوالہ: بحار الانوار، امالیِ شیخ طوسی، کشف الغمہ)🌹
تمام محبانِ اہلیبیتؑ کو عقدِ نورین اور شبِ زفافِ سیدہؑ بہت بہت مبارک ہو! 🌹
3 days ago | [YT] | 3,183
View 77 replies
Hussaini Media Network
🌷 عیدِ اکبر، عیدِ غدیرِ خم مبارک! 🌷
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:
"جب قیامت کا دن ہوگا، تو چار دنوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح (سجا کر) لایا جائے گا جیسے دلہن کو اس کے حجلہ عروسی (شادی کے کمرے) کی طرف لایا جاتا ہے۔
آپؑ سے پوچھا گیا: مولا! یہ کون سے دن ہیں؟فرمایا: عید الاضحیٰ، عید الفطر، روزِ جمعہ، اور عیدِ غدیر۔اور یقیناً عیدِ غدیر کا دن عیدِ قربان، عیدِ فطر اور جمعہ کے درمیان ایسا ہی ہے جیسے ستاروں کے درمیان چاند🌙 چمکتا ہے۔
یہ وہ دن ہے جس میں حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ نے آگ سے نجات پائی تھی، پس انہوں نے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا۔
یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل فرمایا، جب نبی اکرمؐ نے حضرت علی امیر المؤمنینؑ کو امت کے لیے رہبر و علمبردار مقرر کیا،
پس رسول خداؐ نے اس دن روزہ رکھا۔ اور بے شک یہ کمال کا دن ہے، شیطان کو ذلیل کرنے کا دن ہے، اور شیعیان و محبانِ آلِ محمدؑ کے اعمال و دعاؤں کے قبول ہونے کا دن ہے۔
اور یہ وہ دن ہے جس میں مخالفین کے اعمال کو اللہ تعالیٰ (بے کار قرار دے کر) اڑتی ہوئی دھول (ہَبَاءً مَنْثُوراً) بنا دے گا۔"
📚 حوالہ: اقبال الأعمال، جلد 1، صفحہ 464 🌿
5 days ago | [YT] | 2,786
View 86 replies
Hussaini Media Network
اگر لوگ "عیدِ غدیر" کی فضیلت کو جان لیتے!
6 days ago | [YT] | 2,548
View 51 replies
Hussaini Media Network
کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے عیدِ غدیر نا منائی ھو
1 week ago | [YT] | 2,001
View 33 replies
Hussaini Media Network
علی ع والوں سے موت کے فرشتے کی رحمدلی ❤️
1 week ago | [YT] | 2,746
View 44 replies
Hussaini Media Network
سنان بن انس کا جرم اور عمر سعد کا خوف!
1 week ago (edited) | [YT] | 1,017
View 33 replies
Hussaini Media Network
پیر مبارکیں دیتے رھے مرید فتوے دیتے پھرتے ھیں
1 week ago | [YT] | 3,002
View 53 replies
Hussaini Media Network
جنابِ مسلم ع کے بچے والد سے کیسے جدا ھوئے؟
سید جعفر الزمان نے اپنی کتاب 'مجالس المنتظرین' میں اس روایت کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ہے
حضرت مسلم بن عقیلؑ جب امام حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ آئے، تو وہ اپنے دونوں کمسن بیٹوں (محمد اور ابراہیم) کو بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔
کوفہ میں قیام کے دوران یہ بچے جنابِ ہانی بن عروہ کے گھر میں موجود تھے۔ جب ابنِ زیاد نے جنابِ ہانی کو گرفتار کر لیا، تو حضرت مسلم بن عقیلؑ نے وہاں سے خروج کیا۔ بچوں کی حفاظت کی خاطر انہیں ہانی بن عروہ کے گھر ہی چھوڑ دیا گیا۔
جب حضرت مسلم ع کو اکیلا کر کے شہید کر دیا گیا، تو دونوں معصوم بچوں نے ہانی کے گھر کی پچھلی دیوار پھلانگی، جس کی پشت قاضی شریح کے گھر سے ملتی تھی۔ وہ قاضی شریح کے گھر میں چھپ گئے۔
قاضی شریح نے ابنِ زیاد کے خوف سے بچوں کو اپنے گھر رکھنا خطرہ سمجھا۔ اس نے رات کے وقت اپنے بیٹے کے ہمراہ دونوں بچوں کو مدینہ کے قافلے کی طرف روانہ کر دیا تاکہ یہ بحفاظت نکل جائیں۔ لیکن راستے میں اندھیرے اور خوف کی وجہ سے بچے قافلے سے بچھڑ گئے، راستہ بھول گئے اور ابنِ زیاد کے سپاہیوں کے ہاتھ چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں کوفہ کے قید خانے میں ڈال دیا
1 week ago | [YT] | 2,368
View 64 replies
Load more