ایک جلیل القدر عالم نے خواب میں امام حسن مجتبیٰؑ کی زیارت کی اور عرض کیا:
"مولا! آپ کو کلمہ گو امت نے اتنے مصائب دیے، کئی بار زہر پلایا گیا، جگر طشت میں آ گیا اور آپ کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔ ان سب میں سے آپ کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور مصیبت کون سی تھی؟"
مظلومِ مدینہ امام حسنؑ نے گریہ فرماتے ہوئے جواب دیا:"میری سب سے بڑی مصیبت نہ تو زہر کا پینا تھا اور نہ ہی میرے جنازے پر تیروں کا برسنا تھا۔ میری سب سے بڑی مصیبت مدینے کی وہ گلی (کوچۂ بنی ہاشم) تھی، جب میری ماں فاطمہ زہراؑ کو ظالموں نے تماچہ مارا 😭
(روایت و مکاشفہ: یہ واقعہ معروف شیعہ مرجع آیت اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ کے معتبر مکاشفات اور مجالسِ عزاداری کی مستند تقاریر (جیسے کتبِ مجالس و مصائبِ اہل بیتؑ) سے ماخوذ ہے)
امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر چلانے یا چلوانے کی بنیادی ذمہ داری مروان بن حکم اور بنو امیہ کے مسلح افراد پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے بی بی عائشہ کو آگے کر کے تدفینِ رسولؐ سے روکا تھا۔
شیعہ مکتبِ فکر کی معتبر ترین کتب میں اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے بیان کی گئی ہیں:
جب امام حسین علیہ السلام اپنے بھائی کے جنازے کو تجدیدِ عہد کے لیے روضۂ رسولؐ کی طرف لے کر جانے لگے تو مروان بن حکم اور بنو امیہ کے دیگر افراد (جیسے بنو عثمان) مسلح ہو کر آ گئے۔
مروان بن حکم نے بغاوت کی اور کہا کہ عثمان بن عفان کو مدینہ سے باہر (جنت البقیع کے ایک حصے میں) دفن کیا گیا، اس لیے وہ امام حسنؑ کو کسی صورت رسول اللہؐ کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔
ابن شہر آشوب کی معروف شیعہ کتاب "مناقب آل ابی طالب۴" میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنازے پر تیر بنو امیہ کے لشکر نے چلائے تھے، یہاں تک کہ امام حسنؑ کے جنازے (تابوت) سے 70 تیر نکالے گئے۔
بی بی عائشہ کا کردار (شیعہ کتب کی روشنی میں)
شیعہ کتب جیسے ثقۃ الاسلام کلینی کی "اصولِ کافی" (جلد 1) اور شیخ مفید کی "الارشاد" کے مطابق، مروان بن حکم نے بی بی عائشہ کو اکسایا اور وہ خچر پر سوار ہو کر وہاں پہنچیں۔
روایات کے مطابق انہوں نے کہا: "تم میرے گھر میں ایسے شخص کو دفن کرنا چاہتے ہو جسے میں پسند نہیں کرتی؟"
شیعہ کتب کے مطابق، بی بی عائشہ کی آمد اور مخالفت نے اموی مفسدین کو شہ دی، جس کے بعد مروان کے حکم پر تیر اندازی کی گئی۔
معتبر شیعہ کتب کے حوالے کتاب اصولِ کافی (جلد ۱، باب مولد الحسن۴ بن علی۴)
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام حسنؑ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے امام حسینؑ سے فرمایا کہ مجھے رسول اللہؐ کے جوار میں دفن کرنا، لیکن اگر کوئی فتنہ یا خون خرابے کا خدشہ ہو تو مجھے فتنہ روکنے کی خاطر جنت البقیع میں دفن کرنا۔
جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عائشہ خچر پر سوار ہو کر آئیں اور بنو امیہ کے ساتھ مل کر تدفین سے روکا۔
کتاب الارشاد (مصنف: شیخ مفید):شیخ مفید لکھتے ہیں کہ مروان بن حکم اور بنو امیہ کے کارندوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور بی بی عائشہ کو ساتھ ملا کر جنازے کا راستہ روکا۔ امام حسینؑ نے اپنے بھائی کی وصیت (کہ خون خرابہ نہ ہو) کا پاس رکھتے ہوئے جنازے کا رخ موڑ دیا اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا۔
منتہیٰ الآمال (جلد ۱، مصنف: شیخ عباس قمی):اس کتاب میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ مروان بن حکم اس فتنہ و فساد کا اصل محرک تھا، جس نے بنو امیہ کے تیر اندازوں سے جنازے پر تیر چلوائے۔
خلاصہ: شیعہ روایات کے مطابق، مروان بن حکم نے اس سازش کی قیادت کی اور بنو امیہ کے مسلح افراد نے تیر چلائے، جبکہ بی بی عائشہ نے روضۂ رسولؐ کی زمین کی ملکیت کا دعویٰ کر کے اس تدفین کی مخالفت کی تھی۔
جب امام زین العابدین علیہ السلام نے مدینہ کے قریب پہنچ کر بشیر بن جذلم کو حکم دیا کہ شہر میں جا کر بابا حسینؑ کی شہادت کی خبر دو،
تو بشیر نے مسجدِ نبویؐ کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا:"اے اہل مدینہ! اب یہاں تمہارا رہنا ممکن نہیں رہا،
کیونکہ حسینؑ شہید کر دیے گئے اور اب میرے آنسو رکتے نہیں..." یہ سننا تھا کہ مدینہ کی گلیوں میں کہرام مچ گیا۔
مخدراتِ عصمت روتی ہوئی گھروں سے نکل آئیں۔
تاریخِ اسلام نے ایسا رقت آمیز منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سیدہ زینبؑ جب اپنے نانا کے روضے پر پہنچیں تو روضے کی جالیوں کو پکڑ کر تڑپ گئیں اور پورا مدینہ گریہ کرنے لگا
یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کی یاد میں آج بھی دنیا بھر سے لاکھوں زائرین کربلا کی طرف پیدل چل کر (مشی) جاتے ہیں.
یہاں اس واقعے کی مکمل تفصیلات پیشِ خدمت ہیں: واقعے کا پس منظر اور سفرِ کربلاجب حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کو مدینہ منورہ میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی، تو وہ شدید غمزدہ ہوئے. اس وقت وہ ضعیف العمر اور نابینا ہو چکے تھے. انہوں نے اپنے شاگرد اور نامور مفسرِ قرآن عطیہ عوفی کے ساتھ مدینہ سے کربلا کا طویل اور کٹھن سفر شروع کیا.
فرات پر غسل اور احرام جیسی کیفیت: زیارتِ اربعین میں عطیہ عوفی سے مروی ہے:
جب وہ 20 صفر کو کربلا پہنچے تو سب سے پہلے دریائے فرات کے ساحل پر گئے.حضرت جابر نے فرات کے پانی سے غسلِ زیارت کیا.غسل کے بعد انہوں نے مکہ کے زائرین (محرم) کی طرح دو سفید چادریں زیبِ تن کیں.
پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکال کر اپنے جسم کو معطر کیا.پیدل چلنے کا حکم اور ادبِ بارگاہ عطیہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ غسل اور خوشبو لگانے کے بعد حضرت جابر نے امام حسین ع کی قبرِ مطہر کی طرف بڑھنا شروع کیا.
وہ نہایت عاجزی، سسکیاں لیتے ہوئے اور زبان پر ذکرِ الٰہی (اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ) جاری رکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے پیدل چل رہے تھے.ان کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ امامِ مظلوم کی بارگاہ میں سواری پر جانے کے بجائے پیدل چلنا، قدم چومنا اور عاجزی اختیار کرنا ہی اصل ادب ہے.
قبرِ مطہر پر حاضری اور بے ہوشی: جب وہ قبر کے بالکل قریب پہنچے تو انہوں نے عطیہ سے کہا: "میرا ہاتھ اپنے آقا کی قبر پر رکھو". جیسے ہی عطیہ نے ان کا ہاتھ قبرِ مبارک پر رکھا، حضرت جابر نے تڑپ کر قبرِ مطہر کو سینے سے لگا لیا اور ایک آہ بھری اور وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑے.
"کیا دوست دوست کو جواب نہیں دیتا؟"عطیہ عوفی نے ان کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو انہیں ہوش آیا. ہوش میں آتے ہی انہوں نے تین مرتبہ بلند آواز سے پکارا: "یا حسین! یا حسین! یا حسین!".پھر روتے ہوئے قبر سے مخاطب ہو کر کہا:"حبیب لا یجیب حبیبہ" (کیا ایک دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیتا؟)
پھر خود ہی گریہ کرتے ہوئے کہنے لگے: "آپ کیسے جواب دیں گے؟ جبکہ آپ کا سرِ مبارک تن سے جدا کر دیا گیا ہے، آپ کے پاکیزہ اعضاء بکھیر دیے گئے ہیں اور آپ کی گردن رگوں سے کٹ چکی ہے".
اہل بیتِ ع اطہار کے قافلے سے ملاقات: تاریخی روایات (جیسے علامہ ابن طاؤس کی کتاب اللہوف) کے مطابق، اسی دن شام کے قید خانے سے رہا ہو کر آنے والا اہلِ بیت کا لٹا ہوا قافلہ (سیدہ زینب اور امام زین العابدین) بھی کربلا پہنچا تھا. وہاں حضرت جابر اور بنو ہاشم کے دیگر افراد نے سیدہ زینب اور دیگر خواتین کا استقبال کیا اور سب نے مل کر کربلا کی زمین پر گریہ و زاری کی اور چہلم منایا.
پیدل چلنے (مشی) کی اہمیت حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا یہ عمل (فرات پر غسل کرنا، چادریں اوڑھنا اور عاجزی کے ساتھ پیدل چلنا) بعد میں اربعین کی زیارت کی بنیاد بنا. ائمہ اہل بیت ع نے بھی پیدل زیارتِ کربلا کی بہت فضیلت بیان کی ہے، جس کے باعث آج نجف سے کربلا تک کروڑوں زائرین پیدل چل کر اس سنتِ جابری کو زندہ کرتے ہیں.
زندانِ شام میں بی بی سکینہ (س) کی شہادت کا واقعہ تاریخِ اسلام کا مظلومانہ اور دلخراش ترین باب ہے۔
یہ المناک واقعہ 13 صفر المظفر 61 ہجری کو پیش آیا، جب امام حسین (ع) کی چہیتی کمسن صاحبزادی بابا کی جدائی اور پیاس کی تاب نہ لاتے ہوئے قید خانے کے اندھیرے میں جامِ شہادت نوش کر گئیں.
مستند تاریخی و مقاتل کی کتابوں کے مطابق یہ روایت درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
(زندان کا ماحول اور بی بی کی بے چینی) خرابہِ شام: یزید ملعون نے رسول زادیوں اور معصوم بچوں کو دمشق کے ایک ایسے ویران قید خانے (خرابے) میں رکھا تھا جس کی چھت بھی نہیں تھی. وہاں دن کو شدید تپش اور رات کو سخت سردی ہوتی تھی.
بابا کی یاد: چار سالہ معصوم بی بی سکینہ (س) اکثر اپنے بابا امام حسین (ع) کو یاد کر کے رویا کرتی تھیں. عصرِ عاشور کے بعد سے انہوں نے پیاس کی شکایت کرنا چھوڑ دی تھی، لیکن بابا کی جدائی ان کے نازک وجود کے لیے ناقابلِ برداشت تھی.
خواب سے بیداری اور گریہ و بکاخواب کا واقعہ: ایک رات بی بی سکینہ (س) کی آنکھ لگی تو انہوں نے خواب میں اپنے بابا کو دیکھا۔ جب وہ چونک کر بیدار ہوئیں، تو شدید بے چین ہو گئیں اور روتے ہوئے پکارنے لگیں: "میری پھوپھی جان! میرے بابا کہاں ہیں؟ میں نے ابھی ابھی انہیں خواب میں دیکھا ہے، وہ بہت اداس تھے۔"
قید خانے کا کہرام: بی بی سکینہ (س) کے رونے کی آواز سن کر اہل بیت کی دیگر خواتین اور بچے بھی تڑپ اٹھے اور پورے زندان میں کہرام مچ گیا۔
(یزید کا حکم اور سرِ اقدس کی آمد) یزید کی نیند میں خلل: قید خانے سے اٹھنے والے رونے کے اس شور کی آواز جب قریب موجود یزید کے محل تک پہنچی، تو اس نے پوچھا کہ یہ کیسا ماتم ہے؟ جب اسے بتایا گیا کہ حسین (ع) کی چھوٹی بیٹی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے، تو اس ظالم نے حکم دیا:
"حسین ع کا کٹا ہوا سر لے جا کر اس بچی کے سامنے رکھ دو تاکہ یہ خاموش ہو جائے"۔
طبق میں سرِ مبارک: ملعون کارندے امام حسین (ع) کا سرِ اقدس ایک خوان (طبق) میں رکھ کر قید خانے لائے، جو کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا. انہوں نے وہ طبق معصوم بچی کے سامنے رکھ دیا.
بابا کے سر سے گفتگو اور شہادت پردہ اٹھانا: بی بی سکینہ (س) نے جب کپڑا ہٹایا تو سامنے اپنے پیارے بابا کا خون آلود سر دیکھا. وہ تڑپ اٹھیں اور سرِ مبارک کو گود میں لے کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے بابا کے چہرے کو صاف کرنے لگیں۔
دردناک مکالمہ: انہوں نے روتے ہوئے سرِ اقدس سے مخاطب ہو کر کہا:
"بابا جان! کس نے آپ کے محاسن کو آپ کے خون سے رنگین کیا؟ بابا! کس نے میرے یتیمی کے دن جلدی کر دیے؟ بابا! اب ہماری دیکھ بھال کون کرے گا؟"
آخری ہچکی: معصوم بچی نے روتے روتے اپنے لب بابا کے لبوں پر رکھ دیے اور اتنی زور سے بین کیا کہ
اچانک قید خانے میں خاموشی چھا گئی.
جب حضرت زینب (س) آگے بڑھیں تو دیکھا کہ بی بی سکینہ (س) کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی اور وہ بابا کے سر پر ہی دم توڑ چکی تھیں.
اس معصوم مظلومہ کو اسی قید خانے کے خرابے میں، انہی کے کُرتے میں کفن دے کر دفن کیا گیا، جو آج بھی دمشق (شام) میں حرم بی بی سکینہ / رقیہ (س) کے نام سے مرجعِ خلائق ہے.
جب سانحہ کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت اور معصوم بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور وہاں سے دمشق (شام) لے جایا جا رہا تھا، تو راستے میں یزیدی فوج کی طرف سے اسیروں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی تھیں۔ امام حسین علیہ السلام کی سب سے چہیتی اور معصوم بیٹی بی بی سکینہؑ کو ان مصائب کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا
روایت کے مطابق، دورانِ سفر جب کبھی یزیدی فوج (یا شمر ملعون) بچوں کو پیاسا دیکھ کر پانی تقسیم کرنے کا دکھاوا کرتا، تو یہ ظالمانہ طریقہ اختیار کیا جاتا: بچوں کی قطار: تمام پیاسے اور معصوم بچے پانی کی امید میں ایک قطار (لائن) بنا کر کھڑے ہو جاتے
بی بی سکینہؑ کی باری اور شمر کی سنگدلی: شمر ملعون جب بچوں میں پانی بانٹتا ہوا آگے بڑھتا اور جیسے ہی سیدہ سکینہؑ کی باری آتی، وہ جان بوجھ کر شہزادی کو چھوڑ دیتا اور دوسری قطار یا دوسرے بچوں کی طرف چلا جاتا تاکہ آپؑ پیاسی رہ جائیں۔
پانی زمین پر بہا دینا: جب سب بچوں کو (یا جنہیں وہ دینا چاہتا) پانی دے چکتا، اور مشک میں کچھ پانی باقی بچ جاتا، تو بی بی سکینہؑ کو دینے کے بجائے وہ پانی شہزادی کے سامنے زمین پر گرا دیتا تاکہ معصوم بچی تڑپ اٹھے۔
علمی و تاریخی حیثیت علمی اور تاریخی نقطہ نظر سے اس واقعے کی حقیقت درج ذیل ہے:
کتبِ مقاتل میں ذکر: مستند اور قدیم تاریخی کتبِ مقاتل (جیسے مقتل ابی مخنف، الارشاد، یا لہوف)
Hussaini Media Network
ایک جلیل القدر عالم نے خواب میں امام حسن مجتبیٰؑ کی زیارت کی اور عرض کیا:
"مولا! آپ کو کلمہ گو امت نے اتنے مصائب دیے، کئی بار زہر پلایا گیا، جگر طشت میں آ گیا اور آپ کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔ ان سب میں سے آپ کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور مصیبت کون سی تھی؟"
مظلومِ مدینہ امام حسنؑ نے گریہ فرماتے ہوئے جواب دیا:"میری سب سے بڑی مصیبت نہ تو زہر کا پینا تھا اور نہ ہی میرے جنازے پر تیروں کا برسنا تھا۔ میری سب سے بڑی مصیبت مدینے کی وہ گلی (کوچۂ بنی ہاشم) تھی، جب میری ماں فاطمہ زہراؑ کو ظالموں نے تماچہ مارا 😭
(روایت و مکاشفہ: یہ واقعہ معروف شیعہ مرجع آیت اللہ العظمیٰ سید شہاب الدین مرعشی نجفیؒ کے معتبر مکاشفات اور مجالسِ عزاداری کی مستند تقاریر (جیسے کتبِ مجالس و مصائبِ اہل بیتؑ) سے ماخوذ ہے)
5 hours ago | [YT] | 465
View 17 replies
Hussaini Media Network
"25 صفر 11 ھجری" جب رسول خدا ص کو کہا گیا
ھمارے لئے قرآن کافی ھے 👉
2 days ago | [YT] | 1,029
View 76 replies
Hussaini Media Network
شیعہ کتب اور تاریخی روایات کے مطابق،
امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر چلانے یا چلوانے کی بنیادی ذمہ داری مروان بن حکم اور بنو امیہ کے مسلح افراد پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے بی بی عائشہ کو آگے کر کے تدفینِ رسولؐ سے روکا تھا۔
شیعہ مکتبِ فکر کی معتبر ترین کتب میں اس واقعے کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے بیان کی گئی ہیں:
جب امام حسین علیہ السلام اپنے بھائی کے جنازے کو تجدیدِ عہد کے لیے روضۂ رسولؐ کی طرف لے کر جانے لگے تو مروان بن حکم اور بنو امیہ کے دیگر افراد (جیسے بنو عثمان) مسلح ہو کر آ گئے۔
مروان بن حکم نے بغاوت کی اور کہا کہ عثمان بن عفان کو مدینہ سے باہر (جنت البقیع کے ایک حصے میں) دفن کیا گیا، اس لیے وہ امام حسنؑ کو کسی صورت رسول اللہؐ کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔
ابن شہر آشوب کی معروف شیعہ کتاب "مناقب آل ابی طالب۴" میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنازے پر تیر بنو امیہ کے لشکر نے چلائے تھے، یہاں تک کہ امام حسنؑ کے جنازے (تابوت) سے 70 تیر نکالے گئے۔
بی بی عائشہ کا کردار (شیعہ کتب کی روشنی میں)
شیعہ کتب جیسے ثقۃ الاسلام کلینی کی "اصولِ کافی" (جلد 1) اور شیخ مفید کی "الارشاد" کے مطابق، مروان بن حکم نے بی بی عائشہ کو اکسایا اور وہ خچر پر سوار ہو کر وہاں پہنچیں۔
روایات کے مطابق انہوں نے کہا: "تم میرے گھر میں ایسے شخص کو دفن کرنا چاہتے ہو جسے میں پسند نہیں کرتی؟"
شیعہ کتب کے مطابق، بی بی عائشہ کی آمد اور مخالفت نے اموی مفسدین کو شہ دی، جس کے بعد مروان کے حکم پر تیر اندازی کی گئی۔
معتبر شیعہ کتب کے حوالے
کتاب اصولِ کافی (جلد ۱، باب مولد الحسن۴ بن علی۴)
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام حسنؑ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے امام حسینؑ سے فرمایا کہ مجھے رسول اللہؐ کے جوار میں دفن کرنا، لیکن اگر کوئی فتنہ یا خون خرابے کا خدشہ ہو تو مجھے فتنہ روکنے کی خاطر جنت البقیع میں دفن کرنا۔
جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عائشہ خچر پر سوار ہو کر آئیں اور بنو امیہ کے ساتھ مل کر تدفین سے روکا۔
کتاب الارشاد (مصنف: شیخ مفید):شیخ مفید لکھتے ہیں کہ مروان بن حکم اور بنو امیہ کے کارندوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور بی بی عائشہ کو ساتھ ملا کر جنازے کا راستہ روکا۔ امام حسینؑ نے اپنے بھائی کی وصیت (کہ خون خرابہ نہ ہو) کا پاس رکھتے ہوئے جنازے کا رخ موڑ دیا اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا۔
منتہیٰ الآمال (جلد ۱، مصنف: شیخ عباس قمی):اس کتاب میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ مروان بن حکم اس فتنہ و فساد کا اصل محرک تھا، جس نے بنو امیہ کے تیر اندازوں سے جنازے پر تیر چلوائے۔
خلاصہ: شیعہ روایات کے مطابق، مروان بن حکم نے اس سازش کی قیادت کی اور بنو امیہ کے مسلح افراد نے تیر چلائے، جبکہ بی بی عائشہ نے روضۂ رسولؐ کی زمین کی ملکیت کا دعویٰ کر کے اس تدفین کی مخالفت کی تھی۔
3 days ago | [YT] | 1,233
View 40 replies
Hussaini Media Network
رسول خدا ص کی شہادت سے چند دن پہلے کا واقعہ
4 days ago | [YT] | 1,158
View 36 replies
Hussaini Media Network
جب امام زین العابدین علیہ السلام نے مدینہ کے قریب پہنچ کر بشیر بن جذلم کو حکم دیا کہ شہر میں جا کر بابا حسینؑ کی شہادت کی خبر دو،
تو بشیر نے مسجدِ نبویؐ کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا:"اے اہل مدینہ! اب یہاں تمہارا رہنا ممکن نہیں رہا،
کیونکہ حسینؑ شہید کر دیے گئے اور اب میرے آنسو رکتے نہیں..." یہ سننا تھا کہ مدینہ کی گلیوں میں کہرام مچ گیا۔
مخدراتِ عصمت روتی ہوئی گھروں سے نکل آئیں۔
تاریخِ اسلام نے ایسا رقت آمیز منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سیدہ زینبؑ جب اپنے نانا کے روضے پر پہنچیں تو روضے کی جالیوں کو پکڑ کر تڑپ گئیں اور پورا مدینہ گریہ کرنے لگا
6 days ago | [YT] | 1,508
View 39 replies
Hussaini Media Network
یہ واقعہ 20 صفر 61 ہجری کو کربلا میں پیش آیا.
یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کی یاد میں آج بھی دنیا بھر سے لاکھوں زائرین کربلا کی طرف پیدل چل کر (مشی) جاتے ہیں.
یہاں اس واقعے کی مکمل تفصیلات پیشِ خدمت ہیں:
واقعے کا پس منظر اور سفرِ کربلاجب حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کو مدینہ منورہ میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی، تو وہ شدید غمزدہ ہوئے. اس وقت وہ ضعیف العمر اور نابینا ہو چکے تھے. انہوں نے اپنے شاگرد اور نامور مفسرِ قرآن عطیہ عوفی کے ساتھ مدینہ سے کربلا کا طویل اور کٹھن سفر شروع کیا.
فرات پر غسل اور احرام جیسی کیفیت:
زیارتِ اربعین میں عطیہ عوفی سے مروی ہے:
جب وہ 20 صفر کو کربلا پہنچے تو سب سے پہلے دریائے فرات کے ساحل پر گئے.حضرت جابر نے فرات کے پانی سے غسلِ زیارت کیا.غسل کے بعد انہوں نے مکہ کے زائرین (محرم) کی طرح دو سفید چادریں زیبِ تن کیں.
پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکال کر اپنے جسم کو معطر کیا.پیدل چلنے کا حکم اور ادبِ بارگاہ عطیہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ غسل اور خوشبو لگانے کے بعد حضرت جابر نے امام حسین ع کی قبرِ مطہر کی طرف بڑھنا شروع کیا.
وہ نہایت عاجزی، سسکیاں لیتے ہوئے اور زبان پر ذکرِ الٰہی (اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ) جاری رکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے پیدل چل رہے تھے.ان کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ امامِ مظلوم کی بارگاہ میں سواری پر جانے کے بجائے پیدل چلنا، قدم چومنا اور عاجزی اختیار کرنا ہی اصل ادب ہے.
قبرِ مطہر پر حاضری اور بے ہوشی:
جب وہ قبر کے بالکل قریب پہنچے تو انہوں نے عطیہ سے کہا: "میرا ہاتھ اپنے آقا کی قبر پر رکھو". جیسے ہی عطیہ نے ان کا ہاتھ قبرِ مبارک پر رکھا، حضرت جابر نے تڑپ کر قبرِ مطہر کو سینے سے لگا لیا اور ایک آہ بھری اور وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑے.
"کیا دوست دوست کو جواب نہیں دیتا؟"عطیہ عوفی نے ان کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو انہیں ہوش آیا. ہوش میں آتے ہی انہوں نے تین مرتبہ بلند آواز سے پکارا: "یا حسین! یا حسین! یا حسین!".پھر روتے ہوئے قبر سے مخاطب ہو کر کہا:"حبیب لا یجیب حبیبہ" (کیا ایک دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دیتا؟)
پھر خود ہی گریہ کرتے ہوئے کہنے لگے: "آپ کیسے جواب دیں گے؟ جبکہ آپ کا سرِ مبارک تن سے جدا کر دیا گیا ہے، آپ کے پاکیزہ اعضاء بکھیر دیے گئے ہیں اور آپ کی گردن رگوں سے کٹ چکی ہے".
اہل بیتِ ع اطہار کے قافلے سے ملاقات:
تاریخی روایات (جیسے علامہ ابن طاؤس کی کتاب اللہوف) کے مطابق، اسی دن شام کے قید خانے سے رہا ہو کر آنے والا اہلِ بیت کا لٹا ہوا قافلہ (سیدہ زینب اور امام زین العابدین) بھی کربلا پہنچا تھا. وہاں حضرت جابر اور بنو ہاشم کے دیگر افراد نے سیدہ زینب اور دیگر خواتین کا استقبال کیا اور سب نے مل کر کربلا کی زمین پر گریہ و زاری کی اور چہلم منایا.
پیدل چلنے (مشی) کی اہمیت حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا یہ عمل (فرات پر غسل کرنا، چادریں اوڑھنا اور عاجزی کے ساتھ پیدل چلنا) بعد میں اربعین کی زیارت کی بنیاد بنا. ائمہ اہل بیت ع نے بھی پیدل زیارتِ کربلا کی بہت فضیلت بیان کی ہے، جس کے باعث آج نجف سے کربلا تک کروڑوں زائرین پیدل چل کر اس سنتِ جابری کو زندہ کرتے ہیں.
1 week ago | [YT] | 1,996
View 23 replies
Hussaini Media Network
بیشک خدا بہتر جانتا تھا کہ وہ رسالت (ص) و امامت۴ کو کس گھر میں رکھے!
1 week ago | [YT] | 1,487
View 30 replies
Hussaini Media Network
زندانِ شام میں بی بی سکینہ (س) کی شہادت کا واقعہ
تاریخِ اسلام کا مظلومانہ اور دلخراش ترین باب ہے۔
یہ المناک واقعہ 13 صفر المظفر 61 ہجری کو پیش آیا، جب امام حسین (ع) کی چہیتی کمسن صاحبزادی بابا کی جدائی اور پیاس کی تاب نہ لاتے ہوئے قید خانے کے اندھیرے میں جامِ شہادت نوش کر گئیں.
مستند تاریخی و مقاتل کی کتابوں کے مطابق یہ روایت درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
(زندان کا ماحول اور بی بی کی بے چینی)
خرابہِ شام: یزید ملعون نے رسول زادیوں اور معصوم بچوں کو دمشق کے ایک ایسے ویران قید خانے (خرابے) میں رکھا تھا جس کی چھت بھی نہیں تھی. وہاں دن کو شدید تپش اور رات کو سخت سردی ہوتی تھی.
بابا کی یاد: چار سالہ معصوم بی بی سکینہ (س) اکثر اپنے بابا امام حسین (ع) کو یاد کر کے رویا کرتی تھیں. عصرِ عاشور کے بعد سے انہوں نے پیاس کی شکایت کرنا چھوڑ دی تھی، لیکن بابا کی جدائی ان کے نازک وجود کے لیے ناقابلِ برداشت تھی.
خواب سے بیداری اور گریہ و بکاخواب کا واقعہ:
ایک رات بی بی سکینہ (س) کی آنکھ لگی تو انہوں نے خواب میں اپنے بابا کو دیکھا۔ جب وہ چونک کر بیدار ہوئیں، تو شدید بے چین ہو گئیں اور روتے ہوئے پکارنے لگیں: "میری پھوپھی جان! میرے بابا کہاں ہیں؟ میں نے ابھی ابھی انہیں خواب میں دیکھا ہے، وہ بہت اداس تھے۔"
قید خانے کا کہرام:
بی بی سکینہ (س) کے رونے کی آواز سن کر اہل بیت کی دیگر خواتین اور بچے بھی تڑپ اٹھے اور پورے زندان میں کہرام مچ گیا۔
(یزید کا حکم اور سرِ اقدس کی آمد)
یزید کی نیند میں خلل:
قید خانے سے اٹھنے والے رونے کے اس شور کی آواز جب قریب موجود یزید کے محل تک پہنچی، تو اس نے پوچھا کہ یہ کیسا ماتم ہے؟ جب اسے بتایا گیا کہ حسین (ع) کی چھوٹی بیٹی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے، تو اس ظالم نے حکم دیا:
"حسین ع کا کٹا ہوا سر لے جا کر اس بچی کے سامنے رکھ دو تاکہ یہ خاموش ہو جائے"۔
طبق میں سرِ مبارک:
ملعون کارندے امام حسین (ع) کا سرِ اقدس ایک خوان (طبق) میں رکھ کر قید خانے لائے، جو کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا. انہوں نے وہ طبق معصوم بچی کے سامنے رکھ دیا.
بابا کے سر سے گفتگو اور شہادت پردہ اٹھانا:
بی بی سکینہ (س) نے جب کپڑا ہٹایا تو سامنے اپنے پیارے بابا کا خون آلود سر دیکھا. وہ تڑپ اٹھیں اور سرِ مبارک کو گود میں لے کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے بابا کے چہرے کو صاف کرنے لگیں۔
دردناک مکالمہ:
انہوں نے روتے ہوئے سرِ اقدس سے مخاطب ہو کر کہا:
"بابا جان! کس نے آپ کے محاسن کو آپ کے خون سے رنگین کیا؟ بابا! کس نے میرے یتیمی کے دن جلدی کر دیے؟ بابا! اب ہماری دیکھ بھال کون کرے گا؟"
آخری ہچکی:
معصوم بچی نے روتے روتے اپنے لب بابا کے لبوں پر رکھ دیے اور اتنی زور سے بین کیا کہ
اچانک قید خانے میں خاموشی چھا گئی.
جب حضرت زینب (س) آگے بڑھیں تو دیکھا کہ بی بی سکینہ (س) کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی اور وہ بابا کے سر پر ہی دم توڑ چکی تھیں.
اس معصوم مظلومہ کو اسی قید خانے کے خرابے میں، انہی کے کُرتے میں کفن دے کر دفن کیا گیا، جو آج بھی دمشق (شام) میں حرم بی بی سکینہ / رقیہ (س) کے نام سے مرجعِ خلائق ہے.
2 weeks ago | [YT] | 1,992
View 48 replies
Hussaini Media Network
دخترِ حسین ع کو سر بھیجا گیا 😭
2 weeks ago | [YT] | 3,039
View 124 replies
Hussaini Media Network
روایت کا پس منظر اور تفصیل
جب سانحہ کربلا کے بعد مخدراتِ عصمت اور معصوم بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور وہاں سے دمشق (شام) لے جایا جا رہا تھا، تو راستے میں یزیدی فوج کی طرف سے اسیروں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی تھیں۔ امام حسین علیہ السلام کی سب سے چہیتی اور معصوم بیٹی بی بی سکینہؑ کو ان مصائب کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا
روایت کے مطابق، دورانِ سفر جب کبھی یزیدی فوج (یا شمر ملعون) بچوں کو پیاسا دیکھ کر پانی تقسیم کرنے کا دکھاوا کرتا، تو یہ ظالمانہ طریقہ اختیار کیا جاتا:
بچوں کی قطار:
تمام پیاسے اور معصوم بچے پانی کی امید میں ایک قطار (لائن) بنا کر کھڑے ہو جاتے
بی بی سکینہؑ کی باری اور شمر کی سنگدلی:
شمر ملعون جب بچوں میں پانی بانٹتا ہوا آگے بڑھتا اور جیسے ہی سیدہ سکینہؑ کی باری آتی، وہ جان بوجھ کر شہزادی کو چھوڑ دیتا اور دوسری قطار یا دوسرے بچوں کی طرف چلا جاتا تاکہ آپؑ پیاسی رہ جائیں۔
پانی زمین پر بہا دینا:
جب سب بچوں کو (یا جنہیں وہ دینا چاہتا) پانی دے چکتا، اور مشک میں کچھ پانی باقی بچ جاتا، تو بی بی سکینہؑ کو دینے کے بجائے وہ پانی شہزادی کے سامنے زمین پر گرا دیتا تاکہ معصوم بچی تڑپ اٹھے۔
علمی و تاریخی حیثیت
علمی اور تاریخی نقطہ نظر سے اس واقعے کی حقیقت درج ذیل ہے:
کتبِ مقاتل میں ذکر: مستند اور قدیم تاریخی کتبِ مقاتل (جیسے مقتل ابی مخنف، الارشاد، یا لہوف)
2 weeks ago | [YT] | 1,194
View 51 replies
Load more