Natural Greenography

Natural Greenography Travel, Tours & Gardening aimed at

The most popular Hadith on environment states “The earth is green and beautiful and Allah has appointed you his stewards over it” which reiterates Quran teaching that human beings have been given the responsibility of guardianship over the natural environment.

Natural Greenography is a YouTube channel focused on Tour, Trips, Traveling, Exploring, gardening, botany, and horticulture. The term "Greenography" is a play on the words "green" and "geography," suggesting a journey or exploration of the green world of plants.

If you're interested in gardening, plants, Tour of Beautiful Places, Mountains, Lakes, Parks and the natural world, Natural Greenography might be a great channel to explore and learn from!

#Tour Videos #Travel Videos #Trip of Beautiful Places #Mountains #Lakes #Waterfall #Snowfall #Travel Vlogs #Adventure Rider #Grip on Trips #Hiking #National Parks #Village Vlogs #plants

Contact: 00923004617853


Natural Greenography

*پنج پیر راکس*
ہم تقریبا" 5 بجے شام پنج پیر راکس کی پارکنگ پر پہنچے یہاں سے پیدل 5 منٹ میں اوپر راکس تک پہنچ جاتے ہیں۔ لوگ بائک اور 4×4 گاڑیاں اوپر تک لے جاتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہ جگہ 72 کلومیٹر ہے اور دو ڈھائی گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔
پنج پیر راکس دراصل ایک وسیع پتھریلا پہاڑی سلسلہ ہے جو ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ، یونین کونسل نڑار کے قریب واقع ہے۔ یہ مقام سطحِ سمندر سے تقریباً 1800 میٹر (تقریباً 5500 تا 5900 فٹ) بلند ہے اور پوٹھوہار اور مری کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان ایک منفرد قدرتی منظر پیش کرتا ہے۔
اس جگہ کی “تاریخ” زیادہ تر تحریری تاریخی ریکارڈ کے بجائے مقامی روایات اور لوک کہانیوں پر مبنی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق صدیوں پہلے پانچ درویش یہاں عبادت اور چلہ کشی کے لیے آئے تھے۔ انہی “پانچ پیروں” کی نسبت سے اس علاقے کو “پنج پیر” کہا جانے لگا۔ بعض روایات میں کہا جاتا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر ان بزرگوں کے قدموں کے نشانات بھی موجود تھے، اسی وجہ سے یہ مقام روحانی اہمیت اختیار کر گیا۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ علاقہ بہت منفرد ہے۔ یہاں کے پہاڑ عام مٹی والے نہیں بلکہ زیادہ تر سخت چٹانی ساخت پر مشتمل ہیں۔ اسی لیے پورا علاقہ ایک بڑی قدرتی “راک پلیٹ فارم” جیسا محسوس ہوتا ہے جہاں درخت، چھوٹے چشمے اور بعض دیہات بھی انہی چٹانوں پر قائم ہیں۔
پہلے یہ مقام صرف مقامی چرواہوں، شکاریوں اور قریبی دیہات کے لوگوں تک محدود تھا، لیکن سوشل میڈیا، بائیکرز اور ہائیکرز کی ویڈیوز کے بعد گزشتہ چند برسوں میں یہ ایک مشہور سیاحتی مقام بن گیا۔ خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی سے آنے والے بائیکرز اسے “hidden gem” کہتے ہیں۔
سردیوں میں یہاں برف باری بھی ہوتی ہے، جبکہ گرمیوں میں موسم نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں:
ہائیکنگ
کیمپنگ
بائیک ٹرپس
سن رائز اور سن سیٹ فوٹوگرافی
بہت مشہور ہیں۔
پنج پیر راکس کے قریب:
نڑھ آبشار (Narh Waterfall)
منجن جھیل
لہترار کا پہاڑی علاقہ
کوٹلی ستیاں کی وادیاں
بھی واقع ہیں، اس لیے لوگ اکثر ایک ہی ٹرپ میں کئی مقامات دیکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام کی اصل ارضیاتی عمر ہزاروں یا لاکھوں سال پرانی ہو سکتی ہے، لیکن اس پر ابھی تک زیادہ سائنسی تحقیق منظرِ عام پر نہیں آئی۔ اسی وجہ سے اس کے بارے میں کئی “پراسرار” کہانیاں بھی مشہور ہیں، خصوصاً ان دیوقامت متوازن چٹانوں کے بارے میں۔
#Naturalgreenography

2 days ago | [YT] | 0

Natural Greenography

ناران کے بلند ترین سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ اور مضافات میں گزشتہ روز سے برفباری اور بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

مئی کے مہینے میں جہاں میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، وہیں وادی کاغان کی سیاحتی جھیل اور بابوسر ٹاپ پر وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم ٹھنڈا ہوگیا۔

برفباری کے باعث چاروں اطراف سے برف میں ڈھکی جھیل اور بابوسر ٹاپ دلکش نظارے پیش کر رہے ہیں،
خوبصورت نظارے دیکھنے کیلئے سیاحوں کی بڑی تعداد بھی بابوسر ٹاپ پہنچ رہی ہے۔

#Naturalgreenography

2 days ago | [YT] | 1

Natural Greenography

میرے خوبصورت دوستو! ناران کاغان کی موجودہ صورتحال میں راستے آہستہ آہستہ بحال ہو رہے ہیں۔
ٹیم اس وقت لولو سر لیک تک پہنچ چکی ہے جبکہ بابو سر ٹاپ کی طرف روڈ کلیئرنس کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ❄️🏔️

ناران سے آگے برفانی گلیشیئر ہٹائے جا رہے ہیں اور سیاحتی مقامات دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
لولو سر لیک اس وقت برف سے ڈھکی خوبصورت وادی کا منظر پیش کر رہی ہے جو سیاحوں کے لیے ایک شاندار نظارہ ہے۔

انشاءاللہ بابو سر ٹاپ 25 مئی تک مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
شمالی علاقہ جات جانے والے تمام دوست موسم اور روڈ اپڈیٹس لازمی چیک کرتے رہیں اور احتیاط کے ساتھ سفر کریں۔ 🚗🌨️

2 weeks ago | [YT] | 1

Natural Greenography

رتی گلی جھیل کا ٹریک بلاشبہ آزاد کشمیر کے مشکل ترین اور مہم جویانہ ٹریکس میں سے ایک ہے، خاص طور پر جب اسے بائیک پر سر کرنے کی بات ہو۔ سطح سمندر سے تقریباً 12,130 فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنے کٹھن راستے کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہے۔
​سہیل نیاز کی جانب سے اس ٹریک کو بائیک پر مکمل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے، جس کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
​1. ٹریک کی بلندی اور جغرافیہ
​رتی گلی کا سفر وادی نیلم کے مقام "دوواریاں" سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 18 کلومیٹر ہے، لیکن یہ محض فاصلہ نہیں بلکہ عمودی چڑھائی اور خطرناک موڑ کا مجموعہ ہے۔
​اوسط بلندی: ٹریک کے آغاز سے اختتام تک آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، جو بائیکر اور انجن دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
​موسم: یہاں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے، جو ٹریک کو اچانک مزید دشوار بنا دیتا ہے۔
​2. ٹریک کی اہم مشکلات
​بائیک پر یہ ٹریک سر کرنا ان وجوہات کی بنا پر انتہائی مشکل ہے:
​کچا اور پتھریلا راستہ: ٹریک کا بیشتر حصہ بڑے پتھروں (Loose Rocks) اور بجری پر مشتمل ہے۔ بائیک کے ٹائروں کی گرفت برقرار رکھنا یہاں سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔
​خطرناک ڈھلوانیں: کئی مقامات پر راستہ اتنا تنگ ہے کہ ایک طرف بلند پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائی ہے۔ ذرا سی لغزش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
​پانی کے چشمے اور کیچڑ: گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے راستے میں کئی جگہوں پر پانی کے بہاؤ اور گہرے کیچڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں بائیک کے پھنسنے کا خطرہ رہتا ہے۔
​انجن کی طاقت کا امتحان: مسلسل چڑھائی کی وجہ سے بائیک کے انجن پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جس کے لیے بہترین مکینیکل حالت اور مہارت لازمی ہے۔
​3. مہم جویانہ پہلو
​سہیل نیاز جیسے تجربہ کار رائیڈر کے لیے یہ ٹریک محض ایک سفر نہیں بلکہ خود کو آزمانے کا موقع ہے۔
​تکنیکی مہارت: اتنے اونچے اور پتھریلے راستے پر بائیک کو متوازن رکھنا اور صحیح گیئر کا انتخاب کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
​جسمانی و ذہنی ہمت: بلندی پر آکسیجن کی کمی اور تھکاوٹ کے باوجود اعصاب پر قابو رکھنا ایک پیشہ ور رائیڈر کی پہچان ہے۔
​خلاصہ:
رتی گلی کا بائیک ٹریک صرف وہی لوگ مکمل کر پاتے ہیں جن کے پاس پہاڑوں کا وسیع تجربہ اور ہمت ہو۔ سہیل نیاز کا یہ سفر پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے اور نوجوان رائیڈرز کے لیے ایک مثال ہے

3 weeks ago | [YT] | 4

Natural Greenography

گنگا چوٹی کا مختصر حدوداربعہ

ضلع باغ سے سدھن گلی، یا مظفرآباد سے براستہ گڑھی دوپٹہ، چکار، سدھن گلی پہنچا جاتا ہے۔ وہاں سے گنگا چوٹی کی چڑھائیاں شروع ہوتی ہیں۔ موٹر سائیکل پر سنگل سواری ہوتو 125 سی سی بھی سکون سے چلاجاتا ہے۔ ورنہ دو تین سیکشنز پر ایک سواری کو اترنا پڑتا ہے، اور دھکا بھی لگانا پڑ سکتا ہے اگر کوئی میرے جیسا اناڑی رائیڈر ہوتو۔
اوپر پہنچنے کے بعد ایک شاندار منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے سرسبز میدان نما علاقہ اور کیمپنگ کے لیے بہترین لوکیشن۔ اس سے کچھ آگے جائیں تو وہ میدان آتا ہے جسے تمام موٹر گاڑیوں کی منزل یعنی پارکنگ ایریا کہتے ہیں۔ یہاں پر کچھ کھوکے کھانے پینے کا سامان یعنی ڈھابہ ٹائپ موجود ہیں۔ اپنی کوکنگ کرنے والے لوگ بھی یہیں پر پکائی کرتے ہیں۔ یہاں اکثر لوگ کرکٹ کے ساتھ دو دو ہاتھ کر رہے ہوتے ہیں۔
کیا ہم گنگا چوٹی پہنچ گئے؟ ناں جی ناں۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ اگر کوئی میرے جیسا ہائیکنگ کو ذاتی دشمن سمجھنے والا ہے تو وہ یہاں سے آگے جائے گا ہی نہیں۔ دفع مارو جی، کی کرنا جا کے، اینی دور ایہہ ویکھن آئے سی۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ بیس کیمپ ہے اور گنگا چوٹی ابھی آگے ہے۔ جس کے لیے ایک گھنٹہ یا آرام سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں ویسے ویسے منظر کمال سے کمال تر ہوتا جاتا ہے۔ یوں آپ گنگا چوٹی کا تین فیصد حصہ عبور کرتے ہیں۔ وہاں آپ جیسے دنیا کی چھت پر ہوں۔ دونوں طرف سرسبز میدان، ڈھلوان اور اکا دکا کیمپنگ سائٹ، عارضی ہوٹل چائے بوتل وغیرہ کے بھی مل جائیں گے، چونکہ یہاں اکثر بارش ہوتی رہتی ہے اس لیے اس حساب سے اوپر سفر کریں لیکن بارش چند منٹ رہتی ہے، پھر موسم صاف، کبھی بادل تو کبھی دھوپ۔ اگر طبیعت ہڈ حرامی مائل ہے یا واقعی چلنے پھرنے سے عاری ہیں تو آپ پارکنگ ایریا سے گھوڑا رینٹ پر لیکر اس سیکشن تک بآسانی آ سکتے ہیں۔ شروع میں محسوس ہوتا ہے کہ میں گر جاؤں گا حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ گھوڑے تربیت یافتہ اور مضبوط ہوتے ہیں بس نیچے نہیں دیکھنا دور اوپر نظاروں کو دیکھتے رہنا ہے۔ گھوڑا بان خود اس کو مناسب راستوں سے لیکر گزرتا چلا جاتا ہے۔
اب آخری سیشن باقی ہوتا ہے جس میں خشک اور دیکھنے میں نوکیلی سی چٹانیں محسوس ہوتی ہیں ان سے گزرنا مشکل بالکل نہیں لیکن ایڈونچر سے بھرپور ہے، مزہ آجاتا ہے۔ ان کو عبور کرکے آخری مقام یعنی گنگا چوٹی ٹاور تک بندہ پہنچتا ہے۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گنگا چوٹی کو ہاتھ لگا کر واپس آنا ہے تو پارکنگ ایریا سے واپس کلٹی مارلیں۔ اگر واقعی اس کی خوبصورتی سے لطف اٹھانا ہے تو پھر وقت نکال کر اوپر ٹاور تک ہائیکنگ کریں۔ ہر منطر پر دل دے سبحان الله نکلے گا

نیچرل گرینوگرافی
#Natural #Greenography

3 weeks ago | [YT] | 0

Natural Greenography

*Batkor valley Jalalabad Road Gilgit*

*وادی بٹکور – گلگت کی چھپی ہوئی جنت*

وادی بٹکور گلگت کے جلال آباد روڈ کے دامن میں واقع ایک دلنواز، قدرتی حسن سے مالا مال اور نسبتاً کم معروف وادی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں فطرت خاموشی سے اپنے رنگ بکھیرتی ہے اور ہر منظر ایک نیا خواب دکھاتا ہے۔

🌿 قدرتی خوبصورتی:

وادی بٹکور سرسبز پہاڑوں، قدرتی چشموں، اور پھولوں سے بھری چراگاہوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کی ہوائیں خنک اور خوشبودار ہیں، جو دل کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتی ہیں۔ بلند و بالا چٹانیں، نیلگوں آسمان اور دور دور تک پھیلے درخت اس وادی کو خوابوں جیسا منظر بناتے ہیں۔

🐐 مقامی زندگی اور ثقافت:

یہاں کے مکین سادہ، مہمان نواز اور محنتی ہیں۔ بٹکور ویلی کی ثقافت گلگت بلتستان کے روایتی انداز کی عکاس ہے۔ مقامی زبان، ملبوسات، خوراک اور تہوار سب کچھ اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔

🏕️ سیاحت کا پوشیدہ خزانہ:

اگرچہ بٹکور ویلی بڑی سطح پر مشہور نہیں، لیکن یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ یہاں رش کم، سکون زیادہ اور قدرتی مناظر اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ یہ جگہ ان لوگوں کے لیے جنت ہے جو ہجوم سے دور، قدرت کے قریب وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کیمپنگ، ہائیکنگ اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ وادی کسی نعمت سے کم نہیں۔

🛣️ رسائی کا ذریعہ:

وادی بٹکور تک رسائی جلال آباد روڈ، گلگت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ راستہ نسبتاً پرامن اور ہموار ہے، تاہم کچھ مقامات پر جیپ یا موٹربائیک زیادہ موزوں رہتے ہیں۔

🌌 رات کا منظر:

رات کے وقت بٹکور ویلی ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ آسمان پر جھلملاتے ستارے، خاموش فضا، اور دور پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوائیں ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہیں۔

🌺 مختصر میں:

بٹکور ویلی قدرت کا ایک چھپا ہوا خزانہ ہے – وہ وادی جو اپنے سحر میں ہر آنے والے کو جکڑ لیتی ہے۔ اگر آپ گلگت جاتے ہیں اور سچ میں کچھ خاص دیکھنا چاہتے ہیں، تو بٹکور ویلی کو اپنی فہرست میں ضرور شامل کریں۔

#Natural Greenography

3 weeks ago | [YT] | 1

Natural Greenography

*سفر میں توازن… زندگی میں سکون*

*جب ہم نے کلب شروع کیا* تو ایک ہی چیز تھی… جذبہ۔
ہر کال پر حاضر، ہر پلان پر تیار۔
کبھی اچانک پارٹیاں، اور کبھی بس “بھاگو بھاگ” — بائیک اٹھائی اور نکل پڑے۔
ناشتہ کہیں، چائے کہیں، اور رات کسی اور جگہ… زندگی واقعی چل رہی تھی۔

وقت کے ساتھ ہم نے کچھ باتیں سیکھیں… جو شاید شروع میں سمجھ نہیں آتی تھیں:

*پہلا تجربہ*
یہ کہ زیادہ دوڑ انسان کو تھکا دیتی ہے۔
شروع میں لگتا ہے جتنا زیادہ گھومیں گے، اتنا زیادہ مزہ آئے گا…
لیکن حقیقت یہ ہے کہ حد سے زیادہ بھاگنے کے بعد انسان خود ہی رکنا چاہتا ہے۔

*دوسرا تجربہ*
یہ کہ ہر پروگرام ضروری نہیں ہوتا۔
ہر دعوت، ہر پارٹی، ہر ٹور میں جانا لازمی نہیں…
کبھی کبھی “نہ” کہنا بھی اپنے آپ کو بچانا ہوتا ہے۔

*تیسرا تجربہ*
یہ کہ دوستی کا مطلب صرف ساتھ گھومنا نہیں، ساتھ نبھانا ہے۔
وہ دوست زیادہ قیمتی ہے جو مشکل میں ساتھ کھڑا ہو، نہ کہ صرف پارٹی میں نظر آئے۔

*چوتھا تجربہ*
یہ کہ توازن ہی اصل چیز ہے۔
پارٹیاں بھی ہوں، ٹور بھی ہوں،
مگر اتنے کہ دل خوش رہے، جسم نہ تھکے، اور زندگی بوجھ نہ بنے۔

*اور سب سے بڑا تجربہ…*
سکون رفتار میں نہیں، انداز میں ہوتا ہے۔
اگر آپ صحیح طریقے سے چل رہے ہیں تو کم سفر بھی خوشی دیتا ہے،
اور اگر بے ترتیبی ہو تو زیادہ سفر بھی تھکا دیتا ہے۔

آج بھی ہم گھومتے ہیں، ملتے ہیں، پلان بنتے ہیں…
لیکن اب ایک سمجھ کے ساتھ۔

*کیونکہ ہم نے سیکھ لیا ہے:*
*زندگی کو انجوائے کرنا ہے… ختم نہیں کرنا۔

نیچرل گرینوگرافی پاکستان
پاکستان ایڈوینچر رائیڈرز کلب

3 weeks ago | [YT] | 1

Natural Greenography

زمین کا عالمی دن جو ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زمین صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ہماری زندگی کا واحد سہارا ہے، مگر افسوس کہ آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور بے احتیاطی نے اسے خطرے میں ڈال دیا ہے اور Climate Change جیسے مسائل دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں، ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پانی اور بجلی کی بچت کریں، درخت لگائیں اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کریں کیونکہ اگر ہم آج اپنی زمین کا خیال نہیں رکھیں گے تو آنے والی نسلیں ایک غیر محفوظ اور آلودہ دنیا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی، اس لیے آئیں مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو محفوظ، صاف اور سرسبز بنانے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔

یہ پیغام پاکستان ایڈوینچر رائیڈرز کلب کے تعاون سے نیچرل گرینوگرافی یوٹیوب چینل پر جاری کیا گیا ہے۔

1 month ago | [YT] | 4

Natural Greenography

🏍️ Karomber Lake Mega Adventure — Coming Soon

1️⃣ ایڈونچر کا آغاز
کچھ سفر صرف فاصلے طے کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کو فطرت کی خوبصورتی، تاریخ کی گہرائی اور اپنے اندر چھپے حوصلے سے آشنا کر دیتے ہیں۔ اسی جذبے کے ساتھ ایک یادگار اور حقیقی ایڈونچر جلد شروع ہونے والا ہے جہاں ہر دن ایک نئی منزل، ہر موڑ پر ایک نیا منظر اور ہر مقام پر قدرت کی ایک نئی کہانی ہمارا انتظار کرے گی۔

2️⃣ *دس روزہ میگا ٹور*
یہ ایک شاندار دس روزہ میگا ایڈونچر ٹور ہوگا جس میں تقریباً 50 سے زائد خوبصورت، تاریخی اور قدرتی مقامات کا وزٹ کیا جائے گا۔ اس سفر کے دوران ہمیں سرسبز و شاداب وادیاں، نیلگوں دریا، فلک بوس پہاڑ، قدیم قلعے، تاریخی مساجد اور ان علاقوں کے مخلص اور مہمان نواز لوگوں کی دلکش ثقافت دیکھنے کو ملے گی۔

3️⃣ *کیلاش ویلی اور تاریخی قلعے*
اس ایڈونچر کا ایک خاص اور دلکش حصہ کیلاش ویلی کا وزٹ بھی ہوگا جو اپنی منفرد تہذیب، قدیم روایات اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہماری روایت رہی ہے کہ کوئی بھی ٹور تاریخی قلعوں کے وزٹ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی لیے اس میگا ایڈونچر ٹور میں چار تاریخی اور شاندار قلعوں کا وزٹ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ان علاقوں کی صدیوں پرانی تاریخ کو قریب سے دیکھا جا سکے۔

4️⃣ *مشکل مگر دلکش راستے*
اس سفر کے راستے ہمیشہ آسان نہیں ہوں گے۔ کہیں تیز دھوپ ہمارا امتحان لے گی، کہیں بارش راستوں کو مزید مشکل بنا دے گی اور کہیں ٹھنڈی پہاڑی ہوائیں فطرت کی اصل طاقت کا احساس دلائیں گی۔ ان دشوار مگر دلکش راستوں سے گزرتے ہوئے ہم Shandur Top (12,200 ft) کی بلندی کو عبور کریں گے۔

5️⃣ *سفر کی آخری منزل*
آخرکار یہ سفر ہمیں فطرت کے ایک نایاب شاہکار Karomber Lake تک لے جائے گا۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کے درمیان چھپی یہ جھیل اپنے شفاف نیلگوں پانی، خاموش پہاڑوں اور دلکش مناظر کے ساتھ انسان کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔ مگر یاد رکھیں، یہ ٹور ہر کسی کے لیے نہیں بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو مشکل راستوں سے گھبراتے نہیں اور حقیقی ایڈونچر کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

🏍️ مضبوط لوگ تیار رہیں… ایک حقیقی ایڈونچر آپ کا انتظار کر رہا ہے۔
PARC — Pak Adventure Riders Club

1 month ago | [YT] | 3

Natural Greenography

آخری ہچکیاں لیتی عطاء آباد جھیل ۔۔۔
4 جنوری 2010 کو ہنزہ کے معروف گاؤں کریم آباد سے قریباً بیس کلو میٹر دور عطاء آباد گاؤں کے قریب زمین سرکنے سے شدید ترین لینڈ سلائیڈنگ ہوئ ۔۔شاہراہ قراقرم کا ایک بڑا حصہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر مکمل غائب ہوگیا ۔۔قریبا بیس کلومیٹر تک شاہراہ قراقرم مکمل غائب ہوچکی تھی ۔۔۔۔بیس افراد ہلاک ، ہزاروں افراد بے گھر اور متاثر ہوئے ۔۔۔
دریاء ہنزہ میں پورا پہاڑ سرک کر گر چکا تھا ۔۔مجھے کل کی طرح یاد ہے ۔۔۔حکومت وقت کی کوشش تھی کہ بلاسٹنگ کرکے دریاء کا راستہ صاف کیا جائے ۔۔کیونکہ دریاء کا پانی رکنے سے ایک جھیل کی صورت پھیلتا جارہا تھا ۔۔اور پانی کا ذخیرہ بڑھنے کے بعد اگر بند ٹوٹتا تو بہت زیادہ نقصان متوقع تھا ۔۔
جنوری 2010 سے لیکر جون تک چھ مہینوں میں پانی رکنے کے سبب ایک بیس کلومیٹر طویل اور سو میٹر گہری جھیل وجود میں آ چکی تھی ۔۔اور چھ ماہ بعد جھیل کا پانی قدرتی طور پر بننے والے بند سے تجاوز کرکے دریاء میں گرنے لگا ۔۔
تب کاغذی ماہرین نے سر جوڑے اور فیصلہ کیا گیا کہ اس بند کو قائم رکھا جائے اور تب ایک نیا تفریحی مقام وجود میں آگیا ۔۔
بیس کلو میٹر طویل نیلگوں پانی والی خوبصورت جھیل ۔۔۔ششکٹ اور گلمٹ کے دیہات کا بڑا حصہ ہضم کرنے اور دوسو مکانات اور ڈیڑھ سو دوکانیں کھانے کے بعد شاہراہ قراقرم کے کنارے ایک نیا سیاحتی مقام وجود میں آچکا تھا ۔۔خوبصورت عطاء آباد جھیل ۔۔۔۔۔
جس کی گہرائیوں میں آج بھی درجنوں مکانات موجود ہیں ۔۔جہاں کبھی قہقہے اور کلکاریاں بلند ہوتی تھیں ۔۔۔اب وہاں سطح آب پر شاہراہ سے گزرنے والی ہر سواری کا رکنا لازم تھا ۔۔۔ابتداء میں شاہراہ قراقرم کے دوسرے حصے تک رسائ کشتیوں کے ذریعے کی جاتی ۔۔۔گاڑیاں بھی لکڑی کے تختوں پر لاد کر دوسرے کنارے پر بیس کلو میٹر دور پہنچائ جاتیں ۔۔۔پھر معروف عطاء آباد ٹنل بن گئ ۔۔جھیل کے پانیوں میں ہر قسم کے کھیل ہونے لگے ۔۔رنگ برنگی کشتیاں ، موٹر سائیکل ،زپ لائن ، ہوا میں اڑتے غبارے ، اور نہ جانے کیا کچھ ۔۔۔جبکہ کنارے پر کھوکھوں سے لیکر عالیشان ہوٹلوں تک تعمیرات ہوگئیں ۔۔۔
کوئ مرتا ہے تو کوئ جیتا ہے ۔۔۔
جھیل نے جہاں سیکنڑوں گھروں اور درجنوں افراد کو ذندگی کی رنگینی سے دور کیا تھا ۔۔وہاں سال بعد ذندگی اس آب وتاب سے دمکنے لگی کہ سب سانحہ عطا ء آباد کو بھول کر اسے اللہ کا ایک انعام سمجھنے لگے ۔۔۔
ہر مشکل میں سے آسانی نکلتی ہے ۔۔۔یہاں بھی یہی ہوا تھا ۔۔۔جن لوگوں نے 2010 سے پہلے یہ جگہ دیکھی تھی وہ اس صورتحال کو بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔
آج 2026 عطا ء آباد جھیل کو وجود میں آنے کے سولہ سال بعد صورتحال یہ ہے کہ بیس کلو میٹر طویل اس جھیل کا دس کلو میٹر کا حصہ خشک ہوکر ریت کے صحرا میں تبدیل ہوچکا ہے ۔۔
موسمیاتی تبدیلی ۔۔۔؟
جیسے ہی میں نے دیکھا کہ جھیل کے سوکھنے کو موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے تو ضروری سمجھا کہ اس پر کچھ تاریخی اور موجودہ حقائق تحریر کردیے جائیں ۔۔جسطرح حزب اختلاف ہر برائ کو اقتدار میں موجود حکومت کی جانب منسوب کر دیتی ہے ۔۔بعینہ ہمارے ہاں بھی ایک تاثر اور رویہ یہ بن چکا ہے کہ ہر ہیت بدلتی جگہ کو بھی موسمیاتی تبدیلی کہہ کر جان چھڑوا لی جاتی ہے ۔۔۔
یہاں موسمیاتی تبدیلی کا ذرا بھی عمل دخل نہیں ۔۔۔یہاں جھیل خشک بھی نہیں ہوئ ۔۔بلکہ دریاء کے پانی کے ساتھ آنیوالی ریت سے بھر چکی ہے ۔۔انیوالے دوچار سال میں شاید مکمل طور پر ختم ہو جائے ۔۔۔دریا ایک طرف بہہ رہا ہوگا ۔۔اور جھیل کی طویل سطح پر پانی کی جگہ ریت کا قبضہ ہوگا ۔۔۔جہاں کشتیاں چلتی تھیں وہاں ریت پر سکوٹر چل رہے ہیں ۔۔زپ لائن ریت کے اوپر چل رہی ہے ۔۔۔اب زپ لائن کی سیلفی میں پانی نہیں ریت دکھتی ہے ۔۔۔
کچھ عرصہ قبل تک ہم جھیل کنارے بنے ہوٹلوں اور ان سے نکلنے والی سیوریج کا جھیل کے پانی میں ملنے کا رونا رو رہے ہوتے تھے ۔۔۔لیکن اب یہاں کسی کا گھنٹہ دو گھنٹہ رکنا بھی شاید ممکن نہ ہو ۔۔
یہی قدرت کا انتقام ہوسکتا ہے ۔۔جب ہم قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر نہیں کرتے ۔۔ان سے مالی فوائد تو اٹھاتے ہیں لیکن ان کی حفاظت نہیں کرتے تو پھر نعمت واپس لے لی جاتی ہے ۔۔۔
آخری سسکیاں بھرتی عطا ء آباد جھیل اس کی ذندہ مثال ہے ۔۔۔
جھیل کا بننا اور پھر اس کا خاتمہ دونوں کی وجوہات قدرتی تغیرات کا وقوع پذیر ہونا ہے ۔۔
آج بھی اگر ہم اپنے رویے پر نظر ثانی کریں تو اس جھیل کی باقیات یا بچے کھچے حصہ کو محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔۔
کیوں اور کیسے ۔۔؟
اس کے لیے دانشوروں ، اور ماہرین کو نقشوں سے نکل کر جھیل کے ریتلے میدان پر خیمے لگانا ہونگے ۔۔۔وہاں بیٹھ کر سوچ و بچار کرنا ہوگی ۔۔
جھیل کنارے تعمیرات کو ختم کرنا ہوگا ۔
جس جھیل نے اپنے وجود کے لیے سینکڑوں گھروں کی قربانی لی ۔۔۔وہ بھلا اپنے اطراف ان بے ہنگم تعمیرات کا وجود کب تک برداشت کرتی ۔۔۔
سب ختم ہونے سے پہلے سوچنا ہوگا ۔۔۔شاید یہ سال سوچنے کا آخری سال ہوگا ۔۔۔
اس کے بعد یہ صرف تاریخ کی کتابوں میں ملے گی ۔۔
بیس کلو میٹر طویل اور سو میٹر گہری جھیل ۔۔۔۔
صرف سولہ سال جی سکی ۔۔۔
صرف سولہ سال ۔۔۔

نیچرل گرینوگرافی
Natural Greenography

1 month ago | [YT] | 4