Natural Greenography

Natural Greenography Travel, Tours & Gardening aimed at

The most popular Hadith on environment states “The earth is green and beautiful and Allah has appointed you his stewards over it” which reiterates Quran teaching that human beings have been given the responsibility of guardianship over the natural environment.

Natural Greenography is a YouTube channel focused on Tour, Trips, Traveling, Exploring, gardening, botany, and horticulture. The term "Greenography" is a play on the words "green" and "geography," suggesting a journey or exploration of the green world of plants.

If you're interested in gardening, plants, Tour of Beautiful Places, Mountains, Lakes, Parks and the natural world, Natural Greenography might be a great channel to explore and learn from!

#Tour Videos #Travel Videos #Trip of Beautiful Places #Mountains #Lakes #Waterfall #Snowfall #Travel Vlogs #Adventure Rider #Grip on Trips #Hiking #National Parks #Village Vlogs #plants

Contact: 00923004617853


Natural Greenography

Every subscription helps us plant more trees 🌱
All our YouTube income goes to planting trees 🌱

3 months ago | [YT] | 5

Natural Greenography

Every subscription helps us plant more trees 🌱
All our YouTube income goes to planting trees 🌱

3 months ago | [YT] | 6

Natural Greenography

I Love Muhammad ﷺ

4 months ago | [YT] | 14

Natural Greenography

🌱 کینا پودا کیا ہے؟
کینا ایک خوبصورت پھول دار پودا ہے جو زیادہ تر سجاوٹی مقاصد کے لیے لگایا جاتا ہے۔ یہ لمبے قد والا پودا ہوتا ہے اور اس کے پتے بڑے اور کیلے کے پتوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ کینا کے پھول بہت رنگ برنگے ہوتے ہیں، جیسے لال، پیلا، گلابی، نارنجی اور سفید۔


---

🌿 خاندانی تعلق
یہ پودا Cannaceae خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔


---

🌸 کینا کے فوائد

1. زیادہ تر گھروں اور باغوں میں سجاوٹ کے لیے لگایا جاتا ہے۔


2. اس کے پھول تتلیوں اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔


3. اس کی جڑ (Rhizome) کچھ جگہوں پر کھانے اور ادویات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔


4. پانی کے قریب یا گیلے علاقوں میں لگانے سے یہ ماحول کو بھی خوبصورت بناتا ہے۔

4 months ago (edited) | [YT] | 3

Natural Greenography

*❄️ چلاس — خاموشی میں چھپی چیخیں، تاریخ کے ماتھے کا زخم*

شمالی پاکستان میں واقع ایک ایسی سرزمین جسے دیکھ کر دل سہم سا جاتا ہے، جہاں وقت تھم سا گیا ہے، اور جہاں کی خاموشی میں صدیاں دفن ہیں — یہ ہے چلاس۔

چلاس نہ صرف اپنے جغرافیائی حسن و خوفناکی کے باعث مشہور ہے، بلکہ اس کی گہرائیوں میں چھپی تاریخ، جنگیں، مظلومیت اور تہذیبی ورثہ بھی اس سرزمین کو منفرد بناتا ہے۔

🛡️ تاریخی پس منظر

1893 میں انگریزوں نے چلاس پر قبضہ کیا، لیکن اس سے پہلے سکھوں نے یہاں کے لوگوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔
1851 میں سکھ حملے نے چلاس کو لہو میں ڈبو دیا۔ مقامی لوگوں نے آزادی کی کئی کوششیں کیں، لیکن سکھوں اور انگریزوں دونوں کے سامنے شکست کھاتے رہے۔

1852 میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے کرنل لوچن سنگھ کو چلاس میں تعینات کیا۔ مقامی لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کی، لیکن برطانوی دور میں اس قلعے کو دوبارہ مضبوط بنا دیا گیا تاکہ قدیم شاہراہ قراقرم کی حفاظت کی جا سکے۔

🏰 قلعہ چلاس اور بدھ مت کے آثار

چلاس میں ایک قدیم قلعہ موجود ہے، جو کبھی شاہراہ قراقرم کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اب یہ قلعہ ایک پولیس اسٹیشن کے طور پر کام کر رہا ہے، مگر اس کی دیواریں آج بھی وقت کی گواہ ہیں۔

چلاس میں بدھ مت تہذیب کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں —

مہاتما بدھ کے مجسمے

پتھروں پر کندہ تحریریں

خانقاہوں اور سٹوپوں کے آثار


یہ نشانیاں 5000 سے 1000 قبل مسیح تک کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔
افسوس کہ سکھوں اور ہندو شاہی دور میں ان آثار کو جان بوجھ کر مٹانے کی کوشش کی گئی، مگر کچھ نشانیاں آج بھی زندہ ہیں۔

🪨 کندہ نقوش اور مذہبی تہذیبیں

چلاس میں ایک بڑے پتھر پر وشنو دیوتا اور ہاتھی کی شبیہ کندہ ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ہندو تہذیب کا اثر بھی موجود رہا۔
پتھروں پر مینڈھوں، مارخوروں اور دیگر جنگلی حیات کی تصویریں کندہ ہیں جو اس علاقے کی قدیم شکار پر مبنی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں

📚 تہذیبی و تمدنی نشانیاں

چلاس کا پرانا نام "سیوات" بتایا جاتا ہے۔

روایات کے مطابق بادشاہ اشوک نے بھی یہاں بطور نائب السلطنت قیام کیا تھا۔

بودھ مت کے دور میں چلاس ایک اہم مذہبی اور ثقافتی مرکز تھا۔

پولو جیسے کھیل کی بنیاد بھی چلاس جیسے علاقوں میں پڑی، جہاں ماہر گھڑسوار موجود تھے۔

کتب میں لکھا ہے کہ چلاس کبھی سرسبز و شاداب علاقہ تھا، لیکن سکھوں کے حملے نے اس کی زرخیزی کو جلا کر خاک کر دیا۔
آج یہاں درخت، سبزہ اور زندگی کی جگہ پتھر، خاموشی اور خوف نے لے لی ہے۔
یہاں کے صدی پرانے گھر اور دکانیں آج بھی پرانے وقتوں کی کھنک سناتی ہیں۔

🌄 وادی داریل — ایک اور تہذیبی خزانہ

چلاس کے قریب واقع وادی داریل بھی آثار قدیمہ سے بھرپور ہے۔
یہاں ایک بڑے پتھر پر بھی وشنو دیوتا اور ہاتھی کی تصویر نقش ہے۔
یہ اس بات کا مظہر ہے کہ چلاس اور اس کے گردونواح میں مختلف تہذیبیں وقتاً فوقتاً آباد رہی ہیں۔

چلاس، ایک ایسا مقام ہے جو نہ صرف تاریخ کے زخموں کو سینے میں چھپائے ہوئے ہے بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ کس طرح تہذیبیں، جنگیں، مذاہب اور انسانیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

اگرچہ آج چلاس خوفناک، خاموش اور بنجر ہے،
مگر اس کی چٹانوں پر لکھی ہوئی کہانیاں آج بھی چیخ چیخ کر ماضی کو دہرا رہی ہیں۔

#NaturalGreenography

5 months ago | [YT] | 1

Natural Greenography

موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار کون؟

یہ درست ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے بنیادی ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں، جبکہ پاکستان کا ان عوامل میں کردار نہایت معمولی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان تباہ کن اثرات کا سب سے زیادہ شکار پاکستان کیوں ہو رہا ہے؟
اس کا جواب سادہ ہے: ہم نے اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کی۔
ہم نے:
1. جنگلات کی حفاظت اور افزائش کے بجائے ان کی بے دریغ کٹائی کی۔
2. قدرتی وسائل کو محفوظ کرنے کے بجائے ان کا استحصال حد سے زیادہ کیا۔
3. آبادی اور غربت میں اضافہ کیا جس نے وسائل پر مزید دباؤ ڈالا۔
4. گرین انرجی کو ترجیح دینے کے بجائے زیادہ تر فوسل فیول پر انحصار کیا۔
5. پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو منظم کرنے کی بجائے گھروں میں متعدد گاڑیاں رکھیں، اور آلودگی پر قابو پانے کا کوئی مؤثر نظام نہیں اپنایا۔
6. صنعتوں اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھویں کو کم کرنے یا ری سائیکل (Recycle) کرنے کے اقدامات نہیں کیے۔
7. فضائی، زمینی اور آبی آلودگی پر نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس قائم کیا، نہ ہی کاربن ٹیکس نافذ کیا۔
8. کچرے اور آلودہ پانی کے مؤثر نظم و نسق یا ری سائیکلنگ (Recycling)کا کوئی نظام وضع نہیں کیا۔
9. پلاسٹک/مائیکروپلاسٹک اور بلیک کاربن کے اخراج میں خطرناک حد تک اضافہ کیا، جو نہ صرف گلیشیئرز کے پگھلنے کا باعث بن رہے ہیں بلکہ مقامی و عالمی موسمی نظام کو بھی بگاڑ رہے ہیں۔
10. وقتی ضروریات کے لیے جنگلات، چراگاہوں اور آبی ذخائر کو زرعی زمین یا تعمیراتی مقاصد کے لیے قربان کر دیا۔
11. پہاڑوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں، جو قدرتی حسن، ماحول اور مقامی وسائل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
12. منصوبہ بند تعمیراتی نظام کی بجائے دریا کے کناروں اور سیلابی ریلوں کے راستوں میں غیر منظم تعمیرات کی.
13. منظم سیاحت کی بجائے بے ہنگم سیاحت کو جاری رکھا-
14. تحقیق اور سائنسی منصوبہ بندی پر مبنی کوئی جامع پالیسی نہیں اپنائی۔
15. تعلیمی و تحقیقی اداروں کو ترجیح دینے کے بجائے بجٹ کا زیادہ تر حصہ صرف انتظامی اور غیر ضروری امور پر خرچ کر دیا۔

جب تک ہم اپنی ترجیحات کو نہیں بدلیں گے، خود احتسابی اور مؤثر پالیسی سازی نہیں کریں گے، تب تک موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کا شکار ہوتے رہیں گے۔ صرف ترقی یافتہ ممالک کو الزام دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا, ہمیں اپنے حالات خود درست کرنے ہوں گے، ورنہ نقصانات بھی ہمارے ہی ہوں گے۔
بقول شاعر ، ظفر علی خاں
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یاد رکھیں: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کسی عالمی جنگ یا وبا (جیسے کووڈ-19 یا سارس) سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انفرادی، اجتماعی، ادارہ جاتی اور حکومتی سطح پر سنجیدہ اور فوری اقدامات درکار ہیں۔

ابھی وقت ہے، ہمیں عملی کام کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر صرف افسوس اور نقصان ہمارا مقدر ہوگا۔ اور
اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
کے مصداق، بعد میں پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

#NaturalGreenography

5 months ago | [YT] | 1

Natural Greenography

*فرانو، گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ایک سرحدی گاؤں ہے جو سکردو سے تقریباً 168 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب واقع ہے۔ یہ گاؤں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول (LoC) کے قریب واقع ہے اور تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔*

جغرافیائی محل وقوع اور راستہ

فرانو ضلع گانچھے کے مشرقی سرے پر واقع ہے اور سکردو سے اس کا فاصلہ تقریباً 168 کلومیٹر ہے۔ سکردو سے فرانو تک کا سفر قدرتی مناظر سے بھرپور ہے، جس میں چھومدو جیسے خوبصورت مقامات شامل ہیں۔ یہ راستہ پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہے اور بعض اوقات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند بھی ہو جاتا ہے۔

سرحدی اہمیت

فرانو کا سب سے نمایاں پہلو اس کا سرحدی محل وقوع ہے۔ یہ گاؤں بھارت کے زیر انتظام لداخ کے قریب واقع ہے، اور صرف 10 کلومیٹر کے فاصلے پر تھانگ نامی گاؤں ہے جو بھارت کی جانب ہے۔ تاہم، سرحدی بندشوں کی وجہ سے دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے طویل اور پیچیدہ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ مثال کے طور پر، سکردو سے لاہور، واہگہ بارڈر، امرتسر اور پھر لیہہ کے راستے تھانگ تک کا سفر تقریباً 2,291 کلومیٹر بنتا ہے، جو کہ صرف 10 کلومیٹر کے فاصلے کو عبور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ثقافت اور مقامی زندگی

فرانو اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بلتی ثقافت غالب ہے۔ یہاں کے لوگ بلتی زبان بولتے ہیں اور ان کی زندگی کا انداز تبت کے روایتی طرز سے مشابہت رکھتا ہے۔ مقامی لوگ مہمان نوازی، سادگی اور قدرتی ماحول سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔

سیاحت اور قدرتی مناظر

اگرچہ فرانو ایک سرحدی اور نسبتاً دور افتادہ علاقہ ہے، لیکن اس کے ارد گرد کے قدرتی مناظر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سکردو سے فرانو تک کے راستے میں بلند و بالا پہاڑ، دریا، وادیاں اور دیگر قدرتی خوبصورتی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ علاقہ ان سیاحوں کے لیے خاص دلچسپی رکھتا ہے جو غیر معروف اور قدرتی مقامات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

موجودہ حالات اور ترقیاتی منصوبے

فرانو کی جانب جانے والے راستے کی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے زیر غور ہیں، جن میں سکردو تا خپلو سپر ہائی وے کی فزیبلیٹی شامل ہے۔ اس منصوبے کے لیے 1.5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس کی منظوری کے لیے پی ایس ڈی پی کو بھیجا گیا ہے۔

نتیجہ

فرانو نہ صرف ایک سرحدی گاؤں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل مقام بھی ہے۔ اس کی سرحدی حیثیت، قدرتی مناظر اور مقامی ثقافت اسے ایک منفرد مقام بناتے ہیں۔ اگرچہ یہاں تک پہنچنا آسان نہیں، لیکن جو لوگ قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی تنوع کی تلاش میں ہیں، ان کے لیے فرانو ایک بہترین منزل ہو سکتی ہے۔
#Tour #Mountain #BeautifulplacesofPakistan #Skardu

8 months ago | [YT] | 0

Natural Greenography

منی مرگ (Mini Marg) گلگت بلتستان کے ضلع استور (Astore) میں ایک خوبصورت وادی ہے یہ جگہ اپنے سرسبز میدانوں، جھیلوں، چشموں اور برف پوش پہاڑوں کے لیے مشہور ہے خاص طور پر گرمیوں میں یہ ایک جنت جیسی لگتی ہے

ریمبو لیک (Rainbow Lake) بھی منی مرگ کے پاس ایک نہایت حسین جھیل ہے اس کا پانی نیلا اور صاف ہوتا ہے، اور بعض زاویوں سے روشنی میں قوس قزح کے رنگ (Rainbow Colors) جھلکتے ہیں، اسی وجہ سے اس کا نام "ریمبو لیک" رکھا گیا

سکردو گلگت بلتستان کا ایک بڑا اور مشہور شہر ہے، لیکن منی مرگ اور ریمبو لیک جغرافیائی لحاظ سے سکردو کے بجائے زیادہ تر استور ضلع (Astore District) میں آتے ہیں

یعنی اگر آپ سکردو جا رہے ہیں تو منی مرگ اور ریمبو لیک تک پہنچنے کے لیے آپ کو استور کی طرف جانا ہوگا، پھر وہاں سے مزید سفر کر کے ان مقامات تک پہنچا جا سکتا ہے

مختصر خلاصہ:

منی مرگ = استور کا علاقہ، جنت نظیر وادی

ریمبو لیک = منی مرگ میں واقع دلکش جھیل

سکردو = الگ مشہور علاقہ، لیکن قریب ہے (کافی فاصلہ ہے)
یہ راولپنڈی سے بیس گھنٹے کا سفر ہے.
#naturalgreenography

8 months ago | [YT] | 0

Natural Greenography

پاکستان ٹوررزم کے لئے بہت بڑی اور اہم پیش رفت
مانسہرہ سے چلاس ۲۳۵ کلو میٹرز موٹروے بنائے جانے کے لئے اپروو کر دی گئی
(احمد علی)
پاکستان ٹوورزم میں یہ سڑک اتنی اہم ہو جائے گی کہ آپ لوگ تصوّر بھی نہیں کر سکتے
مانسہرہ سے چلاس موجودہ وقت میں آٹھ سے دس گھنٹے
سفر کرنا پڑتا ہے
اس موٹروے کے بننے کے بعد یہ سفر صرف تین گھنٹے کا رہ جائے گا
جبکہ راولپنڈی سے گلگت یا سکردو کے سفر میں بھی اس سڑک کے بعد ایک واضع فرق پڑے گا
ابھی ہم راولپنڈی سے گلگت تیرہ سے پندرہ گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو اس سڑک کی تعمیر کے بعد ہم صرف آٹھ سے نو گھنٹوں میں گلگت پہنچ جایا کریں گے انشا؀اللہ
اس فرق کی ایک مثال ایسے سمجھ لیں کہ
آپ راولپنڈی سے جلکھڑ یا بیسل جتنی دیر میں پہنچتے ہیں
اس سڑک سے آپ اتنے ہی وقت میں راولپنڈی سے گلگت پہنچ جایا کریں گے-
ہے نا بہت بڑا فرق؟
#Naturalgreenography
#نیچرلگرینوگرافی

8 months ago | [YT] | 2

Natural Greenography

K2 — انتقام لیتا پہاڑ

یقین نہیں آتا؟
دنیا میں ایک ایسا پہاڑ بھی موجود ہے جو صرف اپنی بلندی سے نہیں، اپنی ضد، اپنے غضب، اور اپنی سفاک فطرت سے پہچانا جاتا ہے۔
یہ پہاڑ نہ صرف کوہ پیماؤں کو للکارتا ہے، بلکہ ان سے بدلہ بھی لیتا ہے۔

یہ ہے — K2
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، مگر خطرناک ترین۔
جسے مغرب میں "The Savage Mountain" کہا جاتا ہے — یعنی "سفاک پہاڑ"۔

ایک انتباہ جو سب پر بھاری پڑا

1953 میں جب ایک امریکی کوہ پیما جارج بیل (George Bell) K2 سر کرنے میں ناکام ہوا تو اُس نے کہا:
"یہ پہاڑ ہمیں مار ڈالے گا!"
اور اُس کی یہ پیش گوئی وقت کے ساتھ حقیقت بن گئی۔

بلندی میں دوسرا، خطرے میں پہلا

دنیا میں 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے 5 صرف پاکستان میں ہیں۔ ان میں سب سے بلند، سب سے سرد، سب سے پیچیدہ، اور سب سے خوں خوار — K2 ہے۔
یہ چوٹی گلگت بلتستان کے علاقے کرکرم میں واقع ہے، اور اس کی بلندی 8611 میٹر (28,251 فٹ) ہے۔

جہاں ماؤنٹ ایوریسٹ تک رسائی نسبتاً آسان بن چکی ہے، وہیں K2 آج بھی ایک ایسا امتحان ہے جو صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور روحانی طاقت بھی مانگتا ہے۔

K2 کے چند چونکا دینے والے حقائق:

یہاں موت کی شرح Mount Everest سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک کوہ پیما واپس نہیں آتا۔

پہلی مہم 1902 میں ہوئی، لیکن سخت موسم، تیز ہواؤں اور برفانی تودوں نے انہیں بیس کیمپ (5000–6000m) سے آگے نہ بڑھنے دیا۔

1954 میں بالآخر دو اطالوی کوہ پیما — لینو لاچیدیلی (Lino Lacedelli) اور آکیلے کومپانیونی (Achille Compagnoni) — اس چوٹی کو پہلی بار سر کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان کے ہمراہ پاکستانی گائیڈز کرنل عطا محمد اور عامر مہدی تھے، جنہوں نے بے مثال قربانی دی۔ واپسی پر وہ شدید فراسٹ بائٹ کا شکار ہوئے، اور اپنی ٹانگیں کھو بیٹھے

K2 کا خونخوار چہرہ — چند مہلک سانحات

1986:
اسے "Black Summer" کہا جاتا ہے۔ موسم کی اچانک خرابی اور غلط فیصلوں کے باعث 13 کوہ پیما ایک ہی سیزن میں مارے گئے۔

1995:
سکاٹ فشر کی قیادت میں 6 کوہ پیما چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی پر جان کی بازی ہار گئے۔

2008:
K2 کی تاریخ کا سب سے اندوہناک واقعہ۔ صرف چند گھنٹوں میں 11 کوہ پیماؤں نے اپنی جان گنوا دی۔ برفانی تودہ، رسیوں کا ٹوٹنا، اور غلط کوآرڈینیشن — سب کچھ ایک ساتھ ہوا، اور نتیجہ موت نکلا۔

K2 اور خواتین — ایک پراسرار تعلق؟

کہا جاتا ہے کہ K2 خواتین سے بدلہ ضرور لیتا ہے۔

1986:
پولینڈ کی پہلی خاتون کوہ پیما وانڈا رتویکیویچ (Wanda Rutkiewicz) نے K2 کو سر کیا — لیکن صرف 8 گھنٹے بعد نیچے آتے ہوئے موت کا شکار ہو گئیں۔
یہ واقعہ آج بھی K2 کی پراسراریت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

آخر کیوں K2 اتنا خطرناک ہے؟

شدید سردی: درجہ حرارت -60°C تک گر جاتا ہے

اچانک موسم کی تبدیلی: چند منٹوں میں طوفان

تکنیکی چیلنجز: سیدھی دیواریں، برفانی دراڑیں، اور پتھریلے راستے

امدادی مشن کی پیچیدگی: ریسکیو ممکن نہیں، ہیلی کاپٹرز بھی اکثر ناکام

K2 ایک خواب ہے — مگر ہر خواب کی قیمت ہوتی ہے۔
یہ پہاڑ عزت دیتا ہے، مگر جان لے کر۔
یہ پہاڑ فخر عطا کرتا ہے، مگر خوف کی گہرائی سے۔
یہ پہاڑ سر ہوتا ہے، مگر صرف اُن کے ہاتھوں جو اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔
اور K2 کو سر کرنا، صرف چوٹی کو چھونا نہیں — بلکہ موت کو دھوکہ دینا ہے

8 months ago | [YT] | 2