Natural Greenography Travel, Tours & Gardening aimed at
The most popular Hadith on environment states “The earth is green and beautiful and Allah has appointed you his stewards over it” which reiterates Quran teaching that human beings have been given the responsibility of guardianship over the natural environment.
Natural Greenography is a YouTube channel focused on Tour, Trips, Traveling, Exploring, gardening, botany, and horticulture. The term "Greenography" is a play on the words "green" and "geography," suggesting a journey or exploration of the green world of plants.
If you're interested in gardening, plants, Tour of Beautiful Places, Mountains, Lakes, Parks and the natural world, Natural Greenography might be a great channel to explore and learn from!
#Tour Videos #Travel Videos #Trip of Beautiful Places #Mountains #Lakes #Waterfall #Snowfall #Travel Vlogs #Adventure Rider #Grip on Trips #Hiking #National Parks #Village Vlogs #plants
Contact: 00923004617853
Natural Greenography
🏍️ کیا واقعی بائیک ٹورنگ صرف امیروں کا شوق ہے؟ یا یہ صرف ایک غلط فہمی ہے؟
جب بھی کوئی شخص پہاڑوں، وادیوں یا شمالی علاقوں میں کسی بائیکر کی تصویر دیکھتا ہے تو اکثر یہی کہتا ہے:
"بھائی! یہ تو بہت مہنگا شوق ہوگا..."
لیکن حقیقت جان کر شاید آپ بھی حیران رہ جائیں۔
پاکستان میں ہزاروں ایسے بائیکرز ہیں جو صرف 125cc یا 150cc بائیک پر کم بجٹ میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ لاکھوں کی بائیک ہوتی ہے، نہ لگژری سہولیات...
صرف ایک چیز ہوتی ہے...
سفر کا جنون۔ ❤️
بائیک ٹورنگ مہنگی نہیں ہوتی، اگر آپ سمجھداری سے سفر کریں۔
✔️ روانگی سے پہلے بائیک کی مکمل سروس کروائیں۔
✔️ مہنگے ہوٹل کے بجائے بجٹ ہوٹل یا کیمپنگ کریں۔
✔️ دوستوں کے ساتھ گروپ میں سفر کریں تاکہ خرچے تقسیم ہو جائیں۔
✔️ ضروری ٹولز، پنکچر کٹ اور بنیادی اسپیئر پارٹس ساتھ رکھیں۔
✔️ راستہ، فیول اور رہائش کی پلاننگ پہلے سے کر لیں۔
بس یہی چند باتیں آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتی ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ...
بائیک ٹورنگ جیب سے زیادہ دل مانگتی ہے۔
جس کے پاس شوق، حوصلہ اور اچھی پلاننگ ہو، وہ محدود بجٹ میں بھی ایسے سفر کر سکتا ہے جو پوری زندگی یاد رہیں۔
💬 اب آپ سچ سچ بتائیں...
اگر آپ کو ایک ہفتے کے لیے مفت پٹرول مل جائے، تو آپ اپنی بائیک پر سب سے پہلے پاکستان کی کس جگہ کا سفر کرنا چاہیں گے... اور کیوں؟ 🏍️🏔️👇
#NaturalGreenography
16 hours ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
پنجاب EPA کی جانب سے لاہور کو ماحول دوست بنانے کے لیے ایک زبردست قدم اٹھایا گیا ہے۔ مائیکرو ایلجی (microalgae) ٹیکنالوجی کی مدد سے بنی یہ جدید ایجاد کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO_2) کو جذب کرتی ہے اور ہوا کو صاف کرتی ہے۔
سب سے اچھی بات: یہ کم سے کم جگہ میں 10 بڑے درختوں جتنا کام کرتی ہے! شہروں میں صاف ہوا اور اسموگ سے بچاؤ کے لیے یہ ایک بہترین شروعات ہے۔ پنجاب میں گرین ٹیکنالوجی کا یہ آغاز دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ 🇵🇰💚
2 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
*پنج پیر راکس*
ہم تقریبا" 5 بجے شام پنج پیر راکس کی پارکنگ پر پہنچے یہاں سے پیدل 5 منٹ میں اوپر راکس تک پہنچ جاتے ہیں۔ لوگ بائک اور 4×4 گاڑیاں اوپر تک لے جاتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہ جگہ 72 کلومیٹر ہے اور دو ڈھائی گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔
پنج پیر راکس دراصل ایک وسیع پتھریلا پہاڑی سلسلہ ہے جو ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ، یونین کونسل نڑار کے قریب واقع ہے۔ یہ مقام سطحِ سمندر سے تقریباً 1800 میٹر (تقریباً 5500 تا 5900 فٹ) بلند ہے اور پوٹھوہار اور مری کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان ایک منفرد قدرتی منظر پیش کرتا ہے۔
اس جگہ کی “تاریخ” زیادہ تر تحریری تاریخی ریکارڈ کے بجائے مقامی روایات اور لوک کہانیوں پر مبنی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق صدیوں پہلے پانچ درویش یہاں عبادت اور چلہ کشی کے لیے آئے تھے۔ انہی “پانچ پیروں” کی نسبت سے اس علاقے کو “پنج پیر” کہا جانے لگا۔ بعض روایات میں کہا جاتا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر ان بزرگوں کے قدموں کے نشانات بھی موجود تھے، اسی وجہ سے یہ مقام روحانی اہمیت اختیار کر گیا۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ علاقہ بہت منفرد ہے۔ یہاں کے پہاڑ عام مٹی والے نہیں بلکہ زیادہ تر سخت چٹانی ساخت پر مشتمل ہیں۔ اسی لیے پورا علاقہ ایک بڑی قدرتی “راک پلیٹ فارم” جیسا محسوس ہوتا ہے جہاں درخت، چھوٹے چشمے اور بعض دیہات بھی انہی چٹانوں پر قائم ہیں۔
پہلے یہ مقام صرف مقامی چرواہوں، شکاریوں اور قریبی دیہات کے لوگوں تک محدود تھا، لیکن سوشل میڈیا، بائیکرز اور ہائیکرز کی ویڈیوز کے بعد گزشتہ چند برسوں میں یہ ایک مشہور سیاحتی مقام بن گیا۔ خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی سے آنے والے بائیکرز اسے “hidden gem” کہتے ہیں۔
سردیوں میں یہاں برف باری بھی ہوتی ہے، جبکہ گرمیوں میں موسم نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں:
ہائیکنگ
کیمپنگ
بائیک ٹرپس
سن رائز اور سن سیٹ فوٹوگرافی
بہت مشہور ہیں۔
پنج پیر راکس کے قریب:
نڑھ آبشار (Narh Waterfall)
منجن جھیل
لہترار کا پہاڑی علاقہ
کوٹلی ستیاں کی وادیاں
بھی واقع ہیں، اس لیے لوگ اکثر ایک ہی ٹرپ میں کئی مقامات دیکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام کی اصل ارضیاتی عمر ہزاروں یا لاکھوں سال پرانی ہو سکتی ہے، لیکن اس پر ابھی تک زیادہ سائنسی تحقیق منظرِ عام پر نہیں آئی۔ اسی وجہ سے اس کے بارے میں کئی “پراسرار” کہانیاں بھی مشہور ہیں، خصوصاً ان دیوقامت متوازن چٹانوں کے بارے میں۔
#Naturalgreenography
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Natural Greenography
ناران کے بلند ترین سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ اور مضافات میں گزشتہ روز سے برفباری اور بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
مئی کے مہینے میں جہاں میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، وہیں وادی کاغان کی سیاحتی جھیل اور بابوسر ٹاپ پر وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم ٹھنڈا ہوگیا۔
برفباری کے باعث چاروں اطراف سے برف میں ڈھکی جھیل اور بابوسر ٹاپ دلکش نظارے پیش کر رہے ہیں،
خوبصورت نظارے دیکھنے کیلئے سیاحوں کی بڑی تعداد بھی بابوسر ٹاپ پہنچ رہی ہے۔
#Naturalgreenography
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
میرے خوبصورت دوستو! ناران کاغان کی موجودہ صورتحال میں راستے آہستہ آہستہ بحال ہو رہے ہیں۔
ٹیم اس وقت لولو سر لیک تک پہنچ چکی ہے جبکہ بابو سر ٹاپ کی طرف روڈ کلیئرنس کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ❄️🏔️
ناران سے آگے برفانی گلیشیئر ہٹائے جا رہے ہیں اور سیاحتی مقامات دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
لولو سر لیک اس وقت برف سے ڈھکی خوبصورت وادی کا منظر پیش کر رہی ہے جو سیاحوں کے لیے ایک شاندار نظارہ ہے۔
انشاءاللہ بابو سر ٹاپ 25 مئی تک مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
شمالی علاقہ جات جانے والے تمام دوست موسم اور روڈ اپڈیٹس لازمی چیک کرتے رہیں اور احتیاط کے ساتھ سفر کریں۔ 🚗🌨️
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
رتی گلی جھیل کا ٹریک بلاشبہ آزاد کشمیر کے مشکل ترین اور مہم جویانہ ٹریکس میں سے ایک ہے، خاص طور پر جب اسے بائیک پر سر کرنے کی بات ہو۔ سطح سمندر سے تقریباً 12,130 فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنے کٹھن راستے کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہے۔
سہیل نیاز کی جانب سے اس ٹریک کو بائیک پر مکمل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے، جس کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
1. ٹریک کی بلندی اور جغرافیہ
رتی گلی کا سفر وادی نیلم کے مقام "دوواریاں" سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 18 کلومیٹر ہے، لیکن یہ محض فاصلہ نہیں بلکہ عمودی چڑھائی اور خطرناک موڑ کا مجموعہ ہے۔
اوسط بلندی: ٹریک کے آغاز سے اختتام تک آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، جو بائیکر اور انجن دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
موسم: یہاں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے، جو ٹریک کو اچانک مزید دشوار بنا دیتا ہے۔
2. ٹریک کی اہم مشکلات
بائیک پر یہ ٹریک سر کرنا ان وجوہات کی بنا پر انتہائی مشکل ہے:
کچا اور پتھریلا راستہ: ٹریک کا بیشتر حصہ بڑے پتھروں (Loose Rocks) اور بجری پر مشتمل ہے۔ بائیک کے ٹائروں کی گرفت برقرار رکھنا یہاں سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔
خطرناک ڈھلوانیں: کئی مقامات پر راستہ اتنا تنگ ہے کہ ایک طرف بلند پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائی ہے۔ ذرا سی لغزش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
پانی کے چشمے اور کیچڑ: گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے راستے میں کئی جگہوں پر پانی کے بہاؤ اور گہرے کیچڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں بائیک کے پھنسنے کا خطرہ رہتا ہے۔
انجن کی طاقت کا امتحان: مسلسل چڑھائی کی وجہ سے بائیک کے انجن پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جس کے لیے بہترین مکینیکل حالت اور مہارت لازمی ہے۔
3. مہم جویانہ پہلو
سہیل نیاز جیسے تجربہ کار رائیڈر کے لیے یہ ٹریک محض ایک سفر نہیں بلکہ خود کو آزمانے کا موقع ہے۔
تکنیکی مہارت: اتنے اونچے اور پتھریلے راستے پر بائیک کو متوازن رکھنا اور صحیح گیئر کا انتخاب کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
جسمانی و ذہنی ہمت: بلندی پر آکسیجن کی کمی اور تھکاوٹ کے باوجود اعصاب پر قابو رکھنا ایک پیشہ ور رائیڈر کی پہچان ہے۔
خلاصہ:
رتی گلی کا بائیک ٹریک صرف وہی لوگ مکمل کر پاتے ہیں جن کے پاس پہاڑوں کا وسیع تجربہ اور ہمت ہو۔ سہیل نیاز کا یہ سفر پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے اور نوجوان رائیڈرز کے لیے ایک مثال ہے
1 month ago | [YT] | 3
View 1 reply
Natural Greenography
گنگا چوٹی کا مختصر حدوداربعہ
ضلع باغ سے سدھن گلی، یا مظفرآباد سے براستہ گڑھی دوپٹہ، چکار، سدھن گلی پہنچا جاتا ہے۔ وہاں سے گنگا چوٹی کی چڑھائیاں شروع ہوتی ہیں۔ موٹر سائیکل پر سنگل سواری ہوتو 125 سی سی بھی سکون سے چلاجاتا ہے۔ ورنہ دو تین سیکشنز پر ایک سواری کو اترنا پڑتا ہے، اور دھکا بھی لگانا پڑ سکتا ہے اگر کوئی میرے جیسا اناڑی رائیڈر ہوتو۔
اوپر پہنچنے کے بعد ایک شاندار منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے سرسبز میدان نما علاقہ اور کیمپنگ کے لیے بہترین لوکیشن۔ اس سے کچھ آگے جائیں تو وہ میدان آتا ہے جسے تمام موٹر گاڑیوں کی منزل یعنی پارکنگ ایریا کہتے ہیں۔ یہاں پر کچھ کھوکے کھانے پینے کا سامان یعنی ڈھابہ ٹائپ موجود ہیں۔ اپنی کوکنگ کرنے والے لوگ بھی یہیں پر پکائی کرتے ہیں۔ یہاں اکثر لوگ کرکٹ کے ساتھ دو دو ہاتھ کر رہے ہوتے ہیں۔
کیا ہم گنگا چوٹی پہنچ گئے؟ ناں جی ناں۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ اگر کوئی میرے جیسا ہائیکنگ کو ذاتی دشمن سمجھنے والا ہے تو وہ یہاں سے آگے جائے گا ہی نہیں۔ دفع مارو جی، کی کرنا جا کے، اینی دور ایہہ ویکھن آئے سی۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ بیس کیمپ ہے اور گنگا چوٹی ابھی آگے ہے۔ جس کے لیے ایک گھنٹہ یا آرام سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں ویسے ویسے منظر کمال سے کمال تر ہوتا جاتا ہے۔ یوں آپ گنگا چوٹی کا تین فیصد حصہ عبور کرتے ہیں۔ وہاں آپ جیسے دنیا کی چھت پر ہوں۔ دونوں طرف سرسبز میدان، ڈھلوان اور اکا دکا کیمپنگ سائٹ، عارضی ہوٹل چائے بوتل وغیرہ کے بھی مل جائیں گے، چونکہ یہاں اکثر بارش ہوتی رہتی ہے اس لیے اس حساب سے اوپر سفر کریں لیکن بارش چند منٹ رہتی ہے، پھر موسم صاف، کبھی بادل تو کبھی دھوپ۔ اگر طبیعت ہڈ حرامی مائل ہے یا واقعی چلنے پھرنے سے عاری ہیں تو آپ پارکنگ ایریا سے گھوڑا رینٹ پر لیکر اس سیکشن تک بآسانی آ سکتے ہیں۔ شروع میں محسوس ہوتا ہے کہ میں گر جاؤں گا حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ گھوڑے تربیت یافتہ اور مضبوط ہوتے ہیں بس نیچے نہیں دیکھنا دور اوپر نظاروں کو دیکھتے رہنا ہے۔ گھوڑا بان خود اس کو مناسب راستوں سے لیکر گزرتا چلا جاتا ہے۔
اب آخری سیشن باقی ہوتا ہے جس میں خشک اور دیکھنے میں نوکیلی سی چٹانیں محسوس ہوتی ہیں ان سے گزرنا مشکل بالکل نہیں لیکن ایڈونچر سے بھرپور ہے، مزہ آجاتا ہے۔ ان کو عبور کرکے آخری مقام یعنی گنگا چوٹی ٹاور تک بندہ پہنچتا ہے۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گنگا چوٹی کو ہاتھ لگا کر واپس آنا ہے تو پارکنگ ایریا سے واپس کلٹی مارلیں۔ اگر واقعی اس کی خوبصورتی سے لطف اٹھانا ہے تو پھر وقت نکال کر اوپر ٹاور تک ہائیکنگ کریں۔ ہر منطر پر دل دے سبحان الله نکلے گا
نیچرل گرینوگرافی
#Natural #Greenography
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Natural Greenography
*Batkor valley Jalalabad Road Gilgit*
*وادی بٹکور – گلگت کی چھپی ہوئی جنت*
وادی بٹکور گلگت کے جلال آباد روڈ کے دامن میں واقع ایک دلنواز، قدرتی حسن سے مالا مال اور نسبتاً کم معروف وادی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں فطرت خاموشی سے اپنے رنگ بکھیرتی ہے اور ہر منظر ایک نیا خواب دکھاتا ہے۔
🌿 قدرتی خوبصورتی:
وادی بٹکور سرسبز پہاڑوں، قدرتی چشموں، اور پھولوں سے بھری چراگاہوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کی ہوائیں خنک اور خوشبودار ہیں، جو دل کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتی ہیں۔ بلند و بالا چٹانیں، نیلگوں آسمان اور دور دور تک پھیلے درخت اس وادی کو خوابوں جیسا منظر بناتے ہیں۔
🐐 مقامی زندگی اور ثقافت:
یہاں کے مکین سادہ، مہمان نواز اور محنتی ہیں۔ بٹکور ویلی کی ثقافت گلگت بلتستان کے روایتی انداز کی عکاس ہے۔ مقامی زبان، ملبوسات، خوراک اور تہوار سب کچھ اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔
🏕️ سیاحت کا پوشیدہ خزانہ:
اگرچہ بٹکور ویلی بڑی سطح پر مشہور نہیں، لیکن یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ یہاں رش کم، سکون زیادہ اور قدرتی مناظر اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ یہ جگہ ان لوگوں کے لیے جنت ہے جو ہجوم سے دور، قدرت کے قریب وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کیمپنگ، ہائیکنگ اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ وادی کسی نعمت سے کم نہیں۔
🛣️ رسائی کا ذریعہ:
وادی بٹکور تک رسائی جلال آباد روڈ، گلگت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ راستہ نسبتاً پرامن اور ہموار ہے، تاہم کچھ مقامات پر جیپ یا موٹربائیک زیادہ موزوں رہتے ہیں۔
🌌 رات کا منظر:
رات کے وقت بٹکور ویلی ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ آسمان پر جھلملاتے ستارے، خاموش فضا، اور دور پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوائیں ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہیں۔
🌺 مختصر میں:
بٹکور ویلی قدرت کا ایک چھپا ہوا خزانہ ہے – وہ وادی جو اپنے سحر میں ہر آنے والے کو جکڑ لیتی ہے۔ اگر آپ گلگت جاتے ہیں اور سچ میں کچھ خاص دیکھنا چاہتے ہیں، تو بٹکور ویلی کو اپنی فہرست میں ضرور شامل کریں۔
#Natural Greenography
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
*سفر میں توازن… زندگی میں سکون*
*جب ہم نے کلب شروع کیا* تو ایک ہی چیز تھی… جذبہ۔
ہر کال پر حاضر، ہر پلان پر تیار۔
کبھی اچانک پارٹیاں، اور کبھی بس “بھاگو بھاگ” — بائیک اٹھائی اور نکل پڑے۔
ناشتہ کہیں، چائے کہیں، اور رات کسی اور جگہ… زندگی واقعی چل رہی تھی۔
وقت کے ساتھ ہم نے کچھ باتیں سیکھیں… جو شاید شروع میں سمجھ نہیں آتی تھیں:
*پہلا تجربہ*
یہ کہ زیادہ دوڑ انسان کو تھکا دیتی ہے۔
شروع میں لگتا ہے جتنا زیادہ گھومیں گے، اتنا زیادہ مزہ آئے گا…
لیکن حقیقت یہ ہے کہ حد سے زیادہ بھاگنے کے بعد انسان خود ہی رکنا چاہتا ہے۔
*دوسرا تجربہ*
یہ کہ ہر پروگرام ضروری نہیں ہوتا۔
ہر دعوت، ہر پارٹی، ہر ٹور میں جانا لازمی نہیں…
کبھی کبھی “نہ” کہنا بھی اپنے آپ کو بچانا ہوتا ہے۔
*تیسرا تجربہ*
یہ کہ دوستی کا مطلب صرف ساتھ گھومنا نہیں، ساتھ نبھانا ہے۔
وہ دوست زیادہ قیمتی ہے جو مشکل میں ساتھ کھڑا ہو، نہ کہ صرف پارٹی میں نظر آئے۔
*چوتھا تجربہ*
یہ کہ توازن ہی اصل چیز ہے۔
پارٹیاں بھی ہوں، ٹور بھی ہوں،
مگر اتنے کہ دل خوش رہے، جسم نہ تھکے، اور زندگی بوجھ نہ بنے۔
*اور سب سے بڑا تجربہ…*
سکون رفتار میں نہیں، انداز میں ہوتا ہے۔
اگر آپ صحیح طریقے سے چل رہے ہیں تو کم سفر بھی خوشی دیتا ہے،
اور اگر بے ترتیبی ہو تو زیادہ سفر بھی تھکا دیتا ہے۔
آج بھی ہم گھومتے ہیں، ملتے ہیں، پلان بنتے ہیں…
لیکن اب ایک سمجھ کے ساتھ۔
*کیونکہ ہم نے سیکھ لیا ہے:*
*زندگی کو انجوائے کرنا ہے… ختم نہیں کرنا۔
نیچرل گرینوگرافی پاکستان
پاکستان ایڈوینچر رائیڈرز کلب
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Natural Greenography
زمین کا عالمی دن جو ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زمین صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ہماری زندگی کا واحد سہارا ہے، مگر افسوس کہ آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور بے احتیاطی نے اسے خطرے میں ڈال دیا ہے اور Climate Change جیسے مسائل دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں، ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پانی اور بجلی کی بچت کریں، درخت لگائیں اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کریں کیونکہ اگر ہم آج اپنی زمین کا خیال نہیں رکھیں گے تو آنے والی نسلیں ایک غیر محفوظ اور آلودہ دنیا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی، اس لیے آئیں مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو محفوظ، صاف اور سرسبز بنانے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔
یہ پیغام پاکستان ایڈوینچر رائیڈرز کلب کے تعاون سے نیچرل گرینوگرافی یوٹیوب چینل پر جاری کیا گیا ہے۔
2 months ago | [YT] | 4
View 0 replies
Load more