*علی زادوں نے بتلایا حفاظت کر کے عثمان کی جو رکھے بغض عثمان سے، علی والے نہیں ہوتے*
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، وہ نازک مزاج، نرم گفتار اور سراپا دیانت شخصیت جن کا ظاہر بھی پاکیزہ اور باطن بھی آئینۂ طہارت تھا۔ آپ کی نگاہ میں خشیت، زبان پر تسبیح، اور دل میں محبتِ خدا جاگزیں تھی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو اُسے بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔"
ایسا عظیم الشان کلام کسی انسان کی سیرت کے لیے سب سے بلند سند ہے۔
آپ وہ واحد صحابی تھے جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
> "کیا میں اُس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟" (صحیح مسلم)
یہ وہی عثمانؓ تھے کہ جب حاضر ہوتے تو وحی کے نزول کا انداز بدل جاتا۔ یہ باطنی صفا، یہ روحانی جِلا، اور یہ وقار — صرف اللہ والوں کا خاصہ ہے۔
مالی ایثار کی اگر کوئی انتہا ہو سکتی ہے، تو وہ عثمان غنیؓ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مدینہ پیاسا تھا، لوگ پانی کے لیے ترستے تھے، تو آپ نے بئرِ رومہ یہودی سے خرید کر امت کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "عثمان! تم نے جنت خرید لی۔"
پھر آیا وقتِ عسرت — غزوۂ تبوک کی گھڑی — جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "من جهز جيش العسرة فله الجنة" "جو لشکرِ عسرت کو تیار کرے گا، اُس کے لیے جنت ہے!"
عثمانؓ نے تین سو اونٹ، مکمل ساز و سامان کے ساتھ، اور ہزار دینار پیش کیے۔ آپ ﷺ کے چہرے پر فرحت چھا گئی، اور فرمایا:
> "ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم" "آج کے بعد عثمان جو بھی کرے، اسے کوئی ضرر نہیں۔"
۱۸ ذوالحجہ۔ مدینہ کی فضا گہرے سکوت میں ڈوبی ہوئی، اور ایک نورانی ہستی قرآن کی تلاوت کرتے کرتے رب کے حضور حاضر ہو گئی۔ وہ ہستی کہ جسے رسولِ کریم ﷺ نے ذوالنورین کا لقب دیا — دو نوروں کا حامل، دو بیٹیوں کا داماد، نور پر نور، حیاء کا پیکر شہادت کا لمحہ بھی ایسا روحانی منظر لے کر آیا جس کی مثال نہیں۔ محصور، تنہا، مگر قرآن کی تلاوت میں محو — اسی قرآن پر آپ کا لہو بہایا گیا، جسے آپ نے جمع کیا تھا، جس کی یکسان قرأت پر امت کو جمع کیا تھا۔
تلاوت کی حالت میں آپ کی زبان پر یہ آیت تھی:
> "فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (البقرہ: 137) "اللہ تمہارے لیے کافی ہے، اور وہ سب سننے والا، جاننے والا ہے۔"
آج اگر امت پستی، اختلاف، مادہ پرستی اور بے حیائی کی دلدل میں دھنس چکی ہے، تو عثمانؓ کی سیرت ہمیں وہ راستہ دکھاتی ہے — جس میں شرم و حیا کی خوشبو، سخاوت کا سمندر، اور اخلاص کا دریا موجزن ہے۔
اے عثمان! تیری قربانی، تیرے آنسو، تیری حیا، تیرے سکوت، اور تیرا جود — آج بھی ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتے ہیں۔
ہم تجھ سے جُدا نہیں، ہم تجھ سے جُڑے ہوئے ہیں — لفظوں میں نہیں، جذبوں میں، دعاؤں میں، ایمان کی حرارت میں۔
Mufti Waqas Khalid Official
مشن نور نامنظور نامنظور
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
حضرت عثمان کی آپ سے رشتہ داری
7 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
*سیدنا عثمانؓ — حیا ، سخاوت کے بادشاہ*
*علی زادوں نے بتلایا حفاظت کر کے عثمان کی
جو رکھے بغض عثمان سے، علی والے نہیں ہوتے*
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، وہ نازک مزاج، نرم گفتار اور سراپا دیانت شخصیت جن کا ظاہر بھی پاکیزہ اور باطن بھی آئینۂ طہارت تھا۔ آپ کی نگاہ میں خشیت، زبان پر تسبیح، اور دل میں محبتِ خدا جاگزیں تھی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو اُسے بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔"
ایسا عظیم الشان کلام کسی انسان کی سیرت کے لیے سب سے بلند سند ہے۔
آپ وہ واحد صحابی تھے جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
> "کیا میں اُس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟"
(صحیح مسلم)
یہ وہی عثمانؓ تھے کہ جب حاضر ہوتے تو وحی کے نزول کا انداز بدل جاتا۔ یہ باطنی صفا، یہ روحانی جِلا، اور یہ وقار — صرف اللہ والوں کا خاصہ ہے۔
مالی ایثار کی اگر کوئی انتہا ہو سکتی ہے، تو وہ عثمان غنیؓ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مدینہ پیاسا تھا، لوگ پانی کے لیے ترستے تھے، تو آپ نے بئرِ رومہ یہودی سے خرید کر امت کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "عثمان! تم نے جنت خرید لی۔"
پھر آیا وقتِ عسرت — غزوۂ تبوک کی گھڑی — جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "من جهز جيش العسرة فله الجنة"
"جو لشکرِ عسرت کو تیار کرے گا، اُس کے لیے جنت ہے!"
عثمانؓ نے تین سو اونٹ، مکمل ساز و سامان کے ساتھ، اور ہزار دینار پیش کیے۔ آپ ﷺ کے چہرے پر فرحت چھا گئی، اور فرمایا:
> "ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم"
"آج کے بعد عثمان جو بھی کرے، اسے کوئی ضرر نہیں۔"
۱۸ ذوالحجہ۔ مدینہ کی فضا گہرے سکوت میں ڈوبی ہوئی، اور ایک نورانی ہستی قرآن کی تلاوت کرتے کرتے رب کے حضور حاضر ہو گئی۔ وہ ہستی کہ جسے رسولِ کریم ﷺ نے ذوالنورین کا لقب دیا — دو نوروں کا حامل، دو بیٹیوں کا داماد، نور پر نور، حیاء کا پیکر
شہادت کا لمحہ بھی ایسا روحانی منظر لے کر آیا جس کی مثال نہیں۔ محصور، تنہا، مگر قرآن کی تلاوت میں محو — اسی قرآن پر آپ کا لہو بہایا گیا، جسے آپ نے جمع کیا تھا، جس کی یکسان قرأت پر امت کو جمع کیا تھا۔
تلاوت کی حالت میں آپ کی زبان پر یہ آیت تھی:
> "فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"
(البقرہ: 137)
"اللہ تمہارے لیے کافی ہے، اور وہ سب سننے والا، جاننے والا ہے۔"
آج اگر امت پستی، اختلاف، مادہ پرستی اور بے حیائی کی دلدل میں دھنس چکی ہے، تو عثمانؓ کی سیرت ہمیں وہ راستہ دکھاتی ہے — جس میں شرم و حیا کی خوشبو، سخاوت کا سمندر، اور اخلاص کا دریا موجزن ہے۔
اے عثمان!
تیری قربانی، تیرے آنسو، تیری حیا، تیرے سکوت، اور تیرا جود — آج بھی ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتے ہیں۔
ہم تجھ سے جُدا نہیں،
ہم تجھ سے جُڑے ہوئے ہیں —
لفظوں میں نہیں، جذبوں میں، دعاؤں میں، ایمان کی حرارت میں۔
اللّٰہ ہمیں عثمانی کردار، عثمانی حیا، اور عثمانی اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
شان عثمان
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
بڑا مظلوم غنی عثمان
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
اللہم احینی سعیدا وامتنی شھیدا
7 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
7 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
اللہم احینی سعیدا وامتنی شھیدا
7 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
اللہم اغفرلی وتب علی انک انت التواب الرحیم
1 year ago | [YT] | 10
View 0 replies
Mufti Waqas Khalid Official
اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی
1 year ago | [YT] | 6
View 0 replies
Load more