In the world full of bigotry and prejudice, be something different. Be the Voice of Reason. Follow Channel 6.


Channel 6

عمران نے کرکٹ کو رونق بخشی اور اب کرکٹ عمران خان کو منظر نامے سے غائب نہیں ہونے دے رہی

برطانوی نشریاتی ادارے Daily Mail کا عمران خان کے متعلق زبردست آرٹیکل (اُردو ترجمہ)

​لارڈز کے لانگ روم کی پچھلی دیوار پر ایک تصویر ہے، جو اس ہفتے میں نمائش کے لیے رکھی گئی، جیمی اینڈرسن اور اسٹیوارٹ براڈ کی نئی تصویر سے چند فریم دور ہے، یہ عمران خان کی واٹر کلر تصویر ہے، ان کا سر جھکا ہوا ہے، ان کا چہرہ سنجیدہ اور توجہ میں ڈوبا ہوا ہے، اور ان کے ہاتھ میں ایک قلم ہے، یہ ایک خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی پینٹنگ ہے

​پاکستان کے کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دو دنوں میں سے ہر دن عمران کی اس تصویر کے پاس سے گزرے، جب وہ پویلین کی پہلی منزل پر واقع اپنے ڈریسنگ روم سے نیچے اترے اور اپنے ملک کی تاریخ کے سب سے عظیم کھلاڑی کی اس تصویر کے پاس سے گزرے،
​تاہم یہ کھلاڑی عمران خان کے بارے میں بات نہیں کر سکتے

عمران کی تصویر ایک ایسے کمرے میں نمایاں ہو سکتی ہے جو انـگریز اشرافیہ کا گڑھ ہے، لیکن پاکستان میں وہاں کا اقتدارِ اعلیٰ (اسٹیبلشمنٹ) انہیں ایک 'گمنام شخص' بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، پاکستان میں ٹیلی ویژن چینل تعزیرات اور انتقامی کارروائی کے خوف سے ان کا نام لینے کی جرات نہیں کرتے

​پچھلے تین سالوں سے جب سے عمران کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، 14 اور 17 سال کی متواتر سزائیں سنائی گئیں اور راولپنڈی کی بدنام زمانہ اڈیالہ جیل لے جایا گیا، وہ 6x8 فٹ کے ایک 'ڈیتـھ سیل' میں قید ہیں اور باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع ہے

​ان کی تنہائی اس حد تک پہنچ گئی کہ یہ افواہیں پھیل گئیں کہ 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان ٹیم کے کپتان اور 2018 سے 2022 کے درمیان اپنے ملک کے وزیراعظم رہنے والے شخص کی مـوت ہو چکی ہے

​ای ایس پی این کرک انفو کے سینئر ایڈیٹر اور پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ پر مبنی کتاب The Unquiet Ones کے مصنف، نامور پاکستانی صحافی عثمان سمیع الدین نے گزشتہ سال ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ریاست نہیں چاہتی کہ انہیں دیکھا یا سنا جائے۔ل، انہوں نے ٹی وی چینلز کو ان کا نام لینے سے روک دیا ہے اور اخبارات کو ان کی تصویر شائع کرنے سے منع کر دیا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے ان کی سب سے بڑی کھیل کی فتح 1992 ورلڈ کپ کی فوٹیج سے بھی مٹا دیا ہے

​انہیں اب ملک میں بہت سے لوگ ان کے قیدی نمبر 804 سے جانتے ہیں، اس نمبر کا ذکر کرنا ان کی حمایت کا ایک خفیہ طریقہ بن چکا ہے، یہ گاڑیوں کی رجسٹریشن نمبر پلیٹوں پر ظاہر ہوا اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کرکٹ کے بڑے میچوں کے دوران اس کے نعرے لگائے گئے تیرا یار، میرا یار، قیدی نمبر 804

​پشاور کے ایک چپل بنانے والے نے اپنے ایک ڈیزائن پر یہ نمبر لگایا اور وہ اس کا سب سے زیادہ بکنے والا سامان بن گیا لیسٹر اور جدہ میں آپ 804 نامی ریستورانوں میں کھانا کھا سکتے تھے، برمنگھم کے ایک ٹیک اوے پر آپ اسپیشل 804 بریانی کا آرڈر دے سکتے ہیں، ان کی قید کی نشانی ہی ان کی اپنی نوعیت کی آزادی بن گئی

​لیکن اگر پاکستانی ریاست اپنے سب سے مشہور شہری کو غائب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو پھر بھی لارڈز کے اس ٹیسٹ میچ پر عمران کا سایہ گہرا رہا ہے، جو ان کی قید کی تیسری برسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے، ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بے چینی بڑھ رہی ہے اور جس کھیل کو انہوں نے اتنے عرصے تک رونق بخشی، وہ انہیں اوجھل ہونے سے انکار کر رہا ہے

​گزشتہ ہفتے، 21 سابق کرکٹ کپتانوں کے ایک گروپ نے جن میں سنیل گواسکر، سر الیسٹیر کک، اسٹیو وا اور مائیکل ایتھرٹن شامل ہیں، پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ 73 سالہ عمران کو حراست کے دوران مناسب دیکھ بھال فراہم کی جائے

​پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں، انہوں نے درخواست کی کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کردہ ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ کیا جائے اور ان کے اہل خانہ کی ہفتہ وار ملاقاتیں بحال کی جائیں

​جمعرات کے روز، ایتھرٹن نے ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے عمران کے بچوں، قاسم اور سلیمان کے ساتھ ایک انٹرویو کیا جو لارڈز میں لنچ کے تاخیر شدہ وقفے کے دوران اسکائی اسپورٹس پر نشر ہوا

​ایتھرٹن نے اس بات پر زور دیا کہ خان کیلئے آواز اٹھانا انسانی بنیادوں پر تھا، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے دھمکی دی کہ اگر اسکائی اسپورٹس نے یہ انٹرویو نشر کیا تو ان کی ٹیم لنچ کے بعد میدان میں واپس نہیں آئے گی، ان کی تعریف کرنی چاہیے کہ اسکائی اسپورٹس نے بہرحال انٹرویو نشر کیا

​قاسم نے اپنے والد کے قید کرنے والوں کے بارے میں ایتھرٹن کو بتایا کہ عمران خان کو کھلم کھلا وہاں مـارنے کی کوشش کی جارہی ہے

عمران خان کے بچوں نے بتایا کہ آخری بار جب وہ ہماری پھوپھیوں سے ملاقات کے دوران بات کررہے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ حالات شدید خراب ہو چکے ہیں، وہ اس کا موازنہ دیگر سیاسی قیدیوں سے کر رہے ہیں جنہیں جیل میں قتـل کر دیا گیا یا جو مـر گئے، اس وقت حالات پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں، انہیں دن میں 23 گھنٹے سے زیادہ تنہا رکھا جا رہا ہے

کچھ لوگوں کو امید ہے کہ عمران اور ریاست کے درمیان کوئی ڈیل ہو سکتی ہے، صحافی سمیع الدین نے کل کہا کہ یہ اٹکل حقیقت ہے کہ فوج عمران کو آزاد کرنے کے خیال کو سویلین حکومت کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک دھمکی کے طور پر استعمال کر سکتی ہے، ہمیشہ اس بات کا چرچا رہتا ہے کہ عمران اور فوج کے درمیان کوئی ڈیل ہو سکتی ہے اور وہ برطانیہ میں رہنے آ سکتے ہیں، لیکن ان کے ڈیل قبول کرنے کے خیال کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ بے نظیر بھٹو اور دیگر سیاست دانوں کا مذاق اڑاتے تھے جو حکومت کے مخالف تھے اور جلاوطنی میں اپنی اپوزیشن چلاتے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے، اگر وہ اپنا موقف بدلتے ہیں تو یہ ان کے خلاف استعمال ہوگا

اور یوں عمران اپنے ڈیتـھ سیل میں بیٹھے ہیں، ایک جیتے جی جـہنم میں ایک بااصول شخص، اور لارڈز میں کرکٹ کا کھیل جاری ہے، اور پاکستانی کرکٹرز لانگ روم میں ان کی تصویر کے پاس سے گزرتے ہیں لیکن اُن سے اپنی نظریں چرا لیتے ہیں
Read original article here

www.pressreader.com/uk/daily-mail/20260829/2825530…

1 week ago | [YT] | 97

Channel 6

پردیس میں اک صوفے پہ بیٹھا ہوا ہوں، ساتھ کچھ انگریز بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے ٹی وی پہ دیس کی خبر چل رہی ہے، اسلام آباد میں ہسپتال میں آگ لگنے سے چودہ بچے جل کر مر گئے۔ ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد پاکستان کا دارلحکومت ہے، اور یہ ہسپتال اس دارلحکومت کا سب سے بڑا اور مرکزی ہسپتال ہے۔ میں دکھ ، تکلیف اور شرم سے ساتھ بیٹھے لوگوں کو بتا بھی نہیں سکتا کہ یہ خبر میرے دیس کی ہے اور میرے لیے یہ صرف خبر نہیں دکھوں کا ملبہ ہے۔

سینہ پیٹتی ماؤں سے کون پوچھے کہ بچے نو ماہ کوکھ میں رکھ کر پالنا، جننا کتنا مشکل ہے اور پھر پیدا ہونے کے بعد اس کا آگ میں جل جانا کتنا تکلیف دہ ہے۔ دکھ پور پور سے ہوتا ہوا ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ چودہ نومولود بچے زندہ آگ میں جلے، انھیں بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ ان بیچاروں کو تو ابھی ٹھیک سے چیخنا اور رونا بھی نہیں آتا ہوگا۔ لیکن آتا بھی ہوتا تو سننے والا کون تھا وہاں۔۔۔۔۔

حادثے ہوتے رہتے ہیں، ہم حادثوں کو روک نہیں سکتے لیکن سب سے بڑا سوال حادثے کی وجوہات اور اس کے فوری بعد ہنگامی کاروائیوں کا ہوتا ہے۔ یہ حادثہ بہت تکلیف دہ ہے، ہم اسے بس حادثہ سمجھ کر قبول کر لیں اگر یہ کسی کی غلطی نہ ہو۔ لیکن مزید دکھ اور تکلیف کی بات تو یہ ہے کہ یہ بہت ساری غلطیوں کا نتیجہ ہے، یا کوئی قدرتی حادثہ نہیں۔ اس کے ذمہ داران سکون سے اپنے پھیپھڑوں میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا بھر رہے ہوں گے اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا، ان کے گریبان تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچے گا۔

کچھ سوال ہیں جو ذمہ داران تک پہنچا سکتے ہیں لیکن یہاں کون جڑیں میں بیٹھے یہ سانپ مارے گا، پھر بھی ہم اپنی آواز تو بلند کر سکتے ہیں۔
پمز ہمارے دارلحکومت کا سب سے اہم ہسپتال ہے، یہاں ہنگامی کاروائیوں کے انتظامات کیا ہیں؟ اتنے اہم وارڈز میں فوری طور پہ آگ بجھانے کے انتظامات کہاں تھے؟

وارڈ میں موجود سٹاف کو ہنگامی حالات میں آگ بجھانے یا کسی قسم کا ردعمل دینے کی کبھی کوئی ٹریننگ دی گئی؟
بچوں کے ساتھ کتنے سٹاف کے لوگ جان سے گئے؟ اگر نہیں گئے تو وہ لوگ وہاں موجود تھے کیا؟
اگر نہیں موجود تھے تو کیوں؟ اگر موجود تھے تو ان کی طرف سے بھاگتے ہوئے کتنے بچوں کی جان بچانے کی کوشش کی گئی؟

اطلاعات کے مطابق وارڈ کے کئی دروازوں پہ تالے لگے ہوئے تھے۔ یہ تالے وہاں کیوں تھے؟ ہنگامی اخراج کے رستے موجود تھے؟ اگر موجود تھے تو کیا کھلے ہوئے تھے، کیا انھیں استعمال کیا گیا؟
آگ بجھانے کے آلات کہاں تھے؟ اگر موجود تھے تو کیا انھیں استعمال کیا گیا؟

زندہ بچے جل کر مر گئے ہیں ، ان کو بچانے والے کہاں تھے؟ ہسپتال میں جو ان کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے، وہ کہاں تھے؟
میں لاہور میں نومولود بچوں کے وارڈ میں کئی ماہ کام کر چکا ہوں۔ مجھے نہیں یاد ہم نے کبھی وارڈ خالی چھوڑا ہو۔ کسی انتہائی ضرورت کے تحت ہی وارڈ سے باہر نکلتے تھے ، جیسے گائنی وارڈ میں اچانک کسی نئے نومولود کو چیک کرنے کے لیے جانے کی ضرورت پڑ جائے۔ اگر خدانخواستہ وہاں ایسا کوئی حادثہ ہوتا تو میں جتنی بھی جلدی بھاگنے کی کوشش کرتا ، دو چار بچے اٹھا کر ہی بھاگتا کیونکہ وہاں ذہن میں ، لاشعور میں ان بچوں کی مسلسل دیکھ بھال کے علاوہ کچھ بھی نہیں چل رہا ہوتا تھا۔
میں سوچ رہا ہوں وہ نازک نازک بچے جن کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا کہ ان کو درد نہ ہو، ان بچوں کے جسم کو آگ نے کیسے بیدردی سے چھوا ہو گا۔

پھر اس سب کے بعد آگ لگنے کی وجوہات کو دیکھیں۔ بیان یہی دیا جا رہا ہے کہ ائیر کنڈیشنر کی وجہ سے آگ لگی۔ سوال یہ ہے کہ اس ائیر کنڈیشنر کتنا معیاری تھا، جسے وہاں لگایا گیا؟ اس میں آگ کیوں لگی؟
ائیر کنڈیشنر کی مرمت کب ہوئی تھی؟ کس نے کی تھی؟ سوئچ بورڈ کس معیار کے تھے؟ وائرنگ کس معیار کی تھی؟

دو سال پہلے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں بھی ایسا ہی تکلیف دہ حادثہ پیش آیا تھا۔ وہاں بھی ائیر کنڈیشنر کی وجہ سے آگ لگی تھی۔ بعد میں تحقیق کے دوران وہاں کے ڈی ایم ایس سٹور کے بتائے گئے حقائق دیکھیے

وہ بتاتے ہیں کہ
* جس سے سی سے آگ لگی تھی، جب اس اے سی کو دیکھا تو وہ ایک خستہ حال اور پرانا اے سی تھا۔ جب اس کے ریپیئر کے بل نکلوائے تو پتہ چلا کہ ایک ہی اے سی گزشتہ 10 سال سے ریپیئر ہو رہا تھا اور بار بار ایک ہی چیز کو ریپیئر کرکے اس کے بل بنائے گئے تھے، جبکہ اتنے عرصے میں 10 نئے اے سی خریدے جا سکتے تھے۔

* جب اس پاور ساکٹ کو دیکھا جس کی وجہ سے آگ لگی تھی تو پتہ چلا کہ وہ چین کا ایک غیر معیاری ، سستا پاور ساکٹ تھا، جبکہ اس کا بل چیک کیا تو ایک اچھے معیار کے پاور ساکٹ کے مطابق پیسے چارج کیے گئے تھے۔

* لیکن چونکہ ہسپتالوں میں انسپیکشن کا معاملہ انتہائی کمزور تھا، اس لیے اچھے معیار کی قیمت میں چین کا لو کوالٹی پاور ساکٹ لگا دیا گیا۔

* جب پاور ساکٹ سے نکلنے والی تار کا بھی معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ابتدائی تار اچھی کوالٹی کی کاپر وائر لگائی ہوئی تھی، تاکہ اگر کبھی بورڈ کھول کر چیک وغیرہ کیا جائے تو لگے کہ کاپر تار ڈالی گئی ہے۔ البتہ جب ایک دو میٹر پیچھے گئے تو مین بورڈ سے لے کر اے سی کے بورڈ تک ساری وائر سلور کی تھی، اور سونے پر سہاگا یہ کہ سلور کے باہر کاپر کی وائر کے ساتھ جوڑ لگایا گیا تھا۔

وہ کون تھا جس کی نگرانی میں یہ سب کرپشن ہوتی رہی؟

یہ سارا کام پرچیز ڈیپارٹمنٹ سے شروع ہوتا ہے، اسٹور تک آتا ہے اور اسٹور سے شروع ہو کر الیکٹریشن پر ختم ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کی انوالومنٹ اس میں بہت کم ہوتی ہے۔

پرچیز ڈیپارٹمنٹ الیکٹرک سامان کا ٹینڈر کرتا ہے، جس میں اچھی سے اچھی کوالٹی اور معیار کو بہترین بنانے کی ہدایات ہوتی ہیں۔ انسپیکشن کمیٹی کا کام ہوتا ہے کہ جب یہ الیکٹرک سامان آئے تو اس کی انسپیکشن کرکے چیک کرے کہ جیسا پرچیز کمیٹی نے کہا تھا، اس کو فالو کیا گیا ہے یا نہیں۔

اس کے بعد سامان الیکٹریشن کے حوالے کر دیا جاتا ہے کہ وہ اسے انسٹال کرے۔

اسی طرح اے سی ٹیکنیشن کے بارے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ اس نے بھی اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایک ہی اے سی بار بار خراب ہو رہا ہے تو اسے ایم ایس یا ہسپتال کے دیگر انتظامی افسران کو یہ بتانا چاہیے کہ یہ اے سی اب ریپیئر کے قابل نہیں رہا اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن ہر مرحلے پہ اپنی ذمہ داری سے آنکھیں بند کی گئیں، کام چوری اور کرپشن کی گئی۔ انسپیکشن کے لیے رشوت لے کر اپنے من پسند لوگ رکھنے سے لے کر پرچیز کے دوران پیسے کھانے تک، انتظامی افسران کی جانب سے ذمہ داری لے کر ان سب معاملات کو معیاری بنانے کے بجائے الیکٹریشن اور اے سی ٹیکنیشن کی نااہلی تک ایک ایک قدم پہ دو نمبری کی گئی ہے۔ ایک ایک قدم پہ ایسے حادثات کا رستہ استوار کیا گیا ہے۔

یہ حادثہ نہیں، ان سب لوگوں کی کرپشن اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔ اگر ایسے حادثات سے بچنا ہے تو کسی موجودہ وزیر یا افسر کو معطل کرنے کے بجائے اس مرحلے میں شامل ایک ایک بندے کو پکڑیں اور سزا دیں۔ یہ معاملہ اس حکومت یا پچھلی حکومت یا اس سے پچھلی حکومت پہ الزام تراشی کا نہیں۔ یہ معاملہ جڑ سے لے کر ابھی تک ان معاملات میں شامل تمام لوگوں کو پکڑنے کا ہے۔ چاہے حکومت جس کی بھی رہی ہو، ان سب مجرموں کو پکڑیں اور عبرت کا نشان بنائیں جو اس حادثے کے ذمہ دار ہیں۔

اور اس کے بعد باقی تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی کاروائیوں کو بہتر کریں، ہنگامی حالات کی ٹریننگ دیں۔ وہاں کے اے سی سے لے کر وائرنگ تک ہر چیز کو چیک کروائیں۔ جہاں جہاں یہ مسائل موجود ہیں، جہاں جہاں یہ غیر معیاری چیزیں موجود ہیں، انھیں ٹھیک کریں۔ ورنہ ایسے مزید حادثات ہونے کا انتظار کرتے رہیے۔ جیسے دو سال پہلے ساہیوال میں حادثہ ہوا رھا، ایک دو لوگوں کو معطل کر کے چپ ہو گئے تھے، ویسے ہی اب بھی سب رو دھو کر چپ ہو جائیں گے اور اگلا حادثہ ہونے کا انتظار شروع ہو جائے گا۔

لیکن کیا ہم ابھی سے اقدامات کر کے ان حادثات کو روک نہیں سکتے؟ یا ہم ہمیشہ بس حادثات کے بعد ہی روتے دھوتے رہیں گے؟

۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔

2 weeks ago | [YT] | 9

Channel 6

کیا ایمرجنسی ایگزٹ ایسے ہوتے ہیں؟
یہ ہمارے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک معروف پمز ہسپتال کا ایمرجنسی ایگزٹ ہے 💔
Duffers at highest seats 🙏

2 weeks ago | [YT] | 16

Channel 6

سرحد یونیورسٹی واقعے سے جڑے چند کڑوے سچ
سرحد یونیورسٹی (راوت کیمپس) میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہمارے سیاسی و سماجی رویوں کا وہ المیہ ہے جہاں ’میرے پاس کون ہے‘ کا زعم، قانون اور اخلاقیات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کا ماحول اس وقت کشیدہ ہوا جب شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ اور یونیورسٹی کی ایچ آر مینیجر کے درمیان ایک معمولی انتظامی معاملے پر تکرار ہوئی۔ شاہدین کے مطابق ایچ آر مینیجر کا رویہ غیر مناسب تھا اور انہوں نے اپنے عہدے کا لحاظ رکھے بغیر گالیاں اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس نے معاملہ انتظامی حد میں سلجھانے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔
ایچ آر مینیجر نے معاملات کو حل کرنے کے لیے ادارے کے طریقہ کار کو بائی پاس کیا اور پولیس کے ساتھ اپنے شوہر کو بلا لی جو کہ مسلح افواج کے ایک افسر ہیں۔ مذکورہ فوجی افسر اپنے نجی مسئلے کے لیے سرکاری وردی میں کیمپس پہنچے جہاں انہوں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے رعب جمانا شروع کیا اور ہاتھ میں موجود لاٹھی سے ایک بے گناہ طالب علم پر تشدد کیا۔
ساتھی طالب علم پر تشدد دیکھ کر دیگر طلبہ ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے، فوجی افسر پر تشدد شروع کیا، انہوں نے جان چھڑانے کے لیے پسٹل نکال کر پہلے سیدھی اور پھر ہوائی فائرنگ کر دی۔
افائرنگ کے اس سنگین واقعے اور طلبہ کے احتجاج کے بعد ملٹری حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوجی افسر کو تحویل میں لے لیا ہے اور قانونی کاروائی شروع کی ہے۔ اس پورے واقعے میں سب سے بڑا سبق ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھر، محلے یا دفتر کی ذاتی لڑائیوں میں اپنے افسر رشتہ داروں کو گھسیٹتے ہیں۔ جب آپ اپنے کسی شوہر، بھائی، یا بیٹے کی وردی اور رتبہ اپنی ذاتی انا اور ضد کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں تو آپ ان کی عزت کا تماشہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ ایک معمولی سے انتظامی جھگڑے میں فوج یا پولیس کے افسر کو بلوا کر رعب ڈالنے کی کوشش نے نہ صرف اس خاتون کو رسوا کیا بلکہ ان کے شوہر کی ملازمت، عزت اور وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب اداروں میں انتظامی کمیٹیاں، ڈسپلنری بورڈز اور پولیس جیسے قانونی ادارے موجود ہیں تو پھر نجی مسائل میں اپنے بااثر عزیزوں کا تماشہ بنانے کی کیا تک بنتی ہے؟
سرکاری اور ملٹری افسران کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ سرکاری وردی صرف ایک لباس نہیں، بلکہ ریاست کا وقار اور ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کو اپنے بچوں، بیوی یا رشتہ داروں کے ذاتی جھگڑوں میں پڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو سول کپڑے پہنیں اور اپنی وردی اتار کر جائیں۔
ایک باپ یا شوہر کی حیثیت سے جا کر بات چیت کرنا انسان کا حق ہو سکتا ہے، لیکن سرکاری وردی پہن کر، لاٹھی لہرانا اور پستول سے رعب جمانا شایان شان نہیں ہوتا۔ جب ایک افسر وردی میں ذاتی کاموں کے لیے سڑکوں یا کیمپسز میں غنڈہ گردی کرتا ہے تو اس سے پورے ادارے کا ایمج اور وقار مجروح ہوتا ہے۔

2 weeks ago | [YT] | 12

Channel 6

مرشد عمران خان کو انصاف دینے کے لیے دنیا کرکٹ کے 21 بڑے ناموں اور ساتھی کرکٹرز نے پاکستان کو خط لکھ دیا۔ 🏏🇵🇰

میاں صاحب کے لیے تو دنیا کے کسی ایک بڑے کرپٹ آدمی نے بھی خط لکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ 😏

فرق صاف ہے—عمران خان کی آواز آج بھی دنیا بھر میں سنی جا رہی ہے۔

#ImranKhan #JusticeForImranKhan #ReleaseImranKhan

2 weeks ago | [YT] | 13

Channel 6

شہباز شریف ، وزیر قانون اعظم نذیر تارژ ، وزیر اطلاعات عطا ،تارژ، چیف کمشنر اسلام آباد ، سیکرٹری داخلہ ، آئی جی جیل خانہ جات اور سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف ڈاکٹر

عظمی خان نے عمران خان کو شفا منتقل کرنے کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ

میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

3 weeks ago | [YT] | 49

Channel 6

میں نے عرض کیا تھا کہ برطانوی پریس پر نظر رکھیں۔ انکی سرخیوں میں پاکستان میں بدلتا ہوا منظر نامہ نظر آئے گا۔ اور ن لیگ کی بلند ہوتی چیخوں کی بھی سمجھ آئے گی۔
سرخی دیکھیں: عمران خان جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑا ہونے کی قیمت دے رہا ہے۔
اگلی سرخی subheading ہے:
خان جمہوریت سازی democratization کی علامت ہے ایسی ملک میں جس کو دہائیوں تک فوجی جنتا نے لوٹا ہے۔
اگلی سرخی دیکھیں:
عمران خان کی لڑائی ہماری لڑائی ہے۔

3 weeks ago | [YT] | 75

Channel 6

3 weeks ago | [YT] | 1,105

Channel 6

تحریک انصاف کارکنان نے اڈیالہ سے لےکر شفاء ہسپتال تک پھولوں کی پتیاں پھینکنا شروع کردیں

3 weeks ago | [YT] | 41