Learn Urdu Zaban

This channel is dedicated for those who want to learn Urdu language in a new way. God willingly , I will provide good and quality contents for Urdu learners.
Teaching Urdu in a different and interesting way is my first priority .
If you are interested to learn Urdu language , this platform is definitely for you.


Learn Urdu Zaban

سریندر پرکاش کا افسانہ "بجوکا" ایک علامتی کہانی ہے جو ہوری نامی بوڑھے کسان کی غربت، بے بسی اور سماجی استحصال کو اجاگر کرتی ہے۔ بجوکا کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے والا پتلا ہے، جو ہوری کی بے جان اور بے بس زندگی کی علامت ہے، جس کے ذریعے مصنف نے کسان کی کسمپرسی اور سماجی ناانصافی پر گہرا طنز کیا ہے۔
افسانہ بجوکا کا خلاصہ:
مرکزی کردار (ہوری): ہوری ایک انتہائی بوڑھا اور غریب کسان ہے، جو وقت کی سختیوں کا شکار ہے۔
بجوکا کی علامت: کہانی میں 'بجوکا' صرف کھیت کی حفاظت کرنے والا پتلا نہیں، بلکہ ہوری کی اپنی زندگی کا استعارہ ہے۔ جس طرح بجوکا بے جان اور خاموش رہتا ہے، ہوری بھی اپنی زندگی کی کشمکش میں بے بس ہے۔
غربت اور بے بسی: ہوری کی حالتِ زار اس کی انتہا درجے کی غربت کو ظاہر کرتی ہے۔
سماجی ناانصافی: افسانہ کسانوں کے مسائل اور سماج میں ان کی پسماندہ حالت کو دکھاتا ہے۔
یہ افسانہ علامتی انداز میں انسانی زندگی کی جدوجہد اور ناامیدی کو پیش کرتا ہے۔

15 hours ago | [YT] | 13

Learn Urdu Zaban

UGC NET Urdu Important Questions

15 hours ago | [YT] | 1

Learn Urdu Zaban

سعادت حسن منٹو کا افسانہ "ٹھنڈا گوشت" تقسیمِ ہند کے فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا ایک ایسا شاہکار ہے جو انسانی درندگی اور ضمیر کی موت کو بیان کرتا ہے۔
مرکزی کردار

* ایشر سنگھ: ایک سنگدل اور لٹیرا شخص جو فسادات میں قتل و غارت اور عصمت دری میں ملوث ہوتا ہے۔
* کلونت کور: ایشر سنگھ کی معشوقہ، جو ایک تیکھے مزاج کی عورت ہے۔
خلاصہ

1. پراسرار خاموشی: کہانی کا آغاز ایشر سنگھ کی واپسی سے ہوتا ہے جو کئی دنوں بعد کلونت کور کے پاس آتا ہے، لیکن وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بالکل بدلا ہوا اور "سرد" ہوتا ہے۔
2. کلونت کا شک: کلونت کور کو شک ہوتا ہے کہ ایشر سنگھ کسی اور عورت کے پاس گیا تھا۔ غصے میں وہ ایشر سنگھ پر اسی کی کرپان سے حملہ کر دیتی ہے۔
3. اعترافِ جرم: مرنے سے قبل ایشر سنگھ ایک ہولناک سچائی کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ فسادات کے دوران اس نے ایک گھر پر حملہ کیا، وہاں موجود لوگوں کو قتل کیا اور ایک خوبصورت لڑکی کو اغوا کر کے لے گیا۔
4. ہولناک انجام: جب وہ اس لڑکی کی عصمت دری کرنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ وہ لڑکی پہلے ہی مر چکی تھی۔ اس مردہ جسم کی سردی نے ایشر سنگھ کے اندر کے انسان اور اس کی حیوانیت دونوں کو "ٹھنڈا" کر دیا تھا ۔

مرکزی خیال
یہ افسانہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان حیوانیت کی انتہا کر دیتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ایسی سزا دیتا ہے کہ وہ جیتے جی ایک "ٹھنڈا گوشت" بن جاتا ہے ۔ اس افسانے کی وجہ سے منٹو پر فحش نگاری کا مقدمہ بھی چلا تھا

1 day ago | [YT] | 8

Learn Urdu Zaban

UGC NET Urdu Important Questions

2 days ago | [YT] | 2

Learn Urdu Zaban

*بیکری والا*

حامد شہر سے تھوڑی دور ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ گاؤں کے بازار میں اس کی ایک بیکری تھی۔

گاؤں کے اکثر لوگ اسی کی بیکری سے سامان خریدتے تھے کیونکہ اس کی بیکری کی چیزیں تازہ ہوتی تھیں۔

حامد ایک لالچی اور کنجوس شخص تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت دولت سے نوازا تھا، لیکن وہ اس دولت میں سے غریبوں پر کچھ بھی خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ ہر وقت اس فکر میں رہتا تھا کہ کس طرح اس کی دولت میں اضافہ ہو جائے۔

اسی گاؤں میں ایک آدمی ہارون رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔

ایک دن ہارون حامد کی بیکری کے باہر سے گزر رہا تھا۔ اسے بے حد بھوک لگی ہوئی تھی اور جیب میں ایک پیسہ بھی نہ تھا۔ حامد کی بیکری سے تازہ ڈبل روٹیوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ ہارون بیکری کے باہر کھڑا ہو کر ڈبل روٹیوں کی خوشبو سونگھنے لگا۔

حامد بیکری میں بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بیکری سے باہر آ کر ہارون کو پکڑ لیا اور کہا کہ تم نے میری بیکری سے آنے والی خوشبو کو سونگھا ہے، اس لیے تم اس کے پیسے دو۔ ہارون بہت پریشان ہوا کیونکہ اس کے پاس تو پیسے ہی نہ تھے۔

اس نے حامد سے کہا: "بھائی حامد! میں نے تم سے کوئی چیز تو نہیں خریدی کہ میں تم کو پیسے دوں۔ میں نے تو صرف خوشبو سونگھی ہے اور خوشبو سونگھنے کے پیسے نہیں ہوتے۔" اب تو حامد غصے سے چلانے لگا۔

لوگ جمع ہو گئے۔ لوگوں نے بھی سمجھایا کہ ظلم مت کرو، ظالم کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ ظالم کو ذلیل کر دیتے ہیں۔

لیکن حامد نہ مانا اور اس نے کہا کہ ہمارا فیصلہ قاضی صاحب کریں گے، اور یہ کہہ کر وہ ہارون کو لے کر عدالت کی طرف روانہ ہوا۔

ہارون نے راستے میں اپنے بھائی زاہد کو بھی بلا لیا کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے اور اس کی مدد کرے۔

زاہد ایک سمجھدار اور عقلمند آدمی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حامد بہت ہی لالچی آدمی ہے۔ یہ تینوں قاضی کے پاس عدالت پہنچے۔

حامد نے قاضی سے کہا: "جناب والا! اس شخص (ہارون) نے میری بیکری کی چیزوں کی خوشبو کو سونگھا اور اب یہ اس کے پیسے نہیں دے رہا۔ آپ انصاف کریں اور مجھے میرا حق اس سے دلوائیے۔"

زاہد حامد کی بات سن رہا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور قاضی صاحب سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کی اجرت ادا کر دوں۔ قاضی صاحب نے اجازت دے دی۔ زاہد نے جیب سے سکوں سے بھری ہوئی تھیلی نکالی اور حامد کے کان کے قریب تھیلی کو ہلایا، جس سے سکوں کی چھن چھن پیدا ہوئی۔

زاہد نے حامد سے کہا: "کیا تجھے سکوں کی آواز سنائی دی؟"

حامد نے کہا: "ہاں۔"

زاہد نے کہا: "یہی آواز سننا اس سونگھنے کی اجرت ہے جو ہارون نے سونگھی۔"

قاضی صاحب زاہد کی عقلمندی سے بہت خوش ہوئے اور ہارون کو آزاد کر دیا اور پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ حامد ایک لالچی آدمی ہے۔

اب جو لوگ پہلے حامد سے محبت کرتے تھے، اس کی لالچ اور غریبوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے اس سے نفرت کرنے لگے۔

6 days ago | [YT] | 10

Learn Urdu Zaban

Qaseeda ka Fun aur Irtiqa

6 days ago | [YT] | 5

Learn Urdu Zaban

UGC NET Urdu Syllabus

6 days ago | [YT] | 4

Learn Urdu Zaban

*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بڑھیا کی نصیحت سے رونا*

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ چند صحابہ کی جماعت کے ساتھ کسی ضروری کام کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک بڑھیا نظر آئیں جن کی کمر جھک گئی تھی اور لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔

انہوں نے فرمایا: ”قِفْ یا عمر!“ یعنی اے عمر! ٹھہر جاؤ، کہاں جا رہے ہو؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً رک گئے اور بڑھیا لاٹھی کے سہارے سیدھی کھڑی ہو گئیں اور فرمایا: اے عمر! تیرے اوپر تین دور گزر چکے ہیں۔

ایک دور وہ تھا کہ تو سخت گرمی میں اونٹ چرایا کرتا تھا، اور اونٹ بھی اچھی طرح چرانا نہیں آتے تھے۔ صبح سے شام تک اونٹ چرا کر آتا تو تیرے باپ خطاب کی طرف سے مار پڑتی تھی کہ اونٹوں کو اچھی طرح چرا کر کیوں نہیں لایا؟

بڑھیا نے کہا: تو اونٹ چرایا کرتا تھا اور تیرے سر پر اُونٹ کی کھال کا ٹکڑا ہوتا تھا اور ہاتھ میں درختوں کے پتے جھاڑنے کی چھڑی ہوتی تھی۔

دوسرا دور وہ آیا کہ لوگوں نے تجھے ”عمیر“ کہنا شروع کیا، اس لیے کہ ابو جہل کا نام بھی عمر تھا، تو اس کی طرف سے پابندی تھی کہ میرے نام پر نام نہ رکھا جائے۔ اس لیے لوگوں نے تیرے نام میں تبدیلی کر کے ”عمیر“ کہنا شروع کر دیا تھا۔

پھر غزوۂ بدر میں ابو جہل مارا گیا تو اس کے بعد تجھے ”عمر“ کہا جانے لگا۔

بڑھیا نے کہا: اب تیسرا دور یہ ہے کہ تجھے نہ کوئی عمیر کہتا ہے نہ عمر، بلکہ ”امیرالمؤمنین“ کہہ کر پکارتے ہیں۔

اس تمہید کے بعد بڑھیا نے نصیحت کی: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، رعایا کے بارے میں اللہ سے خوف رکھو۔ امیرالمؤمنین بننا آسان ہے مگر حق والوں کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔ کل قیامت کے دن حقوق کے بارے میں باز پرس ہوگی، لہٰذا ہر حقدار کا حق ادا کرو۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ زار و قطار رو رہے تھے، یہاں تک کہ داڑھی مبارک سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ جو صحابہ ساتھ تھے انہوں نے بڑھیا کو اشارہ کیا کہ اب تشریف لے جائیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اشارے سے منع فرما دیا کہ انہیں کہنے دو جو کہنا چاہتی ہیں۔

جب وہ چلی گئیں تو صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا: یہ بڑھیا کون تھیں جنہوں نے آپ کا اتنا وقت لے لیا؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ ساری رات بھی کھڑی رہتیں تو عمر یہاں سے نہ ہٹتا، سوائے فجر کی نماز کے۔ یہ بی بی خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں، جن کی بات ساتویں آسمان کے اوپر سنی گئی، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ...
(سورۃ المجادلہ)

ترجمہ: بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر کی کیا مجال تھی کہ اس عورت کی بات نہ سنتا جس کی بات ساتویں آسمان کے اوپر سنی گئی۔
(اسلام میں امانت داری کی حیثیت اور مقام، صفحہ ۱۸)

1 week ago | [YT] | 23

Learn Urdu Zaban

🌼

*اب میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتا*


سو برس پہلے کا قصہ ہوگا۔ شیخ سعید حلبی دمشق کی ایک مسجد میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے۔ اتفاق سے اس دن ان کے پاؤں میں تکلیف تھی اور وہ پاؤں پھیلائے بیٹھے تھے۔ جیسا کہ قاعدہ ہے کہ استاد پشت بہ قبلہ ہوتا ہے اور اس کے شاگرد سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، لہٰذا استاد کا چہرہ دروازے کی طرف تھا، پشت قبلے کی طرف تھی اور پاؤں دروازے کی سمت پھیلائے ہوئے تھے۔

اس وقت مصر کی خدیوی سلطنت کے بانی محمد علی پاشا کا بیٹا ابراہیم پاشا ملک بھر میں بڑا سفاک اور جلاد مشہور تھا۔ وہ شام کا گورنر تھا اور اس کی سفاکی کے قصے لوگوں کی زبانوں پر عام تھے۔ اسے خیال ہوا کہ میں حضرت سعید حلبی کا درس جا کر سنوں اور ملاقات کروں۔ وہ دروازے کی طرف آیا۔

سب کا خیال تھا کہ حضرت کو ہزار تکلیف ہو، اس موقع پر اپنا پاؤں سمیٹ لیں گے—اتنی دیر میں کیا ہو جائے گا؟ لیکن انہوں نے بالکل کوئی جنبش نہیں کی؛ نہ درس موقوف کیا اور نہ پاؤں سمیٹا۔ اسی طرح پاؤں پھیلائے رہے۔ ابراہیم پاشا پاؤں ہی کی طرف آ کر کھڑا ہو گیا۔

ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم بالکل لرزاں و ترساں تھے کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے؟ کیا ہمارے شیخ کی شہادت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگی، یا تذلیل ہوگی، مشکیں باندھ لی جائیں گی اور کہا جائے گا: لے چلو!

شہزادہ کھڑا رہا اور وہ دیر تک درس دیتے رہے؛ التفات بھی نہیں کیا اور پاؤں بھی نہیں سمیٹا۔ مگر اللہ جانے شیخ سعید کے فکر و نظر میں کیا اثر تھا کہ شہزادے نے کچھ نہیں کہا، کوئی سرزنش نہیں کی، کوئی شکایت نہیں کی اور چلا گیا۔

سننے والی بات یہ ہے کہ گورنر کچھ ایسا معتقد ہوا کہ اس نے جا کر اشرفیوں کا ایک توڑا غلام کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ شیخ کو میرا سلام دینا اور کہنا کہ یہ حقیر نذرانہ قبول فرمائیں۔ آپ جانتے ہیں انہوں نے جواب میں کیا کہا؟ یہ آبِ زر سے لکھنے والا جملہ تھا جو علم کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا۔

انہوں نے کہا:
“اپنے بادشاہ کو سلام کہنا اور کہنا کہ جو پاؤں پھیلاتا ہے وہ ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ آدمی یا تو پاؤں پھیلا لے یا ہاتھ پھیلائے—دنیا میں ایک ہی کام ہو سکتا ہے۔ جب میں نے پاؤں پھیلائے تھے، میں اس وقت سمجھتا تھا کہ اب میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔”

«إِنَّ الَّذِي يَمُدُّ رِجْلَهُ لَا يَمُدُّ يَدَهُ»
“پاؤں پھیلانے والا کبھی ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔”

انہی الفاظ کے ساتھ مورخ نے اسے نقل کیا ہے۔
(پا جا سراغِ زندگی — علی ندوی)
🌸🌹♥️🤲🌼

1 month ago | [YT] | 15

Learn Urdu Zaban

UGC NET Urdu Important Questions

3 months ago | [YT] | 3