سرکار کی جانب سے بہت بڑا اور چونکادینے والا اعلان جن شہریوں کی پیدائش رجسٹرڈ نہیں ہے وہ صرف 27 اپریل 2026 تک ہی Birth Registration کرا سکتے ہیں۔ اس تاریخ کے بعد کسی بھی صورت میں مہلت نہیں دی جائے گی، یہ حکومت نے واضح کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ The Registration of Births and Deaths (Amendment) Act, 2023 یکم اکتوبر 2023 سے پورے ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔ اب پیدائش کا سرٹیفکیٹ مختلف سرکاری کاموں میں ایک اہم بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مسلمان برادری خاص طور پر توجہ دے — پیدائش کا سرٹیفکیٹ مستقبل میں شہریت کے مضبوط ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسکول کا سرٹیفکیٹ کافی ہے — یہ غلط فہمی ہے۔ پہلے نام شامل کرنے کی آخری تاریخ 14 مئی 2020 تھی، اب اسے بڑھا کر 27 اپریل 2026 تک کر دیا گیا ہے۔ پیدائش کے سرٹیفکیٹ میں نام درج کروانے کے لیے شہریوں کو Birth and Death Registration Office میں درخواست کے ساتھ دو ثبوت پیش کرنا ہوں گے جیسے: اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ تعلیمی اسناد (10ویں / 12ویں) پاسپورٹ، پین کارڈ یا آدھار کارڈ وغیرہ مزید یہ کہ Registration of Births and Deaths Act, 1969 اور Maharashtra Birth & Death Rules 2000 کے تحت پیدائش قانونی کاروائی کے ذریعے بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔
اگر آپ یا آپ کے خاندان میں کسی کی پیدائش یا وفات کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، تو اسے فوراً رجسٹرڈ کروائیں۔ تقریباً 75 فیصد بزرگ مسلمان بھائیوں کے پاس Birth یا Marriage Certificate موجود نہیں ہے۔ اکثر لوگ صرف حج کے وقت یہ کام کرتے ہیں جو بہت دیر ہو جاتی ہے۔ اب پیدائش کا سرٹیفکیٹ تحصیل دفتر کے ذریعے بغیر قانونی کاروائی کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے مسلمان بھائی اس سے لاعلم ہیں یا لاپرواہی برت رہے ہیں — آنے والے وقت میں یہ بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ کیوں ضروری ہے؟
پیدائش کا سرٹیفکیٹ درج ذیل کاموں کیلئے لازمی ہے: اسکول/کالج داخلہ نوکری بیرونِ ملک سفر پاسپورٹ دیگر سرکاری سہولیات حکومت نے دوبارہ موقع فراہم کیا ہے کہ: جن لوگوں کی پیدائش 1969 سے پہلے یا بعد میں بغیر نام کے درج تھی، وہ آج اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ عوامی مطالبے پر ریاستی محکمہ صحت نے کیا ہے اور تمام مقامی اداروں کو اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پہلے گھروں میں ڈیلیوری عام تھی اور رجسٹریشن نہیں ہوتا تھا۔ شہروں میں بھی اسپتال ریکارڈ رکھتے ہیں مگر بہت سے خاندان مقامی اتھارٹی سے سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کرتے۔ اب حکومت نے 15 سال پرانے نام کے بغیر رجسٹرڈ ریکارڈ میں بھی نام شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ سہولت صرف 27 اپریل 2026 تک دستیاب ہے، اس کے بعد نہیں۔
کئی بار بچوں کی پیدائش رجسٹر ہوتی ہے مگر نام نہیں ہوتا۔ بعد میں نام شامل کرنا ممکن ہے — حتیٰ کہ 15 سال بعد بھی۔
کیا Birth/Death Certificate بھی آدھار کی طرح استعمال ہوسکتا ہے؟ جی ہاں۔ اب تک آدھار کارڈ اہم شناختی دستاویز تھا، مگر اب پیدائش اور وفات کا سرٹیفکیٹ بھی بین الاقوامی دستاویز کے طور پر استعمال ہوگا۔ مرکزی حکومت نے ضلع کلکٹر اور اسسٹنٹ کمشنر کو اس سلسلے میں اختیارات دے دیے ہیں_ 👉 نوٹ: براہ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں تک پہنچائیں۔
S malik
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
S malik
🌙🌙EID SPECIAL
APEX 👑 BRAND
SHAAN-E-NAWAB
MIX COTTON SOFT 🍦 MULAYAM
FULL SOTOK AVAILABLE
FINE 👌 FABRICS
NEW 🆕 VARIETY
ORIGINAL PRODUCT
ORIGINAL KOREAN TECHNOLOGY MACHINE SE BANAA HUA HAI
SUPER FINE QUALITY
RETAIL RATE 235
DILEVERY CHARG EXTRA
60 PANA
16 MITOR KE THAN AVAILABLE HAI
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
S malik
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
S malik
4 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
S malik
سرکار کی جانب سے بہت بڑا اور چونکادینے والا اعلان
جن شہریوں کی پیدائش رجسٹرڈ نہیں ہے وہ صرف 27 اپریل 2026 تک ہی Birth Registration کرا سکتے ہیں۔
اس تاریخ کے بعد کسی بھی صورت میں مہلت نہیں دی جائے گی، یہ حکومت نے واضح کر دیا ہے۔
مزید یہ کہ
The Registration of Births and Deaths (Amendment) Act, 2023
یکم اکتوبر 2023 سے پورے ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔
اب پیدائش کا سرٹیفکیٹ مختلف سرکاری کاموں میں ایک اہم بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مسلمان برادری خاص طور پر توجہ دے —
پیدائش کا سرٹیفکیٹ مستقبل میں شہریت کے مضبوط ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسکول کا سرٹیفکیٹ کافی ہے —
یہ غلط فہمی ہے۔
پہلے نام شامل کرنے کی آخری تاریخ 14 مئی 2020 تھی،
اب اسے بڑھا کر 27 اپریل 2026 تک کر دیا گیا ہے۔
پیدائش کے سرٹیفکیٹ میں نام درج کروانے کے لیے شہریوں کو Birth and Death Registration Office میں درخواست کے ساتھ دو ثبوت پیش کرنا ہوں گے جیسے:
اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ
تعلیمی اسناد (10ویں / 12ویں)
پاسپورٹ، پین کارڈ یا آدھار کارڈ وغیرہ
مزید یہ کہ
Registration of Births and Deaths Act, 1969
اور Maharashtra Birth & Death Rules 2000 کے تحت
پیدائش قانونی کاروائی کے ذریعے بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔
اگر آپ یا آپ کے خاندان میں کسی کی پیدائش یا وفات کا ریکارڈ موجود نہیں ہے،
تو اسے فوراً رجسٹرڈ کروائیں۔
تقریباً 75 فیصد بزرگ مسلمان بھائیوں کے پاس Birth یا Marriage Certificate موجود نہیں ہے۔
اکثر لوگ صرف حج کے وقت یہ کام کرتے ہیں جو بہت دیر ہو جاتی ہے۔
اب پیدائش کا سرٹیفکیٹ تحصیل دفتر کے ذریعے بغیر قانونی کاروائی کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بہت سے مسلمان بھائی اس سے لاعلم ہیں یا لاپرواہی برت رہے ہیں —
آنے والے وقت میں یہ بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
کیوں ضروری ہے؟
پیدائش کا سرٹیفکیٹ درج ذیل کاموں کیلئے لازمی ہے:
اسکول/کالج داخلہ
نوکری
بیرونِ ملک سفر
پاسپورٹ
دیگر سرکاری سہولیات
حکومت نے دوبارہ موقع فراہم کیا ہے کہ:
جن لوگوں کی پیدائش 1969 سے پہلے یا بعد میں بغیر نام کے درج تھی، وہ آج اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ عوامی مطالبے پر ریاستی محکمہ صحت نے کیا ہے اور تمام مقامی اداروں کو اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
پہلے گھروں میں ڈیلیوری عام تھی اور رجسٹریشن نہیں ہوتا تھا۔
شہروں میں بھی اسپتال ریکارڈ رکھتے ہیں مگر بہت سے خاندان مقامی اتھارٹی سے سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کرتے۔
اب حکومت نے 15 سال پرانے نام کے بغیر رجسٹرڈ ریکارڈ میں بھی نام شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ سہولت صرف 27 اپریل 2026 تک دستیاب ہے، اس کے بعد نہیں۔
کئی بار بچوں کی پیدائش رجسٹر ہوتی ہے مگر نام نہیں ہوتا۔
بعد میں نام شامل کرنا ممکن ہے —
حتیٰ کہ 15 سال بعد بھی۔
کیا Birth/Death Certificate بھی آدھار کی طرح استعمال ہوسکتا ہے؟
جی ہاں۔
اب تک آدھار کارڈ اہم شناختی دستاویز تھا، مگر اب
پیدائش اور وفات کا سرٹیفکیٹ بھی بین الاقوامی دستاویز کے طور پر استعمال ہوگا۔
مرکزی حکومت نے
ضلع کلکٹر اور اسسٹنٹ کمشنر کو اس سلسلے میں اختیارات دے دیے ہیں_
👉 نوٹ:
براہ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں تک پہنچائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
5 months ago | [YT] | 3
View 1 reply
S malik
حکیمانہ باتیں
5 months ago | [YT] | 2
View 1 reply
S malik
6 months ago | [YT] | 2
View 1 reply
S malik
7 months ago | [YT] | 2
View 1 reply
S malik
7 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
S malik
10 months ago | [YT] | 5
View 1 reply
Load more