*وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا اعلان*💻 وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم 2025 کے تحت پاکستان بھر کے طلبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ *1 لاکھ لیپ ٹاپس* تقسیم کیے جائیں گے۔ رجسٹریشن شروع ہو چکی ہے۔
*⚠️Last Date to Apply:* *20 May, 2025*
*لیپ ٹاپ کیلئے آپلائی کرنے کی اہلیت* 1:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے BS چار سالہ پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر 2021 یا اسکے بعد کروایا ہو۔
2:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے 5 سالہ پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر2020 یا اسکے بعد کروایا ہو۔
3:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے ماسٹر 2 پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر 2023 یا اسکے بعد کروایا ہو۔ 4: ایسے سٹوڈنٹس جنھوں نے MBA 1.5 سالہ پروگرام میں داخلہ 30 جون 2024 یا اس کے بعد کروایا ہو، MBA 2.5 سالہ 30 جون 2023 یا اسکے بعد کروایا ہو، MBA 3.5 سالہ 30 جون 2022 یا اسکے بعد کروایا ہو *نوٹ:* اس کے علاوہ MBA,Mphil, PhD والے بھی آپلائی کر سکتے ہیں ورچوئل یونیورسٹی اور اوپن یونیورسٹی والے بھی اہل Click on link for Apply process https://youtu.be/hbhFn8xxM8I
بینک چارجز اسکیم کیا ہے؟ بینکوں نے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت مہینے کے آخری دن آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم پر مخصوص فیصد چارج کیا جائے گا۔ یہ چارج مختلف بینکوں کے لیے مختلف ہے اور آپ کے اکاؤنٹ میں موجود بیلنس پر منحصر ہوگا۔ اس چارج کو **"End-of-Month Balance Charge"** کہا جا رہا ہے، اور یہ انفرادی افراد (individuals) اور کمپنیوں (companies) دونوں پر لاگو ہوگا۔
اس کا طریقہ کار :-
- ہر مہینے کے آخری دن (month-end)، آپ کے اکاؤنٹ میں جتنی رقم موجود ہوگی، اس پر ایک خاص فیصد کے حساب سے کٹوتی کی جائے گی۔
- یہ چارج ہر بینک کے لیے مختلف ہوگا، کچھ بینک زیادہ فیصد چارج کریں گے جبکہ کچھ کم۔
مثال کے طور پر:
1. یو بی ایل (UBL):
اگر آپ کے یو بی ایل بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 1 ارب روپے موجود ہیں، تو یو بی ایل آپ سے 6% چارج کرے گا۔
1 ارب × 6% = 6 کروڑ روپے۔
یعنی آپ کے اکاؤنٹ سے 6 کروڑ روپے کاٹ لیے جائیں گے۔
2. بینک الفلاح (Bank Alfalah):
اگر آپ کے الفلاح اکاؤنٹ میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔
5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ سے 25 کروڑ روپے کٹ جائیں گے۔
3. میزان بینک:
اگر آپ کے میزان بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو میزان بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔
5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔
- یہ چارج آپ کے پورے بیلنس پر لگے گا جو مہینے کے آخری دن آپ کے اکاؤنٹ میں موجود ہوگا، چاہے آپ نے وہ رقم پورے مہینے استعمال کی ہو یا نہیں۔
- یہ چارج انفرادی افراد (Individuals) اور کاروباری اداروں (Companies) دونوں کے لیے یکساں ہوگا۔
اس پالیسی کا مقصد :-
بظاہر اس پالیسی کا مقصد بینکوں کو زیادہ منافع بخش بنانا اور شاید کچھ مالیاتی نظام کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے کئی ممکنہ منفی اثرات ہیں.
ممکنہ نقصانات :-
یہ پالیسی متعدد مسائل اور پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے، جن کا اثر نہ صرف انفرادی افراد پر بلکہ مجموعی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ذیل میں ان نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:
1. بینک میں پیسہ رکھنے کی حوصلہ شکنی:-
لوگ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے گریز کریں گے کیونکہ اس پر اضافی چارجز لگائے جا رہے ہیں۔
- پیسہ نکالنے کا رجحان:
لوگ اپنی جمع شدہ رقم بینکوں سے نکال کر ایسے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کریں گے جہاں چارجز کا سامنا نہ ہو۔
- پراپرٹی یا زمین:
لوگ زمین خریدنے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ یہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔
- سونا یا دیگر قیمتی دھاتیں:
سونے کی خریداری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو بینکوں کی بجائے ذاتی تحفظ میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
- دیگر سرمایہ کاری کے مواقع:
اسٹاک مارکیٹ، بانڈز، یا غیر رسمی معیشت میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔
- بینکوں میں سرمائے کی کمی:
جب لوگ اپنے پیسے بینکوں سے نکال لیں گے تو بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہو جائے گا۔
- قرضوں کی فراہمی میں رکاوٹ:
بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہونے کی وجہ سے کاروباروں اور انفرادی افراد کو قرض ملنے میں مشکلات ہوں گی۔
- معیشت کی سست روی:
بینکوں کی کمزور پوزیشن معیشت کے دیگر شعبوں کو متاثر کرے گی، کیونکہ بینک سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
2. مہنگائی میں اضافہ:-
کمپنیاں جو یہ اضافی چارجز ادا کریں گی، وہ ان چارجز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کر دیں گی۔
- پیداواری لاگت میں اضافہ:
کاروباروں کے لیے اضافی چارجز ایک اضافی خرچ ہوگا، جسے وہ اپنی پروڈکٹ یا سروس کی قیمتوں میں شامل کریں گے۔
مثال کے طور پر اگر ایک کمپنی کو بینک میں موجود رقم پر 5% چارج ادا کرنا پڑے تو وہ اس خرچ کو اپنی مصنوعات کی قیمت میں شامل کرے گی تاکہ نقصان پورا کر سکے۔
-مہنگائی کا دباؤ:
- مصنوعات اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے عام عوام کے لیے روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو جائیں گی۔
- یہ مہنگائی کا ایک نیا سبب بن سکتا ہے، جو پہلے سے موجود معاشی دباؤ میں اضافہ کرے گا۔
غریب طبقے پر اثرات:
- کم آمدنی والے افراد کے لیے یہ مہنگائی زندگی مزید مشکل بنا دے گی۔
- ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن سکتا ہے۔
3. بینکنگ سسٹم کا کم استعمال:-
لوگ بینکنگ سسٹم کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش لین دین میں اضافہ:
- لوگ بینکنگ کے بجائے کیش کے ذریعے لین دین کریں گے تاکہ مہینے کے آخر میں بینک چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش پر زیادہ انحصار معیشت میں شفافیت کو کم کر دے گا۔
-معیشت پر اثرات:
- غیر رسمی معیشت (Informal Economy) میں اضافہ ہوگا، جو حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔
- حکومت کے لیے ٹیکس جمع کرنا مشکل ہوگا کیونکہ کیش ٹرانزیکشنز پر نظر رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
- ڈیجیٹل بینکنگ اور مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) کی حوصلہ شکنی ہوگی، جو معیشت کے لیے ایک نقصان دہ رجحان ہے۔
4. بینکنگ انڈسٹری پر دباؤ:-
بینکوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور صارفین کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ صارفین بینکنگ سسٹم سے دور ہو رہے ہوں گے۔
- یہ بینکوں کو اپنی دیگر خدمات کے چارجز بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
- بینکوں کی منافع بخش پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، جس سے بینکنگ سیکٹر میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
مجموعی اثرات :-
یہ پالیسی نہ صرف افراد اور کاروباروں کے لیے مسائل پیدا کرے گی بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- لوگ بینکنگ کے بجائے غیر رسمی ذرائع کو ترجیح دیں گے۔
- معیشت میں شفافیت کم ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، اور حکومت کے مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔
- اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے.
نوٹ یہ معلومات بینکس کی ویب سائٹ سے چیک کی جا سکتی ہیں.
YouTube Update By tomorrow, we'll have updated 1-3 minute Shorts to officially appear as such across YouTube:
✔ On the Shorts shelf within viewers' Subscriptions pages
✓ In the Shorts tab on your channel pages
✓ In YouTube studio
And in case you didn't catch our earlier announcements, here's a reminder on what we're talking about: As of October 15th, uploaded videos that are up to 3 minutes long + square or taller in aspect ratio began being treated as Shorts
If you don't want your uploads to be considered Shorts, you can always upload content in a wider aspect ratio (like 16:9) to have them be treated as long-form videos!
🚨آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ ادائیگیوں کا توازن برقرار رہے۔
اس میں سب سے اہم نکتہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے دیے گئے تقریباً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔ *ن لیگ کی حکومت ان تینوں قرضوں کو رول اوور کروانے میں ناکام رہی ہے۔*
سعودیوں نے اپنے قرضوں کو مؤخر کرنے کے لیے ریکوڈیک منصوبے میں سے پندرہ فیصد حصہ مانگ لیا ہے، جس کے بدلے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر دیں گے، جبکہ ریکوڈیک کی مالیت تقریباً چھ سو ارب ڈالر ہے۔ *پندرہ فیصد کا مطلب نوے ارب ڈالر ہے اور سعودی اسے ڈیڑھ ارب ڈالر میں لینا چاہ رہے ہیں۔*
اسکے علاؤہ سعودی کافی عرصے سے پاکستان سے دس لاکھ ایکڑ زمین نناوے سال پر لیز پر دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جہاں پر وہ زرعی اجناس اگا کر انہیں سعودی عرب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈی میں فروخت بھی کر سکیں۔ یہ فرمائش سعودی حکومت نے پہلی مرتبہ جنرل مشرف کے زمانہ میں کی گئی تھی اور صرف چالیس برس کیلئے تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس تجویز کیلئے پہلی مرتبہ "کارپوریٹ فارمنگ" کی اصطلاح استعمال کی تھی۔
مشرف کے زمانہ میں اسمبلی میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے زمینداروں نے حکومت کو یہ سمجھایا کہ غیر ملکی کمپنیاں تو کیمیائی کھادوں کا بےدریغ استعمال کر کے اپنی فصلیں اٹھا کر رخصت ہو جائیں گی مگر ہماری زمینیں ہمیشہ کیلئے بنجر ہو جائیں گی۔ ان کی اس بات کی تائید ڈاکٹر ظفر الطاف نے بھی کی تھی۔
مشرف حکومت کو بات سمجھ آ گئی اور انھوں نے کمال حکمت کے ساتھ بات ٹال دی۔ آج پھر وہی قصہ درپیش ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات کہیں زیادہ دگرگوں ہیں۔ غالب حد تک یہی امکان ہے کہ موجودہ حکومت سعودیوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر اپنے پیار کی پینگیں بڑھانے کیلئے یہ دونوں فرمائشیں پوری کر دے۔
چین کے اپنے مطالبات ہیں اور یو اے ای بھی سعودی نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ سے ریکوڈیک اور زمین مانگنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ *یوں زمین آپ کی، مزدور آپ کے، پانی بھی آپ کا لیکن فصل اُن کی۔* اس سے پہلے ہمارا پڑوسی ملک عمان، ہمارے ملک میں 100 ایکڑ زمین پر ایک خاص قسم کی مچھلی کے فارمز بنائے بیٹھا ہے اور اب اس کو 900 ایکڑ مزید زمین درکار ہے۔
یہ ایک نئی قسم کی کالونائزیشن ہے جسکا شکار کئی افریقی ممالک ہو چکے ہیں اور اب آپکی باری ہے۔
MP Technical
*وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا اعلان*💻
وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم 2025 کے تحت پاکستان بھر کے طلبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ *1 لاکھ لیپ ٹاپس* تقسیم کیے جائیں گے۔ رجسٹریشن شروع ہو چکی ہے۔
*⚠️Last Date to Apply:* *20 May, 2025*
*لیپ ٹاپ کیلئے آپلائی کرنے کی اہلیت*
1:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے BS چار سالہ پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر 2021 یا اسکے بعد کروایا ہو۔
2:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے 5 سالہ پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر2020 یا اسکے بعد کروایا ہو۔
3:ایسے سٹوڈینٹس جنھوں نے ماسٹر 2 پروگرام میں داخلہ 31 دسمبر 2023 یا اسکے بعد کروایا ہو۔
4: ایسے سٹوڈنٹس جنھوں نے MBA 1.5 سالہ پروگرام میں داخلہ 30 جون 2024 یا اس کے بعد کروایا ہو، MBA 2.5 سالہ 30 جون 2023 یا اسکے بعد کروایا ہو، MBA 3.5 سالہ 30 جون 2022 یا اسکے بعد کروایا ہو
*نوٹ:*
اس کے علاوہ MBA,Mphil, PhD والے بھی آپلائی کر سکتے ہیں
ورچوئل یونیورسٹی اور اوپن یونیورسٹی والے بھی اہل
Click on link for Apply process
https://youtu.be/hbhFn8xxM8I
8 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
MP Technical
https://youtu.be/-qqnPzzDsAM?feature=...
8 months ago (edited) | [YT] | 2
View 0 replies
MP Technical
https://youtu.be/kxL26FcsRDg
10 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
MP Technical
Happy New Year 2025
1 year ago | [YT] | 1
View 4 replies
MP Technical
https://youtu.be/ZnAnP0357uE
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
MP Technical
بینک چارجز اسکیم کیا ہے؟
بینکوں نے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت مہینے کے آخری دن آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم پر مخصوص فیصد چارج کیا جائے گا۔ یہ چارج مختلف بینکوں کے لیے مختلف ہے اور آپ کے اکاؤنٹ میں موجود بیلنس پر منحصر ہوگا۔ اس چارج کو **"End-of-Month Balance Charge"** کہا جا رہا ہے، اور یہ انفرادی افراد (individuals) اور کمپنیوں (companies) دونوں پر لاگو ہوگا۔
اس کا طریقہ کار :-
- ہر مہینے کے آخری دن (month-end)، آپ کے اکاؤنٹ میں جتنی رقم موجود ہوگی، اس پر ایک خاص فیصد کے حساب سے کٹوتی کی جائے گی۔
- یہ چارج ہر بینک کے لیے مختلف ہوگا، کچھ بینک زیادہ فیصد چارج کریں گے جبکہ کچھ کم۔
مثال کے طور پر:
1. یو بی ایل (UBL):
اگر آپ کے یو بی ایل بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 1 ارب روپے موجود ہیں، تو یو بی ایل آپ سے 6% چارج کرے گا۔
1 ارب × 6% = 6 کروڑ روپے۔
یعنی آپ کے اکاؤنٹ سے 6 کروڑ روپے کاٹ لیے جائیں گے۔
2. بینک الفلاح (Bank Alfalah):
اگر آپ کے الفلاح اکاؤنٹ میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔
5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ سے 25 کروڑ روپے کٹ جائیں گے۔
3. میزان بینک:
اگر آپ کے میزان بینک اکاؤنٹ میں مہینے کے آخر میں 5 ارب روپے موجود ہیں، تو میزان بینک آپ سے 5% چارج کرے گا۔
5 ارب × 5% = 25 کروڑ روپے۔
- یہ چارج آپ کے پورے بیلنس پر لگے گا جو مہینے کے آخری دن آپ کے اکاؤنٹ میں موجود ہوگا، چاہے آپ نے وہ رقم پورے مہینے استعمال کی ہو یا نہیں۔
- یہ چارج انفرادی افراد (Individuals) اور کاروباری اداروں (Companies) دونوں کے لیے یکساں ہوگا۔
اس پالیسی کا مقصد :-
بظاہر اس پالیسی کا مقصد بینکوں کو زیادہ منافع بخش بنانا اور شاید کچھ مالیاتی نظام کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے کئی ممکنہ منفی اثرات ہیں.
ممکنہ نقصانات :-
یہ پالیسی متعدد مسائل اور پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے، جن کا اثر نہ صرف انفرادی افراد پر بلکہ مجموعی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ذیل میں ان نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:
1. بینک میں پیسہ رکھنے کی حوصلہ شکنی:-
لوگ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے گریز کریں گے کیونکہ اس پر اضافی چارجز لگائے جا رہے ہیں۔
- پیسہ نکالنے کا رجحان:
لوگ اپنی جمع شدہ رقم بینکوں سے نکال کر ایسے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کریں گے جہاں چارجز کا سامنا نہ ہو۔
- پراپرٹی یا زمین:
لوگ زمین خریدنے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ یہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔
- سونا یا دیگر قیمتی دھاتیں:
سونے کی خریداری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو بینکوں کی بجائے ذاتی تحفظ میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
- دیگر سرمایہ کاری کے مواقع:
اسٹاک مارکیٹ، بانڈز، یا غیر رسمی معیشت میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔
- بینکوں میں سرمائے کی کمی:
جب لوگ اپنے پیسے بینکوں سے نکال لیں گے تو بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہو جائے گا۔
- قرضوں کی فراہمی میں رکاوٹ:
بینکوں کے پاس سرمایہ کم ہونے کی وجہ سے کاروباروں اور انفرادی افراد کو قرض ملنے میں مشکلات ہوں گی۔
- معیشت کی سست روی:
بینکوں کی کمزور پوزیشن معیشت کے دیگر شعبوں کو متاثر کرے گی، کیونکہ بینک سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
2. مہنگائی میں اضافہ:-
کمپنیاں جو یہ اضافی چارجز ادا کریں گی، وہ ان چارجز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کر دیں گی۔
- پیداواری لاگت میں اضافہ:
کاروباروں کے لیے اضافی چارجز ایک اضافی خرچ ہوگا، جسے وہ اپنی پروڈکٹ یا سروس کی قیمتوں میں شامل کریں گے۔
مثال کے طور پر اگر ایک کمپنی کو بینک میں موجود رقم پر 5% چارج ادا کرنا پڑے تو وہ اس خرچ کو اپنی مصنوعات کی قیمت میں شامل کرے گی تاکہ نقصان پورا کر سکے۔
-مہنگائی کا دباؤ:
- مصنوعات اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے عام عوام کے لیے روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو جائیں گی۔
- یہ مہنگائی کا ایک نیا سبب بن سکتا ہے، جو پہلے سے موجود معاشی دباؤ میں اضافہ کرے گا۔
غریب طبقے پر اثرات:
- کم آمدنی والے افراد کے لیے یہ مہنگائی زندگی مزید مشکل بنا دے گی۔
- ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن سکتا ہے۔
3. بینکنگ سسٹم کا کم استعمال:-
لوگ بینکنگ سسٹم کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش لین دین میں اضافہ:
- لوگ بینکنگ کے بجائے کیش کے ذریعے لین دین کریں گے تاکہ مہینے کے آخر میں بینک چارجز سے بچا جا سکے۔
- کیش پر زیادہ انحصار معیشت میں شفافیت کو کم کر دے گا۔
-معیشت پر اثرات:
- غیر رسمی معیشت (Informal Economy) میں اضافہ ہوگا، جو حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔
- حکومت کے لیے ٹیکس جمع کرنا مشکل ہوگا کیونکہ کیش ٹرانزیکشنز پر نظر رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
- ڈیجیٹل بینکنگ اور مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) کی حوصلہ شکنی ہوگی، جو معیشت کے لیے ایک نقصان دہ رجحان ہے۔
4. بینکنگ انڈسٹری پر دباؤ:-
بینکوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور صارفین کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ صارفین بینکنگ سسٹم سے دور ہو رہے ہوں گے۔
- یہ بینکوں کو اپنی دیگر خدمات کے چارجز بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
- بینکوں کی منافع بخش پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، جس سے بینکنگ سیکٹر میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
مجموعی اثرات :-
یہ پالیسی نہ صرف افراد اور کاروباروں کے لیے مسائل پیدا کرے گی بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- لوگ بینکنگ کے بجائے غیر رسمی ذرائع کو ترجیح دیں گے۔
- معیشت میں شفافیت کم ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، اور حکومت کے مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔
- اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے.
نوٹ یہ معلومات بینکس کی ویب سائٹ سے چیک کی جا سکتی ہیں.
Copy paste
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
MP Technical
YouTube Update
By tomorrow, we'll have updated 1-3 minute Shorts to officially appear as such across YouTube:
✔ On the Shorts shelf within viewers' Subscriptions pages
✓ In the Shorts tab on your channel pages
✓ In YouTube studio
And in case you didn't catch our earlier announcements, here's a reminder on what we're talking about: As of October 15th, uploaded videos that are up to 3 minutes long + square or taller in aspect ratio began being treated as Shorts
If you don't want your uploads to be considered Shorts, you can always upload content in a wider aspect ratio (like 16:9) to have them be treated as long-form videos!
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
MP Technical
🚨آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کی درخواست پر جو شرائط لگائیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس مالی سال میں واجب الادا ساڑھے چھبیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کو رول اوور کروائیں تاکہ ادائیگیوں کا توازن برقرار رہے۔
اس میں سب سے اہم نکتہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے دیے گئے تقریباً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔
*ن لیگ کی حکومت ان تینوں قرضوں کو رول اوور کروانے میں ناکام رہی ہے۔*
سعودیوں نے اپنے قرضوں کو مؤخر کرنے کے لیے ریکوڈیک منصوبے میں سے پندرہ فیصد حصہ مانگ لیا ہے، جس کے بدلے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر دیں گے، جبکہ ریکوڈیک کی مالیت تقریباً چھ سو ارب ڈالر ہے۔ *پندرہ فیصد کا مطلب نوے ارب ڈالر ہے اور سعودی اسے ڈیڑھ ارب ڈالر میں لینا چاہ رہے ہیں۔*
اسکے علاؤہ سعودی کافی عرصے سے پاکستان سے دس لاکھ ایکڑ زمین نناوے سال پر لیز پر دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جہاں پر وہ زرعی اجناس اگا کر انہیں سعودی عرب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈی میں فروخت بھی کر سکیں۔
یہ فرمائش سعودی حکومت نے پہلی مرتبہ جنرل مشرف کے زمانہ میں کی گئی تھی اور صرف چالیس برس کیلئے تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس تجویز کیلئے پہلی مرتبہ "کارپوریٹ فارمنگ" کی اصطلاح استعمال کی تھی۔
مشرف کے زمانہ میں اسمبلی میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے زمینداروں نے حکومت کو یہ سمجھایا کہ غیر ملکی کمپنیاں تو کیمیائی کھادوں کا بےدریغ استعمال کر کے اپنی فصلیں اٹھا کر رخصت ہو جائیں گی مگر ہماری زمینیں ہمیشہ کیلئے بنجر ہو جائیں گی۔ ان کی اس بات کی تائید ڈاکٹر ظفر الطاف نے بھی کی تھی۔
مشرف حکومت کو بات سمجھ آ گئی اور انھوں نے کمال حکمت کے ساتھ بات ٹال دی۔
آج پھر وہی قصہ درپیش ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات کہیں زیادہ دگرگوں ہیں۔ غالب حد تک یہی امکان ہے کہ موجودہ حکومت سعودیوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر اپنے پیار کی پینگیں بڑھانے کیلئے یہ دونوں فرمائشیں پوری کر دے۔
چین کے اپنے مطالبات ہیں اور یو اے ای بھی سعودی نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ سے ریکوڈیک اور زمین مانگنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ *یوں زمین آپ کی، مزدور آپ کے، پانی بھی آپ کا لیکن فصل اُن کی۔*
اس سے پہلے ہمارا پڑوسی ملک عمان، ہمارے ملک میں 100 ایکڑ زمین پر ایک خاص قسم کی مچھلی کے فارمز بنائے بیٹھا ہے اور اب اس کو 900 ایکڑ مزید زمین درکار ہے۔
یہ ایک نئی قسم کی کالونائزیشن ہے جسکا شکار کئی افریقی ممالک ہو چکے ہیں اور اب آپکی باری ہے۔
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
MP Technical
https://youtu.be/7JedpeoVc4g
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
MP Technical
https://youtu.be/bUK2Le6FvZw
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more