Welcome to Timeless Quranic Stories — a channel dedicated to powerful Qur’anic stories, stories of the Prophets, Islamic reminders, and timeless lessons from the Holy Qur’an. Here, you will discover the deeper meaning behind Quran stories, the hidden lessons in the lives of Prophets, the warnings from past nations, and the wisdom that still guides us today.
Our videos explore Quranic stories in a simple, emotional, and engaging way — from Prophet Yusuf, Prophet Musa, Prophet Ibrahim, Prophet Nuh, Prophet Yunus, Prophet Ayub, and Prophet Muhammad ﷺ to stories like Qarun, Fir‘awn, Aad, Thamud, and many more.
If you are looking for Islamic stories, Quran stories with lessons, stories of the Prophets, Islamic motivation, and faith-strengthening content, this channel is for you.
Subscribe for weekly videos about:
Quranic stories
Stories of the Prophets
Islamic reminders
Hidden lessons from the Qur’an
Subscribe and join us on a journey through the most powerful stories in Islam.
Silent Official
https://youtu.be/ds--TmrU_xo?si=c-Czf...
2 months ago | [YT] | 17
View 1 reply
Silent Official
میری کرسمس کا مطلب ہے ﷲ پاک کا بیٹا ہوا ہے مبارک ہو ﷲ کی پناہ، نعوذباللہ من ذلك
ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے جو مسلمان سے ایمان ختم کر دیتا ہے🔥
4 months ago | [YT] | 108
View 6 replies
Silent Official
امت کی ماؤں کے نام
ایک ماں کو دیکھ کر دل دکھتا ہے،
جو موبائل ہاتھ میں تھامے، اپنے بچے کی سوچ کو آہستہ آہستہ وقت کی قبر میں دفن کر رہی ہے۔
کیا تم جانتی ہو، ماں؟
تم وہ ہو جس کی گود پہلا مدرسہ ہے،
جس کی آغوش پہلی کتاب،
جس کی زبان پہلا سبق…
پھر یہ پہلا سبق تم نے کس کے حوالے کر دیا؟
میری آنکھوں کے سامنے ایک ایک چراغ بجھ رہا ہے…
کوئی مغربی فیشن کا اسیر ہو چکا،
کوئی گیمز اور کارٹونز میں کھو گیا،
کسی کی آنکھ سے حیاء رخصت ہو گئی،
اور کسی کی زبان سے دین اجنبی ہو گیا۔
تم کہتی ہو: ’’بچے نہیں سنتے‘‘
پر تم نے کیا سنایا؟
کیا ان کے کانوں میں قرآن کی تلاوت گونجی؟
کیا تم نے ان کے دل میں نبی ﷺ کی محبت پیدا کی؟
یا صرف مارکس، گریڈز اور مقابلہ سکھایا؟
یاد رکھو، ماں!
دنیا کی کوئی یونیورسٹی تمہاری گود کا نعم البدل نہیں۔
تمہاری آغوش میں یا تو امت کے سپاہی پلتے ہیں،
یا گمراہ نسلیں۔
تمہاری دعاؤں اور تربیت سے ہی
صلاح الدین ،محمد بن قاسم اور
طارق بن زیاد جیسے لوگ بنتے ہیں…
مگر آج وہ مائیں کہاں ہیں
جو رات کے اندھیرے میں سجدوں میں گڑگڑا کر نسلوں کے لیے دعائیں کرتی تھیں؟
جن کی انگلی پکڑ کر بچے دین، غیرت اور قربانی سیکھتے تھے؟
کیا تم اب بھی صرف دنیا کی تیاری میں مصروف ہو؟
ماں!
تمہارا کام تو نسلوں کی تربیت کرنا ہے۔
تمہارا اصل کام تاریخ بنانا ہے۔
تمہارے ہاتھوں میں امت کا مستقبل ہے،
ایک امانت ہے…
جس کا حساب تم سے لیا جائے گا!
اٹھو!
ابھی بھی وقت ہے…
کچھ چراغ بجھنے سے بچ سکتے ہیں،
کچھ دل بیدار ہو سکتے ہیں…
بس تمہیں اپنا مقام پہچاننا ہے،
اپنی گود کو پھر سے ایمان، قرآن اور غیرت سے بھر دینا ہے۔
یاد رکھو!
جب تک ماں نہیں جاگتی…
امت کبھی نہیں جاگے گی۔ا
5 months ago (edited) | [YT] | 60
View 1 reply
Silent Official
5 months ago | [YT] | 55
View 0 replies
Silent Official
یار جُلیبیب! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟
مدینہ منورہ کی گلیوں میں ایک دبلا پتلا، سانولا سا نوجوان اکثر دکھائی دیتا تھا۔ لباس سادہ، چہرے پر غربت کی لکیر، قد وقامت میں پست، شکل وصورت میں کم تر، بالکل بے سہارا، مگر آنکھوں میں ایک ایسی روشنی جو صرف ایمان والوں کے حصے میں آتی ہے۔ لوگ اسے جُلیبیب کہتے تھے۔ نہ کوئی قبیلہ اس پر فخر کرتا، نہ کسی مجلس میں آؤبھگت تھی اور نہ کسی دروازے پر استقبال۔ مگر ایک دروازہ ایسا تھا جو ہمیشہ اس کے لیے کھلا رہتا: رحمت للعالمین ﷺ کا درِ اقدس۔
حضرت جُلیبیبؓ کا کوئی معروف نسب نہیں تھا۔ محدثین فرماتے ہیں کہ وہ انصار کے قبیلے میں رہنے والے ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ اب ایک غلام کا کیا معاشرتی مقام و مرتبہ ہوتا ہے۔ مگر جو دل میں ایمان رکھتا ہو، اس کی پہچان ظاہری نہیں ہوتی اور یہی جُلیبیبؓ کی اصل شان تھی۔ اس لیے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نوجوان سے بڑی محبت تھی۔ دونوں میں گویا بے تکلفانہ دوستی بھی تھی۔
ایک دن نبیِ کریم ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:
يا جُليبيب ألا تتزوج؟!
“یار جُلیبیب! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟”
انہوں نے نگاہیں جھکائیں، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ عرض کیا:
“یا رسول اللہ! مجھ سے کون شادی کرے گا؟ نہ میرے پاس مال ہے، نہ حسب، نہ نسب۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جاؤ، انصار کے فلاں گھر جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: اپنی بیٹی کا نکاح جُلیبیب سے کر دو۔”
یہ جملہ سنتے ہی جُلیبیبؓ سر جھکائے اس گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ گھر انصار کا ایک معزز خاندان تھا اور ان کی بیٹی مدینہ کی حسین و نیک لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی۔ جب جُلیبیبؓ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا:
“رسول اللہ ﷺ تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دو۔”
تو باپ ٹھٹک گیا۔
“اے جُلیبیب! تم؟ تمہارے پاس نہ مال ہے، نہ نسب؟!”
یہ جملے ابھی ختم بھی نہ ہوئے تھے کہ اندر سے ایک پاکیزہ آواز بلند ہوئی:
“کیا تم رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو رد کرتے ہو؟ بخدا، اگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تو میں راضی ہوں۔”
یہ ایمان کی عظمت تھی، حسنِ صورت پر نہیں، بلکہ اطاعتِ رسول پر مبنی انتخاب۔
یوں ایک وہ شخص جسے مدینہ کی گلیاں بھی پہچانتی نہ تھیں، نبی اکرم ﷺ کے حکم سے ایمان و وفا کی سب سے حسین بیٹی کا شوہر بننے والا تھا۔
مگر قدرت کے فیصلے بڑے نرالے ہوتے ہیں!
ابھی شادی کی تیاریاں شروع بھی نہ ہوئی تھیں کہ مدینہ کی گلیوں میں "حی علی الجہاد" کی صدائیں بلند ہوئیں۔ جُلیبیبؓ جو نئی دلہن کے خوابوں سے وابستہ تھے، بغیر تردد کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ مؤمن کا پہلا فرض، رب کی پکار پر لبیک کہنا ہے۔
جنگ ختم ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا:
هل تفقدون من أحد؟
“کیا تم اپنے کسی ساتھی کو مفقود پاتے ہو؟”
سب نے گن گن کر نام بتائے، مگر کسی نے جُلیبیب کا ذکر نہ کیا۔ کرتا بھی کون؟ جلیبیب کو کون یاد کرے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“لیکن میں اپنے محبوب جُلیبیب کو نہیں پاتا۔”
صحابہ تلاش میں نکلے۔ کچھ فاصلے پر ایک گوشے میں جُلیبیبؓ کی لاش ملی، ان کے اردگرد سات دشمنوں کے مردہ اجسام بھی پڑے تھے جنہیں انہوں نے تنِ تنہا مار گرایا تھا، پھر خود شہادت پا گئے تھے۔
نبیِ رحمت ﷺ وہاں تشریف لائے، چہرے پر غم اور محبت کے آثار۔
آپ ﷺ نے ان کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا:
"هو مني وأنا منه، هو مني وأنا منه."
“وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں!”
پھر آپ ﷺ نے اپنے مبارک بازوؤں کو ان کے لیے چارپائی بنایا، خود قبر کھدوائی اور جب تک قبر تیار نہیں ہوئی، لاش کو اپنے بازووں کو اٹھائے رکھا۔ پھر اسے اپنی آغوش میں اٹھا کر لحد کے حوالے کردیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب زمین پر ایک گمنام غلام دفن ہو رہا تھا اور آسمانوں پر فرشتے اس کا نام دہرا رہے تھے۔
دنیا والوں کے نزدیک جُلیبیبؓ ایک معمولی انسان تھے، مگر رسول اقدس ﷺ کے نزدیک وہ “میرے جُلیبیب” تھے۔
ایمان، اطاعت اور قربانی کا وہ پیکر جسے دنیا نے بھلا دیا، مگر ربّ نے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
پروردگار! ہمیں جُلیبیبؓ جیسا بنا دے!
زمین پر گمنام، مگر تیرے نزدیک نامور
5 months ago | [YT] | 29
View 2 replies
Silent Official
وہ خودکشی کے کنارے تک پہنچ گئی تھی... لیکن اللہ نے اسے اپنی ایک عظیم سورت کے ذریعے بچا لیا۔
وہ ایک خاموش سی لڑکی تھی، چہرے پر ہلکی سی تھکن نمایاں تھی، جو صرف قریبی لوگ ہی محسوس کر سکتے تھے۔
باہر سے دیکھنے پر ایک عام سی طالبہ، محنتی اور باادب، مسکراتی ہوئی۔
مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہرا دکھ چھپا ہوا تھا
ایک سیاہ سایہ جو آہستہ آہستہ اس کی روح کو چوس رہا تھا۔
یہ ایک خبیث جنّی مسّ تھا، جو اس کے دل میں بیٹھ کر ہر وقت وسوسے ڈالتا رہتا
"زندگی ختم کر دو، اب سب ختم ہو گیا، تمہارا یہاں رہنا بے فائدہ ہے۔ مر جانا ہی تمہارے لیے بہتر ہے!"
علامات بڑی خاموشی سے ظاہر ہونے لگیں
آوازیں آنے لگیں جو اس کے ذہن کی گہرائیوں میں گونجتیں: "کیا تم اب بھی زندہ رہنا چاہتی ہو؟ کیوں نہیں ختم کر دیتی یہ سب؟"
ڈراؤنے خواب، جن میں وہ اونچی عمارتوں سے گر رہی ہوتی، کوئی اسے پکڑنے کے لیے دوڑتا، مگر وہ جاگتی تو چیخوں میں ہوتی۔
ایک اندرونی گھٹن جو ہر دن بڑھتی جاتی جیسے کوئی سیاہ ہاتھ اس کے دل کو دبا رہا ہو۔
اور ایک رات، یہ وسوسے اتنے طاقتور ہوگئے کہ اس نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
یہ عام خودکشی کا خیال نہیں تھا، بلکہ ایک باقاعدہ شیطانی حملہ تھا جو اس کی ہلاکت چاہتا تھا۔
خاندان نے گھبرا کر اسے ڈاکٹروں کے پاس لے جایا۔
دوائیاں، تھراپی، اور مشورے دیے گئے، مگر وہی سیاہ سرگوشی برقرار رہی۔
پھر ایک دن جب صبر کی حد ختم ہو گئی کچھ ایسا ہوا جو اس کی زندگی بدل گیا۔
کمرے کے ایک کونے میں، ایک پرانا مصحف (قران کریم)رکھا تھا جس پر گرد جمی ہوئی تھی۔
اس نے بے دھیانی میں اسے اٹھایا اور کھولا، جیسے کسی نادیدہ سفید ہاتھ نے اس کی انگلیوں کو رہنمائی دی ہو۔
اور نگاہ ایک ایسی آیت پر جا ٹھہری جو جیسے اس کا نام لے کر بول رہی تھی۔
یہ سورۃ "طٰهٰ" کی آیت تھی، جو اندھیرے کے مقابل دیوارِ نور بن کر کھڑی ہو گئی
"فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ..."
اور پھر وہ الفاظ جو اس کے دل کے اندر اتر گئے:
"فَإِنِّي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى"
گویا رب کہہ رہا ہو
"میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں تم پر مہربان ہوں۔"
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، اور پوری سورۃ طہٰ تلاوت کی ٹوٹے ہوئے دل اور لرزتی آواز کے ساتھ۔
پھر شفا کا سفر شروع ہوا۔
اس نے خود پر قرآن کی آیات سے رقیہ شروع کیا، ایک شرعی راقی سے علاج کروایا،
نماز، دعا، اور رات کے سجدوں میں رو رو کر کہتی
"اے میرے رب! مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔"
جیسے جیسے شیطان کا حملہ بڑھا، ویسے ویسے اس نے اپنے ورد کو تیز کر دیا
روزانہ سورۃ طہٰ اور سورۃ البقرہ کی تلاوت۔
تہجد کے وقت گڑگڑا کر دعا۔
رقیہ کے باقاعدہ سیشن اور
مستقل تحصین القرآنی
اور وقت کے ساتھ حقیقت کھلنے لگی یہ صرف نفسیاتی بیماری نہیں تھی، بلکہ ایک شیطانی حملہ تھا جو اس کی روح اور جسم دونوں کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔
پھر معجزہ ہوا
ساتویں دن وسوسے کم ہونے لگے۔
ایک مہینے بعد وہ بغیر ڈراؤنے خواب کے سو گئی۔
ڈیڑھ ماہ بعد وہ آنسوؤں کے ساتھ کہہ رہی تھی
"وہ مجھے مٹا دینا چاہتے تھے... مگر میرے رب نے، اور سورۃ طہٰ نے، مجھے واپس زندگی دی۔"
ہر غم، ہر اندھیرا، ہر "ڈپریشن" ضروری نہیں کہ محض بیماری ہو
کبھی یہ روح پر ہونے والا ایک شیطانی وار ہوتا ہے۔
قرآن صرف الفاظ نہیں یہ ہتھیار ہے، قَلعہ ہے، اور نور ہے جو سیاہی کو جلا دیتا ہے،
اگر دل سچائی کے ساتھ اس سے جڑ جائے۔
🕊️ اگر تمہیں لگتا ہے کہ وسوسے بڑھ رہے ہیں، یا اندھیرے تمہیں گھیر رہے ہیں،
تو روحانی علاج کو نظر انداز نہ کرو۔
قرآن سے حصار (تحصین )کرو، شرعی رقیہ سے رجوع کرو، اور اللہ سے مدد مانگو۔
بے شک، وہی بہترین شافی ہے۔
https://youtu.be/D0ByGNkPewc?si=WaGbT...
6 months ago (edited) | [YT] | 23
View 8 replies
Silent Official
وہ اپنے باپ کے جنازے کے قریب کھڑی تھی ۔ لوگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے۔ اچانک ایک اجنبی عورت نے آ کر اسے گلے لگا لیا۔
*"تمہارے باپ نے میری جان بچائی تھی"* عورت نے روتے ہوئے کہا۔
لڑکی حیران رہ گئی۔ باپ تو معمولی کلرک تھے۔ کیسے کسی کی جان بچائی تھی؟
عورت نے بتایا: "دس سال پہلے کی بات ہے، میں نے دریا میں چھلانگ لگا دی تھی۔ تمہارے باپ نے مجھے بچایا۔ ہسپتال میں روز آتے ، دوائیوں کا بھی انتظام کر دیتے ، خیر خیریت پوچھتے ، تسلی دیتے اور چلے جاتے !
لڑکی کو یقین نہیں آیا۔ باپ تو اتنی استعداد ہی نہیں رکھتے تھے۔
اگلے ہفتے ایک بوڑھا آیا۔ *"تمہارے باپ نے میری دکان بچائی تھی۔ میں قرض کے نیچے دب کر جان دینے جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی دے دی۔"*
لڑکی کی حیرت بڑھتی گئی۔
پھر ایک نوجوان آیا۔ *"سر نے مجھے پڑھایا تھا۔ میں سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھا سبزیاں بیچتا تھا۔ وہ روز آتے، ایک گھنٹہ پڑھاتے، سبزیاں خریدتے"*
ایک کے بعد ایک لوگ آتے رہے۔ ہر کوئی ایک نیا قصہ لے کر آتا۔ باپ کے بارے میں وہ باتیں جو لڑکی نے کبھی نہیں سنی تھیں۔
آخری دن ایک اندھی بڑھیا لڑکے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے آئی۔ *"بیٹا، تمہارے باپ نے میرا آنکھوں کا آپریشن کرانے کے لیے اپنی گاڑی بیچ دی تھی"*
لڑکی نے روتے ہوئے پوچھا: "لیکن امّاں، آپ تو اندھی ہیں؟"
بڑھیا نے مسکراتے ہوئے کہا: "ہاں بیٹا، مگر تمہارے باپ نے میری بیٹی کی شادی کرا دی۔ اب میرا بیٹا مجھے دیکھ لیتا ہے۔"
لڑکی گھر لوٹی تو باپ کے کمرے میں ایک پرانی ڈائری ملی۔ آخری صفحے پر لکھا تھا:
*"دنیا مجھے ایک غریب آدمی سمجھتی ہے۔ مگر میں نے اپنی زندگی میں ایسے خزانے جمع کیے ہیں جو کسی بینک میں نہیں ، لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔ جب میں مر جاؤں گا، تو میری بیٹی کو پتہ چلے گا کہ اس کا باپ اصل میں کتنا امیر تھا "*
لڑکی نے ڈائری سینے سے لگا لی۔ اسے اب سمجھ آئی تھی کہ باپ کی میراث روپے پیسے میں نہیں، بلکہ ان نیک کاموں میں تھی جو انہوں نے چپ چاپ کیے تھے۔
اور پھر اس نے عہد کیا کہ وہ بھی اپنی زندگی میں ایسے ہی خزانے جمع کرے گی !!!
کیا آپ بھی ایسے خزانے جمع کرنا چاہتے ہیں ؟
یقیناً جی ہاں !!!
تو پھر دیر کیسی ؟
دنیا آپ کے انتظار میں ہے
کسی کو دوائی دلوادیں
کسی کو کھانا کھلادیں
کہیں پانی کا نلکا/ مشین لگوادیں
پرندوں کے دانہ پانی کا انتظام کردیں
کسی غریب گھرانہ کا روزانہ کا دودھ اپنے ذمہ لے لیں
کسی کی بجلی کا بل / گیس کا بل وغیرہ اپنے اخراجات میں شامل کرلیں وغیرہ وغیرہ
الغرض داستانیں بکھری پڑی ہیں بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے
پھر آپ بھی اصل خزانہ کے مالک بن سکتے ہیں۔
6 months ago | [YT] | 18
View 2 replies
Silent Official
دنیا میں تین جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ زندگی کی اصل حقیقت جان سکتے ہیں، ہم کیا ہیں، ہماری اوقات کیا ہے، ہماری حسرتوں، ہماری خواہشوں اور ہماری سماجی، معاشرتی اور معاشی ترقی کی حیثیت کیا ہے اور ہماری نفرتوں، ہماری رقابتوں اور ہماری دشمنیوں کی اصل حقیقت کیا ہے؟
آپ مہینے میں ایک بار ان جگہوں کا وزٹ کرلیا کریں آپ کو اپنے ظاہر اور باطن دونوں کی اوقات سمجھ آجائے گی۔ میں اکثر ان جگہوں پر جاتا ہوں اور کسی کونے میں چپ چاپ بیٹھ کر زندگی کی اصل حیثیت دیکھتا ہوں اور پھر پوری طرح چارج ہو کر واپس آجاتا ہوں۔
یہ تین جگہیں قبرستان، اسپتال اور جیل ہیں۔ آپ کبھی اپنا سب سے قیمتی سوٹ پہنیں، شیو کریں، جسم پر خوشبو لگائیں، جوتے پالش سے چمکائیں، اپنی سب سے مہنگی گاڑی نکالیں اور شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں چلے جائیں، آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کریں، آپ تمام قبروں کا اسٹیٹس دیکھیں، آپ کو محسوس ہوگا ان قبروں میں سوئے ہوئے زیادہ تر لوگ اسٹیٹس کے لحاظ سے آپ سے کہیں آگے تھے۔ یہ لوگ آپ سے زیادہ مہنگے سوٹ پہنتے تھے، دن میں دو، دو بار شیو کرتے تھے، ان کے پاس زیادہ مہنگی پروفیومز تھیں، یہ اطالوی جوتے خریدتے تھے اور ان کے پاس آپ سے زیادہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں تھیں لیکن آج یہ مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہیں اور قبر کا کتبہ ان کی واحد شناخت رہ گیا ہے۔
آپ کو محسوس ہوگا یہ لوگ رتبے، اختیار اور تکبر میں بھی آپ سے بہت آگے تھے، مکھیاں بھی ان کی ناک پر بیٹھنے سے پہلے سو سو بار سوچتی تھیں، ہوائیں بھی ان کے قریب پہنچ کر محتاط ہو جاتی تھیں اور یہ کبھی اس زمین، اس ملک اور اس سسٹم کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے لیکن پھر کیا ہوا، ایک سانس ان کے پھیپھڑوں سے باہر نکلی اور واپس جانے کا راستہ بھول گئی اور اس کے بعد یہ لوگ دوسروں کے کندھوں پر سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے اور زندگی انھیں فراموش کر کے واپس لوٹ گئی اور اب ان کا مرتبہ، ان کے اختیارات، ان کا تکبر اور ان کی ناگزیریت دو فٹ کے کتبے میں سمٹ کر رہ گئی۔ آپ قبرستان کی کسی شکستہ قبر کے سرہانے بیٹھ جائیں، اپنے ارد گرد پھیلی قبروں پر نظر ڈالیں اور اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں میرے پاس کتنا وقت باقی ہے؟ آپ کو اس سوال کے جواب میں تاریکی، سناٹا اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
آپ اسی طرح کبھی کبھی اسپتالوں کا چکر بھی لگا لیا کریں، آپ کو وہاں اپنے جیسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے، یہ لوگ بھی چند دن، چند گھنٹے پہلے تک آپ کی طرح دوڑتے، بھاگتے، لپکتے اور شور مچاتے انسان تھے۔ یہ بھی آپ کی طرح سوچتے تھے کہ یہ زمین پر ایڑی رگڑیں گے تو تیل کے چشمے پھوٹ پڑیں گے، ان کا بھی خیال تھا یہ پاؤں مار کر زمین دہلا دیں گے اور ان کو بھی یہ گمان تھا کہ دنیا کا کوئی وائرس، کوئی جراثیم اور کوئی دھات انھیں نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن پھر ایک دن زندگی ان کے لیے عذاب بن گئی، ان کے پاؤں، ان کے ہاتھ، ان کی آنکھیں، ان کے کان، ان کا جگر، ان کا دل، ان کا دماغ اور ان کے گردے ان کے ساتھ بے وفائی کر گئے اور یہ اپنے ٹھنڈے گرم محلوں سے نکل کر اسپتال کے بدبودار کو ریڈورز کے مسافر بن گئے۔
آپ اسپتالوں کی پرائیویٹ وارڈز اور مہنگے پرائیوٹ اسپتالوں کا چکر ضرور لگایا کریں، آپ کو وہاں وہ لوگ ملیں گے جو مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اور قیمتی سے قیمتی ترین دوا خرید سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بے بسی کے عالم میں اسپتالوں میں پڑے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ انسان ڈاکٹر اور دوا تو خرید سکتا ہے لیکن شفا نہیں اور یہ لوگ قدرت کے اس قانون کے قیدی بن کر اسپتالوں میں پڑے ہیں، آپ مریضوں کو دیکھیں، پھر اپنے آپ کو دیکھیں، اللہ کا شکر ادا کریں اور صحت کی اسمہلت کو مثبت طریقے سے استعمال کریں۔
آپ جیلوں کا چکر بھی لگایا کریں، آپ کو وہاں ایسے سیکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے جو کبھی آپ کی طرح آزاد پھرتے تھے، یہ رات کے تین بجے کافی پینے نکل جاتے تھے، یہ سردیوں کی یخ ٹھنڈی راتیں اپنے نرم اور گرم بستر پر گزارتے تھے لیکن یہ کسی دن اپنے کسی حیوانی جذبے کے بہکاوے میں آگئے، یہ کسی کمزور لمحے میں بہک گئے اور طیش میں، عیش میں یا پھر خوف میں ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہوگئی جس کی پاداش میں یہ لوگ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے اور یہ اب جیل کے معمول کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
آپ سزائے موت کے قیدیوں سے بھی ضرور ملیں، آپ کو ان سے مل کر محسوس ہوگا ہم لوگ رقابت کے جذبے کو ایک لمحے کا سکھ دینے کے لیے، ہم اپنی انا کو گنے کے رس کا ایک گلاس پلانے کے لیے، ہم ایک منٹ کے لیے اپنی ناک کو دوسروں کی ناکوں سے بلند رکھنے کے لیے اور ہم دوسروں کی ضد کو کچلنے کے لیے بعض اوقات ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ موت بھی ہم پر ترس کھانے سے انکار کر دیتی ہے اور ہم جیل کی سلاخیں پکڑ کر اور اللہ سے معافی مانگ مانگ کر دن کو رات اور رات کو دن میں ڈھلتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن ہماری سزا پوری نہیں ہوتی۔
آپ جیل کے قیدیوں کو سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی بیویوں کو حسرتوں سے دیکھتے ہوئے دیکھیے، آپ ان کی کانپتی ہوئی ان انگلیوں کو دیکھیے جو اپنے بچوں کے لمس کو ترس گئی ہیں، آپ ان کے بے قرار پاؤں دیکھیے جنھیں آزادی کا احساس چکھے ہوئے کئی برس بیت گئے ہیں اور آپ ان کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے ان رت جگوں کی فصلیں بھی دیکھیے جو انھوں نے اپنی غلطی، اپنی کوتاہی اور اپنے جرم پر معافی مانگ مانگ کر اگائی ہیں لیکن قدرت یہ فصل کاٹنے پر راضی نہیں ہو رہی۔
آپ ان لوگوں کو دیکھیے، اپنے اوپر نگاہ ڈالیے اور پھر یہ سوچیے آپ پر بھی دن میں ایسے سیکڑوں ہزاروں کمزور لمحے آتے ہیں، آپ بھی لالچ کے بہکاوے میں آتے ہیں، آپ بھی غرور اور تکبر کے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھ جاتے ہیں، آپ بھی رقابت کے نرغے میں آکر دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو کھیل بنا لیتے ہیں، آپ بھی غیرت کے سیراب میں الجھ کر دوسروں کا خون پینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ بھی دوسروں کے مال کو اپنا بنانے کے منصوبے بناتے ہیں لیکن کوئی نادیدہ ہاتھ، کسی دوست کی کوئی نصیحت اور حالات کی کوئی مہربانی آپ کو روک لیتی ہے، آپ باز آجاتے ہیں۔
اور یہ بھی ہوتا ہے کہ قدرت آپ پر خاص مہربانی کرتے ہوئے آپ کی خامیوں، آپ کی کوتاہیوں، آپ کی غلطیوں، آپ کے گناہوں اور آپ کے جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہے، یہ آپ کو گواہیوں، ثبوتوں، قانون اور کچہریوں سے بچائے رکھتی ہے لیکن آپ قدرت کی اس مہربانی کو اپنی چالاکی، اپنا کمال سمجھ لیتے ہیں، آپ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں آپ چارلس سو بھراج ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قانون کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور دنیا کا کوئی قانون، کوئی ضابطہ آپ کو کبھی پکڑ نہیں سکے گا۔
آپ کو قبرستانوں، اسپتالوں اور جیلوں میں بے گناہ، معصوم اور انتہائی شریف لوگ بھی ملیں گے، یہ لوگ کبھی کوئی ضابطہ، کوئی اصول نہیں توڑتے تھے، یہ اس قدر محتاط لوگ تھے کہ یہ آب زم زم بھی ابال کر پیتے تھے، یہ دودھ، دہی اور مکھن کے لیے اپنی بھینسیں پالتے تھے اور دیسی مرغی کا شوربہ پیتے تھے، یہ ہمیشہ رات نو بجے سو جاتے تھے اور صبح پانچ بجے اٹھ جاتے تھے اور ان سے پوری زندگی کوئی بے اعتدالی، کوئی غفلت سرزد نہیں ہوئی۔
آپ ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جو آرام سے اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے، جو اپنی لینمیں گاڑی چلا رہے تھے یا فٹ پاتھ پر اپنی سمت میں جا رہے تھے اور آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جنھوں نے پوری زندگی قانون کا احترام کیا، یہ تھانے کے سامنے سے گزرتے ہوئے سر جھکا لیتے تھے اور نیلی پیلی ہر قسم کی یونیفارم کو سلام کر کے آگے جاتے تھے اور جو دوسری جنگ عظیم کے دوران بننے والے قوانین کا بھی احترام کرتے تھے اور جنھوں نے آج بھی سائیکل پر بتی لگوا رکھی تھی لیکن پھر یہ لوگ دوسروں کے کیے ہوئے جرائم میں محبوس ہوگئے، یہ بے گناہ ہونے کے باوجود قانون کے نہ کھلنے، نہ ٹوٹنے والے دانتوں میں پھنس گئے۔
آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کھیرا کاٹنے سے پہلے اسے ڈیٹول سے دھوتے تھے لیکن یہ لوگ بھی اسپتال کے مستقل مہمان بن گئے اور ایسے لوگ بھی جو فٹ پاتھ پر دوسروں کی موت کا نوالہ بن گئے، جو کسی آوارہ گولی کا نشانہ بن گئے یا پھر ان کے سر پر کوئی طیارہ آکر گر گیا، آپ ان لوگوں کو دیکھیے اور اس کے بعد اپنے اوپر نگاہ ڈالیے اور پھر سوچیے یہ طیارہ آپ پر بھی گر سکتا ہے، دوسری لین سے کوئی گاڑی اڑ کر آپ کے موٹر سائیکل، آپ کی گاڑی پر بھی گر سکتی ہے اور ڈاکٹر اچانک آپ کو بھی کینسر کا مریض ڈکلیئر کرسکتے ہیں یا پھر آپ کے دل کے اندر بھی اچانک درد کی ایک لہر دوڑ سکتی ہے اور آپ کو کلمہ تک پڑھنے کی مہلت نہیں ملتی۔
یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہوسکتا ہے، یہ ہم بھی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا آئیے! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس مہلت، اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر اس کا شکریہ ادا کریں اور کبھی کبھی جیلوں، اسپتالوں اور قبرستانوں میں بھی ایک گھنٹہ گزار لیا کریں کیونکہ یہ تین ایسی جگہیں ہیں جہاں گئے بغیر ہمیں زندگی کی اصل حقیقت، اپنی اوقات اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا اندازہ نہیں ہوسکتا ہے
پوسٹ پسند آئے تو لائک اور سبسکرئب کریں اور کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
6 months ago (edited) | [YT] | 20
View 0 replies
Silent Official
میں نے اپنے شوہر سے اس کے متعلق پوچھا تو میرے شوہر نے بتایا کہ
میری ماں نے اپنی بھابھی پر بہت ظلم کیا تھا ان کی بھابھی سے نہیں بنتی تھی انہوں نے اپنے بھائی کے لیے اپنی کوئی دوست پسند کر رکھی تھی اور ان کے بھائی یعنی میرے مامو نے کسی اور لڑکی سے شادی کر لی
انہوں نے پہلے اپنی بھابھی کو طرح طرح کے اذیتیں دی تکالیف دیں لیکن وہ برداشت کرتی رہی ان کی کوشش تھی کہ ان کا گھر چل جائے جب میری ماں کے کہنے پر ان کے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور یہ اپنی بھابی کو گھر سے نہ نکال سکیں تو پھر انہوں نے جادو ٹونے کا سہارا لیا
جادو کے ذریعے انہوں نے حالات اس نہج تک پہنچا دیے گئے ان کی بھابھی کے بچے اس کے پیٹ میں ہی مر جاتے یعنی ان کے لیے ان کی ماں کی کوکھ ہی قبر ثابت ہوتی کئی بار گھر کے اندر خود بخود اگ لگ جاتی اور جب اگ لگتی تو ان کی بھابھی کا جسم بالکل مفلوج ہو جاتا وہ صرف شور مچا پاتی تھی ہل جل نہیں سکتی تھی اب ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ جب بھی گھر میں اگ لگتی کوئی نہ کوئی بندہ گھر میں موجود ہوتا تھا جو ان کی مدد کو ا پہنچتا تھا پہلے پہل تو یہ لگا کہ اگ ان کی بھابھی کی غلطی کی وجہ سے لگتی ہے مگر بعد میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کمرے میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جس سے اگ جلائی جا سکے اور دوسری اہم وجہ بھابھی کا اپنا جسم مفلوج ہونا تھا
کئی بار اگ ان کے جسم کے قریب پہنچ جاتی تھی اور ان کا جسم تھوڑا بہت جل بھی جاتا تھا
ان حالات کو دیکھتے ہوئے میرے مامو یعنی میری امی کے بھائی نے ایک عالم دین سے رابطہ کیا انہوں نے حالات کو نزاکت کو سمجھتے ہوئے بتایا کہ یہ جادو ٹونا ہے
لیکن میں معافی چاہتا ہوں میں اس کا کوئی توڑ نہیں کر سکتا البتہ میری یہ رائے ہے کہ اپ لوگ معوذتین کا ورد کرتے رہیں امید ہے اللہ تعالی اپ کو شفا دے گا
پھر کسی اور عالم عامل سے حساب لگوایا گیا تو پتہ چلا کہ جادو کروانے والا کوئی اور نہیں بلکہ میری والدہ ہے یعنی میرے ماموں کی سگی بہن میرے ماموں نے میری ماں کے سامنے ہاتھ باندھے اور کہا کہ ہمیں اس ازمائش میں نہ ڈالو میری والدہ نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا مگر اس کو سدھارنے کی حامی نہ بھری اور صاف الفاظ میں کہا کہ تم اسے طلاق دے دو اسی میں تمہارا فائدہ ہے یہ نہ تو تمہاری نسل کو اگے بڑھا سکتی ہے اور نہ ہی یہ زیادہ عرصہ جی سکتی ہے میری والدہ کی ان الفاظ کے بعد میرے ماموں نے ہمیشہ کے لیے میری والدہ سے قطع تعلق کر لیا مگر ان کو پھر بھی کئی بار ہماری دہلیز پر انا پڑتا کیوںکہ میری ممانی کو کہیں سے بھی افاقہ نہیں ہو رہا تھا
میرے مامو ایک بہت ہی مشہور بزرگ حضرت کرماں والا شریف کے گدی نشین کو لے کر بھی میری والدہ کے پاس ائے اور ان کی منت سماجت کی مگر میری والدہ نے ان بزرگوں کا بھی کوئی احترام نہ کیا اور کہا کہ میں اس عمل سے باز نہیں آوں گی
ان بزرگوں نے میری والدہ کو مخاطب کر کے کہا کہ انہوں نے میرے پاس انے میں دیر کر دی ورنہ تمہاری اور اس عمل کی کیا جرات تھی کہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا اور پھر انہوں نے میری والدہ سے کہا کہ یاد رکھنا اس کی زندگی مشکل ہے لیکن موت اسان ہوگی جب کہ تمہاری زندگی اسان ہوگی لیکن تمہاری موت عبرت ناک ہوگی
اب جب میری والدہ کہتی ہے کہ میری بھابھی اس بزرگ کے ساتھ ا گئی ہے درحقیقت میری والدہ کو ماضی کا وہ وقت یاد اتا ہے جب میرے ماموں ان بزرگوں کو لے کر ہمارے گھر ائے تھے
خیر جب میرے شوہر کی بات مکمل ہو گئی تو میں خود بھی پریشان ہو گئی اور اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے لگی میرے شوہر نے بھی ادھر ادھر بات کی اپنے جاننے والوں سے پوچھا اور میں نے بھی اپنے جاننے والوں سے اس مسئلے کے حل کے متعلق پوچھا مگر ہم کسی منطقی فیصلہ تک نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ میرے شوہر نے یہ ذہن بنا لیا کہ
"یا تو میری ساس کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیا جائے جو ان کی دیکھ بھال کرے یا پھر ان کو انجیکشن لگوا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا جائے "
میں اپنے شوہر کے ان دونوں باتوں سے متفق نہ ہوئی میں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے اللہ تعالی ان کے اس گناہ کو معاف کر دے اور ان کے لیے کم از کم اگلی دنیا اسان کر دے میں اور میرا شوہر کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ اخر میرے شوہر نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان جائے گا جا کر ان بزرگوں سے یا پھر ان کی نسل میں سے کسی سے ملے گا اس کو سارا ماجرہ بتائے گا اور پھر ان سے اس معاملے کا حل پوچھے گا میں نے اپنے شوہر کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی اور وہ پاکستان چلا گیا
پاکستان جا کر جب وہ کرماں والا شریف کے اس وقت کے گدی نشین سے ملا اور اس کو سارا معاملہ بتایا تو گدی نشین نے کہا کہ ہم تمہارے ہی منتظر تھے پھر انہوں نے ہمیں ایک ڈائری دکھائی جس ڈائری میں وہ دن لکھا ہوا تھا جب وہ بزرگ میری ساس سے ملنے اور ان سے کہنے ائے تھے کہ اپنی بھابھی کو جینے دو اس کی زندگی کو عذاب نہ بناؤ اور میری ساس نے انکار کر دیا تھا گو کہ جو بزرگ میری ساس کے پاس ائے تھے وہ فوت ہو چکے تھے یہ ان کی اولاد میں سے کوئی بزرگ تھے انہوں نے وہ ڈائری میرے شوہر کو دکھائی جہاں یہ ذکر تھا وہیں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ جس عامل نے یہ عمل کیا ہے اس عامل کا یہ عمل اخری ہے اس عمل کے بعد وہ انسان دوبارہ کبھی کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچا سکے گا میرے شوہر نے خود یہ ہر چیز اپنی انکھوں سے پڑی اور حیران رہ گیا وہ اپنی والدہ کا سوچ کر رو پڑا اور ان سے کہا کہ اب بھی اس مسئلے کا کوئی حل ہے تو وہ بزرگ تھوڑی دیر خاموش ہوئے مراقبے کی حالت میں گئے اور پھر اپنی انکھیں کھول لیں انکھیں کھول کر فرمایا کہ اس خاتون نے تین غلطیاں کی اور تینوں بہت بڑی غلطیاں تھیں
پہلے یہ کہ مسلمان ہوتے ہوئے انہوں نے کالا جادو کروایا
دوسرا یہ کہ انہوں نے ایک انسان کو ایک مسلمان خاتون کو اتنی اذیت دی کہ اس کے بچے اس کی کوکھ میں مرتے رہے
اور تیسرا یہ کہ اس خاتون کی دہلیز پر اللہ تعالی کا ایک نیک بندہ گیا اور اس خاتون کے بھلے کی بات کی لیکن اس کے باوجود یہ خاتون اپنے ان اعمال سے باز نہ ائی اور اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہدایت کو قبول نہ کیا
اپنی بات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ بظاہر اس مسئلے کا کوئی حل میرے پاس نہیں ہے لیکن میں اپ کو ایک چیز تجویز کرتا ہوں کہ اپ اس خاتون کے ہاتھوں سے صدقہ خیرات کروائیں
کیونکہ یہ بات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی گئی ہے کہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے مصائب کو ٹال دیتا ہے مشکلوں کو ٹال دیتا ہے یقیناً اللہ کی راہ میں دیا گیا صدقہ تمہاری ماں کی تکلیف کو کچھ کم کر دے کیونکہ یہ اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی مجھے یقین ہے کہ اگر تم اپنی ماں کے ہاتھ سے صدقہ کرواؤ گے یا خود اپنی والدہ کی نیت سے اللہ تعالی کی راہ میں کچھ صدقہ خیرات کرو گے تو اس کے بدلے میں تمہاری ماں کی تکلیف میں کمی ضرور ائے گی میرے شوہر اس ملاقات کے بعد واپس گلاسگو ا گیے
واپس ا کر نہ صرف یہاں کے فلاحی اداروں کی معاونت کی بلکہ پاکستان میں بھی غریب غرباء کے لیے رقم بھیجی اور ساتھ ہی لوگوں سے دعا کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ
"دعا کرنا میری ماں کے جسم سے روح نکل جائے تاکہ اس کی تکلیف کچھ کم ہو جائے "
میری ساس تقریبا ڈیڑھ سے دو ماہ اس کی حالت میں رہی اور ڈیڑھ سے دو ماہ بعد شاید ان کے ہاتھوں سے دیے گئے صدقے کے وسیلے سے اللہ تعالی نے ان کے لیے کچھ اسانی کر دی ان کی روح پرواز کر گئی اور جان نکلنے سے پہلے انہوں نے ایک بار انکھیں کھولیں انہوں نے میرے شوہر کو بلایا ان کا ہاتھ چوما اور کہا کہ
ماؤں کے اولاد پر احسان ہوتے ہیں مگر تمہارا ماں پر احسان ہے جب میرے شوہر نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا تو اس کو حالت بتا رہی تھی کہ اس کی ماں کا اخری وقت ہے اس نے ماں کے سرہانے بیٹھ کر کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ورد شروع کر دیا میں بھی پاس بیٹھ گئی ہم لوگوں نے اونچا اونچا پڑھنا شروع کیا اور میری شوہر کی گود میں سر رکھے ہوئے میری ساس نے جان افرین کے سپرد کر دی البتہ ان کے ہاتھوں سے اور ان کے نام پر صدقہ خیرات کروانے کا میں یہ فائدہ ہوا کہ ان کو مرتے وقت کلمہ نصیب ہوا
میرا شوہر اج بھی کہتا ہے کہ میری والدہ نے پتہ نہیں اور کتنا عرصہ ازمائش دیکھنی تھی اور کتنا عرصہ تکلیف میں رہنا تھا اللہ تعالی نے اس کے لیے جو اسانی کی ہے وہ یقینا اسی صدقے کے وسیلے سے کی ہے اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدقہ اپ کو کتنی کتنی بڑی مشکلات اور اذیتوں سے نجات دلوا دیتے ہیں اگر اپ کو اللہ تعالی نے نواز رکھا ہے تو اپ مخلوق خدا پر خرچ کرنے سے بالکل بھی نہ کترائیں اپ ازما لیں اپ جتنا اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کریں گے اللہ تعالی اس سے کئی گناہ بڑھا کر اپ کو واپس لوٹا دے گا اور پتہ نہیں اپ کی کتنی کتنی مشکلیں اسان کر دے گا مسائل حل کر دے گا تکالیف اور اذیت دور کر دے گا بلائیں ٹال دے گا حادثات سے بچا لے گا میری ساس کی مثال اپ کے سامنے ہے اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
اختتام
6 months ago | [YT] | 9
View 2 replies
Silent Official
میرا نام اقصی سعید ہے میں اس وقت گلاسگو میں اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ مقیم ہوں درحقیقت میرے ساس سسر یہاں منتقل ہوئے تھے ان کی اولاد نے یہاں ہی پرورش پائی میں یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ائی تو میرے شوہر جن کا نام سعید خان ہے وہ میری ہی یونیورسٹی میں میری ہی کلاس میں تھے وہاں ہماری ہیلو ہائی ہوئی جو دوستی میں بدلی اور پھر وہ دوستی اہستہ اہستہ محبت میں بدل گئی
جب تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کے سامنے اظہار محبت کیا اس سے پہلے میں سعید کے سارے خاندان کے بارے میں جان چکی تھی اس کے والدین سے بہن بھائیوں سے ملاقات کر چکی تھی میرے والدین پاکستان میں مقیم تھے لیکن میرے والد صاحب ایک اچھے عہدے پر تھے بیوروکریٹ تھے میں نے جب اپنے والد صاحب کے سامنے اپنے دل کا حال رکھا تو وہ باقاعدہ طور پر پاکستان سے یہاں میرے پاس ائے ا کر سعید کی فیملی سے ملے اور پھر انہوں نے میری پسند پر اپنے اطمینان کا اظہار کر دیا یوں میرے والدین کی مرضی سے ہم دونوں کا نکاح کر دیا گیا
میرے والدین کی یہ خوبی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی اکثریت ایلیٹ کلاس کی طرح ہمیں ازادی نہیں دی محبت اور لاڈ پیار کے نام پر ہمیں بگڑنے نہیں دیا بلکہ باقاعدہ طور پر مذہب کی تعلیم دی اور علماء کرام سے دلوائی ہمارے دلوں میں اسلام ایمان اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جگائی ہمیں بالکل بھی بے جا لاڈ پیار نہ دیا ہمارے دل و دماغ پر اپنا ڈر قائم رکھا البتہ ہمیں ہمارے حق سے بڑھ کر پیار محبت دی اور جہاں کہیں ہم سے غلطی ہوئی وہاں ہمیں انتہائی پیار سے سمجھایا ہماری ہر مشکل میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے خیر شادی کے بعد میں سسرال ائی جن کو میں شادی سے پہلے اچھی طرح جان چکی تھی تو میرے لیے یہاں ایڈجسٹ ہونا مشکل نہ رہا کیونکہ میرے والدین نے میری ایسی تربیت کی تھی کہ اگر میرے ساتھ کسی نے کوئی اونچ نیچ کر بھی لی تو میں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہر شادی شدہ خاتون یہ بات جانتی ہے کہ سسرال میں جا کر وہاں ایڈجسٹ ہونے میں عورت کو کم سے کم چار سے پانچ سال کا عرصہ لگتا ہے اور مجھے اس سے بھی زیادہ لگا اس دوران مجھ پر میری نندوں اور ساس کی طرف سے سخت رویہ اپنایا گیا مجھے بلا وجہ بیعزت کیا گیا مجھ پر طنز کیا گیا لیکن میں نے ان سب باتوں کو نظر انداز کر دیا اور کبھی گھر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیا وقت اپنی رفتار سے گزرتا ہے گزرتا رہا میرے تین بچے پیدا ہوئے تیسرے بچے کی پیدائش سے پہلے تک میں ملازمت کرتی رہی لیکن پھر میں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنے بچوں کی پرورش پر توجہ دینے کا فیصلہ کر لیا
میری ساس اب بستر سے لگ چکی تھی وہ بالکل اٹھنے کے قابل نہ تھی یہاں تک کہ ان کا اخری وقت قریب اگیا اخری وقت میں وہ انتہائی تکلیف میں چلی گئی وہ ایک کمرے میں سانس لیتی تھی تو دوسرے کمرے تک اواز اتی تھی میرے بچے ہر وقت اس کی سانس لینے کی اواز سن کر سہمے رہتے تھے یہاں تک کہ بچوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہم نے ساتھ والا گھر کرائے پر لے لیا اور میں بچوں کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئی گو کہ میرا سارا وقت میری ساس کے پاس گزرتا بس درمیان میں اپنے بچوں کے پاس جاتی اور چکر لگاتی خاص طور پر اس وقت جب میری ساس کی کوئی نہ کوئی بیٹی اس کے پاس موجود ہوتی تھی
جب ایک ہفتہ یہی حال رہا اور ایک ہفتے کے دوران میری ساس نے صرف ایک ہی فقرا میرے شوہر سے کہا کہ
"بھابھی بابا جی کو لے کر ا گئی ہے اور بابا جی غصے میں ہیں"
وہ جب بھی ہوش میں اتی ہے صرف اسی ایک فقرے کو دہراتی حتی کہ ہوش کے دوران بھی نہ ان کی انکھیں کھلتی ہیں اور نہ ہی وہ کوئی اور بات کرتیں
بس ہم اس بات سے اندازہ لگاتے ہیں کہ جب وہ ہوش میں ہوتی ہیں اور ہم کوئی بات کرتے تو ہماری اواز کی طرف وہ اپنا چہرہ پھیرنے کی کوشش کرتی جس سے ہمیں اندازہ ہو جاتا کہ اس وقت یہ ہوش میں ہے ان کو نالیوں کے ذریعے خوراک فراہم کی جا رہی تھی اور وہ صرف یہ ایک فقرہ دہرا رہی تھی
میں نے اپنے شوہر سے اس کے متعلق پوچھا تو میرے شوہر نے بتایا کہ......
(جاری ہے)
6 months ago | [YT] | 6
View 2 replies
Load more