I’m Awais, an avid reader, a polyglot who speaks 6 languages, a travel & culture enthusiast, an ex-engineer currently working in the civil service of Pakistan.
I make videos that help you choose a career (especially in Civil Services), manage money & live happier, healthier and a more productive life.
If that sounds interesting, please consider subscribing me to watch my next video x
Awais Ali
تاریخ کا مہنگا ترین دستخط -دا ان ٹولڈ سٹوری
یہ 320 ارب ڈالر کی غلطی کی کہانی ہے اور میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ 98 فیصد لوگوں نے اسے پہلے کبھی نہیں پڑھا ہوگا. دنیا کے درجنوں ممالک میں ٹاپ سی ای اوز اور بزنس لیڈرز کو کوچ کرتے وقت جب بھی اس بارے میں بات ہوئی تو بس 1 فیصد کے آس پاس لوگ اس بارے میں جانتے تھے.
ذرا تصور کیجیے! 1976 کا سال، ایک شخص ایک ننھی مُنی، گمنام سی ٹیکنالوجی کمپنی میں اپنا دس فیصد حصہ، یعنی اپنی پوری کی پوری ملکیت، صرف آٹھ سو ڈالر کے عوض فروخت کر دیتا ہے۔ جانتے ہیں وہ کمپنی کون سی تھی؟ ایپل! جی ہاں، وہی ایپل جس کا آج ایک معمولی سا حصہ بھی آپ کو کھرب پتی بنا سکتا ہے۔ آج اُس شخص کا وہ دس فیصد حصہ، اگر اس کے پاس ہوتا، تو اس کی مالیت 320 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہوتی – اتنی رقم جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار سے بھی زیادہ ہے! مگر وہ شخص؟ آج نیواڈا کے ایک گمنام قصبے میں، سوشل سیکیورٹی کے سہارے، ایک خاموش اور سادہ زندگی گزار رہا ہے۔
یہ داستان ہے ایپل کے اُس تیسرے، فراموش شدہ بانی، رون وین کی، جو تاریخ کی شاید سب سے بڑی انفرادی دولت کو ٹھوکر مار کر اپنی راہ لے گیا۔ یکم اپریل 1976، کیلیفورنیا کا ایک چھوٹا سا گیراج، اور تین کردار ایک نیا خواب بُننے کو جمع ہوتے ہیں: ایک مفلس مگر جنونی اسٹیو جابز، ایک بے مثال تکنیکی مگر کاروباری دنیا سے نابلد اسٹیو ووزنیاک، اور ان دونوں نوجوان طوفانوں کے درمیان، 41 سالہ رون وین – جسے تجربے کی وہ چٹان سمجھ کر لایا گیا تھا جو اس نئی کشتی کو ابتدائی جھکولوں سے بچا سکے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا! دو تو تاریخ کے امیر ترین افراد میں شمار ہوئے، مگر تیسرا؟ وقت کی گرد نے اسے یوں بھلایا کہ آج بہت کم لوگ اس کا نام جانتے ہیں۔
رون وین محض ایک نام نہیں تھا؛ ایپل کی بنیاد میں اس کا خون پسینہ شامل تھا۔ کمپنی کا پہلا لوگو اسی کے ذہن اور ہاتھ کا شاہکار تھا، شراکت داری کا پہلا، تاریخی معاہدہ اسی کے قلم نے تحریر کیا، اور وہ کمپنی کے دس فیصد کا مالک تھا۔ مگر، پردے کے پیچھے، ایک انجانا خوف اسے رات بھر کروٹیں بدلنے پر مجبور کرتا رہا – ایک ایسا خوف جس کی قیمت اسے آنے والے عشروں میں اربوں ڈالر کی صورت میں چکانی پڑی۔
سوچیے، وین 41 سال کا ایک پختہ عمر شخص، جس کے پاس اپنا گھر تھا، کچھ جمع پونجی تھی، اور کندھوں پر حقیقی زندگی کی ذمہ داریوں کا بوجھ۔ دوسری طرف بیس، بائیس سال کے دو لڑکے – اسٹیو جابز اور اسٹیو ووزنیاک – جن کی جیبیں خالی تھیں مگر آنکھوں میں آسمان چھو لینے والے خواب تھے۔ وین نے دیکھا کہ جابز، اپنے ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے، ایپل کو چلانے کے لیے، دھڑا دھڑ قرض لے رہا ہے۔ اور شراکت داری کا معاہدہ؟ وہ یہ کہتا تھا کہ اگر کمپنی دیوالیہ ہوئی، تو تمام قرضوں کی ادائیگی کی ذاتی ذمہ داری بھی شراکت داروں پر آئے گی۔ یعنی، اگر ایپل ناکام ہوا، تو قرض خواہ رون وین کے گھر، اس کی جمع پونجی، سب کچھ قرق کر سکتے تھے۔ یہی خوف، یہی عدم تحفظ، اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ جابز کے دیوانہ وار خواب اسے حقیقت سے دور لگتے تھے۔
اور پھر، ایپل کے قیام کے ٹھیک بارہ دن بعد، رون وین کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے ایک فیصلہ کیا – ایک ایسا فیصلہ جو تاریخ کی کتابوں میں "مہنگی ترین غلطی" کے طور پر درج ہونے والا تھا۔ وہ سیدھا کاؤنٹی کے دفتر پہنچا، اور کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر دستخط کر دیے جنہوں نے اسے ایپل سے قانونی طور پر ہمیشہ کے لیے الگ کر دیا۔ اس 'آزادی' کی قیمت اسے کیا ملی؟ صرف آٹھ سو ڈالر! بعد میں مزید پندرہ سو ڈالر دے کر ایپل نے حساب کتاب برابر کر دیا۔ وہ چلا گیا، یہ جانے بغیر کہ وہ جس دس فیصد حصے کو کوڑیوں کے مول بیچ آیا ہے، وہ ایک دن 320 ارب ڈالر کی ایک ناقابلِ یقین سلطنت بن جائے گا۔
وین نے اٹاری میں اپنی پرانی، محفوظ نوکری دوبارہ شروع کر لی، بعد میں ڈاک ٹکٹوں کی ایک چھوٹی سی دکان بھی چلائی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا سے اس نے ایسا منہ موڑا کہ پھر کبھی پلٹ کر نہ دیکھا، نہ کبھی لاکھوں کمائے۔ جب وہ ایک سادہ، گمنام زندگی گزار رہا تھا، ایپل دنیا کا نقشہ بدل رہا تھا، ایک ایک آئی فون کے ساتھ جدت کے نئے معیار قائم کر رہا تھا۔
اور قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے! صرف ایک سال بعد، وہی ایپل ایک 'کارپوریشن' کے طور پر رجسٹر ہو گئی۔ جس کا مطلب تھا کہ اب شراکت داروں کی ذمہ داری 'محدود' ہو چکی تھی۔ یعنی، اگر رون وین صرف بارہ مہینے، صرف ایک سال، مزید انتظار کر لیتا، تو اس کا وہ قیمتی دس فیصد حصہ بھی محفوظ رہتا اور اسے کسی ذاتی مالی خطرے کا بھی سامنا نہ کرنا پڑتا! آج وہی حصہ، بغیر کسی رسک کے، 320 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہوتا۔
جیسے جیسے ایپل کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا گیا، رون وین کا وہ بارہ دن کا فیصلہ کاروباری دنیا کی تاریخ کا ایک عبرتناک باب بنتا گیا:
1980 میں IPO کے وقت وہ 7.3 ملین ڈالر سے محروم ہوا۔
1996 میں میکنٹوش کمپیوٹر کے عروج پر 113 ملین ڈالر اس کے ہاتھ نہ آئے۔
2010 میں آئی فون کے انقلاب کے دور میں وہ 2.6 ارب ڈالر گنوا بیٹھا۔
2020 میں جب ایپل دو ٹریلین ڈالر کی دیو قامت کمپنی بنی، تو اس کے حصے کے 120 ارب ڈالر ہوا میں تحلیل ہو چکے تھے۔
اور آج؟ وہی دس فیصد... 320 ارب ڈالر سے بھی زیادہ!
ایک خوف، ایک غلط اندازہ، اور صرف بارہ دنوں میں لیا گیا ایک فیصلہ... اور صدی کی سب سے بڑی دولت ہاتھ سے پھسل گئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ رون وین کا ایپل کے ساتھ کیا گیا وہ اصل معاہدہ، جس پر اس نے دستخط کر کے خود کو الگ کیا تھا، کچھ سال قبل ایک نیلامی میں 1.6 ملین ڈالر میں فروخت ہوا – یعنی اس کی غلطی کی نشانی بھی اس رقم سے 695 گنا زیادہ قیمتی ثابت ہوئی جو اسے اپنے حصے کے عوض ملی تھی!
حیرت انگیز طور پر، جب رون وین سے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، "مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں نے اس وقت کی معلومات کے مطابق بہترین فیصلہ کیا۔ اگر میں وہاں رہتا، تو شاید آج قبرستان کا سب سے امیر شخص ہوتا۔" آج بھی رون وین ایپل کی کوئی پراڈکٹ استعمال نہیں کرتا، ایک سادہ سا اینڈرائڈ فون اس کا ساتھی ہے۔ وہ دور کنارے کھڑا دیکھتا ہے کہ کس طرح وہ کمپنی، جس کی بنیاد میں اس کا بھی لہو شامل تھا، آج پوری دنیا پر راج کر رہی ہے۔
تو، رون وین کی اس ہوشربا داستان سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
خوف، کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے. خوف آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر لیتا ہے۔ وین نے ایک غیر معمولی موقع کو صرف اس لیے گنوا دیا کہ وہ ممکنہ خطرے سے ڈر گیا۔ نتیجہ؟ ناقابلِ یقین کامیابی سے محرومی۔
وقت، وقت، اور صرف وقت: ایک لمحے کی جلدبازی صدیوں کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔ اگر وین نے صرف چند ماہ مزید انتظار کیا ہوتا، تو اس کی کہانی بالکل مختلف ہوتی۔
پیسہ ہی سب کچھ نہیں... مگر کیا یہ واقعی سچ ہے؟ وین کہتا ہے اسے پچھتاوا نہیں، کیونکہ اس نے اپنی دانست میں صحیح فیصلہ کیا۔ لیکن گزرتا وقت بتاتا ہے کہ بظاہر چھوٹے نظر آنے والے فیصلے زندگی کا دھارا کیسے موڑ دیتے ہیں۔
سنہرے مواقع روز روز دستک نہیں دیتے: ایپل کا عروج ایک دیو مالائی داستان ہے، لیکن ہر کسی کو عظمت کی چوٹی سر کرنے کا دوسرا موقع نہیں ملتا۔
رون وین کی کہانی ایک زندہ جاوید یاد دہانی ہے کہ آج ہم جو فیصلے کرتے ہیں، اپنی موجودہ سمجھ بوجھ کی بنیاد پر، وہی ہمارے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ وہی فیصلے ہمیں یا تو کامیابی کی نئی کہکشاؤں تک پہنچا سکتے ہیں، یا پھر "کاش!" اور "اگر!" کے نہ ختم ہونے والے اندھیروں میں دھکیل سکتے ہیں۔
پیارے پڑھنے والے، آج، جب آپ اپنی زندگی کا کوئی اہم فیصلہ کرنے لگیں، تو دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنا بہترین قدم اٹھائیں، مگر اپنی نگاہیں ہمیشہ آنے والے کل، ایک بڑے اور روشن مستقبل پر مرکوز رکھیں!
عارف انیس
8 months ago | [YT] | 13
View 3 replies
Awais Ali
youtube.com/shorts/-wNGLXfZ_4...
9 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Awais Ali
دیبل کی دریافت
آج بہت عرصے بعد میں آوارہ گردی کی نیت سے کراچی سے باہر نکلا اور انجان منزلوں کا پیچھا کرتے کرتے اتفاقاً دیبل کی ویران بندرگاہ تک جا پہنچا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دیبل وہ علاقہ تھا جہاں محمد بن قاسم نے مقامیوں کو پہلی شکست دے کر جنوبی ایشیا پر قدم رکھا تھا اور پھر فتح کرتے کرتے اور راجہ داہر کو اروڑ میں شکست دے کر ملتان تک جا پہنچا تھا۔
میرا خیال تھا کہ دیبل کا علاقہ لسبیلہ کی طرف ہو گا مگر یہ کراچی سے ٹھٹھہ جاتے ہوئے گھارو سے ذرا پہلے دائیں جانب شروع ہوتا ہے۔ میں تو صرف ہوا چکیوں کے پاور پلانٹ دیکھنے کی غرض سے دائیں طرف مڑ گیا تھا، اور انہی کا پیچھا کرتے کرتے کیٹی بندر جانے والی سڑک پر چل نکلا۔
یہ ہم نے بچپن سے ہی بہت سنا تھا کہ جمپیر سے گھارو کی ہوا پٹی ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ پھر عملی زندگی میں آئے اور برقیات کی ایک کمپنی میں کام کیا تو پتہ چلا کہ ہوا پٹی پہ بے شمار پاور پلانٹ بن رہے ہیں۔ پھر بہت سے شناسا اور کلاس فیلو ان پلانٹس کو بنانے کے لیے یہیں منتقل ہوئے تھے۔ اب وہاں کوئی تھا تو نہیں، مگر ہوا چکیوں میں اپنا ایک حسن ہے، سو ان کا پیچھا کرتا رہا۔ ایک جگہ پہ گاڑی سے باہر نکلا تو شدید ہوا کے جھکڑ محسوس ہوئے اور سمجھ میں آیا کہ اس ہوا میں ہماری برقی توانائی بنانے کی کتنی طاقت ہے۔
بہ ہر حال، کیٹی بندر کی جانب جاتی سندھ کوسٹل ہائی وے بہت حسین ہے۔ سڑک کے دونوں جانب سمندر چھوٹی چھوٹی نہروں کی شکل میں بن جاتا ہے اور بیچ میں کہیں کہیں مینگرووز اسکے حسن کو اور بڑھاتے ہیں۔ پھر دور دور تک کھلے ، سبز میدان اور علاقے کی ویرانی۔ اس پر ہوا چکیوں کی قطاریں۔ یقین مانیے اور ہنسیے مت، مجھے یہ علاقہ ہالینڈ کے دیہی علاقوں سے بالکل ملتا جلتا لگا۔ میں ہالینڈ کے ایک قصبے المیرے میں چند دن رہا ہوں، وہاں بھی ایسی ہی ویرانی اور قدرتی، سمندری حسن تھا۔
کافی دور نکل جانے کے بعد ایک بڑا پُل آیا جس کے نیچے کچھ کشتیاں کھڑی تھیں اور ماہی گیر ان میں سو رہے تھے۔ یہ ماہی گیر روز شام کو مچھلی کے شکار کے لیے کھلے سمندر میں جا نکلتے ہیں اور صبح واپس آتے ہیں۔ وہاں ایک جگہ بورڈ لگا تھا، "دیبل بوٹنگ ورکس"۔ میں نے کہا، یہ دیبل یہاں کدھر نکل آیا، اسے تو لسبیلہ کی طرف ہونا چاہیے تھا۔ مزید تحقیق کی اور کچھ اردگرد کے چرواہوں سے، جو کبھی کبھی نظر آتے تھے، سندھی زبان میں بات کی تو پتہ چلا کہ یہ تو ایک گمشدہ شہر اور بندرگاہ کی باقیات ہیں۔ نام تھا اس کا دیبل اور راجہ تھا اس کا داہر!
ایک دریا تھا، جو کبھی اس جگہ پہ گرتا تھا، اس بندرگاہ سے سامان دریا کے راستے پورے ہندوستان میں جاتا تھا۔ زمانے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ دریا کا رخ بدل گیا، اور اب وہاں رہ گئے پیاری پیاری بھیڑوں والے چرواہے اور خوبصورت پلی ہوئی بھینسیں (سندھ میں پلی ہوئی جاندار بھینسیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں)۔
کافی دیر کھوئے ہوؤں کی بھولی داستانوں کو یاد کرتا رہا، پھر واپسی کا قصد کیا، راستے میں ایک جگہ پہ بھنبھور میوزیم کا بورڈ پڑھا تو اس میں گھس گیا۔ پھر کیا تھا، تاریخ کا ایک اور دروازہ مجھ پہ کھلا اور بہت دیر تک بھنبھور قلعہ کی باقیات پہ مٹر گشتی کرتا رہا.
1 year ago | [YT] | 18
View 1 reply
Awais Ali
*Important Essay topics to practice for CSS 2024*
1- The fault lines in Middle East can never be corrected.
2- Political Instability in Pakistan - The Way Forward
3- Can Economy of Pakistan be self sufficient anytime soon?
4- UN has failed to achieve the goals of its charter.
5- Peace in the world is utopic
6- Can the trust deficit between Iran and Pakistan be Bridged ?
7- Is peace in Balochistan possible?
8- Rising populism in the world - Challenges and Way Forward
9- Can COP-28 meet the requirements for a sustainable world?
10- Sound Local Government System is the only way to make cities engines of growth
11- Will AI make human beings useless?
*Important Essay Themes to Cover:*
Climate Change
Water Crisis
Gender issues
Disaster management
Global energy politics
Economy
Democracy
Good Governance
Food Security
Trends in Global Politics
Education system
Social Media
Most topics are covered in my Essay+Precis Recorded Course which is being offered at a very minimal price. WhatsApp at 0313-0769515 for details.
2 years ago | [YT] | 33
View 7 replies
Awais Ali
2 years ago | [YT] | 40
View 5 replies
Awais Ali
2 years ago | [YT] | 21
View 1 reply
Awais Ali
Feedback from our students.
PS Our session is going to start on Nov 9th.
For contact and details
WhatsApp us at 0313 0769515
2 years ago | [YT] | 6
View 0 replies
Awais Ali
Words by our students.
PS Our session is going to start on Nov 9th.
For contact and details
WhatsApp us at 0313 0769515
2 years ago | [YT] | 9
View 1 reply
Awais Ali
Feedback from our students.
PS Our session is going to start on Nov 9th.
For contact and details
WhatsApp us at 0313 0769515
2 years ago | [YT] | 8
View 0 replies
Awais Ali
You’re Running Out of Time for CSS 2023 and You Know It.
Don't wait contact us now to reserve your slot
Whatsapp at 03130769515
2 years ago | [YT] | 4
View 2 replies
Load more