مرزا جہلمی نے #ارشاد بھٹی و #ریحان طارق کی پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا کہ چار ماہ ہوگیے کسی ایک بشپ نے بھی میرے خلاف لکھ کر نہیں دیا کہ لفظ دج ا ل ۔۔۔۔۔اگر کسی بشپ میں جرات ہے تو وہ میرے خلاف لکھ کردے دیکھنا کرسچن اسے اگلے ہی دن چرچ سے اٹھا کر باہر پھینکیں گے ۔ بشپ اس کے خلاف پہلے سے لکھ کر دے چکے ،یہ انتہائی جھوٹا و مکار بندہ ہے ۔ مفتی محمد اظہر مدنی
مارچ کا مہینہ بہت گراں گزرتا ہے، دل غمگین ہو جاتا ہے، احساسات جگمگا اُٹھتے ہیں، دل کے آنگن میں عجیب سے خیالات رقص کرنے لگتے ہیں، تین دھائیاں قبل بچھڑا وہ شخص یاد آنےلگتاہے جسے کبھی آنکھ بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا، صرف اُس کی بے خوف آواز سُنی تھی۔۔
وہ پُردرد آواز جو دنیائےاسلام کے ہر قیامت آفرین سانحہ پر صدائے صور بن کر بلند ہو جاتی تھی۔۔ وہ بےقرار دل جو اسلام اور مسلمانوں کی ہر مصیبت پر بےتاب ہو جاتا تھا۔۔ وہ اشک آلود آنکھیں جو دین و ملت کے ہر غم میں آنسوؤں کا دریا بن جاتی تھیں۔۔
کیا آدمی تھا؟ صرف نو سال کا تھا کہ احسانِ الٰہی سے حافظ احسان الٰہی ہوگیا۔ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہوتے ہوئےمدینہ یونیورسٹی پہنچا۔وہاں سے لوٹا تو حافظ احسان الٰہی سے"حافظ احسان الٰہی ظہیر" ہوگیا۔۔ مسلکی رسالوں کی ادارت، مختلف زبانوں میں لا جواب تصانیف اور شاہین نگاہ خطابت نے اسے حافظ احسان الہی ظہیر سے "علامہ احسان الٰہی ظہیر" بنا دیا۔۔
وہ واقعی علامہ کہلانے کے سزاوار تھے، مسجد چینیاں والی لاہور سے خطابت کا آغاز کیااور دیکھتےہی دیکھتےپورےملک پر چھاگئے۔۔ عرب، یورپ اور امریکہ تک چھائے رہے۔۔
بیک وقت ادیب، خطیب، مترجم، مؤلف، مصنف، مبلغ، سیاستدان اور تاجر۔۔دیانت وامانت اورخلوص وللّٰہیت سےلبریز ایسے آدمی خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔۔
فاضل عربی، فاضل فارسی، فاضل اردو، اَلسنہ شرقیہ سے لیس تھے۔۔ چھےمضامین میں ایم اے کر رکھا تھا،لفظ’’علامہ‘‘ ان کےنام کے ساتھ بہت خوبصورت لگتا تھا، وہ واقعی علامہ تھے۔۔
سیاست میں نوابزادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو اپنا سیاسی مربی قرار دیتے تھے۔۔ ان کی سیاسی شام غریباں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔۔
بھٹو سےخوب ٹکر لی اور پوری بہادری سے انکے مقابل ڈٹے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے حامی بھی رہے اور مخالف بھی۔۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ کےبعدبرصغیر میں بےباک،جرأت مند،عزم واستقلال کاشہسوار حضرت علامہ کے علاوہ کوئی نہیں نظر آتا۔۔
ضیاء الحق کی حمایت اس لئے کی کہ شاید یہ شخص اسلام کا نفاذ کر دے، مخالفت اس لئے کی کہ ضیاء الحق اپنے دس سالہ اقتدار میں اسلام کا نفاذ کر سکا، نہ ہی جمہوریت نافذ کر سکا اور نہ ہی فحاشی و عریانی کو بند کر سکا۔۔
بقول مجیب الرحمٰن شامی وہ آغا شورش کاشمیری کے بعد ایشیاء کے سب سے بڑے خطیب تھے۔۔
مدینہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران ایک مرتبہ مسجد نبوی کے باب السعود میں نمازمغرب کےبعد عربی میں ایک جاندارتقریر کی۔فلسطین اورکشمیر کےپس منظرمیں مسلمانوں کےماضی کوآواز دی۔۔تب مسجد نبوی میں تقریر پر پابندی نہیں تھی۔۔ بھیڑ بڑھتی اور آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔سسکیاں آہوں اورکراہوں میں بدل گئیں۔اذان عشاء نےتقریر منقطع کرنے پر مجبور کر دیا۔۔
نماز کھڑی ہوگئی۔۔سلام پھری تولوگ پل پڑے۔۔اظہارِ محبت میں ماتھا چومنے لگے۔ کچھ بھیڑ چھٹی تو عرب دھرتی کے بڑے خطیب، دمشق یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی کو سامنے کھڑا پایا۔۔
نظریں ادباً جھک گئیں، ڈاکٹر صاحب آگے بڑھے، کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں سے ہو نوجوان؟ بولے: پاکستان سے۔۔ پاکستان سے؟ انہوں نےحیرت سےسوال دہرایا؟جی ہاں پاکستان سے۔۔انہوں نے علامہ کو سینےسےلگایا اوربولے: لوگ مجھےعالم عرب کا سب سے بڑا خطیب کہتےہیں لیکن میں کہتا ہوں "انت اخطب منی" تم مجھ سے بھی بڑے خطیب ہو (سفر حجاز صفحہ نمبر 53)
سیرت النبی ﷺ اور فضائل صحابہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ صحابہ کے ابتدائی حالات اور رسول اللہ ﷺ پر آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے تو اشک بار ہو جاتے۔۔ لوگوں کی بھی دھاڑیں نکل جاتیں۔ جب حسن مصطفیٰ ﷺ کا تذکرہ چھیڑتے تومحسوس ہوتا"بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول ﷺ میں"۔۔
وہ جہاں جاتے"اہل حدیثیت" انکے ہمراہ جاتی تھی۔۔ جلسہ ہو یا نجی محفل۔۔ عام گفتگو ہو یا سیاسی مجلس۔۔ ہر جگہ اپنا مسلکی تشخص برقرار رکھتےتھے۔۔لفظ"اہلحدیث"پر جرح و نقد برداشت نہ کرتے تھے۔۔
مولائے میر حضرت ابراہیم سیالکوٹیؒ، حضرت مولانا سید داؤد غزنویؒ اور مولانا اسماعیل سلفیؒ کے مشن کو لے کر آگے بڑھے۔۔ لیکن ہر عظیم شخصیت کی طرح اپناعلیحدہ تعارف بھی قائم کیا۔۔انہوں نےلفظ اہل حدیث کوگالی سمجھ کر قبول کیا اور اسےسعادت کے طور پر منوایا۔.
مختلف مذاہب ومسالک پربےشمار کتابیں لکھیں جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر نہ صرف عالم عرب بلکہ دنیا بھر میں پھیل ہوئی ہیں۔۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے براہِ راست عربی میں لکھا تھا۔.بقول مولانا محمد اسحاق بھٹی "مذاہب و مسالک پر ان کے عقائد و نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں لکھ سکا، اس میں وہ یکا و تنہا تھے"۔۔ (ہفت اقلیم)
یوں معلوم ہوتا ہے۔ جو کام سو برس میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے ان سے چند سالوں میں لے لیا۔ وہ شعلہ مستعجل ثابت ہوئے۔۔ سازشیوں کی سازش سےمنصوبہ بنا۔۔22 اور23 مارچ 1987 کی درمیانی شب قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے جب علامہ کے منہ سے نکلا۔۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
یہ الفاظ ابھی ادا نہ ہو پائے تھے کہ تباہی پھیل گئی۔ اہلحدیثوں کی بساط الٹ گئی۔مولانا قدوسیؒ،مولانا محمد خان نجیبؒ یکےبعد دیگرے اور مولانا حبیب الرحمٰن یزدانیؒ دوسرے روز شہید ہو گئے۔۔
علامہ شدید زخمی ہوئے۔۔ میو ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد شاہ فہد کی فرمائش پرانھیں ریاض ملٹری ہسپتال (سعودی عرب) پہنچایا گیا۔ لیکن قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔
اللہ تعالیٰ نےاپنےدین کےمتوالے،توحید کےرکھوالے، اور سنت کے دیوانے کو دیارِ حبیب میں بلوا کر شہادت کے خلعت سے سرفراز فرمایا۔۔ 30 مارچ 1987 کو ان کے جسد خاکی سے روح پرواز کر گئی۔۔
ریاض کی شاہی مسجد میں الشیخ عبد العزیز بن بازؒ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ ریاض کے جنازوں میں سے ایک تاریخی جنازہ تھا۔ جس میں ہزاروں اہل علم اور عام لوگوں نے شرکت کی۔۔
دوسرا جنازہ مسجد نبوی کے امام نےپڑھایا۔ اور پھر علامہ شہیدؒ کو صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، مفسرین، مجاہدین اور اولیاء کرام کے قبرستان البقیع میں دفن کردیا گیا۔۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔۔ Copied
Quranwithzia
#مرزا #جہلمی کے چیلنج پر ایک سے زائد #عیسائی #بشپ کا #فتوی لفظ دججججال بارے ۔اس کو وائرل کیجئے
مرزا جہلمی نے #ارشاد بھٹی و #ریحان طارق کی پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا کہ چار ماہ ہوگیے کسی ایک بشپ نے بھی میرے خلاف لکھ کر نہیں دیا کہ لفظ دج ا ل ۔۔۔۔۔اگر کسی بشپ میں جرات ہے تو وہ میرے خلاف لکھ کردے دیکھنا کرسچن اسے اگلے ہی دن چرچ سے اٹھا کر باہر پھینکیں گے ۔
بشپ اس کے خلاف پہلے سے لکھ کر دے چکے ،یہ انتہائی جھوٹا و مکار بندہ ہے ۔
مفتی محمد اظہر مدنی
1 week ago (edited) | [YT] | 1
View 0 replies
Quranwithzia
پہلی بار ٹکر کا بندہ ملا ہے Irshad Bhatti کو۔۔۔
امید کرتے ہیں کہ اس بار اس کی تسلی ہو جائے گی ہر لحاظ سے کیونکہ اس بار پنگا مرشد Ibtisam Elahi Zaheer صاحب کے ساتھ پڑا ہے یہاں سے تو بڑوں بڑوں کی طبیعت صاف ہو چکی ہے یہ کس کھیت کی مولی ہے۔۔۔۔🤭
#everyoneactive #everyone #friends #everyonehighlightsfollowers #trendingreelsvideo #FreePalestine
9 months ago | [YT] | 4
View 1 reply
Quranwithzia
علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کون؟
مارچ کا مہینہ بہت گراں گزرتا ہے، دل غمگین ہو جاتا ہے، احساسات جگمگا اُٹھتے ہیں، دل کے آنگن میں عجیب سے خیالات رقص کرنے لگتے ہیں، تین دھائیاں قبل بچھڑا وہ شخص یاد آنےلگتاہے جسے کبھی آنکھ بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا، صرف اُس کی بے خوف آواز سُنی تھی۔۔
وہ پُردرد آواز جو دنیائےاسلام کے ہر قیامت آفرین سانحہ پر صدائے صور بن کر بلند ہو جاتی تھی۔۔ وہ بےقرار دل جو اسلام اور مسلمانوں کی ہر مصیبت پر بےتاب ہو جاتا تھا۔۔ وہ اشک آلود آنکھیں جو دین و ملت کے ہر غم میں آنسوؤں کا دریا بن جاتی تھیں۔۔
کیا آدمی تھا؟ صرف نو سال کا تھا کہ احسانِ الٰہی سے حافظ احسان الٰہی ہوگیا۔ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہوتے ہوئےمدینہ یونیورسٹی پہنچا۔وہاں سے لوٹا تو حافظ احسان الٰہی سے"حافظ احسان الٰہی ظہیر" ہوگیا۔۔ مسلکی رسالوں کی ادارت، مختلف زبانوں میں لا جواب تصانیف اور شاہین نگاہ خطابت نے اسے حافظ احسان الہی ظہیر سے "علامہ احسان الٰہی ظہیر" بنا دیا۔۔
وہ واقعی علامہ کہلانے کے سزاوار تھے، مسجد چینیاں والی لاہور سے خطابت کا آغاز کیااور دیکھتےہی دیکھتےپورےملک پر چھاگئے۔۔ عرب، یورپ اور امریکہ تک چھائے رہے۔۔
بیک وقت ادیب، خطیب، مترجم، مؤلف، مصنف، مبلغ، سیاستدان اور تاجر۔۔دیانت وامانت اورخلوص وللّٰہیت سےلبریز ایسے آدمی خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔۔
فاضل عربی، فاضل فارسی، فاضل اردو، اَلسنہ شرقیہ سے لیس تھے۔۔ چھےمضامین میں ایم اے کر رکھا تھا،لفظ’’علامہ‘‘ ان کےنام کے ساتھ بہت خوبصورت لگتا تھا، وہ واقعی علامہ تھے۔۔
سیاست میں نوابزادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو اپنا سیاسی مربی قرار دیتے تھے۔۔ ان کی سیاسی شام غریباں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔۔
بھٹو سےخوب ٹکر لی اور پوری بہادری سے انکے مقابل ڈٹے رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے حامی بھی رہے اور مخالف بھی۔۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ کےبعدبرصغیر میں بےباک،جرأت مند،عزم واستقلال کاشہسوار حضرت علامہ کے علاوہ کوئی نہیں نظر آتا۔۔
ضیاء الحق کی حمایت اس لئے کی کہ شاید یہ شخص اسلام کا نفاذ کر دے، مخالفت اس لئے کی کہ ضیاء الحق اپنے دس سالہ اقتدار میں اسلام کا نفاذ کر سکا، نہ ہی جمہوریت نافذ کر سکا اور نہ ہی فحاشی و عریانی کو بند کر سکا۔۔
بقول مجیب الرحمٰن شامی وہ آغا شورش کاشمیری کے بعد ایشیاء کے سب سے بڑے خطیب تھے۔۔
مدینہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران ایک مرتبہ مسجد نبوی کے باب السعود میں نمازمغرب کےبعد عربی میں ایک جاندارتقریر کی۔فلسطین اورکشمیر کےپس منظرمیں مسلمانوں کےماضی کوآواز دی۔۔تب مسجد نبوی میں تقریر پر پابندی نہیں تھی۔۔ بھیڑ بڑھتی اور آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔سسکیاں آہوں اورکراہوں میں بدل گئیں۔اذان عشاء نےتقریر منقطع کرنے پر مجبور کر دیا۔۔
نماز کھڑی ہوگئی۔۔سلام پھری تولوگ پل پڑے۔۔اظہارِ محبت میں ماتھا چومنے لگے۔ کچھ بھیڑ چھٹی تو عرب دھرتی کے بڑے خطیب، دمشق یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی کو سامنے کھڑا پایا۔۔
نظریں ادباً جھک گئیں، ڈاکٹر صاحب آگے بڑھے، کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں سے ہو نوجوان؟ بولے: پاکستان سے۔۔ پاکستان سے؟ انہوں نےحیرت سےسوال دہرایا؟جی ہاں پاکستان سے۔۔انہوں نے علامہ کو سینےسےلگایا اوربولے: لوگ مجھےعالم عرب کا سب سے بڑا خطیب کہتےہیں لیکن میں کہتا ہوں "انت اخطب منی" تم مجھ سے بھی بڑے خطیب ہو (سفر حجاز صفحہ نمبر 53)
سیرت النبی ﷺ اور فضائل صحابہ ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ صحابہ کے ابتدائی حالات اور رسول اللہ ﷺ پر آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے تو اشک بار ہو جاتے۔۔ لوگوں کی بھی دھاڑیں نکل جاتیں۔ جب حسن مصطفیٰ ﷺ کا تذکرہ چھیڑتے تومحسوس ہوتا"بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول ﷺ میں"۔۔
وہ جہاں جاتے"اہل حدیثیت" انکے ہمراہ جاتی تھی۔۔ جلسہ ہو یا نجی محفل۔۔ عام گفتگو ہو یا سیاسی مجلس۔۔ ہر جگہ اپنا مسلکی تشخص برقرار رکھتےتھے۔۔لفظ"اہلحدیث"پر جرح و نقد برداشت نہ کرتے تھے۔۔
مولائے میر حضرت ابراہیم سیالکوٹیؒ، حضرت مولانا سید داؤد غزنویؒ اور مولانا اسماعیل سلفیؒ کے مشن کو لے کر آگے بڑھے۔۔ لیکن ہر عظیم شخصیت کی طرح اپناعلیحدہ تعارف بھی قائم کیا۔۔انہوں نےلفظ اہل حدیث کوگالی سمجھ کر قبول کیا اور اسےسعادت کے طور پر منوایا۔.
مختلف مذاہب ومسالک پربےشمار کتابیں لکھیں جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر نہ صرف عالم عرب بلکہ دنیا بھر میں پھیل ہوئی ہیں۔۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے براہِ راست عربی میں لکھا تھا۔.بقول مولانا محمد اسحاق بھٹی "مذاہب و مسالک پر ان کے عقائد و نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں لکھ سکا، اس میں وہ یکا و تنہا تھے"۔۔ (ہفت اقلیم)
یوں معلوم ہوتا ہے۔ جو کام سو برس میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے ان سے چند سالوں میں لے لیا۔ وہ شعلہ مستعجل ثابت ہوئے۔۔ سازشیوں کی سازش سےمنصوبہ بنا۔۔22 اور23 مارچ 1987 کی درمیانی شب قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے جب علامہ کے منہ سے نکلا۔۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
یہ الفاظ ابھی ادا نہ ہو پائے تھے کہ تباہی پھیل گئی۔ اہلحدیثوں کی بساط الٹ گئی۔مولانا قدوسیؒ،مولانا محمد خان نجیبؒ یکےبعد دیگرے اور مولانا حبیب الرحمٰن یزدانیؒ دوسرے روز شہید ہو گئے۔۔
علامہ شدید زخمی ہوئے۔۔ میو ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد شاہ فہد کی فرمائش پرانھیں ریاض ملٹری ہسپتال (سعودی عرب) پہنچایا گیا۔ لیکن قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔
اللہ تعالیٰ نےاپنےدین کےمتوالے،توحید کےرکھوالے، اور سنت کے دیوانے کو دیارِ حبیب میں بلوا کر شہادت کے خلعت سے سرفراز فرمایا۔۔ 30 مارچ 1987 کو ان کے جسد خاکی سے روح پرواز کر گئی۔۔
ریاض کی شاہی مسجد میں الشیخ عبد العزیز بن بازؒ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ ریاض کے جنازوں میں سے ایک تاریخی جنازہ تھا۔ جس میں ہزاروں اہل علم اور عام لوگوں نے شرکت کی۔۔
دوسرا جنازہ مسجد نبوی کے امام نےپڑھایا۔ اور پھر علامہ شہیدؒ کو صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، مفسرین، مجاہدین اور اولیاء کرام کے قبرستان البقیع میں دفن کردیا گیا۔۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔۔
Copied
9 months ago | [YT] | 10
View 0 replies
Quranwithzia
@IslamicGroup Answer please
11 months ago | [YT] | 5
View 2 replies
Quranwithzia
آج کی سب سے بھترین تصویر ❤️
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
..
..
..
..
.
#writes
#islamabadbeautyofpakistan #Islamabad
#islamicrepublicofpakistan #pakistan #beautifuldestinations #ApnaHaLEDiLSialkot
#beauty #blogger #bloggersofinstagram #margallahills #mountains #li #dawndotcom #morning #northernareasofpakistan #rain #winter #islamabad #lahore #trending #rain #etribune #potraitphotography #mountainview #lhr
#LahoreRang #Lahore #lahorephotography
1 year ago | [YT] | 6
View 0 replies