جملہ اسمیہ ۔ جملہ اسمیہ اُس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور جس کے آخر میں فعل ناقص آئے۔
مثالیں
جیسے عمران بڑا ذہین ہے۔ اس جملے میں عمران مسند الیہ، بڑا ذہین مسند اور ہے فعل ناقص ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزا۔ جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل تین اجزا ہیں۔
1۔ مبتدا
2۔متعلق خبر
3۔ خبر
4۔ فعل ناقص
1۔ مبتدا ۔ مسند الیہ کو مبتدا کہتے ہیں جیسے عمران بڑا ذہین ہے میں عمران مبتدا ہے۔
2۔ خبر ۔ مسند کو خبر کہا جاتا ہے کیسے عمران بڑا ذہین ہے میں بڑا ذہین خبر ہے۔
3۔ فعل ناقص ۔ فعل ناقص وہ فعل ہوتا ہے جو کسی کام کے پورا ہونے کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔
مثالیں
اسلم بیما رہے، اکرم دانا تھا، عرفان بہت چالاک نکلا، چاند طلوع ہوا اِن جملوں میں ہے، تھا، نکلا اور ہوا ایسے فعل ہیں جن سے پڑھنے، لکھنے اور کھانے پینے کی طرح کسی کام کے کیے جانے یا ہونے کا تصور نہیں ملتا۔
چند افعال ناقص
پے، ہیں، تھا، تھے، تھیں، ہوا، ہوگا، ہوئے، ہوں گے، ہو گیا، ہو گئے، بن گیا، بن گئے نکلا، نکلے اور نکلی وغیرہ۔
چند اسمیہ جملے (مع اجزا)
مسند الیہ (مبتدا) مسند (خبر) فعل ناقص عمران ذہین ہے عرفان نیک تھا امجد کامیاب ہو گیا ارشد فیل ہوا اکبر افسر بن گیا (نوٹ): اسمیہ جملے میں سب سے پہلے مبتدا پھر خبر اور آخر میں فعل ناقص آتا ہے۔
جملہ فعلیہ ۔ جملہ فعلیہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم ہو اور مسند فعل جملہ فعلیہ میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام آتا ہے جس سے کام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔
مثالیں
سلیم دوڑا، اسلم آیا، حنا نے کتاب پڑھی، اکرم نے نماز پڑھی وغیرہ۔
جملہ فعلیہ کے اجزا جملہ فعلیہ کے تین اجزا ہیں
1۔ فاعل
2۔ مفعول
3۔ فعل تام
1۔ فاعل مسند الیہ کو فاعل کہا جاتا ہے جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں سلیم فاعل ہے۔
2۔ مفعول مسند کو مفعول کہتے ہیں جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں نماز مفعول ہے۔
3۔ فعل تام آخر میں آنے والے فعل کو فعل تام کہتے ہیں جیسے سلیم میں نماز پڑھی اس جملے میں پڑھی فعل تام ہے۔
الفاظ کے ایسے مسلسل مجموعے کو جملہ کہتے ہیں جس سے سننے والا بات کو پوری طرح سمجھ لے اور اس کا مفہوم حاصل کرلے چاہے بات تقریر میں ہو یا تحریر میں۔جملے کے دو اصل عنصر ہوتے ہیں۔
١-مُبتدا :
جب کسی شخص یا چیز کا ذکر کیا جائے تو اسے مبتدا کہتے ہیں۔
٢-خبر :
جو کچھ بھی مبتدا کے بارے میں کہا جائے اسے خبر کہتے ہیں۔ جملے کےدو بڑے جزو
١-مُسند الیہ :
مُسندالیہ جملہ کا وہ جزو ہے کہ جس کی نسبت کچھ کہا جائے۔
٢-مُسند :
مسند جملے کا وہ جزو ہے جس میں کسی شخص یا چیز کی بابت کچھ کہا جائے۔ آئیےمُسندد اور مُسند الیہ کو مثالوں سے سمجھتے ہیں۔
چیزیں دکانوں پر سجی ہوئی ہیں۔ رات گزر گئی۔ دن چڑھ آیا۔ چور بھاگ گیا۔ ہوا چل رہی ہے۔ دیکھو اوپر کے جملوں کے دو بڑے بڑے جز ہیں۔
چیزیں. دکانوں پر سجی ہوئی ہیں رات گزر گئی دن چڑھ آیا چور بھاگ گیا ہوا چل چلی ہے۔
پہلا جزو مثلاً:-چیزیں، رات، دن ،چور، اور ہوا ایسی چیزیں ہیں کہ جن کی بابت کچھ کہا گیا ہے ایسے جزو کو مسند الیہ کہتے ہیں نمبر ٢ کے جزو مثلاً:-دکانوں پر سجی ہوئی ہیں، گزر گئی، چھڑ آیا، بھاگ گیا اور چل رہی ہے ایسے الفاظ ہیں جن میں مسندالیہ کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے ایسے جزو کو مسند کہتے ہیں۔
(الف) ترکیب یا صورت کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں۔
(1) مفرد جملہ:
مفرد جملہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں صرف ایک مسندالیہ ہو اور ایک مسند ہو۔ مثلاً:– احمد لکھتا ہے، خواجہ کھاتا ہے وغیرہ۔
(2) مرکب جملہ:
مرکب جملہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں دو یا دو سے زیادہ مفرد جملے ملکر ایک مفہوم یا خیال کو ظاہر کریں۔ مثلاً:-ساجد اگر نہیں گیا تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔
مرکب جملہ کی دو قسمیں ہیں
(1) مرکب مطلق:
اس مرکب جملہ کو کہتے ہیں جس میں ہر مفرد جملہ جدا گانہ برابر کی حیثیت رکھتا ہے اور معنی کے لحاظ سے دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا۔ مثلاً:-احمد آیا۔اور شیر چلا گیا۔
(2) مرکب ملتف:
اس مرکب جملے کو کہتے ہیں جس میں ایک جملہ اصل ہوتا ہے اور باقی جملے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔جب تک ذیلی جملہ اصلی جملے سے ملا کر استعمال نہیں ہوتا اس وقت تک پورا مطلب بیان نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً: وہ کتاب جو گم ہوگئی تھی، مل گئی ہے۔ اس میں "وہ کتاب مل گئی”اصل جملہ ہے اور "جو گم ہوگئی تھی” ذیلی جملہ ہے۔معنی اور مطلب کے لیے دونوں کا ہونا ضروری ہے۔
(ب) معنی کے لحاظ سےجملے کی دو قسمیں ہیں:
(1) جملہ خبریہ:
اس جملہ کو کہتے ہیں جس سے کسی واقعہ کی خالت کی خبر ملے۔ مثلاً:-عادل آ گیا۔ فرید چلا گیا۔ خواجہ چالاک ہے۔ وغیرہ۔
(2) جملہ انشائیہ:
اس جملے کو کہتے ہیں جو کسی حکم یا استفہام یا انبساط یا تعجب یا تنبیہ اور دعا وغیرہ جیسے جذبات کو ظاہر کرے۔ مثلاً:- کاش! وہ آگے آتا۔ یہ کام کرنا اچھا نہیں۔ ماشااللہ! کیا خوب بات کہی ہے۔ وغیرہ۔
(ج) مُسند کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں
جملہ اسمیہ:
اس جملے کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسندالںہ دونوں موجود ہوں۔مثلا:- رام ذہین لڑکا ہے۔اس میں رام (مسند الیہ) اور ذہین لڑکا (مسند) ہے۔جملہ اسمیہ کے مسندالیہ کو مبتدا اور مسند کو خبر کہتے ہیں۔ جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل ارکان ہوتے ہیں۔
١-مبتدا:-اس اسم کو کہتے ہیں جس کی طرف کوئی اسم یا فعل منسوب ہوتا ہے۔ ٢-خبر:-اسے کہتے ہیں جو مبتدا کی طرف منسوب ہو۔ ٣-فعل ناقص:-وہ فعل ہے جس سے بات پوری نہ ہو۔ ٤-مسند اور مسندالیہ کی توسیع یا متعلقات خبر و مبتدا۔ مثلاً:-چاند روشن ہے۔ اس جملے میں چاند (مبتدا) روشن (خبر) اور ہے (فعل ناقص) ہے۔ موہن گھر میں نہ تھا۔اس جملے میں موہن (مبتدا) ہے،نہ تھا (فعل ناقص) ہے،اور گھر میں (متعلق خبر) ہے۔
جملہ اسمیہ کی پہچان کیسے کریں:
١-اگر فعل ناقص ہے تو جملہ اسمیہ ہوگا۔ اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہوگا۔ ٢-جملہ اسمیہ میں دو اسم ہوتے ہیں۔دونوں اسموں میں ایک اسم معرفہ اور دوسرا اسم نکرہ ہو تو معرفہ کو مبتدا اور نکرہ کو خبر کہتے ہیں۔ ٣-اگر ایک اسم ذات ہوں اور ایک اسم صفت ہو تو اس ذات کو مبتدا اور صفت کوخبر کہتے ہیں۔ ٤-اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو پہلے کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔ ٥-اگر دونوں اسم نکرہ ہوں تو جو زیادہ خاص ہو وہ مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔ ٦-مبتدا عام طور پر پہلے آتا ہے اور خبر بعد میں۔ ٧-بعض اوقات مبتدا یا خبر یا فعل ناقص حذف ہوجاتا ہے۔ ٨-خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی مرکب ہوتی ہے۔ ٩-بعض اوقات مبتدا کی کئ خبریں ہوتی ہیں۔ ١٠-بعض اوقات مبتدا مفرد ہوتا ہے اور کبھی مرکب ہوتا ہے۔ ١١-بعض اوقات مبتدا اور خبر دونوں محذوف ہوتے ہیں۔
جملہ فعلیہ:
اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم یا فاعل، اور مسند فعل ہو۔مثلاً:-احمد نے کھانا کھایا۔اس میں احمد (فاعل یا اسم) کھانا (مفعول) اور کھایا (فعل) ہے۔
جملہ فعلیہ کے مندرجہ ذیل ارکان ہیں۔
١-فاعل:-وہ اسم جس کی ذات پر فعل واقع ہو ٢-مفعول:-وہ اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ ٣-فعل:-وہ کام جو فاعل سے صادر ہو۔ ٤-فعل تام:-وہ فعل جس سے جملے کی تکمیل ہو۔ ٥-مفعول اور فعل کی توسیع یا مطلقات فعل۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ جس کے بارے میں ذکر کیا جائے اسے مسند الیہ اور جو کچھ ذکر کیا جائے اسے مسند کہتے ہیں۔ افعال تام کے مسندالیہ کو فاعل اور مسند کو مفعول کہتے ہیں۔ افعال ناقص کے مسندالیہ کو مبتدا اور مسند کو خبر کہتے ہیں۔
جملہ فعلیہ کی پہچان کیسے کریں۔
١-سب سے پہلے فعل پر نظر کیجیے اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہہوگا ٢-اگر جملہ میں فعل لازم ہوگا تو جملہ فاعل پر ختم ہوتا ہے ٣-اگر فعل متعدی ہو تو مفعول ضرور آتا ہے۔ ٤-بعض اوقات متعدی افعال کے دو مفعول ہوتے ہیں پہلے کو مفعول بہ اور دوسرے کو مفعول ثانی کہتے ہیں۔ ٥-جملہ فعلیہ میں اجزا کی ترتیب یوں ہوتی ہے فاعل، مفعول،متعلق فعل،مگر متعلق فعل کبھی مفعول سے پہلے آتا ہے اور کبھی بعد میں۔ ٦-فعل جب فقروں کے شروع میں آئے تو زور ظاہر ہوتا ہے۔ ٧-کلام میں زور پیدا کرنے کی غرض سے کبھی مفعول پہلے بھی آسکتا ہے۔ ٨-بعض اوقات جملے میں فاعل کو حذف کردیا جاتا ہے۔ ٩-بعض اوقات جملے میں فاعل اور مفعول دونوں حذف کر دیے جاتے ہیں۔ ١٠-کبھی جملہ میں فعل اور فاعل دانوں حذف ہوتے ہیں۔ ١١-فعل مجہول میں فاعل نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ مفعول آتا ہے۔ ١٢-ترکیب نحوی کے لحاظ سے جملہ فعلیہ میں سب سے پہلے فعل، پھرفاعل پھر مفعول اور آخر میں متعلقات فعل لکھے جاتے ہیں۔
خواتین ناول نگار اور افسانہ نگار گذشتہ صدی میں خواتین ناول اور افسانہ نگاروں نے جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ اردو ادب کا دامن معرکتہ ا لآراء ناولوں سے بھر دیا۔ پہلی خاتون ناول نگار ’’رشیدہ النساء‘‘ ہیں جنہوں نے ۱۸۸۱ میں ناول ’’اصلاح النساء ‘‘ لکھا تھا۔ڈپٹی نذیر احمد اور اس دور کے دیگر ناول نگاروں کی طرز پر لکھا ہوا یہ ناول ان کے صاحب زادے محمد سلیمان نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا۔جب وہ ولایت سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر کے واپس آئے۔اس کی ابتدائی اشاعتوں پر مصنفہ کے بجائے والدہ محمد سلیمان لکھا گیا ہے۔یہ کتاب نایاب تھی اس کا نیا ایڈیشن ۲۰۰۰ء میں مصنفہ کے اصل نام سے چھپا ہے۔اصلاح النساء کی اشاعت میں ۱۳ سال کی تاخیر، اس کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں مصنفہ کا نام نہ ہونا اور سارے مردانہ رشتوں کے حوالے اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ انیسویں صدی کے اختتام تک ادب کے میدان میں قدم رکھنا محال تھا۔ تا ہم بیسویں صدی کے وسط میں خواتین ناول نگارں نے وہ معرکہ انجام دیا کہ اردو ادب کی تاریخ ان کے ناول اور افسانوں کے حوالے کے بغیر لکھنا ممکن نہیں رہا۔عصمت چغتائی کا ناول ’’ ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور قرۃ العین حیدرکا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ اردو کے اہم ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے پہلے بیگم نذر سجاد حیدر اور بیگم حجاب امتیاز علی تاج کی تحریریں پڑھنے والوں کی توجہ حاصل کرچکی ہیں۔مگر عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں نے قارئین اور ناقدین پر مطالعے کے نئے باب کھولے۔ عصمت چغتائی کا ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور افسانہ ’’لحاف ‘‘ نسائی اظہار کی بہت واضح مثال ہے۔ٹیڑھی لکیر میں عصمت چغتائی نے بہت جرأت سے اس نسائی شعور کا اظہارکر دیا ہے جو اس وقت تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اسی طرح قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ نقادوں کے مطابق جن میں ژولیا کر سٹیوا سر فہرست ہیں،عورت کے تصور وقت کی مثال پیش کرتا ہے۔قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی شعور کا مکمل ادراک و اظہار ملتا ہے اور کہیں کہیں بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔’’اگلے جنم موہے بٹیانہ کی جیو ‘‘ اس کی مثال ہے۔
ترقی پسند تحریک خواتین کے لئے خصوصاً افسانہ نگار اور ناول نگار خواتین کے لئے بہت ساز گار ثابت ہوئی جس نے ڈاکٹر رشید جہاں، صدیقہ بیگم سہاروی،عصمت چغتائی، خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور جیسی لکھنے والیوں کو سامنے لا کر یہ غلط فہمی دور کر دی کہ خواتین کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتیں۔خدیجہ مستور کے ناول ’’ آنگن ‘‘ کی پذیرائی ہوئی۔ان کے فوراً بعد جمیلہ ہاشمی کے ناول ’’تلاش بہاراں ‘‘ اور ’’ دشت سوس‘‘ الطاف فاطمہ کا ناول’’ دستک نہ دو ‘‘ رضیہ فصیح احمد کا ناول ’’آبلہ پا ‘‘ مقبول ہوئے۔ہاجرہ مسرور ،بیگم اخترجمال،نثار عزیز بٹ، خالد ہ حسین،فرخندہ لودھی کی تحریروں نے ادبی مقام حاصل کیا۔ بانو قدسیہ اپنے افسانوں،ناولوں اور ڈراموں کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوئیں اور بہت معتبر حوالہ بنیں۔ زاہدہ حنا۔رشیدہ رضویہ،فردوس حیدر،نیلم بشیر احمد، نگہت حسن افسانے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔حال ہی میں فہمیدہ ریاض کی کہانیوں کا مجموعہ ’’خط مرموز ‘‘ اور عذرا عباس کا مجموعہ ’’راستے مجھے بلاتے ہیں ‘‘ سامنے آیا ہے جن میں نسائی شعور نمایاں ہے۔ میری کہانیوں کے مجموعے’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں ‘‘ کے دیباچے میں ضمیر علی نے ان کہانیوں کو نسائی شعور کی مثال قرار دیا ہے۔
ہندوستان میں واجدہ تبسم اور جیلانی بانو نے ان موضوعات کا احاطہ کیا جو خواتین کے تجربے ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک لکھنے والی خواتین میں محسنہ جیلانی،نعیمہ ضیاء الدین، رفعت مرتضیٰ، پروین فرحت اور دیگر کئی خواتین اچھی کہانیاں لکھ رہی ہیں۔ افسانوں کے حوالے سے خالدہ حسین کا نام ا س لئے بہت اہم ہے کہ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے افسانوی ادب کو جس مقام تک پہنچایا تھا خالدہ حسین نے وہاں سے ایک اور رخ کی طرف سفر اختیار کیا۔ان کے افسانوں نے جدید ادب کے ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کیا مگر ان کا اس طرح مطالعہ اب تک نہیں کیا گیا جیسا ’’سواری‘‘ جیسی کہانی لکھنے والی کا ہونا چاہیے تھا۔خالدہ حسین نے اس کہانی میں علامت اور واقعہ نگاری کا ایک ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو معنی اور کیفیت دونوں سطح پر قاری کو متاثر کرتا ہے۔ان کی کہانیوں میں ایک ایسی فضا ہے جس میں ہمارے دور کی تلخیاں دل میں غبار سا بکھیر دیتی ہیں۔ایسے افسانے جس کی کچکچاہٹ دانتوں میں محسوس ہو سانحہ بھوپال کے بعد ’’سواری ‘‘ کی شدت کو پوری طرح محسوس کیا گیا۔ خالدہ حسین کی کہانیاں اس پراسراریت کے شعور کو بیدار کرتی ہیں جس پر آرٹ کی بنیاد ہے۔جس کی مثال تمام بڑے شعرأاور فنکاروں کے یہاں ملتی ہے۔ تنقید میں خواتین کا نام صرف ممتاز شریں تک محدود رہ گیا۔ وہ اچھی افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی ادب کی بڑی نقاد بھی تھیں۔ منٹو کی کہانیوں کا انہوں نے تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا اور اس میں شک نہیں کہ منٹو کے کرداروں کے تجزئیے سے ان کی کہانیوں کی جہتیں کھلتی ہیں اور بحیثیت افسانہ نگار منٹو کی قامت کا اندازہ ہوتاہے۔ممتاز شیریں نے منٹوکی کردار نگاری کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی نشا ندہی بھی کی ہے جہاں ان کی گرفت کردار پر ڈھیلی پڑ گئی ہے جس کی وجہ ممتاز شیریں کے خیال میں غیر ضروری تفصیلات ہیں۔وہ اس حوالے سے ایک کامیاب تجزیہ نگار ہیں کہ وہ کہانی لکھنے والے کو تبصرہ نگار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ان کے اس روئیے میں ان کے افسانوی ادب کے مطالعے کا بڑا دخل ہے۔مثلاً انہوں نے موپساں اور چیخوف کا تقابلی موازنہ کرتے ہوئے منٹو کو موپساں کے قبیلے میں رکھا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ موپساں کے افسانوں اور ناول میں کہانی کردار نگاری سے بڑھتی ہے اور کردار اپنے رویوں سے ابھرتے ہیں،مصنف کے تبصرے سے نہیں۔ ممتاز شیریں کا وسیع مطالعہ ان کے تنقیدی روئیے کی تشکیل میں مدد گار ہے اور ان کے تخلیقی ذہن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا جہاں نقاد او رتخلیق کار ایک ہو جاتا ہے۔ تنقید میں انہوں نے نئے موضوعات پر قلم اٹھایا۔منفی ناول (Anti Novel) وجودی نقطۂ نظر،مغربی رجحانات پوری تفہیم کے ساتھ ان کا موضوع بنے اور اس طرح انہوں نے اردو ادب میں نئے دریچے کھولے۔ان کی تحریروں میں آج کے عہد کی حسیت نمایاں ہے جس میں مشرق و مغرب کا متوازن ثقافتی امتزاج جھلکتا ہے۔آج جب کہ تنقید میں عالمی تناظر (World View) پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ان کے مضامین کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اردو کی پہلی نقاد ہیں جن کے یہاں World View ہے۔بلا شبہ ممتاز شیریں نے تنقید کے شعبے میں خواتین کو صف اول میں لا کھڑا کیا ہے مگر ان کے بعد کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔خواتین ادیب و شاعرات کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ تنقید کے شعبے کو متوازن کرنے کے علاوہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا بھی ہے جو نسائی ادب کی تفہیم کے لئے بالکل سازگار ہے۔خواتین کی تحریروں کا بہتر تجزیہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔مرد ناقدین کا رویہ یا تو سر پرستانہ (Patronizing) ہے یا جانب دارانہ(Prejudiced)۔یہ دونوں صورتیں تخلیقی ادب کے لئے نقصان دہ ہیں۔ بین الاقوامی صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۶۰ء سے خواتین کی تحریک نے ادبی مطالعے کا رخ بدل دیا ہے۔مغرب میں بھی تنقید کی ذمہ داریاں زیادہ تر مردوں کے کاندھوں پر تھیں لیکن اب جو خواتین نقاد سامنے آ ئی ہیں انہوں نے نسائی کلچر کو فائدہ پہنچایا ہے۔اب تنقید خالصتاً مردانہ فلسفوں یا ادبی تھیوری کی بنیاد پر نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس نقطہ نظر سے بھی ادب کو دیکھاجا رہا ہے کہ ان میں مردانہ اور نسائی اقدار کو کس حد تک سمویا گیا ہے اور نسائی تنقید ادبی تجزئیے کی ایک اہم بنیاد بن گئی ہے۔ہمارے یہاں نسائی تنقید پر سنجیدہ توجہ کی بے حد ضرورت ہے کیوں کہ جب بھی نسائی ادب پر بات ہوتی ہے تو فوری رد عمل یہ سامنے آتا ہے کہ خواتین کا الگ ڈبہ بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ خواتین کا مسئلہ کیا ہے ؟ انہیں سب کچھ تو حاصل ہے وہ آخرچاہتی کیا ہیں ؟ اور پھر اس بات پر اتفاق کر لیا جاتا ہے کہ نسائی ادب مغرب سے آنے والا فیشن ہے جسے کپڑوں اور میک اپ کی طرح خواتین نے اپنا لیا ہے۔ متعصب ناقدین جو کچھ بھی لیں وہ اس بات کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکے کہ نسائی شعور کا مطالعہ کرنے والوں کو کس خانے میں رکھا جائے اور کیا خواتین کی تخلیقات کا مطالعہ سماجی اور تاریخی رویوں کو نظر انداز کر کے کیا جا سکتا ہے جوان کی تحریروں پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور ان کی تحریروں کی جانب مرد تنقید نگاروں کے رویوں پر بھی مغرب سے آنے والی تحریکوں نے جب بھی ہمارے پورے ادب پر اثر ڈالا ہے اتنا شدید رد عمل کیوں سامنے نہیں آیا۔مثلاً ترقی پسند جدیدیت،وجودیت،ساختیات کی رو کہاں سے آئی ؟ اب اگر خواتین مغرب میں لکھی جانے والی نسائی تنقید کو اپنے یہاں ادبی رویوں پر منطبق دیکھ رہی ہیں تو اسے صرف مغرب کی تقلید کہنے کا کیا جواز ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں خواتین کا نام نہیں ملتا ؟کیا یہ درست نہیں کہ ادا جعفری کا ذکر صرف یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ وہ پہلی شاعرہ ہیں جس نے اردو شاعری میں اپنا مقام بنایا۔مردانہ ڈبے میں یہ مقام کہاں ہیں ؟ اس پر خاموشی ہے۔
نسائی ادب ،اردو ادب کا قابل قدر حصہ رہا ہے۔ نسائی شعور کی روایت ہمارے ثقافتی رجحان Cultural Mindset کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ خواتین کی ادراک و شعور کی آئینہ دار ہے۔نسائی اظہار کا رویہ تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔نسائی ادب و تنقید نہ تو مغرب کی نقالی ہے نہ اس کا کوئی تصادم ہمارے اقدار سے ہے بلکہ یہ ہماری آبادی کے نصف حصے کی ذہنی و فکری سفر کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔یہ خواتین قلم کاروں کا نقطۂ نظر(point of view)کو پیش کر رہا ہے اور آج ادب میں نقطہ نظر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مابعد جدیدیت کے مختلف اسکول نسائی شعور کے نقطۂ نظر پر متفق ہیں
اردو تنقید کی اہم اقسام میں فنی، فکری، تاریخی، سماجی (عمرانی)، نفسیاتی، جمالیاتی، مارکسی، نسائی، وجودی، اور ساختیاتی تنقید شامل ہیں، جو کسی ادبی فن پارے کے مختلف پہلوؤں جیسے اسلوب، نظریات، پس منظر، یا نفسیاتی اثرات کا تجزیہ کرتی ہیں، اور ہر قسم کا اپنا مخصوص زاویۂ نگاہ ہوتا ہے۔
اہم اقسام کی تفصیلات:
فنی تنقید: فن پارے کی تکنیک، ساخت اور اسلوب کا جائزہ لیتی ہے۔
فکری تنقید: تخلیق کے خیالات، موضوعات اور نظریات پر غور کرتی ہے۔
** تاریخی تنقید:** کسی تخلیق کو اس کے تاریخی ماحول کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
** سماجی (عمرانی) تنقید:** ادب اور معاشرے کے تعلق اور سماجی مسائل کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے عمرانی تنقید)۔
** نفسیاتی تنقید:** ادیب اور کرداروں کی نفسیات کا مطالعہ کرتی ہے (جیسے فرائیڈ کے نظریات)۔
** جمالیاتی تنقید:** ادب میں حسن، خوبصورتی اور جمالیاتی تجربے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
** مارکسی تنقید:** طبقاتی جدوجہد اور معاشی نظام کے تحت ادب کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے مارکسی تنقید)۔
** نسائی تنقید:** عورت کے مسائل، کردار اور ادب میں اس کے تصور کو دیکھتی ہے۔
** وجودی تنقید:** انسان کے وجود، آزادی اور ذمہ داری جیسے فلسفیانہ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
** ساختیاتی تنقید:** تخلیق کے اندرونی ڈھانچے اور زبان پر فوکس کرتی ہے۔
** >>!تاثراتی تنقید:** نقاد کے ذاتی تاثرات اور احساسات کو اہمیت دیتی ہے۔
** **
** رومانی تنقید:** جذبات، تخیل اور انفرادیت کو اہمیت دیتی ہے۔
** **
** اسلوبیاتی تنقید:** زبان اور اسلوب کے باریک نکات پر توجہ دیتی ہے۔
** <<<>>**
ان اقسام کے علاوہ، اردو میں مشرقی اور مغربی تنقید کے اثرات، نیز مخصوص ناقدین جیسے حالی، شبلی، آل احمد سرور، اور گوپی چند نارنگ کی تنقیدی جہات بھی اہم ہیں۔
اردو تنقید پر بہت سی مشہور کتابیں ہیں جن میں مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی)، تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا)، روشنی (محمد حسن عسکری)، اردو میں تنقید (ڈاکٹر کلیم الدین احمد)، تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر) اور مغرب کے تنقیدی نظریات (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی) نمایاں ہیں، جو اردو تنقید کے ارتقاء، اصولوں اور مختلف دبستانوں کا جائزہ پیش کرتی ہیں. کلاسیکی اور ابتدائی تنقیدی کتب: مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی): اردو تنقید کی بنیاد رکھنے والی اہم کتاب. انتقادیات (سید عابد علی عابد): تنقید کے اصول و مبادی پر مبنی. اصول انتقاد ادبیات (امداد امام اثر): تنقید کے اصولوں پر ایک جامع کام. جدید اور ترقی پسند تنقیدی کتب: روشنی (محمد حسن عسکری): اردو تنقید میں ایک اہم موڑ. تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا): تنقید کے نئے زاویے اور نظریات. نظم جدید کی کروٹیں (ڈاکٹر وزیر آغا): جدید نظم کی تفہیم. دبستانی اور نظریاتی تنقید: تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر): اردو تنقید کے مختلف دبستانوں کا جائزہ. مغرب کے تنقیدی نظریات / اصول (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی): مغربی تنقیدی نظریات کا اردو میں تعارف. افلاطون سے ایلیٹ تک (ڈاکٹر احسن فاروقی / عابد صدیقی): مغربی تنقید کا ارتقائی سفر. دیگر اہم کتب: اردو تنقید پر ایک نظر (ڈاکٹر کلیم الدین احمد): اردو تنقید کا تاریخی اور تعارفی جائزہ. ادبی تنقید اور اسلوبیات (ڈاکٹر گوپی چند نارنگ): اسلوبیات اور تنقید کا تعلق. ستارہ یا بادبان (ڈاکٹر سلیم اختر): ادبی نظریات اور تجزیے پر مبنی.
Study Materials for all exams
Today CSS 2026 :Pakistan Affairs Paper
#paper #css #pms #ppsc #aspirants#study
1 day ago | [YT] | 3
View 0 replies
Study Materials for all exams
Today's CSS2026 General Science and Ability Paper 👏👏
#cce #ccepaper #csspreparation #csspastpapers #todayppscpaper2025 #solved #ppsc#english #gsa #science
3 days ago | [YT] | 7
View 0 replies
Study Materials for all exams
Today's CSS2026 English Precis Paper 👏👏
#css #css3 #essay #essaywriting #precis #aspirants #study #ppsc #synonyms #antonyms #vocabulary #upsc#css #viral #post
4 days ago | [YT] | 5
View 0 replies
Study Materials for all exams
CSS Essay Paper 2026
#essay #css #pms #css2026 #viral #post
5 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Study Materials for all exams
جملہ کی دو اقسام ہیں۔
1۔ جملہ اسمیہ
2۔ جملہ فعلیہ
جملہ اسمیہ ۔
جملہ اسمیہ اُس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور جس کے آخر میں فعل ناقص آئے۔
مثالیں
جیسے عمران بڑا ذہین ہے۔ اس جملے میں عمران مسند الیہ، بڑا ذہین مسند اور ہے فعل ناقص ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزا۔
جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل تین اجزا ہیں۔
1۔ مبتدا
2۔متعلق خبر
3۔ خبر
4۔ فعل ناقص
1۔ مبتدا ۔
مسند الیہ کو مبتدا کہتے ہیں جیسے عمران بڑا ذہین ہے میں عمران مبتدا ہے۔
2۔ خبر ۔
مسند کو خبر کہا جاتا ہے کیسے عمران بڑا ذہین ہے میں بڑا ذہین خبر ہے۔
3۔ فعل ناقص ۔
فعل ناقص وہ فعل ہوتا ہے جو کسی کام کے پورا ہونے کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔
مثالیں
اسلم بیما رہے، اکرم دانا تھا، عرفان بہت چالاک نکلا، چاند طلوع ہوا اِن جملوں میں ہے، تھا، نکلا اور ہوا ایسے فعل ہیں جن سے پڑھنے، لکھنے اور کھانے پینے کی طرح کسی کام کے کیے جانے یا ہونے کا تصور نہیں ملتا۔
چند افعال ناقص
پے، ہیں، تھا، تھے، تھیں، ہوا، ہوگا، ہوئے، ہوں گے، ہو گیا، ہو گئے، بن گیا، بن گئے نکلا، نکلے اور نکلی وغیرہ۔
چند اسمیہ جملے (مع اجزا)
مسند الیہ (مبتدا) مسند (خبر) فعل ناقص
عمران ذہین ہے
عرفان نیک تھا
امجد کامیاب ہو گیا
ارشد فیل ہوا
اکبر افسر بن گیا
(نوٹ): اسمیہ جملے میں سب سے پہلے مبتدا پھر خبر اور آخر میں فعل ناقص آتا ہے۔
جملہ فعلیہ ۔
جملہ فعلیہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم ہو اور مسند فعل جملہ فعلیہ میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام آتا ہے جس سے کام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔
مثالیں
سلیم دوڑا، اسلم آیا، حنا نے کتاب پڑھی، اکرم نے نماز پڑھی وغیرہ۔
جملہ فعلیہ کے اجزا
جملہ فعلیہ کے تین اجزا ہیں
1۔ فاعل
2۔ مفعول
3۔ فعل تام
1۔ فاعل
مسند الیہ کو فاعل کہا جاتا ہے جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں سلیم فاعل ہے۔
2۔ مفعول مسند کو مفعول کہتے ہیں جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں نماز مفعول ہے۔
3۔ فعل تام
آخر میں آنے والے فعل کو فعل تام کہتے ہیں جیسے سلیم میں نماز پڑھی اس جملے میں پڑھی فعل تام ہے۔
2 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
Study Materials for all exams
***جملہ کی اقسام*****
جملہ :
الفاظ کے ایسے مسلسل مجموعے کو جملہ کہتے ہیں جس سے سننے والا بات کو پوری طرح سمجھ لے اور اس کا مفہوم حاصل کرلے چاہے بات تقریر میں ہو یا تحریر میں۔جملے کے دو اصل عنصر ہوتے ہیں۔
١-مُبتدا :
جب کسی شخص یا چیز کا ذکر کیا جائے تو اسے مبتدا کہتے ہیں۔
٢-خبر :
جو کچھ بھی مبتدا کے بارے میں کہا جائے اسے خبر کہتے ہیں۔
جملے کےدو بڑے جزو
١-مُسند الیہ :
مُسندالیہ جملہ کا وہ جزو ہے کہ جس کی نسبت کچھ کہا جائے۔
٢-مُسند :
مسند جملے کا وہ جزو ہے جس میں کسی شخص یا چیز کی بابت کچھ کہا جائے۔
آئیےمُسندد اور مُسند الیہ کو مثالوں سے سمجھتے ہیں۔
چیزیں دکانوں پر سجی ہوئی ہیں۔
رات گزر گئی۔
دن چڑھ آیا۔
چور بھاگ گیا۔
ہوا چل رہی ہے۔
دیکھو اوپر کے جملوں کے دو بڑے بڑے جز ہیں۔
چیزیں. دکانوں پر سجی ہوئی ہیں
رات گزر گئی
دن چڑھ آیا
چور بھاگ گیا
ہوا چل چلی ہے۔
پہلا جزو مثلاً:-چیزیں، رات، دن ،چور، اور ہوا ایسی چیزیں ہیں کہ جن کی بابت کچھ کہا گیا ہے ایسے جزو کو مسند الیہ کہتے ہیں
نمبر ٢ کے جزو مثلاً:-دکانوں پر سجی ہوئی ہیں، گزر گئی، چھڑ آیا، بھاگ گیا اور چل رہی ہے ایسے الفاظ ہیں جن میں مسندالیہ کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے ایسے جزو کو مسند کہتے ہیں۔
(الف) ترکیب یا صورت کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں۔
(1) مفرد جملہ:
مفرد جملہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں صرف ایک مسندالیہ ہو اور ایک مسند ہو۔
مثلاً:– احمد لکھتا ہے، خواجہ کھاتا ہے وغیرہ۔
(2) مرکب جملہ:
مرکب جملہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں دو یا دو سے زیادہ مفرد جملے ملکر ایک مفہوم یا خیال کو ظاہر کریں۔
مثلاً:-ساجد اگر نہیں گیا تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔
مرکب جملہ کی دو قسمیں ہیں
(1) مرکب مطلق:
اس مرکب جملہ کو کہتے ہیں جس میں ہر مفرد جملہ جدا گانہ برابر کی حیثیت رکھتا ہے اور معنی کے لحاظ سے دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا۔
مثلاً:-احمد آیا۔اور شیر چلا گیا۔
(2) مرکب ملتف:
اس مرکب جملے کو کہتے ہیں جس میں ایک جملہ اصل ہوتا ہے اور باقی جملے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔جب تک ذیلی جملہ اصلی جملے سے ملا کر استعمال نہیں ہوتا اس وقت تک پورا مطلب بیان نہیں ہو سکتا ۔
مثلاً: وہ کتاب جو گم ہوگئی تھی، مل گئی ہے۔ اس میں "وہ کتاب مل گئی”اصل جملہ ہے اور "جو گم ہوگئی تھی” ذیلی جملہ ہے۔معنی اور مطلب کے لیے دونوں کا ہونا ضروری ہے۔
(ب) معنی کے لحاظ سےجملے کی دو قسمیں ہیں:
(1) جملہ خبریہ:
اس جملہ کو کہتے ہیں جس سے کسی واقعہ کی خالت کی خبر ملے۔
مثلاً:-عادل آ گیا۔
فرید چلا گیا۔
خواجہ چالاک ہے۔ وغیرہ۔
(2) جملہ انشائیہ:
اس جملے کو کہتے ہیں جو کسی حکم یا استفہام یا انبساط یا تعجب یا تنبیہ اور دعا وغیرہ جیسے جذبات کو ظاہر کرے۔
مثلاً:- کاش! وہ آگے آتا۔
یہ کام کرنا اچھا نہیں۔
ماشااللہ! کیا خوب بات کہی ہے۔ وغیرہ۔
(ج) مُسند کے لحاظ سے جملے کی دو قسمیں ہیں
جملہ اسمیہ:
اس جملے کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسندالںہ دونوں موجود ہوں۔مثلا:- رام ذہین لڑکا ہے۔اس میں رام (مسند الیہ) اور ذہین لڑکا (مسند) ہے۔جملہ اسمیہ کے مسندالیہ کو مبتدا اور مسند کو خبر کہتے ہیں۔
جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل ارکان ہوتے ہیں۔
١-مبتدا:-اس اسم کو کہتے ہیں جس کی طرف کوئی اسم یا فعل منسوب ہوتا ہے۔
٢-خبر:-اسے کہتے ہیں جو مبتدا کی طرف منسوب ہو۔
٣-فعل ناقص:-وہ فعل ہے جس سے بات پوری نہ ہو۔
٤-مسند اور مسندالیہ کی توسیع یا متعلقات خبر و مبتدا۔
مثلاً:-چاند روشن ہے۔ اس جملے میں چاند (مبتدا) روشن (خبر) اور ہے (فعل ناقص) ہے۔
موہن گھر میں نہ تھا۔اس جملے میں موہن (مبتدا) ہے،نہ تھا (فعل ناقص) ہے،اور گھر میں (متعلق خبر) ہے۔
جملہ اسمیہ کی پہچان کیسے کریں:
١-اگر فعل ناقص ہے تو جملہ اسمیہ ہوگا۔ اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہوگا۔
٢-جملہ اسمیہ میں دو اسم ہوتے ہیں۔دونوں اسموں میں ایک اسم معرفہ اور دوسرا اسم نکرہ ہو تو معرفہ کو مبتدا اور نکرہ کو خبر کہتے ہیں۔
٣-اگر ایک اسم ذات ہوں اور ایک اسم صفت ہو تو اس ذات کو مبتدا اور صفت کوخبر کہتے ہیں۔
٤-اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو پہلے کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
٥-اگر دونوں اسم نکرہ ہوں تو جو زیادہ خاص ہو وہ مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
٦-مبتدا عام طور پر پہلے آتا ہے اور خبر بعد میں۔
٧-بعض اوقات مبتدا یا خبر یا فعل ناقص حذف ہوجاتا ہے۔
٨-خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی مرکب ہوتی ہے۔
٩-بعض اوقات مبتدا کی کئ خبریں ہوتی ہیں۔
١٠-بعض اوقات مبتدا مفرد ہوتا ہے اور کبھی مرکب ہوتا ہے۔
١١-بعض اوقات مبتدا اور خبر دونوں محذوف ہوتے ہیں۔
جملہ فعلیہ:
اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم یا فاعل، اور مسند فعل ہو۔مثلاً:-احمد نے کھانا کھایا۔اس میں احمد (فاعل یا اسم) کھانا (مفعول) اور کھایا (فعل) ہے۔
جملہ فعلیہ کے مندرجہ ذیل ارکان ہیں۔
١-فاعل:-وہ اسم جس کی ذات پر فعل واقع ہو
٢-مفعول:-وہ اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔
٣-فعل:-وہ کام جو فاعل سے صادر ہو۔
٤-فعل تام:-وہ فعل جس سے جملے کی تکمیل ہو۔
٥-مفعول اور فعل کی توسیع یا مطلقات فعل۔
آپ یہ جانتے ہیں کہ جس کے بارے میں ذکر کیا جائے اسے مسند الیہ اور جو کچھ ذکر کیا جائے اسے مسند کہتے ہیں۔
افعال تام کے مسندالیہ کو فاعل اور مسند کو مفعول کہتے ہیں۔
افعال ناقص کے مسندالیہ کو مبتدا اور مسند کو خبر کہتے ہیں۔
جملہ فعلیہ کی پہچان کیسے کریں۔
١-سب سے پہلے فعل پر نظر کیجیے اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہہوگا
٢-اگر جملہ میں فعل لازم ہوگا تو جملہ فاعل پر ختم ہوتا ہے
٣-اگر فعل متعدی ہو تو مفعول ضرور آتا ہے۔
٤-بعض اوقات متعدی افعال کے دو مفعول ہوتے ہیں پہلے کو مفعول بہ اور دوسرے کو مفعول ثانی کہتے ہیں۔
٥-جملہ فعلیہ میں اجزا کی ترتیب یوں ہوتی ہے فاعل، مفعول،متعلق فعل،مگر متعلق فعل کبھی مفعول سے پہلے آتا ہے اور کبھی بعد میں۔
٦-فعل جب فقروں کے شروع میں آئے تو زور ظاہر ہوتا ہے۔
٧-کلام میں زور پیدا کرنے کی غرض سے کبھی مفعول پہلے بھی آسکتا ہے۔
٨-بعض اوقات جملے میں فاعل کو حذف کردیا جاتا ہے۔
٩-بعض اوقات جملے میں فاعل اور مفعول دونوں حذف کر دیے جاتے ہیں۔
١٠-کبھی جملہ میں فعل اور فاعل دانوں حذف ہوتے ہیں۔
١١-فعل مجہول میں فاعل نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ مفعول آتا ہے۔
١٢-ترکیب نحوی کے لحاظ سے جملہ فعلیہ میں سب سے پہلے فعل، پھرفاعل پھر مفعول اور آخر میں متعلقات فعل لکھے جاتے ہیں۔
2 weeks ago | [YT] | 3
View 0 replies
Study Materials for all exams
Pakistan's passport
ranking has improved on the Henley Index, rising from 103 in 2025 to 98 this year, according to the report......
#dawn #newspapers #today #css #ppsc #fpsc #cce #ajkpsc #current #currentaffairs
3 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
Study Materials for all exams
خواتین ناول نگار اور افسانہ نگار
گذشتہ صدی میں خواتین ناول اور افسانہ نگاروں نے جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ اردو ادب کا دامن معرکتہ ا لآراء ناولوں سے بھر دیا۔
پہلی خاتون ناول نگار ’’رشیدہ النساء‘‘ ہیں جنہوں نے ۱۸۸۱ میں ناول ’’اصلاح النساء ‘‘ لکھا تھا۔ڈپٹی نذیر احمد اور اس دور کے دیگر ناول نگاروں کی طرز پر لکھا ہوا یہ ناول ان کے صاحب زادے محمد سلیمان نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا۔جب وہ ولایت سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر کے واپس آئے۔اس کی ابتدائی اشاعتوں پر مصنفہ کے بجائے والدہ محمد سلیمان لکھا گیا ہے۔یہ کتاب نایاب تھی اس کا نیا ایڈیشن ۲۰۰۰ء میں مصنفہ کے اصل نام سے چھپا ہے۔اصلاح النساء کی اشاعت میں ۱۳ سال کی تاخیر، اس کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں مصنفہ کا نام نہ ہونا اور سارے مردانہ رشتوں کے حوالے اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ انیسویں صدی کے اختتام تک ادب کے میدان میں قدم رکھنا محال تھا۔ تا ہم بیسویں صدی کے وسط میں خواتین ناول نگارں نے وہ معرکہ انجام دیا کہ اردو ادب کی تاریخ ان کے ناول اور افسانوں کے حوالے کے بغیر لکھنا ممکن نہیں رہا۔عصمت چغتائی کا ناول ’’ ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور قرۃ العین حیدرکا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ اردو کے اہم ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے پہلے بیگم نذر سجاد حیدر اور بیگم حجاب امتیاز علی تاج کی تحریریں پڑھنے والوں کی توجہ حاصل کرچکی ہیں۔مگر عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں نے قارئین اور ناقدین پر مطالعے کے نئے باب کھولے۔ عصمت چغتائی کا ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور افسانہ ’’لحاف ‘‘ نسائی اظہار کی بہت واضح مثال ہے۔ٹیڑھی لکیر میں عصمت چغتائی نے بہت جرأت سے اس نسائی شعور کا اظہارکر دیا ہے جو اس وقت تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اسی طرح قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ نقادوں کے مطابق جن میں ژولیا کر سٹیوا سر فہرست ہیں،عورت کے تصور وقت کی مثال پیش کرتا ہے۔قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی شعور کا مکمل ادراک و اظہار ملتا ہے اور کہیں کہیں بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔’’اگلے جنم موہے بٹیانہ کی جیو ‘‘ اس کی مثال ہے۔
ترقی پسند تحریک خواتین کے لئے خصوصاً افسانہ نگار اور ناول نگار خواتین کے لئے بہت ساز گار ثابت ہوئی جس نے ڈاکٹر رشید جہاں، صدیقہ بیگم سہاروی،عصمت چغتائی، خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور جیسی لکھنے والیوں کو سامنے لا کر یہ غلط فہمی دور کر دی کہ خواتین کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتیں۔خدیجہ مستور کے ناول ’’ آنگن ‘‘ کی پذیرائی ہوئی۔ان کے فوراً بعد جمیلہ ہاشمی کے ناول ’’تلاش بہاراں ‘‘ اور ’’ دشت سوس‘‘ الطاف فاطمہ کا ناول’’ دستک نہ دو ‘‘ رضیہ فصیح احمد کا ناول ’’آبلہ پا ‘‘ مقبول ہوئے۔ہاجرہ مسرور ،بیگم اخترجمال،نثار عزیز بٹ، خالد ہ حسین،فرخندہ لودھی کی تحریروں نے ادبی مقام حاصل کیا۔ بانو قدسیہ اپنے افسانوں،ناولوں اور ڈراموں کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوئیں اور بہت معتبر حوالہ بنیں۔ زاہدہ حنا۔رشیدہ رضویہ،فردوس حیدر،نیلم بشیر احمد، نگہت حسن افسانے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔حال ہی میں فہمیدہ ریاض کی کہانیوں کا مجموعہ ’’خط مرموز ‘‘ اور عذرا عباس کا مجموعہ ’’راستے مجھے بلاتے ہیں ‘‘ سامنے آیا ہے جن میں نسائی شعور نمایاں ہے۔ میری کہانیوں کے مجموعے’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں ‘‘ کے دیباچے میں ضمیر علی نے ان کہانیوں کو نسائی شعور کی مثال قرار دیا ہے۔
ہندوستان میں واجدہ تبسم اور جیلانی بانو نے ان موضوعات کا احاطہ کیا جو خواتین کے تجربے ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک لکھنے والی خواتین میں محسنہ جیلانی،نعیمہ ضیاء الدین، رفعت مرتضیٰ، پروین فرحت اور دیگر کئی خواتین اچھی کہانیاں لکھ رہی ہیں۔
افسانوں کے حوالے سے خالدہ حسین کا نام ا س لئے بہت اہم ہے کہ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے افسانوی ادب کو جس مقام تک پہنچایا تھا خالدہ حسین نے وہاں سے ایک اور رخ کی طرف سفر اختیار کیا۔ان کے افسانوں نے جدید ادب کے ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کیا مگر ان کا اس طرح مطالعہ اب تک نہیں کیا گیا جیسا ’’سواری‘‘ جیسی کہانی لکھنے والی کا ہونا چاہیے تھا۔خالدہ حسین نے اس کہانی میں علامت اور واقعہ نگاری کا ایک ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو معنی اور کیفیت دونوں سطح پر قاری کو متاثر کرتا ہے۔ان کی کہانیوں میں ایک ایسی فضا ہے جس میں ہمارے دور کی تلخیاں دل میں غبار سا بکھیر دیتی ہیں۔ایسے افسانے جس کی کچکچاہٹ دانتوں میں محسوس ہو سانحہ بھوپال کے بعد ’’سواری ‘‘ کی شدت کو پوری طرح محسوس کیا گیا۔ خالدہ حسین کی کہانیاں اس پراسراریت کے شعور کو بیدار کرتی ہیں جس پر آرٹ کی بنیاد ہے۔جس کی مثال تمام بڑے شعرأاور فنکاروں کے یہاں ملتی ہے۔
تنقید میں خواتین کا نام صرف ممتاز شریں تک محدود رہ گیا۔ وہ اچھی افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی ادب کی بڑی نقاد بھی تھیں۔ منٹو کی کہانیوں کا انہوں نے تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا اور اس میں شک نہیں کہ منٹو کے کرداروں کے تجزئیے سے ان کی کہانیوں کی جہتیں کھلتی ہیں اور بحیثیت افسانہ نگار منٹو کی قامت کا اندازہ ہوتاہے۔ممتاز شیریں نے منٹوکی کردار نگاری کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی نشا ندہی بھی کی ہے جہاں ان کی گرفت کردار پر ڈھیلی پڑ گئی ہے جس کی وجہ ممتاز شیریں کے خیال میں غیر ضروری تفصیلات ہیں۔وہ اس حوالے سے ایک کامیاب تجزیہ نگار ہیں کہ وہ کہانی لکھنے والے کو تبصرہ نگار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ان کے اس روئیے میں ان کے افسانوی ادب کے مطالعے کا بڑا دخل ہے۔مثلاً انہوں نے موپساں اور چیخوف کا تقابلی موازنہ کرتے ہوئے منٹو کو موپساں کے قبیلے میں رکھا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ موپساں کے افسانوں اور ناول میں کہانی کردار نگاری سے بڑھتی ہے اور کردار اپنے رویوں سے ابھرتے ہیں،مصنف کے تبصرے سے نہیں۔ ممتاز شیریں کا وسیع مطالعہ ان کے تنقیدی روئیے کی تشکیل میں مدد گار ہے اور ان کے تخلیقی ذہن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا جہاں نقاد او رتخلیق کار ایک ہو جاتا ہے۔ تنقید میں انہوں نے نئے موضوعات پر قلم اٹھایا۔منفی ناول (Anti Novel) وجودی نقطۂ نظر،مغربی رجحانات پوری تفہیم کے ساتھ ان کا موضوع بنے اور اس طرح انہوں نے اردو ادب میں نئے دریچے کھولے۔ان کی تحریروں میں آج کے عہد کی حسیت نمایاں ہے جس میں مشرق و مغرب کا متوازن ثقافتی امتزاج جھلکتا ہے۔آج جب کہ تنقید میں عالمی تناظر (World View) پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ان کے مضامین کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اردو کی پہلی نقاد ہیں جن کے یہاں World View ہے۔بلا شبہ ممتاز شیریں نے تنقید کے شعبے میں خواتین کو صف اول میں لا کھڑا کیا ہے مگر ان کے بعد کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔خواتین ادیب و شاعرات کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ تنقید کے شعبے کو متوازن کرنے کے علاوہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا بھی ہے جو نسائی ادب کی تفہیم کے لئے بالکل سازگار ہے۔خواتین کی تحریروں کا بہتر تجزیہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔مرد ناقدین کا رویہ یا تو سر پرستانہ (Patronizing) ہے یا جانب دارانہ(Prejudiced)۔یہ دونوں صورتیں تخلیقی ادب کے لئے نقصان دہ ہیں۔
بین الاقوامی صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۶۰ء سے خواتین کی تحریک نے ادبی مطالعے کا رخ بدل دیا ہے۔مغرب میں بھی تنقید کی ذمہ داریاں زیادہ تر مردوں کے کاندھوں پر تھیں لیکن اب جو خواتین نقاد سامنے آ ئی ہیں انہوں نے نسائی کلچر کو فائدہ پہنچایا ہے۔اب تنقید خالصتاً مردانہ فلسفوں یا ادبی تھیوری کی بنیاد پر نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس نقطہ نظر سے بھی ادب کو دیکھاجا رہا ہے کہ ان میں مردانہ اور نسائی اقدار کو کس حد تک سمویا گیا ہے اور نسائی تنقید ادبی تجزئیے کی ایک اہم بنیاد بن گئی ہے۔ہمارے یہاں نسائی تنقید پر سنجیدہ توجہ کی بے حد ضرورت ہے کیوں کہ جب بھی نسائی ادب پر بات ہوتی ہے تو فوری رد عمل یہ سامنے آتا ہے کہ خواتین کا الگ ڈبہ بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ خواتین کا مسئلہ کیا ہے ؟ انہیں سب کچھ تو حاصل ہے وہ آخرچاہتی کیا ہیں ؟ اور پھر اس بات پر اتفاق کر لیا جاتا ہے کہ نسائی ادب مغرب سے آنے والا فیشن ہے جسے کپڑوں اور میک اپ کی طرح خواتین نے اپنا لیا ہے۔ متعصب ناقدین جو کچھ بھی لیں وہ اس بات کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکے کہ نسائی شعور کا مطالعہ کرنے والوں کو کس خانے میں رکھا جائے اور کیا خواتین کی تخلیقات کا مطالعہ سماجی اور تاریخی رویوں کو نظر انداز کر کے کیا جا سکتا ہے جوان کی تحریروں پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور ان کی تحریروں کی جانب مرد تنقید نگاروں کے رویوں پر بھی مغرب سے آنے والی تحریکوں نے جب بھی ہمارے پورے ادب پر اثر ڈالا ہے اتنا شدید رد عمل کیوں سامنے نہیں آیا۔مثلاً ترقی پسند جدیدیت،وجودیت،ساختیات کی رو کہاں سے آئی ؟ اب اگر خواتین مغرب میں لکھی جانے والی نسائی تنقید کو اپنے یہاں ادبی رویوں پر منطبق دیکھ رہی ہیں تو اسے صرف مغرب کی تقلید کہنے کا کیا جواز ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں خواتین کا نام نہیں ملتا ؟کیا یہ درست نہیں کہ ادا جعفری کا ذکر صرف یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ وہ پہلی شاعرہ ہیں جس نے اردو شاعری میں اپنا مقام بنایا۔مردانہ ڈبے میں یہ مقام کہاں ہیں ؟ اس پر خاموشی ہے۔
نسائی ادب ،اردو ادب کا قابل قدر حصہ رہا ہے۔ نسائی شعور کی روایت ہمارے ثقافتی رجحان Cultural Mindset کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ خواتین کی ادراک و شعور کی آئینہ دار ہے۔نسائی اظہار کا رویہ تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔نسائی ادب و تنقید نہ تو مغرب کی نقالی ہے نہ اس کا کوئی تصادم ہمارے اقدار سے ہے بلکہ یہ ہماری آبادی کے نصف حصے کی ذہنی و فکری سفر کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔یہ خواتین قلم کاروں کا نقطۂ نظر(point of view)کو پیش کر رہا ہے اور آج ادب میں نقطہ نظر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مابعد جدیدیت کے مختلف اسکول نسائی شعور کے نقطۂ نظر پر متفق ہیں
3 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
Study Materials for all exams
اردو تنقید کی اہم اقسام میں فنی، فکری، تاریخی، سماجی (عمرانی)، نفسیاتی، جمالیاتی، مارکسی، نسائی، وجودی، اور ساختیاتی تنقید شامل ہیں، جو کسی ادبی فن پارے کے مختلف پہلوؤں جیسے اسلوب، نظریات، پس منظر، یا نفسیاتی اثرات کا تجزیہ کرتی ہیں، اور ہر قسم کا اپنا مخصوص زاویۂ نگاہ ہوتا ہے۔
اہم اقسام کی تفصیلات:
فنی تنقید: فن پارے کی تکنیک، ساخت اور اسلوب کا جائزہ لیتی ہے۔
فکری تنقید: تخلیق کے خیالات، موضوعات اور نظریات پر غور کرتی ہے۔
** تاریخی تنقید:** کسی تخلیق کو اس کے تاریخی ماحول کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
** سماجی (عمرانی) تنقید:** ادب اور معاشرے کے تعلق اور سماجی مسائل کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے عمرانی تنقید)۔
** نفسیاتی تنقید:** ادیب اور کرداروں کی نفسیات کا مطالعہ کرتی ہے (جیسے فرائیڈ کے نظریات)۔
** جمالیاتی تنقید:** ادب میں حسن، خوبصورتی اور جمالیاتی تجربے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
** مارکسی تنقید:** طبقاتی جدوجہد اور معاشی نظام کے تحت ادب کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے مارکسی تنقید)۔
** نسائی تنقید:** عورت کے مسائل، کردار اور ادب میں اس کے تصور کو دیکھتی ہے۔
** وجودی تنقید:** انسان کے وجود، آزادی اور ذمہ داری جیسے فلسفیانہ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
** ساختیاتی تنقید:** تخلیق کے اندرونی ڈھانچے اور زبان پر فوکس کرتی ہے۔
** >>!تاثراتی تنقید:** نقاد کے ذاتی تاثرات اور احساسات کو اہمیت دیتی ہے۔
** **
** رومانی تنقید:** جذبات، تخیل اور انفرادیت کو اہمیت دیتی ہے۔
** **
** اسلوبیاتی تنقید:** زبان اور اسلوب کے باریک نکات پر توجہ دیتی ہے۔
** <<<>>**
ان اقسام کے علاوہ، اردو میں مشرقی اور مغربی تنقید کے اثرات، نیز مخصوص ناقدین جیسے حالی، شبلی، آل احمد سرور، اور گوپی چند نارنگ کی تنقیدی جہات بھی اہم ہیں۔
3 weeks ago | [YT] | 3
View 0 replies
Study Materials for all exams
اردو تنقید پر بہت سی مشہور کتابیں ہیں جن میں مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی)، تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا)، روشنی (محمد حسن عسکری)، اردو میں تنقید (ڈاکٹر کلیم الدین احمد)، تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر) اور مغرب کے تنقیدی نظریات (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی) نمایاں ہیں، جو اردو تنقید کے ارتقاء، اصولوں اور مختلف دبستانوں کا جائزہ پیش کرتی ہیں.
کلاسیکی اور ابتدائی تنقیدی کتب:
مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی): اردو تنقید کی بنیاد رکھنے والی اہم کتاب.
انتقادیات (سید عابد علی عابد): تنقید کے اصول و مبادی پر مبنی.
اصول انتقاد ادبیات (امداد امام اثر): تنقید کے اصولوں پر ایک جامع کام.
جدید اور ترقی پسند تنقیدی کتب:
روشنی (محمد حسن عسکری): اردو تنقید میں ایک اہم موڑ.
تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا): تنقید کے نئے زاویے اور نظریات.
نظم جدید کی کروٹیں (ڈاکٹر وزیر آغا): جدید نظم کی تفہیم.
دبستانی اور نظریاتی تنقید:
تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر): اردو تنقید کے مختلف دبستانوں کا جائزہ.
مغرب کے تنقیدی نظریات / اصول (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی): مغربی تنقیدی نظریات کا اردو میں تعارف.
افلاطون سے ایلیٹ تک (ڈاکٹر احسن فاروقی / عابد صدیقی): مغربی تنقید کا ارتقائی سفر.
دیگر اہم کتب:
اردو تنقید پر ایک نظر (ڈاکٹر کلیم الدین احمد): اردو تنقید کا تاریخی اور تعارفی جائزہ.
ادبی تنقید اور اسلوبیات (ڈاکٹر گوپی چند نارنگ): اسلوبیات اور تنقید کا تعلق.
ستارہ یا بادبان (ڈاکٹر سلیم اختر): ادبی نظریات اور تجزیے پر مبنی.
#fpsc #ppsc #urdu #criticism
3 weeks ago | [YT] | 3
View 0 replies
Load more