Study Materials for all exams

You can get all type of educational information on this channel.The purpose is to spread free knowledge to you 😊.


Study Materials for all exams

Pakistan's passport

ranking has improved on the Henley Index, rising from 103 in 2025 to 98 this year, according to the report......
#dawn #newspapers #today #css #ppsc #fpsc #cce #ajkpsc #current #currentaffairs

1 day ago | [YT] | 2

Study Materials for all exams

خواتین ناول نگار اور افسانہ نگار
گذشتہ صدی میں خواتین ناول اور افسانہ نگاروں نے جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ اردو ادب کا دامن معرکتہ ا لآراء ناولوں سے بھر دیا۔
پہلی خاتون ناول نگار ’’رشیدہ النساء‘‘ ہیں جنہوں نے ۱۸۸۱ میں ناول ’’اصلاح النساء ‘‘ لکھا تھا۔ڈپٹی نذیر احمد اور اس دور کے دیگر ناول نگاروں کی طرز پر لکھا ہوا یہ ناول ان کے صاحب زادے محمد سلیمان نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا۔جب وہ ولایت سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر کے واپس آئے۔اس کی ابتدائی اشاعتوں پر مصنفہ کے بجائے والدہ محمد سلیمان لکھا گیا ہے۔یہ کتاب نایاب تھی اس کا نیا ایڈیشن ۲۰۰۰ء ؁ میں مصنفہ کے اصل نام سے چھپا ہے۔اصلاح النساء کی اشاعت میں ۱۳ سال کی تاخیر، اس کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں مصنفہ کا نام نہ ہونا اور سارے مردانہ رشتوں کے حوالے اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ انیسویں صدی کے اختتام تک ادب کے میدان میں قدم رکھنا محال تھا۔ تا ہم بیسویں صدی کے وسط میں خواتین ناول نگارں نے وہ معرکہ انجام دیا کہ اردو ادب کی تاریخ ان کے ناول اور افسانوں کے حوالے کے بغیر لکھنا ممکن نہیں رہا۔عصمت چغتائی کا ناول ’’ ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور قرۃ العین حیدرکا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ اردو کے اہم ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے پہلے بیگم نذر سجاد حیدر اور بیگم حجاب امتیاز علی تاج کی تحریریں پڑھنے والوں کی توجہ حاصل کرچکی ہیں۔مگر عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں نے قارئین اور ناقدین پر مطالعے کے نئے باب کھولے۔ عصمت چغتائی کا ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘ اور افسانہ ’’لحاف ‘‘ نسائی اظہار کی بہت واضح مثال ہے۔ٹیڑھی لکیر میں عصمت چغتائی نے بہت جرأت سے اس نسائی شعور کا اظہارکر دیا ہے جو اس وقت تک نظر انداز ہوتا رہا ہے۔اسی طرح قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا ‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ نقادوں کے مطابق جن میں ژولیا کر سٹیوا سر فہرست ہیں،عورت کے تصور وقت کی مثال پیش کرتا ہے۔قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور افسانوں میں نسائی شعور کا مکمل ادراک و اظہار ملتا ہے اور کہیں کہیں بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔’’اگلے جنم موہے بٹیانہ کی جیو ‘‘ اس کی مثال ہے۔

ترقی پسند تحریک خواتین کے لئے خصوصاً افسانہ نگار اور ناول نگار خواتین کے لئے بہت ساز گار ثابت ہوئی جس نے ڈاکٹر رشید جہاں، صدیقہ بیگم سہاروی،عصمت چغتائی، خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور جیسی لکھنے والیوں کو سامنے لا کر یہ غلط فہمی دور کر دی کہ خواتین کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتیں۔خدیجہ مستور کے ناول ’’ آنگن ‘‘ کی پذیرائی ہوئی۔ان کے فوراً بعد جمیلہ ہاشمی کے ناول ’’تلاش بہاراں ‘‘ اور ’’ دشت سوس‘‘ الطاف فاطمہ کا ناول’’ دستک نہ دو ‘‘ رضیہ فصیح احمد کا ناول ’’آبلہ پا ‘‘ مقبول ہوئے۔ہاجرہ مسرور ،بیگم اخترجمال،نثار عزیز بٹ، خالد ہ حسین،فرخندہ لودھی کی تحریروں نے ادبی مقام حاصل کیا۔ بانو قدسیہ اپنے افسانوں،ناولوں اور ڈراموں کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوئیں اور بہت معتبر حوالہ بنیں۔ زاہدہ حنا۔رشیدہ رضویہ،فردوس حیدر،نیلم بشیر احمد، نگہت حسن افسانے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔حال ہی میں فہمیدہ ریاض کی کہانیوں کا مجموعہ ’’خط مرموز ‘‘ اور عذرا عباس کا مجموعہ ’’راستے مجھے بلاتے ہیں ‘‘ سامنے آیا ہے جن میں نسائی شعور نمایاں ہے۔ میری کہانیوں کے مجموعے’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں ‘‘ کے دیباچے میں ضمیر علی نے ان کہانیوں کو نسائی شعور کی مثال قرار دیا ہے۔

ہندوستان میں واجدہ تبسم اور جیلانی بانو نے ان موضوعات کا احاطہ کیا جو خواتین کے تجربے ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک لکھنے والی خواتین میں محسنہ جیلانی،نعیمہ ضیاء الدین، رفعت مرتضیٰ، پروین فرحت اور دیگر کئی خواتین اچھی کہانیاں لکھ رہی ہیں۔
افسانوں کے حوالے سے خالدہ حسین کا نام ا س لئے بہت اہم ہے کہ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے افسانوی ادب کو جس مقام تک پہنچایا تھا خالدہ حسین نے وہاں سے ایک اور رخ کی طرف سفر اختیار کیا۔ان کے افسانوں نے جدید ادب کے ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کیا مگر ان کا اس طرح مطالعہ اب تک نہیں کیا گیا جیسا ’’سواری‘‘ جیسی کہانی لکھنے والی کا ہونا چاہیے تھا۔خالدہ حسین نے اس کہانی میں علامت اور واقعہ نگاری کا ایک ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو معنی اور کیفیت دونوں سطح پر قاری کو متاثر کرتا ہے۔ان کی کہانیوں میں ایک ایسی فضا ہے جس میں ہمارے دور کی تلخیاں دل میں غبار سا بکھیر دیتی ہیں۔ایسے افسانے جس کی کچکچاہٹ دانتوں میں محسوس ہو سانحہ بھوپال کے بعد ’’سواری ‘‘ کی شدت کو پوری طرح محسوس کیا گیا۔ خالدہ حسین کی کہانیاں اس پراسراریت کے شعور کو بیدار کرتی ہیں جس پر آرٹ کی بنیاد ہے۔جس کی مثال تمام بڑے شعرأاور فنکاروں کے یہاں ملتی ہے۔
تنقید میں خواتین کا نام صرف ممتاز شریں تک محدود رہ گیا۔ وہ اچھی افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانوی ادب کی بڑی نقاد بھی تھیں۔ منٹو کی کہانیوں کا انہوں نے تفصیل سے تنقیدی جائزہ لیا اور اس میں شک نہیں کہ منٹو کے کرداروں کے تجزئیے سے ان کی کہانیوں کی جہتیں کھلتی ہیں اور بحیثیت افسانہ نگار منٹو کی قامت کا اندازہ ہوتاہے۔ممتاز شیریں نے منٹوکی کردار نگاری کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی نشا ندہی بھی کی ہے جہاں ان کی گرفت کردار پر ڈھیلی پڑ گئی ہے جس کی وجہ ممتاز شیریں کے خیال میں غیر ضروری تفصیلات ہیں۔وہ اس حوالے سے ایک کامیاب تجزیہ نگار ہیں کہ وہ کہانی لکھنے والے کو تبصرہ نگار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ان کے اس روئیے میں ان کے افسانوی ادب کے مطالعے کا بڑا دخل ہے۔مثلاً انہوں نے موپساں اور چیخوف کا تقابلی موازنہ کرتے ہوئے منٹو کو موپساں کے قبیلے میں رکھا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ موپساں کے افسانوں اور ناول میں کہانی کردار نگاری سے بڑھتی ہے اور کردار اپنے رویوں سے ابھرتے ہیں،مصنف کے تبصرے سے نہیں۔ ممتاز شیریں کا وسیع مطالعہ ان کے تنقیدی روئیے کی تشکیل میں مدد گار ہے اور ان کے تخلیقی ذہن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا جہاں نقاد او رتخلیق کار ایک ہو جاتا ہے۔ تنقید میں انہوں نے نئے موضوعات پر قلم اٹھایا۔منفی ناول (Anti Novel) وجودی نقطۂ نظر،مغربی رجحانات پوری تفہیم کے ساتھ ان کا موضوع بنے اور اس طرح انہوں نے اردو ادب میں نئے دریچے کھولے۔ان کی تحریروں میں آج کے عہد کی حسیت نمایاں ہے جس میں مشرق و مغرب کا متوازن ثقافتی امتزاج جھلکتا ہے۔آج جب کہ تنقید میں عالمی تناظر (World View) پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ان کے مضامین کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اردو کی پہلی نقاد ہیں جن کے یہاں World View ہے۔بلا شبہ ممتاز شیریں نے تنقید کے شعبے میں خواتین کو صف اول میں لا کھڑا کیا ہے مگر ان کے بعد کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔خواتین ادیب و شاعرات کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ تنقید کے شعبے کو متوازن کرنے کے علاوہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا بھی ہے جو نسائی ادب کی تفہیم کے لئے بالکل سازگار ہے۔خواتین کی تحریروں کا بہتر تجزیہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔مرد ناقدین کا رویہ یا تو سر پرستانہ (Patronizing) ہے یا جانب دارانہ(Prejudiced)۔یہ دونوں صورتیں تخلیقی ادب کے لئے نقصان دہ ہیں۔
بین الاقوامی صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۶۰ء ؁ سے خواتین کی تحریک نے ادبی مطالعے کا رخ بدل دیا ہے۔مغرب میں بھی تنقید کی ذمہ داریاں زیادہ تر مردوں کے کاندھوں پر تھیں لیکن اب جو خواتین نقاد سامنے آ ئی ہیں انہوں نے نسائی کلچر کو فائدہ پہنچایا ہے۔اب تنقید خالصتاً مردانہ فلسفوں یا ادبی تھیوری کی بنیاد پر نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس نقطہ نظر سے بھی ادب کو دیکھاجا رہا ہے کہ ان میں مردانہ اور نسائی اقدار کو کس حد تک سمویا گیا ہے اور نسائی تنقید ادبی تجزئیے کی ایک اہم بنیاد بن گئی ہے۔ہمارے یہاں نسائی تنقید پر سنجیدہ توجہ کی بے حد ضرورت ہے کیوں کہ جب بھی نسائی ادب پر بات ہوتی ہے تو فوری رد عمل یہ سامنے آتا ہے کہ خواتین کا الگ ڈبہ بنایا جا رہا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ خواتین کا مسئلہ کیا ہے ؟ انہیں سب کچھ تو حاصل ہے وہ آخرچاہتی کیا ہیں ؟ اور پھر اس بات پر اتفاق کر لیا جاتا ہے کہ نسائی ادب مغرب سے آنے والا فیشن ہے جسے کپڑوں اور میک اپ کی طرح خواتین نے اپنا لیا ہے۔ متعصب ناقدین جو کچھ بھی لیں وہ اس بات کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکے کہ نسائی شعور کا مطالعہ کرنے والوں کو کس خانے میں رکھا جائے اور کیا خواتین کی تخلیقات کا مطالعہ سماجی اور تاریخی رویوں کو نظر انداز کر کے کیا جا سکتا ہے جوان کی تحریروں پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور ان کی تحریروں کی جانب مرد تنقید نگاروں کے رویوں پر بھی مغرب سے آنے والی تحریکوں نے جب بھی ہمارے پورے ادب پر اثر ڈالا ہے اتنا شدید رد عمل کیوں سامنے نہیں آیا۔مثلاً ترقی پسند جدیدیت،وجودیت،ساختیات کی رو کہاں سے آئی ؟ اب اگر خواتین مغرب میں لکھی جانے والی نسائی تنقید کو اپنے یہاں ادبی رویوں پر منطبق دیکھ رہی ہیں تو اسے صرف مغرب کی تقلید کہنے کا کیا جواز ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں خواتین کا نام نہیں ملتا ؟کیا یہ درست نہیں کہ ادا جعفری کا ذکر صرف یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ وہ پہلی شاعرہ ہیں جس نے اردو شاعری میں اپنا مقام بنایا۔مردانہ ڈبے میں یہ مقام کہاں ہیں ؟ اس پر خاموشی ہے۔

نسائی ادب ،اردو ادب کا قابل قدر حصہ رہا ہے۔ نسائی شعور کی روایت ہمارے ثقافتی رجحان Cultural Mindset کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ خواتین کی ادراک و شعور کی آئینہ دار ہے۔نسائی اظہار کا رویہ تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔نسائی ادب و تنقید نہ تو مغرب کی نقالی ہے نہ اس کا کوئی تصادم ہمارے اقدار سے ہے بلکہ یہ ہماری آبادی کے نصف حصے کی ذہنی و فکری سفر کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔یہ خواتین قلم کاروں کا نقطۂ نظر(point of view)کو پیش کر رہا ہے اور آج ادب میں نقطہ نظر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مابعد جدیدیت کے مختلف اسکول نسائی شعور کے نقطۂ نظر پر متفق ہیں

2 days ago | [YT] | 2

Study Materials for all exams

اردو تنقید کی اہم اقسام میں فنی، فکری، تاریخی، سماجی (عمرانی)، نفسیاتی، جمالیاتی، مارکسی، نسائی، وجودی، اور ساختیاتی تنقید شامل ہیں، جو کسی ادبی فن پارے کے مختلف پہلوؤں جیسے اسلوب، نظریات، پس منظر، یا نفسیاتی اثرات کا تجزیہ کرتی ہیں، اور ہر قسم کا اپنا مخصوص زاویۂ نگاہ ہوتا ہے۔ 

اہم اقسام کی تفصیلات:

فنی تنقید: فن پارے کی تکنیک، ساخت اور اسلوب کا جائزہ لیتی ہے۔

فکری تنقید: تخلیق کے خیالات، موضوعات اور نظریات پر غور کرتی ہے۔

** تاریخی تنقید:** کسی تخلیق کو اس کے تاریخی ماحول کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

** سماجی (عمرانی) تنقید:** ادب اور معاشرے کے تعلق اور سماجی مسائل کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے عمرانی تنقید)۔

** نفسیاتی تنقید:** ادیب اور کرداروں کی نفسیات کا مطالعہ کرتی ہے (جیسے فرائیڈ کے نظریات)۔

** جمالیاتی تنقید:** ادب میں حسن، خوبصورتی اور جمالیاتی تجربے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

** مارکسی تنقید:** طبقاتی جدوجہد اور معاشی نظام کے تحت ادب کا تجزیہ کرتی ہے (جیسے مارکسی تنقید)۔

** نسائی تنقید:** عورت کے مسائل، کردار اور ادب میں اس کے تصور کو دیکھتی ہے۔

** وجودی تنقید:** انسان کے وجود، آزادی اور ذمہ داری جیسے فلسفیانہ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔

** ساختیاتی تنقید:** تخلیق کے اندرونی ڈھانچے اور زبان پر فوکس کرتی ہے۔

** >>!تاثراتی تنقید:** نقاد کے ذاتی تاثرات اور احساسات کو اہمیت دیتی ہے۔

** **

** رومانی تنقید:** جذبات، تخیل اور انفرادیت کو اہمیت دیتی ہے۔

** **

** اسلوبیاتی تنقید:** زبان اور اسلوب کے باریک نکات پر توجہ دیتی ہے۔

** <<<>>** 

ان اقسام کے علاوہ، اردو میں مشرقی اور مغربی تنقید کے اثرات، نیز مخصوص ناقدین جیسے حالی، شبلی، آل احمد سرور، اور گوپی چند نارنگ کی تنقیدی جہات بھی اہم ہیں۔ 

2 days ago | [YT] | 1

Study Materials for all exams

اردو تنقید پر بہت سی مشہور کتابیں ہیں جن میں مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی)، تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا)، روشنی (محمد حسن عسکری)، اردو میں تنقید (ڈاکٹر کلیم الدین احمد)، تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر) اور مغرب کے تنقیدی نظریات (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی) نمایاں ہیں، جو اردو تنقید کے ارتقاء، اصولوں اور مختلف دبستانوں کا جائزہ پیش کرتی ہیں.
کلاسیکی اور ابتدائی تنقیدی کتب:
مقدمہ شعر و شاعری (الطاف حسین حالی): اردو تنقید کی بنیاد رکھنے والی اہم کتاب.
انتقادیات (سید عابد علی عابد): تنقید کے اصول و مبادی پر مبنی.
اصول انتقاد ادبیات (امداد امام اثر): تنقید کے اصولوں پر ایک جامع کام.
جدید اور ترقی پسند تنقیدی کتب:
روشنی (محمد حسن عسکری): اردو تنقید میں ایک اہم موڑ.
تنقیدی شعور (ڈاکٹر وزیر آغا): تنقید کے نئے زاویے اور نظریات.
نظم جدید کی کروٹیں (ڈاکٹر وزیر آغا): جدید نظم کی تفہیم.
دبستانی اور نظریاتی تنقید:
تنقیدی دبستان (ڈاکٹر سلیم اختر): اردو تنقید کے مختلف دبستانوں کا جائزہ.
مغرب کے تنقیدی نظریات / اصول (ڈاکٹر سجاد باقر رضوی): مغربی تنقیدی نظریات کا اردو میں تعارف.
افلاطون سے ایلیٹ تک (ڈاکٹر احسن فاروقی / عابد صدیقی): مغربی تنقید کا ارتقائی سفر.
دیگر اہم کتب:
اردو تنقید پر ایک نظر (ڈاکٹر کلیم الدین احمد): اردو تنقید کا تاریخی اور تعارفی جائزہ.
ادبی تنقید اور اسلوبیات (ڈاکٹر گوپی چند نارنگ): اسلوبیات اور تنقید کا تعلق.
ستارہ یا بادبان (ڈاکٹر سلیم اختر): ادبی نظریات اور تجزیے پر مبنی.

#fpsc #ppsc #urdu #criticism

2 days ago | [YT] | 1

Study Materials for all exams

اردو تنقید کا ارتقا

کسی بھی ادب میں تنقید کی ارتقاء کا مطالعہ اس لئے مشکل ہو جاتا ہے کہ تخلیق اور تنقید کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تنقید کی ایک شکل تخلیق کے اندر بھی چھپی ہوتی ہے۔اور ہر ادب کی ابتدا میں اس کے نقوش مل جاتے ہیں۔اسی لیے تنقید کے متعلق یہ رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کا پہلا بانی کون تھا۔تنقید کو تذکرہ نگاری میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کیونکہ تذکرے میں شاعری کی تاریخ پیش کی گئی ہے اور جہاں تک اصول تنقید کے ارتقا کا سوال ہے ان تذکروں سے مدد ملتی ہے۔اردو شعراء سے متعلق پہلا تذکرہ میر کا ‘نکات الشعراء‘ ہے۔یہ تذکرہ ١٧٥٢ء میں مرتب ہوا۔اس کے بعد بھی بہت سے تذکرے لکھے گئے تذکرے میں کسی مخصوص تنقیدی نقطہ نظر کو رہنما نہیں بنایا جاتا ہے،اسی لیے ان تذکروں میں کسی تنقیدی اصول کو تلاش نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ان تذکروں کی مدد سے اردو شاعری کے ارتقاء کو سمجھا جاسکتا ہے۔ان میں جن شعرا کا تذکرہ ہے ان کی شاعری کی خوبیوں اور خامیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بنیادی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تنقید کی ابتدا تذکرے سے ہوئی۔ان تذکروں سے نہ صرف شعراء کے حالات زندگی کا پتہ چلتا ہے بلکہ انکے کلام کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔یعنی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تذکرے میں شاعری کے ظاہری فنی مسائل سے بحث کی جاتی ہے۔تذکرہ نگاری کے اپنے حدود ہیں ان میں جو تنقیدی جھلک ملتی ہے وہ اس وقت کے اہم ادبی شعور کا عکس ہیں۔

اردو تنقید کا منظرنامہ ١٨٥٧ء سے تبدیل ہوتا ہے جس طرح دوسرے اصناف میں تبدیلی ہوئی اسی طرح تنقید میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔حالی اور آزاد جو کہ جدید نظم کے بانی بھی ہیں انہوں نے نئے خیالات سے اردو شاعری کو آشنا کیا۔آزاد نے‘آب حیات‘ لکھ کر اردو تنقید کی ابتدا کی۔لیکن اردو تنقید کی با ضابطہ ابتدا حالی کی ‘مقدمہ شعروشاعری’ سے ہوتی ہے۔آزاد نے ‘آب حیات’ میں اردو شعراء اور ان کی شاعری کا عہد بہ عہد تذکرہ کیا ہے لیکن ان کے پیش نظر ان کا اپنا پسند اور ناپسند بھی تھا۔جن شعراء کو وہ پسند کرتے تھے ان کی بے جا تعریف کی ہے اور جو انہیں ناپسند تھے ان کی خامیوں کو نمایاں کیا ہے۔اور یہ تنقیدی اصول کے خلاف ہے۔لیکن اب حیات کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ آزاد نے پہلی بار زبان کا ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ "اردو برج بھاشا سے نکلی ہے” بعد کے نقادوں نے ‘آب حیات‘ سے بہت استفادہ کیا ہے اور جیسے جیسے تنقیدی شعور پختہ ہو رہے تھے اس کی نشاندہی بھی کرنے لگے۔

آزاد اور حالی دونوں ادب میں تبدیلی لانا چاہتے تھے حالی خاص طور سے شاعری کے اصلاحی اور افادی پہلو پر زور دیتے ہیں اس لحاظ سے حالی کا نقطہ نظر مختلف ہو جاتا ہے اور وہ شاعری میں سماجی شعور کی نشاندہی کرتے ہیں۔”مقدمہ شعروشاعری”نہ صرف حالی کی بلکہ اردو کی مکمل تنقیدی کتاب ہے۔اس میں حالی نے شعر کہنے کے اصول وضوابط طے کیے اور یہ کہا کہ شعر کے لیے سادگی، اصلیت اور جوش ضروری ہیں۔اسی طرح شعراء کے لیے بھی انہوں نے تین چیزوں کو ضروری قرار دیا۔وہ یہ ہیں تخیل،مطالعہ کائنات،اور تفحص الفاظ۔

محمد حسین آزاد حالی اور شبلی نعمانی، یہ تینوں نقاد عملی تنقید کی طرف متوجہ ہوئے۔انہوں نے مختلف شعراء کے کلام کا تجزیہ کیا۔عملی تنقید کے ذریعے کئی اصناف کے حدود اور امکانات کی چھان بین بھی ان نقادوں نے بڑی خوبی سے کی ہے۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو تنقید کی ابتدا انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں ہوئی۔یہی زمانہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں بھی تنقید کی ابتدا کا ہے حالی نے جس طرح سے تنقیدی شعور کا ثبوت پیش کیا ہے وہ انہیں اپنے عہد کے دوسرے نقادوں سے الگ کر دیتا ہے۔اور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حالی نے تنقید کی نئی راہ نکالی۔سماجی نقطہ نظر سے بھی حالی نے اظہار خیال کیا ہے۔جمالیاتی پہلوؤں کو شبلی کے یہاں تلاش کر سکتے ہیں یہی وہ دور ہے جب شعروادب کے سماجی پہلوؤں اور جمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی گئی۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نقاد بعد میں نظر آتے ہیں جن میں امداد امام اثر،سلیم پانی پتی،مہدی افادی،سلمان انصاری،رشید احمد صدیقی،عبدالحق،عظمت اللہ خان اور دوسرے نقادوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔تاریخی رحجان کی جھلک عبدالحق، سلمان ندوی اور عبدالسلام ندوی کے یہاں ملتی ہے۔جمالیاتی اور تاثراتی انداز مہدی افادی، عبدالرحمن بجنوری،اور سجاد انصاری کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔نفسیاتی پہلو عبدالماجد دریابادی،عظمۃ اللہ اور ڈاکٹر زور کی بعض تنقید و میں نظر آتے ہیں۔

١٩٣٦ء کے بعد جب ترقی پسند تحریک زوروں پر تھی مارکسی تنقید نے اپنا قدم جمایا جسے ترقی پسند تنقید بھی کہا جاتا ہے اس عہد میں اردو تنقید نے ایک نئی راہ تلاش کی اور مارکسی نظریے کو پیش کرنے کی کوشش کی۔اس سلسلے کا پہلا مضمون اختر حسین رائے پوری کا ‘ادب اورزندگی‘ تھا۔جو ١٩٣٥ء میں لکھا گیا۔اس سے ادب اور زندگی کے سماجی اور فکری رشتے کا پتہ چلتا ہے۔مارکسی تنقید کی طرف یہ پہلا شعوری قدم تھا۔اس کے بعد سجاد ظہیر، احمد علی، ڈاکٹر عبد العلیم،احتشام حسین وغیرہ نے مارکسی تنقید کو آگے بڑھایا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ تنقید محض تاثراتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہونی چاہیے۔اس دور میں بہت سے نقاد سامنے آئے اور انہوں نے اپنے اپنے طور پر مارکسی تنقید کو پیش کرنے کی کوشش کی جن میں ممتاز حسین،اعجاز حسین،عبادت بریلوی،سردار جعفری،ظہیر کاشمیری،خلیل الرحمن اعظمی،محمد حسن اور قمر رئیس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اس عہد میں بعض ایسے نقاد بھی سامنے آئے جن کا تعلق ترقی پسند تنقید سے نہیں تھا ان میں رشید احمد صدیقی،وقار عظیم،اختر اورینوی،خواجہ احمد فاروقی،کلیم الدین احمد،نور محمد حسن عسکری وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں جنہوں نے ترقی پسند تنقید سے الگ راستہ اپنایا اور نفسیاتی تنقید و جمالیاتی تنقید پر توجہ دی۔

ترقی پسند تنقید کے بعد جدیدیت کا دور آتا ہے جو ١٩٦٠ء کے بعد کا زمانہ ہے اس میں ترقی پسند تحریک کے خلاف ایک نیا رحجان سامنے آیا جسے جدیدیت کا نام دیا گیا۔اس دور میں سب سے بڑا نام شمس الرحمن فاروقی کا ھے اس کے بعد باقرمہدی، وہاب اشرفی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔اس کے بعد ایک اور عہد مابعد جدید دور کہلاتا ہے جس میں ہم ابھی سانس لے رہے ہیں۔مابعد جدیدیت کی شروعات گوپی چند نارنگ نے کی اور اس کے بعد ما بعد جدید تنقید کی پوری ایک نسل سامنے آجاتی ہے جن میں شمیم حنفی،عتیق اللہ،ابوالکلام قاسمی،اور شافع قدوائی وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

اردو تنقید اور اقسام

ادبی تنقید کے اصول
Section 1
اردو تنقید اور اقسام
اردو تنقید کا ارتقا
ادبی تنقید کے اصول
تنقید اور تخلیق کا رشتہ
مشرقی تنقید
ابن رشیق کی تنقید نگاری
فارسی تنقید
رس کا نظریه
افلاطون کی تنقید نگاری
ارسطو کا تانقیدی نظریه
Section 2
لونجائنس اور دانتے کا تنقیدی نظریہ
مغربی تنقید نگار
مغربی تنقید نگار
کارل مارکس اور فرائیڈ
اردو تنقید کا آغاز و ارتقا
تاثراتی تنقید
جمالیاتی تنقید
مارکسی تنقید
ترقی پسند تنقید
نفسیاتی تنقید
Section 3
رومانی تنقید
سائنٹیفک ادبی تنقید
اسلوبیاتی تنقید
سر سید کے تنقیدی خیالات
محمد حسین آزاد کی تنقید نگاری
الطاف حسین حالی کی تنقید نگاری
شبلی کے تنقیدی خیالات
مولوی عبدالحق کی تنقید
نیاز فتح پوری کی تنقید نگاری
مجنوں گور کھپوری کی تنقید نگاری
Section 4
آل احمد سرور کی تنقید نگاری
احتشام حسین کی تنقید نگاری
کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری
پروفیسر خورشید الاسلام کی تنقید نگاری
محمد حسن عسکری کی تنقید نگاری
پروفیسر محمد حسن کی تنقید نگاری
پروفیسر گوپی چند نارنگ کی تنقید نگاری
شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی نظریات
وزیر آغا کے تنقیدی نظریات
پروفیسر قمر رئیس کی تنقید نگاری
سلیم احمد کے تنقیدی نظریات
وحید الدین سلیم کی تنقید نگاری
امداد امام اثر کے تنقیدی نظریات
ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کے تنقیدی نظریات
عبدالقادرسروری کی تنقید نگاری
سید سجاد ظہیر کی تنقید نگاری
فراق گورکھپوری کی تنقید نگاری

#اردو #لیکچرار #پیپیر
#fpsc #ppsc #urdu

2 days ago | [YT] | 1

Study Materials for all exams

ردو ادب میں تنقید کے کئی اہم نقاد ہیں جن میں الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، محمد حسین آزاد، اور جدید دور میں سلیم احمد، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، آل احمد سرور، اور نثار احمد فاروقی جیسے نام شامل ہیں، جو نظری اور عملی تنقید کے مختلف پہلوؤں، جیسے اخلاقی، سماجی، نفسیاتی، اور جمالیاتی تنقید پر کام کرتے ہوئے اردو ادب کو پرکھتے ہیں، اور اسے فکری و تخلیقی ارتقا کی طرف لے جاتے ہیں. 

اہم نقاد اور ان کے نظریات:

الطاف حسین حالی: اردو تنقید کے بانی سمجھے جاتے ہیں. 'مقدمہ شعر و شاعری' میں انہوں نے اردو شاعری پر اصول وضع کیے، اور ادب برائے زندگی (Literature for life) کا نظریہ پیش کیا.

شبلی نعمانی: حالی کے ہم عصر، انہوں نے تنقید میں علمی اور تاریخی پہلوؤں کو شامل کیا. ان کی کتابیں جیسے 'شعر العجم' قابل ذکر ہیں.

محمد حسین آزاد: 'آب حیات' میں انہوں نے شعراء کا تذکرہ کیا، اور تنقید میں تاریخ نگاری کا انداز اپنایا.

آل احمد سرور: جدید تنقید کے اہم نام. انہوں نے جمالیاتی تنقید اور تاثراتی تنقید کو فروغ دیا. 'تنقید کیا ہے؟' ان کی اہم کتاب ہے.

سلیم احمد: نظریاتی اور فلسفیانہ تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں. انہوں نے اردو میں فکری تنقید کی بنیاد رکھی.

ڈاکٹر فرمان فتح پوری: اردو تنقید میں مختلف رجحانات پر کام کیا. ان کی تنقید میں تاریخی اور تجزیاتی پہلو غالب ہیں.

نثار احمد فاروقی: انہوں نے اردو تنقید میں نئے مباحث متعارف کروائے اور ساختیاتی تنقید (Structuralism) کے اثرات اردو پر دکھائے. 

تنقید کی اقسام (جن پر یہ نقاد کام کرتے ہیں):

نظری تنقید: تنقید کے اصول و نظریات پر بحث کرتی ہے.

عملی تنقید: کسی خاص فن پارے (ناول، افسانہ، نظم) کا تجزیہ کرتی ہے.

اخلاقی تنقید: ادب کا اخلاقی پہلو جانچتی ہے.

نفسیاتی تنقید: ادیب کے نفسیاتی پہلوؤں کو دیکھتی ہے.

عمرانیاتی تنقید: ادب کو سماجی پس منظر میں پرکھتی ہے.

جمالیاتی تنقید: فن پارے کے حسن اور خوبصورتی پر توجہ دیتی ہے. 

یہ نقاد اردو ادب کو سمجھنے، اس کی پرکھ کرنے اور اس کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. 

#اردو #تنقید #اردوادب #ادب #تاریخ

4 days ago | [YT] | 2

Study Materials for all exams

Subscribe for daily updates 💫

1 week ago | [YT] | 2