Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006


QAFILA E HAQ ®

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ سے تمسخر اور استہزاء کا انجام
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ (م 1403ھ/1983ء) تحریر فرماتے ہیں:
مجھ سے حکیم بنیاد علی صاحب مرحوم، ساکن لاوڑ ضلع میرٹھ نے بیان کیا اور انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ساکن پھلاودہ ضلع میرٹھ سے سنا، جو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے مخصوص تلامذہ میں ایک زبردست عالم تھے۔
حضرت مولانا عبدالغنی صاحب نے فرمایا کہ جب حضرت نانوتوی رحمہ اللہ مباحثۂ شاہجہاں پور کے لیے روانہ ہوئے تو شاہجہاں پور کے قریب کسی گاؤں کے چند غریب سنیوں نے، جو مقامی شیعوں کے اثرات میں دبے ہوئے بے بس تھے کیونکہ زمیندار شیعہ ہی تھا، حضرت کو لکھا کہ جاتے یا آتے ہوئے حضرت والا اس گاؤں کو اپنے قدوم سے عزت بخشیں اور ہمیں کچھ پند و نصیحت فرما دیں تاکہ ہمارے لیے صلاح و فلاح اور تقویت کا باعث ہو۔
حضرت والا نے بخوشی ان کی دعوت منظور فرما لی، جیسا کہ غرباء کی دعوت اور پیش کش بطوع و رغبت قبول فرمانے کی عادت تھی، اور جاتے یا آتے ہوئے اس گاؤں میں تشریف لے گئے۔
اہلِ تشیع میں اس سے کھلبلی مچ گئی۔ فکر یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے وعظ کا اثر شیعہ حضرات پر ہو جائے اور شیعہ دباؤ کی تنظیم ٹوٹ جائے۔ چنانچہ انہوں نے متوقع اثرات کی کاٹ کے لیے لکھنؤ سے چار شیعہ مجتہد مقررہ تاریخ پر بلوائے، اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلسِ وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتہد بیٹھ جائیں، اور چالیس اعتراضات منتخب کرکے دس دس اعتراض چاروں پر بانٹ دیے گئے کہ وہ اثنائے وعظ میں اس طرح کیے جائیں کہ اول فلاں سمت کا مجتہد دس اعتراض کرے، اس سے حضرت نمٹیں تو دوسرے کونے والا، پھر تیسرے اور چوتھے کی باری آئے، اور اس طرح وعظ نہ ہونے دیا جائے بلکہ انہیں اعتراض و جواب میں مبتلا کرکے وقت ختم کر دیا جائے۔
اب غیبی مدد اور حضرت کی کرامت کا حال سنیے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا، جس میں گاؤں کی تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی، اور وہ وعظ اسی ترتیب پر مشتمل شروع ہوا جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتہدین بیٹھے تھے۔ گویا ترتیب کے مطابق جب کوئی مجتہد اعتراض کرنے کے لیے گردن اٹھاتا تو حضرت اسی اعتراض کو خود نقل کرکے جواب دینا شروع فرما دیتے۔
یہاں تک کہ وعظ پورے سکون کے ساتھ مکمل ہوگیا، اور شیعوں کے ان مقررہ شبہات کے مکمل حل سے گاؤں کے شیعہ اس قدر مطمئن اور متأثر ہوئے کہ اکثریت نے توبہ کر لی اور سنی ہو گئے۔
مجتہدین اور مقامی شیعہ چوہدریوں کو اس میں اپنی انتہائی سبکی اور خفت محسوس ہوئی، تو انہوں نے حرکتِ مذبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ایک نوجوان لڑکے کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت! نمازِ جنازہ آپ پڑھا دیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیریں کہہ لیں تو صاحبِ جنازہ ایک دم اٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استہزاء و تمسخر کیا جائے۔
حضرت والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی، اصولِ نماز الگ الگ ہیں، آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانا کیسے جائز ہوگا؟
شیعوں نے کہا کہ حضرت! بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتا ہے، آپ تو نماز پڑھا ہی دیں۔
حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرما لیا اور جنازہ پر تشریف لے گئے۔ مجمع موجود تھا۔ حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے گئے، آنکھیں سرخ تھیں اور انقباضِ چہرہ ظاہر تھا۔
نماز کے لیے عرض کیا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔ دو تکبیریں کہنے پر جب طے شدہ پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے "ہونھ" کے ساتھ صاحبِ جنازہ کو اٹھ کھڑے ہونے کی سسکار دی، مگر وہ نہ اٹھا۔
حضرت نے تکبیراتِ اربعہ پوری کرکے اسی غصہ کے لہجے میں فرمایا:
"اب یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔"
دیکھا گیا تو وہ شخص واقعی مردہ تھا۔ اہلِ تشیع میں رونا پیٹنا پڑ گیا، اور بجائے حضرت والا کی سبکی کے، خود ان کی سبکی ہی نہیں بلکہ موت واقع ہو گئی۔
اس کرامت کو دیکھ کر باقی ماندہ اہلِ تشیع میں سے بھی بہت سے لوگ تائب ہو کر سنی ہو گئے۔
(جواہر پارے، جلد اوّل، ص 57-59) (بحوالہ: سوانح قاسمی، جلد دوم، ص 70)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#علماء_دیوبند
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq

1 day ago | [YT] | 79

QAFILA E HAQ ®

شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ جب ہمارے مدرسہ مردان تشریف لائے تھے تو مردان کے علماء کو اجازتِ حدیث دے رہے تھے۔
اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث مولانا سجاد الحجابی صاحب نے بخاری شریف کی عبارت پڑھی، پھر شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ نے گفتگو شروع کی تقریباً چالیس پینتالیس منٹ کی اس گفتگو میں انہوں نے اپنی زندگی کے ایسے حیران کن واقعات بیان کیے، جو شاید انہوں نے کبھی عام مجالس میں بیان نہیں کیے تھے۔
انہی میں سے ایک عجیب اور ایمان افروز واقعہ یہ تھا کہ:
“میں 2005 میں شدید بیمار ہوگیا۔ حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ مکمل بے ہوشی میں ہسپتال لایا گیا۔ تمام رشتہ داروں کو یقین ہوچکا تھا کہ اب بچنا ممکن نہیں۔”
فرماتے تھے:
“جب بے ہوشی ختم ہوئی تو ابھی میری آنکھیں نہیں کھلی تھیں، لیکن اسی حالت میں میں نے خواب دیکھا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ تشریف لائے ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں:
تم صحت یاب ہو کر اپنے طلبہ کو بخاری شریف کا جو دس دن کا سبق باقی ہے، وہ مکمل کرو۔”
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے:
“میں نے عرض کیا: حضرت! دس دن کا سبق تو آپ کی کتاب میں بھی باقی ہے۔”
فرمایا:
“اچھا، اچھا شمائل باقی ہے...”
یہ الفاظ سننے کے بعد اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
حضرت فرماتے تھے:
“میں نے ہسپتال والوں سے کہا کہ یہ تاریں وغیرہ سب ہٹا دو ڈاکٹر حیران تھے، وہ ہٹانے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن میں نے اصرار کیا۔ آخرکار سب کچھ ہٹا دیا گیا۔”
پھر فرمایا:
“میں خود اٹھ کر باہر گیا۔ ایک درخت کے نیچے مجھے بٹھایا گیا۔ وہاں سے جیسے ہی میں اٹھا، میری طبیعت بالکل ٹھیک ہوچکی تھی۔”
پھر فرمایا کرتے تھے:
“اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حدیث کے حلقوں میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ 2005 سے لے کر 2026 تک سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔”
آج جب شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کی یہ باتیں دل کو مزید رُلا دیتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ان کے علم، اخلاص اور خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#شیخ_ادریس
#شیخ_ادریس_رحمہ_اللہ
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#SheikhIdrees
#qafilaehaq

4 days ago | [YT] | 180

QAFILA E HAQ ®

مولانا منظور مینگل صاحب نے شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی زندگی کا ایک عجیب اور ایمان افروز واقعہ سنایا۔
فرمایا کہ ایک مرتبہ شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ کراچی تشریف لائے تھے۔ ایک بڑے سیٹھ نے اُن کی خدمت میں پانچ ارب روپے کا چیک پیش کیا اور کہا:
“حضرت! اس رقم سے اپنا مدرسہ بنا لیجیے۔ آپ دوسروں کے مدارس میں پڑھاتے ہیں، نعمانیہ میں بھی اور حقانیہ میں بھی، مگر آپ کا اپنا کوئی مدرسہ نہیں۔”
آج کے اس مادہ پرست دور میں، جہاں لوگ معمولی فائدے کے لیے بھی اصول بیچ دیتے ہیں، وہاں پانچ ارب روپے کو ٹھکرا دینا… یہ معمولی بات نہیں۔ یہ ایمان، اخلاص اور اپنے اساتذہ سے وفاداری کا وہ مقام ہے جسے ہر شخص سمجھ ہی نہیں سکتا۔
شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ نے فوراً وہ چیک واپس کرتے ہوئے فرمایا:
“نعمانیہ میرا اپنا مدرسہ ہے، اور حقانیہ میرے استاد کا مدرسہ ہے۔ اپنے استاد کے مدرسے میں پڑھانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔”
یہ الفاظ صرف ایک جواب نہیں تھے…
یہ وفا کا اعلان تھا۔
یہ اخلاص کا معیار تھا۔
یہ اُس نسل کی سوچ تھی جو مدرسوں کو کاروبار نہیں بلکہ امانت سمجھتی تھی۔
افسوس… آج کچھ لوگ بغیر تحقیق کے الزامات لگاتے ہیں، اور سوشل میڈیا کی چند باتوں کو سچ سمجھ کر ایسے لوگوں کی نیتوں پر حملہ کرتے ہیں جنہوں نے پوری زندگی علمِ دین کے لیے وقف کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ بڑے لوگ اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں، اور شیخ ادریس صاحب رحمہ اللہ کا کردار اُن کے الفاظ سے زیادہ بلند تھا۔
اللہ تعالیٰ شیخ محترم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ہمیں بھی اخلاص، وفا اور استقامت والی زندگی نصیب فرمائے۔ آمین 🤲
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#شیخ_ادریس
#شیخ_ادریس_رح
#مولانا_منظور_مینگل
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی

#SheikhIdrees
#SheikhIdreesRA
#ManzoorMengal
#qafilehaq

1 week ago | [YT] | 123

QAFILA E HAQ ®

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ واقعہ کسی کو نہ بتانا، یہ ایک راز ہے…
مگر آج جب شیخ صاحب ہم میں نہیں رہے تو یہ راز آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ 💔
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے:
“میں نے پوری زندگی بخاری شریف پڑھاتے ہوئے کبھی کسی بڑے آدمی کی وجہ سے سبق بند نہیں کیا، نہ ہی دورانِ درس کسی کی طرف توجہ کی۔”
پھر فرمایا:
“ایک مرتبہ خواب میں میں بخاری شریف کا درس دے رہا تھا۔ ایک شخص بار بار کہہ رہا تھا: ‘سبق بند کر دو…’
میں نے توجہ نہ دی، مگر تیسری مرتبہ جب اس نے یہی کہا تو میں نے سبق بند کر دیا۔ جب نظر اٹھائی تو وہ امام بخاری رحمہ اللہ تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ‘آپ سے ملنے کے لیے ایک عظیم ہستی تشریف لائی ہے۔’
شیخ صاحب فرماتے تھے: “جیسے ہی میں نے دائیں طرف دیکھا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما تھے۔”
پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام بخاری رحمہ اللہ سے فرمایا:
“آپ نے شیخ صاحب کو سبق سے کیوں روکا؟ میں تو خود ان کا درس سننے کے لیے آیا ہوں…”
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے: “پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گلے کو بوسہ دیا، اور اس بوسے کی ایسی خوشبو تھی کہ پورا کمرہ مہک اٹھا۔ میں نے تین دن تک غسل نہیں کیا، حالانکہ میں روزانہ صبح نہایا کرتا تھا…”
آج جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل روتا ہے کہ ہم نے کس عظیم محدث، عاشقِ رسول ﷺ اور خادمِ حدیث کو کھو دیا… 😢 اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین 🤲
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#شیخ_ادریس #مولانا_محمد_ادریس #عاشق_رسول
#SheikhIdrees #MolanaMuhammadIdrees

1 week ago | [YT] | 200

QAFILA E HAQ ®

حضرت مولانا امداد اللّٰہ صاحب ناظمِ تعلیمات بنوری ٹاؤن نے اپنے طلباء کو ایک ایسا واقعہ سنایا جس کے بارے میں شاید آج تک بہت کم لوگ جانتے تھے۔
فرمایا کہ جب حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپنے وفد کے ہمراہ افغانستان تشریف لے گئے، تو میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ وہاں امیرالمؤمنین حضرت مولانا ہیبت اللّٰہ اخونزادہ صاحب سے خصوصی ملاقات صرف دو شخصیات کی ہوئی:
1️⃣ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
2️⃣ حضرت مولانا شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللّٰہ
حضرت امیرالمؤمنین نے شیخ صاحب رحمہ اللّٰہ کا بے حد احترام کیا اور فرمایا:
"میں آپ کا شاگرد ہوں، میں نے آپ سے چار پانچ ماہ تک پڑھا ہے۔"
اللّٰہ اکبر…!
یہ وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جن کی قدر صرف زمین پر نہیں بلکہ دنیا بھر کے اہلِ علم کے دلوں میں ہوتی ہے۔
حضرت شیخ ادریس صاحب رحمہ اللّٰہ واقعی علم، اخلاص، عاجزی اور وقار کا ایک روشن مینار تھے۔
اور میرا پچھلا مؤقف بھی صرف اُن لوگوں کے بارے میں تھا جو سوشل میڈیا پر حضرت شیخ صاحب رحمہ اللّٰہ کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنے، بیانات جاری کیے اور ایک عظیم عالمِ دین کی کردار کشی میں شریک رہے۔
آج بھی اُن کے وہ بیانات اور پوسٹس سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللّٰہ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ہمیں اکابرین کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#شیخ_ادریس #مولانا_محمد_ادریس #مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#SheikhIdrees #MolanaMuhammadIdrees #qafilaehaq

1 week ago | [YT] | 105

QAFILA E HAQ ®

شیخ ادریسؒ کے جنازے میں عوام کا سمندر اُمڈ آیا
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا
Sheikh Idrees Rah Ke Janaze Mein Logon Ka Samandar
مفتی محمد امجد مردانوی
#شیخ_ادریس
#مولانا_محمد_ادریس
#SheikhIdrees
#MolanaMuhammadIdrees

1 week ago | [YT] | 307

QAFILA E HAQ ®

مفتی زرولی خان صاحب نوّر الله مرقده فرماتے تھے:
“ایک مرتبہ جمعہ کے بعد میں اپنے حجرے میں سنتیں ادا کر رہا تھا کہ ایک صاحب اپنے بچے کے ساتھ آئے۔ وہ اپنے بچے سے کہنے لگے:
‘دیکھو، مفتی صاحب سنتیں پڑھ رہے ہیں۔’
میں نے پوچھا: معاملہ کیا ہے؟
انہوں نے عرض کیا:
‘یہ بچہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مفتی صاحب تو بھی سنتیں نہیں پڑھتے، تو پھر میں کیوں پڑھوں؟’
حضرت فرماتے ہیں:
“اس واقعے کے بعد میں نے سنتیں محراب ہی میں ادا کرنا شروع کر دیں۔”
یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔
لوگ خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی نظریں دیندار افراد اور خاص طور پر علماء کرام کے اعمال پر ہوتی ہیں۔ وہ صرف باتیں نہیں سنتے بلکہ عمل دیکھ کر اپنا ذہن اور طرزِ زندگی بناتے ہیں۔
اسی لیے علماء اور دیندار حضرات کو اپنے ہر عمل میں مزید احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا ایک عمل کئی لوگوں کے لیے نمونہ بن جاتا ہے۔
اور عام لوگوں کو بھی چاہیے کہ کسی کے ظاہری عمل کو دیکھ کر جلد فیصلہ نہ کریں، بلکہ حسنِ ظن اور صحیح سمجھ کے ساتھ دین کو اپنانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کو دوسروں کے لیے خیر اور ہدایت کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی

#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 158

QAFILA E HAQ ®

🌹حضرت مولانا شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم کے دوسرے مہتمم بنے ایک دفعہ دارالعلوم میں تشریف لائے تو ایک طالب علم نے آ کر کہا، حضرت! آپ کے مطبخ میں یہ سالن پکتا ہے، ذرا دیکھیں تو سہی، اس سے تو وضو بھی جائز ہو جاتا ہے۔ اگر مہتمم صاحب کے سامنے ایک طالب علم ایسی بات کرے تو یہ معمولی بات نہیں تھی۔ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃاللہ علیہ نے اس لڑکے کو سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا اور فرمایا لگتا ہے یہ ہمارے مدرسے کا طالب علم نہیں ہے۔ یہ بیرونی لڑکا ہے جو یہاں آیا ہوا ہے۔ استاد کہنے لگے، حضرت ! دیکھ لیتے ہیں۔ اس کا نام رجسٹر میں دیکھا، لکھا ہوا ہے۔ جب باورچی سے پوچھا تو اس نے کہا، روزانہ کھانے کے وقت آکر کھانا بھی کھاتا ہے۔ لیکن جب مزید تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ بازار میں کام کرتا تھا اور کھانے کے وقت مدرسہ میں آکر کھانا کھا لیتا تھا۔
استاد بڑے حیران ہوئے کہنے لگے: مہتمم صاحب ! ہم لوگ بچوں کو پڑھاتے ہیں، اس لڑکے کو نہ پہچان سکے، آپ تو بچوں کو دیکھتے ہی نہیں آپ نے کیسے پہچان لیا؟ مولانا رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، جب میں اس مدرسہ میں مہتمم بنا تو میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ یہاں ایک کنواں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں میں سے پانی کے ڈول نکال رہے ہیں ۔ دارالعلوم کے طلبا آتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پانی ڈال کر دے رہے ہیں۔ میں نے خواب میں اس لڑکے کو نہیں دیکھا تھا اس لیے میں سمجھ گیا کہ یہ ہمارے مدرسے کا طالب علم نہیں ہے۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
(اسلاف کے حیرت انگیز واقعات صفحہ 112)
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 96

QAFILA E HAQ ®

*قابلیت پر ناز کرنا مہلک ہے*
حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند میں ایک طالب علم تھا اس کی قابلیت ذہانت اور استعداد کا بڑا چرچا تھا اتنا چرچا تھا کہ ویسے تو وہ سبق میں آتا ہی نہیں تھا اور اگر کبھی آجاتا اور ارادہ ہوتا کہ آج عبارت پڑھوں گا اگر اس کو موقع نہ ملتا اور کوئی دوسرا عبارت شروع کرتا تو وہ کتاب بغل میں اٹھا کر چلا جاتا تھا بے ادبی کی انتہا تھی استاذ کی بھی اور کتاب اور ساتھیوں کی بھی ایک کام اور کرتا تھا کہ اگر ارادہ کرتا کہ آج سبق نہیں ہونے دیتا تو وہ آتا اور اشکال پر اشکال کرتا اور اس طرح گھنٹہ ختم ہو جاتا۔ جیسے طلبہ عصر کے بعد نکلتے ہیں ایسے اس کے ساتھ بھی نکلتے وہ بھی ساتھ ہوتا تھا جہاں جاتے کھیت اجاڑ دیتے تھے اور شرارتیں کرتے تھے اور وہ کبھی یہ حرکت کرتا تھا
کہ حقہ لیا ہوا ہے منہ سے لگا کر دارِجدید کا چکر لگا رہا ہے تو انجام یہ ہوا کہ میزان سےلے کر دورہ تک اس دارالعلوم میں پڑھا لیکن دورہ کے سال سہ ماہی میں اس کا اخراج ہو گیا یقینا کوئی ناقابل برداشت حرکت کی ہوگی، جس کی وجہ سے اخراج ہو گیا
دارالعلوم دیو بند کے اجلاس صد سالہ کے موقع پر 1981ء میں دستار بندی تھی۔ممتاز لوگوں کی بھی دستار بندی ہوئی۔جب ہم اجلاس صد سالہ کیلئے جا رہے تھے تو لاہور کے اسٹیشن پر اس طالب علم سے ملاقات ہو گئی وہ اپنی صلاحیتوں کیساتھ اس طرح دفن ہوا کہ نام و نشان نہ رہا..
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے صفحہ ہستی سے
تمہارا نام تک نہ ہوگا داستانوں میں..
معلوم ہوا کہ ایک ہائی اسکول میں ٹیچر ہے لوگ سارے دیوبند جارہے ہیں اورخوش ہیں اور وہ رو رہا ہے " با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب"... کبھی اس پر فخر نہ کرو کہ ہمارا ذہن تیز ہے حافظہ عمدہ ہے میں نے دیوبند میں ایسے طالب علم دیکھے کہ قلم برداشتہ عربی کا قصیدہ شروع کیا اور فی البدیہہ لکھا لیکن ان میں بھی اساتذہ کا ادب نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے علم سے نہ ان کو فائدہ ملا نہ دوسروں نے فائدہ اٹھایا اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ ادب کا پاس رکھنا بہت ضروری ہے ..
مفتی محمد امجد مردانوی
(مجالس علم وذکر )
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 171

QAFILA E HAQ ®

معاملات کی درستگی کا عجیب واقعہ
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ میں ایک دفعہ اعظم گڑھ گیا اور اس ضلع میں چھوٹا سا گاؤں تھا اسٹیشن سے چار میل دور وہاں کے لوگوں نے مجھے بلایا تو وہاں سے جب فارغ ہوا اور ریل رات کو گیارہ بجے جاتی تھی.... سردی کا زمانہ تھا تو لوگوں نے کہا کہ سردی کا زمانہ ہے
اندھیری رات ہوگی ... بارشیں ہورہی ہیں۔ اس لئے رات کو جانے میں تکلیف ہوگی۔ اس لئے مناسب ہے کہ عصر کے وقت اسٹیشن پہنچا دیا جائے رات کو ٹرین آئے گی تو سوار ہو جائیں گے... حضرت کو سوار کر کے اسٹیشن لائے جو بہت چھوٹا سا سا تھا نہ ویٹنگ روم نہ مسافر خانہ ایک ہی کمرہ تھا دفتر کا اور اسی سے ملا ہوا مال گودام تھا.... بوریاں وغیرہ رکھی تھیں۔ اسٹیشن ماسٹر ہندو تھا مگر بھلا آدمی اس نے دو چار بوریاں بٹائیں اور مصلے کی جگہ بنائی اور کچھ آرام کی جگہ ہوگئی ... حضرت سے کہا کہ آرام سے بیٹھیں فرماتے تھے جب مغرب کا وقت ہوا تو میں نے نماز پڑھی اس کے بعد سنتیں اور اس کے بعد نفلوں کی نیت باندھی تو وہ اسٹیشن ماسٹر ایک لیمپ لے کر آیا تاکہ روشنی ہو جائے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: "معا مجھے یہ خطرہ ہوا کہ مال گودام کے لئے گورنمنٹ نے کوئی لیمپ رکھا نہیں ہے یہ محض میری وجہ سے لایا ہوگا ... تو میں گویا غاصب ٹھہرا میرے لئے حق نہیں کہ اسے استعمال کروں ... نماز میں ایک بے چینی شروع ہو گئی کہ اے اللہ تو نے ہمیشہ مجھے مشتبہ چیزوں سے بچایا ہے. یہ مشتبہ چیز آرہی ہے جس کا مجھے حق نہیں اس لئے تو ہی بچانے والا ہے۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بمشکل میں نے دور کعتیں ختم کیں اور اس نے لیمپ رکھا نہیں بلکہ لئے کھڑارہا جب میں نے سلام پھیرا تو اس نے آگے بڑھ کر کہا کہ ” میں یہ لیپ لے کر آیا ہوں اور یہ اسٹیشن کا نہیں میرا ذاتی ہے اس لئے لایا کہ اندھیرے کی تکلیف نہ ہو
حضرت حکیم الامت فرماتے تھے کہ میں نے اتنی دعائیں کیں اس کے حق میں کہ اتنی رعایت ہے اس لئے اس نے خود محسوس کیا کہ مجھے حق نہیں لہذا اپنے گھر سے لایا.
فائدہ:
جب طبیعت میں سلامتی ہو تو کافر بھی ہو قدرت رہنمائی کرتی ہے۔بشر طیکہ مذہب کا کوئی جذبہ موجود ہو اخلاقی قدریں اس کے اندر ہوں حتی جب تقوی تک پہنچ جائے تو حق تعالی ایسے راستے پیدا فرما دیتے ہیں کہ منتخبات سے بھی بچائے مگر یہ جب ہی ہوتا ہے کہ تقویٰ باطنی کی عادت ڈالے جو تقوی ظاہر کا ہے وہ تو یہ ہے کہ برا عمل نہ کرے نا جائز نہ کرے... ہر کام جائز عمل کی حد میں اور ایک ہے باطنی تقوی وہ زیادہ دقیق ہوتا ہے ہر ایک کی رسائی نہیں ہوتی جب تک کہ اعلیٰ درجہ کا متقی نہ ہو...
(الحق ص ۸ ربیع الثانی ۱۳۹۱ )
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی

3 weeks ago | [YT] | 111