Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006
QAFILA E HAQ ®
یوں تو احقر (مفتی تقی عثمانی صاحب) مولانا یوسف بنوریؒ کا شاگرد ہی تھا اور ہر ملاقات میں مولانا سے کوئی نہ کوئی علمی فائدہ حاصل ہو جاتا تھا لیکن ان سے باقاعدہ کوئی کتاب پڑھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ احقر نے کئی بار خواہش ظاہر کی تو مولانا طرح دے گئے۔
افریقہ کے سفر میں احقر نے تہیہ کیا کہ اس موقع سے یہ فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے۔ اتفاق سے احقر نے مدینہ طیبہ سے اصول حدیث پر حافظ ابن کثیر کی ایک کتاب "الباعث الحثيث" خریدلی تھی۔ احقر نے عرض کیا کہ میں یہ کتاب آپ سے پڑھنا چاہتا ہوں۔ مولاناً شروع میں اپنی تواضع کے سبب انکار فرماتے رہے، بالآخر احقر نے ایک روز فجر کے بعد مولانا سے عرض کیا کہ میں اس کتاب کی عبارت آپ کے سامنے پڑھتا جاؤں گا کسی موقع پر آپ کا دل چاہے تو کچھ بیان فرمادیں ورنہ میں صرف عبارت پڑھنے پر اکتفا کروں گا۔ اس پر مولانا راضی ہو گئے۔ میں جانتا تھا کہ جب بات چھڑے گی تو مولانا خاموش نہ رہ سکیں گے۔ چنانچہ احقر نے عبارت پڑھنی شروع کی بس پھر مولانا کھل گئے اور تقریباً کتاب کے ہر فقرے پر کچھ نہ کچھ نئے افادات بیان فرمائے۔ افسوس ہے کہ حضرت والد صاحب کی علالت کی بناء پر مجھے افریقہ سے جلد واپس آنا پڑا اور یہ کتاب مولانا کے سامنے
مکمل نہ ہو سکی، لیکن بحمد اللہ اس طرح ضابطے کا تلمذ بھی مولانا سے حاصل ہو گیا۔ مندرجہ ذیل باتیں جو مولانا نے اس درس میں بیان فرمائی تھیں اب تک یاد ہیں :-
(1) حافظ ابن کثیر اگرچہ مسلکاً شافعی ہیں ، لیکن علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد ہونے کی وجہ سے ان کے متعدد تفردات میں ان کے ہم نوا ہیں، مثلاً شدّر حال کے مسئلے میں
(۲) علماء حدیث کا اس مسئلہ میں اختلاف رہا ہے کہ کونسی سند اصح الاسانید ہے۔ امام احمد نے زہری عن سالم عن ابيه " کو اصح الاسانید قرار دیا ہے۔ علی ابن المدینی نے محمد بن سيرين عن عبيدة عن علی کو یحییٰ بن معین نے " عمش عن ابراهيم عن علقمه عن ابن مسعود کو لیکن در حقیقت ان میں سے کسی کو علی الاطلاق اصح الاسانید کہنا مشکل ہے۔ در حقیقت اقوال کا یہ اختلاف اپنے اپنے علاقوں کی وجہ سے ہے۔ امام احمد کا قول اہل مدینہ کے لحاظ سے درست ہے، علی ابن المدینی کا قول اہل بصرہ کے لحاظ سے صحیح ہے اور یحییٰ بن معین کا قول اہل کوفہ کے لحاظ سے اس کے علاوہ بھی اس درس کی بعض باتیں احقر کے پاس لکھی ہوئی محفوظ ہیں۔
احقر پر حضرت بنوری کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان یہ تھا کہ جب سے البلاغ شائع ہونا شروع ہوا وہ احقر کی تحریروں پر عام طور سے ایک سرسری نظر ضرور ڈال لیتے تھے، اور ملاقات کے وقت کوئی قابل اصلاح بات ہوتی تو اس پر تنبیہہ بھی فرمادیتے اور کوئی بات پسند آتی تو اس پر حوصلہ افزائی بھی فرماتے۔ اور یہ بات احقر کے لئے مایہ صد افتخار ہے کہ حضرت مولانا نے البلاغ کی تحریروں پر اظہار پسندیدگی کرتے ہوئے اپنی تصنیف "معارف السنن" کا ایک سیٹ احقر کو بطور انعام عطا فرمایا جس کی پہلی جلد پر اپنے قلم سے یہ عبارت نہایت پاکیزہ خط میں تحریر فرمائی کہ : أقدم هذا الكتاب با جزاءه الستة المطبوعة إلى حي في الله الاستاذ التركى و هاته الزكي الشاب اتقى محمد تقى اعجابا نبوغة في كتابات مجله الشهرية " البلاغ - خصوصا في رده على كتاب " خلافت و ملوكيت ردا بلیغا نا جعا حفظه الله ووفقه لامثال المثاله وهو الموفق -
کتبہ محمد يوسف البنوری ۲۶-۳-۹۵
(نقوش رفتگاں ص 97)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#MuftiTaqiUsmani
#MaulanaYusufBanori
#qafilaehaq
4 hours ago | [YT] | 49
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
ایک مرتبہ علامہ بنوری رحمہ اللہ پہلی بار حجاز اور مصر و شام کے سفر پر تشریف لے گئے تو وہاں ان کی ملاقات علامہ جوہر طنطاوی مرحوم سے ہو گئی ، جن کی تفسیر الجواہر اپنی نوعیت کی منفرد تفسیر ہے۔ علامہ طنطاوی سے حضرت بنوری کا تعارف ہوا تو انہوں نے مولانا سے پوچھا کہ کیا آپ نے میری تفسیر کا مطالعہ کیا ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ ہاں! اتنا مطالعہ کیا ہے کہ اس کی بنیاد پر کتاب کے بارے میں رائے قائم کر سکتا ہوں۔ علامہ طنطاوی نے رائے پوچھی، تو مولانا نے فرمایا آپ کی کتاب اس لحاظ سے تو علماء کیلئے احسان عظیم ہے کہ اس میں سائنس کی بے شمار معلومات عربی زبان میں جمع ہو گئی ہیں۔ سائنس کی کتابیں چونکہ عموماً انگریزی زبان میں ہوتی ہیں اس لئے عموماً علمائے دین ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن جہاں تک تفسیر قرآن کا تعلق ہے اس سلسلے میں آپ کے طرز فکر سے مجھے اختلاف ہے۔ آپ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ عصر حاضر کے سائنس دانوں کے نظریات کو کسی نہ کسی طرح قرآن کریم سے ثابت کر دیا جائے اور اس غرض کیلئے آپ بسا اوقات تفسیر کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سائنس کے نظریات آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ آج آپ جس نظریئے کو قرآن سے ثابت کرنا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ کل وہ خود سائنس دانوں کے نزدیک غلط ثابت ہو جائے ، کیا اس دو صورت میں آپ کی تفسیر کو پڑھنے والا شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے گا کہ قرآن کریم کی بات ” معاذ اللہ" غلط ہوگئی! مولانا نے یہ بات ایسے مؤثر اور دلنشین انداز میں بیان فرمائی کہ علامہ طنطاوی مرحوم بڑے متاثر ہوئے اور فرمایا " مولانا ! آپ کوئی ہندوستانی عالم نہیں ہیں بلکہ آپ کوئی فرشتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری اصلاح کیلئے نازل کیا ہے۔ (نقوش رفتگاں)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#علامہ_بنوری
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#maulanayousafbinori
#AllamaBanori #qafilaehaq
2 days ago | [YT] | 154
View 8 replies
QAFILA E HAQ ®
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں۔
حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے آج کون سا مسلمان نا واقف ہوگا... اللہ تبارک و تعالیٰ نے تبلیغ اور دین کی دعوت کا جذبہ آگ کی طرح ان کے سینے میں بھر دیا تھا .... جہاں بیٹھتے بس دین کی بات شروع کر دیتے ... اور دین کا پیغام پہنچاتے ....
ان کا واقعہ کسی نے سنایا کہ ایک صاحب ان کی خدمت میں آیا کرتے تھے ... کافی دن تک آتے رہے .... ان صاحب کی ڈاڑھی نہیں تھی .... جب ان کو آتے ہوئے کافی دن ہو گئے تو حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سوچا کہ اب یہ مانوس ہو گئے ہیں .... چنانچہ ایک دن حضرت نے ان سے کہہ دیا کہ بھائی صاحب ..... ہمارا دل چاہتا ہے کہ تم بھی اس ڈاڑھی کی سنت پر عمل کرلو .... وہ صاحب ان کی یہ بات سن کر کچھ شرمندہ سے ہو گئے .... اور دوسرے دن سے آنا چھوڑ دیا .....
جب کئی دن گزر گئے تو حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں سے ان کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے آنا چھوڑ دیا ہے ... حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بہت افسوس ہوا
اور لوگوں سے فرمایا کہ مجھ سے بڑی سخت غلطی ہوگئی ... کہ میں نے کچے توے پر روٹی ڈال دی ... یعنی ابھی توا گرم نہیں ہوا تھا .... اور اس قابل نہیں ہوا تھا کہ اس پر روٹی ڈالی جائے .... میں نے پہلے ہی روٹی ڈال دی .... اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان صاحب نے آنا ہی چھوڑ دیا... اگر وہ آتے رہتے تو کم از کم دین کی باتیں کان میں پڑتی رہتیں .... اور اس کا فائدہ ہوتا ....
اب ایک ظاہر بین آدمی تو یہ کہے گا کہ اگر ایک شخص غلط کام کے اندر مبتلا ہے تو اس سے زبان سے کہہ دو .... اس لیے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر ہاتھ سے برائی کو نہیں روک سکتے تو کم از کم زبان سے کہ دو ... لیکن آپ نے دیکھا کہ زبان سے کہنا الٹا مضر اور نقصان دہ ہو گیا
کیونکہ ابھی تک ذہن اس کے لیے سازگار اور تیار نہیں تھا
یہ باتیں حکمت کی ہوتی ہیں کہ کس وقت کیا بات کہنی ہے .... اور کس انداز سے کہنی ہے ... او کتنی بات کہنی ہے دین کی بات کوئی پتھر نہیں ہے کہ اس کو اُٹھا کر پھینک دیا جائے ... یا ایسا فریضہ نہیں ہے کہ اس کو سر سے ٹال دیا جائے .... بلکہ یہ دیکھو اس بات کے کہنے سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا ؟ اس کا نتیجہ خراب تو نہیں ہو گا؟ اگر بات کہنے سے خراب اور برا نتیجہ نکلنے کا اندیشہ ہو تو اس وقت دین کی بات کہنے سے رک جانا چاہیے ... اس وقت بات نہیں کہنی چاہیے یہ بات بھی استطاعت نہ ہونے میں داخل ہے۔
(ارشادات اکابر )
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی #مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#MuftiTaqiUsmani #qafilaehaq
4 days ago | [YT] | 146
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ.... جو دارالعلوم دیو بند کے صدر مدرس اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد تھے .... غالباً انہی کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے ایک مرتبہ حضرت والا کی دعوت کی ... آپ وہاں تشریف لے گئے۔ کھانا شروع کیا .... ایک نوالہ کھانے کے بعد معلوم ہوا کہ جس شخص نے دعوت کی ہے اس کی آمدنی حلال نہیں ہے ... اس کی وجہ سے یہ کھانا حلال نہیں ہے ....
چنانچہ کھانا چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ... اور واپس چلے آئے ... لیکن ایک نوالہ جو حلق میں چلا گیا تھا اس کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ ایک لقمہ جو میں نے حلق سے نیچے اتار لیا تھا اس کی ظلمت اور تاریکی دو ماہ تک مجھے محسوس ہوتی رہی .... وہ اس طرح کہ دو ماہ تک میرے دل میں گناہ کرنے کے داعیے بار بار دل میں پیدا ہوتے رہے .... دل میں یہ تقاضا ہوتا کہ فلاں گناہ کرلوں، فلاں گناہ کرلوں .... اب بظاہر تو اس میں کوئی جوڑ نظر نہیں آتا کہ ایک لقمہ کھا لینے میں اور گناہ کا تقاضا پیدا ہونے میں کیا جوڑ ہے؟ لیکن بات دراصل یہ ہے
کہ ہمیں اس لیے محسوس نہیں ہوتا کہ ہمارا سینہ ظلمت کے داغوں سے بھرا ہوا ہے ... جیسے ایک سفید کپڑے کے اوپر بے شمار سیاہ داغ لگے ہوئے ہوں .... اس کے بعد ایک داغ اور لگ جائے .... پتہ بھی نہیں چلے گا کہ نیا داغ کونسا ہے؟ لیکن اگر کپڑا سفید ... صاف شفاف ہو .... اس پر اگر ایک چھوٹا سا بھی داغ لگ جائے گا تو دور سے نظر آئے گا کہ داغ لگا ہوا ہے .... بالکل اسی طرح ان اللہ والوں کے دل آئینے کی طرح صاف شفاف ہوتے ہیں اس پر اگر ایک داغ بھی لگ جائے تو وہ داغ محسوس ہوتا ہے ... اور اس کی ظلمت نظر آتی ہے .... چنانچہ ان اللہ کے بندے نے یہ محسوس کر لیا کہ اس ایک لقمہ کے کھانے سے پہلے تو نیکی کے داعیے بھی دل میں پیدا ہو رہے ہیں ... گناہوں سے نفرت ہے۔ لیکن ایک لقمہ کھانے کے بعد دل میں گناہوں کے تقاضے پیدا ہونے لگے ... اس لیے بعد میں فرمایا کہ در حقیقت یہ اس ایک خراب لقمے کی ظلمت تھی .... اس کا نام ” برکت باطنی ہے جب اللہ تعالیٰ یہ برکت باطنی عطا فرمادیتے ہیں تو پھر اس کے ذریعے انسان کے باطن میں ترقی ہوتی ہے اخلاق اور خیالات درست ہو جاتے ہیں۔
(اصلاحی خطبات جلد ۵ ص ۱۹۵)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq
1 week ago | [YT] | 149
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں۔ اکبر شاہ ثانی جو کہ بادشاہ وقت تھا ایک مرتبہ مرزا مظہر جان جاناں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا بادشاہ کو پیاس لگی کوئی خادم اس وقت موجود نہ تھا خود اٹھ کر پانی پیا اور پانی پی کر کٹورہ صراحی پر ٹیڑھا رکھ دیا۔ مرزا صاحب کے سر میں درد ہو گیا طبیعت پریشان ہوگئی لیکن ضبط فرمایا چلتے وقت بادشاہ نے عرض کیا کہ حضرت آپ کے یہاں کوئی آدمی خدمت کے لئے نہیں ہے اگر ارشاد ہو تو کوئی آدمی بھیج دوں ۔ اب تو مرزا صاحب سے رہا نہ گیا جھنجھلا کر فرمایا کہ پہلے تم تو آدمی بنو۔ کٹورہ ٹیڑھا رکھ دیا۔ طبیعت اب تک پریشان ہے
ایک شخص نے مرزا صاحب کی خدمت میں انگور بھیجے بہت نفیس وہ منتظر داد کے ہوئے مگر مرزا صاحب ساکت تھے آخر اس نے خود پوچھا کہ حضرت انگور کیسے تھے؟ فرمایا مُردوں کی بُو آتی تھی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ قبرستان میں انگور بوئے گئے تھے۔ وہ انگور وہاں سے آئے تھے۔ مرزا صاحب کے اندر حسن پسندی تھی وہ طبعی تھی طبیعت کی ساخت ایسی واقع ہوئی تھی کہ ہر اچھی شے پسند فرماتے تھے ان کے نفس میں برے خیال کا شائبہ بھی نہ تھا اور دلیل اس کی یہ ہے کہ بچپن میں بھی بدصورت کی گود میں نہ جاتے تھے۔ بھلا اس وقت کیا احتمال ہو سکتا ہے۔ (امثال عبرت حصہ دوم نمبر ۲۳)
📖 الفرج بعد الشدۃ والضیقۃ
(پریشانی کے بعد راحت)
مایوسی، غم، مشکلات اور آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہر شخص کے لیے امید، حوصلے اور تسلی کا ایک قیمتی تحفہ۔
یہ کتاب اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی اور ہر پریشانی کے بعد راحت آتی ہے۔
💰 قیمت: صرف 800 روپے
🚚 ڈاک خرچ علیحدہ ہوگا
📞 رابطہ: 03339861961
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مرزا_مظہر_جان_جاناں
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#MirzaMazharJanEAanan
#qafilaehaq
1 week ago | [YT] | 66
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
آج سے 160 سال قبل، 31 مئی 1866ء کو عالمِ اسلام کے عظیم علمی و دینی مرکز دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ مبارک ادارہ ہے جس نے مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کی صحیح ترجمانی، دینِ اسلام کی تجدید و احیاء، عقائدِ حقہ کے تحفظ، علومِ نبوت کی اشاعت اور امتِ مسلمہ کی فکری و عملی رہنمائی میں بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے گزشتہ ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے میں لاکھوں علماء، محدثین، مفسرین، فقہاء اور داعیانِ دین پیدا کیے، جنہوں نے دنیا کے ہر خطے میں اسلام کی خدمت اور حق کی آواز بلند کی۔
اللہ تعالیٰ اکابرِ دیوبند کے اس مبارک قافلۂ حق پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی علمی، دینی اور دعوتی خدمات کو امت کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنائے۔ آمین۔
خدماتِ دارالعلوم دیوبند
1. دارالعلوم دیوبند: تجدیدِ دین اور احیائے اسلام کی عالمگیر تحریک
2. دارالعلوم دیوبند: دینی تعلیم و تربیت کا بین الاقوامی مرکز
3. تحفظِ دین اور دفاعِ اسلام میں علمائے دیوبند کی گراں قدر خدمات
4. عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور پاسبانی میں علمائے دیوبند کا تاریخی کردار
5. فتنۂ تشیع کے علمی رد اور عقائدِ اہلِ سنت کے دفاع میں خدمات
6. شرک، بدعات اور خرافات کے خلاف علمائے دیوبند کی مسلسل جدوجہد
7. فتنۂ عدمِ تقلید کے تعاقب اور فقہی استحکام میں علمائے دیوبند کا کردار
8. باطل افکار، گمراہ کن نظریات اور غیر اسلامی تحریکات کے خلاف علمی محاذ
9. اصلاحِ امت، تزکیۂ نفس اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں نمایاں خدمات
10. علومِ قرآن، تفسیر اور اشاعتِ قرآن میں علمائے دیوبند کی خدمات
11. حدیثِ نبوی ﷺ کی تدریس، تحقیق اور اشاعت میں بے مثال کردار
12. فقہِ اسلامی کی تدوین، تحقیق اور ترویج میں علمائے دیوبند کی خدمات
13. عربی زبان و ادب کے فروغ اور علمی سرمایہ کی حفاظت میں کردار
14. اردو زبان کی ترویج، ترقی اور دینی ادب کی خدمت میں نمایاں حصہ
15. تحریکِ آزادیِ ہند میں علمائے دیوبند کی قربانیاں اور تاریخی جدوجہد
16. ملّی، سماجی، رفاہی اور قومی خدمات میں علمائے دیوبند کا روشن کردار
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#160سالہ_دارالعلوم_دیوبند
2 weeks ago | [YT] | 198
View 12 replies
QAFILA E HAQ ®
کیا واقعی ایک قربانی انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے؟
حضرت مفتی زرولی خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک ایمان افروز واقعہ سنایا کرتے تھے جو دل کو ہلا دیتا ہے۔
فرماتے تھے:
“ہمارے علاقے میں سب لوگ قربانی کرتے تھے۔ بچپن میں میں نے بھی اپنے والد صاحب سے کہا کہ ہم بھی قربانی کریں گے۔ والد صاحب نے فرمایا: ‘بیٹا! ہم پر قربانی واجب نہیں۔’ اس زمانے میں گائے کے ایک حصے کی قیمت صرف آٹھ روپے تھی، مگر ہمارے پاس وہ بھی نہیں تھے۔ میں نے ضد پکڑ لی تو والد صاحب نے کسی سے قرض لے کر قربانی میں حصہ لیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت اور وسعت عطا فرمائی کہ اگلے ہی سال ہم نے پوری گائے قربان کی۔”
مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دو چیزیں غریبی کو ختم کرتی ہیں:
1️⃣ قربانی
2️⃣ حج و عمرہ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کیا گیا مال کبھی ضائع نہیں ہوتا، بلکہ وہی رزق میں برکت اور زندگی میں آسانیاں لے کر آتا ہے۔ 🤍
اس ایمان افروز بیان کا کلپ یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_زرولی_خان
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#MuftiZarwaliKhan
#qafilaehaq
2 weeks ago | [YT] | 241
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
مولانا سلیم اللہ خان رح کی جوانی کا زمانہ تھا اور حضرت شیخ الاسلام شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی نورالله مرقدہ کے ایک تلمیذ خاص تھے، ہمیں یاد ہے (مولانا عبید اللہ خالد صاحب فرماتے ہے)کہ حضرت اس زمانے میں مکمل صحیح بخاری اس زمانے میں صحیح بخاری کی دو جلدیں نہیں ہوتی تھیں صحیح بخاری ایک ہوتی تھی اور مکمل بخاری حضرت پڑھاتے تھے اس زمانے میں سنن الترمذی کی دو جلدیں نہیں ہوتی تھیں، ایک ہوتی تھی، مکمل ترمذی خود پڑھاتے تھے، مشکوٰة مکمل حضرت پڑھاتے تھے، تو حضرت کے پاس ایک صاحب آتے تھے، انہوں نے پتلون پہنی ہوئی ہوتی تھی، انہوں نے شرٹ پہنی ہوئی ہوتی تھی اور شرٹ کے بٹن کھلے ہوئے ہوتے تھے، داڑھی بھی ہوتی تھی، بال بکھرے ہوئے ہوتے تھے، پان کھاتے تھے اور پورا منھ پان سے سرخ ہوتا تھا، جب وہ آتے اور حضرت کی درس گاہ میں آتے تو حضرت ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے ، انہیں اپنے برابر میں بٹھاتے ہم نے سبق میں کئی دفعہ یہ منظر دیکھا، حضرت فرماتے تھے کہ یہ حضرت شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمة الله علیہ کے شاگرد ہیں اور ان کا دماغی توازن سو فیصد درست نہیں تھا کچھ کمی تھی، لیکن حواس قائم تھے ،حضرت ان سے فرماتے ہاں بھائی! حضرت شیخ کا سبق حضرت کی عبارت پڑھو، تو بس وہ جناب حضرت شیخ الاسلام نور الله مرقدہ کی نقل اتارتے او ربالکل اسی طرح سے، فوراً شروع ہو جاتے، پھر حضرت فرماتے ہاں بھائی! حضرت مولانا ابراہیم بلیاوی رحمة الله علیہ کا سبق سناؤ، تو حضرت بلیاوی رحمة الله علیہ کا سبق سنانا شروع کر دیتے۔
خیر ہم نے حضرت رحمة الله علیہ سے پوچھا کہ حضرت یہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، شیخ الاسلام کے شاگرد ہیں اور اس کو حضرت کا اندازکلام اورعبارت خوانی ایسی آتی ہے کہ آپ ان سے درخواست کرتے ہیں آپ اس کا اعزاز واکرام کرتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟
توحضرت کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور فرماتے کہ بھائی! یہ اپنے پڑھنے کے زمانے میں بھی اپنے اساتذہ کی اسی طرح نقل اُتارتے تھے،اس کا نتیجہ ہے۔
اب تو ظاہر ہے کہ ہمار ے اکابر چلے گئے، ہم تو اس شوق سے کہ ہماری یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس وجہ سے ہوا کہ یہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ کی نقلیں اتارتا تھا،
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مولانا_سلیم_اللہ_خان #مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#MolanaSaleemullahKhan
#qafilaehaq
3 weeks ago | [YT] | 128
View 3 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے سوانح نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک پریشان حال شخص حضرت گنگوہی رح کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بیعت کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا تم کو بیعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے میں بیعت نہیں کرسکتا۔ وہ رونے لگا، لیکن آپ نے اس کو مجلس سے اٹھادیا اور اب اس نے حضرت گنگوہی رح کے خدام سے روروکر خوشامدیں کرنا شروع کیں اور کہا کہ آپ لوگ میرے حال پر رحم کریں میری سفارش کردیں کہ حضرت مجھے بیعت فرمالیں، اس کی حالت زار دیکھ کر سفارش کرنے والوں نے اس کی سفارش بھی کردی، مگر حضرت گنگوہی رح کو اقرار میں نہ بدلواسکے اور یہی فرمایا کہ میرے گھر سے اس کا کھانا نہیں آئے گا۔ اس کو یہاں سے نکال دو، اس کے باوجود وہ شخص نہایت بے تابی کے ساتھ اپنی تمنا اور آرزو کا لوگوں سے اظہار کرتا رہا اور بسا اوقات روتا رہتا تھا۔ اس کی اس حالت پر قریب قریب تمام متوسلین کو ترس آجاتا تھا، حتی کہ حضرت گنگوہی کے ایک مقرب ترین خادم نے اس کو اپنے گھر پر ٹھہرالیا اور اس کے ہر طرح کے آرام کا بندوبست کیا اور اس کو بیعت کرانے کا وعدہ کیا، لیکن وہ اپنی سفارش میں کامیاب نہ ہوسکے بلکہ زجر و توبیخ کا سامنا کرنا پڑا، تب ان کے دل میں کھٹک پیدا ہوئی اور اس کا راز جاننے کی کوشش کی، وہ ایک کتاب جزدان میں رکھ کر ہمیشہ اپنی گردن میں لٹکائے رہتا تھا۔
ایک دن اس کو کتاب میں کچھ لکھتے ہوئے دیکھ لیا، جب اس شخص کی نظر ان پر پڑی تو جلدی سے کتاب بند کرکے جزدان میں ڈال لیا اور گردن میں حمائل کرلیا، میزبان کا شک قوی ہوگیا، جب وہ ایک دن بے خبری کی نیند سورہا تھا تو بہت آہستگی سے اس کی جزدان نکالی اور کتاب کھول کر دیکھی، تو وہ کتاب نہیں وہ اس کی ذاتی ڈائری تھی جس میں وہ روز مرہ کی یاد داشت لکھا کرتا تھا۔ اس میں اس نے افسران بالا کو جواب تک رپورٹیں بھیجی تھیں اس کا بھی اندراج تھا، ان تمام حقائق کا انکشاف ہوا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی، وہ محکمہ سی، آئی، ڈی کا آدمی تھا، وہ حضرت گنگوہی کی ذکانت و فطانت پر حیرت زدہ رہ گئے اور انکار بیعت کی وجہ از خود سمجھ میں آگئی۔ (مولانا رشید احمد گنگوہی مطبوعہ شیخ الہند اکیڈمی دیوبند، ص: ۱۸۴)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
اپیل 🙏
سخت گرمی کے موسم میں ایک دینی مدرسہ کو طلبہ کے لیے بیٹریوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی پنکھوں اور ضروری نظام کو چلایا جا سکے۔
آپ 20، 50، 100 روپے یا جتنی بھی اللہ نے استطاعت دی ہو، تصویر میں دیے گئے نمبر پر تعاون فرمائیں۔
آپ کا تھوڑا سا تعاون کسی طالبِ علم کے لیے بڑی آسانی بن سکتا ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
#علمائے_دیوبند
#مولانا_رشید_احمد_گنگوہی
#qafilaehaq
3 weeks ago | [YT] | 107
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ سے تمسخر اور استہزاء کا انجام
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ (م 1403ھ/1983ء) تحریر فرماتے ہیں:
مجھ سے حکیم بنیاد علی صاحب مرحوم، ساکن لاوڑ ضلع میرٹھ نے بیان کیا اور انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ساکن پھلاودہ ضلع میرٹھ سے سنا، جو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے مخصوص تلامذہ میں ایک زبردست عالم تھے۔
حضرت مولانا عبدالغنی صاحب نے فرمایا کہ جب حضرت نانوتوی رحمہ اللہ مباحثۂ شاہجہاں پور کے لیے روانہ ہوئے تو شاہجہاں پور کے قریب کسی گاؤں کے چند غریب سنیوں نے، جو مقامی شیعوں کے اثرات میں دبے ہوئے بے بس تھے کیونکہ زمیندار شیعہ ہی تھا، حضرت کو لکھا کہ جاتے یا آتے ہوئے حضرت والا اس گاؤں کو اپنے قدوم سے عزت بخشیں اور ہمیں کچھ پند و نصیحت فرما دیں تاکہ ہمارے لیے صلاح و فلاح اور تقویت کا باعث ہو۔
حضرت والا نے بخوشی ان کی دعوت منظور فرما لی، جیسا کہ غرباء کی دعوت اور پیش کش بطوع و رغبت قبول فرمانے کی عادت تھی، اور جاتے یا آتے ہوئے اس گاؤں میں تشریف لے گئے۔
اہلِ تشیع میں اس سے کھلبلی مچ گئی۔ فکر یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے وعظ کا اثر شیعہ حضرات پر ہو جائے اور شیعہ دباؤ کی تنظیم ٹوٹ جائے۔ چنانچہ انہوں نے متوقع اثرات کی کاٹ کے لیے لکھنؤ سے چار شیعہ مجتہد مقررہ تاریخ پر بلوائے، اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلسِ وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتہد بیٹھ جائیں، اور چالیس اعتراضات منتخب کرکے دس دس اعتراض چاروں پر بانٹ دیے گئے کہ وہ اثنائے وعظ میں اس طرح کیے جائیں کہ اول فلاں سمت کا مجتہد دس اعتراض کرے، اس سے حضرت نمٹیں تو دوسرے کونے والا، پھر تیسرے اور چوتھے کی باری آئے، اور اس طرح وعظ نہ ہونے دیا جائے بلکہ انہیں اعتراض و جواب میں مبتلا کرکے وقت ختم کر دیا جائے۔
اب غیبی مدد اور حضرت کی کرامت کا حال سنیے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا، جس میں گاؤں کی تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی، اور وہ وعظ اسی ترتیب پر مشتمل شروع ہوا جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتہدین بیٹھے تھے۔ گویا ترتیب کے مطابق جب کوئی مجتہد اعتراض کرنے کے لیے گردن اٹھاتا تو حضرت اسی اعتراض کو خود نقل کرکے جواب دینا شروع فرما دیتے۔
یہاں تک کہ وعظ پورے سکون کے ساتھ مکمل ہوگیا، اور شیعوں کے ان مقررہ شبہات کے مکمل حل سے گاؤں کے شیعہ اس قدر مطمئن اور متأثر ہوئے کہ اکثریت نے توبہ کر لی اور سنی ہو گئے۔
مجتہدین اور مقامی شیعہ چوہدریوں کو اس میں اپنی انتہائی سبکی اور خفت محسوس ہوئی، تو انہوں نے حرکتِ مذبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ایک نوجوان لڑکے کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت! نمازِ جنازہ آپ پڑھا دیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیریں کہہ لیں تو صاحبِ جنازہ ایک دم اٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استہزاء و تمسخر کیا جائے۔
حضرت والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی، اصولِ نماز الگ الگ ہیں، آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانا کیسے جائز ہوگا؟
شیعوں نے کہا کہ حضرت! بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتا ہے، آپ تو نماز پڑھا ہی دیں۔
حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرما لیا اور جنازہ پر تشریف لے گئے۔ مجمع موجود تھا۔ حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے گئے، آنکھیں سرخ تھیں اور انقباضِ چہرہ ظاہر تھا۔
نماز کے لیے عرض کیا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔ دو تکبیریں کہنے پر جب طے شدہ پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے "ہونھ" کے ساتھ صاحبِ جنازہ کو اٹھ کھڑے ہونے کی سسکار دی، مگر وہ نہ اٹھا۔
حضرت نے تکبیراتِ اربعہ پوری کرکے اسی غصہ کے لہجے میں فرمایا:
"اب یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔"
دیکھا گیا تو وہ شخص واقعی مردہ تھا۔ اہلِ تشیع میں رونا پیٹنا پڑ گیا، اور بجائے حضرت والا کی سبکی کے، خود ان کی سبکی ہی نہیں بلکہ موت واقع ہو گئی۔
اس کرامت کو دیکھ کر باقی ماندہ اہلِ تشیع میں سے بھی بہت سے لوگ تائب ہو کر سنی ہو گئے۔
(جواہر پارے، جلد اوّل، ص 57-59) (بحوالہ: سوانح قاسمی، جلد دوم، ص 70)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#علماء_دیوبند
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq
4 weeks ago | [YT] | 122
View 14 replies
Load more