Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006
QAFILA E HAQ ®
مفتی محمد زرولی خان صاحبؒ نے ایک دن فرمایا:
محلے کی عورتوں نے ایک دن درخواست کی:
"مولانا صاحب! کیا ہمارا مسجد پر کوئی حق ہے؟ کیا ہم مسجد کو اندر سے نہیں دیکھ سکتیں؟"
میں نے کہا: "کیوں نہیں! آپ لوگوں کا بھی حق ہے۔ آپ بھی مسجد کو اندر سے دیکھ سکتی ہیں۔ ہم ایک وقت مقرر کر دیتے ہیں، اس وقت طلبہ اور اساتذہ مسجد سے باہر ہوں گے، آپ لوگ آ کر مسجد دیکھ سکتی ہیں۔"
مفتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ وقت مقرر ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کو مسجد سے باہر بھیج دیا گیا، تاکہ عورتوں کو مسجد میں آتے ہوئے بھی کوئی نہ دیکھ سکے۔
عورتیں مسجد میں آئیں، انہوں نے مسجد کی صفائی کی اور تقریباً ایک گھنٹہ مسجد میں گزارا۔
جب جانے لگیں تو ایک بوڑھی عورت نے خادمہ سے کہا: "استاد جی سے کہو کہ سب سے پہلے وہ مسجد کے اندر جائیں۔"
مفتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب میں مسجد کے اندر گیا تو امام کے مصلے کے ساتھ ایک رومال پر بہت سے زیورات رکھے ہوئے تھے۔
وہ عورتیں مسجد میں آنے کی خوشی میں اپنے زیورات صدقہ کر گئی تھیں۔
مفتی محمد زرولی خان صاحبؒ نے فرمایا:
"دَ بعضو نه ښځو کې زیات غیرت وي!" 😏
یعنی:
"بعض عورتوں میں مردوں سے بھی زیادہ غیرت ہوتی ہے۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_زرولی_خان
#MuftiZarWaliKhan
@qafila_e_haq
2 days ago | [YT] | 118
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اپنے بھائی مولانا زکی کیفی مرحوم کے متعلق فرماتے ہیں:
انہیں خود کوئی راحت یا خوشی میسر آتی تو والدین اور بہن بھائیوں کو اس میں شریک کرنے کی کوشش کرتے تھے بعض اوقات یہ جذبہ اس حد تک بڑھ جاتا کہ دوسروں کو الجھن ہونے لگتی۔ ایک مرتبہ میں لاہور میں تھا، رات گئے تک انہوں نے گھر بھر کو کشت زعفران بنائے رکھا، سونے کے وقت ہم اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ، میں بستر پر لیٹ چکا تھا اور روشنیاں گل ہو چکی تھیں، اچانک انھوں نے اپنے کمرے سے مجھے پکارا، مجھے کچھ تشویش سی ہوئی ، اور میں دوڑتا ہوا پہنچا۔ لیکن انہوں نے مجھے اپنے قریب بستر پر بٹھایا اور بستر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا، بات صرف اتنی تھی کہ ان کے سرہانے ایک کھڑکی تھی، اور باہر سے ایک درخت کی شاخیں اس کھڑکی کو چھوتی تھیں، چودھویں رات کی چاندنی اس درخت کے پتوں میں چھن چھن کر بستر پر ایک عجیب سماں پیدا کر رہی تھی۔ بھائی جان کہنے لگے ” دیکھ ! کتنا خوبصورت منظر ہے، مجھے یہ منظر بڑا حسین معلوم ہوا، میں نے سوچا کہ تم بھی اس منظر سے لطف اندوز ہو کر سو، بس تمہیں اس لئے بلایا تھا ۔
(نقوش رفتگان ص: ۳۳)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی
#TaqiUsmani
#qafilaehaq
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
@qafila_e_haq
1 week ago | [YT] | 122
View 3 replies
QAFILA E HAQ ®
شیخ الحدیث حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی کے صاحبزادے نے ان کی زندگی کا ایک عجیب واقعہ لکھا، وہ لکھتے ہیں :
ایک مرتبہ حضرت شیخ " بمع اہل و عیال حج کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ حج کے بعد چند روز مدینہ منورہ میں قیام فرمایا، مولانا سعید احمد خان ( جو کہ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگوں میں سے
تھے) کو جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو آپ کی بمع اہل خانہ اپنی مدینہ منورہ والی رہائشگاہ پر دعوت کی، دعوت کے دوران والد محترم ، مولانا سعید احمد خان کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص (جو کہ مدینہ منورہ ہی کا رہائشی تھا ) آیا، اس نے جب مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی کو اس مجلس میں تشریف فرمادیکھا تو انہیں سلام کر کے مؤدبانہ انداز میں ان کے قریب بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ ” حضرت میں آپ سے معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ مجھے معاف فرمادیں“ والد ماجد نے فرمایا ” بھائی کیا ہوا؟ میں تو آپ کو جانتا ہی نہیں، نہ کبھی آپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ تو کس بات پر معاف کروں ؟“ وہ شخص پھر کہنے لگا کہ بس حضرت آپ مجھے معاف کر دیں۔ حضرت شیخ " نے فرمایا کہ کوئی وجہ بتلاؤ تو سہی ؟“ وہ شخص کہنے لگا ” جب تک آپ معاف نہیں فرمائیں گے، میں بتلا نہیں سکتا تو اپنے مخصوص لب ولہجہ میں والد صاحب نے فرمایا " اچھا، بھئی معاف کیا، اب بتلاؤ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگا حضرت میری رہائش مدینہ منورہ میں ہی ہے، میں اپنے رفقاء اور ساتھیوں سے اکثر آپ کا نام اور آپ کے علم و فضل کے واقعات سنتارہتا تھا، چنانچہ میرے دل میں آپ کی زیارت و ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمنا بڑھتی گئی مگر کبھی زیارت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ اتفاق سے چند دن قبل آپ مسجد نبوی میں نوافل میں مشغول تھے کہ میرے ایک ساتھی نے مجھے اشارے سے بتلایا کہ ” یہ ہیں مولانا محمد موسیٰ صاحب، جن کے بارے میں تم اکثر پوچھتے رہتے ہو“ میں نے چونکہ اس سے پہلے آپ کو دیکھا نہیں تھا، اس لیے میرے ذہن میں آپ کے بارے میں ایک تصور قائم تھا کہ پھٹا پرانا لباس ہوگا، دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہو گا لیکن جب میں نے نوافل پڑھتے ہوئے آپ کا حلیہ اور وجاہت دیکھی تو میرے ذہن میں جو پھٹے پرانے لباس کا تصور تھا، وہ ٹوٹ گیا اور دل میں آپ کے بارے میں کچھ بدگمانی پیدا ہو گئی چنانچہ میں آپ سے ملے بغیر ہی واپس لوٹ گیا۔ اسی رات کو خواب میں مجھے نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی، کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ انتہائی غصے میں ہیں، میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ ! مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوگئی کہ آپ ناراض دکھائی دے رہے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم میرے موسیٰ کے بارے میں بدگمانی کرتے ہو، فورا میرے مدینے سے نکل جاؤ“۔ میں خوف سے کانپ گیا، فورا معانی چاہی، فرمایا ” جب تک ہمارا موسیٰ معاف نہیں کرے گا میں بھی معاف نہیں کروں گا“۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد میں بیدار ہو گیا اور اس دن سے میں مسلسل آپ کو تلاش کر رہا ہوں مگر آپ کی جائے قیام کا پتہ نہیں لگا سکا۔ آج آپ سے اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔ حضرت شیخ نے جب یہ واقعہ سنا تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے“۔
(ترغیب المسلمين ، ص: ۳)
ساتھیوں کے بے حد اصرار پر غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی مدد کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔
تصویر کے کونے میں موجود QR کوڈ اسکین کرکے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ تعاون ضرور کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے تعاون کو قبول فرمائے۔ جزاکم اللّٰہ خیرا
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#IslamicReminder #qafilaehaq
2 weeks ago | [YT] | 126
View 5 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب جب تقسیم ہند کے بعد وطن کو خیر باد کہہ کر پاکستان تشریف لائے اور کراچی میں مقیم ہوئے تو اس وقت اس شہر میں دینی تعلیم کا صرف ایک ہی ادارہ تھا یعنی مظہر العلوم کھڈہ، ظاہر ہے کہ وہ تمام اہل علم کو اپنے اندر نہیں سمو سکتا تھا، اس لئے حضرت مفتی ولی حسن صاحب نے اس وقت برنس روڈ پر واقع ” میٹرو پولیس ہائی اسکول میں اسلامیات کے استاد کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ اسکول کی انتظامیہ انگریزوں کی پروردہ اور مغربی ذہنیت کی حامل تھی، اس نے حضرت مفتی صاحب سے داڑھی منڈوانے کا مطالبہ کیا ، ظاہر ہے کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم اس مطالبہ کو تسلیم کرنے والے نہ تھے لیکن انتظامیہ کا اصرار جاری رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انتظامیہ نے داڑھی نہ منڈوانے کی صورت میں ملازمت سے علیحدہ کر دینے کا عزم کرکے مولانا کو آخری فیصلہ سنا دیا۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب، صاحب عیال تھے ، اس زمانہ میں کوئی دوسرا ذریعہ معاش بھی نہ تھا، فکر مند ہو کر اپنے رفیق حضرت مولانا نور احمد صاحب (دار العلوم کراچی کے ناظم اول) کے پاس آئے اور پریشانی کے عالم میں یہ صورت حال بتائی، واقعہ سن کر حضرت مولانا مرحوم کو سخت تکلیف ہوئی اور بڑی غیرت آئی، پوچھا، آپ کو کیا مشاہرہ دیتے ہیں؟ انہوں نے مشاہرہ بتا دیا۔ حضرت مولانا مرحوم نے ان سے فرمایا ” آپ ہمارے پاس آجائیں ہم ان سے دگنا مشاہرہ دیں گے ، کل آپ ڈاڑھی میں اہتمام سے کنگھا کر کے تیل لگا کر جائیں اور استعفا پیش کر دیں چنانچہ حضرت مفتی صاحب استعفا دے کر دار العلوم کراچی آگئے اور پاکستان میں اپنی خدمات دینیہ کا وقیع انداز میں آغاز فرمایا۔
(متاع نور از مولانا رشید اشرف صاحب، ص ۳۱۳)
مفتی تقی عثمانی صاحب نے سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے مکہ معاہدے کے بارے میں کیا باتیں کی ہے ویڈیو لنک 👇 👇 👇 👇 👇 👇 👇👇👇👇👇👇👇 یہ ہے
https://youtu.be/7sjpfMS9FCE?si=6XbDO...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_ولی_حسنؒ #MuftiWaliHassan
#qafilaehaq
2 weeks ago | [YT] | 104
View 2 replies
QAFILA E HAQ ®
تحریکِ ختمِ نبوت۱۹۵۳ء کے دوران جب مولانا تاج محمود جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد میں شمعِ رسالت کے پروانوں کے لیے ایک جم غفیر سے قادیانی گروہ اور اس کے کفریہ عقائدوعزائم کے تحفظ اور سرپرستی کے لیے حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کے خلاف لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے، مولانا تاج محمود کے دل سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی سیڑھیوں کے پاس کھڑی ایک عورت بھی ہمہ تن گوش ہوکر سن رہی تھی، دفعتاً شدتِ جذبات سے مغلوب ہوکر ساری مسجد میں پھیلے مجمع کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور اپنی گودکے بچے کو منبر کے قریب جاکر مولانا کی طرف اُچھال دیا اور کہا: مولانا! میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے، اسے سب سے پہلے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو پرقربان کردو، یہ کہہ کر عورت اُلٹے پاؤ باہر کی طرف چل پڑی۔ اس منظر کو دیکھ کر سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ خود مولانا کی آواز گلوگیر اور رندھی ہوئی تھی، انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اس عورت کو جانے نا دینا، اسے بلاؤ، چنانچہ اس عورت کو بلایا گیاتومولانا نے کہا کہ: بی بی! سب سے پہلے گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے(اپنے قدموں میں بیٹھے چھوٹے سے اپنے اکلوتے بیٹے طارق محمودکی طرف اشارہ کیا) کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب سب قربان ہوجائیں، تب اپنے اس بچے کولے آنااور اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان کردینا۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کردیا۔
کمنٹ میں سب ساتھی تاجدار ختم نبوت زندہ باد ضرور لکھیں
قادیانی لڑکیوں اور مردوں کی 7 نشانیاں بہت معلوماتی ویڈیو ہر مسلمان دیکھے ویڈیو لنک یہ ہے 👇 👇👇 👇 👇 👇
https://youtu.be/gmm89eMBfyY?si=pXGNq...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#ختم_نبوت
#KhatmENabuwwat
#qafilaehaq
@qafila_e_haq
3 weeks ago | [YT] | 90
View 6 replies
QAFILA E HAQ ®
*طلاق ثلاثہ کے مناظرے کا ایک دلچسپ واقعہ*
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ مولانا امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کا مناظرہ تھا اور مناظرہ تین طلاق پہ تھا ادھر سے مناظرہ رکھا اور ساتھ تھانیدار کو فون کر دیا تھانیدار آگیا اور کہا کہ مولوی صاحب تمہارا مناظرہ نہیں ہو گا مولانا فرمانے لگے کہ مناظرہ کیوں نہیں ہو گا مناظرہ تو ہو گا، اس نے کہا کہ میں نہیں ہونے دوں گا مولانا فرمانے لگے تو مناظرہ ہونے دے تو تھانیدارہے طاقتور ہے ثالث بن جا فیصلہ کر دے۔ اس نے کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں جوتے ماروں گا اور مناظرہ نہیں ہونے دوں گا۔ مولانا اوکاڑوی رحمہ اللہ فرمانے لگے میں بڑا خوش ہوں تیری بات سن کے۔ تو ابھی جو تا اتار مجھے بھی مار اور اس مولوی کو بھی مار اس کو تین مار کے ایک گننا اور مجھے تین مار کے پورے تین گننا۔ مجھے تین مار اور اس کو نومار، اس نے پوچھا کہ وہ کیوں؟ مولانا اوکاڑوی رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ میں کہتا ہوں تین تین ہوتے ہیں اور یہ کہتا ہے تین ایک ہوتا ہے۔ یہ کہتا ہے تین طلاقیں ایک طلاق ہے اور میں کہتا ہوں کہ تین طلاقیں تین ہوتی ہیں۔ میں اس کو سمجھا رہا ہوں لیکن یہ نہیں مانتا پھر یہ تیرے جوتوں سے مسئلہ سمجھے گا میری دلیل سے اس کو مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔ کیا صرف طلاق میں تین ایک ہے باقی ہر جگہ تین تین ہوتے ہیں؟
دروس القرآن جلد اول 1/ 140
آج کل مفتی طارق مسعود صاحب اور صدیق رضا صاحب کے درمیان طلاقِ ثلاثہ کے موضوع پر ہونے والے مناظرے کا کافی چرچا ہے۔ اسی مناسبت سے خیال آیا کہ اس موضوع پر ماضی کے معروف علمی مناظرے بھی ایک بار پھر یاد کر لیے جائیں۔ خصوصاً حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ کے علمی، مدلل اور یادگار مناظرے، جن سے بہت سے اہلِ علم و طلبہ نے استفادہ کیا۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ علمی ذوق رکھنے والے احباب کے لیے مفید اور دلچسپی کا باعث ہوگا
مفتی طارق مسعود صاحب اور صدیق رضا کے مناظرے کے حوالے سے یہ نئی ویڈیو ضرور دیکھیں ویڈیو لنک یہ ہے 👇👇👇👇👇👇
https://youtu.be/qt_Hxgh9mBY?si=kCd4j...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#طلاق_ثلاثہ
#مفتی_طارق_مسعود
#صدیق_رضا
#TalaqESalasa
#MuftiTariqMasood
#SiddiqRaza
#qafilaehaq
3 weeks ago | [YT] | 82
View 3 replies
QAFILA E HAQ ®
مولانا امین گیلانی ملک عزیز کے مشہور شاعرتھے، بڑھاپے میں قدم رکھنے کے باوجود آواز جوان اور جذبات گرم تھے، اپنی ایک کتاب ’’عجیب و غریب واقعات‘‘ میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ رقم کرتے ہیں، پڑھیے اور اپنے بزرگوں کی جرأت و بہادری کا اندازہ لگائیے:
جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریکِ ختمِ نبوت۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی، پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہوگئی۔ اسیرانِ ختمِ نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے، ملٹری نے روک لیا اور سب انسپکٹر کو نیچے اُترنے کا حکم دیا، ایک ملٹری آفیسر نے ان سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب و جلال سے گرج کر بولا کہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نعرے لگانے والوں کو گولی مارنے کا حکم ہے؟ کون نعرے لگاتا ہے؟ اس صورت حال سے سب پر ایک سکوت طاری ہوگیا، معاً میرا ہاشمی خون کھول اُٹھا، میں نے تن کر کہا: ’’میں لگاتا تھا‘‘ اس نے بندوق میرے سینہ پر تان کر کہا: ’’اچھا! اب لگاؤ نعرہ‘‘ میں نے پرجوش نعرہ لگایا، میرا کالی کملی والا! سب نے باآوازِ بلند جواب دیا: زندہ باد۔ اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی اور منہ پھیر کر کہا کہ ہاں! وہ تو زندہ باد ہی ہے اور بس سے اُتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دکھلا کر اوجھل ہوگئی، پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا، اس نے بس کا دروازہ مقفل کردیا، چند منٹوں بعد ہم بورشتل جیل لاہور میں تھے۔
اگر آپ نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ختمِ نبوت کے پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں، تو اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں، دوسروں تک پہنچائیں اور زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ویڈیو لنک 👇👇👇
ویڈیو لنک یہ ہے 👇👇👇👇👇
https://youtu.be/Eu30yhh0b08?si=m4KU0...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
@qafila_e_haq
3 weeks ago | [YT] | 212
View 4 replies
QAFILA E HAQ ®
مولانا عبداﷲ فاروقی حضرت رائے پوری رح سے بیعت تھے، لاہور دہلی مسلم ہوٹل میں برسہا برس خطیب رہے، ان کا بیان ہے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور مولانا مدنی رح کے ہاں قیام کیا، ایک روز جب مولانا کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے گیا تو میں نے مولانا کا جوتا اٹھالیا، مولانا اس وقت تو خاموش رہے، دوسرے وقت جب ہم نماز پڑھنے کے لیے گئے، تو مولانا نے میرا جوتا اٹھاکر سر پر رکھ لیا، میں پیچھے بھاگا، مولانا نے تیز چلنا شروع کر دیا، میں نے کوشش کی کہ جوتالے لوں، نہیں لینے دیا، میں نے کہا کہ خدا کے لیے سر پر تونہ رکھیے، فرمایا! عہد کرو کہ آئندہ حسین احمد کا جوتا نہ اٹھاؤ گے۔ میں نے عہد کر لیا، تب جوتا سر سے نیچے اتار کر رکھا۔ ( بیس بڑے مسلمان،ص:۵۱۶) یہ علمائے دیوبند کا ادنیٰ سا اورمختصر سا نمونہ پیش کیا گیا ہے، ورنہ اکابر علماء دیوبند کا چمنستان ایسا وسیع، خوشبو دار اور پھل دار ہے کہ پوری دنیا اس سے فیض حاصل کر رہی ہے اور کرتی رہے گی، یہ حضرات نبی اکرم a کے علوم واعمال کو اپنے سینوں میں اتارنے والے، شب وروز میں انجام پانے والے، ہر ہر عمل سے متعلق سنت نبویہ کو اپنانے والے اور ہر ہر فرد تک اُسے پہنچانے والے تھے۔ اس گلستان کے ہر ہر پھول کی تاریخ پر کتب تک لکھی جاسکتی ہیں اور لکھی گئیں، ضرورت ہے کہ ان حضرات کی سوانح کو مستقل مطالعہ میں رکھ کر ان کی صفاتِ قدسیہ کو اپنایا جائے۔ اﷲ رب العزت ہم سب کو ان اکابرین کی صفات کو اپنانے کی اور ان کو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب علماء دیوبند کا حال کیا ہے ان کے لئے یہ نیچے لنک پر کلک کرکے ویڈیو دیکھئے
ویڈیو لنک یہ ہے 👇👇👇👇👇👇
https://youtu.be/L-cGYyu32cQ?si=l7tuK...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
@qafila_e_haq
4 weeks ago | [YT] | 83
View 1 reply
QAFILA E HAQ ®
*عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب رحمہ اللہ کا وصال*
*إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ اطلاع موصول ہوئی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب رحمہ اللہ انتقال فرما گئے۔
حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، دینِ اسلام کی خدمت، مدارسِ دینیہ کی سرپرستی، دعوت و تبلیغ اور امتِ مسلمہ کی دینی رہنمائی میں صرف کی۔ آپ کی علمی، دینی اور تنظیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ خصوصاً تحریکِ تحفظ ختم نبوت میں آپ کی جدوجہد، اخلاص اور استقامت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آپ کے وصال سے دینی حلقوں، علماءِ کرام، طلبہ اور کارکنانِ ختم نبوت کو ایک عظیم صدمہ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دین کی جو خدمات لیں، انہیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آپ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور پسماندگان، متعلقین اور تمام کارکنانِ ختم نبوت کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
حضرت کی موت اور قادیانیوں کی یہ حرکت ویڈیو لنک یہ ہے 👇 👇 👇 👇 👇
https://youtu.be/fmkytWd8ZvU?si=zN2Vk...
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِ الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى. آمین۔
*إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ*
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مولانا_عزیز_الرحمن_جالندھری #AzizUrRehmanJalandhri
#qafilaehaq
1 month ago | [YT] | 145
View 6 replies
QAFILA E HAQ ®
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رح فرماتے ہیں کہ طلاق کے ایک مسئلہ میں کشمیر کے علما میں اختلاف ہو گیا، فریقین نے حضرت مولانا انورشاہ کشمیری صاحب رح کو حَکَم بنایا، حضرت شاہ صاحب رح نے دونوں کے دلائل غور سے سنے، ان میں سے ایک فریق اپنے موقف پر ’’فتاویٰ عمادیۃ‘‘ کی ایک عبارت سے استدلال کر رہا تھا، حضرت شاہ صاحب رح نے فرمایا:’’ میں نے دارالعلوم کے کتب خانہ میں فتاویٰ عمادیہ کے ایک صحیح قلمی نسخے کا مطالعہ کیا ہے، اس میں یہ عبارت ہر گز نہیں ہے، لہٰذا یا تو ان کا نسخہ غلط ہے، یا یہ لوگ کوئی مغالطہ انگیزی کر رہے ہیں۔‘‘ ایسے علم وفضل اور ایسے حافظے کا شخص اگر بلند بانگ دعوے کرنے لگے تو کسی درجہ میں اس کو حق پہنچ سکتا ہے، لیکن حضرت شاہ صاحب رح اس قافلۂ رشدوہدایت کے فرد تھے جس نے’’من تواضع للّٰہ‘‘ کی حدیث کا عملی پیکر بن کر دکھایا تھا، چنانچہ اسی واقعہ میں جب انہوں نے حضرت بنوری رح کو اپنا فیصلہ لکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے حضرت شاہ صاحب الحبر البحر(عالم متبحر) کے دو تعظیمی لفظ لکھ دیے، حضرت شاہ صاحب رح نے دیکھا تو قلم ہاتھ سے لے کر زبردستی خود یہ الفاظ مٹائے اور غصہ کے لہجے میں مولانا بنوری رح سے فرمایا:’’آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے۔‘‘ پھر ایسا شخص جو ہمہ وقت کتابوں ہی میں مستغرق رہتا ہو، اس کا یہ جملہ ادب وتعظیم کتب کے کس مقام کی نشان دہی کرتا ہے کہ:’’ میں مطالعہ میں کتاب کو اپنا تابع کبھی نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ خود کتاب کے تابع ہو کر مطالعہ کرتاہوں‘‘۔ چنانچہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رح فرماتے ہیں کہ:’’ سفر وحضر میں ہم لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لیٹ کر مطالعہ کر رہے ہوں یا کتاب پر کہنی ٹیک کر مطالعہ میں مشغول ہوں، بلکہ کتاب کو سامنے رکھ کر مؤدب انداز سے بیٹھتے، گویا کسی شیخ کے آگے بیٹھے ہوئے استفادہ کر رہے ہوں۔‘‘ اور یہ بھی فرمایا کہ:’’ میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد اب تک دینیات کی کسی کتاب کا مطالعہ بے وضونہیں کیا۔‘‘ ( اکابر دیوبند کیا تھے؟،ص:۹۷)
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
ویڈیو لنک یہ ہے👇👇👇👇👇👇
https://youtu.be/7uRgndfEEBc?si=sZeik...
@qafila_e_haq
1 month ago | [YT] | 142
View 1 reply
Load more