Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006


QAFILA E HAQ ®

جب حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی جیل میں سانپ نکل آیا
امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مرتبہ انگریزوں نے قید کر کے بنگال کے ایک جیل خانے میں بند کردیا ۔ ایک ایسے تنگ و تاریک کمرہ میں قید کیا کہ جب سونے کی کوشش کرتے تو پاؤں کھول کر ( ٹانگیں پھیلا کر نہیں سو سکتے تھے . ایسے تنگ و تاریک اور گھٹے ہوئے ماحول میں مزید ستم کر ظریفی یہ کہ دیواروں کو گوبر سے لیپ دیا جاتا تاکہ دیوار پر گرد نہ ہو تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نماز کے لیے تیمم بھی نہ کرسکیں... گندگی اور تعفن کے سبب چند روز ہی میں شاہ صاحب کو خارش کی بیماری نے آلیا .... کبھی کبھار لوٹے میں پانی ملتا تو بڑی احتیاط سے اسے خرچ کیا جاتا جو اکثر پینے کے کام میں ( تازہ یا باسی) کام آجایا کرتا ایک دفعہ ایک لوٹے میں پانی کچھ بچا رکھا تھا، اچانک کہیں سے ایک سانپ نکل آیا اور اس لوٹے کا پانی منہ ڈال کر پینے لگا۔۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں بہت حیران و پریشان ہوا کہ میرے پاس کسی قسم کا ہتھیار یا اوزار نہیں ہے تاکہ میں اس سانپ کو مار دوں .. ( خدا تعالی کی قدرت) کہ سانپ کچھ پانی پی کر واپس چلا گیا کچھ دیر کے بعد مجھے بہت پیاس محسوس ہوئی ۔ اب میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس لوٹے سے ہی سانپ نے پانی (میری آنکھوں کے سامنے) پیا ہے ... پیاس کی شدت کی وجہ سے آخر کار مجبور 'بسم الله الرحمن الرحیم' پڑھ کر ہی برتن سے پانی پینا شروع کیا جس سے سانپ نے پیا تھا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ کہ جونہی میں نے پانی پی لیا۔ الہ تعالی نے مجھے اس خارش کی بیماری سے نجات دلائی اور صحت کاملہ عطا کی
( مولانا ڈاکٹر شیر علی صاحب رح جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کی درس گاہ سے انتخاب)
مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
‪@qafilaehaq‬
‪@QAFILA_E_HAQ1‬
‪@QafilaeHaqPashto‬

9 hours ago | [YT] | 32

QAFILA E HAQ ®

بزرگوں کی خود احتسابی و تواضع، اور ہمارا عمل !؟
(انتہائی فکر انگیز واقعہ)
مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
’’میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ کی خدمت میں ایک دن نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا:’’مزاج کیسا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ: ہاں! ٹھیک ہے، میاں ! مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کردی۔
میں نے عرض کیا: حضرت! آپ کی ساری عمرعلم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں، آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ تو حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا کہــ’’ میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کردی‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضرت! اصل بات کیا ہے؟
فرمایا: ’’ہماری عمروں کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔اب غور کرتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی! پھر فرمایا:’’ ارے میاں! اس بات کا کہ کون سا مسلک صحیح تھا اور کون سا خطاء پر ؟ اس کا راز تو کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟(نماز میں) آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا؟ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا، روز محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعی رحمہ اللہ کو رسوا کرے گا، نہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو، نہ امام مالک رحمہ اللہ کو،اور نہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو… اور نہ میدان حشر میں کھڑا کرکے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعی رحمہ اللہ نے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں ، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑکر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سبھی کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام علیہم السلام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا، وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج اس کی دعوت ہی نہیں دی جارہی ، یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے اور اغیار سبھی دین کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے ، الحاد آرہاہے، شرک وبت پرستی چلی آرہی ہے، حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں، اس لیے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ عمر ضائع کردی‘‘۔
(وحدت امت،ص:۱۳،مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ)
مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq

1 week ago | [YT] | 112

QAFILA E HAQ ®

علماء کے مضحکہ خیز جوابات
یہ مضمون ان “فتویٰ ہنٹرز” کے لیے ہے جو واٹس ایپ اور فیس بک کے دارالافتاء گروپس میں عجیب و غریب سوالات سے علماء کو سر کھجانے پر مجبور کرتے ہیں۔ آئیے، مل کر دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلف صالحین نے ایسے “دانشمندانہ” سوالات کا کیسے مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔ تیار ہو جائیں، کیونکہ یہ جوابات آپ کو ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیں گے! 😜😂
1. داڑھی کا “پانی پانی” مسئلہ
ایک صاحب نے امام شعبی سے پوچھا: “داڑھی پر مسح کیسے کروں؟”
امام صاحب نے فرمایا: “بھئی، انگلیوں سے داڑھی کو اچھے سے کنگھی کر لو۔”
صاحب بولے: “لیکن مجھے ڈر ہے کہ داڑھی پھر بھی نہیں بھیگے گی!”
امام شعبی نے ٹھنڈی سانس لی اور بولے: “تو پھرایسے کرو کہ رات کو داڑھی کو بالٹی میں ڈبو کر سو جاؤ، صبح تک پوری تر ہو جائی گی!” 😂

2. کھجلی کا “احرام ایڈیشن”
ایک اور بندے نے امام شعبی سے سوال داغا: “حالتِ احرام میں کھجلی کر سکتے ہیں؟”
امام صاحب نے فرمایا: “ہاں، کرسکتے ہیں!”
وہ بولا: “لیکن کتنی کھجلی کر سکتے ہیں اس کی مقدار کتنی ہونی چاہئے؟”
امام صاحب نے برجستہ جواب دیا: “جب تک ہڈی چمکنے نہ لگے، کھجلاتے رہو!” 😝
3. چیختی کنکریوں کا معمہ
ایک شخص عمر بن قیس کے پاس آیا اور بولا: “اگر مسجد کی کنکریاں میرے کپڑوں، جوتوں یا پیشانی پر لگ جائیں تو کیا کروں؟”
عمر صاحب نے کہا: “پھینک دو!”
وہ بولا: “لیکن لوگ کہتے ہیں کہ یہ کنکریاں مسجد واپس نہ جانے تک چیختی رہتی ہیں!”
عمر صاحب نے ہنسی روکتے ہوئے فرمایا: “تو پھر انہیں چیخنے دو یہاں تک کہ ان کا گلا بیٹھ جائے! اور وہ خود ہی خاموش ہوجائیں”
وہ حیران ہو کر بولا: “سبحان اللہ! کنکریوں کا بھی کوئی گلا ہوتا ہے؟”
عمر صاحب نے پلٹ کر کہا: “تو پھر وہ چیختیں کس چیز سے ہیں، بھئی؟” 😬
مفتی محمد امجد مردانوی
#فتویٰ_دارالافتاء
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی

2 weeks ago | [YT] | 41

QAFILA E HAQ ®

🌙✨ عید الفطر مبارک ✨🌙
قافلۂ حق کی پوری ٹیم کی جانب سے
تمام مسلمانوں کو
دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی
ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں ❤️
🤲 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ
آپ کی عبادات قبول فرمائے،
زندگی میں خوشیاں، برکتیں اور سکون عطا فرمائے
🌸 تقبل اللہ منا ومنکم 🌸
📿 قافلۂ حق

3 weeks ago | [YT] | 76

QAFILA E HAQ ®

کیا آپ کو معلوم ہے کہ لیلۃ القدر کبھی کبھی 27 رمضان کی بجائے کسی اور رات بھی ہوسکتی ہے؟
بہت سے لوگ صرف ایک رات کا انتظار کرتے ہیں… اور اسی وجہ سے وہ بڑی سعادت سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔
اصل حقیقت کیا ہے؟ ذرا غور کریں۔
نبی کریم ﷺ کی احادیث کے مطابق لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
لیکن ایک اہم بات اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتی۔
اگر رمضان 30 دن کا ہو تو آخری عشرہ 21 رمضان سے 30 رمضان تک ہوگا، اس صورت میں طاق راتیں یہ ہوں گی:
21، 23، 25، 27 اور 29
لیکن اگر رمضان 29 دن کا ہو تو آخری عشرہ 20 رمضان سے 29 رمضان تک ہوگا، اس صورت میں طاق راتیں یہ بنیں گی:
20، 22، 24، 26 اور 28
یعنی اس صورت میں جس رات کو ہم جفت سمجھتے ہیں وہ دراصل طاق رات بن سکتی ہے۔
اسی لیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ
لیلۃ القدر کو پانے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ آخری عشرے کی ہر رات عبادت کی جائے۔
ہو سکتا ہے اسی رات میں اللہ تعالیٰ آپ کی سالوں کی دعائیں قبول فرما دے۔
📚 حوالہ: تفسیرِ مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللہ
اللہ تعالیٰ ہمیں لیلۃ القدر کی برکتیں نصیب فرمائے۔
🌹آمین جزاکم اللہ خیراً 🌹
مفتی محمد امجد مردانوی
#LaylatulQadr
#لیلة_القدر
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq
‪@QafilaeHaqPashto‬
‪@qafilaehaq‬

1 month ago | [YT] | 86

QAFILA E HAQ ®

معمولات رمضان ونظام الاوقات
‪@qafilaehaq‬
‪@QafilaeHaqPashto‬

1 month ago | [YT] | 82

QAFILA E HAQ ®

انا للہ وانا الیہ راجعون
عشقِ رسول ﷺ کے سچے ترجمان،
شاعرِ ختمِ نبوت سید سلمان گیلانی آج ہم سے جدا ہو گئے۔
وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے…
وہ ناموسِ رسالت ﷺ کے محافظ جذبات کے ترجمان تھے۔
ان کے اشعار میں عقیدہ بھی تھا، محبت بھی… اور غیرتِ ایمانی کی خوشبو بھی۔
ان کی وفات علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے،
اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین 🤲
آج لفظ یتیم ہو گئے…
اور محفلیں خاموش…
مگر ان کے اشعار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
فاتحہ و دعاؤں کی درخواست ہے۔
#انا_للہ_وانا_الیہ_راجعون
#سید_سلمان_گیلانی
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
#qafilaehaq
‪@qafilaehaq‬
‪@QafilaeHaqPashto‬

1 month ago | [YT] | 172

QAFILA E HAQ ®

حکیمُ الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ وفات سے چند دن پہلے ان کے والد محترم نے انہیں تنہائی میں بلایا… آنکھیں اشکبار تھیں… آواز بھرّا گئی تھی…
فرمایا:
"بیٹا! میرا وقت قریب ہے… میں تمہیں ایک امانت سونپ رہا ہوں۔"
پھر اپنے بچپن کا واقعہ سنایا کہ جب وہ حافظِ قرآن بنے تو ان کے والد، بانیٔ دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت خوش ہوئے۔ محفل ہوئی، مبارکبادیں ہوئیں… مگر بعد میں تنہائی میں بلا کر فرمایا:
"احمد! تم عالم بنو گے، عزت پاؤ گے، شہرت ملے گی، دولت بھی ملے گی…
مگر یہ سب تمہارے لیے ہوگا۔
قرآن میں نے تمہیں اپنے لیے حفظ کرایا ہے… مجھے فراموش نہ کرنا!"
یہ جملہ زندگی بھر کے لیے نقش ہوگیا۔
چنانچہ انہوں نے روزانہ قرآن پڑھ کر اپنے والد کو ایصالِ ثواب کرنے کا معمول بنا لیا… جو آخری سانس تک جاری رہا۔
پھر یہی نصیحت انہوں نے اپنے بیٹے قاری طیب صاحب کو کی:
"بیٹا! یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لیے حفظ کرایا ہے… مجھے بھول نہ جانا!"
اور قاری طیب صاحب فرماتے ہیں کہ والد کی وفات کے بعد میں نے بھی روزانہ ایک پارہ ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے کا معمول بنا لیا… جو الحمدللہ آج تک جاری ہے۔
💔 سوچئے…!
ہم اپنی اولاد کو دنیا کے لیے تیار کرتے ہیں…
کیا کبھی آخرت کے لیے بھی کوئی سرمایہ جوڑا؟
قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں…
اپنے والدین کی نجات کا ذریعہ بنانے کے لیے بھی ہے۔
آئیے عہد کریں:
جو حافظ ہیں وہ روزانہ کچھ نہ کچھ اپنے والدین کے لیے پڑھیں۔
اور جو نہیں ہیں وہ بھی روزانہ تھوڑی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سے سچی محبت نصیب فرمائے اور اسے ہماری اور ہمارے والدین کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین 🤲
#علمائے_دیوبند
#دارالعلوم_دیوبند
#قاری_محمد_طیب
‪@qafilaehaq‬
‪@QafilaeHaqPashto‬

1 month ago | [YT] | 105

QAFILA E HAQ ®

🌙 یادِ والدین — ایک دل کو چھو لینے والی نصیحت 🌙
حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب میرے والد صاحب حضرت مولانا یٰسین رحمہ اللہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں والد صاحب کے پاس ہی موجود تھا، انہوں نے آنکھیں کھولیں اور آخری وقت میں فرمایا:
"محمد شفیع! بھول تو سب ہی جایا کرتے ہیں مگر تم ذرا جلدی مت بھول جانا… اللہ اکبر!"
کیسی اہم بات ارشاد فرمائی۔ مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والد صاحب نے چالیس سال پہلے یہ بات ارشاد فرمائی تھی لیکن یہ آج بھی میرے ذہن میں اُسی طرح نقش ہے جیسے ابھی فرمائی ہو۔
اور یہ بھی فرمایا کہ تم ملا لوگ ہو، قرآن مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب تو کر لیتے ہو، اس کی تو مجھے امید ہے تم اہتمام کرو گے، لیکن کچھ صدقہ خیرات کے ساتھ بھی اپنے بزرگوں کا تعاون کرنا چاہیے۔
بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے بھائی! تم اپنے لیے کپڑے بناتے ہو، والدین کے لیے بھی بنا کے دیا کرو، کیوں نہیں دیتے؟ جوڑا بنا کر بھیجو ان کو۔ یعنی جوڑا یا سوٹ کسی مستحق محتاج کو دے دو۔
والدین کے لیے حق شناسی اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ والدین کو بھولے نہیں بلکہ یاد رکھے۔
📖 (اصلاحی مواعظ از حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، جلد 5)
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی #مفتی #مولانا #مفتی_تقی_عثمانی
#qafilaehaq

1 month ago | [YT] | 139

QAFILA E HAQ ®

کیا آپ جانتے ہیں اصل بڑائی کیا ہوتی ہے؟
وہ جو عہدہ، علم یا شہرت سے نہیں بلکہ انکساری اور احساسِ ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہے۔
حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم جیسے عظیم عالم کا یہ واقعہ صرف ایک قصہ نہیں بلکہ ہم سب کے لیے عملی درس ہے۔
ایک طالب علم جسے سب کمزور ذہن سمجھتے تھے…
ایک لمحے کا جملہ…
اور پھر استادِ محترم کا اپنے شاگرد سے سب کے سامنے معافی مانگ لینا!
ایک طالب علم دارالعلوم کراچی میں پڑھا کرتا تھا جو حرکات و سکنات سے کچھ غیر متوازن ذہنیت کا مالک لگتا تھا۔ اس کے ساتھی اس کا مذاق بنایا کرتے تھے۔ ایک دن سبق کے اختتام پر حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب طلبہ کی حاضری لگا رہے تھے۔ جب اس طالب علم کا نام آیا تو ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ غیر حاضر ہے، جمعرات کو گھر گیا تھا پھر کر فیو کی وجہ سے واپس نہ آسکا۔ تو حضرت نے اس کا تعارف اور پہچان حاصل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ وہی ہے نا جو ذرا مجہول سا ہے؟“ حضرت کے اس جملہ پر تمام طلبہ ہنس پڑے۔ بات آئی گئی ہوگئی لیکن جب وہ طالب علم آگیا اور حاضری لیتے وقت اس کا نام آیا تو حضرت نے قلم روک دیا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” اس روز آپ غیر حاضر تھے، میری زبان سے آپ کے بارے میں مجہول کا لفظ نکل گیا تھا ، کیا اس کی معافی ہو جائے گی ؟“ اس طالب علم نے بڑی سادگی سے جواب دیا : ” بالکل ہو جائے گی ۔ اس پر حضرت بھی ہنس پڑے ، لیکن سب طلبہ کو ایک بات عملاً سمجھا دی کہ دیکھو! کسی کے ساتھ تمسخر کر کے یہ نہ سمجھو کہ بات ختم ہو گئی۔
سوچئے!
وہ چاہیں تو بات کو نظر انداز کر سکتے تھے…
چاہیں تو اپنا مقام سامنے رکھ سکتے تھے…
مگر انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ:
حقوق العباد میں چھوٹی سی بات بھی آخرت میں پہاڑ بن سکتی ہے۔
ہم سوشل میڈیا پر کتنی آسانی سے کسی کا مذاق بنا لیتے ہیں…
کسی کی شکل، آواز، سوچ یا کمزوری پر ہنس دیتے ہیں…
اور سمجھتے ہیں بات ختم ہو گئی!
نہیں!
بات یہاں ختم نہیں ہوتی…
اصل پیشی تو وہاں ہے جہاں ہر لفظ کا حساب ہوگا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے:
عالم ہونا بڑا نہیں، انسان ہونا بڑا ہے۔
معافی مانگنا کمزوری نہیں، ایمان کی طاقت ہے۔
اللہ ہمیں بھی ایسا ظرف عطا فرمائے 🤲
#MuftiTaqiUsmani
#مفتی_محمد_امجد_مردانوی
‪@qafilaehaq‬
‪@QafilaeHaqPashto‬

1 month ago | [YT] | 86