Asalam u laikum friends ,
this is islamic channel and we upload own recorded videos bayanat naat etc day by day so subscribe the channel for new update thanks ,
And we can't upload any copyright materials if any one any complain so they can easily contact with me with my number...
0324-9129006


QAFILA E HAQ ®

آپ لوگوں کو ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں
کہ میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے معاون اور نائب کے طور پر ذمہ داریاں ۱۹۷۰ء میں سنبھالی تھیں، لیکن اس سے قبل بھی ان کی غیر موجودگی میں جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کا متعدد بار اعزاز حاصل ہو چکا تھا۔ یہاں میں نے اپنے عمومی ماحول سے ایک مختلف بات یہ دیکھی کہ جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کے اندر خطیب کے سامنے لاؤڈ اسپیکر پر نہیں دی جاتی، بلکہ مسجد کی حدود سے باہر امام کے سامنے حوض پر کھڑے ہو کر بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دی جاتی ہے۔ جبکہ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت صوفی صاحبؒ کا معمول یہ تھا کہ مؤذن جمعہ کی اذانِ ثانی لاؤڈ اسپیکر پر امام صاحب کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا تھا۔ مجھے اس پر الجھن ہوئی تو میں نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کی حدود سے باہر دینا بہتر ہے اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔ مسجد کے صحن کے آخر میں جو حوض ہے، وہ مسجد کا حصہ نہیں ہے، اس لیے ہم اعتکاف کرنے والوں کو وہاں تک جانے سے منع کرتے ہیں اور ہمارا مؤذن جمعہ کی اذانِ ثانی حوض پر امام کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا ہے۔ میں نے اس کے بعد مزید اس مسئلہ کی کرید کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس لیے کہ اس قسم کے جزوی اور فروعی مسائل میں میرا ذوق اور معمول یہ ہے کہ جہاں کسی ذمہ دار بزرگ کے فتویٰ پر عمل ہو رہا ہو، میں وہاں اسی پر عمل کرتا ہوں اور اسے ’’ڈسٹرب‘‘ کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہمارے اکابر میں سے تھے، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ تھے اور میں نے کئی بار حضرت والد محترمؒ کو بعض مسائل میں ان سے رجوع کرتے دیکھ رکھا تھا، اس لیے میں بھی کم و بیش بیالیس سال سے ان کے فتویٰ پر عمل کرتا آ رہا ہوں اور اب بھی اس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، لیکن اس کا پس منظر کافی عرصہ کے بعد اس وقت میرے علم میں آیا جب حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی کی کتاب ’’مطالعہ بریلویت‘‘ سامنے آئی جس میں انہوں نے اس مسئلے کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ فتویٰ دراصل مولانا احمد رضا خان کا تھا کہ جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کی حدود سے باہر ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ پر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کا اپنے بہت سے معاصر علماء کرام سے تحریری مباحثہ بھی ہوتا رہا اور ان کے معاصر علماء کرام نے، جن میں دیوبندی اور بریلوی دونوں شامل ہیں، ان کے اس فتویٰ سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ مگر ہمارے ہاں مرکزی جامع گوجرانوالہ میں جمعہ کی اذانِ ثانی مسجد کی حدود سے باہر حوض پر دیے جانے کا معمول چلا آ رہا ہے۔
بعض لوگ کرپٹو کرنسی کے مسئلے میں علمائے دیوبند پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نئی پیش آنے والی چیزوں، مثلاً لاؤڈ اسپیکر وغیرہ، کے بارے میں ابتدا میں عدمِ جواز کی رائے دیتے ہیں، لیکن جب اس کی حقیقت اور شرعی حیثیت مزید واضح ہو جاتی ہے تو اپنی رائے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے جواز کا فتویٰ دے دیتے ہیں۔
یہ سب باتیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اکابر علماء دیوبند کا طرز عمل جزئیات و فروعات پر اڑے رہنے اور چند مخصوص فتاویٰ پر جمود اختیار کرنے کا نہیں رہا، بلکہ حالات و زمانہ کے تقاضوں اور امت کی معروضی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پوری علمی دیانت، اعتدال اور فقہی توسع کے ساتھ امت کے لیے سہولتیں پیدا کرنے اور اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے حالات کی ضروریات کو ایڈجسٹ کرنے کا رہا ہے اور آج بھی اکابر علماء دیوبند کی یہی روایت ہم سب کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے
ویڈیو لنک یہ ہے 👇👇👇👇
https://youtu.be/tRD6kS59aHM?si=x4K0P...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مولانا_زاہد_الراشدی
#CryptoCurrencyFatwa

#qafilaehaq

2 days ago | [YT] | 39

QAFILA E HAQ ®

میٹھی زبان والوں کی مرچیں بھی بک جاتی ہیں، اور کڑوی زبان والوں کا گڑ بھی نہیں بکتا۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
‪@qafila_e_haq‬
#qafilaehaq

4 days ago | [YT] | 79

QAFILA E HAQ ®

ایک شخص حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے پاس بہت بڑی رقم لے کر آیا اور بولا:
حضرت! میں یہ رقم آپ کے مدر سے کیلئے لایا ہوں... مولانا نے جواب میں کہا ہمارے مدرسے کا ایک سال کا خرچ پورا ہو چکا ہے ... اس لیے آپ یہ رقم لے جائیں اور کسی ایسے مدرسے میں دے دیں جو ہم سے زیادہ اس رقم کا حق دار ہے۔ اس نے پھر کہا: حضرت! میں یہ آپ کے مدرسے کیلئے لایا ہوں۔ انہوں نے پھر وہی جواب دیا ... وہ پھر بھی اصرار کرتا رہا لیکن مولانا صاحب نہ مانے....
آخر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے ہوئے بولا:
حضرت! آپ کو اتنی زیادہ رقم دینے والا کوئی نہیں ملے گا.... اس پر انہوں نے جواب دیا . اور تمہیں بھی اتنی بڑی رقم ٹھکرانے والا کوئی نہیں ملے گا ... (مختصر پر اثر ص ۹۵)
مفتی تقی عثمانی صاحب نے رجوع کرلیا ویڈیو لنک 👇👇👇
https://youtu.be/TA_ZlzLdzA0?si=dVduP...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مولانا_یوسف_بنوری
#MolanaYousufBinori
#qafilaehaq

1 week ago | [YT] | 110

QAFILA E HAQ ®

مشہور قصہ ہے کہ چار اندھوں نے پوچھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے؟ انہیں ایک ہاتھی کے پاس لے جایا گیا۔ ایک نے سونڈ کو چھوا تو کہا: "ہاتھی تو موٹے سانپ کی طرح ہے۔" دوسرے نے دانت کو ہاتھ لگایا تو بولا: "یہ تو ایک سخت بھالے جیسا ہے۔" تیسرے نے ٹانگ کو چھوا تو اسے ستون سمجھ بیٹھا، اور چوتھے نے جسم کو ہاتھ لگایا تو کہنے لگا: "ہاتھی تو ایک دیوار کی مانند ہے۔"
حقیقت یہ تھی کہ چاروں نے ہاتھی کا صرف ایک حصہ دیکھا تھا، پورا ہاتھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔
آج کرپٹو کرنسی کے مسئلے میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ مسئلے کے ایک پہلو کو دیکھ کر خود کو ماہر سمجھ بیٹھے ہیں اور ایک ایسے عظیم فقیہ اور مفتی پر اعتراضات کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن، سنت، فقہ اور فتویٰ نویسی کی خدمت میں گزاری ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کرپٹو کرنسی، کرپٹو ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز کے بارے میں جو فتویٰ دیا، وہ جذبات، مفادات یا سوشل میڈیا کے دباؤ کے تحت نہیں بلکہ گہرے علمی، فقہی اور شرعی غور و فکر کے بعد دیا گیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ وہی فتویٰ چاہتے ہیں جو ان کے کاروبار، سرمایہ کاری یا خواہشات کے مطابق ہو۔ اگر فتویٰ ان کی مرضی کے خلاف آ جائے تو وہ دلیل کے بجائے تمسخر، طنز اور تنقید کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص، جس نے چند ویڈیوز دیکھ لیں یا چند مضامین پڑھ لیے، وہ مفتی تقی عثمانی صاحب جیسے جلیل القدر فقیہ کو فتویٰ کے اصول سکھائے گا؟
اختلاف کا حق ہر کسی کو حاصل ہے، لیکن علمی اختلاف اور گستاخانہ رویے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر کوئی کسی دوسرے معتبر عالم کی رائے پر عمل کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے، مگر ایک پوری عمر فقہ و افتاء کی خدمت کرنے والے عالم دین کا مذاق اڑانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
یاد رکھیں! ہمارا دین خواہشات کے تابع نہیں، بلکہ ہماری خواہشات کو شریعت کے تابع ہونا چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں شریعت کی رو سے عدمِ جواز کا حکم سامنے آئے تو ایک مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ کم از کم اس رائے کا احترام کرے، نہ کہ علماء کی تحقیر اور استہزا شروع کر دے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اکابر علماء، خصوصاً شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے علم، اخلاص اور خدمات میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں دین کے مسائل میں ادب، توازن اور اہلِ علم کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر مفتیٔ اعظم پاکستان Muhammad Taqi Usmani پر وہ لوگ بھی اعتراضات کر رہے ہیں جنہیں یہ بنیادی معلومات بھی نہیں کہ مفتی صاحب کے صاحبزادے کا نام "حسن عثمانی" نہیں بلکہ "مولانا ڈاکٹر حسان اشرف عثمانی" ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں "حسن عثمانی" کا نام آیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مفتی صاحب کے معروف صاحبزادے مولانا ڈاکٹر حسان اشرف عثمانی ہیں، جو علمی اور دینی حلقوں میں ایک معروف شخصیت ہیں۔
کسی بھی بڑے عالم یا شخصیت پر تنقید کرنے سے پہلے کم از کم اتنی تحقیق ضرور کر لینی چاہیے کہ جن کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے، ان کے بنیادی تعارف اور خاندانی معلومات ہی درست ہوں۔ تحقیق کے بغیر تنقید نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے بلکہ یہ معاشرے میں غلط معلومات پھیلانے کا سبب بھی بنتی ہے۔
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
اس بارے میں مکمل اور تفصیلی ویڈیو دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں👇👇👇
https://youtu.be/6A8w1Jp-L5A?si=9l6Fk...
#مفتی_تقی_عثمانی
#MuftiTaqiUsmani

1 week ago | [YT] | 71

QAFILA E HAQ ®

حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا ازہر شاہ قیصر رحمۃ اللہ علیہ جو عرصے تک ماہنامہ دارالعلوم دیو بند کے ایڈیٹر رہے… میرے سب سے بڑے بھائی جناب محمد زکی کیفی رحمۃ اللہ علیہ کے دوست تھے… اور اس حوالے سے ان کا ہمارے گھر میں بکثرت آنا جانا تھا… وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے… گھر والے مجھے پیار سے ”تقی“ کے بجائے ”تقّو“ کہا کرتے تھے اور مولانا ازہر صاحب بھی مجھے اسی نام سے پکارتے… اور اکثر مجھے گود میں اُٹھا کر ”تقّو… تقّو“ کہہ کر چھیڑا کرتے تھے… دوسری طرف ان کا نام ”ازہر“ تھا جسے بگاڑ کر میں اپنی تتلائی ہوئی زبان میں ”اجہل“ کہتا تھا…۔
چنانچہ جب وہ دروازے پر دستک دیتے اور میں باہر نکل کر انہیں دیکھتا… تو بھائی جان کو آ کر بتاتا کہ: ”بھائی اجہل آئے ہیں“… مولانا ازہر صاحب رحمۃاللہ علیہ میری اس زبان کے بڑے مزے لیا کرتے تھے…۔
چنانچہ پاکستان آنے کے بعد جب میری ادارت میں ماہنامہ البلاغ جاری ہوا اور اُس کا پہلا شمارہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے خط میں لکھا (جو سالہا سال کے بعد میرے نام ان کا پہلا خط تھا) کہ: ”اب تو آپ مولانا محمد تقی عثمانی ہیں لیکن میرے نزدیک آپ وہی تقّو میاں ہیں جو مجھے اجہل کہا کرتے تھے“ اور خط کے آخر میں اپنے نام کی جگہ لکھا ”وہی آپ کا اجہل بھائی“
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
ریحان طارق کی گرفتاری کی اصل وجہ تو اب سامنے آئی ویڈیو لنک یہ ہے 👇👇👇👇👇👇👇
https://youtu.be/TRHJi_hfOlg?si=ckYp-...
#Deoband #دارالعلوم_دیوبند
#MuftiTaqiUsmaniOfficial #مفتی_تقی_عثمانی_صاحب
#qafilaehaq

1 week ago (edited) | [YT] | 116

QAFILA E HAQ ®

ایک شخص نے ایک خنثیٰ سے شادی کی اور مہر میں اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کو ایک لونڈی دی‘ وہ خنثیٰ اس قسم کا تھا کہ اس فرج‘ مردوں اور عورتوں دونوں قسم کا تھا‘ اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کے ساتھ جماع کیا تو اس سے ایک لڑکا تولد ہوا اور جب اس خنثیٰ نے اپنی لونڈی کے ساتھ جماع کیا تو اس سے بھی ایک لڑکا پیدا ہوا‘ یہ بات مشہور ہوگئی اور معاملہ امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے خنثیٰ مشکل سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کا فرج عورتوں والا بھی ہے‘ کہ اس سے ماہواری بھی آتی ہے اور مردوں والا بھی ہے کہ اس سے خروج منی بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی  نے اپنے دونوں غلاموں برق اور قنبر کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خنثیٰ مشکل کی دونوں طرف والی پسلیاں شمار کریں‘ اگر بائیں جانب کی ایک پسلی دائیں جانب کم ہو تو پھر اس خنثیٰ مشکل کو مرد سمجھا جائے گا‘ ورنہ عورت‘ وہ اسی طرح ثابت ہوا‘ تو حضرت علی  نے اس کے مرد ہونے کا فیصلہ صادر فرمایا اور اس کے خاوند اور اس کے درمیان تفریق کردی‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اکیلا پیدا فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر احسان کا ارادہ فرمایا کہ اس کا جوڑ پیدا فرمائے تاکہ ان میں سے ہرایک اپنے جوڑے سے سکون حاصل کرے‘ جب حضرت آدم علیہ السلام سو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں جانب سے اماں حضرت حوا کو پیدا فرمایا‘ جب بیدار ہوئے تو ان کی بائیں جانب ایک حسین وجمیل عورت بیٹھی ہوئی تھی۔تو اس لئے مرد کی بائیں جانب کی پسلی عورت سے کم ہوتی ہے اور عورت کی دونوں جانب کی پسلیاں برابر ہوتی ہے‘ کل پسلیوں کی تعداد چوبیس ہے‘ بارہ دائیں جانب اور بارہ بائیں جانب ہوتی ہیں جبکہ مرد کی دائیں جانب بارہ اور بائیں جانب گیارہ ہوتی ہیں‘ تو مرد کی کل پسلیاں چوبیس کی بجائے تئیس ہوتی ہیں‘ اس حالت کے اعتبار سے عورت کو ”ضلع اعوج“ کہا جاتاہے‘ اور حدیث شریف میں تصریح ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘ اگر تو اس کو سیدھا کرنا چاہے تو یہ ٹوٹ جائے گی‘ اس لئے اس کو اپنی حالت پر چھوڑ کر اس سے نفع اٹھا۔
(الاشباہ والنظائر‘ ج:۲‘ ص:۵۷۰) ”الفصول المہمہ فی مناقب الائمہ“ کے حوالہ سے
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#qafilaehaq

1 week ago | [YT] | 42

QAFILA E HAQ ®

امام الطائفہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا احمد رضا خانؒ اپنے دور کی دو بڑی شخصیات ہیں جن کی طرف دیوبندیت اور بریلویت کی علمی روایت منسوب ہے اور عقائد و احکام دونوں میں ان دو شخصیات کی تعبیرات و تشریحات پر ان دو اہم مسلکی گروہوں کے علمی تشخص کا مدار ہے۔ ان کے دور میں ایک مسئلہ پیش آیا کہ ایک سید لڑکی نے، جو عاقلہ بالغہ تھی، ایک ایسے شخص سے نکاح کر لیا جس نے خود کو سید ظاہر کیا اور حلف اٹھا کر اس کا یقین دلایا، مگر نکاح کے بعد ظاہر ہو گیا کہ وہ سید نہیں ہے۔ اس پر لڑکی کے اولیاء کو اعتراض ہوا کہ یہ بات ان کے لیے معاشرے میں باعث عار ہے، اس لیے وہ اس نکاح کو قبول نہیں کرتے۔ سوال یہ ہوا کہ لڑکے کی طرف سے دھوکہ دینے کے بعد اولیاء کے اعتراض کی صورت میں اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اگر نکاح فسخ کیا جائے تو اس کی عملی صورت کیا ہوگی؟
اس سوال کے جواب میں مفتی محمد عبد الرحمن برسانی صاحب نے لکھا کہ:
’’صورتِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیا کو اختیار فسخ کا ہے۔ اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے، جب بھی شہر کے مفتی سے حکم لے کر فسخ کر سکتا ہے کہ قائم مقام قاضی کا مفتی ہے۔‘‘
جبکہ مولانا احمد رضا خانؒ نے اس کا جواب یہ دیا کہ:
’’یہاں جبکہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکہ دیا گیا، دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا۔ نکاح باطل محض رہا۔ بعد ظہور حال زید کی قسم اور تحریر سب مہمل ہے۔‘‘
مگر یہ استفتاء اور اس کے جوابات حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں پیش کیے گئے تو انہوں نے یہ جواب تحریر فرمایا کہ:
’’صورت مندرجہ میں اولیا کو حق فسخ نکاح کا ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے۔ مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے۔‘‘
اس پر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور حضرت مولانا محمد منفعت علیؒ کے بھی دستخط ہیں۔ یہ سب فتاویٰ جب دار العلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مفتی حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندیؒ کے سامنے رکھے گئے تو انہوں نے اس پر تحریر فرمایا کہ:
’’جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے۔ اولیا کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔‘‘
یہ علمی دیانت کی بات ہے کہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندیؒ کو خود اپنے مشائخ اور اساتذہ کی رائے پر اطمینان نہیں ہوا تو انہوں نے دوسرے فریق کے موقف کی حمایت کر دی اور مزید دیانت کی بات یہ ہے کہ جب ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ مرتب کیا گیا تو اس میں یہ سارے جوابات من و عن شامل کر دیے گئے اور اب بھی یہ سوال و جواب فتاویٰ رشیدیہ کا حصہ ہیں
ویڈیو کا لنک اہم معلومات 👇👇👇👇👇👇
https://youtu.be/nZXdiF0aoIk?si=pN-WT...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#RashidAhmadGangohi #مولانا_رشید_احمد_گنگوہی
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 73

QAFILA E HAQ ®

ہمارا گھر دیوبند کے جس محلے میں تھا… اُسے بڑے بھائیوں کا محلہ کہا جاتا ہے… دراصل ہمارے جد امجد کی اولاد ”بڑے بھائی“ کہلاتی تھی… اور انہی کے نام پر محلے کا نام بھی مشہور ہوگیا تھا… ہمارے گھر کے صدر دروازے کی طرف (جو مشرق میں تھا) وہ چھوٹی سی سڑک تھی جو مسلمانوں کی آبادی کو ہندوؤں کی آبادی سے ممتاز کرتی تھی… اس سڑک پر ہمارے گھر کے دوسری طرف تمام تر ہندو آباد تھے لیکن اُن سے پڑوس کے اچھے تعلقات قائم تھے… ہمارے گھر کے سامنے اُسی سڑک پر ایک آٹے کا کارخانہ تھا جسے ہم ”انجن“ کہا کرتے تھے…۔
مجھے یاد ہے کہ اُس میں ایک مرتبہ آگ لگ گئی تو سب سے پہلے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کی مدد کو پہنچے اوردیر تک آگ بجھانے کے لئے پانی اور زمین سے کھودی ہوئی مٹی ڈالنے کے کام میں مصروف رہے… غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک ہمارے سارے اکابر کا خاص وصف تھا… میرے لئے یہ ایک دلچسپ منظر تھا اورمیں گھر سے یہ تماشا دیکھنے کے بعد اپنے بڑے بہن بھائیوں کے سامنے یہ منظر اپنی تتلائی ہوئی زبان میں بیان کرتا اور اپنے ہاتھ پاؤں کی حرکات سے وہ نقشہ کھینچنے کی کوشش کرتا اور اس منظر کشی میں اپنے کسی بہن بھائی کے اُوپر اُس طرح چڑھ جاتا جیسے میں نے آگ بجھانے والوں کو انجن پر چڑھتے دیکھا تھا… میرے بہن بھائی مجھ سے فرمائش کر کے اس منظر کشی کا مطالبہ کیا کرتے تھے… میں تقریباً چھ سال کی عمر تک تتلائی ہوئی زبان بولتا رہا اور اُس کے بھی طرح طرح کے لطیفے خاندان میں مشہور ہوئے…
مفتی تقی عثمانی صاحب کی زوجہ کا انٹرویو
ویڈیو کا لنک 👇👇👇👇
https://youtu.be/Aw77cERbib8?si=aXtID...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#مفتی_تقی_عثمانی
#MuftiTaqiUsmani
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 84

QAFILA E HAQ ®

علامہ ابن کثیر رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ کسی نے خواب میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس حضر ت ابو بكر رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر رض اور حضرت عثمان رض حضرت علی رض اور حضرت امیر معاویہ رض یہ پانچوں صحابی بیٹھے ہوئے ہیں ، اتنے میں ایک آدمی آگیا جس کا نام راشد الکندی تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہنے لگا ، یا حضرت ! میں کچھ نہیں کہتا ، بلکہ وہ تو معاویہ کم و بیش کہا کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بربادی ہو تیرے لئے ، کیا یہ میرے صحابی نہیں ہیں؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی، اسے پیچھے کی طرف سے مارو۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو میری نیند کھل گئی جب صبح ہوئی تو میں نے سنا کہ رات کو وہ اچانک مر گیا ہے ۔ (توہین صحابہ رض کا شرعی حکم صفحہ 156)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی توہین کرنے والے کو سزا بھی اللہ نے دنیا ہی میں دی اور انسانوں کے لیے نمونۂ عبرت بنایا۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کوفہ کے گورنرتھے،کچھ لوگوں نے ان کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور دربارِ خلافت میں ان کی شکایت بھیجناشروع کردیں ۔حضرت عمر ؓ نے ایک تحقیقاتی ٹیم ان شکایت کنندگان کے ہمراہ بھیجی،اس ٹیم کے ارکان نے کوفہ کی تمام مساجد میں جاجاکر معاملات کی تحقیق شروع کی،لیکن کسی بھی جگہ سے کوئی ایک شکایت بھی درست ثابت نہیں ہوئی، صرف ایک مسجد میں ایک شخص ابوسعدہ نے الزام لگایا کہ: ’’بخدا سعدؓ نہ تقسیم ِ اموال میں انصاف سے کام لیتے ہیں ،نہ عدالتی فیصلوں میں انصاف کرتے ہیں اور نہ کفار کے خلاف جنگوں میں نکلتے ہیں ۔‘‘حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا:’’اے اللہ اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کی عمر دراز کر،اس کے فقر کو بڑھادے،اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بہت بوڑھا دیکھا،بڑھاپے کی وجہ سے ان کی پلکیں آنکھوں پر گری ہوتی تھیں ،فقر سے بدحال تھااور راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑتا تھا۔جب اس سے پوچھتے کہ کیا حالت ہورہی ہے توکہتا:’’میں فتنہ میں مبتلا بڈھاہوں ،مجھے سعدؓ کی بددعا لگ گئی ہے۔‘‘(اولیاء اللہ کی اہانت کا وبال:۵۴)
اب آتے ہے اصل موضوع کی طرف
مولانا سید سلمان ندوی کے انتقال پر علماء دو حصوں میں تقسیم؟ دعائے مغفرت یا سکوت؟ دونوں موقف پیش خدمت ہے
مولانا سید سلمان ندوی کے انتقال کے بعد علمی حلقوں میں ایک اہم بحث سامنے آئی ہے۔ بعض علماء نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، جبکہ بعض اکابر علماء نے ان کے بعض سابقہ متنازع بیانات کی وجہ سے دعائے مغفرت سے اجتناب کا موقف اختیار کیا۔ آئیے دونوں آراء کو ان کے دلائل کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
پہلا موقف: دعائے مغفرت کرنے والے علماء
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا
"میں دل و جان سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مولانا سلمان ندوی کے حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی فکری لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں اپنی رحمت سے نوازے۔ جس شخص کا خاتمہ قیام اللیل پر ہوا ہو، اس کے حسنِ خاتمہ کی امید رکھنی چاہیے۔"
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ مولانا سلمان ندویؒ نے آخری مہینوں میں اختلافی موضوعات پر گفتگو ترک کر دی تھی۔ اگرچہ وہ ان کی بعض آراء سے متفق نہیں تھے، لیکن ان کی علمی، دعوتی اور دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
اسی طرح مفتی شمائل ندوی صاحب نے اپنے استاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ:
ہر عالم کی آراء کو قرآن و سنت اور جمہور اہلِ سنت کے معیار پر پرکھا جائے گا۔
جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہوگی وہ قبول کی جائے گی اور جو خلاف ہوگی وہ رد کی جائے گی۔
اختلافِ رائے کے باوجود استاد کی علمی خدمات کا اعتراف اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا اپنی جگہ درست ہے۔
انہوں نے آخر میں اللہ تعالیٰ سے مولانا سلمان ندوی کی مغفرت، رحمت اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔

دوسرا موقف: دعائے مغفرت سے اجتناب کرنے والے علماء
دوسری جانب بعض اکابر علماء نے مختلف موقف اختیار کیا۔
دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مفتی راشد اعظمی صاحب کی طرف یہ بات منسوب کی جا رہی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا مولانا سلمان ندوی نے اپنے سابقہ متنازع بیانات سے رجوع یا توبہ کی تھی؟
جواب میں ان کے حوالے سے نقل کیا گیا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واضح رجوع یا توبہ ثابت نہیں ہوئی، بلکہ وہ اپنے سابقہ موقف پر ہی دنیا سے رخصت ہوئے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر رجوع ثابت ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا، اور یہ بھی کہا: "کاش انہوں نے توبہ کر لی ہوتی۔"
اسی طرح حضرت مولانا مفتی امین پالنپوری صاحب سے بھی یہ فتویٰ منقول ہے کہ جس شخص کی زندگی صحابۂ کرامؓ کی گستاخی میں گزری ہو، اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی جا سکتی، البتہ "إنا لله وإنا إليه راجعون" کہہ کر سکوت اختیار کیا جائے۔
ایک اہم وضاحت
یہ معاملہ ایک علمی اور شرعی اختلاف ہے، نہ کہ سوشل میڈیا کی جذباتی بحث۔
ایک طبقہ مولانا سلمان ندوی کی علمی خدمات، حسنات اور حسنِ خاتمہ کی امید کی بنیاد پر دعائے مغفرت کر رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ ان کے سابقہ متنازع بیانات اور رجوع کے عدمِ ثبوت کی بنیاد پر دعائے مغفرت سے اجتناب کا قائل ہے۔
لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں موقف کو امانت داری کے ساتھ سمجھا اور بیان کیا جائے، اور کسی شخصیت یا عالم کی طرف کوئی بات منسوب کرنے سے پہلے اس کی تحقیق ضرور کی جائے جس کے ثبوت ویڈیوز کی شکل میں موجود ہے۔
البتہ توبہ اور اپنے قول سے رجوع کا ثبوت اور ویڈیو اب ہمارے علم میں نہیں واللہ اعلم
آپ اس اختلافی مسئلے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں قرآن و سنت، ادب اور احترام کے دائرے میں ضرور پیش کریں۔
اس بارے میں مدلل اور مفصل ثبوتوں کے ساتھ ویڈیو دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں 👇 👇 👇 👇
https://youtu.be/ZcGbEvKJovI?si=m6aB7...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#دیوبند
#qafilaehaq

2 weeks ago | [YT] | 44

QAFILA E HAQ ®

دیو بند میں بدھ کے دن ایک بازار لگا کرتا تھا جس میں آس پاس کے گاؤں والے اپنا اپنا سامان لا کر بیچا کرتے تھے… اور اس بازار میں عام طور پر گھریلو استعمال کی چیزیں سستے داموں مل جایا کرتی تھیں… اسے ”بدھ بازار“ کہا جاتا تھا… حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اُس بازار میں جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ لے گئے… اب یاد نہیں کہ انہوں نے وہاں سے کیا چیزیں خریدیں… وہ بازار بھی زیادہ تر گھریلو استعمال کی اجناس کا بازار تھا… اور اس میں بچوں کے مطلب کی کوئی خاص چیز تھی بھی نہیں… چنانچہ اُس روز بھی انہوں نے مجھے کچھ نہ دِلایا…۔
یہاں تک کہ واپسی شروع ہوگئی… ایک آخری دکان میں چینی کے بنے ہوئے پتاشوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا… جب ہم وہاں سے گذرے تو مجھ سے نہ رہا گیا اورمیں نے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا: ”ابا جی! پتاشوں کا بھاؤ ہی پوچھ لو“… اور اس طرح والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ان کا بھولا ہوا فریضہ یاد دِلا دیا...
✍️ مفتی محمد امجد مردانوی
#MuftiTaqiUsmani #مفتی_تقی_عثمانی #سبق_آموز_واقعہ
#qafilaehaq

3 weeks ago | [YT] | 110