درگاہ ِعشق

For Urdu Hindi Poetry


درگاہ ِعشق

ہم نے ہر دُکھ کو مَحَبَّت کا تَسَّلسُّل سمجھا
ہم کوئی تُم تھے کہ دُنیا سے شکایت کرتے
ہم نے سُوکھی ہوئی شاخوں پہ لہُو چھِڑکا تھا
پھول اگر اب بھی نہ کھِلتے__تو خسارہ کرتے
ہم اگر چُپ ہیں تو اِس کو بھی غنیمت سمجھو
ہم اگر صبر نہ کرتے__________تو قیامت کرتے
ہم کو معلوم ھے دُشمن کے سبھی ٹھِکانوں کا
شریکِ جُرم نہ ہوتے________تو مُخبَری کرتے
کی مَحَبَّت تو سیاست کے چلن چھوڑ دئیے
ہم اگر عِشق نہ کرتے_____تو حکومت کرتے.

1 year ago | [YT] | 0