This channel is for historical vlogs....


Ali Sheikh

موہاکس کی جنگ: وہ فیصلہ کن جنگ جس نے یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا

جب میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے مغربی ذرائع اور انٹرنیٹ سے اس کی تصدیق کی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ یورپ میں مشہور ہے کیونکہ اس میں ہنگری کا بادشاہ، ہزاروں نواب اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے۔ آج بھی وہاں ان کی قبریں ہیں جنہیں لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔

یہ ایک اصلی جنگ تھی جسے ہمارے سکولوں میں پڑھانا چاہیے تھا اور ہر سال اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اسی جنگ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو تاریخ میں کیوں برا بنا کر پیش کیا گیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے "مرد بیمار" (ترکی) کی وراثت کیوں بتایا گیا۔

یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک بہت بڑی تباہی تھی!
یہ تھیموہاکس کی جنگ۔
ایسی جنگ جسے یورپ آج تک بھول نہیں پایا۔

کیوں لڑی گئی جنگ؟
عثمانی سلطان سلیمان القانونی نے اپنا سفیر ہنگری کے بادشاہ کے پاس ٹیکس(جزیہ) لینے بھیجا۔ اس وقت ہنگری یورپ کی عیسائی طاقتوں کا مضبوط قلعہ تھا۔ پوپ (عیسائیوں کے بڑے پادری) کے کہنے پر ہنگری کے بادشاہ نے سلطان کے سفیر کو قتل کروا دیا۔ اس طرح کلیسا اور یورپ جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔

فوجی تیاریاں:

· عثمانی فوج: ایک لاکھ مجاہد، ساڑھے تین سو توپیں، آٹھ سو جہاز۔
· یورپی اتحاد: تقریباً پورا یورپ (21 ممالک) اکٹھا ہوا۔ ان کی فوج میں دو لاکھ سوار تھے، جن میں سے 35 ہزار مکمل لوہے کے بکتر (زرہ) پہنے ہوئے تھے۔

جنگ کا سفر:
سلطان سلیمان القانونی(فاتح قسطنطنیہ کی اولاد میں سے) نے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے راستے میں کئی قلعے فتح کیے۔ انہوں نے بلغراد کا مضبوط قلعہ بھی فتح کیا، دریا عبور کیا اور آخر کار ہنگری کے موہاکس کے میدان میں پہنچے، جہاں پوپ اور ہنگری کے بادشاہ کی قیادت میں یورپی فوج ان کا انتظار کر رہی تھی۔

سلطان کا مسئلہ:
سلطان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یورپ کے وہ بکتر بند(لوہے کے کپڑے پہنے) سوار تھے جو نہ تیروں سے، نہ گولیوں سے متاثر ہوتے تھے اور نہ ہی ان سے آمنے سامنے لڑنا آسان تھا۔

جنگ کی تیاری:
سلطان نے فجر کی نماز پڑھی،اپنی فوج کو خطاب کیا۔ اسلامی فوج رو پڑی کیونکہ یہ فیصلہ کن جنگ تھی۔

جنگی حکمت عملی:
سلطان نے اپنی فوج کو 10 کلومیٹر کے علاقے میں تین حصوں میں ترتیب دیا:

1. پہلی صف: چنیدہ فوج (ینگچری)
2. دوسری صف: ہلکے سوار، رضاکار اور پیدل فوج۔
3. تیسری صف: سلطان خود اور توپیں۔

جنگ کا آغاز:
عصر کی نماز کے بعد ہنگری کی فوج نے حملہ کیا۔سلطان نے ینگچریوں کو حکم دیا کہ ایک گھنٹہ ڈٹ کر لڑیں پھر پیچھے ہٹ جائیں۔ دوسری صف کو کناروں کی طرف ہٹنے کا حکم دیا۔

جنگ کا منظر:
ینگچریوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے دو حملوں میں یورپی پیدل فوج کو تباہ کر دیا۔صرف ایک حملے میں 20 ہزار یورپی مارے گئے۔
پھر یورپ کی طاقتور بکتر بند سوار فوج آگے بڑھی۔اسی وقت عثمانی فوج کناروں کو چھوڑتی ہوئی بیچ میں سے ہٹ گئی، جس سے میدان کا درمیانی حصہ خالی ہو گیا۔

یورپی فوج کی تباہی:
ایک لاکھ یورپی سوار زور سے اسی خالی حصے کی طرف بڑھے۔اچانک وہ عثمانی توپوں کے سامنے آ گئے۔ ہر طرف سے توپوں نے فائر کیا اور صرف ایک گھنٹے میں یورپی فوج تباہ ہو گئی۔
پیچھے کی فوج دریا کی طرف بھاگی،ہجوم میں ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے ہزاروں دریا میں ڈوب گئے۔ بکتر بند سواروں پر لوہا اتنا گرم ہوا کہ ان کے جسم پر پگھل گیا۔

سلطان کا سخت فیصلہ:
یورپی فوج نے ہتھیار ڈالنے چاہے،لیکن سلطان سلیمان نے فیصلہ دیا: "کوئی قیدی نہیں لیا جائے گا!"
عثمانی فوج نے کہا:یا لڑو، یا مر جاؤ۔ اس طرح یورپی فوج نے آخری جنگ لڑی۔

جنگ کے نتائج:

· ہنگری کا بادشاہ، سات بڑے پادری، پوپ کا نمائندہ اور 70 ہزار سوار مارے گئے۔
· 25 ہزار زخمی قیدی بنے۔
· عثمانی فوج نے ہنگری کے دارالحکومت میں فوجی پریڈ کی جہاں سب نے سلطان کا ہاتھ چوما۔
· مسلمانوں میں صرف 1500 شہید اور 3000 زخمی ہوئے۔
· مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور مصر سے سلطان کو مبارک باد کے خط آئے۔

آخری بات:
اس روز یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں مل گیا۔ہنگری آج تک اس شکست کو نہیں بھول سکا۔ یہ تاریخ کی حیرت انگیز جنگ ہے جس کے نتیجے بہت تیزی سے آئے۔ یورپی مورخ آج بھی اس پر حیران، ناراض اور متعصب ہیں۔

1 month ago | [YT] | 5

Ali Sheikh

1480 میں سلطان محمد فاتح نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔
سلطان کا ارادہ تھا کہ اب اٹلی کے ساحل تک پہنچ کر وہاں بھی عثمانی جھنڈا گاڑا جائے، اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنا بیڑا اٹلی کے شہر اوٹرانٹو کی طرف روانہ کیا۔
عثمانی جہاز ساحل پر اُترے تو اطالوی فوج کو پتہ بھی نہ چلا کہ کیا ہونے والا ہے۔
گدک احمد پاشا کی کمان میں عثمانیوں نے شہر کا محاصرہ کیا، توپیں چلیں، دیواریں گریں، اور صرف چند دن میں اوٹرانٹو فتح ہو گیا۔
یورپ میں کہرام مچ گیا۔ ویٹیکن کے دروازے تک عثمانیوں کا فاصلہ اب بس ایک قدم رہ گیا تھا۔
روم میں یہ خوف پیدا ہوگیا کہ شاید اگلا حملہ سیدھا ویٹیکن پر ہو۔
پاپائے روم نے یورپی بادشاہوں کو خط پر خط لکھے کہ “جلدی کرو، عثمانی روم تک پہنچ رہے ہیں
دوسری طرف عثمانی اطمینان سے اوٹرانٹو میں اپنا نظام بٹھا رہے تھے، اور اگلی پیش قدمی کی تیاری ہو رہی تھی۔
لیکن تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔
1481 میں سلطان محمد فاتح اچانک انتقال کر گئے۔
سلطان کی موت کی خبر نے پوری مہم کو ہی بدل کر رکھ دیا۔
کمک رک گئی، اور نئے سلطان نے اٹلی کی مہم پر توجہ نہیں دی۔
یوں عثمانی فوج کو واپس بلانا پڑا۔
آخرکار، سال کے آخر میں اوٹرانٹو سے عثمانی لشکر واپس ہوا اور شہر پھر اٹلی کے ہاتھ میں چلا گیا۔

2 months ago | [YT] | 4

Ali Sheikh

🌊 ماریانا ٹرِنچ — دنیا کی سب سے خاموش، خوفناک اور چھپی ہوئی دنیا

یہ دنیا کا سب سے گہرا مقام ہے، جسے ماریانا ٹرِنچ کہتے ہیں۔ یہ سمندر کے اندر موجود ایک ایسا گہرا گڑھا ہے جہاں انسان اب تک پوری طرح نہیں پہنچ سکا۔ اگر آپ دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کو اس کے اندر سیدھا کھڑا کر دیں تو بھی اس کی چوٹیاں پانی سے باہر نہیں نکلیں گی۔

ماریانا ٹرِنچ سمندر کی سطح سے تقریباً 11 ہزار میٹر (11 km) گہرا ہے۔ یہاں اتنا اندھیرا ہے کہ سورج کی روشنی کا ایک ذره بھی نہیں پہنچتا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ اگر انسان پر ایک انچ بھی ظاہر ہو جائے تو اس کے جسم کی ہر ہڈی پل بھر میں پاؤڈر بن جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے یہاں ایسے جاندار دیکھے ہیں جو زمین پر کہیں نظر نہیں آتے۔ کچھ مخلوقات کے جسم شفاف ہیں، کچھ چاند کی طرح چمکتے ہیں، اور کچھ کے دانت اتنے بڑے ہیں کہ دیکھ کر انسان کانپ جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گہرائی میں ایسی آوازیں سنی گئی ہیں جنہیں آج تک کوئی سمجھ نہیں سکا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آوازیں سمندر کے دیو ہیکل جانوروں کی ہیں جو ابھی تک دنیا کے سامنے نہیں آئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا، خلا میں گھر بنا لیا، مگر اس سمندر کی 95% دنیا آج بھی انسان کے لیے راز ہے۔ ماریانا ٹرِنچ کے بارے میں ہر تحقیق نئی حیرت اور خوف لے کر آتی ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں سادہ مچھلیاں بھی خون خوار شکلوں کی لگتی ہیں اور یہاں کی خاموشی ایسی ہے کہ اگر دل کی دھڑکن بھی ہو تو آواز گونج جائے۔

اگر آپ کبھی سوچیں کہ دنیا کی سب سے خطرناک جگہ کون سی ہے، تو یاد رکھیں —
یہ زمین کے اوپر نہیں… بلکہ ہزاروں میٹر نیچے سمندر کے اندر ہے۔
جسے دیکھنے کے لیے آج تک چند انسان ہی جا سکے ہیں — اور واپس آنے والے ہمیشہ خاموش ہو جاتے ہیں…!

2 months ago | [YT] | 5

Ali Sheikh

انگریزوں کے دور کا 138 سال پرانا کالج
https://youtu.be/ab2Ze9btIQQ

3 months ago | [YT] | 4

Ali Sheikh

It is not Gaza, it is Tel Aviv!

8 months ago | [YT] | 2

Ali Sheikh

Pakistan Unleashes Hypersonic HD-1A Missiles, Destroys Indian S-400 Battery at Adampur

Pakistan employed the powerful HD-1A hypersonic missile, traveling at Mach 6 (over 7,400 km/h), to strike Indian targets. The missile’s precision and overwhelming power completely neutralized the S-400 air defense system at Adampur Air Station

9 months ago | [YT] | 2

Ali Sheikh

طاقتیں تمھاری ہیں ۔۔۔ اور خدا ہمارا ہے۔۔۔۔!
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا۔۔۔ غزہ کو جہنم بنا دیں گے۔۔۔ امریکہ میں آگ لگ گئی۔ ہم معصوم امریکی شہریوں کے نقصان پر خوش نہیں ہیں لیکن ظالم ریاستیں اپنے شہریوں کے لیے بھی عذاب کا باعث بنتی ہیں۔

1 year ago | [YT] | 2

Ali Sheikh

In the coming hours, the world will witness unusual scenes and events, Iranian media reports.

1 year ago | [YT] | 2