A platform for real stories, public issues, and factual reporting from Pakistan. We bring case timelines, ground realities, and social awareness content — focused on facts, clarity, and responsible reporting.
تیرہ لاکھ فالورز رکھنے والی شمسو بی بی عرف عائشہ گیلامنہ کون تھی؟ آخر کیوں ماری گئی؟
تیرہ لاکھ سے زائد ٹک ٹاک فالورز رکھنے والی عائشہ گیلامنہ عرف شمسو بی بی کی المناک موت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر شہرت، فالورز اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کس کام کی، جب انسان کی زندگی ہی محفوظ نہ رہے؟
اطلاعات کے مطابق 28 سالہ عائشہ اپنی بیٹی، بہن اور بھائی کے ہمراہ ٹیکسلا بائی پاس کے قریب گاڑی میں سفر کر رہی تھی کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عائشہ جاں بحق ہوگئی، جبکہ اس کی 15 سالہ بہن اسمیہ شدید زخمی ہوئی جسے فوری طور پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ کو فون کرکے گھر سے بلایا گیا تھا اور راستے میں مبینہ طور پر پہلے سے گھات لگائی گئی تھی۔ تاہم اس قتل کے اصل محرکات اور ملزمان کون تھے، یہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عائشہ کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس کے سوشل میڈیا کانٹینٹ کو بھی اس واقعے کے ممکنہ پس منظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن کسی کے طرزِ زندگی، لباس، خیالات یا سوشل میڈیا سرگرمی سے اختلاف کسی انسان کو قتل کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ جرم کا فیصلہ عدالت اور قانون کرے گا، کسی فرد کو اپنی مرضی سے سزا دینے کا حق نہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا سے وابستہ خواتین کے قتل کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں مبینہ طور پر خاندان کی بدنامی یا عزت کے نام پر جان لے لی گئی۔
یہاں ایک اور تلخ سوال بھی ہے:
تیرہ لاکھ فالورز میں سے کتنے لوگ عائشہ کے جنازے میں شریک ہوئے ہوں گے؟
جن لوگوں کے لائکس، ویوز اور کمنٹس کسی کو اسٹار بنا دیتے ہیں، وہی لوگ چند دن بعد کسی دوسرے ٹرینڈ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
یہی سوشل میڈیا کی حقیقت ہے۔
آج آپ وائرل ہیں، کل کوئی اور ہے۔ آج لاکھوں لوگ آپ کو دیکھ رہے ہیں، کل شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو کہ آپ کون تھے۔
فالورز زندگی کی ضمانت نہیں، لائکس عزت کی ضمانت نہیں اور شہرت ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔
والدین کے لیے بھی اس واقعے میں ایک بڑا سبق ہے۔ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کی دنیا سے مکمل طور پر کاٹ دینا شاید حل نہیں، لیکن انہیں یہ ضرور سمجھانا ہوگا کہ ہر وائرل چیز کامیابی نہیں ہوتی اور ہر مقبول راستہ محفوظ بھی نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا استعمال کریں، مگر اس کے اسیر نہ بنیں۔ شہرت حاصل کریں، مگر اپنی جان، عزت، خاندان اور کردار کی قیمت پر نہیں۔
آخرکار جب زندگی کا سفر ختم ہوتا ہے تو فالورز، لائکس، ویوز اور شہرت سب یہیں رہ جاتے ہیں۔
انسان کے ساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو وہ صرف اس کے اعمال ہیں۔۔۔۔
وہ بادل جسے ہم روئی کا گالا سمجھتے ہیں… حقیقت میں سینکڑوں ٹن وزن اپنے اندر لیے ہوتا ہے! 😳
آسمان کی طرف دیکھیں تو سفید، نرم اور ہلکے پھلکے بادل دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے جیسے یہ بس ہوا میں تیرتے ہوئے روئی کے ٹکڑے ہیں۔
لیکن حقیقت حیران کن ہے!
ایک عام بادل اپنے اندر بہت بڑی مقدار میں پانی کے قطروں کو سمیٹے ہوتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک بڑے بادل میں پانی کی مقدار سینکڑوں ٹن تک ہو سکتی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اتنا پانی آسمان میں کیسے معلق رہتا ہے؟ یہ زمین پر ایک ہی وقت میں کیوں نہیں گر جاتا؟
یہیں قرآن کی ایک آیت انسان کو غور کرنے پر مجبور کرتی ہے:
"وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ"
یعنی:
"اور وہ بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔" 📖 سورۃ الرعد، آیت 12
ذرا غور کیجیے…
قرآن نے بادلوں کے لیے "السَّحَابَ الثِّقَالَ" — بھاری بادل کے الفاظ استعمال کیے۔
آج ہم جانتے ہیں کہ بادل محض سفید دھواں نہیں بلکہ پانی کے انتہائی چھوٹے قطروں یا برف کے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں، جن میں مجموعی طور پر پانی کی مقدار حیرت انگیز حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
اور پھر بھی وہ آسمان میں تیرتے ہیں… نہ کوئی ستون، نہ کوئی سہارا!
یہ قدرت کا وہ نظام ہے جس پر جتنا غور کریں، اتنا ہی انسان اپنے رب کی عظمت کو محسوس کرتا ہے۔
قرآن ہمیں صرف بادل دیکھنے کا نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود قدرتِ الٰہی پر غور کرنے کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
اگلی بار جب آسمان پر بادل دیکھیں تو صرف موسم نہ دیکھیں… اپنے رب کی قدرت کو بھی دیکھیں۔
آج گوجرانوالہ کے کسی فلائی اوور کا ایک ایسا منظر سامنے آیا، جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔
تقریباً 70 سالہ ایک بزرگ ماں جی اپنے بوڑھے شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھیں۔ پیچھے سولر کی ایک پلیٹ بڑی مشکل سے پکڑی ہوئی تھی۔
آگے بیٹھے بزرگ بھی عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے تھے جہاں موٹر سائیکل چلانا آسان نہیں رہا۔ بار بار بائیک سائیڈ پر کھڑی کرتے، توازن درست کرتے اور پھر سفر شروع کرتے۔
سوچیں… جس عمر میں اولاد کو اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سہارا دینا چاہیے، اس عمر میں یہ بزرگ خود اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔
اور دوسری طرف اسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی ایک رات کی عیاشی پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔
یہ منظر صرف غربت کی تصویر نہیں تھا، بلکہ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کا آئینہ تھا۔
گوجرانوالہ کے بڑے بجلی صارفین اور نادہندگان کے ذمے اربوں روپے کے واجبات ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اس بوجھ کا خمیازہ آخر یہ غریب، بوڑھے اور مجبور لوگ کیوں بھگت رہے ہیں؟
جو اپنی زندگی کی آخری عمر میں بھی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے سولر پلیٹیں اٹھا کر سڑکوں پر پھر رہے ہیں؟
ایک طرف دولت کی نمائش، دوسری طرف بڑھاپے کی بے بسی!
یہ صرف ایک بوڑھے میاں بیوی کی کہانی نہیں… یہ اس معاشرے کا سوال ہے جہاں طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
11 سال کی عمر میں شادی، پھر عدالت پہنچنے والی ایک ایسی کہانی جس نے دنیا کو حیران کر دیا!
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس پر یقین کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ انامیکا اختر نے قانونی جدوجہد کے بعد اپنے 7 ماہ کے بیٹے کو عدالتی حکم پر عارضی طور پر واپس حاصل کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انامیکا کی ملاقات فیس بک پر 22 سالہ شکیل عرف شاکیب میاں سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان دوستی ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی، اور بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق اس وقت ان کی شادی ہوئی جب انامیکا کی عمر صرف 11 سال تھی، جبکہ شکیل کی عمر 20 برس کے قریب تھی۔
رواں سال ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، لیکن چند ماہ بعد ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔ انامیکا کا مؤقف ہے کہ سسرال والوں نے بچہ اپنے پاس رکھ لیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔ دوسری جانب شکیل کا کہنا ہے کہ انامیکا اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھیں اور اس نے کبھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔
یکم جولائی 2026 کو انامیکا نے ڈھاکہ کے چیف لیگل ایڈ آفس میں درخواست دی۔ عدالت نے دونوں فریقین کو طلب کیا، مگر مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہونے پر پولیس کو بچے کی بازیابی کا حکم دیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے بچے کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا۔
28 جولائی کو سماعت کے بعد عدالت نے بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر بچہ ماں کے حوالے کر دیا، جبکہ مستقل سرپرستی کا مقدمہ اب بھی فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے پہلی بار انامیکا کو دیکھا تو یقین ہی نہیں آیا کہ اتنی کم عمر بچی خود ایک بچے کی ماں بھی ہو سکتی ہے۔
کیا اتنی کم عمر میں شادی اور ماں بننا ایک بچے کے ساتھ ناانصافی نہیں؟
"بھائی، آپ میرے بھائی ہو! آپ کو اللہ کا واسطہ، میری ماں اور بہن کو مت مارو!"
یہ الفاظ صرف ایک فریاد نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ایسا سوال ہیں جس کا جواب ہم سب کو دینا ہوگا۔
قصور کے علاقے ایلیٹ ٹاؤن سے سامنے آنے والی ویڈیو نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک لڑکی بار بار اللہ کا واسطہ دیتی رہی، اپنی ماں اور بہن کو نہ مارنے کی التجائیں کرتی رہی، مگر غصے اور ہجوم کی شدت کے سامنے اس کی آواز بے بس دکھائی دی۔
اطلاعات کے مطابق واقعہ ایک پولیس اہلکار کے گھر پر پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے گھر کے شیشے توڑے، گاڑی کو نقصان پہنچایا اور گھر میں موجود خواتین، بچیوں، والدہ اور ان کے بھائی پر تشدد کیا۔ اگر ان اطلاعات میں کوئی پہلو غلط ہے تو اس کی وضاحت اور حقیقت سامنے لانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اصل معاملہ کیا تھا؟ قصور کس کا تھا؟ یہ سب تفتیش کے بعد ہی واضح ہوگا۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے...
کیا کسی بھی تنازعے کا حل خواتین، بزرگوں اور بچوں پر تشدد ہے؟
اگر کوئی جرم ہوا تھا تو قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، پولیس موجود ہے۔ پھر قانون کو ہاتھ میں لینے، گھر کی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کا اختیار کس نے دیا؟
افسوس صرف تشدد پر نہیں، بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو یہ سب دیکھتے رہے مگر کسی نے آگے بڑھ کر مظلوموں کو بچانے کی کوشش نہ کی۔
اگر واقعی ایک پولیس اہلکار کا گھر بھی اس طرح محفوظ نہیں، تو پھر ایک عام شہری خود کو کیسے محفوظ محسوس کرے؟
ہم کسی فریق کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کی جائیں، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، اور اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، خواتین یا بزرگوں پر تشدد کیا یا املاک کو نقصان پہنچایا تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
قانون کی بالادستی ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے، ہجوم کا انصاف نہیں۔
آپ کی نظر میں، کسی بھی تنازعے میں خواتین اور بزرگوں پر تشدد کا کبھی کوئی جواز ہو سکتا ہے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔
"برابری" کا سب سے زیادہ شور وہ لوگ مچاتے ہیں جو "ذمہ داری" کا ذکر کم ہی کرتے ہیں...
یہ منظر دیکھیں... بارش کا پانی، بند موٹر سائیکل، شوہر خود گھٹنوں تک پانی میں چل کر موٹر سائیکل دھکیل رہا ہے، لیکن اپنی بیوی کو پانی میں نہیں اتارتا بلکہ عزت سے اوپر بٹھا کر لے جا رہا ہے۔
یہ صرف محبت نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
اسلام نے مرد کو قوام بنایا ہے، یعنی گھر کی ذمہ داری اور حفاظت اس کے سپرد کی ہے۔ اسی لیے ایک باکردار مسلم شوہر کوشش کرتا ہے کہ مشکل خود برداشت کرے اور اپنی بیوی کو حتیٰ الامکان آسانی دے۔
آج کچھ لوگ کہتے ہیں: "برابر کے حقوق چاہئیں۔"
اگر برابری کا مطلب ہر تکلیف بھی برابر بانٹنا ہے، تو پھر اس منظر میں عورت بھی مرد کے ساتھ پانی میں چل رہی ہوتی۔ لیکن اگر مرد خوشی سے اپنی بیوی کی راحت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، تو یہ کمزوری نہیں بلکہ اس کی محبت، غیرت اور کردار کی علامت ہے۔
اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے جو عزت دی ہے، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ہاں، ہر معاشرے اور ہر فرد کا عمل ایک جیسا نہیں ہوتا، مگر اسلام کی اصل تعلیم احترام، عدل اور حسنِ سلوک ہے۔
بتائیں، کیا آج کے دور میں ذمہ داری اور محبت کو بھی "عدم برابری" سمجھ لیا گیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں، جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی"
FACTS BY ARFA
تیرہ لاکھ فالورز رکھنے والی شمسو بی بی عرف عائشہ گیلامنہ کون تھی؟ آخر کیوں ماری گئی؟
تیرہ لاکھ سے زائد ٹک ٹاک فالورز رکھنے والی عائشہ گیلامنہ عرف شمسو بی بی کی المناک موت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر شہرت، فالورز اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کس کام کی، جب انسان کی زندگی ہی محفوظ نہ رہے؟
اطلاعات کے مطابق 28 سالہ عائشہ اپنی بیٹی، بہن اور بھائی کے ہمراہ ٹیکسلا بائی پاس کے قریب گاڑی میں سفر کر رہی تھی کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عائشہ جاں بحق ہوگئی، جبکہ اس کی 15 سالہ بہن اسمیہ شدید زخمی ہوئی جسے فوری طور پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ کو فون کرکے گھر سے بلایا گیا تھا اور راستے میں مبینہ طور پر پہلے سے گھات لگائی گئی تھی۔ تاہم اس قتل کے اصل محرکات اور ملزمان کون تھے، یہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عائشہ کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس کے سوشل میڈیا کانٹینٹ کو بھی اس واقعے کے ممکنہ پس منظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن کسی کے طرزِ زندگی، لباس، خیالات یا سوشل میڈیا سرگرمی سے اختلاف کسی انسان کو قتل کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ جرم کا فیصلہ عدالت اور قانون کرے گا، کسی فرد کو اپنی مرضی سے سزا دینے کا حق نہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا سے وابستہ خواتین کے قتل کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں مبینہ طور پر خاندان کی بدنامی یا عزت کے نام پر جان لے لی گئی۔
یہاں ایک اور تلخ سوال بھی ہے:
تیرہ لاکھ فالورز میں سے کتنے لوگ عائشہ کے جنازے میں شریک ہوئے ہوں گے؟
جن لوگوں کے لائکس، ویوز اور کمنٹس کسی کو اسٹار بنا دیتے ہیں، وہی لوگ چند دن بعد کسی دوسرے ٹرینڈ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
یہی سوشل میڈیا کی حقیقت ہے۔
آج آپ وائرل ہیں، کل کوئی اور ہے۔
آج لاکھوں لوگ آپ کو دیکھ رہے ہیں، کل شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو کہ آپ کون تھے۔
فالورز زندگی کی ضمانت نہیں، لائکس عزت کی ضمانت نہیں اور شہرت ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔
والدین کے لیے بھی اس واقعے میں ایک بڑا سبق ہے۔ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کی دنیا سے مکمل طور پر کاٹ دینا شاید حل نہیں، لیکن انہیں یہ ضرور سمجھانا ہوگا کہ ہر وائرل چیز کامیابی نہیں ہوتی اور ہر مقبول راستہ محفوظ بھی نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا استعمال کریں، مگر اس کے اسیر نہ بنیں۔
شہرت حاصل کریں، مگر اپنی جان، عزت، خاندان اور کردار کی قیمت پر نہیں۔
آخرکار جب زندگی کا سفر ختم ہوتا ہے تو فالورز، لائکس، ویوز اور شہرت سب یہیں رہ جاتے ہیں۔
انسان کے ساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو وہ صرف اس کے اعمال ہیں۔۔۔۔
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
FACTS BY ARFA
انمول پنکی دو منشیات کیسز میں باعزت بری،😕😕
https://youtu.be/2y2NqwIcrC4?si=mWGZb...
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
FACTS BY ARFA
اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے
https://youtu.be/SZSU4pE0vaI?si=a3bFD...
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
FACTS BY ARFA
وہ بادل جسے ہم روئی کا گالا سمجھتے ہیں… حقیقت میں سینکڑوں ٹن وزن اپنے اندر لیے ہوتا ہے! 😳
آسمان کی طرف دیکھیں تو سفید، نرم اور ہلکے پھلکے بادل دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے جیسے یہ بس ہوا میں تیرتے ہوئے روئی کے ٹکڑے ہیں۔
لیکن حقیقت حیران کن ہے!
ایک عام بادل اپنے اندر بہت بڑی مقدار میں پانی کے قطروں کو سمیٹے ہوتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک بڑے بادل میں پانی کی مقدار سینکڑوں ٹن تک ہو سکتی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اتنا پانی آسمان میں کیسے معلق رہتا ہے؟ یہ زمین پر ایک ہی وقت میں کیوں نہیں گر جاتا؟
یہیں قرآن کی ایک آیت انسان کو غور کرنے پر مجبور کرتی ہے:
"وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ"
یعنی:
"اور وہ بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔"
📖 سورۃ الرعد، آیت 12
ذرا غور کیجیے…
قرآن نے بادلوں کے لیے "السَّحَابَ الثِّقَالَ" — بھاری بادل کے الفاظ استعمال کیے۔
آج ہم جانتے ہیں کہ بادل محض سفید دھواں نہیں بلکہ پانی کے انتہائی چھوٹے قطروں یا برف کے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں، جن میں مجموعی طور پر پانی کی مقدار حیرت انگیز حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
اور پھر بھی وہ آسمان میں تیرتے ہیں…
نہ کوئی ستون، نہ کوئی سہارا!
یہ قدرت کا وہ نظام ہے جس پر جتنا غور کریں، اتنا ہی انسان اپنے رب کی عظمت کو محسوس کرتا ہے۔
قرآن ہمیں صرف بادل دیکھنے کا نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود قدرتِ الٰہی پر غور کرنے کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
اگلی بار جب آسمان پر بادل دیکھیں تو صرف موسم نہ دیکھیں…
اپنے رب کی قدرت کو بھی دیکھیں۔
❤️ سبحان اللہ!
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
FACTS BY ARFA
آج گوجرانوالہ کے کسی فلائی اوور کا ایک ایسا منظر سامنے آیا، جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔
تقریباً 70 سالہ ایک بزرگ ماں جی اپنے بوڑھے شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھیں۔ پیچھے سولر کی ایک پلیٹ بڑی مشکل سے پکڑی ہوئی تھی۔
آگے بیٹھے بزرگ بھی عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے تھے جہاں موٹر سائیکل چلانا آسان نہیں رہا۔ بار بار بائیک سائیڈ پر کھڑی کرتے، توازن درست کرتے اور پھر سفر شروع کرتے۔
سوچیں…
جس عمر میں اولاد کو اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سہارا دینا چاہیے، اس عمر میں یہ بزرگ خود اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔
اور دوسری طرف اسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی ایک رات کی عیاشی پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔
یہ منظر صرف غربت کی تصویر نہیں تھا، بلکہ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کا آئینہ تھا۔
گوجرانوالہ کے بڑے بجلی صارفین اور نادہندگان کے ذمے اربوں روپے کے واجبات ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اس بوجھ کا خمیازہ آخر یہ غریب، بوڑھے اور مجبور لوگ کیوں بھگت رہے ہیں؟
جو اپنی زندگی کی آخری عمر میں بھی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے سولر پلیٹیں اٹھا کر سڑکوں پر پھر رہے ہیں؟
ایک طرف دولت کی نمائش، دوسری طرف بڑھاپے کی بے بسی!
یہ صرف ایک بوڑھے میاں بیوی کی کہانی نہیں…
یہ اس معاشرے کا سوال ہے جہاں طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
اللہ ان بزرگوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔
آپ کے خیال میں ایسے حالات کے ذمہ دار کون ہیں؟
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
FACTS BY ARFA
صرف 13 سال کی عمر... گود میں 7 ماہ کا بچہ!
11 سال کی عمر میں شادی، پھر عدالت پہنچنے والی ایک ایسی کہانی جس نے دنیا کو حیران کر دیا!
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس پر یقین کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ انامیکا اختر نے قانونی جدوجہد کے بعد اپنے 7 ماہ کے بیٹے کو عدالتی حکم پر عارضی طور پر واپس حاصل کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انامیکا کی ملاقات فیس بک پر 22 سالہ شکیل عرف شاکیب میاں سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان دوستی ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی، اور بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق اس وقت ان کی شادی ہوئی جب انامیکا کی عمر صرف 11 سال تھی، جبکہ شکیل کی عمر 20 برس کے قریب تھی۔
رواں سال ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، لیکن چند ماہ بعد ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔ انامیکا کا مؤقف ہے کہ سسرال والوں نے بچہ اپنے پاس رکھ لیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔ دوسری جانب شکیل کا کہنا ہے کہ انامیکا اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھیں اور اس نے کبھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔
یکم جولائی 2026 کو انامیکا نے ڈھاکہ کے چیف لیگل ایڈ آفس میں درخواست دی۔ عدالت نے دونوں فریقین کو طلب کیا، مگر مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہونے پر پولیس کو بچے کی بازیابی کا حکم دیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے بچے کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا۔
28 جولائی کو سماعت کے بعد عدالت نے بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر بچہ ماں کے حوالے کر دیا، جبکہ مستقل سرپرستی کا مقدمہ اب بھی فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے پہلی بار انامیکا کو دیکھا تو یقین ہی نہیں آیا کہ اتنی کم عمر بچی خود ایک بچے کی ماں بھی ہو سکتی ہے۔
کیا اتنی کم عمر میں شادی اور ماں بننا ایک بچے کے ساتھ ناانصافی نہیں؟
اپنی رائے ضرور دیں، مگر مہذب انداز میں۔۔۔۔۔
2 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
FACTS BY ARFA
"بھائی، آپ میرے بھائی ہو! آپ کو اللہ کا واسطہ، میری ماں اور بہن کو مت مارو!"
یہ الفاظ صرف ایک فریاد نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ایسا سوال ہیں جس کا جواب ہم سب کو دینا ہوگا۔
قصور کے علاقے ایلیٹ ٹاؤن سے سامنے آنے والی ویڈیو نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک لڑکی بار بار اللہ کا واسطہ دیتی رہی، اپنی ماں اور بہن کو نہ مارنے کی التجائیں کرتی رہی، مگر غصے اور ہجوم کی شدت کے سامنے اس کی آواز بے بس دکھائی دی۔
اطلاعات کے مطابق واقعہ ایک پولیس اہلکار کے گھر پر پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے گھر کے شیشے توڑے، گاڑی کو نقصان پہنچایا اور گھر میں موجود خواتین، بچیوں، والدہ اور ان کے بھائی پر تشدد کیا۔ اگر ان اطلاعات میں کوئی پہلو غلط ہے تو اس کی وضاحت اور حقیقت سامنے لانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
اصل معاملہ کیا تھا؟ قصور کس کا تھا؟ یہ سب تفتیش کے بعد ہی واضح ہوگا۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے...
کیا کسی بھی تنازعے کا حل خواتین، بزرگوں اور بچوں پر تشدد ہے؟
اگر کوئی جرم ہوا تھا تو قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، پولیس موجود ہے۔ پھر قانون کو ہاتھ میں لینے، گھر کی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کا اختیار کس نے دیا؟
افسوس صرف تشدد پر نہیں، بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو یہ سب دیکھتے رہے مگر کسی نے آگے بڑھ کر مظلوموں کو بچانے کی کوشش نہ کی۔
اگر واقعی ایک پولیس اہلکار کا گھر بھی اس طرح محفوظ نہیں، تو پھر ایک عام شہری خود کو کیسے محفوظ محسوس کرے؟
ہم کسی فریق کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اتنا مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کی جائیں، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، اور اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، خواتین یا بزرگوں پر تشدد کیا یا املاک کو نقصان پہنچایا تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
قانون کی بالادستی ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے، ہجوم کا انصاف نہیں۔
آپ کی نظر میں، کسی بھی تنازعے میں خواتین اور بزرگوں پر تشدد کا کبھی کوئی جواز ہو سکتا ہے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔
2 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
FACTS BY ARFA
بتاؤ بتاؤ 😳😳
2 weeks ago | [YT] | 0
View 0 replies
FACTS BY ARFA
"برابری" کا سب سے زیادہ شور وہ لوگ مچاتے ہیں جو "ذمہ داری" کا ذکر کم ہی کرتے ہیں...
یہ منظر دیکھیں...
بارش کا پانی، بند موٹر سائیکل، شوہر خود گھٹنوں تک پانی میں چل کر موٹر سائیکل دھکیل رہا ہے، لیکن اپنی بیوی کو پانی میں نہیں اتارتا بلکہ عزت سے اوپر بٹھا کر لے جا رہا ہے۔
یہ صرف محبت نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
اسلام نے مرد کو قوام بنایا ہے، یعنی گھر کی ذمہ داری اور حفاظت اس کے سپرد کی ہے۔ اسی لیے ایک باکردار مسلم شوہر کوشش کرتا ہے کہ مشکل خود برداشت کرے اور اپنی بیوی کو حتیٰ الامکان آسانی دے۔
آج کچھ لوگ کہتے ہیں: "برابر کے حقوق چاہئیں۔"
اگر برابری کا مطلب ہر تکلیف بھی برابر بانٹنا ہے، تو پھر اس منظر میں عورت بھی مرد کے ساتھ پانی میں چل رہی ہوتی۔ لیکن اگر مرد خوشی سے اپنی بیوی کی راحت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، تو یہ کمزوری نہیں بلکہ اس کی محبت، غیرت اور کردار کی علامت ہے۔
اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے جو عزت دی ہے، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ہاں، ہر معاشرے اور ہر فرد کا عمل ایک جیسا نہیں ہوتا، مگر اسلام کی اصل تعلیم احترام، عدل اور حسنِ سلوک ہے۔
بتائیں، کیا آج کے دور میں ذمہ داری اور محبت کو بھی "عدم برابری" سمجھ لیا گیا ہے؟
اپنی رائے ضرور دیں، لیکن مہذب انداز میں۔۔۔۔
2 weeks ago | [YT] | 1
View 0 replies
FACTS BY ARFA
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں، جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی"
3 weeks ago | [YT] | 5
View 0 replies
Load more