موٹروے پولیس اور پنجاب ماحولیاتی تحفظ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مشترکہ آپریشن، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ اور مکمل فٹ اور ماحول دوست اسٹیکرز لگائیں گے موٹروے پولیس نے پنجاب ماحولیاتی تحفظ محکمہ (EPA) کے اشتراک سے دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف خصوصی کارروائی شروع کر دی ہے۔ گاڑیوں کے دھواں اخراج کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ جو گاڑیاں ماحولیاتی معیارات پر پوری اترتی ہیں، ان اومیشن ٹیسٹ کےبعد ماحول دوست اسٹیکرز لگائے جا رہے ہیں۔ مشترکہ مہم کی نگرانی کے لیے موٹروے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید فرید علی نے پنجاب انوارنمنٹ پروٹکیشن کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور صاف ستھرے ماحول کو فروغ کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا۔ ڈی آئی جی سید فرید علی نے کہا کہ یہ مہم عوامی صحت اور بہتر ماحول کے لیے اہم ہے، اور شہریوں کو بھی اپنی گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔ ڈی آئی جی موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ چیکنگ مسلسل جاری رکھی جائے گی تاکہ فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور اپنی گاڑیوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے ضروری مرمت کروائیں۔ #pakistan#environment#police
موٹروے ایم فائیو پر مسافر بس آتشزدگی: ایک المناک واقعہ، احتیاطی تدابیر اور ممکنہ حل واقعہ کی تفصیلات: 29 مئی 2025 کو موٹروے ایم فائیو پر ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا جب کراچی سے ڈیرہ غازی خان جا رہی ایک مسافر بس میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ کا سبب ٹائر میں غیر معمولی رگڑ (friction) بتایا گیا ہے، جو اکثر بریک سسٹم میں خرابی، کم ہوا کا دباؤ، یا اوورلوڈنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بس میں سفر کرنے والے تمام 40 مسافر موقع پر موجود موٹروے پولیس کی پٹرولنگ گاڑیوں نے بروقت مداخلت کر کے محفوظ طریقے سے نکال لیا۔ پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں اور مزید مدد کے لیے متعلقہ ایجنسیوں (فائر بریگیڈ، ایمبولنس) کو اطلاع دی۔
خوش قسمتی اور فوری رد عمل: یہ واقعہ المناک ہو سکتا تھا، لیکن موٹروے پولیس کا فوری رد عمل اور بہادرانہ کارروائی قابل ستائش ہے۔ ان کی چوکسی، تربیت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت نے انسانی جانوں کے بڑے نقصان کو روکا۔ تمام مسافروں کا محفوظ بچ جانا اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ موٹروے پولیس کی مسلسل گشت (patrolling) اور تیاری جان بچانے میں کتنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
احتیاطی تدابیر (سب کے لیے):
مسافروں، ڈرائیوروں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور حکومتی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے:
1. مسافروں کے لیے: ہوشیار رہیں: سفر کے دوران اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ دھویں کی بو، غیر معمولی گرمی، یا شعلوں پر فوری توجہ دیں۔ نکاس کے راستے جان لیں: بس میں داخل ہوتے ہی ایمرجنسی ایکزٹ (خروج) اور ونڈوز کو توڑنے والے ہتھوڑے (ہیمر) کے مقامات نوٹ کریں۔ ہنگامی صورتحال کی مشق:ذہن میں ہنگامی صورت حال میں نکلنے کا منصوبہ بنائیں۔ پرسکون رہیں، چیخیں نہیں، اور ہدایات پر عمل کریں۔ فوری اطلاع: کوئی غیر معمولی صورتحال (جیسے ٹائر سے دھواں، جلنے کی بو) دیکھیں تو فوراً ڈرائیور یا کنڈکٹر کو آگاہ کریں۔
2. ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے لیے: سفر سے پہلے جانچ (Pre-Trip Inspection): ہر سفر سے پہلے گاڑی کی مکمل جانچ لازمی کریں۔ خاص طور پر: ٹائر: ہوا کا دباؤ، ٹریڈ کی گہرائی، کوئی کٹ یا پھولا ہوا حصہ؟ اوورلوڈنگ سے گریز کریں۔ بریکس: بریکس کی کارکردگی اور وائرنگ کی حالت یقینی بنائیں۔ انجن اور الیکٹریکل سسٹم: تاروں میں کوئی بے قاعدگی، لیکیج، یا خرابی نہ ہو۔ ایندھن کے نظام:کوئی لیکیج نہ ہو۔ آگ بجھانے کے آلات (Fire Extinguishers): بس میں آسانی سے قابل رسائی جگہ پر کم از کم دو درست اور چارجڈ آگ بجھانے کے آلات (ABC ٹائپ) لازمی رکھیں۔ خود انہیں استعمال کرنا سیکھیں۔ ہنگامی تربیت:مسافروں کو ہنگامی صورت حال میں پرسکون رکھنا اور محفوظ طریقے سے بس سے نکالنے کی تربیت حاصل کریں۔ باقاعدہ وقفے:طویل سفر میں باقاعدہ وقفے لیں تاکہ گاڑی کے پرزے (خاص طور پر ٹائر اور بریکس) ٹھنڈے ہو سکیں۔ رفتار پر کنٹرول: ضرورت سے زیادہ رفتار ٹائر اور بریکس پر دباؤ بڑھاتی ہے۔
3. ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے: باقاعدہ دیکھ بھال (Scheduled Maintenance):بسوں کی باقاعدہ، معیاری اور ریکارڈ شدہ بحالی یقینی بنائیں۔ صرف کاغذی کارروائی نہ ہو۔ معیاری پرزے:معیاری اور اصل ٹائر، بریک پیڈز، اور دیگر پرزے استعمال کریں۔ ناقص معیار کے پرزے استعمال نہ کریں۔ ڈرائیور تربیت:ڈرائیورز کو گاڑی کی بحالی، ہنگامی صورتحال میں ڈرائیونگ، آگ بجھانے کے آلات کے استعمال، اور مسافر بچاؤ کی باقاعدہ تربیت دیں۔ ہنگامی آلات کا جائزہ: آگ بجھانے کے آلات اور دیگر ہنگامی سامان (ہیمرز، فرسٹ ایڈ کٹس) کا باقاعدہ جائزہ لیں اور انہیں فوری طور پر تبدیل/ری چارج کروائیں۔ اوورلوڈنگ پر سختی:مسافروں یا سامان کی گنجائش سے زیادہ بھرنے کی سختی سے ممانعت کریں۔
4. حکومتی/ریگولیٹری اداروں کے لیے (موٹروے پولیس، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ): سخت فٹنس معیارات: مسافر بسوں کی فٹنس (خصوصاً بریکس، ٹائرز، الیکٹریکل سسٹم، آگ بجھانے کے آلات) کے لیے سخت ترین معیارات لاگو کریں اور ان کی سختی سے نگرانی کریں۔ ناقص گاڑیوں کو فوری طور پر روک دیں۔ جدید چیک پوسٹس: موٹروے پر جدید سینسرز والی چیک پوسٹس لگائیں جو اوور ہیٹنگ ٹائرز یا بریکس کا پتہ لگا سکیں۔ ڈرائیور لائسنسنگ:ڈرائیوروں کی ہنگامی صورت حال میں کارکردگی اور گاڑی کی بحالی سے متعلق تربیت کو لائسنس جاری کرنے/تجدید کا لازمی حصہ بنائیں۔ ٹائر اور بریکس کے معیارات:ناقص معیار کے ٹائرز اور بریک پرزے مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ہنگامی ردعمل کی مشقیں: موٹروے پولیس، فائر بریگیڈ، اور ایمبولنس سروسز کے درمیان مشترکہ ہنگامی ردعمل کی مشقیں منعقد کروائیں تاکہ تعاون بہتر ہو سکے۔ عوامی آگاہی مہم: مسافروں کو بس سفر کے دوران حفاظتی اقدامات (نکاس کے راستے، ہنگامی ہتھیاروں کا استعمال) سے آگاہ کرنے کے لیے مہم چلائیں۔ مجوزہ حل: ٹیکنالوجی کا استعمال:بسوں میں آٹومیٹک ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم (TPMS) اور بریک ہیٹ سینسرز لگانا لازمی قرار دیا جائے جو ڈرائیور کو خطرے کی فوری وارننگ دے سکیں۔ فٹنس سرٹیفیکیشن میں شفافیت: گاڑیوں کی فٹنس جانچ کا عمل شفاف اور قابل اعتماد بنایا جائے، جس میں جدید آلات اور تربیت یافتہ عملہ شامل ہو۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ذمہ داری:ایسے واقعات میں ملوث پائی جانے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے اور لائسنس منسوخی کا خدشہ ہونا چاہیے تاکہ وہ حفاظتی معیارات پر سمجھوتہ نہ کریں۔ فوری ہنگامی رابطہ: موٹروے پولیس (130) اور فائر بریگیڈ (16) کے ہنگامی نمبرز بسوں میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔ پانی کے سپرے سسٹمز پر تحقیق: گرمی کے شدید موسم یا طویل ڈھلوانوں پر بریکس کو ٹھنڈا رکھنے والے پانی کے سپرے سسٹمز (Auxiliary Brake Cooling Systems) پر غور کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ان کی لاگت اور افادیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ موٹروے ایم فائیو پر مسافر بس کا آگ پکڑنا ایک خوفناک تجربہ تھا جس سے تمام 40 مسافروں کا بچ جانا صرف موٹروے پولیس کی چوکسی اور بہادری کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ واقعہ ہمیں مسلسل یاد دلاتا رہے گا کہ سڑکوں پر حفاظت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد، باقاعدہ اور معیاری بحالی، ڈرائیورز کی بہتر تربیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی ایسے المناک حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔ مسافروں کی جانوں کا تحفظ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کی شاہراہیں محفوظ سفر کی ضمانت بن سکیں۔ #Pakistan#roadsafety#roadtrip#police#punjab#rescue
فصلوں کے باقیات کو جلانا: موٹروے کی حفاظت اور ماحولیات کے لیے خاموش خطرہ فصل کٹائی کے بعد باقی بچے پودوں کو آگ لگانے کا عمل، موٹروے کے قریب زرعی علاقوں میں عام ہے۔ یہ عمل کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے اپنایا جاتا ہے، لیکن اس کے سنگین نتائج ہیں: حادثات کا باعث بننے والی کم نظری، خطرناک دھواں، ماحولیاتی تباہی، اور درجہ حرارت میں اضاف کا سبب ہے۔ موٹروے پر دیکھنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے، جس سے جان لیوا حادثات ہوتے ہیں۔ پنجاب، پاکستان میں، یہ واقعات اپریل مئی میں گندم کی فصل یا اکتوبر-نومبر میں چاول کی باقیات جلانے کے دوران بڑھ جاتے ہیں۔ موٹرویز پر کئی حادثات گھنے دھوئیں کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔ فصلوں کے باقیات جلانے سےPM2.5، کاربن مونو آکسائیڈ، اور میتھین جیسے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں، جو دھند کو بڑھاتے ہیں۔ لاہور جیسے شہروں میں ہوا کا معیار خطرناک حد تک خراب ہو جاتا ہے، جس سے سانس کی بیماریاں اور الرجی بڑھ جاتی ہیں۔باقیات جلانے سےمٹی کے غذائی اجزاء اور مفید جرثومے تباہ ہوتے ہیں، جو زرخیزی کو کم کرتے ہیں۔ یہ عمل گرین ہاؤس گیسوں کو خارج کر کے موسمیاتی تبدیلی اور مقامی درجہ حرارت میں اضافہ کرتا ہے۔ متبادل طریقے سے فصلوں ہیپی سیڈر جیسے آلات سے باقیات کو مٹی میں ملا کر قدرتی کھاد بنائیں۔ ماحول دوست آلات کو سبسڈی دیں اور جلانے کے خلاف قوانین نافذ کریں۔ آگاہی پیدا کرنا کسانوں کو پائیدار طریقوں کے فوائد سے روشناس کرائیں۔ فصلوں کے باقیات جلانا ایک پیچیدہ اور سیریس مسئلہ ہے جس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ پائیدار کاشتکاری اور مضبوط پالیسیوں سے ہم موٹروے کی حفاظت، صحت، اور ماحول کو بچا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں موٹروے پولیس کو کمیونٹی پولیسنگ کی کوششوں کو سراہنے کی ضرورت ہے ۔۔مقامی لیڈر شپ لمبردار نظام اور مساجد کے ذریعے عوام میں آگہائی دینے کی ضرورت ہے بلاگ معلوماتی ہے اور عملی طور پر کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آگاہی پھیلانے کے لیے شیئر کریں تحریر سید عمران احمد #islamic#Pakistan#punjab#lahore
موٹروے پولیس نے تیز رفتاری پر ایف آئی آر کا اندراج کا سلسلہ جاری ہے موٹروے پولیس نے تیز رفتاری پر ایف آئی آر کا اندراج شروع کر دیا۔ پہلا مقدمہ ملتان کے قریب ایم فور پر پشاور کے شہری کے خلاف درج کیا گیا تھا
موٹروے پر متعین کردہ حد رفتار 120 ہے لیکن جو گاڑی 150 کلومیٹر سے زائد رفتار پر ہوگئی اس کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جارہا ہے موٹروے پولیس کی سپیڈ چیکنگ گن عام طور پر لیزر (LIDAR) ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔ یہ کیسے کام کرتی ہے اور اس سے متعلق اہم نکات درج ذیل ہیں: . لیزر (LIDAR) ٹیکنالوجی:** -بنیادی اصول لیزر گن مختصر وقت میں متعدد لیزر پلس بھیجتی ہے اور ہر پلس کے واپس آنے کا وقت ناپتی ہے۔ فاصلے اور وقت کے فرق سے رفتار کا تعین ہوتا ہے۔ -درستگی:لیزر زیادہ مخصوص ہوتی ہے اور **±1 km/h** تک درست نتائج دیتی ہے، لیکن اسے استعمال کرنے کے لیے پولیس افسر کا گاڑی کو سیدھ میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اہم عوامل جو درستگی پر اثر انداز ہوتے ہیں:** - **گاڑی کا سائز/رنگ:** لیزر روشنی کو جذب کرنے والے رنگ (جیسے سیاہ) یا بڑے سائز کی گاڑیاں کبھی کبھار پیمائش کو متاثر کر سکتی ہیں۔ -موسم: بارش، دھند، یا دھول لیزر کی کارکردگی کو کم کر سکتی ہیں، جبکہ ریڈار نسبتاً کم متاثر ہوتی ہے۔ -پولیس کا تربیت یافتہ ہونا: غلط ہولڈنگ یا ٹارگٹنگ سے نتیجے میں غلطی ہو سکتی ہے۔
قانونی پہلو: قانونی حیثیت:** سپیڈ گن کا استعمال اکثر ممالک میں قانونی ہے، بشرطیکہ پولیس تربیت یافتہ ہو اور آلہ معیاری کیلبریشن سے گزرا ہو۔ - **اعتراض کی صورت میں:** ڈرائیور عدالت میں گن کی کیلبریشن رپورٹ یا آپریٹر کی تربیت پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ تجویز کردہ اقدامات: - اگر آپ کو لگے کہ آپ کی گاڑی کی رفتار غلط پکڑی گئی ہے، تو: 1. پولیس افسر سے گن کی کیلبریشن اور تربیت کے بارے میں پوچھیں۔ 2. عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے وکیل سے مشورہ کریں۔ نوٹ: سپیڈ گنز عام طور پر قابل اعتماد ہوتی ہیں، لیکن ان کی درستگی کا انحصار ٹیکنالوجی، استعمال کے طریقے، اور ماحول پر ہوتا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہمیشہ بہتر ہے! 🚗💨 #viralvideo#automobile#pakistan#viralshort#automobile#pakistan#viralshort
موٹر وے پولیس نے زیادہ تیز رفتار ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیا ہے، اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اور گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ دیرپا اور مؤثر نہیں ہو گا۔لیکن پاکستان میں اگر گرفتاری اور ایف آئی آر کا سلسلہ جاری رہے گا تو قوانین کی پابندی کرنے کا احساس بڑھے گا اور حادثات میں بھی لازمی کمی آئے گئی۔ موٹر وے پولیس نے اوور اسپیڈنگ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا شروع کر دی ہیں، خاص طور پر ان ڈرائیورز کے خلاف جو اپنی گاڑیاں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر چلا رہے ہوں۔ پاکستان میں موٹرویز اور ہائی ویز پر مقررہ حد سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے حوالے سے مؤثر روک تھام پیدا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ موٹر وے پولیس کے ترجمان سید عمران احمد کے مطابق، ''ن انسپکٹر جنرل موٹر وے پولیس، رفعت مختار نے ہدایت دی ہے کہ جو کوئی بھی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گاڑی چلاتا پایا جائے، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اسے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔موٹرویز کے ترجمان موٹروےپولیس سید عمران احمد کے بقول موٹر وے پولیس خود براہ راست کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرتی بلکہ وہ ایک درخواست دہندہ کے طور پر کام کرتی ہے اور متعلقہ ضلعی تھانے میں درخواست جمع کراتی ہے، ساتھ ہی شواہد اور ملزم ڈرائیور کو پولیس کے حوالے کرتی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پولیس پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے تحت مقدمہ درج کرتی ہے، جو کسی بھی ایسی ڈرائیونگ کو جرم قرار دیتی ہے جو غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے انسانی جان کو خطرے میں ڈالے یا کسی کو زخمی کرے: ''پولیس یہ مقدمہ درج کرنے کے بعد عدالت میں اس کی پیروی کرے گی اور عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ گرفتار شخص کو مجرم یا معصوم قرار دے اور مجرم پائے جانے کی صورت میں کیا سزا دے۔‘‘
موٹر وے پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ بڑی اور قیمتی گاڑیاں رکھنے والے ڈرائیورز بھاری جرمانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے، اس لیے مؤثر روک تھام کے لیے مزید سخت قدم اٹھانا ضروری تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ جمعرات تک مختلف موٹر وے ریجنز میں تیز رفتاری کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف تقریباً چھ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ #Pakistan
Rujhan Media
موٹروے پولیس اور پنجاب ماحولیاتی تحفظ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مشترکہ آپریشن، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ اور مکمل فٹ اور ماحول دوست اسٹیکرز لگائیں گے
موٹروے پولیس نے پنجاب ماحولیاتی تحفظ محکمہ (EPA) کے اشتراک سے دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف خصوصی کارروائی شروع کر دی ہے۔ گاڑیوں کے دھواں اخراج کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ جو گاڑیاں ماحولیاتی معیارات پر پوری اترتی ہیں، ان اومیشن ٹیسٹ کےبعد ماحول دوست اسٹیکرز لگائے جا رہے ہیں۔
مشترکہ مہم کی نگرانی کے لیے موٹروے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید فرید علی نے پنجاب انوارنمنٹ پروٹکیشن کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور صاف ستھرے ماحول کو فروغ کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا۔
ڈی آئی جی سید فرید علی نے کہا کہ یہ مہم عوامی صحت اور بہتر ماحول کے لیے اہم ہے، اور شہریوں کو بھی اپنی گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔
ڈی آئی جی موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ چیکنگ مسلسل جاری رکھی جائے گی تاکہ فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور اپنی گاڑیوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے ضروری مرمت کروائیں۔
#pakistan #environment #police
6 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Rujhan Media
موٹروے ایم فائیو پر مسافر بس آتشزدگی: ایک المناک واقعہ، احتیاطی تدابیر اور ممکنہ حل
واقعہ کی تفصیلات:
29 مئی 2025 کو موٹروے ایم فائیو پر ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا جب کراچی سے ڈیرہ غازی خان جا رہی ایک مسافر بس میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ کا سبب ٹائر میں غیر معمولی رگڑ (friction) بتایا گیا ہے، جو اکثر بریک سسٹم میں خرابی، کم ہوا کا دباؤ، یا اوورلوڈنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بس میں سفر کرنے والے تمام 40 مسافر موقع پر موجود موٹروے پولیس کی پٹرولنگ گاڑیوں نے بروقت مداخلت کر کے محفوظ طریقے سے نکال لیا۔ پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوششیں شروع کیں اور مزید مدد کے لیے متعلقہ ایجنسیوں (فائر بریگیڈ، ایمبولنس) کو اطلاع دی۔
خوش قسمتی اور فوری رد عمل:
یہ واقعہ المناک ہو سکتا تھا، لیکن موٹروے پولیس کا فوری رد عمل اور بہادرانہ کارروائی قابل ستائش ہے۔ ان کی چوکسی، تربیت اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت نے انسانی جانوں کے بڑے نقصان کو روکا۔ تمام مسافروں کا محفوظ بچ جانا اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ موٹروے پولیس کی مسلسل گشت (patrolling) اور تیاری جان بچانے میں کتنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
احتیاطی تدابیر (سب کے لیے):
مسافروں، ڈرائیوروں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور حکومتی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے:
1. مسافروں کے لیے:
ہوشیار رہیں: سفر کے دوران اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ دھویں کی بو، غیر معمولی گرمی، یا شعلوں پر فوری توجہ دیں۔
نکاس کے راستے جان لیں: بس میں داخل ہوتے ہی ایمرجنسی ایکزٹ (خروج) اور ونڈوز کو توڑنے والے ہتھوڑے (ہیمر) کے مقامات نوٹ کریں۔
ہنگامی صورتحال کی مشق:ذہن میں ہنگامی صورت حال میں نکلنے کا منصوبہ بنائیں۔ پرسکون رہیں، چیخیں نہیں، اور ہدایات پر عمل کریں۔
فوری اطلاع: کوئی غیر معمولی صورتحال (جیسے ٹائر سے دھواں، جلنے کی بو) دیکھیں تو فوراً ڈرائیور یا کنڈکٹر کو آگاہ کریں۔
2. ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے لیے:
سفر سے پہلے جانچ (Pre-Trip Inspection): ہر سفر سے پہلے گاڑی کی مکمل جانچ لازمی کریں۔ خاص طور پر:
ٹائر: ہوا کا دباؤ، ٹریڈ کی گہرائی، کوئی کٹ یا پھولا ہوا حصہ؟ اوورلوڈنگ سے گریز کریں۔
بریکس: بریکس کی کارکردگی اور وائرنگ کی حالت یقینی بنائیں۔
انجن اور الیکٹریکل سسٹم: تاروں میں کوئی بے قاعدگی، لیکیج، یا خرابی نہ ہو۔
ایندھن کے نظام:کوئی لیکیج نہ ہو۔
آگ بجھانے کے آلات (Fire Extinguishers): بس میں آسانی سے قابل رسائی جگہ پر کم از کم دو درست اور چارجڈ آگ بجھانے کے آلات (ABC ٹائپ) لازمی رکھیں۔ خود انہیں استعمال کرنا سیکھیں۔
ہنگامی تربیت:مسافروں کو ہنگامی صورت حال میں پرسکون رکھنا اور محفوظ طریقے سے بس سے نکالنے کی تربیت حاصل کریں۔
باقاعدہ وقفے:طویل سفر میں باقاعدہ وقفے لیں تاکہ گاڑی کے پرزے (خاص طور پر ٹائر اور بریکس) ٹھنڈے ہو سکیں۔
رفتار پر کنٹرول: ضرورت سے زیادہ رفتار ٹائر اور بریکس پر دباؤ بڑھاتی ہے۔
3. ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے:
باقاعدہ دیکھ بھال (Scheduled Maintenance):بسوں کی باقاعدہ، معیاری اور ریکارڈ شدہ بحالی یقینی بنائیں۔ صرف کاغذی کارروائی نہ ہو۔
معیاری پرزے:معیاری اور اصل ٹائر، بریک پیڈز، اور دیگر پرزے استعمال کریں۔ ناقص معیار کے پرزے استعمال نہ کریں۔
ڈرائیور تربیت:ڈرائیورز کو گاڑی کی بحالی، ہنگامی صورتحال میں ڈرائیونگ، آگ بجھانے کے آلات کے استعمال، اور مسافر بچاؤ کی باقاعدہ تربیت دیں۔
ہنگامی آلات کا جائزہ: آگ بجھانے کے آلات اور دیگر ہنگامی سامان (ہیمرز، فرسٹ ایڈ کٹس) کا باقاعدہ جائزہ لیں اور انہیں فوری طور پر تبدیل/ری چارج کروائیں۔
اوورلوڈنگ پر سختی:مسافروں یا سامان کی گنجائش سے زیادہ بھرنے کی سختی سے ممانعت کریں۔
4. حکومتی/ریگولیٹری اداروں کے لیے (موٹروے پولیس، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ):
سخت فٹنس معیارات: مسافر بسوں کی فٹنس (خصوصاً بریکس، ٹائرز، الیکٹریکل سسٹم، آگ بجھانے کے آلات) کے لیے سخت ترین معیارات لاگو کریں اور ان کی سختی سے نگرانی کریں۔ ناقص گاڑیوں کو فوری طور پر روک دیں۔
جدید چیک پوسٹس: موٹروے پر جدید سینسرز والی چیک پوسٹس لگائیں جو اوور ہیٹنگ ٹائرز یا بریکس کا پتہ لگا سکیں۔
ڈرائیور لائسنسنگ:ڈرائیوروں کی ہنگامی صورت حال میں کارکردگی اور گاڑی کی بحالی سے متعلق تربیت کو لائسنس جاری کرنے/تجدید کا لازمی حصہ بنائیں۔
ٹائر اور بریکس کے معیارات:ناقص معیار کے ٹائرز اور بریک پرزے مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
ہنگامی ردعمل کی مشقیں: موٹروے پولیس، فائر بریگیڈ، اور ایمبولنس سروسز کے درمیان مشترکہ ہنگامی ردعمل کی مشقیں منعقد کروائیں تاکہ تعاون بہتر ہو سکے۔
عوامی آگاہی مہم: مسافروں کو بس سفر کے دوران حفاظتی اقدامات (نکاس کے راستے، ہنگامی ہتھیاروں کا استعمال) سے آگاہ کرنے کے لیے مہم چلائیں۔
مجوزہ حل:
ٹیکنالوجی کا استعمال:بسوں میں آٹومیٹک ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم (TPMS) اور بریک ہیٹ سینسرز لگانا لازمی قرار دیا جائے جو ڈرائیور کو خطرے کی فوری وارننگ دے سکیں۔
فٹنس سرٹیفیکیشن میں شفافیت: گاڑیوں کی فٹنس جانچ کا عمل شفاف اور قابل اعتماد بنایا جائے، جس میں جدید آلات اور تربیت یافتہ عملہ شامل ہو۔
ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ذمہ داری:ایسے واقعات میں ملوث پائی جانے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے اور لائسنس منسوخی کا خدشہ ہونا چاہیے تاکہ وہ حفاظتی معیارات پر سمجھوتہ نہ کریں۔
فوری ہنگامی رابطہ: موٹروے پولیس (130) اور فائر بریگیڈ (16) کے ہنگامی نمبرز بسوں میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔
پانی کے سپرے سسٹمز پر تحقیق: گرمی کے شدید موسم یا طویل ڈھلوانوں پر بریکس کو ٹھنڈا رکھنے والے پانی کے سپرے سسٹمز (Auxiliary Brake Cooling Systems) پر غور کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ان کی لاگت اور افادیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
موٹروے ایم فائیو پر مسافر بس کا آگ پکڑنا ایک خوفناک تجربہ تھا جس سے تمام 40 مسافروں کا بچ جانا صرف موٹروے پولیس کی چوکسی اور بہادری کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ واقعہ ہمیں مسلسل یاد دلاتا رہے گا کہ سڑکوں پر حفاظت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد، باقاعدہ اور معیاری بحالی، ڈرائیورز کی بہتر تربیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی ایسے المناک حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔ مسافروں کی جانوں کا تحفظ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کی شاہراہیں محفوظ سفر کی ضمانت بن سکیں۔
#Pakistan #roadsafety #roadtrip #police #punjab #rescue
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
فصلوں کے باقیات کو جلانا: موٹروے کی حفاظت اور ماحولیات کے لیے خاموش خطرہ
فصل کٹائی کے بعد باقی بچے پودوں کو آگ لگانے کا عمل، موٹروے کے قریب زرعی علاقوں میں عام ہے۔ یہ عمل کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے اپنایا جاتا ہے، لیکن اس کے سنگین نتائج ہیں: حادثات کا باعث بننے والی کم نظری، خطرناک دھواں، ماحولیاتی تباہی، اور درجہ حرارت میں اضاف کا سبب ہے۔
موٹروے پر دیکھنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے، جس سے جان لیوا حادثات ہوتے ہیں۔ پنجاب، پاکستان میں، یہ واقعات اپریل مئی میں گندم کی فصل یا اکتوبر-نومبر میں چاول کی باقیات جلانے کے دوران بڑھ جاتے ہیں۔ موٹرویز پر کئی حادثات گھنے دھوئیں کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔
فصلوں کے باقیات جلانے سےPM2.5، کاربن مونو آکسائیڈ، اور میتھین جیسے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں، جو دھند کو بڑھاتے ہیں۔ لاہور جیسے شہروں میں ہوا کا معیار خطرناک حد تک خراب ہو جاتا ہے، جس سے سانس کی بیماریاں اور الرجی بڑھ جاتی ہیں۔باقیات جلانے سےمٹی کے غذائی اجزاء اور مفید جرثومے تباہ ہوتے ہیں، جو زرخیزی کو کم کرتے ہیں۔ یہ عمل گرین ہاؤس گیسوں کو خارج کر کے موسمیاتی تبدیلی اور مقامی درجہ حرارت میں اضافہ کرتا ہے۔
متبادل طریقے سے فصلوں ہیپی سیڈر جیسے آلات سے باقیات کو مٹی میں ملا کر قدرتی کھاد بنائیں۔ ماحول دوست آلات کو سبسڈی دیں اور جلانے کے خلاف قوانین نافذ کریں۔ آگاہی پیدا کرنا کسانوں کو پائیدار طریقوں کے فوائد سے روشناس کرائیں۔
فصلوں کے باقیات جلانا ایک پیچیدہ اور سیریس مسئلہ ہے جس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ پائیدار کاشتکاری اور مضبوط پالیسیوں سے ہم موٹروے کی حفاظت، صحت، اور ماحول کو بچا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں موٹروے پولیس کو کمیونٹی پولیسنگ کی کوششوں کو سراہنے کی ضرورت ہے ۔۔مقامی لیڈر شپ لمبردار نظام اور مساجد کے ذریعے عوام میں آگہائی دینے کی ضرورت ہے
بلاگ معلوماتی ہے اور عملی طور پر کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آگاہی پھیلانے کے لیے شیئر کریں
تحریر سید عمران احمد
#islamic #Pakistan #punjab#lahore
7 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
موٹروے پولیس کی سپیڈ چیکنگ گن کس طرح کام کر تی ہے
موٹروے پولیس نے تیز رفتاری پر ایف آئی آر کا اندراج کا سلسلہ جاری ہے
موٹروے پولیس نے تیز رفتاری پر ایف آئی آر کا اندراج شروع کر دیا۔ پہلا مقدمہ ملتان کے قریب ایم فور پر پشاور کے شہری کے خلاف درج کیا گیا تھا
موٹروے پر متعین کردہ حد رفتار 120 ہے لیکن جو گاڑی 150 کلومیٹر سے زائد رفتار پر ہوگئی اس کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جارہا ہے
موٹروے پولیس کی سپیڈ چیکنگ گن عام طور پر لیزر (LIDAR) ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔ یہ کیسے کام کرتی ہے اور اس سے متعلق اہم نکات درج ذیل ہیں:
. لیزر (LIDAR) ٹیکنالوجی:**
-بنیادی اصول
لیزر گن مختصر وقت میں متعدد لیزر پلس بھیجتی ہے اور ہر پلس کے واپس آنے کا وقت ناپتی ہے۔ فاصلے اور وقت کے فرق سے رفتار کا تعین ہوتا ہے۔
-درستگی:لیزر زیادہ مخصوص ہوتی ہے اور **±1 km/h** تک درست نتائج دیتی ہے، لیکن اسے استعمال کرنے کے لیے پولیس افسر کا گاڑی کو سیدھ میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اہم عوامل جو درستگی پر اثر انداز ہوتے ہیں:**
- **گاڑی کا سائز/رنگ:** لیزر روشنی کو جذب کرنے والے رنگ (جیسے سیاہ) یا بڑے سائز کی گاڑیاں کبھی کبھار پیمائش کو متاثر کر سکتی ہیں۔
-موسم: بارش، دھند، یا دھول لیزر کی کارکردگی کو کم کر سکتی ہیں، جبکہ ریڈار نسبتاً کم متاثر ہوتی ہے۔
-پولیس کا تربیت یافتہ ہونا: غلط ہولڈنگ یا ٹارگٹنگ سے نتیجے میں غلطی ہو سکتی ہے۔
قانونی پہلو:
قانونی حیثیت:** سپیڈ گن کا استعمال اکثر ممالک میں قانونی ہے، بشرطیکہ پولیس تربیت یافتہ ہو اور آلہ معیاری کیلبریشن سے گزرا ہو۔
- **اعتراض کی صورت میں:** ڈرائیور عدالت میں گن کی کیلبریشن رپورٹ یا آپریٹر کی تربیت پر سوال اٹھا سکتا ہے۔
تجویز کردہ اقدامات:
- اگر آپ کو لگے کہ آپ کی گاڑی کی رفتار غلط پکڑی گئی ہے، تو:
1. پولیس افسر سے گن کی کیلبریشن اور تربیت کے بارے میں پوچھیں۔
2. عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے وکیل سے مشورہ کریں۔
نوٹ:
سپیڈ گنز عام طور پر قابل اعتماد ہوتی ہیں، لیکن ان کی درستگی کا انحصار ٹیکنالوجی، استعمال کے طریقے، اور ماحول پر ہوتا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہمیشہ بہتر ہے! 🚗💨
#viralvideo #automobile #pakistan #viralshort #automobile #pakistan #viralshort
9 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
موٹر وے پولیس نے زیادہ تیز رفتار ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیا ہے، اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اور گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ دیرپا اور مؤثر نہیں ہو گا۔لیکن پاکستان میں اگر گرفتاری اور ایف آئی آر کا سلسلہ جاری رہے گا تو قوانین کی پابندی کرنے کا احساس بڑھے گا اور حادثات میں بھی لازمی کمی آئے گئی۔
موٹر وے پولیس نے اوور اسپیڈنگ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا شروع کر دی ہیں، خاص طور پر ان ڈرائیورز کے خلاف جو اپنی گاڑیاں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر چلا رہے ہوں۔ پاکستان میں موٹرویز اور ہائی ویز پر مقررہ حد سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کے حوالے سے مؤثر روک تھام پیدا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
موٹر وے پولیس کے ترجمان سید عمران احمد کے مطابق، ''ن انسپکٹر جنرل موٹر وے پولیس، رفعت مختار نے ہدایت دی ہے کہ جو کوئی بھی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گاڑی چلاتا پایا جائے، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اسے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔موٹرویز کے ترجمان موٹروےپولیس سید عمران احمد کے بقول موٹر وے پولیس خود براہ راست کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرتی بلکہ وہ ایک درخواست دہندہ کے طور پر کام کرتی ہے اور متعلقہ ضلعی تھانے میں درخواست جمع کراتی ہے، ساتھ ہی شواہد اور ملزم ڈرائیور کو پولیس کے حوالے کرتی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پولیس پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے تحت مقدمہ درج کرتی ہے، جو کسی بھی ایسی ڈرائیونگ کو جرم قرار دیتی ہے جو غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے انسانی جان کو خطرے میں ڈالے یا کسی کو زخمی کرے: ''پولیس یہ مقدمہ درج کرنے کے بعد عدالت میں اس کی پیروی کرے گی اور عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ گرفتار شخص کو مجرم یا معصوم قرار دے اور مجرم پائے جانے کی صورت میں کیا سزا دے۔‘‘
موٹر وے پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ بڑی اور قیمتی گاڑیاں رکھنے والے ڈرائیورز بھاری جرمانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے، اس لیے مؤثر روک تھام کے لیے مزید سخت قدم اٹھانا ضروری تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ جمعرات تک مختلف موٹر وے ریجنز میں تیز رفتاری کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف تقریباً چھ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔
#Pakistan
9 months ago (edited) | [YT] | 3
View 0 replies
Rujhan Media
Fakhar Zaman 11 Sixes Pak v Newzland
2 years ago (edited) | [YT] | 1
View 0 replies
Rujhan Media
Funny
4 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
Desi Barber Shop
4 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
Plz subscribe
4 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Rujhan Media
K2
4 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more