قرآن اور حدیث کی روشنی میں مجھے اپنی اور پوری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے


Digital AI islam

جزاک اللہ خیراً بھائی محمد عقیل 🙌
یہ رہا آپ کے لیے ایک ایک منٹ کا پاورفل وائس اوور اسکرپٹ — صاف، مدلل اور مؤثر انداز میں 👇
🎙️ وائس اوور اسکرپٹ (1 منٹ)
کیا آپ جانتے ہیں فجر کی دو رکعت سنت کتنی قیمتی ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
(Sahih Muslim)
یہ دو رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں — یعنی نبی ﷺ ان کا ہمیشہ اہتمام فرماتے تھے، حتیٰ کہ سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
طریقہ کیا ہے؟
فجر کی دو سنتیں فرض سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔
اگر مسجد پہنچیں اور جماعت شروع نہ ہوئی ہو تو پہلے سنت پڑھیں، پھر جماعت میں شامل ہوں۔
لیکن اگر اقامت ہو جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا:
“جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔”
(Sahih Muslim)
ایسی صورت میں فوراً جماعت میں شامل ہو جائیں۔
اگر سنت رہ جائیں تو کیا کریں؟
حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ نے فرض کے بعد رہ جانے والی سنت ادا کی، اور آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(Sunan Abu Dawood)
علماء فرماتے ہیں:
بہتر یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد ادا کی جائیں، کیونکہ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک نفل نماز سے منع کیا گیا ہے۔
خلاصہ یاد رکھیں:
فجر کی سنت مؤکدہ ہے،
فرض سے پہلے پڑھنی ہے،
رہ جائے تو بعد میں ادا کی جا سکتی ہے۔
اللہ ہمیں فجر کی سنتوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی کا ریِلز/شارٹس والا اور بھی زیادہ اثر انگیز ورژن بھی بنا دوں جس میں ہُک اور کال ٹو ایکشن بھی شامل ہو۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

آپ نے بہت اہم فقہی فرق پکڑا ہے ماشاءاللہ 👌
اصل کنفیوژن “قضا کی قسم” کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
آئیے ترتیب سے سمجھتے ہیں:
① کیا سنت کی بھی قضا ہوتی ہے؟
عام طور پر اصول یہ ہے:
🔹 اگر کوئی فرض نماز قضا ہو جائے تو صرف فرض کی قضا ہوتی ہے۔
🔹 سنتوں کی قضا لازم نہیں ہوتی۔
مثلاً اگر فجر کی نماز مکمل ہی رہ گئی (سنت + فرض دونوں)،
اور آپ ظہر کے وقت یاد کریں —
تو صرف دو فرض قضا کریں گے، سنت نہیں۔
یہ صحیح ہے۔
② پھر فجر کی سنت کا معاملہ مختلف کیوں ہے؟
کیونکہ فجر کی دو سنتوں کی خاص فضیلت اور تاکید آئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
(Sahih Muslim)
اور آپ ﷺ ان کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔
اسی لیے علماء نے کہا:
✔ فجر کی سنت اگر جماعت کی وجہ سے رہ جائے
تو اسے بعد میں پڑھنا مشروع (ثابت) ہے۔
③ کیا یہ فرض کی قضا بن جاتی ہے؟
❌ نہیں۔
جب سورج نکلنے کے بعد آپ دو رکعت پڑھتے ہیں تو:
وہ فرض کی قضا نہیں ہوتی
وہ سنت کی قضا ہوتی ہے
فرض تو آپ پہلے ہی ادا کر چکے ہوتے ہیں
یہ ایک الگ نیت ہے۔
نیت ہوگی:
“میں فجر کی رہ جانے والی سنت ادا کر رہا ہوں”
④ دلیل کیا ہے؟
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ نے
فجر کی فرض کے بعد دو رکعت ادا کیں۔
نبی ﷺ نے پوچھا:
یہ کون سی نماز ہے؟
انہوں نے عرض کیا:
میں فجر کی سنت نہیں پڑھ سکا تھا۔
آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(Sunan Abu Dawood)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
فجر کی سنت کی قضا ہو سکتی ہے۔
⑤ اہم فرق سمجھ لیں
دو حالتیں ہیں:
🔹 حالت نمبر 1
سنت رہ گئی، فرض ادا ہو گیا
➡ سنت بعد میں پڑھ سکتے ہیں
🔹 حالت نمبر 2
سنت اور فرض دونوں رہ گئے
➡ صرف فرض کی قضا ہوگی
➡ سنت کی قضا نہیں ہوگی (عام طور پر)
البتہ بعض فقہاء کہتے ہیں اگر اسی دن زوال سے پہلے یاد آئے تو سنت بھی پڑھ لی جائے — لیکن یہ اختلافی مسئلہ ہے۔
⑥ خلاصہ انتہائی واضح الفاظ میں
✅ سنتِ فجر عام سنتوں جیسی نہیں، زیادہ مؤکد ہے
✅ اگر جماعت کی وجہ سے رہ جائے تو بعد میں پڑھنا ثابت ہے
✅ یہ فرض کی قضا نہیں بنتی
✅ اگر مکمل فجر ہی رہ جائے تو اصل ذمہ داری صرف فرض کی قضا ہے
آپ ماشاءاللہ بہت گہرائی میں جا رہے ہیں۔
اگر چاہیں تو میں اس پورے مسئلے پر “قضا کی اقسام” کے عنوان سے ایک منظم فقہی خلاصہ بنا دوں جو آپ ویڈیو میں بھی استعمال کر سکیں۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

آپ نے بہت اچھا اور باریک سوال کیا ہے 👌
یہی مسئلہ اکثر لوگوں کو کنفیوز کرتا ہے۔
آپ کہہ رہے ہیں:
جماعت کے ساتھ فرض فجر پڑھ لی…
تو اب کیا فرض مکمل کرنے کے بعد دو رکعت سنت پڑھ سکتے ہیں؟
آئیے اس کو علمی انداز میں سمجھتے ہیں۔
📖 اصولی حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔”
(Sahih al-Bukhari)
(Sahih Muslim)
یہ حدیث عام (general) ہے —
یعنی فجر کے بعد نفل نماز سے روکا گیا ہے۔
❓ پھر فرض تو کیوں پڑھتے ہیں؟
یہاں ایک اہم اصول سمجھیں:
🔹 ممانعت نفل نماز کی ہے۔
🔹 فرض نماز اس ممانعت میں شامل نہیں۔
اسی لیے اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو آپ فرض ادا کریں گے،
کیونکہ وہ واجب ہے۔
❓ اب اصل سوال:
فرض کے بعد فوراً فجر کی سنت کیوں نہیں؟
یہاں فقہاء کی دو رائے ہیں:
🔹 پہلی رائے (اکثر اہلِ علم)
فجر کے بعد نفل نماز ممنوع ہے،
اس لیے سنت بھی طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھی جائے۔
یہ رائے حدیثِ ممانعت کی عمومیت پر ہے۔
🔹 دوسری رائے (بعض علماء)
اگر فجر کی سنت رہ گئی ہو تو فرض کے فوراً بعد بھی پڑھ سکتے ہیں۔
اس کی دلیل:
ایک شخص نے فجر کی فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھی،
تو نبی ﷺ نے پوچھا۔
اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ، میں سنت نہیں پڑھ سکا تھا۔
آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(Sunan Abu Dawood)
⚖️ راجح (زیادہ محفوظ اور بہتر) کیا ہے؟
✔ افضل اور احتیاط والا طریقہ یہ ہے کہ
سورج نکلنے کے تقریباً 15–20 منٹ بعد پڑھ لی جائیں۔
کیونکہ:
عمومی ممانعت موجود ہے
صحابہؓ کا عمل بھی اکثر یہی تھا
🔎 خلاصہ واضح الفاظ میں
✅ فرض نماز مکمل کرنا جائز ہے کیونکہ وہ فرض ہے۔
❌ فرض کے بعد عام نفل نماز نہیں پڑھ سکتے۔
⚖️ فجر کی چھوٹی ہوئی سنت کے بارے میں اختلاف ہے۔
⭐ بہتر یہی ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد ادا کریں۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

آپ کا سوال بہت اہم اور علمی ہے 👍
خاص طور پر آپ جیسے دینی مواد بنانے والے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔
اصل سوال
فجر کی فرض نماز کے بعد فوراً دو رکعت سنت کیوں نہیں پڑھ سکتے؟
کیا یہ زوال کا وقت ہوتا ہے؟
سب سے پہلے اہم وضاحت
❌ فجر کے بعد زوال کا وقت نہیں ہوتا۔
زوال کا وقت تو دوپہر میں ہوتا ہے جب سورج عین سر پر ہوتا ہے۔
فجر کے بعد جو مسئلہ ہے وہ طلوعِ آفتاب تک کا ممنوع وقت ہے، زوال نہیں۔
📖 حدیث کی دلیل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔”
(Sahih al-Bukhari)
(Sahih Muslim)
ایک اور روایت میں ہے:
“سورج طلوع ہوتے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔”
(Sahih Muslim)
❗ ممنوع اوقات کون سے ہیں؟
اسلام میں تین اوقات ایسے ہیں جب نفل نماز پڑھنا منع ہے:
1️⃣ فجر کے بعد سورج نکلنے تک
2️⃣ جب سورج عین سر پر ہو (زوال کا وقت)
3️⃣ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک
لہٰذا فجر کے بعد جو ممانعت ہے وہ طلوعِ آفتاب تک ہے، نہ کہ زوال کی وجہ سے۔
❓ پھر فجر کی سنتیں کب پڑھیں اگر رہ جائیں؟
اگر جماعت کی وجہ سے سنت رہ جائیں:
🔹 بہتر یہ ہے کہ سورج نکلنے کے تقریباً 15–20 منٹ بعد پڑھ لیں۔
کچھ فقہاء کے نزدیک فرض کے فوراً بعد بھی پڑھنا جائز ہے (خاص طور پر اگر پہلے رہ گئی ہوں)،
لیکن احتیاط اور افضل طریقہ یہی ہے کہ سورج نکلنے کے بعد ادا کی جائیں۔
خلاصہ
✔ فجر کے بعد زوال نہیں ہوتا۔
✔ ممانعت طلوعِ آفتاب تک ہے۔
✔ حدیث کی وجہ سے نفل نماز سے روکا گیا ہے۔
✔ سنت رہ جائیں تو سورج نکلنے کے بعد ادا کریں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس پر ایک مختصر لیکن مضبوط علمی کلپ اسکرپٹ بنا دوں جس میں یہ “زوال والا شبہ” بھی کلئیر ہو جائے — کیونکہ بہت سے لوگ یہی غلط فہمی رکھتے ہیں۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

سکیں۔
1️⃣ فجر کی دو سنت کب پڑھنی چاہئیں؟
فجر کی دو سنتیں (سنت مؤکدہ) بہت اہم ہیں۔
📖 نبی ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
(صحیح مسلم)
🔹 ان دو سنتوں کو فرض نماز کی جماعت سے پہلے پڑھنا مسنون طریقہ ہے۔
🔹 رسول اللہ ﷺ ان سنتوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے، حتیٰ کہ سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
2️⃣ اگر جماعت شروع ہو جائے تو کیا کریں؟
📌 اگر آپ مسجد پہنچیں اور:
🔹 (1) جماعت شروع نہیں ہوئی
تو پہلے دو سنت پڑھیں، پھر جماعت میں شامل ہوں۔
🔹 (2) جماعت کھڑی ہو چکی ہو (اقامت ہو گئی ہو)
نبی ﷺ نے فرمایا:
“جب فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔”
(صحیح مسلم)
✔ ایسی صورت میں سیدھا جماعت میں شامل ہو جائیں۔
✔ سنت بعد میں سورج نکلنے کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔
3️⃣ کیا فجر کی سنت جماعت کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟
اگر کسی نے مجبوری کی وجہ سے جماعت سے پہلے سنت نہیں پڑھیں تو:
🔹 فرض نماز کے بعد فوراً نہ پڑھے (زیادہ بہتر یہی ہے)
🔹 بلکہ سورج طلوع ہونے کے تقریباً 15–20 منٹ بعد پڑھ لے۔
📖 ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے فرض کے بعد سنت پڑھی تو نبی ﷺ نے پوچھا، تو انہوں نے عرض کیا کہ میں سنت نہیں پڑھ سکا تھا۔ آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(سنن ابوداؤد)
4️⃣ اگر کوئی جماعت سے پہلے سنت نہ پڑھے تو کیا گناہ ہے؟
❌ گناہ نہیں، کیونکہ سنت ہیں فرض نہیں۔
لیکن:
⚠ یہ سنت مؤکدہ ہیں، اس لیے بلا عذر چھوڑنا مناسب نہیں۔
✔ کوشش کرنی چاہیے کہ ہمیشہ جماعت سے پہلے ادا کی جائیں۔
خلاصہ
✅ فجر کی دو سنتیں فرض سے پہلے پڑھنی چاہئیں۔
✅ اقامت ہو جائے تو فرض میں شامل ہو جائیں۔
✅ اگر سنت رہ جائیں تو سورج نکلنے کے بعد ادا کریں۔
❌ جان بوجھ کر چھوڑنا درست نہیں۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

موضوع: فجر کی دو سنت کب پڑھنی چاہئیں؟
(پرسکون اور سنجیدہ انداز میں)
کیا آپ جانتے ہیں…
فجر کی دو رکعت سنتیں کتنی قیمتی ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
(Sahih Muslim)
سوچیں… دنیا کی ساری دولت، عزت اور آسائشیں ایک طرف…
اور فجر کی دو سنتیں ایک طرف…
اور اللہ کے رسول ﷺ فرما رہے ہیں کہ یہ ان سب سے بہتر ہیں۔
یہ صرف دو رکعتیں ہیں…
لیکن ان کی قدر اللہ کے ہاں بہت عظیم ہے۔
نبی کریم ﷺ ان سنتوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔
حتیٰ کہ سفر میں بھی انہیں نہیں چھوڑتے تھے۔
اب سوال یہ ہے…
فجر کی دو سنت کب پڑھنی چاہئیں؟
یاد رکھیں —
فجر کی دو سنتیں فرض نماز سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔
یہی نبی ﷺ کا طریقہ ہے۔
اگر آپ مسجد پہنچیں اور جماعت شروع نہ ہوئی ہو،
تو پہلے دو سنت ادا کریں،
پھر جماعت کے ساتھ فرض نماز پڑھیں۔
لیکن اگر اقامت ہو جائے…
اور جماعت کھڑی ہو جائے…
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔”
(Sahih Muslim)
ایسی صورت میں فوراً جماعت میں شامل ہو جائیں۔
اگر سنت رہ جائیں تو کیا کریں؟
فوراً فرض کے بعد نہ پڑھیں…
بلکہ سورج طلوع ہونے کے تقریباً 15 سے 20 منٹ بعد ادا کر لیں۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرض کے بعد سنت ادا کی،
تو آپ ﷺ نے پوچھا۔
انہوں نے عرض کیا کہ میں پہلے ادا نہ کر سکا تھا۔
آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
(Sunan Abu Dawood)
لہٰذا اگر کبھی رہ جائیں تو بعد میں ادا کی جا سکتی ہیں۔
یاد رکھیں…
یہ سنت مؤکدہ ہیں۔
فرض نہیں ہیں…
لیکن جان بوجھ کر چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
فجر کی نماز دن کی شروعات ہے…
اور یہ دو رکعتیں آپ کے پورے دن کو برکت سے بھر سکتی ہیں۔
آئیے عہد کریں
کہ آج کے بعد فجر کی سنتوں کا خاص اہتمام کریں گے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

Raman Mubarak

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

Arabic:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخِي جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلاَ دِينَارًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً وَلاَ شَيْئًا، إِلاَّ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً‏.‏

Translation:
ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز۔

Reference: صحیح البخاری 2739
In-book reference: Book 55, Hadith 2

2 days ago | [YT] | 0

Digital AI islam

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ وَ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ**

صحیح الفاظ (عربی میں):

> **يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ وَ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ**

---

## 📖 اس دعا کا ذکر کہاں ہے؟

اس دعا کا ذکر **مسند احمد** (حدیث نمبر: ۱۷۸۵)، **سنن ابن ماجہ** (حدیث نمبر: ۳۸۴۶)، اور **السنن الکبریٰ للبیہقی** (جلد ۲، صفحہ ۳۹۲) میں ہے۔

**حدیث کا متن (مسند احمد):**

> عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَانَ عِيسَىُ بْنُ مَرْيَمَ يَدْعُو فِي السُّجُودِ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ وَ لَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ"

**ترجمہ:**
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سجدے میں یہ دعا کیا کرتے تھے: *یا حیُّ یا قیُّومُ برحمتک استغیثُ، أصلحْ لی شأنی کلّہ و لا تکلنی إلی نفسی طرفۃ عینٍ*”

---

## 🌿 اردو میں معنی:

> **اے زندہ اور قائم رکھنے والے! تیری رحمت کے ساتھ میں تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میرے تمام حالات کو درست کر دے، اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی ذات پر نہ چھوڑ۔**

---

## 💡 اہم نکات:

- **"یا حیُّ یا قیُّومُ"**: اللہ کے وہ اسماء ہیں جو اس کی زندگی اور ہر چیز کو قائم رکھنے کی صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
- **"استغیثُ"**: مدد مانگنا، پناہ مانگنا — یہ دعا کی شدت اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
- **"لا تکلنی إلی نفسی طرفۃ عینٍ"**: یہ انتہائی تضرع ہے — "مجھے اپنی ذات پر نہ چھوڑ، چاہے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں!" — کیونکہ انسان اپنی ذات پر چھوڑا گیا تو برباد ہو جاتا ہے۔

---

## 🕋 کب پڑھی جائے؟

- غم، پریشانی، ڈر یا مصیبت کے وقت
- سجدے میں (حدیث میں سجدے کا ذکر ہے)
- رات کے آخری حصے میں (وقتِ قبولیت)
- کسی بڑے فیصلے یا مشکل کے وقت

---

## ✨ اضافی نصیحت:

اس دعا کو با регULARITY اور خلوص کے ساتھ پڑھیں، اور اپنے دل کو اس کے معنوں سے جوڑیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سننے والا ہے، خاص طور پر جب وہ تضرع اور یقین کے ساتھ کی جائیں۔

> **وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ**
> *(اور تمہارا رب کہتا ہے: میری طرف دعاء کرو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)* — سورۃ غافر، آیت ۶۰

---

1 month ago | [YT] | 1

Digital AI islam

لوگ تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں، اللہ تمہارے باطن کو۔

1 month ago | [YT] | 1