Mehfil-e-Qaul - صوفی كلام ٹی وی

Sufi kalam is a form of devotional song. They are meant to be sung at the Sama mehfils for the upliftment of souls. It has had a long tradition that merged with the Qaul, Qawwali, Kafi, Tarana, Khayal and such other genres.

Inspired by the works of Sufi poets, like Rumi, Hafiz, Bulleh Shah, Amir Khusrow and Khwaja Ghulam Farid Rehmat Allah Aleh.

صوفی کلام عقیدت گیت کی ایک شکل ہے۔ ان کا مقصد روحوں کی بلندی کیلئے محفل سماع میں پڑھا جانا ہے۔
اس کی ایک طویل روایت رہی ہے جو قول ، قوالی، کیفی، ترانہ، خیال اور اس طرح کی دوسری صنفوں کے ساتھ مل گئی ھے۔
رومی، حافظ، بلھےشاہ، امیرخسرو اور خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیه جیسے صوفی شاعروں کے کاموں سے متاثر ہوئے۔

Thanks for Watching. If you liked this then do share it and subscribe for Future videos from this Channel.

سلسله و خانواده
قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ، صابریہ نظامیہ، فخریہ، نیازیہ، فخریہ، مخصوصیہ، سرفرازیہ، محمودیہ، اظہاریہ و اظہریہ

Page Link #AatirHussain
youtube.com/@AatirHussain


Aatir Hussain

7/۷ شعبان المعظّم، جگر گوشۂ مصطفیٰ ﷺ، ماہ پارۂ فاطمہ، دل بندِ مرتضیٰ، فرزندِ مجتبیٰ، حضرت سیّدنا امام قاسم بن حسن رضي الله تعالیٰ عنهم کا یومِ ولادت ہے۔ الله کریم نورِ دیدۂ رَیحانِ رسول ﷺ کے صدقے ہم سب پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔

#MehfileQaul

16 hours ago | [YT] | 0

Aatir Hussain

۴\4
شعبان المعظّم، زوجۂ رسول ﷺ، أمّ المؤمنین،
حضرت سیّدتنا حفصہ بنتِ عمر رضي الله تعالیٰ عنهما کا یومِ وصال ہے۔
آپ أمیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمرِ فاروق رضي الله تعالیٰ عنه کی صاحب زادی تھیں۔ ہجرت سے قریباً اٹّھارہ سال قبل مکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئیں۔ ۳ھ میں آقائے د و جہاں ﷺ نے آپ سے نکاح فرمایا اور یوں آپ کاشانۂ اقدس میں داخل ہوئیں۔ تلاوتِ قرآن، کثرتِ صوم، ذوقِ عبادت، جود و سخا، بلند ہمّتی، حق گوئی، اور علومِ فقہ و حدیث سے گہرا شغف آپ کی ذاتِ والا صفات کے تابندہ پہلو تھے۔ آپ نے حضور خاتَم النّبیّین ﷺ سے ساٹھ احادیثِ مبارکہ روایت کیں۔ ۴۵ھ میں بحالتِ روزہ تریسٹھ برس کی عمر پا کر وصال فرمایا۔ جنّت البقیع، مدینۂ منوّرہ میں دیگر ازواجِ مطہّرات رضي الله تعالیٰ عنهنّ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔ الله کریم أمّ المؤمنین کے صدقے امّتِ مسلمہ پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔

اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام


Mehfil-e-Qaul
#AatirHussain

1 day ago | [YT] | 2

Aatir Hussain

21st January 2026
1st ہجری 1447 شعبان المعظم

آج کائناتِ انسانیت کی اس عظیم ترین ہستی کا یومِ ولادت ہے جن کا نام تاریخ کے ماتھے پر عزم و ہمت اور ایثار کا جھومر بن کر چمک رہا ہے۔ دخترِ علی ؓ و بتول ؓ، حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادتِ با سعادت دراصل حیا، وفا اور عفت کے اس ابدی سفر کا آغاز ہے جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کو ظالم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا سلیقہ سکھایا۔ وہ زینب ؓ جس کے صبر نے صبر کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ آپ نے اپنے خطبات سے ایوانِ باطل کو لرزہ براندام کر کے یہ ثابت کر دیا کہ حق کی آواز کو نہ زنجیریں دبا سکتی ہیں اور نہ ہی مصلحتیں قید کر سکتی ہیں۔ آج ان کے حضور سلامِ عقیدت پیش کرنا درحقیقت انسانی اقدار کی سربلندی کا اعتراف ہے۔

#MehfileQaul

6 days ago (edited) | [YT] | 6

Aatir Hussain

امام محمد بن ادریس الشافعیؒ نے اسلامی فکر و دانش کو ایک نئی جلا بخشی۔ آپ کی شخصیت علم اور فصاحت کا وہ نادر نمونہ تھی جہاں استدلال کی قوت اور بیان کی نزاکت باہم ہم آغوش نظر آتی ہیں۔ امام شافعیؒ محض ایک فقیہ ہی نہیں، بلکہ عربی زبان و ادب کے شہسوار تھے۔ آپ نے اپنی بصیرت سے منقولات اور معقولات کے درمیان ایسا توازن پیدا کیا جس نے رہتی دنیا تک کے لیے اصولِ فقہ کی بنیادیں استوار کر دیں۔ آپ کا علم ایک ایسا بحرِ بے کنار ہے جس کی موجیں تقویٰ سے عبارت ہیں اور جس کا ساحل رشد و ہدایت کا ضامن ہے۔ امام شافعیؒ کی علمی وجاہت نے نہ صرف کلامِ الٰہی اور سنتِ نبوی کے فہم کو عام کیا بلکہ عربی ادب کو وہ وقار عطا کیا جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ تابندہ رہے گا۔

نوٹ: آپ کا وصال رجب کی آخری شب میں ہوا (یعنی 29 یا 30 رجب)۔ بعض کے نزدیک آپ کا وصال 4 رجب ہے۔

Talib e Dua
#mehfileqaul

1 week ago | [YT] | 1

Aatir Hussain

آج بروز پیر 19 جنوری 2026 کو ماہ شعبان کا چاند نظر نہیں آیا لہذا کل بروز منگل 30 رجب المرجب ہوگی
اور بروز بدھ 21 جنوری 2026 کو یکم شعبان المعظم ہوگی۔
مفتی علی اصغر
ممبرمرکزی رویت ھلال کمیٹی پاکستان

Talib e Dua - Mehfil-e-Qaul

1 week ago | [YT] | 0

Aatir Hussain

۲۷ رجب المرجّب، سیّد الطّائفة، طاؤوس العلماء، سلطان الأولیاء، شیخ الإسلام، حضرت سیّدنا شیخ جنید بغدادی رحمة الله تعالیٰ علیه کا یومِ وصال ہے۔ آپ کا شمار امّتِ محمّدیہ کے اکابرِ اولیائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کا وطنِ اصلی نَہاوَند (ایران) تھا، پھر عراق کے شہر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور وہیں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کے اساتذۂ عظام میں سیّد العابدین حضرت سیّدنا خواجہ بِشرِ حافی اور إمام التّصوّف حضرت سیّدنا شیخ حارث مُحاسِبی رحمة الله تعالیٰ علیه کے اسمائے گرامی زینتِ فہرست ہیں۔ آپ اپنے ماموں جان، سیّد العارفین حضرت سیّدنا شیخ سَری سَقَطی رحمة الله تعالیٰ علیه کے دستِ حق پر بیعت ہوئے اور بعد از آں خرقۂ خلافت سے بھی نوازے گئے۔ آپ عالمِ با عمل، صوفیِ با صفا، سراجِ اتقیا، مہرِ اصفیا، نجمِ عرفا، قدوۂ کاملین، زبدۂ واصلین، مرجعِ فقہائے شوافع، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے گیارہ ویں امامِ طریقت تھے۔ شیخ الکبیر حضرت سیّدنا شیخ ابو بکر شِبلی رحمة الله تعالیٰ علیه آپ کے مریدِ جلیل اور خلیفِ نبیل تھے۔ ۲۹۷ھ میں ۸۱ برس کی عمر پا کر وصال فرمایا۔ بغداد کے علاقے شُونِیزیہ میں اپنے ماموں جان کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔ شجرۂ قادریہ رضویہ شریف میں حضرت کا ذکر اس طرح ہے:
بہرِ معروف و سَری معروف دے بے خود سری
جُندِ حق میں گِن جنیدِ با صفا کے واسطے
الله کریم اپنے اس پیارے کے صدقے ہم سب پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔

TALIB E DUA MEHFIL-E-QAUL

1 week ago | [YT] | 2

Aatir Hussain

پارٹ 2 واقعہ معراج
کی حتمی تاریخ کے حوالے سے کوئی ایسی **صحیح اور صریح (واضح) حدیث** موجود نہیں ہے جس میں مہینہ یا دن متعین کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین اور مؤرخین کے درمیان اس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ذیل میں اس حوالے سے اہم علمی حوالے اور مستند مؤقف درج ہے:

### 1. مستند علمی حوالہ (عدمِ تعین)

عظیم محدث اور شارحِ بخاری **حافظ ابن حجر عسقلانیؒ** (جن کی کتاب 'فتح الباری' سب سے مستند مانی جاتی ہے) نے اس بارے میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

> "اسراء (معراج) کے مہینے اور اس کے عشرے (دس دن) کے بارے میں دس سے زیادہ اقوال موجود ہیں، جن میں سے بعض ربیع الاول، بعض رجب، بعض رمضان اور بعض شوال کے بارے میں ہیں۔"
> *(حوالہ: فتح الباری، جلد 7، صفحہ 203)*

### 2. مشہور قول (27 رجب) کا درجہ

اگرچہ **27 رجب** کی تاریخ عوامی سطح پر بہت مشہور ہے، لیکن اس کے بارے میں محدثین کی رائے درج ذیل ہے:

* **امام نوویؒ** اور **علامہ ابن تیمیہؒ** جیسے جید علماء کا کہنا ہے کہ معراج کی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی ایسی روایت سند کے لحاظ سے **"صحیح"** نہیں ہے جس پر یقین کیا جا سکے۔
* **محدث ابن دحیہؒ** نے صراحت کی ہے کہ 27 رجب کے بارے میں کوئی بھی مستند روایت موجود نہیں ہے۔

### 3. مختلف اقوال اور ان کے مآخذ

کتبِ سیرت (جیسے 'الرحیق المختوم' یا 'سیرتِ ابن ہشام') میں درج ذیل اقوال ملتے ہیں:

* **ربیع الاول:** امام نوویؒ اور بعض دیگر کے نزدیک یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل ربیع الاول میں ہوا۔
* **رجب:** علامہ عبد الغنی مقدسیؒ نے 27 رجب کے قول کو اختیار کیا، جو بعد میں مشہور ہو گیا۔
* **رمضان:** بعض علماء کے نزدیک یہ ہجرت سے 6 ماہ قبل رمضان میں پیش آیا۔

### 4. حدیثِ مبارکہ (واقعہ کی حقیقت پر)

اگرچہ تاریخ پر کوئی صحیح حدیث نہیں، لیکن **واقعہ معراج** کی تفصیلات (بیت المقدس جانا، وہاں سے آسمانوں پر جانا، نماز کی فرضیت) پر مشتمل احادیث **صحیح بخاری** اور **صحیح مسلم** میں تواتر کے ساتھ موجود ہیں۔

* **مثلاً:** "پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا..." (صحیح بخاری، حدیث: 3887)۔

**خلاصہ:**
علمی اور تحقیقی اعتبار سے شبِ معراج کی کوئی **ایک مستند تاریخ** حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اس کا بڑا مقصد (نماز اور رب سے تعلق) واضح ہے، لیکن دن کو پوشیدہ رکھا گیا ہے تاکہ مسلمان صرف ایک رات تک محدود رہنے کے بجائے ہر وقت اللہ کی عبادت میں مگن رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی مشہور تصنیف **"الخصائص الکبریٰ"** اور **"الآیۃ الکبریٰ فی شرح قصۃ الاسراء"** میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔

امام سیوطیؒ کے موقف کا خلاصہ درج ذیل ہے:

### 1. تاریخ کے انتخاب میں ان کا رجحان

امام سیوطیؒ نے معراج کی تاریخ کے حوالے سے مختلف اقوال نقل کیے ہیں، لیکن ان کا رجحان **ربیع الاول** کی طرف زیادہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں ان مؤرخین اور محدثین کے اقوال کو جگہ دی ہے جو اسے **ربیع الاول** کا واقعہ مانتے ہیں۔

### 2. الخصائص الکبریٰ کا حوالہ

امام سیوطیؒ نے **"الخصائص الکبریٰ"** (جلد 1، صفحہ 278) میں لکھا ہے:

> "واختلف فی وقت الاسراء، فقیل: کان فی ربیع الاول"
> (ترجمہ: اسراء کے وقت میں اختلاف کیا گیا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ **ربیع الاول** میں ہوا۔)

وہ مزید نقل کرتے ہیں کہ امام ابن الاثیرؒ اور دیگر محققین کے نزدیک زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل ربیع الاول میں پیش آیا۔

### 3. مختلف اقوال کا ذکر

امام سیوطیؒ نے اپنی دیگر تحریروں میں رجب کے قول کا ذکر بھی کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے "قطعی" قرار نہیں دیا۔ انہوں نے اس معاملے میں پائے جانے والے شدید اختلاف کو تسلیم کیا ہے، جس میں درج ذیل مہینے شامل ہیں:

* **ربیع الاول** (جسے وہ ترجیح دیتے نظر آتے ہیں)۔
* **ربیع الآخر**۔
* **رجب**۔
* **رمضان**۔
* **شوال**۔

### 4. امام سیوطیؒ کی تحقیق کا نچوڑ

امام سیوطیؒ کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس واقعے کی **روح اور معجزات** (جیسے انبیائے کرام سے ملاقات اور عجائبِ قدرت کا مشاہدہ) پر زیادہ زور دیتے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ کسی ایک تاریخ پر اصرار کیا جائے۔ ان کے نزدیک ربیع الاول کا قول علمی اعتبار سے قوی ہے، کیونکہ اسی مہینے میں آپ ﷺ کی ولادت اور ہجرت بھی ہوئی۔

---

**خلاصہ:** امام سیوطیؒ کے نزدیک معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے، اور وہ ان علماء میں شامل ہیں جو **ربیع الاول** کے قول کو دیگر اقوال پر فوقیت دیتے ہیں، اگرچہ وہ رجب اور دیگر مہینوں کے اقوال کو بھی بطورِ روایت نقل کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی مشہورِ زمانہ تاریخ کی کتاب **"البدایہ والنہایہ"** اور اپنی **"تفسیر ابن کثیر"** میں واقعہ معراج کی تاریخ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا موقف بہت واضح اور تحقیقی ہے:

### 1. تاریخ کے تعین پر ابن کثیرؒ کا موقف

حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی تاریخ کے بارے میں علماء کے اقوال بہت زیادہ ہیں اور ان میں کسی ایک پر اتفاق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

> "اس بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ معراج کب ہوئی؟"

### 2. 27 رجب کے حوالے سے ان کی رائے

عوامی سطح پر مشہور **27 رجب** کی تاریخ کے بارے میں ابن کثیرؒ کا تبصرہ کچھ یوں ہے:

* وہ نقل کرتے ہیں کہ **قاسم بن محمد** سے ایک روایت مروی ہے کہ معراج 27 رجب کو ہوئی۔
* لیکن ابن کثیرؒ نے اس قول کو **"مستند"** قرار نہیں دیا بلکہ اسے محض ایک روایت کے طور پر ذکر کیا ہے۔
* ان کے نزدیک اس تاریخ کی کوئی ایسی مضبوط سند موجود نہیں جو اسے حتمی قرار دے سکے۔

### 3. دیگر اقوال کا ذکر

ابن کثیرؒ نے اپنی کتاب **"البدایہ والنہایہ" (جلد 3، صفحہ 107)** میں درج ذیل اقوال بھی نقل کیے ہیں:

* **ربیع الاول:** وہ امام زہریؒ اور عروہ بن زبیرؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ معراج ہجرت سے ایک سال قبل **ربیع الاول** میں ہوئی۔ (ابن کثیرؒ کے نزدیک یہ قول کافی اہمیت رکھتا ہے)۔
* **ربیع الآخر:** بعض کے نزدیک یہ ربیع الآخر میں ہوئی۔
* **رمضان:** بعض کے نزدیک یہ رمضان المبارک میں ہوئی۔
* **شوال:** ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ شوال میں پیش آئی۔

### 4. خلاصہ و نتیجہ (ابن کثیرؒ کے مطابق)

حافظ ابن کثیرؒ کے نزدیک:

1. واقعہ معراج کی **تاریخ، مہینہ اور سال** میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس پر تمام علماء کا اتفاق ہو۔
2. ان کے نزدیک زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے **ایک سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے** پیش آیا۔
3. وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تاریخ کے اختلاف سے واقعے کی صداقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ قرآن پاک اور احادیثِ صحیحہ سے اس کا وقوع قطعی طور پر ثابت ہے۔

---

**مختصر یہ کہ:** امام ابن کثیرؒ 27 رجب کو حتمی تاریخ نہیں مانتے، بلکہ اسے محض مختلف اقوال میں سے ایک قول قرار دیتے ہیں اور ربیع الاول کے قول کو بھی مضبوط قرار دیتے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

طالب دعا #AatirHussain

1 week ago (edited) | [YT] | 4

Aatir Hussain

پارٹ 1 تاریخ، مہینہ و سال واقعہ معراج
واقعہ معراج کی **مستند اور حتمی تاریخ** کے حوالے سے محدثین اور مؤرخین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ عوامی سطح پر **27 رجب** بہت مشہور ہے، لیکن علمی اور تاریخی لحاظ سے اس کی کوئی ایک تاریخ قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔

ذیل میں اس حوالے سے مختلف علمی نقطہ نظر کی تفصیل دی گئی ہے:

### 1. مشہور اور جمہور کی رائے

زیادہ تر علماء اور سیرت نگاروں کے نزدیک **27 رجب المرجب** ہی وہ رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو معراج کرائی گئی۔

* **علامہ عبد الغنی مقدسیؒ** اور کئی دیگر مؤرخین نے اسی تاریخ کو اختیار کیا ہے۔
* برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا کے کئی حصوں میں اسی تاریخ کو "شب معراج" کے طور پر منایا جاتا ہے۔

### 2. تاریخی اختلافات

مختلف روایات اور اقوال کی بنیاد پر اس واقعے کے سال اور مہینے میں کافی فرق پایا جاتا ہے:

* **سال:** بعض کے نزدیک ہجرت سے **ایک سال قبل**، بعض کے نزدیک **تین سال قبل** اور بعض کے نزدیک **پانچ سال قبل** یہ واقعہ پیش آیا۔
* **مہینہ:** رجب کے علاوہ **ربیع الاول، ربیع الآخر، رمضان** اور **شوال** کے مہینوں کے اقوال بھی کتبِ سیرت میں موجود ہیں۔
* **دن:** بعض روایات میں 17 ربیع الاول یا 27 رمضان کا ذکر بھی ملتا ہے۔

### 3. علمی تحقیق اور خلاصہ

محدثین (جیسے امام ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ) کا کہنا ہے کہ:

> "معراج کے مہینے، عشرے یا دن کے بارے میں کوئی ایسی صحیح اور صریح حدیث موجود نہیں ہے جس سے کوئی ایک تاریخ حتمی طور پر ثابت ہو۔"

**تاریخ محفوظ نہ ہونے کی حکمت:** علماء فرماتے ہیں کہ اس عظیم واقعے کی تاریخ کا محفوظ نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل اہمیت واقعے کے **پیغام، سبق اور نماز کی فرضیت** کی ہے، نہ کہ صرف اس دن کو یادگار کے طور پر منانے کی۔

---

### خلاصہ جدول (مختلف اقوال)

| قول | مہینہ | سال (ہجرت سے قبل) |
| --- | --- | --- |
| **سب سے مشہور قول** | 27 رجب | 1 سال قبل |
| **امام نوویؒ کی ایک رائے** | ربیع الاول | 1 سال قبل |
| **علامہ ابن حجرؒ کی رائے** | ربیع الآخر | - |
| **دیگر اقوال** | رمضان / شوال | 3 یا 5 سال قبل |


قول,مہینہ,سال (ہجرت سے قبل)
سب سے مشہور قول,27 رجب,1 سال قبل
امام نوویؒ کی ایک رائے,ربیع الاول,1 سال قبل
علامہ ابن حجرؒ کی رائے,ربیع الآخر,-
دیگر اقوال,رمضان / شوال,3 یا 5 سال قبل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واقعہ معراج کے فضائل، مشاہدات اور نماز کی فرضیت سے متعلق چند اہم اور **مستند احادیث** کے حوالے درج ذیل ہیں:

### 1. نماز کی فرضیت اور تخفیف کا واقعہ

یہ واقعہ معراج کا سب سے اہم حصہ ہے، جو کہ **صحیح بخاری** اور **صحیح مسلم** دونوں میں موجود ہے۔

* **حدیث:** نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے میری امت پر **پچاس نمازیں** فرض کیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی امت یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گی، واپس جائیں اور کمی کی درخواست کریں۔ میں بار بار آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا:
> "اے محمد! یہ (عمل میں) پانچ ہیں اور (اجر میں) پچاس کے برابر ہیں۔ میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔"

* **حوالہ:** *صحیح بخاری، حدیث نمبر: 349؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 163۔*

---

### 2. بیت المقدس میں انبیاء کی امامت

* **حدیث:** نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
> "پھر نماز کا وقت آیا تو میں نے ان سب (انبیاء) کی امامت کی۔"

* **حوالہ:** *صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء (حدیث نمبر: 172)۔*

---

### 3. سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ

* **حدیث:** حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
> "پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے اور اس کے پھل مٹکوں کے برابر تھے۔ جب اسے اللہ کے حکم سے ڈھانپنے والی چیز نے ڈھانپ لیا تو وہ بدل گیا، اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس کے حسن کو بیان نہیں کر سکتا۔"

* **حوالہ:** *صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3887؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 162۔*

---

### 4. گناہوں پر سزا کے مشاہدات

معراج کے سفر میں آپ ﷺ کو مختلف گناہوں پر دی جانے والی سزائیں بھی دکھائی گئیں:

* **غیبت کرنے والوں کا حال:** آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جس سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں۔ پوچھا گیا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: "یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (غیبت کرتے تھے)۔"
* **حوالہ:** *سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4878 (علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔*

* **سود خوروں کا حال:** آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی طرح (بڑے) تھے اور ان میں سانپ باہر سے نظر آ رہے تھے۔ بتایا گیا کہ یہ سود کھانے والے ہیں۔
* **حوالہ:** *سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2273۔*

---

### 5. جنت کے مشاہدات

* **حدیث:** آپ ﷺ نے فرمایا:
> "میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔"

* **حوالہ:** *صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3342۔*

---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

### 6. شبِ معراج کی فضیلت اور مخصوص عبادت کی روایت

جہاں تک اس مخصوص رات (27 رجب) میں **ہزار سال کی عبادت کا ثواب** یا **مخصوص نماز** والی روایات کا تعلق ہے، تو محدثین کی تحقیق یہ ہے:

* **امام بیہقیؒ** اور **امام ابن حجر عسقلانیؒ** جیسے بڑے علماء نے صراحت کی ہے کہ رجب کی فضیلت یا اس کی مخصوص رات کی عبادت کے بارے میں کوئی بھی **صحیح حدیث** مروی نہیں ہے جو حجت بن سکے۔
* **حوالہ:** *تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب (ابن حجر عسقلانی)۔*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واقعہ معراج کے فضائل اور اس رات کی عبادات سے متعلق شرعی و علمی نقطہ نظر درج ذیل ہے:

### 1. معراج کے عظیم فضائل

واقعہ معراج انسانی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ ہے، جس کے چند اہم پہلو یہ ہیں:

* **نماز کا تحفہ:** اس سفر کا سب سے بڑا ثمرہ **پانچ وقت کی نماز** ہے، جسے مومن کی معراج قرار دیا گیا ہے۔
* **قربِ الٰہی:** نبی کریم ﷺ کو وہ مقامِ قرب عطا ہوا جہاں کسی بشر یا فرشتے کی رسائی نہ تھی۔
* **انبیائے کرام کی امامت:** بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرما کر آپ ﷺ کا **سید الانبیاء** ہونا ثابت ہوا۔
* **جنت و دوزخ کا مشاہدہ:** آپ ﷺ کو کائنات کے چھپے ہوئے حقائق اور جزا و سزا کے مناظر دکھائے گئے۔

---

### 2. اس رات کی عبادات کا شرعی حکم

شب معراج میں عبادت کے حوالے سے علماء اور فقہاء کی رائے کو دو حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے:

**نفلی عبادت کی اہمیت:**
اس رات میں ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن اور نوافل ادا کرنا ایک مستحسن عمل ہے، بشرطیکہ اسے انفرادی طور پر کیا جائے۔ اللہ کی یاد اور توبہ کے لیے کوئی بھی رات منع نہیں ہے، خصوصاً ایسی رات جو ایک عظیم معجزے کی یاد دلاتی ہو۔

**مخصوص طریقے کی تردید:**
علمی اور شرعی طور پر چند باتیں واضح رہنی ضروری ہیں:

* **کوئی خاص نماز نہیں:** احادیث میں اس رات کے لیے کوئی مخصوص تعداد (جیسے بارہ رکعت یا سو رکعت) یا مخصوص طریقہ نماز ثابت نہیں ہے۔
* **روزہ:** 27 رجب کے روزے کے بارے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں، وہ محدثین کے نزدیک سنداً "ضعیف" یا "موضوع" (من گھڑت) ہیں۔
* **اجتماعی اہتمام:** صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں اس رات کو مساجد میں چراغاں کرنے یا مخصوص اجتماعات کا ثبوت نہیں ملتا۔

---

### 3. ایک مسلمان کو اس رات کیا کرنا چاہیے؟

علماء کرام کے مطابق اس رات کو گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے:

1. **نماز کی پابندی کا عہد:** چونکہ معراج کا اصل تحفہ نماز ہے، اس لیے اس رات عزم کریں کہ کوئی نماز قضا نہیں ہوگی۔
2. **درود و سلام:** نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی پر کثرت سے درود بھیجیں۔
3. **توبہ و استغفار:** اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔
4. **سیرت کا مطالعہ:** واقعہ معراج اور اس سے ملنے والے اسباق (جیسے نماز کی اہمیت اور آخرت کی فکر) کا مطالعہ کریں۔

> **خلاصہ:** اس رات کو کسی مخصوص رسم یا ایجاد کردہ طریقے کے بجائے اللہ کی خاموش عبادت اور اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرنا زیادہ بہتر اور سنت کے قریب ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


طالب دعا #AatirHussain

1 week ago (edited) | [YT] | 3

Aatir Hussain

۶ رجب المرجّب، سلطان الھند، عطائے رسول ﷺ، غریب نواز، حضرت خواجہ سیّد معین الدّین حسن چشتی سجزی رحمة الله تعالیٰ علیه کا یومِ وصال ہے۔ آپ کا شمار برِّ صغیر پاک و ہند کے اکابرِ اولیائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ نجیب الطّرفَین تھے، نسبِ پدری سات ویں پشت میں باب الحوائج حضرت سیّدنا امام موسیٰ کاظم سے ملتا ہے، اور نسبِ مادری رَیحانِ رسول ﷺ حضرت سیّدنا امام حسنِ مجتبیٰ تک پہنچتا ہے (رضی الله تعالیٰ عنهم)۔ سِیستان، ایران کے علاقہ سَجز (یا سِجز) سے تعلّق رکھتے تھے۔ آپ اشرف الاقطاب حضرت سیّدنا خواجہ عثمان ہاروَنی رحمة الله تعالیٰ علیه کے دستِ حق پر بیعت ہوئے، اور بعد از آں خرقۂ خلافت سے بھی نوازے گئے۔ آپ سراجِ اولیا، فخرِ اتقیا، قطبِ عُرَفا، مغیثِ فقرا، اشہرِ مشاہیرِ زماں، سَر خیلِ مشائخِ چشتیہ، اعظمِ مبلّغینِ اسلام، مرجعِ فقہائے احناف، اور ہندوستان میں حضور خاتَم النّبیّین ﷺ کے نائب تھے۔ آپ کی تعلیمات و تحریرات، سیرت و کردار، صبر و ثبات، حکمت و بصیرت، رِفق و شفقت، اور لطف و عنایت سے متاثر ہو کر قریباً پچانوے لاکھ کفّار مشرّف بہ ایمان ہوئے۔ نیز، کئی سالکانِ راہِ خدا آپ کی نگاہِ فیض اثر سے درجۂ کمال تک پہنچے۔ قطب الاقطاب حضرت خواجہ سیّد قطب الدّین محمّد بخت یار کاکی اوشی رحمة الله تعالیٰ علیه آپ کے تلمیذِ کبیر، مریدِ جلیل، اور خلیفِ نبیل تھے۔ ۶۳۳ھ کو، ۱۰۳ برس کی عمر میں وصال فرمایا۔ وصال کے بعد آپ کی مبارک پیشانی پر یہ نقشِ جمیل ظاہر ہوا: "حَبِیْبُ اللهِ ماتَ فِیْ حُبِّ اللهِ" (ترجمہ: الله کا حبیب، الله کی محبّت میں اس دنیا سے گیا)۔ آپ کا مزارِ شریف، اجمیر (راجستھان، بھارت) میں مرکزِ انوار و تجلّیات ہے۔ الله کریم اپنے اس پیارے کے صدقہ ہم سب پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے۔

1 month ago | [YT] | 3