بسم اللہ الرحمن الرحیم
Islamic history and historical stories and ethical stories, we make Quranic and learning stories, if you are interested in history and Islamic education and historical stories, so subscribe to this channel please.
and we teach Quran learning and Islamic education online classes also,
دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر خود قرآن پاک پڑھناسیکھیں اور اپنے بچوں کو قرآن اور بنیادی اسلام کے ارکان کے تعلیم
دلوائیں.
Anywhere in the World you or your kids can learn the Quran and the basics of Islam online by Skype.
for more info contact us , WhatsApp or direct call on this No.+923226967174
suffah Islamic School online
www.facebook.com/ilmulquran7865
Hafiz Muhammad Imran Official
جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،
تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔
عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا:
"اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟"
تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی "کتيبة الموت الإسلامية" (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔
یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،
مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا:
"اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے ہی شرف حاصل ہو چکا ہے،
مگر میں اور میرا باپ، ہم تو رسول اللہ ﷺ کے بدترین دشمنوں میں سے تھے،
مجھے میرے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے دو!
میں نے کئی مواقع پر رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی،
کیا میں آج رومیوں سے بھاگ جاؤں؟
یہ کبھی نہیں ہو سکتا!"
پھر "کتيبة الموت الإسلامية" دشمن پر ٹوٹ پڑی۔
رومی اس حملے سے حیران رہ گئے جب انہوں نے ان شیروں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا،
جو ان کے سروں کو توڑنے آ رہے تھے۔
ایک کے بعد ایک فدائی ان کے ہزاروں کے لشکر میں گھسنے لگا۔
عکرمہ بن ابی جہل خود بھی رومی فوج کے قلب میں گھس گئے تاکہ اسلامی فوج پر سے محاصرہ توڑ سکیں۔
انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کی صفوں پر ایسا حملہ کیا کہ دشمن کی صفوں میں شگاف پڑ گیا۔
یہ دیکھ کر رومیوں کے سپہ سالار نے حکم دیا:
کہ تمام تیر اسی مجاہد کی طرف پھینکے جائیں۔
تیر برسنے لگے اور عکرمہ کا گھوڑا اتنے تیروں کی زد میں آ کر زمین پر گر پڑا،
مگر عکرمہ نے اس کی پرواہ نہ کی اور اپنی تلوار تھامے
ہزاروں کے لشکر میں تنِ تنہا گھس گئے اور ان سے لڑنے لگے۔
رومیوں نے اپنا سارا نشانہ ان کے دل پر باندھ لیا۔
جب مسلمانوں نے اپنے قائد عکرمہ کو زخمی اور گرنے کے قریب دیکھا،
تو ان کے دل جذبات سے بھر گئے اور وہ عکرمہ کے پیچھے پیچھے موت کی وادی میں کود پڑے،
کیونکہ انہوں نے اسی پر بیعت کی تھی۔
رومی حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ 400 فدائی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر
یقینی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اللہ نے کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،
پھر اچانک وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے لگے جبکہ
مسلمانوں کی "اللہ اکبر" کی صدائیں ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔
یوں اس شہیدانہ لشکر نے اسلامی فوج کے محاصرے کو توڑ دیا۔
خالد بن ولید عکرمہ کی تلاش میں نکلے تو انہیں دو فدائیوں
(حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ) کے درمیان زخمی حالت میں پایا۔
مستند حوالہ جات:
1. الطبری، تاریخ الطبری، جلد 3 – معرکہ یرموک کے واقعات
2. ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7 – سیرتِ عکرمہ بن ابی جہلؓ اور یرموک کا ذکر
3. ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 2 – یرموک کی لڑائی اور فدائی مجاہدین کا تذکرہ۔
1 month ago | [YT] | 2
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
youtube.com/shorts/E0CJ4e4LXB...
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
پورے ہندوستان کے بادشاہ راوی سے ہار گئے… تو یہ چند سو گز کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں والے کیا چیز ہیں؟
جب ملکہ نورجہاں اپنے ایک دیوان میں کہتی ہیں کہ "راوی لاہور کے گرد جمع ہو کر لاہور کو جزیرہ بنا دیتا ہے"، تو یہ وہ دور تھا جب دریائے راوی کی تیز موجوں نے لاہور کو بار بار ہلایا اور مقبرہ جہانگیر کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس خطرے سے نمٹنے کی پہلی بڑی کوشش حضرت اورنگزیب عالمگیرؒ نے کی۔ لاہور کے گرد مضبوط بند بنانے کا حکم دیا گیا۔ مستی گیٹ سے محمود بوٹی تک کنویں کھودے گئے، اندر لکڑی کے تختے ڈالے گئے اور اوپر اونچی دیواریں اور پشتے تعمیر کیے گئے۔ یہ بند بار بار آزما کر مضبوط بنائے گئے۔ یہاں تک کہ بادشاہی مسجد لاہور کا افتتاح بھی کشتی کے ذریعے آ کر کیا گیا۔
یہ بند اتنے خوبصورت تھے کہ لوگوں نے ان پر باغات لگا لیے اور انہیں تفریح گاہوں میں بدل دیا۔
بعد میں انگریزوں نے بھی راوی کا رخ بدلنے کی کوشش کی اور بڑے پیمانے پر درخت لگانے کا پروگرام بنایا۔
پاکستان بننے کے بعد بھی راوی لاہور میں گھس آتا رہا۔ لیکن پھر پراپرٹی ڈیلروں کا دور آیا اور وہ بھی راوی میں جا گھسے۔ راوی برسوں خاموش رہا… مگر آخر ایک دن راوی کو غیرت آئی۔
ابھی ڈیم بھرے ہوئے ہیں، دیکھتے ہیں راوی اب کیا سبق سکھاتا ہے۔
شائد پھر سے مقبرہ جہانگیر سے بغل گیر ہونا چاہتا ہے۔
Learn Quran and Islamic education online classes for more details contact WhatsApp please.
+923226967174
Suffah Islamic School Online
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
ہیڈ گنڈا سنگھ ۔345366 کیوسک
ہیڈ سلیمانکی 118157 کیوسک
ہیڈ اسلام 58764 کیوسک ۔
پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
FFD ki latest report.
6.41 PM
29.8.2025
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
youtube.com/shorts/NbQzBICD1y...
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
Like and share please.
Subscribe for islamic studies, history.
youtube.com/shorts/SLzWFsFKTD...
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
Learn Quran and Islamic education online classes for more details contact WhatsApp
4 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hafiz Muhammad Imran Official
🎋 🎋 🎋 گدھے کی خواہش 🎋 🎋 🎋
فتح خیبر کے بعد حضور صل اللہ علیہ وسلم واپس آرہے تھے کہ راستے میں آپ کی خدمت میں ایک گدھا حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔حضور! میری عرض بھی سنتے جائیے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین جانور کی عرض سننے کو ٹھہر گٸے اور فرمایا بتاو کیا کہنا چاہتے ہو، وہ بولا حضور! میرا نام یزید بن شہاب ہے اور میرے دادا کی نسل سے خدا نے ساٹھ خر پیدا کئے ہیں ان سب پر اللہ کے نبی سوار ہوتے رہے اور حضور!میرے دل کی یہ تمنا ہے کہ مجھ مسکین پر حضور سواری فرمائیں اور یارسول اللہ ! میں اس بات کا مستحق بھی ہوں اور وہ اس طرح کہ میرے دادا کی اولاد میں سے میرے کوئی باقی نہیں رہا اور اللہ کے رسولوں میں سے سوا آپ کے کوئی باقی نہیں رہا ۔ حضورﷺ نے اس کی یہ خواہش سن کر فرمایا اچھا ہم تمہیں اپنی سواری کے لئے منظور فرماتے ہیں اور تمہارا نام بدل کر ہم یعفور رکھتے ہیں (حجة الله على المعلمين من (۴۶)
4 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more