Welcome to our channel 'Urdu Novel World'.... This channel is all about Romantic novels written and voiced by our team. Our Hindi urdu novels are very interesting and give you a moral lesson. Romantic aur Love story novels ki Episodes pko daily phadne Ko milien ge. Plz do subscribe and keep watching our emotional, amazing, interesting, full of suspenseful novels. Thanks you ! Lots of Love from our Team
Regards: Urdu Novel World
#urdunovel #novel #audiostory #hindiaudiobooks
#urdunovelworld #episodicnovels #moralstories
Urdu Novel World
"میں بیوہ ہوں اصفہان!" منحہ کے گلے میں آنسوؤں کا پھندہ اٹکا۔ وہ اپنے خاندان اور علاقے کی رسم و رواج سے واقف تھی۔
"مجھ سے نکاح کے بعد نہیں رہو گی۔" بات ہوا میں اڑائی گئی یوں جیسے وہ ان روایات سے واقف نہ تھا۔
"میں دوبارہ نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں؟ کیوں میری بے بسی کا مزاق بنا رہے ہو؟ منحہ نے چلا کر کہا۔
"کس نے کہا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا ؟ اس گاؤں کی روایات نے؟" تیکھے لہجے میں سوال کیا گیا۔ منحہ کو لگا وہ اس کی مجبوری کا مزاق اڑا رہا تھا۔
"ایک بات یاد رکھنا۔ ایسی روایات کو میں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ تمھیں جو سوچنا ہے سوچ لو منحہ! اگر انکار کرو گی تو تمھارا باپ بھرے مجمعے۔۔۔۔"
"نہیں!" منحہ نے اذیت سے مٹھیاں بھینچ کر اصفہان کی بات کاٹی۔
"تو پھر نکاح کی تیاری کرو۔" اصفہان نے کہا تو منحہ نے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ایک ناراض نگاہ اصفہان پر ڈالی جسے اصفہان کچھ دیر خاموشی سے دیکھتا رہا۔ وہ نگاہیں تو ہمیشہ سے ہی اس پر اثر انداز ہوتی آئی تھیں۔ ان نگاہوں میں اس نے بہت سے جذبات دیکھے تھے، غرور ، نفرت، حقارت ،گھن ،غصہ، الجھن۔۔۔ مگر آج پہلی بار ان آنکھوں میں ناراضگی کے ساتھ بغاوت نظر آئی تھی۔
#اک_رسم_محبت_ہے
آج رات 8 بجے اپلوڈ ہو گا ❤️
2 weeks ago | [YT] | 81
View 5 replies
Urdu Novel World
بہزاد نے اس کی مرمریں کلائی پکڑ کر کھینچی رہاسہا فاصلہ بھی سمٹ گیا۔وہ تلملا گئی۔
”بہزاد!مجھے مجبور مت کریں کہ میں سارا ادب لحاظ بھول جاوں۔“
وہ تلخ ہوئی۔
”بھول جاو۔جو بھی کہنا چاہتی ہو کہہ دو۔مگر اس طرح اپنے دل میں میری قبر مت بناو۔
وہ اسی لیے اس سے بات کرنے سے گریزاں تھی۔وہ پل میں اسے بےبس کردیتا تھا۔
”یہی تو آتا ہے آپ کو مجھے اپنے لفظوں سے شکست دے دیتے ہیں۔“
وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں بولی تھی۔
” آپ نے یہ سب کیوں کیا؟کیوں اپنی اور ایزد کی جان خطرے میں ڈالی۔مجھے کہہ دیتے میں سب کچھ چھوڑ جاتی۔آپ دونوں کی زندگیوں سے دور چلی جاتی۔آپ دونوں میرا سب کچھ ہیں بہزاد! میری زندگی بہت معمولی ہے۔“
وہ ریت کی طرح بکھرتی اس کے سینے سے سر ٹکائے رونے لگی تھی۔۔
”اور میرے لیے تم سے زیادہ کچھ بھی قیمتی نہیں۔“
اس کا جواب اول روز کی طرح ترنت آیا تھا۔اس نے اپنی متورم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
”مرد کو سب سے زیادہ پیاری
اپنی اولاد ہوتی ہے۔اور اولاد بھی اگر بیٹا ہو تو پھر اس سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ہوتا۔آپ مجھے ایزد پر کیسے فوقیت دے سکتے ہیں۔اور اگر مجھ سے اتنی ہی محبت تھی تو بھی آپ کو کوئی حق نہیں تھا خود کو اور ایزد کو خطرے میں ڈالنے کا۔وہ پاگل انسان اگر آپ کی جان لے لیتا؟میں مر جاتی۔“
وہ اس کے زخم ہر لب رکھ گئی تھی۔
”اولاد پیاری ہے۔عزیز ہے مگر اپنی بیوی سے زیادہ مجھے کوئی بھی قیمتی نہیں لگتا۔
تو آپ سب تیار ہے اس رومانٹک قسط کے لیے 🫣🫣 تو جلدی جلدی چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ ❤️
جو جو نیکسٹ پارٹ رات 8 بجے پڑھنا چاہتا ہے yes کمنٹ کرے 😉
3 weeks ago | [YT] | 78
View 24 replies
Urdu Novel World
”کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے؟“
اس نے صبا کا چہرہ نگاہوں میں بھر کر مخصوص حلاوت آمیز لہجے میں پوچھا۔
”جب تک آپ مجھ سے باتیں چھپائیں گے۔“
وہ تپی ہوئی تھی۔
”یار کون سی بات چھپائی ہے؟تم جانتی تھیں ہمارا کام۔کسب معاش کے ساتھ حق اور سچ کی لڑائی ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔تمہارا بھائی میرا دوست ہی نہیں بلکہ رہبر و رہنما بھی بنا۔اس نے جس راستے پر چلایا میں آنکھیں بند کرکے چلتا گیا۔اب مجھے کیا پتا تھا وہ مجھے۔“
صبا نے بلاتوقف قطع کلامی کی۔
”وہ آپ کو کہیں گے کہ انہیں کسی بھی خطرے کے سامنے تنہا چھوڑ دیں تو آپ مان جائیں گے۔واہ بڑی اچھی دوستی ہے۔انہوں نے ہمیشہ سینے پر گولی کھائی ہے۔مدثر! ایک نڈر انسان بارہاں اپنا خون بہا چکا مگر اس طرح اس مقام پر یہ سب نہیں ہونا چاہئیے تھا۔سالوں بعد میرے بھائی کو خوشی ملی تھی۔اور اب۔۔۔“
اس کی آواز بھرا گئی۔مدثر نے بازو اس کے کندھے پر پھیلادیا۔وہ جزبز ہوگئی۔
”اوکے میری غلطی ہے آئی ایم ویری سوری۔“
اس نے سرخ آنکھوں کے ساتھ صبا کو دیکھا۔یقیناً اسے بھی پچھتاوا تھا۔صبا رونے لگی تھی۔
”اب بس کرو۔زیست بھابھی نے کال کی تھی ایزد اب ٹھیک ہے۔وہ تمہارے نمبر پر کال کررہی تھیں مگر تم نے اٹھایا نہیں۔“
اس نے اپنی نم آنکھیں اٹھائی تھیں۔
”ہاں میں امی کے پاس تھی۔بعد میں آپ کی کال آگئی۔شکر ہے اللّٰہ کا۔اب ہم ایزد کو وہاں نہیں رہنے دیں گے۔ایک ہی تو ںچہ ہے ہمارے خاندان میں اور وہ بھی ہماری نظروں سے دور ہے۔۔“
اس کی بات پر مدثر مسکرایا تھا۔
”وہ نوائے زیست بھابھی کا بیٹا ہے۔ان کی مرضی کہیں بھی رکھیں۔ہمارا حق ہمارے اپنے بچوں پر ہوگا۔ انہیں ہم اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے۔“
صبا نے حیرانی سے اسے دیکھا پھر بات سمجھ کر سرخ چہرے کے ساتھ نظریں بھی جھکا گئی۔مدثر کھل کر مسکرایا تھا۔
”میں زیست سے بات کرتی ہوں۔“
صبا نے پہلو بدلہ۔
”پہلے یہ کھاو پھر بات کرنا۔ میڈم مجھ سے ناراض ہیں۔کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔“
صبا نے تابعداری سے برگر ختم کیا۔
کیا زیست ایزد کو واپس کر دے گی یا چھر جائے گی نئی جنگ۔۔۔۔۔ یہ جاننے کے لیے تو آپ کو ناول پڑھنا پڑے گا۔🫣
السلام علیکم ❤️ اذن محبت کے ریڈرز کیا آپ تیار ہیں نیکسٹ دھماکے دار پارٹ کے لیں تو جلدی جلدی چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ ❤️
جو جو نیکسٹ پارٹ شام 5 بجے پڑھنا چاہتا ہے yes کمنٹ کرے 😉
3 weeks ago | [YT] | 48
View 8 replies
Urdu Novel World
”ایزد کی فرمائش پر شہر بھر کے آدھے درجن تفریحی مقامات تو انہوں نے ایک دن میں گھوم لیے تھے۔زیست کی سالگرہ کا اہتمام سمندر کنارے کیا گیا تھا۔زیست نے کچھ جھجکتے ہوئے ایزد کی فرمائش پر کیک کاٹا تھا۔کیک کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لے کر اس نے ایزد کی طرف بڑھایا۔
”مما!پہلے بابا کو کھیلائیں۔“
اس نے زیست کا ہاتھ پیچھے کردیا۔بہزاد کا چہرہ اب بھی روشن تھا۔لبوں پر مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں کرب تھا۔
”ایزد!میری جان یہ آپ کی مما کا اہم دن ہے۔انہیں ان کے طریقے سے منانے دو۔“
بیٹے کو سمجھا کر اس نے زیست کو مشکل سے نکالا تھا۔ایزد نے خاموشی سے کیک کا ٹکڑا زیست کے ہاتھ سے کھا لیا۔بہزاد نےان دونوں کی خوب صورت تصاویر اپنے موبائل میں محفوظ کرلی تھیں۔حیران تو وہ اس وقت ہوا تھا جب اس نےکیک کا ایک ٹکڑا بہزاد کی طرف بڑھایا۔
”یہ میٹھاس ہماری زندگی کی ساری تلخیوں کو نگل لے گی ان شاء اللّٰہ۔“
اس نے زیست کے ہاتھ سے ٹکڑا لے کر پہلے اسے کھلایا اور باقی ماندہ کیک خود کھایا تھا۔
”تم خوش ہو۔“
ساحل کی ریت پر اپنا نام لکھتے ہوئے ایزد اور بہزاد سے کچھ دور وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔بہزاد ،ایزد کو گھروندا بناتا چھوڑ کر اس کے پاس آگیا۔
”نوائے زیست بہزاد آفریدی۔“
اس نے نوائے زیست کے ساتھ اپنا نام بھی لکھ دیا۔
”اب یہ نام مکمل ہے۔“
وہ لب کچلتی آنکھیں چھلکنے سے روک نہ سکی۔بےساختہ ہی اس کے قریب سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”زیست!کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو؟کیوں میری برداشت کا اس قدر کڑا امتحان لے رہی ہو؟تمہیں دوبارہ پاکر بھی۔میں صدیوں کے فاصلے پر کھڑا ہوں۔کیا ماہ و سال کی دوری نے مجھے اس قدر پرایا کردیا ہے؟یا پھر تمہیں مجھ سے کبھی محبت ہوئی ہی نہیں تھی؟ہجر و فراق کی کٹھن راتیں میرا ہی مقدر تھیں۔تم تو مجھ سے نفرت کرتی رہیں اور وہ نفرت شاید اب بھی ۔“
وہ خود کو اذیت دے رہا تھا۔
”بہزاد !پلیز پلیز مجھے مت مجبور کریں کسی بھی تعلق کی تجدید کے لیے۔محبت ،وفا،یہ رشتہ مجھے اب ہر چیز سے وحشت ہوتی ہے۔راعنہ سے آپ کی ماں سے نفرت کرتی ہوں میں یہ دونوں رشتے آپ کی زندگی میں ہیں جن سے میں شدید نفرت کرتی ہوں۔میں آپ کو نہیں کہہ رہی کہ آپ اپنی ماں اور بیوی کو چھوڑ دیں۔میرے لیے بہتر ہے کہ میں آپ سے فاصلے پر رہوں۔“
وہ حقیقت سے آشنائی چاہتی ہی نہیں تھی۔ماضی کے اندھیرے غار سے نکلنے کے لیے اسے بہزاد کا ہاتھ تھامنا پڑتا۔اور وہ تھی کہ ان حسین دنوں کو ایک خواب سمجھ کر جی رہی تھی۔اسے یقین تھا کہ اس کی آنکھ کھلے گی اور وہ پھر تنہا ہوگی۔نہ بہزاد ہوگا اس کے پاس اور نہ ایزد۔وہ اس حسین خواب کے ٹوٹنے سے ڈرتی تھی۔بہزاد کے سینے میں سانس اٹکنے لگی تھی۔
”تم مجھ سے دور کردی گئی تھیں لیکن یہ دوری دائمی نہیں تھی۔تمہاری یہ ضد ریت کی دیوار سے بھی کمزور ہے۔یہ تمہارے قائم کردہ خودساختہ فاصلے میری محبت کے منہ زور دریا کے سامنے بھلا ٹک سکتے ہیں؟ان فاصلوں کو بہرحال ختم ہی ہونا ہے۔تمہارے سارے”میرا بیٹا بہت انٹلیجنٹ اور کریٹو ہے۔“
اس نے ایزد کے سنہری بالوں کو سنوارا تھا۔
”یس میں بالکل اپنے بابا کی طرح ہوں۔“
بہزاد مسکرایا تھا۔
”ہاں اپنے بابا کی طرح ہو۔اور اپنے بابا کی طرح ہی
رہنا ہمیشہ۔ ایک تابعدار اور فرمانبردار بیٹے بھی تو
ہیں تمہارے بابا اور میں بھی تمہیں ایسا ہی دیکھنا
چاہتی ہوں۔“
بہزاد کی طرف اس نے نہیں دیکھا تھا جس کی
مسکراہٹ ایک پل کو معدوم ہوئی تھی مگر اس نے
فوراً ہی سر جھٹک دیا۔
”بالکل میرا بیٹا اپنی ماں کا تابعدار بیٹا بنے گا مگر تم
میری ماں کی طرح نہیں ہو اس لیے اس کی خوشی
کا خیال ہمیشہ رکھنا۔“
زیست نے چونک کر اسے دیکھا۔
”تمہیں خوش رہنا ہے دل سے ساری بدگمانیاں اور
نفرتیں نکال کر کیونکہ مکمل آسودگی کے لیے دل کو
شیشے کی مانند شفاف رکھنا ضروری ہے۔“
وہ اختلاف نہیں کرسکی۔بس نظروں کا زاویہ بدل کر
ایزد کے بنائے گھر کو دیکھنے لگی۔ہمیشہ محبت سے
بنائے گھروندے منہ زور لہروں کے نشانے پر کیوں
رہتے ہیں؟آج اسے سمجھ آگیا تھا۔محبت بےحد
بےخوف اور اندیشوں سے بےنیاز ہوتی ہے۔اسے خود
کو منوانے کے لیے سرکش لہروں کا مقابلہ کرنا آتا ہے
۔یہ گھروندا بے شک لہروں کے نشانے پر تھا مگر وہ
جان گئی تھی مٹی کے گھروندے ٹوٹنے سے گھر
نہیں بکھرتے۔ گھر دل کے آئینے میں دراڑ پڑنے سے
ٹوٹتے ہیں۔محبتوں کا فقدان گھر کی دیواروں کو
کھوکھلا کردیتا ہے۔نفرتیں رشتوں کو نگل لیتی ہیں
۔نفرتوں سے پاک دل ہی محبتوں کے امین ٹھہرتے ہیں
اور اسے یہ امانت اپنی اولاد کو لوٹانی تھی۔بہزاد نے
ٹھیک ہی کہا تھا۔مکمل آسودگی کے لیے دل کو
شیشے کی مانند شفاف رکھنا ضروری ہے۔
السلام علیکم ❤️ اذن محبت کے ریڈرز کیا آپ تیار ہیں نیکسٹ دھماکے دار پارٹ کے لیے 🫣 تو جلدی جلدی چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ ❤️
جلدی جلدی سبسکرائب کر لیں رات 8 بجے نیکسٹ پارٹ آئے گا 😉❤️
3 weeks ago | [YT] | 82
View 3 replies
Urdu Novel World
السلام علیکم ❤️ اذن محبت کے ریڈرز کیا آپ تیار ہیں نیکسٹ دھماکے دار پارٹ کے لیے 🫣 تو جلدی جلدی چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ ❤️
ٹھہریے جاتے جاتے نیکسٹ پارٹ کا سین انجوئے کرتے جائیں 😉
”فرمائیے کون سی تاویل پیش کریں گے آپ اپنے روئیے کی؟کون سی مصلحت یا حکمت بتائیں گے مجھے میری اس دربدری کی؟“
وہ تلخ و ترش ہوگئی تھی۔
”ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔“
بہزاد اس کے لب و لہجے سے تکلیف محسوس کررہا تھا وہ وہ ہی لوٹا رہی تھی جو اس کے دامن میں تھا۔تلخیاں،اذیتیں،تکلیفیں۔
”مجھے نہیں بیٹھنا۔“
بہزاد نے ایزد کو دیکھا جو اپنی ماں کے بچوں جیسے روئیے کو دیکھ کر حیران ہورہا تھا۔
”ایزد !آپ روم میں جاو۔اشرف بابا!آپ ایزد کو اس کی پسند کا ڈیزرٹ بناکردیں۔“
اس نے ملازم کو آواز دے کر ایزد کو وہاں سے بھیج دیا ۔جبکہ زیست لب سئیے ایسے کھڑی تھی کہ جیسے دروازے سے ہی بھاگ جانے کا ارادہ ہو۔
”چلئیے محترمہ اب میدان صاف ہوگیا ہے۔پہلے تو ایزد کا خیال تھا اب جیسے چاہے روٹھی سجنی کو منا سکتا ہوں۔“
قریب آکر اس نے زیست کا چہرہ تھاما تھا مگر وہ ہی بات کہ وہ شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی۔اس نے بہزاد کے دلکش چہرے کو پھر نشانہ بنانا چاہا تھا۔تھپڑ مارنے کے لیے اٹھا ہوا ہاتھ بہزاد نےراستے میں ہی تھام تھام لیا۔
”تمہیں جان لینے کا حق ہے۔ایک تھپڑ پر کیوں سارے حساب بےباک کرنا چاہتی ہو؟“
نگاہوں کی آویزش اور لہجے کی تپش نے اسے مزید سلگا دیا۔
”آپ کو اتنی آسان موت نہیں دینا چاہتی۔میں چاہتی ہوں آپ بھی پل پل تڑپیں۔تذلیل کیا ہوتی ہے اس کی تکلیف آپ بھی محسوس کریں۔چھوڑ دینے کا دکھ نہیں مگر اس کیچڑ پر صبر نہیں آتا جو ایک مرد نے مجھے طلاق دیتے ہوئے میرے مصفا کردار پر اچھالی تھی۔“
وہ خالی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ دل کا سارا غبار نکال دے۔
”کیوں بہزاد کیوں یقین کرلیا آپ نے راعنہ کا؟یاد ہے بہت سالوں پہلے اس دن ریسٹورینٹ میں مجھے ضیاء کے ساتھ نشے کی حالت میں دیکھ کر بھی آپ نے مجھے وہاں نہیں چھوڑا تھا۔مجھے ساتھ لے گئے تھے۔میرے سر پر اپنی عزت کی چادر ڈالی تھی۔اس دن میری نظروں میں آپ کا قد آسمان کی بلندیوں سے بھی اونچا ہوگیا تھا۔میری تصویروں کو دیکھ کر بھی آپ مجھ سے بدظن نہیں ہوئے تھے۔میرے باپ کے سامنے کھڑے ہوکر میری طرف داری آپ نے ہی کی تھی ناں۔پھر کیا ہوا کہ آپ نے یقین کرلیا کہ میں بدکردار ہوں اور ہمارے بچے کوئی گناہ ہیں؟دیکھئیے ایزد کو وہ ہو بہو آپ کے جیسا ہے بس آنکھوں اور بالوں کا رنگ مجھ سے ملتا ہے ورنہ اس کے چہرے کا ہر نقش بولتا ہے وہ بہزاد آفریدی کی اولاد ہے۔بہزاد آپ مجھے چھوڑ دیتے مگر یہ بہتان نہ لگاتےمیں اپنے بچوں کی جدائی میں مری ہوں مگر.“اس نے زیست کا بازو تھاما تھا۔
”زیست!ہمارےبچے تم بار بار کہہ رہی ہو۔ایزد ایزد ہے ہمارا بچہ اور ؟“
اس نے بےتابانہ اس سے استفسار کیا تھا۔وہ دنگ سی اسے دیکھتی رہ گئی۔وہ بےخبر تھا۔بےخبری کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔
”ہاں میں جڑواں بچوں کی ماں بنی تھی۔میری مردہ بیٹی جسے میرے ہاتھوں میں دیا گیا۔ایزد کو تو انہوں نے دیکھایا بھی نہیں تھا۔میرے بچے۔صرف میرے بچے ۔بہزاد میں نے تکلیفیں سہی ہیں۔عذاب بھگتے ہیں۔زندہ اولاد سے دوری کا عذاب۔اور مرے ہوئے پر رونے سے زیادہ انسان زندہ کی دوری میں روتا ہے۔اپنے بچوں کے لیے تڑپی ہوں میں۔مگر آپ کو تو معلوم بھی نہیں کہ میں نے بیٹی کو کھویا ہے۔“
وہ یکبارگی اسے اپنے وجود میں جذب کرنے کےلیے آگے بڑھا تھا۔وہ چاہتا تھا وہ دونوں ایک بار ان سارے دکھوں پر ساتھ مل کر رولیں۔مگر زیست نہیں چاہتی تھی۔
”دور رہیں مجھ سے نفرت ہوتی ہے مجھے یہ سوچ کر کہ آپ نے مجھ پر بہتان لگایا اس بہتان نے میرے سر سے وہ عزت کی چادر کھینچ لی جس سے آپ نے میرا تن ڈھانپا تھا۔پتا ہے کیسا لگا تھا مجھے جیسے ایک مردہ وجود کو بےآبرو کردیا گیا ہو۔میری بےگور و کفن لاش ضیاء جیسے گدھ کے سامنے پڑی تھی۔کیوں آپ نے مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کے بجائے ذلت کے گڑھے میں پھینک دیا تھا؟نفرت ہوگئی تھی ناں آپ کومجھ سے تو قبر بنادیتے میری۔آپ سے یہ کام نہیں ہورہا تھا تو یاور خان کو کہتے میرا باپ بہت غیرت مند ہے آپ کی طرح اس نے بھی میری ماں کو یونہی زندہ بےگورو کفن چھوڑ دیا تھا مگر وہ مجھے قتل کرنے میں دیر نہیں کرتا۔میرے بھائی مجھے مار دیتے مگر وہ ذلت جو میں نے اس قید میں جھیلی وہ میرا نصیب نہ بنتی۔ ۔“
بہزاد آفریدی تو اپنی جگہ گڑ کر رہ گیا تھا۔اس کی روح پر لگے آبلے تو لہو رس رہے تھے۔اس کا زخمِ دل ناسور بن گیا تھا۔
وہ آگے بڑھا تھا۔
”زیست!بےخبر تھا میں۔کچھ نہیں جانتا تھا۔مگر اب ہر زخم پر مرہم رکھنا چاہتا ہوں۔“
اس نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو جھٹکا اور پیچھے ہٹتے ہوئے وہ پھنکاری تھی۔سیاہ لباس میں اس کا وجود پتے کی مانند لرز رہا تھا۔
”دیکھیں ایک لاش ہوں میں۔لاش کو مرہم کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ہاں اگر آپ بھی ضیاء کی طرح مجھے مال مفت سمجھ رہے ہیں تو کرلیں شوق پورا۔“
اور بس بہزاد کی برداشت جواب دے گئی تھی۔اس نے ہاتھ اٹھایا تھا مگر پھر سختی سے مٹھی بھینچتے ہوئے اسے دیوار کی طرف دھکیلا تھا۔زیست کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔(تو کیا وہ واقعی ایک غلط شخص سے محبت کر بیٹھی تھی؟)وہ اس قدر صدمے میں تھی کہ مزاحمت کرنا بھی بھول گئی۔اس نے زیست کا جبڑا بائیں ہاتھ کی گرفت میں لیا تھا۔
”شوہر ہوں میں تمہارا۔کبھی ڈائیورس نہیں دی میں نےتمہیں۔دے ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ تم سب کے لیے مر چکی تھیں۔قبر دیکھنی ہے تمہیں اپنی میں دیکھاوں گا تمہیں وہ اذیت ناک منظر جو روز دیکھتا تھا مگر تمہارے مرنے کا یقین نہیں آتا تھا مجھے۔“
اس کی گرفت میں وہ ساکت کھڑی تھی۔اس کی آنکھوں میں بےکل پانیوں کی سطح پر بہزاد اپنا عکس ڈوبتا ابھرتا دیکھ سکتا تھا۔اس نے زیست کا چہرہ چھوڑ دیا اور اس سے دور ہوکر اپنی آنکھوں میں امڈتی نمی کو پیچھے دھکیلا۔
جلدی جلدی سبسکرائب کر لیں رات 8 بجے نیکسٹ پارٹ آئے گا 😉❤️
3 weeks ago | [YT] | 110
View 11 replies
Urdu Novel World
السلام علیکم ❤️ اذن محبت کے ریڈرز کیا آپ تیار ہیں نیکسٹ پارٹ کے لیے 🫣 ان شاء اللّٰہ نیکسٹ پارٹ آج رات 8 بجے اپلوڈ ہو جائے گا۔۔۔ تو جلدی جلدی چینل کو سبسکرائب کر لیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ ❤️
4 weeks ago (edited) | [YT] | 87
View 7 replies
Urdu Novel World
السلام علیکم پیارے ریڈرز
یہ پوسٹ اذن محبت کے ریڈرز کے لیے ہیں اسے لیے آپ سب توجہ فرمائیں۔۔۔
نیٹ ورک کی وجہ سے آج کی قسط دس بجے کے بعد اپلوڈ ہوگی لیٹ اپلوڈ کرنے کے لیے میں معذرت خواہ ہوں لیکن مسلہ اس وقت نیٹ ورک ہے ۔۔۔ میرا کام مکمل ہے اپنی طرف سے ۔۔۔
دوسری سب سے اہم بات جو لوگ بول رہیں ہے کہ ناول بے وجہ طویل کیا جارہا ہے جلد اسے ختم کر دینا چاہیے تو میں آپکو بتا دو یہ ناول بہت پہلے سے مکمل لکھا جا چکا ہے اور یہ پیڈ ناول ہے لیکن آپ سب کے لیے میں اس چینل پر فری اپلوڈ کر رہی ہوں ۔۔۔ روازنہ کی بنیاد پر 8:30پر ۔۔۔
پلیز اس بات کو بار بار مت کیجئے گا اب کہ ناول ختم کریں جلدی۔۔۔ یہ طویل ناول ہے جو روز اپلوڈ ہوتا ہے ۔۔۔ ویسے اس کی اب چند ایک اقساط ہی باقی ہے اسے لیے صبر رکھے اور ساتھ جڑے رہے شکریہ ۔۔۔۔
ویسے اب ڈیمانڈز نہیں رکھتی میں لیکن پانچ ہزار سبسکرائبرز ابھی تک مکمل نہیں ہوئے پلیز کر دیں
قصواء عالم ۔۔۔ خوش رہیں آمین
1 month ago | [YT] | 69
View 10 replies
Urdu Novel World
وہ نہا دھو کر باتھ روب پہنے اپنے کمرے میں آئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی ٹانگوں سے جیسے جان نکلی تھی سامنے ہی دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا وہ ستمگر اس کے تر و تازہ سے سراپے کو بے باک نگاہوں سے نہار رہا تھا۔
"تم یہاں ؟" وہ گھبرائی اور اس سے قبل وہ کچھ کر پاتی ہا واپس باتھ روم میں جا کر خود کو اس کی نگاہوں سے چھپا پاتی، وہ ایک ہی جست میں اس کے بے انتہا قریب آیا تھا۔
"مجھ سے پریشان ہو رہی ہو ؟ بہت سالوں سے دور ہیں مگر کبھی میں تمھارے بے انتہا قریب ہوا کرتا تھا۔ یاد تو ہو گا۔" اس کے بھیگے بالوں میں انگلیاں پھنساتے اس نے صبا کی جان ہلکان کی تھی۔ ماضی کے کئی حسین اور بے باک لمحے ان دونوں کی یادوں میں جیسے تازہ ہو گئے تھے۔
"چھوڑو مجھے فارس تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔" اس نے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کی۔
"سمارٹ تم نے یہ نہیں پوچھا کہ میں یہاں آیا کیسے۔ جانتی ہو اس کمرے تو کیا ہوٹل کے کسی بھی کمرے تک رسائی حاصل کرنا فارس خانزادہ کے لیے مشکل نہیں اور پھر تم سے تو گہرا تعلق ۔۔۔۔"
"کچھ نہیں ہوں میں تمھاری۔ اب چھوڑو مجھے۔"صبا نے اپنی کوشش جاری رکھتے کہا۔
"جتنا کوشش کرو گی صبا میں تمھیں اتنا ہی خود میں الجھاوں گا۔ اس کی کمر کو جھکڑتے اس کے بھیگے بالوں کی مہک محسوس کرتے فارس نے کہا مگر اس کے لہجے میں کہیں مدہوشی کا عنصر تک نہیں تھا وہاں تھا تو صد ، جنون اور اپنی من مانی کرنے کی عادت تھی ، وہ ضد و جنون جس نے ان دونوں کے راستے جدا کئے تھے۔
"دور رہو مجھ سے۔۔ "صبا نے اس خود سے دور کرنے کی تگ و دو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
"نہیں رہ سکتا۔"صبا کی بات کاٹتا وہ برجستگی سے بولا نظریں اب اس کے چہرے پر جمیں تھیں۔
"میں سیکیورٹی کو بلا لوں گی فارس خانزادہ۔ یہ مت بھولو۔کہ اگر تم فارس خانزادہ ہو تو میں بھی ریحان منظر کی منگیتر ہوں۔"صبا کی بات پر فارس کا استہزائیہ قہقہ بلند ہوا۔
"جیسے مجھے فرق پڑتا ہے۔" وہ سابقہ انداز میں گویا ہوا۔
"کیوں آئے ہو تم فارس کیوں ؟" وہ رو دی اور اس کو کمزور پڑتے دیکھ فارس نے اسے خود میں مذید بھینچا۔
" تمہیں یاد دلانے آیا ہوں کہ تم اب بھی میری ہو۔" اسے اپنے سینے سے لگاتے وہ استحقاق سے بولا تو کچھ دیر وہ اس کے حصار میں جیسے سب بھول گئی۔ مگر اگلے ہی لمحے کچھ دلخراش یادیں اس کے ذہن پر تازہ ہوتیں اسے اس لمحے کے حصار سے نکال لائیں۔ اسے احساس ہوا وہ کس حال میں فارس خانزادہ کے حصار میں قید کھڑی ہے۔
"چھوڑو مجھے فارس۔ چلے جاؤ یہاں سے۔" فارس کو خود سے دور دھکیلتے وہ دھاڑی تھی۔
"آج بھی میری قربت میں پھگل جاتی ہو تم۔ ایک بار پھر اس کے قریب آتے فارس نے اس کے کندھے سے کھسکتا باتھ روب درست کیا تو وہ شرمندہ ہوتی رخ پھیر گئی۔ اور فارس بہت آہستگی سے اس کے پیچھے ان رکا۔
"تمھیں ڈر ہے کہ میں کچھ دیر اور یہاں رہا تو تم خود کو ایک بار پھر میرا ہونے سے روک نہیں پاؤ گی۔" وہ سرگوشی نما آواز میں اس کے کان میں سحر پھونکنے لگا۔
"ایسا کچھ نہیں ہے فارس خانزادہ۔" اس نے فارس سے زیادہ جیسے خود کو یقین دلایا تھا۔
"چاہو تو میں ثابت کر سکتا ہوں۔" اس نے ایک بار پھر اس کا رخ اپنی جانب موڑتے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اس کے چہرے پر نظریں دوڑائیں۔
"تمھیں اور آتا ہی کیا ہے فارس خانزادہ۔ اپنا آپ دوسروں پر تھوپنا ، دوسرے پر حکم چلانا ان کی زندگیوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا اور انھیں ڈومینیٹ کرنا مگر اب میں تمھاری کٹپتلی نہیں بنوں گی۔" اس نے خود کو مضبوط کرتے فارس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ دونوں کی نظریں ٹکرائیں تو فارس خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ اس کے لفظوں سے جیسے فارس کے اندر کچھ ٹوٹا تھا۔ جن آنکھوں میں کبھی وہ صبح شام دیکھا کرتا تھا آج ان آنکھوں میں اس کے لیے اتنی نفرت اتنی خفگی وہ نا راضگی تھی۔ صبا کا ردعمل اور باتیں اس کے اندر دبے غصے کو ابھارنے لگے تھے۔ جس کا احساس صبا کو تھا مگر اب وہ اس غصے کی پرواہ نہیں کرتی تھی۔
"لیو می اینڈ گیٹ آؤٹ !" وہ غصے سے پھنکاری مگر اگلے ہی پل فارس نے اسے اپنی گرفت میں جھکرتے پیچھے پڑے بیڈ پر گرایا تھا اور اس پر قابض ہوا۔
"تم میرے صبر کا بہت امتحان لے چکی ہو صبا ، تین سال کم نہیں تھے مجھے آزمانے کے لیے۔۔۔ اب تم میرے سامنے کسی اور سے محبت کرنے کا ناٹک کر رہی ہو ، کسی اور کی زندگی میں شامل ہونے کی بات۔۔۔ میں تین سال تڑپا ہوں تمھارے لیے۔۔۔۔"
"میں نے یہ تین سال کی جدائی تمھیں آزمانے کے لیے نہیں تم سے دور ہو جانے کے لیے اپنائی تھی اور اب میں تم سے بہت دور جا چکی ہوں فارس خانزادہ۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو۔۔۔ سنا تم نے۔" وہ اسے خود سے دور دھکیلنے کی کوشش کرتی بولی۔
"دور سہی پر تم اب بھی میری ہو صبا صرف اور صرف میری۔۔۔ اینڈ آئی ول پروو ڈیٹ۔۔۔" وہ ان کے درمیان کا بچا کچا فاصلے مٹا کر اس کو اپنے بس میں کر گیا تھا۔ وہ مکمل طور پر اس کی پناہوں میں سمائی کوئی مزاحمت کرنے لائق بھی نہیں رہی تھی۔کچھ لمحوں کے بعد صبا کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے اس کی جسارتوں پر جیسے بند باندھا تھا۔
"تمھاری قربت مجھے تکلیف دیتی ہے فارس خانزادہ ، تمھارے لمس سے مجھے گھن آتی ہے۔ مجھ سے دور ہو جاؤ۔ " فارس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی کہنے لگی اور اس کے الفاظ نے فارس خانزادہ کو جیسے پتھر کا کیا۔ اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ کر وہ خود سے نظریں ملانے لائق نہیں رہا۔ وہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا اگلے ہی لمحے کمرے سے چلا گیا تھا اور پیچھے بیڈ پر بکھری سی حالت میں پڑی صبا اپنا آپ سنبھالتی اٹھ کر دروازے تک آئی اور اسے مقفل کر کے وہیں بیٹھتی روتی چلی گئی۔
Complete novel Link
youtube.com/playlist?list=PLZ...
1 month ago | [YT] | 20
View 0 replies
Urdu Novel World
"تمھاری قربت مجھے تکلیف دیتی ہے۔۔۔۔۔ مجھے تمھارے لمس سے گھن آتی ہے۔"صبا کی باتیں کسی ہتھوڑے کے ماند اس کے ذہن میں بجنے لگیں۔ وہ گاڑی بے مقصد سڑکوں پر ڈوراتا رہا تھا۔
"آئی ہیٹ یو فارس خانزادہ۔۔۔۔میں نے یہ تین سال کی جدائی تم سے دور ہو جانے کے لیے اپنائی تھی۔۔۔" اس کا ضبط اب جواب دینے لگا تھا۔ وہ چاہ کر بھی ان حسین یادوں کو سوچ نہیں پا رہا تھا جو اس نے کبھی صبا کے ساتھ گزاریں تھیں۔ یاد تھا تو اس کی نفرت ، اس کے تلخ الفاظ اس کی آنکھوں سے بہتا وہ گرم سیال جو اس کی بے انتہا قربت اور لمس پا کر بہا تھا اور وہ آخری لمحہ جب وہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹی تھی۔ تب فارس کو لگا تھا صبا کے ساتھ ساتھ وہ بھی مر گیا ہے مگر آج صبا کی آنکھوں سے بہتا پانی اسے یہ سمجھا گیا تھا کہ ان کے درمیان کی محبت بھی مر گئی ہے اور یہ احساس بڑی سے بڑی تکلیف پر حاوی ہو رہا تھا۔
کیوں کیوں کیوں ؟ وہ سٹیرنگ پر ہاتھ مارتا اپنا غصہ نکالنے کی کوشش میں ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھاتا جا رہا تھا۔ اس دوران اس نے کتنے ہی سگنلز توڑے تھے اور کتنی ہی گاڑیوں کے ٹائرز کی چرچراہٹ کے ساتھ ہارن کی تیز آوازیں اس کی سماعت تک آئیں تو تھیں مگر وہ ان کا ادراک کرنے سے قاصر تھا یہاں تک کہ ایک زور دار تصادم اور پھر ہر منظر اور ہر آواز جیسے کہیں غائب ہو گئی تھی۔ اگر تھا تو ایک خاموش سناٹا اور اس ستمگر کے الفاظ کی بازگشت۔۔۔۔۔"تمھاری قربت مجھے تکلیف دیتی ہے۔۔۔گھن آتی ہے۔۔۔۔۔ائی ہیٹ یو۔۔۔۔۔ "
Complete novel link
https://youtu.be/Cy1hBockRFE?si=1PdnZ...
1 month ago | [YT] | 8
View 0 replies
Urdu Novel World
"یہ کیا کیا تم نے ؟؟"
تہش بھرے لہجے میں مہر کو دیکھ کر کہتی ہوئی سمرا بیگم کچن میں داخل ہوئی تھی جب کہ ان کے ہاتھ میں جلی ہوئی شرٹ موجود تھی۔ان کا چہرہ غضب سے سرخ ہو رہا تھا۔ وجہ یہ ان کی پسندیدہ قمیض تھی۔ جو کہ بری طریقے سے جل چکی تھی۔
مہر نے خشک ہوتے سانس کے ساتھ اس قمیض کی حالت دیکھی تھی مگر جب وہ اسے پریس کر کے وہاں رکھ کر آئی تھی۔ تو وہ بالکل ٹھیک تھی۔ یہ اچانک سے قمیض کیسے چل گئی مگر اگر یہ بات وہ نہیں بول دیتی تو یہاں پر قیامت آ جانی تھی۔
" بی بی جی میں نے یہ قمیض نہیں جلائی۔۔۔ لیکن اگر مجھ سے غلطی سے ہو گئی ہو تو۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔"
سنجیدہ لہجے میں اپنا حلق تر کر کے کہتی ہوئی مہر باقاعدہ سے کپکپا رہی تھی۔ یہ دو عورتیں ہی اس کے گھر میں سانس روکنے کا باعث بن رہی تھی۔ جب کہ عورت ہو کر عورت کا درد بھی وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔تبھی تہش سے سرخ پڑتی ہوئی سمرا بیگم آگے بڑھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام تھے۔ گرم توے پر رکھ چکی تھیں ۔۔۔
"معافی کی بچی ۔۔۔"
کچن اور اس سے ملے ہوئے ہال میں مہرو کی چیخیں عروج پر تھی درد سے تڑپتے ہوئے وہ ان سے بس اپنا ہاتھ چھڑا لینا چاہتی تھی۔ جب کہ سمرا بیگم تو تہش سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اسے مزید دباؤ دیتے ہوئے اپنے قمیض اور اپنی بیوگی کا بدلہ اس سے لے رہی تھی۔
تبھی گھر میں پورے دو ہفتے بعد تبریز خان زادہ داخل ہوا تھا۔ اپنے قدم سامنے سیڑھیوں کی طرف بڑھاتے ہوئے اچانک کسی کی دبی دبی چیخیں سنتے ہوئے اس کے کان کھڑے ہوئے تھے۔ اپنے ماتھے پر بل ڈالے وہ کچن کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ جہاں سے چیخوں کی آواز آ رہی تھی۔
"آہ۔۔۔ہہ۔۔...."
وہ بری طرح چیختے زور زور سے رونے لگی جب تبریز خانزادہ کیچن میں داخل ہوا۔ سب اس معصوم کی چیخوں کو نظر انداز کیے اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ سامنے کا منظر دیکھتے ہوئے اس کی دماغ کی رگیں پھٹنے لگی تھی۔اس کی چچی مہر کے ہاتھ کو جلتے توے پر رکھ چکی تھی۔
اس نے غصے سے مہر کو اس سے دور کرتے اپنے پیچھے کیا۔۔
"یہ کیا تماشہ ہے مارنا چاہتی ہیں آپ اسے؟"
وہ سمجھا کہ مہر کوئی ملازمہ ہے پر نہیں جانتا تھا یہ وہی لڑکی ہے جو دو ہفتے پہلے ونی ہوکر اس کے نکاح میں آئی تھی۔
"انسانیت نام کی کوئی چیز ہے کہ نہیں اس گھر میں۔۔۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی جنونی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔۔۔"
سنجیدگی سے سامنے کھڑی اپنی چچی کو دیکھ کر وہ دھاڑتے ہوئے بولا تھا۔ جب کہ ایک ہاتھ سے اس لڑکی کو اپنے پیچھے تھام رکھا تھا۔ بنا دیکھے وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے گھر میں کام کرنے والی کوئی ملازمہ ہی ہے ۔ تبھی بنا ان کے سخت چہرے کی پرواہ کی اور وہ سختی سے اس لڑکی کا ہاتھ تھامیں باہر کی جانب بڑھا تھا۔
وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے لگا۔۔۔ جب پیچھے سے ماں کی آواز پر پتھر ہوگیا ۔۔۔
"خان اگر تم قاتل کی بہن کو ہسپتال لے گیا تو ہم تم کو دودھ نہیں بخشے گا۔۔۔"
مکمل لنک کے لیے yes کمنٹ کریں 😉
۔
۔
#urdunovels #fantasy #RomanticFeelings #RomanticThriller #UnderworldStory #DarkLove #CrimeAndLove #trendingpost #viralpost #storytelling #dramalovers #viral #followers #fyyypppp
1 month ago | [YT] | 27
View 12 replies
Load more