موجودہ دور ، دورِ دجل ہے ، دورِ تلبیس ہے۔ موجودہ دور میں حقائق کو مصنوعات و موضوعات کے ساتھ کچھ اس طرح گڈ مڈ کر دیا گیا ہے کہ ان میں باہم امتیاز بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مفتی شاہ باب اشرفی(اتراکھنڈ) میرے بہت پرانے اور انتہائی قریبی دوست ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک شخص کسی کے ہاں سے دودھ لیتا تھا۔ وہ شخص نقلی دودھ بنا بنا کر اسے روزانہ دے دیتا۔ ایک دن اس نے اصلی دودھ دے دیا۔ اگلے دن اس نے شکایت کی کہ کیا بات ہے ؟ کل جو دودھ آپ نے دیا تھا ، وہ نقلی تھا کیا ؟ پوچھا ، کیا بات ہوئی ؟ بتایا کہ اس میں مزا کم تھا۔ جو روزانہ دودھ دیتے تھے ، اس میں مزا بہت تھا۔ پھر اس نے تاکید کی کہ روزانہ جو دودھ دیتے تھے ، وہی دیا کرنا۔ دجل و تلبیس کے اس دور میں کمال کی بات یہ ہے کہ انسان دجل و تلبیس کو سمجھ سکے ، اور اس سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ دجال گوکہ ابھی نہیں آیا ؛ لیکن دجالیت ابھی بھی بہ کمال درجہ عروج پر ہے۔
Shaikh Saifullah
#saifullah
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
Shaikh Saifullah
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
Shaikh Saifullah
#kashmir #saifullah
1 year ago | [YT] | 2
View 1 reply
Shaikh Saifullah
(فکر و فلسفہ)
نقلی دودھ
موجودہ دور ، دورِ دجل ہے ، دورِ تلبیس ہے۔ موجودہ دور میں حقائق کو مصنوعات و موضوعات کے ساتھ کچھ اس طرح گڈ مڈ کر دیا گیا ہے کہ ان میں باہم امتیاز بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مفتی شاہ باب اشرفی(اتراکھنڈ) میرے بہت پرانے اور انتہائی قریبی دوست ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک شخص کسی کے ہاں سے دودھ لیتا تھا۔ وہ شخص نقلی دودھ بنا بنا کر اسے روزانہ دے دیتا۔ ایک دن اس نے اصلی دودھ دے دیا۔ اگلے دن اس نے شکایت کی کہ کیا بات ہے ؟ کل جو دودھ آپ نے دیا تھا ، وہ نقلی تھا کیا ؟ پوچھا ، کیا بات ہوئی ؟ بتایا کہ اس میں مزا کم تھا۔ جو روزانہ دودھ دیتے تھے ، اس میں مزا بہت تھا۔ پھر اس نے تاکید کی کہ روزانہ جو دودھ دیتے تھے ، وہی دیا کرنا۔
دجل و تلبیس کے اس دور میں کمال کی بات یہ ہے کہ انسان دجل و تلبیس کو سمجھ سکے ، اور اس سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ دجال گوکہ ابھی نہیں آیا ؛ لیکن دجالیت ابھی بھی بہ کمال درجہ عروج پر ہے۔
خالد سیف اللہ صدیقی
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies