Description

Follow On Instagram👇👇👇👇👇👇👇👇👇

NAWAZ JUNAID 👈🏻


Assalamu Alaikum

Only Allah Can Make Us Successful😇👆🏻

💫Welcome All You Beautiful People💫

I guess what I am inspired by |

NAWAZ JUNAID is a YouTube channel Amazing Facts and Historical knowledge, Whare you will find lot of knowledge about history in hindi

👇🏻Any copyright issues and Business👇🏻

←Contact usjk'5977512@gmail.com@gmail.com👈🏻

I'm Proud To Be A Muslim😇

अल्लाह तआला आपके इज्जत मे, माल मे, बरकत अता फरमाए
😍😍😍😍😍😘😘😘😘😘


Muslims mindset

10k

5 days ago | [YT] | 1

Muslims mindset

🤲🥹

6 days ago | [YT] | 2

Muslims mindset

10 k subscribe

1 week ago | [YT] | 2

Muslims mindset

Kya faida class mai top karne Ka jab

Phele sawaal hi NAMAZ ka pucha jaayega

1 week ago | [YT] | 1

Muslims mindset

Assalamu Alaikum 🤍
Aap sab ka support ke liye shukriya.
Kaun-sa topic next video me chahiye?”

2 weeks ago (edited) | [YT] | 8

Muslims mindset

Assalamualaikum Everyone Alhamdulillah 5k subscribe complete

3 weeks ago | [YT] | 2

Muslims mindset

قصہ آدم علیہ السلام

(دسواں حصہ)

تعلیم آدم ؑاور فرشتوں کا اقرار عجز

یہ سمجھنا سخت غلطی ہے کہ اس مقام پر فرشتوں کا سوال اس لیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مناظرہ یا اس کے فیصلہ کے متعلق موشگافی کریں بلکہ وہ آدم کی تخلیق کا سبب معلوم کرنا چاہتے تھے اور یہ کہ اس کے خلیفہ بنانے میں کیا حکمت ہے ان کی خواہش تھی کہ اس حکمت کا راز ان پر بھی کھل جائے ‘ اس لیے ان کے طرز ادا اور تعبیر مقصد میں کوتاہی پر تنبیہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ ان کے اس سوال کا جواب جو بظاہر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تحقیر پر مبنی ہے۔ عمل و فعل کے ذریعہ اس طرح دیا جائے کہ ان کو خود بخود آدم (علیہ السلام) کی برتری اور حکمت الٰہی کی بلندی و رفعت کا نہ صرف اعتراف کرنا پڑے بلکہ اپنی درماندگی اور عجز کا بھی بدیہی طور پر مشاہدہ ہوجائے ‘ لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی سب سے عظیم المرتبت صفت ” علم “ سے نوازا اور ان کو علم اشیاء عطا فرمایا۔ اور پھر فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ارشاد فرمایا کہ تم ان اشیاء کے متعلق کیا علم رکھتے ہو ؟ وہ لاعلم تھے کیا جواب دیتے۔ مگر چونکہ بارگاہ صمدیت سے قرب رکھتے تھے سمجھ گئے کہ ہمارا امتحان مقصود نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل ہم کو ان کا علم ہی کب دیا گیا ہے کہ آزمائش کی جاتی بلکہ یہ تنبیہ مقصود ہے کہ ” خلافتِ الٰہیہ “ کا مدار کثرت تسبیح و تحلیل اور تقدیس و تمجید پر نہیں بلکہ صفت ” علم “ پر ہے ‘ اس لیے کہ ارادہ و اختیار ‘ قدرتِ تصرف اور قدرت اختیار یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ حکومت ارضی صفت ” علم “ کے بغیر ناممکن ہے ‘ پس جبکہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کا مظہر ا تم بنایا ہے تو بلاشبہ وہی خلافت ارضی کا مستحق ہے نہ کہ ہم ‘ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ ملائکۃ اللہ چونکہ اپنی خدمات مفوضہ کے علاوہ ہر قسم کی دنیوی خواہشوں اور ضرورتوں سے بے نیاز ہیں ‘ اس لیے وہ ان کے علم سے بھی نا آشنا تھے اور آدم (علیہ السلام) کو چونکہ ان سب سے واسطہ پڑنا تھا اس لیے ان کا علم اس کے لیے ایک فطری امرتھا۔ جو ربّ العٰلمین کی ربوبیت کاملہ کی بخشش و عطا سے عطا ہوا اور اس کو وہ سب کچھ بتادیا گیا جو اس کے لیے ضروری تھا۔

جاری ہے۔

خالی تحت
یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں حضرت بہلول دانا نے
ایسی حرکت کی کہ خلیفہ ہارون الرشید کا سر شرم سے جھک گیا
یہ واقعہ سنیں اور ہمارے چینل کو لازمی سبسکرائب کریں

https://youtu.be/V5JdNsrEJhU?si=f0Ox-...

2 months ago | [YT] | 1

Muslims mindset

حضرت ادریس علیہ السلام
حضرت یرد کے بیٹے۔

(چوٹھا حصہ)

جنّت اور دوزخ کی سیر

روضتہ الاصفیا کے مصنّف تحریر کرتے ہیں کہ’’ حضرت ادریسؑ کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور عبادت میں مصروف رہتے تھے اور فرشتوں میں نہایت محبّت اور عقیدت و احترام کی نظروں سےدیکھے جاتے تھے۔ فرشتے اُن کے پاس آتے اور اُن کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے۔ چناں چہ ایک مرتبہ حضرت عزرائیلؑ بھی اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر آئے اور انسانی شکل میں بہت دیر تک اُن کی صحبت میں حاضر رہے۔ حضرت ادریسؑ کو جب معلوم ہوا کہ یہ کوئی انسان نہیں، بلکہ حضرت عزرائیلؑ ہیں اور رُوح قبض کرنے کی خدمت پر مامور ہیں، تو آپ ؑنے اُن سے فرمایا کہ’’ میرا دل چاہتا ہے کہ تم مجھے موت کا ذائقہ چکھائو۔‘‘اس پر حضرت عزرائیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اُن کی رُوح نکالی اور پھر واپس کر دی۔ اس کے بعد حضرت ادریس ؑنے اُن سے فرمایا’’ میرا دل چاہتا ہے کہ مَیں جنّت اور دوزخ دیکھوں۔‘‘ چناں چہ حضرت عزرائیل نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر اُنھیں دوزخ دِکھائی۔ وہ دوزخ دیکھ کر جنّت میں آئے اور بہت دیر تک وہاں کے مناظر دیکھتے رہے۔ آخر حضرت عزرائیلؑ نے عرض کیا کہ’’ اب واپس تشریف لے چلیے‘‘، مگر حضرت ادریس ؑ نے جواب میں کہا کہ ’’جب تک جنّت و دوزخ کو پیدا کرنے والا مجھے یہاں سے جانے کا حکم نہیں دے گا، اُس وقت تک یہاں سے نہیں جائوں گا۔‘‘ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو مقرّر فرمایا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ حضرت عزرائیلؑ نے اُس فرشتے کو پوری صُورتِ حال بتائی، پھر حضرت ادریسؑ نے فرمایا’’ مَیں قانونِ خداوندی کے مطابق موت کا ذائقہ چکھ چُکا ہوں اور اب جنّت میں آ گیا ہوں۔ چوں کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’ وما ھم بخارِ جِینَ مِنھا‘‘ یعنی’’ ہم تم کو اس سے نہیں نکالیں گے‘‘، لہٰذا مَیں یہاں سے نہیں جانا چاہتا۔‘‘ حضرت کعب احبار کی روایت ہے کہ فرشتے نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فیصلہ کیا کہ’’ اچھا آپؑ چھٹے آسمان پر رہیے اور فرشتوں کے ساتھ عبادت کیجیے۔‘‘ چناں چہ حضرت ادریس علیہ السّلام چھٹے آسمان پر فرشتوں کے ساتھ عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ (واللہ اعلم)۔ اس سلسلے میں متفّق علیہ حدیث یہ ہے کہ’’ حضرت ادریس ؑچوتھے آسمان پر ہیں۔‘‘ مجاہدؒ اور دیگر بہت سے علمائے کرام کا یہی قول ہے۔(ابنِ کثیر)

جاری ہے۔

تالاب کے کندلے پانی میں بھی تمہارا چہرہ
نظر نہیں آیا
حضرت بہلول دانا اور ہارون الرشید کا ایک
سبق آموز واقعہ
یہ واقعہ سنیں اور
ہمارے چینل کو subscribe بھی لازمی کرے

https://youtu.be/3FQeYbUAGAE?si=idkbl...

2 months ago | [YT] | 1

Muslims mindset

HAJI ALII DARGAH

2 months ago | [YT] | 19

Muslims mindset

Happy birthday 🎂 onyd

2 months ago | [YT] | 14