Welcome to the official YouTube channel of Pakistan Vloge! Dive into the vibrant culture, rich history, and diverse landscapes of Pakistan with our engaging vlogs. Join us on exciting journeys across this beautiful country, exploring everything from bustling cities to serene natural wonders. Subscribe now for regular updates and don't miss out on our latest adventures!
Dekhti Aankh (All in one)
محفل میلادِ النبی ﷺ انشا اللہ آج رات لائیو اس یوٹیوب چینل پر، دیکھنا نہ بھولیں۔۔ بعد نماز مغرب۔
8 months ago | [YT] | 5
View 1 reply
Dekhti Aankh (All in one)
الله اڪبر
9 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
*یوٹیوب کی نئی پالیسی اور بینگن کی دوکان*
دوستو،
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا مثال ہے۔
یوٹیوب کی نئی پالیسی کو آسان طریقے سے سمجھنے کے لیے ایسے سمجھیں جیسے یوٹیوب ایک شاپنگ مال ہے۔ وہ سب کو اپنی دوکان کھولنے کی اجازت دیتا ہے، بغیر کسی خرچے کے، اور اگر دوکان پر زیادہ لوگ آئیں تو ان کو پیسے بھی دیتا ہے جو وہ اشتہاروں سے کماتا ہے۔ یوٹیوب کی کمائی اس میں ہے کہ آپ کتنی اچھی دوکان چلاتے ہیں — کیونکہ جب لوگ آپ کی دوکان پر آئیں گے تو مال میں لگے دوسرے اشتہارات بھی دیکھیں گے۔ یوٹیوب اُن اشتہارات میں سے آپ کو پیسے بھی دیتا ہے۔
لیکن پھر کچھ ہوشیار لوگ آئے اور مال کے اندر دوکانداروں کے سامنے کھڑے گاہکوں کو بولنے لگے کہ: "یار! باہر اتنے سستے، تقریباً مفت بینگن مل رہے ہیں، تم وہیں سے اٹھا کے لے آؤ اور بھیجو، مال والا تمہیں بھی پیسے دے گا۔" بہت سارے کام چور اور راتوں رات ڈالر کمانے والوں کو لگا کہ یہ مال والا تو بیوقوف ہے۔ ہم تو روز بینگن لائیں گے اور مفت میں پیسے کمائیں گے۔ ایک، دو، بڑھتے بڑھتے سب نے یہی کیا۔ اب نہ مال والے کے پاس لوگ آتے ہیں، نہ ہی اشتہار والے راضی ہو رہے ہیں۔
اب یوٹیوب نے کہا ہے کہ 15 جولائی 2025 سے صرف وہی دوکان چلے گی جس میں اصل مال ہوگا، اصلیت اور محنت ہوگی۔ اب اگر تم واقعی بینگن ہی بیچنا چاہتے ہو، تو صرف کچے بینگن نہ رکھو۔ بینگن کا سالن، بینگن کا برتا، بینگن کا اچار، بینگن فرائی، یا بینگن گوشت بیچو — یعنی ایسا مواد جس میں تمہاری سوچ، تمہاری محنت اور تمہارا ہاتھ نظر آئے۔ اب یوٹیوب چالاکی سے نہیں، محنت سے کمایا ہوا مواد ہی قبول کرے گا۔ cp
10 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
آیا نہ ہوگا اِس طرح حُسن و شبَاب ریت پر
گُلشنِ فاطمہؓ کے تھے سارے گُلاب ریت پر
جانِ بتولؓ کے سوا کوئی نہیں کِھلا سکا
قطرہ آب کے بغیر اتنے گُلاب ریت پر
جتنے سوال عشق میں آل رسُولﷺ سے کیے
ایک کے بعد ایک دیئے سارے جواب ریت پر
پیاسا حُسینؓ کو کہوں اتنا تو بے ادب نہیں
لب سے لبِ حُسینؓ کو ترسا ہے آب ریت پر
عشق میں کیا بچایئے عشق میں کیا لُٹائیے
آل نبی ﷺ نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آل نبی ﷺ کا کام تھا آل نبی ﷺ ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیب ایسی کتاب ریت پر
آیا نہ ہوگا اس طرح حُسن و شباب ریت پر
گلشن فاطمہؓ کے تھے سارے گلاب ریت پر
( لاکھوں سلام حسینؓ جگر گوشہِ رسول ﷺ)
( پروفیسر ادیب رائے پوری )
10 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
تمام چاہنے والون کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہین جنہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی۔اور ہمارا چینل سبسکرائب کیا۔تمام سبسکرائبرز کا تہ دل سے شکریہ 🙏🙏🙏
1 year ago | [YT] | 9
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
ہماری تاریخ میں کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
"ہماری تاریخ میں کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے۔۔ اہرام مصر کے بعد مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ "حیران و پریشان" کیا ہے وہ ہے، ایسٹر آٸی لینڈ ۔ ٹیکنالوجی اور ساٸنس کا جب کوٸی نام و نشان نہیں تھا،،،،،،،، دور دور کوٸی علاقہ بھی نہیں تھا وہاں سے کوٸی "اوزار" نہیں ملے، لوگ کہاں سے آٸے تھے، اور کہاں چلے گٸے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ایک طرف ساٸنس کہتی ہے، کہ دنیا میں "انسان" کا قد ہمیشہ سے یہی پانچ یا چھ فٹ ہی رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف اگر آپ اہرام مصر اور ایسٹر آٸی لینڈ کے بارے میں "گہرائی" سے پڑھ لیں،، تو بندہ فکر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوجاتا ہے۔کیونکہ یہ چیزیں تو اب بھی موجود ہیں۔ زیادہ تر دوست Easter Island کے بارے میں شاید نہیں جانتے ہوں گے۔۔۔ سو ان کی رہنمائی کے لیے بتاتا چلوں کہ ایسٹر آئی لینڈ دنیا کی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر تراشے گٸے پتھروں کے بڑے بڑے اور عظیم مجسمے موجود ہیں۔
اب یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ اتنے مجسمے کیسے بناٸے گٸے۔ بل کہ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ اس "ایسٹر آئی لینڈ" کے اس پاس ایسا کچھ بھی موجود نہیں،،،، کہ ہم اس طرف توجہ مرکوز کریں۔۔۔۔یعنی اگر یوں کہا جاٸے کہ یہ دنیا کی تنہا ترین جگہ ہے،،،،،،، تو ہرگز غلط نہیں ہوگا کیوں کہ یہاں سے قریب ترین جزیرہ تقریبا 2000 کلومیٹر دوری پر ہے۔ میں پھر سے دہراتا چلوں ”دو ہزار کلومیٹر“۔اسکے بعد ہم ہرگز یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ یہاں یہ تراشے ہوٸے پتھر کہاں سے لاٸے گٸے ہونگے کیونکہ یہ فاصلہ ہمارے بنوں سے دوبٸی تک بنتا ہے۔
اسکے علاوہ "آثار قدیمہ" والوں کو آس پاس زیر سمندر بھی ایسا کچھ نہیں ملا، جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہاں کچھ لوگ ایسے آباد تھے،جوکہ بہت ہی طاقتور ہوا کرتے تھے کیوں کہ یہ تراشے ہوٸے پتھر بہت وزنی ہیں۔۔ ایک ایک پتھر کا وزن 200 ،250،255، 270 ٹن ہے۔۔۔یعنی عام گاڑیوں سے ان پتھروں کا وزن زیادہ ہے۔۔۔۔۔ یہ پتھر آج بھی موجود ہیں۔ لوگ ان کو دیکھنے کے لیے دور دور سے آتے ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے،،، کہ یہاں ایسے تراشے ہوۓ پتھروں کی تعداد چار سو کے قریب ہے نیچے تصویر میں آپ ایک سیمپل دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اب بھی لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان پتھروں کو ہلا ٸیں لیکن ایک بندہ تو کیا دس 10 لوگ مل کر بھی ان پتھروں کو نہیں ہلاسکتے کیونکہ یہ بہت ہی وزنی ہیں۔ پھر انکو اس قدر خوبصورت طریقے سے تراشنا، پرفیکٹ طریقے سے لگانا اور وہ بھی ٹیکنالوجی کے بغیر عام انسانوں کا کام ہرگز نہیں ہے۔
آثار قدیمہ والوں کا کہنا ہے،، کہ "Easter Island" میں رہنے والوں کے پاس کوئی کرین، پہیہ یا مشینری وغیرہ نہیں تھی اس کے علاوہ وہاں ہاتھی بھی نہیں تھے، اور نہ ہی یہ پتھر ہاتھی اٹھا سکتے ہیں۔۔ یعنی ان تراشے ہوٸے پتھروں کو بنانے کا،انکو لے جانے کا اور انکو صحیح جگہ پر کھڑا کرنے کا تمام تر کام انسانی زور بازو سے ہی انجام پایا ہے۔لیکن کیا وہ عام انسان تھے؟ اسکا فیصلہ آپ نیچے پتھر کو دیکھ کر کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔یعنی دنیا میں بعض راز ایسے بھی ہیں،جن کے بارے میں ہم صحیح طور سے نہیں جانتے۔۔۔۔۔اس جزیرے کو پہلی بار 1722 میں دریافت کیا گیا۔
اس جزیرے کو جب پہلی بار انگلش ریسرچ ٹیم نے دیکھا، تو دیکھتے ہی سب دنگ رہ گٸے،،،،، کیونکہ تن تنہا Island میں 400 کے قریب اتنے بڑے بڑے پھتر تراش کر بنانا،، اور پھر ان کو لگانا یقینا حیران کر دینے والی بات تھی۔۔۔۔۔پہلی بار یہاں جب ریسرچ ٹیم آئی،،،،،،، تو وہ لکھتے ہیں کہ ان تراشے ہوٸے پتھروں کےمجسمے دیکھ کر ہم ہکا بکا رہ گئے،،،،،، کیونکہ ان لوگوں کے پاس بھاری مشنری تو دور کی بات سادہ Simple مشن بھی نہیں تھی،،،، تو انہوں نے اتنے بڑے مجسمے کیسے بناٸے ہوں گے؟ اس کے متعلق کافی کہانياں مشہور ہیں لیکن حقیقت کسی کو بھی معلوم نہیں،،،،،،، آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟....کمنٹ لازمی کرین۔۔۔۔۔۔
#صرف اسلام ہی صحیح دین ہے۔۔👍
1 year ago | [YT] | 3
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
عید الفطر کے 100 سالہ کیلنڈر کے مطابق پاکستان میں اس سال 29 روزے اور عیدالفطر 31 مارچ 2025 بروز پیر کو ھو گی۔آج سے 44 سال پہلے یہ کیلنڈر تیار کیا گیا تھا، اور اتنے سالوں میں اس کلینڈر میں اب تک کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ ابھی تک تو یہ کیلنڈر درست ثابت ہوا ہے۔
1 year ago | [YT] | 6
View 1 reply
Dekhti Aankh (All in one)
@DekhtiAankh
یہاں X-Ray، CT-Scan، MRI، اور PET-Scan کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات پیش کی جا رہی ہیں:
1. ایکس رے (X-Ray):
مقصد: زیادہ تر ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ، نمونیا، دانتوں کے مسائل، اور سینے میں انفیکشن کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امیج: جسم کے مخصوص حصے کی 2D تصویر بناتا ہے جو ہڈیوں اور ٹھوس ڈھانچوں کو ظاہر کرتی ہے۔
تابکاری: کم مقدار میں تابکاری ہوتی ہے لیکن بار بار استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
فائدے:
تیز رفتار اور کم قیمت۔
ہسپتالوں اور کلینکس میں با آسانی دستیاب۔
نقصانات:
نرم ٹشوز (پٹھے، دماغ وغیرہ) کی تفصیلات واضح نہیں ہوتیں۔
---
2. سی ٹی اسکین (CT-Scan):
مقصد: نرم ٹشوز، ہڈیوں، خون کی نالیوں، اور دیگر اندرونی اعضاء کی تفصیلات دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر دماغی چوٹ، فالج، اور کینسر کے مریضوں کے لیے مفید۔
امیج: 3D تصویر فراہم کرتا ہے جس میں جسم کے اندرونی ڈھانچے کی مکمل اور تفصیلی معلومات ہوتی ہیں۔
تابکاری: ایکس رے سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے کم استعمال کی تجویز دی جاتی ہے۔
فائدے:
جسم کے کسی بھی حصے کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔
سنگین چوٹوں کی تشخیص میں مدد کرتا ہے۔
نقصانات:
تابکاری کی بلند سطح۔
تھوڑا مہنگا اور بعض اوقات خاص تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
---
3. ایم آر آئی (MRI):
مقصد: دماغ، ریڑھ کی ہڈی، پٹھے، جوڑوں اور پیٹ کے امراض کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر نرم ٹشوز کی تفصیلات کے لیے بہترین۔
امیج: 3D تصویر بناتا ہے جو نرم ٹشوز کی بہترین وضاحت فراہم کرتا ہے۔
عمل: طاقتور مقناطیس اور ریڈیو لہروں کی مدد سے جسم کے اعضاء کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔
تابکاری: تابکاری بالکل نہیں ہوتی۔
فائدے:
نرم ٹشوز جیسے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کی بہت اعلیٰ تفصیلات فراہم کرتا ہے۔
تابکاری کے بغیر محفوظ طریقہ۔
نقصانات:
بہت مہنگا اور زیادہ وقت طلب۔
بعض افراد کو مقناطیسی فیلڈ میں بند ہونے کی وجہ سے گھبراہٹ ہو سکتی ہے۔
---
4. پی ای ٹی اسکین (PET-Scan):
مقصد: جسم میں میٹابولک تبدیلیوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر کینسر کی تشخیص اور اس کے پھیلاؤ کی جانچ کے لیے۔
عمل: مریض کے جسم میں تابکار مادہ (radioactive tracer) داخل کیا جاتا ہے، جو جسم کے میٹابولک ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔
فائدے:
کینسر کے علاج کی کامیابی کی نگرانی میں مدد کرتا ہے۔
کینسر، دل کی بیماری اور دماغی عوارض کی تفصیلی جانچ کے لیے مفید۔
نقصانات:
مہنگا اور تابکاری شامل ہوتی ہے۔
وقت طلب اور خاص تیاری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
---
یہ معلومات آپ کو مختلف طبی ٹیسٹوں کے انتخاب میں مدد دے سکتی ہیں اور یہ سمجھنے میں بھی کہ کون سا طریقہ آپ کی حالت کے لیے زیادہ مناسب ہے۔
@PPhilms @MMSBROTHERS @LooLooKids @helthkibatein4864 @ABPNews
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
@UmerkotVortexShobu
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
Dekhti Aankh (All in one)
میری نیکسٹ وڈیو بہت ہی خوبصورت اور دلکش آنے والی ہے دوستوں سے گزارش ہے کہ لائیک کرنا اور واچ کرنا شکریہ 🙏🥰
1 year ago | [YT] | 12
View 0 replies
Load more