Suno Kahani

1 day ago | [YT] | 2

Suno Kahani

6 days ago | [YT] | 4

Suno Kahani

*ایک شخص کے پاس ایک طوطا تھا جو روزانہ ایک آدمی کو دیکھ کر بُرا بھلا کہتا گالی دیتا۔ اُس آدمی نے مالک سے آ کر شکایت کی تو طوطے کے مالک نے اسے سختی سے سمجھایا کہ آئندہ ایسی بات نہ کہنا۔ اگلے دن جب وہ آدمی وہاں سے گزرا تو طوطا بالکل خاموش رہا۔ تھوڑا آگے جا کر اس آدمی نے مڑ کر دیکھا تو طوطا مسکراتے ہوئے بولا: “سمجھ تو گیا ہوگا۔” 😅🫢*

*آپ سمجھیں ہیں کہ نہیں ...!*🙄
*جی سمجھ گیا :- 😅*
*میں نہیں سمجھا :- 🫢*

1 week ago | [YT] | 1

Suno Kahani

1 week ago | [YT] | 3

Suno Kahani

2 weeks ago | [YT] | 1

Suno Kahani

⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢠⣶⣦⣀
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⣾⣿⣿⣿⣷⡄
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢻⣿⣿⣿⡿
⢀⢀⢀⢀ﷺ⢀⢀⢀⢸⢀⢀⢀⢀⢀⢀⣠⡶⠿⠛⠛⠉⠁
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢸⡆⢀⢀⢀⡴⠚⠉
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⠈⡇⢀⢠⣿⣿⣷⣶⣶⣶⣶⣶⣶⣤⣤⣤⣤⡄
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⣷⢀⠉⠉⠉⠙⠛⠛⠛⠛⢛⣿⣿⣿⣿⣿⠃
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⣿⡀⢀⢀⢀⢀⣀⣴⠶⠟⠋⠉
⢸⣆⣀⣀⣀⣤⣶⡞⠈⣇⢀⢀⡴⠟⠉
⠸⠿⠿⠿⠿⠟⠛⠁⢀⢻⣆⣾⡀
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⠻⣿⣿⣦⡀
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⠙⠿⣿⣿
⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⢀⠈⠁
*صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ وَاٰلِهٖ وَسَلِِّم 🌸*

3 weeks ago | [YT] | 0

Suno Kahani

3 weeks ago | [YT] | 2

Suno Kahani

*تــفــسـيـر الـقـران*📚

*سـبـق نـمـبـر ساتھ (07)*📖

*[سورۃ نمبر 2 البقرة ، آیت نمبر 25 سے 27 تک]*

`وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞`
*ترجمہ:اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغات (تیار) ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (20) جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طور پر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے ” یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا “ اور انہیں وہ رزق ایسا ہی دیا جائے گا جو دیکھنے میں ملتا جلتا ہوگا (21) اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (باغات) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔*

*تفسیر: (20) یہ اسلام کے تیسرے عقیدے یعنی آخرت پر ایمان کا بیان ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی آنے والی ہے جس میں ہر انسان کو اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہوگا اگر ایمان کے ساتھ نیک عمل کئے ہوں گے تو وہ جنت نصیب ہوگی جس کی ایک جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔*
*(21) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو پھل دیا جائے گا تو وہ کہیں گے : یہ وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے کھانے کو دیا گیا، اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جنت میں وقفہ وقفہ سے ایسے پھل دئے جائیں گے جو دیکھنے میں بالکل ملتے جلتے ہوں گے، مگر لذت اور ذائقے میں ہر پھل نیا ہوگا اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے پھل دیکھنے میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں گے اس لئے انہیں دیکھ کر جنتی یہ کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو ہمیں پہلے یعنی دنیا میں ملے تھے ؛ لیکن جنت میں ان کی لذت اور خصوصیات دنیا کے پھلوں سے کہیں زیادہ ہوں گی۔*

`اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌ؕ فَاَمَّا ‌الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ڪَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيۡرًا وَّيَهۡدِىۡ بِهٖ كَثِيۡرًا ‌ؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ ۞`

*ترجمہ: بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لئے) کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر (جیسی معمولی چیز) کی ہو، یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ (معمولی) ہو (22) اب جو لوگ مومن ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ایک حق بات ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ بھلا اس (حقیر) مثال سے اللہ کا کیا مطلب ہے ؟ (اس طرح) اللہ اس مثال سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے (مگر) وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہیں (23)*

*تفسیر : (22) بعض کافروں نے قرآن کریم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں کچھ مثالیں مکھی، مچھر، مکڑی وغیرہ کی دی گئی ہیں، اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہوتا تو اس میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر نہ ہوتا، ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا بےتکا اعتراض تھا کیونکہ مثال ہمیشہ مضمون کی مناسبت سے دی جاتی ہے اگر کسی حقیر و ذلیل کی مثال دینی ہو تو ایسی ہی کسی چیز سے دی جائے گی جو حقیر و ذلیل ہو، یہ کسی کلام کا عیب تو کیا ہوتا اس کی فصاحت و بلاغت کی دلیل ہے مگر یہ بات انہی کی سمجھ میں آتی ہے جو طالب حق ہوں اور حق پر ایمان لاچکے ہوں لیکن جنہوں نے کفر کی قسم کھا رکھی ہے انہیں تو ہر بات پر ہر حالت میں اعتراض کرنا ہے اس لئے ایسی بےتکی باتیں کہتے ہیں۔*
*(23) قرآن کریم کی یہی آیتیں جو طالب حق کو ہدایت بخشتی ہیں ایسے لوگوں کے لئے مزید گمراہی کا سبب بن جاتی ہیں جنہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ کر یہ طے کرلیا ہے کہ حق بات ماننی نہیں ہے کیونکہ وہ ہر نئی آیت کا انکار کرتے ہیں اور ہر آیت کا انکار ایک مستقل گمراہی ہے۔*

*جاری ہے.....!*

••••••••••••••••••••••••••••••••••••
*تفسیر: آسان ترجمہ قرآن*
*پیشکش: سید ابراہیم شاہ ( سبق آموز کہانیاں چینل ایڈمن)*

*`[آپ کو آج کا سبق کیسا لگا رئیکٹ کرکے ضرور بتائیں]` 😊*

••••••••••••••••••••••••••••••••••••

3 weeks ago | [YT] | 0

Suno Kahani

*کیا ہم اچھے والدین ہیں* 🥺

ہم باہر والوں کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ نرم لہجے، مسکراہٹیں، خوبصورت باتیں۔ ہر جملہ تول کر بولتے ہیں،ہر عمل سوچ کر کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے تاثر کی فکر ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کس نظر سے دیکھیں گے۔

عجب بات ہے،
اپنے گھر کے دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی ہماری ساری نرمی کہیں کھو جاتی ہے۔
جہاں ہمیں سب سے زیادہ محبت ملتی ہے،
وہاں ہم اکثر سب سے تلخ بن جاتے ہیں۔

ہم اپنے والدین سے الجھتے ہیں،
اپنے بچوں پر چیختے ہیں،
اور بہن بھائیوں کے احساسات کو سمجھتے ہی نہیں ۔
ہم اپنے ہی گھر والوں سے تلخ لہجے میں بات کرتے ہیں،
انہی پر غصہ نکالتے ہیں،
اور پھر دن کے آخر میں خود کو اچھا انسان کہہ کر مطمئن بھی ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ اصل اچھا انسان وہ ہے
جس کے گھر والے اس کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوں۔
باہر کی دنیا تو ایک چہرہ ہی دیکھتی ہے، انسان کی حقیقت تو گھر والے جانتے ہیں۔

آپ اچھے والدین نہیں ہیں
اگر آپ کے بچے آپ سے بات کرنے سے گھبراتے ہیں،
اگر وہ آپ کے سامنے اپنے دل کی بات چھپاتے ہیں،
اگر وہ اپنے خوف، اپنی غلطی، اپنی الجھن آپ سے نہیں کہہ سکتے،
تو مان لیجیے، آپ نے ان کے دل میں محبت نہیں،
خوف پیدا کیا ہے۔
اور جہاں خوف ہوتا ہے، وہاں قربت نہیں رہتی۔

آپ اچھے بھائی نہیں ہیں اگر آپ اپنی بہن کو وہ تحفظ نہیں دے سکتے جو اس کا حق ہے اور آپ اچھی بہن نہیں ہیں اگر آپ اپنے بہن بھائیوں کے دکھ اور مشکل میں ان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتیں۔

آپ اچھے شوہر نہیں ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے احترام کی حفاظت نہیں کر سکتے، اسے ایموشنلی سپورٹ نہیں کر سکتے اور آپ اچھی بیوی نہیں ہیں اگر آپ مشکل وقت میں اپنے شوہر کا سہارا نہیں بنتیں۔

اور اگر آپ اولاد ہیں ، تو جان لیجیے،
آپ کے والدین کا سکون ہی آپ کی سب سے بڑی دعا ہے۔ اگر آپ کی وجہ سے ان کا دل دکھے، تو کوئی نیکی، کوئی دعا، اس کمی کو نہیں پورا نہیں کر سکتی۔ والدین کے دل دُکھا کر آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

دنیا کے لیے اچھے ہونا آسان ہے، کیونکہ وہاں لوگ دیکھتے ہیں۔ مگر اپنے گھر کے لیے اچھے ہونا ، یہی اصل امتحان ہے اور یہی اصل خوبی۔
وہ خوبی ہے جو صرف خدا دیکھتا ہے۔

سوچ کر دیکھیے
کیا ہم واقعی اچھے ہیں ؟ یا یہ نظروں کا دھوکا ہے؟
ہم اچھے صرف دنیا کے لیے ہیں یا اپنے گھر والوں کے لیے بھی ؟

*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے*

4 weeks ago | [YT] | 1