S Merwa Mirza Novels

Welcome to S Merwa Mirza Novels Official Channel ❤
This Is Official YouTube Channel Of @smerwamirzanovels

Urdu Rumantic Novels , Enjoyable Reading Material available❤
Urdu Rumantic, informative and worthy Novels.

Continue Novels:Halaf E Jaan And Paras(Wildflower's Man)Season 2 (Youtube Channel:S Merwa Mirza Novels).


All Copyright @ Reserved
Please Don't Use Our Content On YouTube And Other Social Media Websites


S Merwa Mirza Novels

آ جائیں ایپی آ گئی ہے 🔥🥵

"کچھ پوچھ سکتا ہوں تم سے؟"
وہ تمہید باندھتے اسے اپنے وجود میں بسائے،اسکے مہکتے بالوں میں چہرہ چھپائے ہوئے بولا۔
"پوچھو"
وہ بھی مدہوش و مسرور ہوئی۔
"تم نے کہا تھا تم مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی۔کیا سچ کہا تھا؟"
وہ اسکے سوال پر انیس کو پکڑ کر سامنے کیے اسکے منہ کی طرف پریشانی سے دیکھنے لگی کہ ایسا عرشیہ نے کب کہا،یاد آنے پر اسے اپنے الفاظ پر ندامت ہوئی۔۔
"غصہ تھی،اس لیے کہا تھا۔سچ کہوں تو تم پر ہی اعتبار ہے بس۔لڑتے ہوئے،پنگے لیتے ہوئے جو میں کہوں اسے سیریس مت لینا۔مجھ میں بنگالی بابا کی لڑاکو روح گھس آتی ہے۔چئیر آپ۔۔۔اداس اچھے نہیں لگتے تم۔۔نہیں ہوں ناراض،مہنگے غالب بن کر تم نے میرا دل چرا لیا ہے۔۔۔۔جاو کیا یاد کرو گے کتنی سخی تھی عرشیہ المیر"
اپنے ازلی شریر لب و لہجے سے وہ انیس کی رہی سہی رنجیدگی بھی دور کر گئی،وہ اسکے کہنے کی دیر تھی کہ مسکرا دیا۔
"آجاو۔۔۔۔"
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکلنے لگا جب عرشیہ نے اپنے ہاتھ کو اپنی جانب کھینچنے تعجب سے دیکھا۔
"کہاں لے جا رہے ہو؟"
وہ اسکے سوال پر رکا۔
"جب اعتبار ہو تو بس ساتھ چل پڑتے ہیں،جوتا بھی نہیں پہنتے"
وہ اسے اعتبار کی شرط سمجھاتا جان لیوا لگا۔
"کیا تم مجھ پر اعتبار کرتے ہو انیس؟"
یہ انیس والا اعتبار اتنا پیارا تھا کہ وہ بھی سوال کر اٹھی۔

54... Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵

https://youtu.be/gguW38VQUY8

Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.

3 hours ago | [YT] | 73

S Merwa Mirza Novels

میگا ایپی چار ساڑھے چار تک آپکے پاس ہوگی۔۔ناول پر آپکا ریسپانس بہت کم ہو گیا ہے۔بہت غلط بات ہے جو بیچ میں ناول چھوڑ رہے ہیں۔بہرحال آپکی مرضی۔ ملتے ہیں سپیشل قسط کے ساتھ۔۔بہت کچھ ہونے والا ہے آج🔥🙈 Its Confession Special Epi.....

مروہ

7 hours ago (edited) | [YT] | 142

S Merwa Mirza Novels

"جبل زاد! چار مہینے تک ان دو کو پتا نہ چلے کہ ہم بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ مزہ آنے والا ہے "
جبل زاد جو پہلی بار پینٹ پہن کر خاصا بے چین تھا، ضرار کے کان میں گھس کر آفت ناک سرگوشی کرنے پر چہرہ واپس موڑے اس بار مسکینیت کے سنگ سائیں کے کان کی جانب جھکا۔
"سائیں منہ تو چھپا لیے ہیں تو سمجھیں چھپ جائیں گے پر میں اس پتلون کا کیا کروں، قسم سے آجکل کے لونڈے پتا نہیں کیسے یہ خرافاتی چیز پہن لیتے ہیں"
جبل زاد کی مسکین آواز اور دہائی پر ضرار نے اپنا قہقہہ بمشکل روکا۔
"ہاہا جبل زاد! تھوڑے ماڈرن ہو جاو تم بھی میرے پیارے۔ اور تم نے سنا نہیں جیسا دیس ویسا بھیس، چار ماہ جب ان پتلونوں میں پھنس کر رہو گے پھر تم نے انہی کا ہو جانا۔ یہ چھوڑو، ان دو کو دیکھو ٹریک سوٹ میں خود کو پتا نہیں کتنی ماہر کوہ پیما سمجھ کر اترا رہی ہیں"
اس وقت ضرار صاحب بھی بلکل سنجیدگی کے موڈ میں نہ تھے پھر جب جبل زاد نے سامنے دیکھا تو خدا گواہ تھا کہ وہ بندہ تو گلالئی پر ہی اٹک گیا، وہ لڑکی اسے کچھ الگ طرح گرویدہ کر رہی تھی جو اپنے گھنگھریالے بالوں کو کھلا چھوڑے ، ٹھنڈ کے باعث سر پر گرم اونی ٹوپی ارسائے، اشنال اور رحمان انکل کے ساتھ ہی کھڑی گرم گرم چائے پینے میں مصروف تھی، دونوں لڑکیاں پہاڑ سر کرنے کی مکمل تیاری میں تھیں۔
"سائیں! یہ سب تو ٹھیک ہے پر پہاڑ سر کرنا ان نازک لڑکیوں سے ہوگا کیسے ، خاص طور پر ڈیٹھ زون میں یہ نازک لڑکیاں کیسے سروائیو کریں گی؟ "
ایک فکر ہٹی تو جبل زاد ان بانکی سجیلی نازک لڑکیوں کو دیکھ کر نئی پریشانی میں مبتلا ہوا۔
"ہم کس لیے آئے ہیں میرے پیارے اور بھولے جبل زاد، گل کو تم سنبھالنا اور اپنی بیوی کے لیے یہ اتھرا بندہ کافی ہے"
ضرار بھی کرسی گھسیٹ کر کمر سیدھی کرنے کو بیٹھتے اور چائے سرو کرتے ساتھی سے مسکرا کر چائے کا کپ لیتا بولا جس پر جبل زاد بھی ماسک ہٹاتا پاس ہی رازداری سے آکر بیٹھا۔
"سائیں آپکی تو بیوی ہیں ناں، پر گلالئی تو میرے لیے غیر ہے۔ توبہ کریں میں اس خطرناک سفر میں انکو سنبھالنے کی حامی نہیں بھر سکتا"
ناجانے کیا سوچ کر بچارے جبل زاد کے پسینے چھوٹے اور ماسک کی سہولت ملتے ہی ضرار نے ہنس ہنس کر بچارے کو اور گبھراہٹ میں مبتلا کیا۔
"تم تو ایسے پریشان ہو رہے ہو جبل زاد! جیسے میں نے تمہیں گل کو منصوعی سانس دینے کا کہہ دیا ہو، یا اسکو گود میں اٹھا کر پہاڑ چڑھنے کی ذمہ داری دے دی ہو"
ضرار کی اس بے باک بات پر جبل زاد نے سرخ رو ہوتے اس گل فشانی کو سہا اور معصومیت بھری نظر ڈالی خو آگے سے ہنوز ہنس رہا تھا۔
"توبہ استغفار سائیں! اللہ کو مانیں، کیوں میرا دماغ اور دل ہلا رہے ہیں"
خفت کے مارے وہ واپس منہ پر ماسک چڑھائے باقاعدہ ضرار کی اس بات پر سیدھا ہو کر بیٹھے بوکھلایا۔
"ہاہا جبل زاد! کیا خیال ہے پہاڑ کے باسیوں کا پہاڑ پر ہی ٹانکا فٹ نہ کروا دیا جائے۔ پھر تم ہول اٹھتے ہوئے استغفار تو نہیں کرو گے ناں"
ضرار مسلسل اس کی حالت ٹائٹ کر رہا تھا جو اب رحم طلب ہوتا اسے اس ستم پر خوفزدہ ہوئے دیکھنے لگا۔
"سائیں! رحم کریں۔ آپکی طرح مضبوط دل کا مالک نہیں ہوں"
وہ یوں ڈرا ہوا لگا ہی اتنا پیارا کے ضرار کو مستیاں سوجھ رہی تھیں۔
"ہاہا ٹھیک ہے نہیں تنگ کرتا مگر گل تمہارے لیے اچھی لڑکی ہے ، تمہاری طرح پہاڑ کی باسی، چار مہینے بعد جب واپس جائیں گے تو میں تم سے اس بارے سنجیدگی سے جواب طلب کروں گا"
اس بار وہ بچارے بوکھلائے گھبرائے جبل زاد پر ترس کھاتا سنجیدگی اور محبت سے ساری توجہ چائے کو دیتے بولا اور اس پر جبل زاد نے بس نظر اٹھائے گلالئی کو دیکھا البتہ ضرار کا دل صنم کے آس پاس رہنے پر ہی شوخ اور تروتازہ ہو گیا تھا۔
ناراضگی اپنی جگہ پر یہ سفر اسکی اولین ترجیح میں شامل ہو چکا تھا۔


۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

لنک میں کمنٹ میں دے دوں گی👍کمنٹ میں لنک لکھ دیں👍

1 day ago | [YT] | 104

S Merwa Mirza Novels

جلدی سے آ جائیں ایپی آ گئی🔥

"عصر!کسی نے بہت زیادہ تکلیف دی ہے آپکو کہ آپکی ساری خوشی کو اجاڑ کر رکھ دیا۔دو منٹ کی دوست مان کر بنا دیں پھر بھلے دوستی توڑ دیجئے گا۔میں پریشان رہوں گی ورنہ"
وہ اسکے لیے آنکھوں میں نمی لیے کھڑی اسکا درد جاننے کو بیقرار تھی،جیسے اس وقت بس عصر ہی اہم ہو۔

"دو منٹ کی دوست نہیں چاہیے"
وہ ضدی ہو کر اپنی بازو چھڑوا کر دور ہٹا۔

"مجھے تو بننا ہے دو منٹ کی دوست"
وہ بے چین اور افسردہ ہو کر اسکی یہ دوری دیکھتے بولی۔

"اپنے گھر کا پتا دیں،میں ان سے جا کر آپکو باقاعدہ مانگنا چاہتا ہوں۔"
وہ اسکے دو قدم قریب ہوئی۔

"وہ میری ہاں کے بعد جائیے گا،ابھی میں کچھ اور مانگ رہی ہوں عصر زمان"
وہ اسے اداس دیکھ نہ پا رہی تھی۔

"طبیبہ!بے بس آدمی کو اور مجبور کرنے کا گناہ کما رہی ہیں۔ہاتھ کی شفاء ناراض ہو جائے گی۔احتیاط برتیں۔چلتا ہوں"
وہ جانے کو بڑھا تو آگے انکی چائے سٹاف ممبر نہ صرف لایا بلکہ وہ سٹیگ ایریا کی طرف میز پر رکھ کر چلا بھی گیا۔

"چائے؟"
وہ آس سے چائے کی دو پیالیوں کو دیکھنے کے بعد عصر کی طرف دیکھنے لگی جس نے واپس قدم بڑھائے اور ٹیبل کی طرف آیا تو وہ مسکرائی کہ چلو چائے پینے تک تو بیٹھے گا مگر تب فجر کا کلیجہ اچھل کر حلق میں آیا جب عصر نے جھک کر وہ چھوٹے سے کپ کو اٹھا کر ایک ہی گھونٹ میں پیتے گرم گرم ہی اپنے حلق میں انڈیل کر کپ واپس ٹرے میں رکھا اور منہ جلنے،زبان پر ہوتی حرارت کے باوجود مسکرا کر فجر کو دیکھنے لگا جسکی آنکھیں گلابی ہوئے جا رہی تھیں،ہونٹ بھی تھوڑے کھل گئے۔

53... Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵

https://youtu.be/CPhlQaccbIk

Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.

1 day ago | [YT] | 106

S Merwa Mirza Novels

آج کی قسط لکھنے میں بہت مشکل تھی۔تبھی دیر ہو گئی۔چھ تک قسط آپ تک پہنچانے کی پوری کوشش ہے۔ابھی ریکارڈ کرنے لگی ہوں۔پھر بنا کر رینڈر لگاوں گی پھر اپلوڈ تو وقت لگے گا۔♥️

مروہ

1 day ago | [YT] | 174

S Merwa Mirza Novels

"تم اتنی صبح اٹھ کر کونسے چلے کاٹ رہے ہو گینڈے؟" اپنی پشت سے خمار آلود مگر چوکس سئ آواز پر ہمان نے گردن موڑی تو ایمل آنکھوں میں نیند بھرتی اسے ہی گھور رہی تھی۔ ہمان کو ہنسی تو آئی مگر وہ ہنسنا افورڈ نہیں کر سکتا تھا تبھی سنجیدگی سے چند قدم بڑھاتا ہوا ایمل تک پہنچا اور اسے تسلی سے جانچنے لگا۔
ایمل نے محسوس کیا وہ اس وقت پہلے سے زیادہ پیارا اور روشن ہے، اسکے وجود سے امڈتی الگ ہی میٹھی سی خوشبو نے بھی ایمل کے حواس کو سگنل دیا۔
"نیند آگئی تھی ٹھیک سے؟" ایمل کے سوال کو نظر انداز کرتا ہمان بہت ملائم پن سے سوال کر رہا تھا اور وہ اسے کاٹ کھانے کے انداز میں دیکھ کر منہ پر رات سے دگنی برہمی لا چکی تھی۔
"سکون برباد کرنے والے کو میری نیند سے کیا ، تم نے تو رات دل میں لڈو پھوٹتے محسوس کیے ہوں گے۔ مجھ جیسی ان چھوئی، حسین اور دلربا لڑکی مفت میں مل گئی۔ حالانکہ تم میرے رتی برابر قابل نہیں ہو۔ یہ میرا حوصلہ ہے کہ تم جیسے یوزڈ انسان کو اس قابل آن بٹھایا کہ تمہارے ساتھ ایک کمرہ شئیر کر رہی ہوں" ایمل کے لہجے کا نخوت پن اور غرور ایک بار پھر ہمان کی تضخیک کر رہا تھا اور ہمان کے چہرے کی ناگواریت خود ساختہ امڈ چکی تھی۔
دونوں کی آنکھوں میں جی بھر کر جلن تھی، ایک جلا رہا تھا اور دوسرا جل رہا تھا۔
"اپنی حد سے باہر مت نکلو، میرا یہ مشورہ ہے" ہمان کے ماتھے کی لکیریں اور تلخ سا یہ جملہ ایمل کو آگ لگا چکا تھا تبھی وہ دو قدم مزید چلتی عین ہمان کے رو برو ہوئی۔
"حد کی بات کی تم نے، ھاھاھا ابھی تو حدیں پار کی ہی کہاں ہیں۔ تمہیں بہت خون کے آنسو رونا ہوگا ہمان آفندی صاحب، سب پر میرا جو غصہ ہے تم پر ہی نکلے گا۔ تم نہ ہوتے تو آج میرا سکون اور آزادی میرے پاس ہوتی۔ تم جیسا انسان میرے قابل کہاں سے ہے، کیا کمی تھی آخر مجھ میں کہ میرے پیرنٹس نے مجھے ایک شادئ شدہ انسان کے سر پر تھوپ دیا" ایمل کی آنکھوں میں تو غصہ تھا البتہ اسکی آواز میں کھارا پن تھا، وہ نفرت سے ہمان سے مخاطب تھی جو افسوس میں لپٹا ایمل کی سوچ پر ماتم کرنا چاہتا تھا۔
"تمہارا سکون اور آزادی تمہارے پاس ہے" ہمان کی نرم زدہ بات پر ایمل کا دل چاہا اس شخص کا گریبان پکڑ کر جنجھوڑ ڈالے جو طیش میں نہیں آرہا تھا۔
"لعنت بھیجتی ہوں اس آزادی اور سکون پر، مجھے تم سے اور تمہارے ہونے سے نفرت ہے۔ ہاں میں تم سے نفرت کروں گی، تمہارا جینا حرام کر دوں گی۔ کیا تم تب بھی مہان بننے کا ناٹک جاری رکھو گے یا پھر امم گنوار اور جاہل مردوں کی طرح منہ پھاڑ کر کہو گے۔۔۔۔ ایمل میں تمہیں طلاق" ایمل کی زہر خند باتیں تو وہ کسی طور سہہ گیا مگر اس گندے لفظ کو سننے کی تاب ہمان کو ہرگز نہ تھی، تبھی وہ خونخوار ہوتا اسکا منہ بند کر چکا تھا۔
اپنے منہ پر رکھا ہمان کا ہاتھ اور اسکی سرخ ہوتی جلال سے بھری آنکھیں ایمل کو زہر سے بھی بری لگیں۔
"دوبارہ یہ لفظ تمہاری زبان پر نہ آئے ایمل" ہمان نے جبڑے بھینچ کر سخت غصہ ضبط کرتے انداز میں اسے وارننگ دی اور وہ ہٹ دھرم لہجے میں اسکا ہونٹوں پر رکھا ہاتھ جھٹک کر اسکی ہر بات کو دو کوڑی کا کیے اسکا گریبان پکڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانکی۔
"دوبارہ مجھے آرڈر مت دینا ہمان آفندی" ایمل کا یوں ہمان کا گریبان پکڑ لینا ہمان کی برداشت توڑ چکا تھا، وہ اسکی آنکھوں میں آگ برساتی نگاہوں سے جلا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی۔ اسے امید تھی کہ اب ہمان اس پر برسے گا اور ہاتھ تو لازمی اٹھائے گا مگر وہ تب صدمے میں غرق ہو کر رہ گئی جب ہمان چہرے پر انتہا کی سختی سجائے اسکے اپنے گریبان پر رکھے ہاتھ پکڑتا ایک ہی جھٹکے سے اپنی سمت کھینچ چکا تھا جسکے باعث دونوں کا چہرہ ٹکڑا ہی جاتا اگر ہمان اپنا پیچھے نہ کرتا۔
ایمل کے چہرے پر بدحواسی دیکھ کر ہمان نے بھی اب اسکی آنکھوں میں زہریلے انداز سے جھانکا۔
"کیا کر لو گی بولو" ہمان اسکی پھٹی آنکھوں اور فق ہوتے چہرے کو معنی خیزی سے کھوجتا استفسار کیے ایمل کو دونوں بازووں میں جکڑ چکا تھا اور وہ بات کرنے کے قابل بھی نہ رہی تھی، کچھ دیر پہلے انگارے چباتی ایمل ان تازہ سانسوں کے جھونکوں پر ہارتی سی لگی۔
"آگ لگا دوں گی تمہیں " ایمل کیسے ظاہر ہونے دے سکتی تھی کہ وہ اسکے قریب آنے پر ہوش گنوا رہی ہے تبھی اکڑ کر بولئ۔
"مجھے آگ لگی تو جل تم بھی جاو گی، لگاو آگ تاکہ یہ جلنے کا تماشا آج ہی ہو جائے" ہمان اسکے ہونٹوں اور آنکھوں کی بے خود لرزش پر نگاہیں ٹھہراتا اسکی پتھرائی آنکھوں میں آبرو اچکاتے ہوئے جھانک کر بولا اور وہ اسکی گرفت کو جھٹک دینا چاہتی تھی مگر ہمان اپنی بازوں کی مضبوط قید میں اسے اسیر کیے منہ پر مزید برہمی اور عتاب لا چکا تھا۔
"چھچھوڑو مجھے" ایمل کی آواز لرز اٹھی۔
"مجھے ایک لمحہ لگے گا تمہیں ہرانے میں ایمل، پھر حقیقت میں تمہارا سکون اور آزادی ہمان آفندی کی محتاج ہو جائے گی۔ ڈرو اس وقت سے، تم مجھ پر اپنا غصہ اتارو مگر تمیز کا دامن دوبارہ مت چھوڑنا۔ خود کو میری امان میں ہی رہنے دو، شوہر بن کر کَس بل نکالنے پر مجبور مت کرو" ہمان نے اسکے چہرے کے نازک حد تک نزدیک جا کر اسے ایک ایک لفظ جتایا اور اسکا ہاتھ جھٹکتا خود سے دور کیے خود ایمل کے رنگ اڑا چکا تھا۔
"نکلے ہو وہی گنوار اور جاہل، تم نا مجھے ہرانے کی یہ حسرت دل میں لے کر مر جانا۔ چھچھندر ، گینڈے، بندر، لومڑ اور دریائی گھوڑے کہیں کے دو فٹ دور رہنا آگے سے۔ اور یہ جو حسرت ہے تمہاری مجھے پانے کی، اس کو پالنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنا کہ ایمل کسی کی استعمال ہوئی شے دیکھتی نہیں تو اوڑھنا بہت دور کی بات ہے" ایمل اس سے زرا نہ دبتے ہوئے اکڑ کر اپنے راج ہنس سی گردن اکڑائے حقارت سے کہتی ہوئی۔۔۔۔۔

مکمل ناول پی ڈی ایف کے لیے کمنٹ کر دیں🔥

Mata E Jaan hai tu by S Merwa Mirza Novels 🔥 season 1

www.smerwamirzanovels.com/2024/09/mata-e-jaan-hai-…

Mata E Jaan hai tu season 2
(MAN Azarda Mata E Zist)

www.smerwamirzanovels.com/2024/09/mata-e-jaan-hai-…

1 day ago (edited) | [YT] | 98

S Merwa Mirza Novels

آ جائیں ایپی آ گئی🔥🥵

"ایسے کیوں کر رہی ہو۔؟"
وہ اسکو دونوں بازووں سے دبوچ کر اپنے قریب کھینچتا بے بسی کی حد پر کھڑا بولا تو عرشیہ کی گرے نالاں آنکھیں اس کو درد پہنچا گئیں۔

"کیسے انیس؟تم سے یا تمہارے وجود سے کوئی خواہش باندھنا مجھ پر ممنوع ہے تو ابھی بتا دو۔تھوڑا تھوڑا کر کے مرنا نہیں چاہوں گی"
بے بسی میں ڈوبا لہجہ لیے وہ اسکو دیکھتے بولی۔

"میں نے ایسا کب کہا کچھ ممنوع ہے؟"
وہ اسکی خفا آنکھیں سہہ نہ پایا تو اندر سے آواز نکلی۔

"تم نے یہ بھی تو نہیں کہا کہ ممنوع نہیں ہے"
فریادی انداز لیے وہ اسے نادم کر گئی۔

"ممنوع نہیں ہے"
وہ ملول انداز میں بس اتنا ہی کہہ سکا،عرشیہ نے دکھ سے اسکی ہیزل براون آنکھوں میں کوئی سکھ تلاشنے کی کوشش کی پر بے سود!

"جیسے تم نے کہا ہے،یہ ممنوع ہی لگا ہے مجھے انیس۔تھینکیو۔میری دل و دماغ اور جذبات کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے۔حد سے نہیں نکلوں گی اب"
اپنے آپ کو ملامت آمیز انداز میں ٹوکتی ہوئی وہ انیس کی آنکھوں میں بھی برابر تکلیف کی آنچ جگاتے واپس بے بی والے کمرے کی طرف بڑھی۔

"مر رہا ہوتا تو؟"
عرشیہ کے قدم اسکے منہ میں دبتے،حلق سے بڑی مشکل سے نکلتے اعترافی جملے پر تھمے،وہ رکی پر باخدا اگر پلٹتی تو خود کو روک نہ پاتی۔

"کیا کہا؟میں نے سنا نہیں؟"
وہ اپنے چہرے کے گلاب رنگ چھپاتی پلٹی اور انیس کی طرف مڑی ہی جب وہ بھاری قدم اٹھاتا جان جوکھم کی مانند لگتا بیچ کا فاصلہ کاٹ کر اسکے قریب رکا۔

52... Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵

https://youtu.be/TN4XC5T90So

Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.

3 days ago | [YT] | 126

S Merwa Mirza Novels

پانچ سوا پانچ تک قسط مل جائے گی آپکو♥️

مروہ

3 days ago | [YT] | 131

S Merwa Mirza Novels

"فائنلی ۔ یہ ملاقات تو سب سے حسین ہے۔ بہت پیاری بہت مکمل۔ آپ بلکل اداس مت ہوں مخمل بھابھی۔ یہ جو سڑا سا شہزادہ ہے ناں، یہ بس سڑا دیکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں ایک ہیرا ہے۔پلیز آپ کا یہ بھائی آپکو اداس نہیں دیکھ پا رہا" ارسل صاحب ہوں اور محترم کی زبان رک جائے ایسا تو ناممکن تھا۔ مخمل اپنے چہرے پر آئی نمی صاف کیے ارسل کی بات پر متوجہ ہوئی جو بہت ہی پیاری ہنسی لیے گاڑی چلا رہا تھا۔اسکی بازو میں پہنی چوڑیوں کی ظالم کھنک تو سیدھی ساتھ اکڑے بیٹھے عبید کے دل میں جا کر بجی تھی۔مخمل ونڈو سے باہر جھانکے اپنا بقیہ دکھ بہانے میں دوبارہ لگ چکی تھی اور ارسل اب عبید کو یوں پتھر بنا دیکھ کر باقاعدہ برا برا منہ بنائے اشارے کرتا کوس رہا تھا۔عبید نے ایک غصیلئ نظر ارسل کے اشارے کرتے منہ پر ڈالی اور پھر اس منہ پھیر کر روتی مخمل پر۔ یہ لڑکی واقعی رخصتئ کا رو رہی تھی یا اس سڑے ٹیلے کی بیوی ہونے پر، یہ تو عبید بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔
" مجال ہو یہ بندہ کوئی نیک کام کر جائے۔۔سالے بی وی ہے تیری۔ پکڑ کے تھوڑی لایا ہے۔ ہاتھ پکڑ کے حوصلہ دے اسے۔۔ بت بنا بیٹھا ہے۔۔" دل میں سوچے منہ بسور کر گھورتے ارسل کو تو رہ رہ کر غضب چڑھ رہا تھا۔اسکا بس چلتا تو دونوں کو ایک ہی سیٹ پر بیٹھنے کا حکم سنا دیتا۔جب ارسل کے نایاب تمام اشارے ناکام چلے گئے تو شیشے سے عبید پر ایک گھوری نازل کیے اب وہ اپنا فون پکڑے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔بول نہیں سکتا تھا ورنہ اس عبید کی وہ کلاس لیتا کہ مخمل بھابھی بھی شاک رہ جاتیں۔ پیچھے عبید کا چہرہ کھڑکی کی ایک طرف تھا اور مخمل کا دوسری طرف۔ اف یہ دونوں دل جلے مل گئے تھے اب تو خدا ہی خیر کرے۔ ایک دوسرے کا سر ہی پھاڑنے والے تھے۔
ارسل بچارا تو پیچھے کی اس بے حسی اور اجنبیت پر سر اسٹیئرنگ پر دے مارنے والا دیکھائی دے رہا تھا۔مکمل خاموشی میں میسج ٹون کی آواز پر عبید رخ سیدھا کیے مڑا۔ نظر شیشے سے سڑا منہ بنائے ارسل پر گئی تو ہلکی سی ہنسی ضبط کرتا ہوا وہ فون نکالے ون ان ریڈ میسج اوپن کر چکا تھا۔ مخمل ویسے ہی رخ پھیرے رونے کے مشغلے میں مصروف تھی۔
"کمینے۔۔۔۔ اسے روتا دیکھ کر تجھے شرم نہیں آرہی۔ چپ کروا بھابھی کو نہیں تو یہیں گاڑی میں نے درخت سے مار دینی ہے۔ سڑئیل شخص۔۔۔۔" ارسل منہ کے زاویے بناتا ہوا مرر سے کوستا اسے بہت پیارا لگا تھا۔ ہلکا سا رخ پھیرے اب وہ مخمل پر نظر جما چکا تھا۔ جو بیٹھی بھی یوں دروازے کے ساتھ لگ کر تھی جیسے عبید اسے شدید کرنٹ مارنے والا تھا۔یہئ دل جلا دینے والا منظر دیکھ کر موصوف بدمزہ ہوئے تھے مگر پھر نظر مخمل کے ہاتھوں پر جا اٹکی۔اس دشمن جان کو چھونے کی خواہش غالب ہوئی۔مگر یہ تسلی اور حوصلہ دینے والے جراثیم کم ازکم عبید ملک میں نہیں تھے ۔
مخمل ایک ہاتھ اسکی گود میں تھا دوسرا کھڑکی کے ادھ کھلے شیشے کے اوپر۔۔ عبید نے ایک نظر ارسل کو دیکھا جو ابھی بھی سر پکڑے کوفت میں لگتار تسلی دینے کے اشارے کر رہا تھا۔ عبید کا دل تو چاہا کہ اسکا ہاتھ پکڑ لے مگر پتا نہیں کونسی اکٹر تھی جس نے سارا کام خراب کر دیا تھا۔اور اب جناب پیار کے سب سے بڑے حمایتی جناب ارسل صاحب کی بھی بس ہوئی جب عبید دوبارہ سے اپنا رخ اپنی کھڑکی کی طرف کر گیا تھا۔
"ارسل۔۔۔۔۔دھیان سے" زبردست ٹائرز کی چرچرانے کی آواز نے مخمل اور عبید دونوں کو ہلا دیا تھا۔موصوف ارسل صاحب تو جان بوجھ کے جھٹکا دے رہے تھے کہ چلو اسی بہانے پیچھے کچھ دوری کم ہو مگر مجال ہو جو رتی برابر کامیابی نصیب ہوئی ہو۔
اگر دونوں یوں اپنی اپنی ونڈو سے جم کر نہ بیٹھے ہوتے تو ضرور اس جھٹکے پر ایک دوسرے کی باہوں میں گر چکے ہوتے۔ مگر بچارے ارسل کی یہ ایک اور کارآمد کوشش بری طرح ناکام ہو گئی تھئ۔
بہت مایوسی سے ارسل منہ میں کچھ بڑبڑائے عبید کو ناگوار سی خفگی سے دیکھے گاڑی کا سپیکر آن کر چکا تھا۔ ورنہ اپنے پیچھے پھیلی تاریکی اور خاموشی اسے منٹل ضرور کر دیتی۔
"تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا۔
زندگی دھوپ، تم گھنا سایہ۔

آج پھر دل نے اک تمنا کی۔۔۔۔۔۔۔آج پھر دل نے اک تمنا کی
آج پھر دل کو ہم نے سمجایا۔۔۔۔
زندگی دھوپ،، تم گھنا سایہ۔۔۔۔تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا"

جگجیت سنگھ کی مدھر آواز نے لمحے بھر کو ان دونوں دل جلوں کا دل جکڑا۔عبید کا دل یہی کیا ارسل کی گردن مروڑ دے جبکہ مخمل تو مزید دکھی ہوئی تھی۔
"بند کر ارسل اسے" پیچھے سے خوفناک سا سنجیدہ حکم آیا تھا مگر اب ارسل صاحب اتنے بھی فرمابردار نہیں تھے۔ ۔آواز مزید اونچی کیے اس ڈھیٹ نے اپنی من مانی کی تھی۔
"ہاں ہاں ایسے رومینٹک گانے انکو کہاں ہضم ہوں گے۔ کھڑوس کہیں کے" عبید کے حکم پر تو مخمل بھی منہ بسوڑے دل میں سوچ کر برا منا چکی تھی۔
"تم چلے جاو گے تو سوچیں گے
ہم نے کیا کھویا، ہم نے کیا پایا
زندگی دھوپ ، تم گھنا سایہ۔۔۔۔۔۔۔

ہم جسے گنگنا نہیں سکتے۔۔
وقت نے ایسا گیت کیوں گایا
وقت نے ایسا گیت کیوں گایا
زندگی دھوپ، تم گھنا سایہ۔۔۔۔

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا۔۔۔۔۔۔ ہمم۔۔۔ہم۔۔ہمم"
عبید کا بس نہیں چل رہا تھا یہیں سے ارسل کو ایک ٹانگ رسید کرتا۔ مگر پھر اسی لمحے عبید کی نظر مخمل پر گئی ۔اور ہٹنا بھول گئی۔ وہ حسن کی دیوی تو چہرے پر غصہ سجائے اسی کو دیکھ رہی تھی۔لمحے بھر کو عبید ملک کے چہرے کا تناو ہٹا۔ اب بس ہاتھ نہیں ۔وہ اسے پوری کی پوری چاہنے کی خواہش کر رہا تھا۔ مگر ایسی کوئی حسرت مخمل کی آنکھوں میں نہیں تھی ۔اسے تو اب عبید ملک ، اس سڑے ٹیلے پر غصہ تھا جو اتنا برا تھا کہ اسے چپ تک نہیں کروا پایا تھا۔ اپنی بوجھل روئی آنکھوں میں ناراضگی اور خفگی لیے وہ اپنا رخ دوبارہ پھیر گئی تھی۔ گانا تو اگلے ڈھیٹ نے پھر سے چلا دیا تھا۔ پر پچھلے دونوں میں نزاکت اور دلفریبی آنا آج کی صدی میں تو ناممکن تھا۔
"یا اللہ اس سڑے بندے پر تھوڑی سی خوش مزاجی نازل فرما۔ اور مجھے یہ سب دیکھنے کے لیے صبر دے" ارسل کی شوخ طبعیت کو عبید خاصا مایوس کر چکا تھا ۔گو ارسل ٹھہرا دل والا اور جناب عبید ملک صاحب ٹھہرے دل جلے ۔اور پھر مخمل کو اپنا ہاتھ کسی گرفت میں محسوس ہوا تو وہ کرنٹ کھائے رخ پھیرے مڑی۔محترم نہایت سڑی شکل کے ساتھ ہاتھ تھامے نظریں جمائے ہوئے تھے۔ اب تو اس معصوم کا رونا بنتا تھا۔ مجال ہو جو یہ بندہ تسلی دینے کے زرا بھی قابل ہو۔
"یہ بندہ کیا چیز ہے ۔ہاتھ بھی یوں پکڑ رکھا جیسے احسان کر رہا ہے۔ اور شکل۔ ایسی سڑی ہی ملنی تھی مجھے۔ زرا جو یہ مسکرا جائے۔بلکے اور رونا آرہا اسے دیکھ کر۔ یہ کہاں پھنسا دیا ڈیڈ۔" اپنا ہاتھ فورا سے اس احسان عظیم سے آزاد کیے اب وہ شدید دکھ سے سوچتی ہوئی پھر سے کھڑکی کی طرف رخ کر گئی تھی اور عبید کے ماتھے پر خفا تناو سا لہرایا۔ اس پر بھئ اسکا دل ارسل کو گنجا کرنے کا کیا تھا۔ اور مخمل کی یہ حرکت اسے کافی بری لگی تھی۔ جسکا بدلا وہ بخوبی لینے کا سوچ چکا تھا۔خیر سفر کٹ ہی گیا تھا۔۔۔۔کسی کا روتے ہوئے کسی کا خود پرستی میں اور کسی کا اپنا سر تھامے ہوئے رومینٹک گانے کو سنتے ہوئے۔ پر مجال ہے جو کئی بار گانا چلانے کے باوجود پیچھے کوئی نیک حرکت عمل میں آئی ہو۔ بچارا ارسل۔۔۔۔۔ کہاں دل جلوں میں پھنس گیا تھا ۔اب اسے رہ رہ کر ہول اٹھنے بھی بند ہو گئے تھے۔ اب تو وہ انکے لیے دعا ہی کر سکتا تھا.

مکمل پی ڈی ایف لنک 🔥👇

Complete Pdf Of
Tum Bus Mery Ho
By S Merwa Mirza

www.smerwamirzanovels.com/2024/06/tum-bas-mery-ho-…

3 days ago | [YT] | 84

S Merwa Mirza Novels

آجائیں ایپی آگئی 🥵🔥

"ویٹ!کیا کہا آپ نے۔عرشیہ سے پیسے لیے آپ نے؟سر جانتے ہیں اس بارے؟"

عصر نے ابراہیم علوی کے مسکراتے چہرے کو پھٹی آنکھوں سے دیکھتے صدمے سے پوچھا۔

"نہیں جانتا۔میرا اور میری بہو کا آپسی معاملہ ہے۔اگر تم نے انیس کو بتایا تو گردن کاٹ دوں گا تمہاری۔ویسے بھی عرشیہ نے مجھے خود دیے تھے۔اتنی امیر ہے اگر دے دیے تو کونسا احسان کیا۔اسے اتنے بڑے مینشن میں رہنا نصیب ہو رہا ہے یہ کم ہے۔ہم نے اسے بنا چوں چاں کیے قبول کیا،ورنہ ہمارے خاندان میں ایسی لڑکیاں بیاہ کر نہیں لائی جاتیں جنکے ٹی وی پر اشتہار آتے ہوں،جنکے چہرے میگزین کئ زینت بنتے ہوں اور جنکا خاندان اک متنازعہ خاندان کے طور پر معاشرے میں سوال بنا ہوا ہو۔یہ میرے ظرف کی قیمت ہے جو میں عرشیہ سے لوں گا۔تم اپنی زبان بند رکھنا سمجھے۔"

عصر کو اس شخص کا دماغی توازن سچ میں خراب لگا،وہ سمجھتا تھا انیس خوامخواہ بابا سے لڑتا ہے مگر آج زندگی میں پہلی بار عصر کو اس شخص کی سوچ سے گھن آئی۔

"آپکو زرا خوف نہیں آیا کہ اگر سر کو اس بارے پتا چلا تو کیا ہوگا؟وہ ٹی وی اشتہار میں کوئی اپنی نمائش کرنے نہیں آتی۔مختلف اچھے ہیلتھ پراڈکٹس کی آگاہی کی پرموشن کے لیے آتی ہے تاکہ لوگوں میں ان ادوایات کی آگاہی آئے اور لوگ سٹیراوڈز کے زیادہ اور غلط استعمال سے بچیں ورنہ انجام موت ہوگا۔نئی نسل کو ان چیزوں کی آگاہی دینے کے لیے وہ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ کولیب کرتی ہیں۔رہی بات انکے خاندان کی تو وہ کوئی بدنام خاندان نہیں ہے،اب تو سب واضح ہے کہ عاصم المیر ملک نے اپنی خاندانی شادی اور ساکھ بچانے کے لیے اپنی سوہا سومرو سے شادی اور اس سے ہوتی بچی کو چھپایا۔اس پر اس شخص نے پوری کانفرنس کی ہے،اپنی اسی بیٹی کو دنیا کے سامنے تسلیم کرتے ملک ہولڈنگز کے پچیس فیصد شئیرز تک دے دیے۔وقت ملے تو دیکھ لیجیے گا تفصیلات۔اسکے باوجود آپ اپنے ظرف کی قیمت اس لڑکی سے لے رہے ہیں۔وہ آپکی کتنی عزت،کتنا احترام کر رہی ہے جب سے اس گھر آئی اور آپ اوپر سے اچھے بن کر اسکے اور اسکے خاندان کے لیے یہ عناد پالے ہوئے ہیں؟یہ تو سوچیں وہ لڑکی ہمارے انیس غانم کی اجڑی زندگی سنوارنے کی موہوم سہی پر کوشش کر رہی ہے"

عصر کا لفظ لفظ جیسے تکلیف سے اٹا تھا،اس نے عرشیہ کو بہن کہا ہی نہیں،دل و جان سے سمجھا تھا تبھی تو سگے بھائیوں کی طرح اسے تکلیف پہنچ رہی تھی۔

"عصر۔مجھے سکون سے ناشتہ کرنے دو۔یہ تقریر کہیں اور جا کر جھاڑو شاباش"

ابراہیم علوی کے تو کانوں پر جوں بھی نہ رینگی،جس سبب عصر بنا کچھ کھائے پیے ہی اٹھ گیا۔

51th Epi of Halaf E Jaan🔥🥵by S Merwa Mirza Novels

https://youtu.be/xqtgqno6dlY

Youtube chnnel: S Merwa Mirza Novels

4 days ago | [YT] | 111