Welcome to S Merwa Mirza Novels Official Channel ❤
This Is Official YouTube Channel Of @smerwamirzanovels
Urdu Rumantic Novels , Enjoyable Reading Material available❤
Urdu Rumantic, informative and worthy Novels.
Continue Novels:Halaf E Jaan And Paras(Wildflower's Man)Season 2 (Youtube Channel:S Merwa Mirza Novels).
All Copyright @ Reserved
Please Don't Use Our Content On YouTube And Other Social Media Websites
S Merwa Mirza Novels
"یہ کونسا بیوٹی پارلر چل رہا؟ دادی جانم۔۔۔۔واٹ از دس؟"
انکے سجے روپ پر یحیی غش کھا کر رہ گیا جبکہ اسکے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ بیلا نے ناصرف اپنا تعارف دے دیا بلکہ دادی کو اپنے ٹیلنٹ کا فین بنا کر سہیلی بھی بنا لیا۔
"بھئی پتری، یہ بیلا میری نئی سہیلی ہے۔ اس نے کہا ہے مجھے اس عمر میں بھی گروم رہنا چاہیے۔ تو میں نے سوچا بات تو سچ ہے، اب مرنے والوں کے ساتھ مرا تھوڑی جاتا، اللہ بخشے تمہارے دادا کو، خواب میں اکثر آکر کہتے تھے انجمن سرخی کیوں نہیں لگاندی اڑیے، اب تو وہ بھی خوش ہوں گے۔ بیلا مجھے بہت پسند آئی، مجھے تمہاری گرل فرینڈ قبول ہے"
دادی صاحبہ پر یہ جو جوانی کا دوڑا پڑا اسکا نزلہ اب بیلا پر گرنا تھا، وہ مسکرا کر ملازمہ کے سنگ ماسک سوکھانے کے لیے کمرے کی طرف دھیرے دھیرے چل پڑیں تو بیلا نے آنکھیں پٹپٹا کر میک آپ برش یحیی کی گال پر پھیرا تو وہ کرنٹ کھائے دور ہٹا جیسے وہ کھانے لگی ہو، غصے سے یحیی کے کان سرخ جبکہ آنکھیں ویمپائر جیسی لگ رہی تھیں۔
"تمہیں بھی گروم کروں؟ قسم سے تھوڑا میک آپ کر لو گے تو عمران ہاشمی لگو گے"
بیلا نے اسکے غصے کی پرواہ کیے بنا لہک کر اس کی طرف جھکتے آفر کی جس پر یحیی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایسا مڑورا کہ برش بیلا کی انگلیوں سے چھوٹ کر نیچے جا گرا، وہ خود کراہ اٹھی۔
"انکی عمر کا لحاظ کر لو، تم اتنی بے شرم اور بدلحاظ کیوں ہو؟ کیا تمہارے نزدیک زندگی صرف ایک مزاق ہے؟ کہا تھا نیچے مت آنا۔ کیوں آئی؟"
آنکھیں نکالنے کے ساتھ ہی وہ مقابل کی بے شرمی و بے باکی پر غصے سے پھٹا جبکہ بیلا کو ہاتھ کے درد کے علاوہ کوئی پریشانی نہ تھی، وہ یحیی کے قریب آنے کو کافی ترسی ہوئی مخلوق تھی۔
"کیوں، کیا ہوا ہے انکی عمر کو۔ ایسا کونسا بیلی ڈانس آوٹ فٹ پہنا دیا میں نے انکو کہ تم مجھے شرم کے لیچکر دے رہے ہو۔ یار تھوڑا سا لک وائز ہی گروم کیا، انکی سکن اب تک بہت پیاری ہے۔ سادہ سی تھیں سوچا میری فراغت بھی کام لگے۔ نیچے نہ آتی تو حبس سے مر جاتی۔ ویسے اتنے قریب سے تم واقعی عمران ہاشمی ہی لگتے ہو، پتا نہیں اسکی طرح بنو گے کب"
بیلا کی زبان کے آگے خندق تھا، جبکہ اس درجہ کھلی بکواس پر یحیی نے اسے پرے دھکیلا تو وہ سیدھی صوفے پر جا گری اوپر سے وہ اس پر جھک کر بیلا کو چونکا گیا۔
"میری دادی کی دوست وست بننے سے پرہیز کرو وہ صرف میری ہیں، انکی ٹرینر بن کر آئی ہو تو اس پر ہی توجہ دو۔ اوپر کا اے سی خراب ہے، آج آدمی آ کر ٹھیک کر دے گا۔ دوبارہ اگر تم مجھے یہاں یا دادی کے آس پاس بلاوجہ بھٹکتی نظر آئی تو میں عمران ہاشمی تو نہیں خونخوار کلر ضرور بن جاوں گا"
اک اک لفظ پر زور دیے وہ واپس اٹھا تو وہ مسکراتی فدا نظروں سے اسے ہی تاڑ رہی تھی۔
"وہ دن کب آئے گا جب تم یہ حق مجھے لے کر بھی جتاو گے یویو، کہ بیلا بخاری میری ہے۔ قسم سے میں تو تمہارے اتنا کہتے ہی مر جاوں گی۔ کلر بننے کی ضرورت نہیں تمہیں"
وہ ڈھیٹوں کی سردار تھی جبکہ یحیی نے خود پر اس وقت گھر آجانے پر لعنت بھیجی۔
"ہزار ڈھیٹ مرے ہوں گے تبھی تمہارا جنم ہوا ہوگا، تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے"
وہ الٹے پیروں واپس بھاگا مگر اس لڑکی کی بات سنے کھولتا ہوا پلٹا۔
"تو پھر کچھ ایسا بندوبست کر دو کہ بات کے بجائے سیدھا سیدھا پیار کیا جائے"
وہ اسکے قریب سرکتی جان بوجھ کر یحیی کو ستا گئی جس نے بہت مشکل سے اپنے ہاتھ کو اسکی گردن دبانے سے روکا۔
"نکلو ابھی کے ابھی"
وہ برداشت کا جنازہ نکلنے پر ہر لحاظ بالائے طاق رکھے اسے پکڑ کر بے دردی سے داخلی دروازے کی جانب گھسیٹتے غرایا تو وہ سچ میں ڈری اور اسکے روبرو مزاحمت کیے اس جن بنے آدمی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے روکا۔
"اچھا سوری"
فوری آنکھوں میں آنسو لائی تو یحیی غصے سے اسے پرے کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرے گاڑی کی چابی اٹھائے گھر سے نکل گیا، بیلا نے ہنس کر گردن موڑی۔
"مغرور، ایک بار ہاتھ آگئے نہ تو گن گن کر بدلے لوں گی۔کوجا۔ لمچو"
من ہی من میں خطرناک اراداے بناتی وہ کوئی سبکی یا اہانت جیسا کچھ بھی محسوس نہ کرتی کھلے دل سے مسکرا کر دادی کے کمرے کی طرف بڑھی کیونکہ ماسک کے ساتھ وہ انکو کچھ فزیکل ایکسرسائز بھی کروانے والی تھی البتہ یحیی حیدر کی حالت کیا ہوتی یہ بتانے کی ضرورت ہی کہاں بچی تھی، یقینا کوئی اچھی سی دیوار سر پھوڑنے کے لیے ہی ڈھونڈ رہا تھا۔
کس کس نے پڑھ لیا میرا یہ مکمل ناول👇؟ لنک کے لئے کمینٹ
کریں ۔مکمل یوٹیوب اور پی ڈی ایف لنک 30 یس کمنٹ کے بعد پن کردیا جائے گا♥️🙌
1 hour ago | [YT] | 36
View 20 replies
S Merwa Mirza Novels
قسط تو میں نے لکھ لی پر اسے وڈیو بنانے کا وقت نہیں ملا پیارو کیونکہ کل طبعیت پھر ڈاون تھی فلو ہو ہو گیا تھا۔اب میں ابو کی طرف جا رہی تو وہاں بس ریسٹ کروں گی۔اس لیے آج کی قسط بھی کل والی قسط میں ایڈ کر دوں گی اور کل لانگ دے دوں گی ان شاء اللہ♥️ سرد موسم سے بچ کر رہیں آپ سب بھی پیارو۔کل ملتے ہیں ڈبل دھماکے کے ساتھ
مروہ
11 hours ago | [YT] | 191
View 36 replies
S Merwa Mirza Novels
"ممو،بابا کونسی پری کا بول رہے جو میرے دوست کے پاس بھی ہے بے بی والی پری؟ممو بتائیں ناں۔بہنا پری؟"
باران کی بے تابی دیکھتے لیزے نے اسے اپنے سینے سے واپس لپٹایا۔
"باران،بابا مزاق کر رہے ہیں۔ہم کچھ کام کے سلسلے میں بزی تھے۔پر دیکھو ممو اپنے بے بی کے پاس ہیں ناں تو بھول جاو کے تم نے مجھے مس کیا۔میں نے خود اپنی جان کو اتنا سارا یاد کیا۔"
لیزے نے خود ہی باران کی گال چومتے بہلایا اور وہ بہل گیا یہ دیکھ کر دراب کو خاصی حیرت ہوئی،اسکی اولاد اتنی شریف نہیں ہونی چاہیے بلکہ وہ چاہتا تھا باران،لیزے کے ناک میں دم کرے۔
"تمہاری ممو کو بہلانا بھی نہیں آرہا چیمپئین۔"
دراب نے آئینے کے سامنے ایکشن مار کر رکتے بال سیٹ کیے تو لیزے نے کشن ہی اٹھا کر دراب کی کمر میں مارا۔
جبکہ باران کے بھی بابا کی پٹائی پر دانت سے نکلے۔
"بابا لگی تو نہیں ناں؟"
باران نے دانت دیکھاتے پوچھا جس پر وہ پلٹ کر دونوں کو ڈرامائی خفگی سے گھورا۔
"تم میری سائیڈ ہو یا اپنی ممو کے؟"
دراب بھی پاس بیٹھے جان کر لیزے کے کاندھے سے کاندھا ٹکراتے بولا،باران آدھا لیزے پر جھکا تھا اور ممو کے لاڈ وصول رہا تھا۔
"میں آپ دونوں کی سائیڈ"
باران نے آگے ہوتے دراب کی گال چومی پھر لیزے کی گردن میں بازو لپیٹے ساتھ جا لگا۔
لیزے نے گردن موڑتے دراب کو آنکھیں نکالیں جو لیزے کی رخسار چومتا اسے اور چڑا گیا،یہ تو باران نے نہیں دیکھا ورنہ لیزے کا چہرہ سرخیاں چھوڑ دیتا۔
"آپکو پتا ہے ممو بہت مزہ آیا ادھر،سلوی آپی بھی تھیں بہت پیاری۔انہوں نے مجھے چاکلیٹ بھی دی۔ہی ہی جو میں نے سکھی انکل کے کہنے پر انکے کپڑوں سے صاف کی۔بڑا مزہ آیا۔انکل اپ سیٹ ہو گئے تھے۔پر میں ہاتھ نہ آتے بھاگ گیا"
اپنی کارستانی ستاتا باران،خود بھی ہنسا اور دراب لیزے کے چہروں پر بھی مسکراہٹ دوڑی۔
"مطلب تم نے سکھی کا بہت بھلا کیا آج۔واہ میرے چھٹکے عقل مند۔"
دراب کو سمجھ آگئی کے چاکلیٹ کس نے پھر صاف کی ہوگی تبھی اپنی ایجاد پر جی بھر کر پیار آیا۔
"غلط بات ہے بے بی،کسی کے کپڑوں کے ساتھ منہ نہیں صاف کرتے۔آپ تو ممو کا گڈ بوائے ہو۔یہ شرارتیں کس سے سیکھ رہے ہو"
لیزے نے فورا سے زرا روٹھتے ہوئے سمجھایا۔
"میری جان بھولو مت یہ دراب حیدر جدون کی اولاد ہے،اس میں شراتوں کا سافٹ وئیر تمہارے اندر پہلی سانس بھرتے ہی ابڈیٹ ہو گیا تھا۔تم نے ہی بچارے کو ایکسٹرا شریف بچہ بنا کر رکھا ہوا اتنے سالوں سے"
دراب نے لیزے کے کان میں گھستے ارشادات کیے جبکہ لیزے نے ٹہوکہ رسید کرتے اسے چپکنے سے روکا۔
"ممو انہوں نے خود کہا تھا میرے کپڑوں پر چاکلیٹ لگاو۔ورنہ میں کوئی گندا بچہ تھوڑی ہوں۔ممو آپ ٹھیک ہیں ناں،آپکو بابا نے تنگ تو نہیں کیا؟"
باران کی فکریں لیزے کے لیے اتنی پیاری تھیں کہ دراب کو بے انتہا پیار آیا جب باران لیزے کے گال سے اپنا گال جوڑتا ممی کی زرا گرم گال چھوتا تسلی مانگ رہا تھا،تھک جانے کے سبب لیزے تھوڑی نڈھال لگ رہی تھی۔
"نہیں میری جان،آپکے بابا بھی اچھے بچے ہیں۔آپکی ممو بلکل فٹ ہیں بس نیند پوری نہیں ہوئی تو تھک گئی"
لیزے نے اسکا ہاتھ چوما تو وہ دوسرا ہاتھ بڑھا کر دراب کو چھو رہا تھا،دراب نے بھی اسکا ہاتھ پکڑے شرارت سے چوما۔
"اوکے ممو تو آپ سو جاو ناں۔آنکھیں بند کر لیں۔میں آپکو زیادہ سارا پیار کروں گا تو آپ ٹھیک ہو جائیں گی"
باران ہنوز اسکی گال تک ہتھیلی لاتا معصومیت سے منمنایا۔
"دیکھو لیزے،تم سے جڑے افراد کم پیار پر صبر کر ہی نہیں سکتے۔اسے بھی تم سے بہت سا پیار ہی کرنا ہے۔تم ہو ہی ایسی"
دراب نے اس بار اسکے کان کی لو کو چومتے یہ مہکتے اعترافات کیے،باران نے لیزے کے سینے پر سر رکھتے خود بھی آنکھیں بند کر لیں،مستی ادھم مچا کر اور ممو کو یاد کر کر کے وہ بھی بہت تھک گیا تھا۔
"یہ پری والا کیا قصہ سنا رہے تھے آپ اسے،دل چاہ رہا تھا سر توڑ دوں۔دوبارہ آپکے ہاتھ نہیں آوں گی"
اسکے پیار بھرے اعترافات رد کرتی لیزے سرگوشیانہ ڈانٹنے لگی جس پر دراب نے ہاتھ اسکی گردن کی پچھلی طرف سے گزارتے خود ٹیک چھوڑ کر سامنے ہوتے جھک کر لیزے کی خوبصورت جبین چومی۔
رگ رگ میں اس شخص کی شدت بھری پیش رفت سکون سرائیت کر گئی۔
"تم اب مجھ سے دور نہیں رہ سکتی،اسکا یقین ہے"
وہ جانے کس رو میں تھا کہ نرم گداز سانس در سانس گستاخیاں کرتے بھی لیزے کو زرا بے آرام ہونے نہ دیا۔
"ح۔۔حیدر!یہ جاگ جائے گا"
لیزے نے پناہ سی مانگنی چاہی۔
"اسکی نیند ددھو پر گئی ہے۔وہ بھی ٹن ہو کر سوتے ہیں۔ددھو سے یاد آیا،انکا تھنکیو کر کے آتا ہوں۔اور سکھی سے بھی زرا پوچھوں مشن صفائی کیسا رہا۔تب تک تم اسے سلا کر روم میں پہنچو۔اوکے؟"
دراب کے ارادے لیزے کو خوفزدہ کر گئے،بے اختیار ایک ہاتھ سے وہ دراب کی شرٹ کا گریبان دبوچ گئی،وہ واپس اسکے چہرے کی اور جھک آیا،ہاتھ کا پنجا سا بناتے بیڈ بیک پر پکڑ جمائی۔
"حیدر!مجھے بخش دیں خدا کے لیے۔نیند سے برا حال ہے میرا"
لیزے نے آنکھوں میں آنسو بھر لاتے گزارش کی۔
"کمرے میں جانے کا مطلب صرف وہی نہیں جو آپ سمجھیں عشقم،مجھے لاڈ اٹھانے والا ہسبنڈ بھی سمجھ لیا کرو کبھی۔ہر وقت ڈرتی ہو تبھی بہکتا ہوں۔"
گال چھوتے ڈھیر سی تسلی دیتا دراب مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور لیزے کے دیکھتے ہی دیکھتے کمرے سے چلا گیا۔
"لاڈ جیسے مجھے آپکے پتا نہیں ہیں۔او میری جان،آپ ممو کو بابا سے بچا ہی نہیں رہے۔اف"
لیزے کے پاس انکار کی نہ وجہ تھی نہ ہمت تبھی باران کو آہستگی سے میٹرس پر منتقل کرتے تکیہ اسکے سر کے نیچے رکھا اور اپنا دوپٹہ اٹھاتی اٹھ کر واش روم گھس گئی۔
براق جدون مزے سے لحاف میں دبک کر انگلش سٹوری بک میں منہمک تھے جب لاڈلے صاحب دروازہ زرا وا کیے اندر جھانکے۔
"آگیا میرا شیطانی پوتا"
براق صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوئی،دراب ہنستا ہوا پاس نہ صرف بیٹھا بلکہ جھٹ سے سر ددھو کے گود میں رکھتے اپنے اب بھی ہنڈسم اور فٹ ددھو کو پیار اور انسیت سے دیکھنے لگا۔
پھر انکا ہاتھ پکڑ کر چوما۔
"تو کس پر چلا گیا ہے؟"
براق صاحب اسکے مشکور مشکور تیور بھانپ چکے تھے تبھی آئبرو اچکا گئے۔
"آپ پر،سچی بتائیں ایسے ہی تھے ناں آپ؟"
دراب کی شرارت پر آمادہ ہیزل براون آنکھیں ددھو کہ جان تھیں۔
"ہاں یار،تیری دادی پناہ مانگتی مانگتی اگلے جہاں نکل لی۔پر مجھے کیا پتا تھا کل کو تجھ جیسی شے بھی ملے گی۔اپنا کیا آگے آگیا مجھ مسکین کے"
ددھو کے ایڈمٹ کرنے پر دراب کھل کر ہنسا۔
اوپر کو اٹھ بیٹھے دددھو سے چپک ہی تو گیا جو اسکی چٹانی قوت پر دب سے گئے۔
"اور مجھے آپ جیسا ہونے پر فخر ہے،میری لیزے مجھے ملی ہے تو میں آپ سبکو ملا ہوں ددھو۔میرا سپورٹ سسٹم بننے کے لیے تھینکیو۔آپ نہ ہوتے تو میں اور ممی شاید جی ہی نہ پاتے۔آپ نے ہمارے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔"
سنٹی ہونے کے موڈ میں نہ تھا پر پتا نہیں ددھو سے وہ کبھی بھی کچھ بھی کہہ لیتا تھا بنا ہچکچائے۔
"یہ قربانیاں رائگاں نہیں گئیں میرے شیر،کہ مجھے پچھتاوا ہوتا۔مجھے تجھ جیسا پوتا ملا یہ میرے بڑے غموں کا علاج ہے۔تجھ میں اور نرمین میں میری جان بستی ہے میرے دل کے ٹکرے اور اب لیزے باران میں بھی"
براق جدون نے پیار سے دراب کی گال تھپکاتے اسکا دل مزید مسرور کیا۔
کس کس نے پڑھ لیا میرا یہ مکمل ناول👇؟ لنک کے لئے کمینٹ
کریں ۔مکمل یوٹیوب اور پی ڈی ایف لنک 30 یس کمنٹ کے بعد پن کردیا جائے گا♥️🙌
1 day ago | [YT] | 120
View 12 replies
S Merwa Mirza Novels
جلدی سے آ جائیں ایپی آ گئی ہے🔥🥵
"کچھ دیر تمہارے ساتھ بیٹھ سکتی ہوں؟"
وہ معصومانہ سا چہرہ بنائے اجازت طلب ہوئی،انیس نے آنکھیں اٹھا کر عرشیہ کو دیکھا اور بہت مدھم اور کھردرا سا اقرار کیا تو وہ اسکے ساتھ بیٹھی،انیس نے اپنا لیپ ٹاپ سامنے ٹیبل پر رکھے اپنی ساری حسیں ساتھ بیٹھتی عرشیہ کے لیے ایکٹیو کیں۔
"تم وولف کو چھوڑ دو۔اک نارمل زندگی جیو۔آج کے بعد اس وولف کے کہنے پر کسی کو ٹارچر مت دینا۔جیسے میں نے تمہارے پیٹ میں چھری ماری تھی،اگر خدانخواستہ کسی اور قیدی نے تمہاری جان لے لی تو ہم تمہیں کہاں سے واپس لائیں گے؟"
عرشیہ نے آہستگی سے اپنا ہاتھ بڑھا کر انیس کے ہاتھ کو چھوا تو وہ اسکے لمس پر حیران ہو کر چہرہ زرا عرشیہ کی جانب ترچھا کیے پھیر گیا،بولتے بولتے عرشیہ نے اسکا پورا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ لیا،بلکل ویسے جیسے وہ اپنی گرے مدہوش آنکھوں سے اس سنہری آنکھوں والے کو ہپناٹائز کر رہی تھی۔
"ہم؟"
وہ اس ہم کی تشریح جاننے کو شدید بیقرار تھا،عرشیہ کی پلکیں سی لرزیں کیونکہ انیس نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اسکی ہتھیلی اور انگلیوں کو سہلا کر یہ سوال کیا۔
"ہم مطلب میں،عدین،ابراہیم انکل اور عصر۔۔۔تم نے مجھے سزا دی ہے اس تمہارے پیٹ کے زخم کی لیکن میرا دل کہہ رہا ہے تم بس مجھ سے کوئی جائز تعلق بنانا چاہتے تھے اور تمہیں سزا کا بہانہ مل گیا۔پوری بات سنو پہلے بیچ میں مت بولنا۔"
وہ اسکی آنکھوں کی بڑھتی بے چینی پر اپنی بات کا اختتام اسے ٹوک کے کر گئی کہ وہ اسے ایسی ویسی نظروں سے دیکھے گا تو اس لڑکی کی آواز کیا،دل بھی بند ہو جائے گا۔
"مجھے نہیں پتا تم ہمارے اس رشتے کو کس نظر سے دیکھ رہے ہو لیکن میں چونکہ اب تمہاری بیوی ہوں تو اس ناطے مجھے تمہارا خیال بھی رکھنا ہے اور تمہاری فکر بھی کرنی ہے۔عدین اور ابراہیم انکل کے ساتھ ساتھ عصر کی تم سے محبت دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ تمہاری جان بہت قیمتی ہے۔کم ازکم ان تینوں کے لیے تو ہے۔تمہیں اگر کچھ ہوا تو شاید یہ بھی زندہ نہ رہیں۔اس لیے تمہیں اب سے اپنا خیال رکھنا ہے۔تمہیں کوئی چوٹ نہیں آنی چاہیے،یہ تم بھی خیال رکھو گے۔اور سب الٹے کام بھی چھوڑ دو۔اگر وولف تمہیں یہ کام بلیک میل کر کے کرواتا ہے تو مجھے بتاو ہم مل کر اس وولف کا کوئی پکا انتظام کر دیں گے"
وہ اپنی بات اسے دیکھنے کے بیچ اسی لیے مکمل کر سکی کہ انیس نے اسکے چہرے سے نظریں ہٹا کر اسکے اور اپنے ہاتھ پر مرکوز کیں،ورنہ وہ بنا لڑکھڑائے کبھی نہ بول پاتی،وہ اسے دیکھ اور محسوس کر رہی تھی،وہ بہت خاموش تھا،اسکے اندر خلائیں بھری تھیں،لیکن پھر بھی عرشیہ کو وہ سکون میں نظر نہیں آتا تھا۔
"میں تمہاری باتیں کیوں مانوں؟"
وہ اب بھی اسے بنا دیکھے بولا تو عرشیہ نے اک بھاری سی مشکل سی سانس لی جیسے بس یہیں تھک گئی ہو۔
27 Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵
https://youtu.be/_qyM8pR-LFY
Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.
1 day ago | [YT] | 102
View 3 replies
S Merwa Mirza Novels
"ہادی میں بتا رہی ناں کہ میں آپکو نہیں منا سکتی، آپ مجھ سے نارا۔۔۔۔اض مت ہوں۔ ورنہ الٹا آپ سے ناراض ہو جاوں گی وہ بھی پکا والا"
دل نے اسے کہا تھا کہ وہ شخص جو اس کی دھڑکن کے ساتھ سانس لیتا ہے، ایسا سنگدل نہیں ہو سکتا تبھی تو وہ اک آخری بار ہادی سکندر کے دل کو ہلا بیٹھی۔
"جب تک میں نہ کہوں، مجھے پکارنے کی یا میری آواز سننے کی کوشش مت کرنا ماہ۔اب جب سب تم پر بھی آشکار ہو گیا تو میری آٹھ سال کی تکلیف محسوس کرو۔ تب تک جب تک میں تمہیں ایک سوٹ ایبل ماحول نہ دے دوں۔ مجھے منانے کے لیے۔ آفٹر آل اس دنیا میں جسکو ہادی سکندر نے سب سے زیادہ چاہا ہے وہی اسکی سب سے بڑی تکلیف کی وجہ بھی تو بنی ہے۔۔۔۔۔۔اس لیے سزا بھی میرے معیار کی ہوگی اور مجھے میری منشاء کے مطابق منایا جائے گا ورنہ خود تمہارا ہاتھ پکڑ کر اسی کے ہاتھ میں تھما دوں گا جو تمہارے لیے تمہارے پیارے بھائی نے لڑکا چنا ہے۔۔۔۔انڈسٹینڈ؟"
سارے ستم اور حساب نخوت سے ہنکارہ بھرے اک ہی جھٹکے میں پورا کیے وہ ناصرف خود اپنی بے حسی پر ملول ہوا بلکہ وہ نرم مزاج، پھولوں جیسی ماہ نور کی آنکھیں پہلے سرخائی سے بھریں اور پھر یکدم وہاں پھیلتی نمی اسکے رخساروں پر اتر آئی۔
اسے یقین نہ آیا یہ سب اس سے ہادی سکندر نے کہا ہے۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی اپنے ڈرامے کے متعلق مگر یوں تھا کہ اسے لگا وہ اک حرف تک بول نہ پائے گی۔
وہ اسکی آواز پڑھتی، لہجہ کھوجتی، آج اپنی حسرت محسوس کیے ، ساتھ ہی ہادی سکندر کی ناراضگی کی شدت سے تڑپ اٹھی تھی۔
"اب بند کرو فون"
مقابل اب ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی جو ماہ نور کے آنسو غائبانہ ہی دیکھ لینے پر ، اپنی اہمیت کے ناطے اس پاگل کے چہرے پر صورت بہار رقص کرنے لگی جبکہ وہ لاکھ غصے کے بھی ہٹ دھرمی پر اتر آئی۔
"نہیں کروں گی، نہ ہی آپکو کرنے دوں گی۔۔۔۔ اگر آپ نے فون بند کیا ناں تو یہیں بیٹھی رہوں گی۔ سونا بھی نہیں۔ اور کچھ کھاوں گی بھی نہیں۔ اور روتی رہوں گی۔۔۔۔۔چینخ چینخ کر پورا ولا سر پر اٹھا لوں گی اور بھیا سے کہوں گی ہادی کو ماہ نور کبھی نہ دیں۔۔۔۔۔"
شاید یہ آخری حربہ تھا اس دماغ سے ہلے شخص کو سچائی اگلنے پر اکسانے کا، وہ ہر لحاظ بالائے طاق رکھتی، بھری آواز کے سارے راز کھولتی، آنسووں کی گرمائش میں بھیگے لہجے کی پرواہ کیے بنا ہادی سکندر پر پھٹ ہی تو پڑی۔
مگر شاید یہ لمحہ ایسا تھا جس نے ان دو کے رشتے کی ہر گرہ اور گانٹھ کھول کر رکھ دی، ایک بار پھر ماہ نور کو کھو دینے کا خوف اس ہادی سکندر کو بچہ بنا گیا، ہاں اب اس میں کہاں تھا حوصلہ کے وہ مزاق میں بھی ماہ نور سکندر سے دور کیا جاتا۔
"تمہارے اس بھائی کی ایسی کی تیسی، اب اگر وہ تمہارے اور میرے بیچ آیا تو ایسی جگہ جا کر تیسری خودکشی کروں گا جہاں اسکے موکل بھی پہنچ نہ سکیں گے۔ اور پھر وہ تیسری اور آخری بار ہادی سکندر کی مسیحائی نہ کر سکنے کے قلق میں تاعمر ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ لہذا ایسا اسے کہنے کی جرت بھی مت کرنا، سمجھی"
وہ بے تکی ہانکتا ہوا یہ تک بھول گیا کہ وہ کتنے سخت اور زہریلے الفاظ کہہ گیا ہے، یہ احساس کیے بنا کہ مقابل وہ انتہائی حساس ماہ نور موجود ہے جسکا اک اک آنسو ہادی سکندر پر قیامت نازل کرتا ہے۔
"میں خود آپکی جان لوں گی اس بار، سنا آپ نے۔ سیدھے سے ناراضگی ختم کریں ورنہ بتا رہی ہوں بہت بڑی چڑئیل بھی ہوں۔ اور جلدی سے آکر مجھے لے کر جائیں۔ یہ درخواست نہیں ہے ہادی سکندر! یہ حکم ہے۔ ماہ کا حکم۔۔۔۔ باقی آپکو کیسے سیدھا کرنا ہے یہ میں سوچ چکی ہوں۔۔۔۔۔"
اپنے اندر کی نڈر شیرنی باہر لائے وہ باقاعدہ غرا کر ہادی سکندر کو حکم سنا رہی تھی جو میسنا، دبے دبے جوش اور خوشی کے سارے جذبے چھپائے اسکا اک اک حرف سن کر جی رہا تھا۔
"نہیں کروں گا ختم، جو کرنا ہے کر لو۔۔۔۔اب تو بالکل نہیں ماہ! مائی ٹوئنکل سٹار۔ ابھی تو میرے دن آئے ہیں۔ ابھی ہی تو ہادی سکندر کی قسمت کا ستارہ روشن ہوا ہے"
وہ آگے سے ہنوز ڈھیٹ بنا، ماہ نور کے ضبط سے کھیل رہا تھا جبکہ ماہ نور کا بس نہ چلا اب اپنا ہی سر کسی دیوار سے دے مارے۔
"میں ہوئی ناراض تو ڈھونڈتے رہ جائیں گے مجھے، بتا رہی ہوں۔ مجھے لے جائیں ناں ہادی۔ میں وہ سب آپکو کہنا چاہتی ہوں جو تب سے اپنے دل میں چھپا رکھا ہے جب سے محبت کا لفظ پڑھا اور سراپا محبت سے ہادی سکندر کو دیکھا تھا۔۔۔۔آپ نے جو بدلا لینا ہوا بعد میں پلیز۔۔۔۔ابھی میرا امتحان مت لیں اور اسے حکم نہیں، درخواست سمجھ لیں۔۔۔ماہ کی درخواست"
چاہ کر بھی وہ ہادی جیسی ستم گر نہ بن سکی اور اپنے لہجے کے ہار جاتے تاثر کے سنگ کئی عطر ساز سے اظہار بخش گئی جو ہادی سکندر کے دل کو پرسکون کر گئے۔
کس کس نے پڑھ لیا میرا یہ مکمل ناول👇؟
ناول: دعائے عشق
تحریر: ایس مروہ مرزا
سٹوری لائن:-
لوو سٹورییز❤
Spiritual, patriotic,Friendship based.
Czn based,full of Suspense, love, Rumance and deep emotions❤
_____♡♡♡
Complete Pdf👇👇👇
www.smerwamirzanovels.com/2024/07/dua-e-ishq-compl…
2 days ago (edited) | [YT] | 81
View 37 replies
S Merwa Mirza Novels
جلدی سے آجائیں ایپی آگئی🔥😍🙈🥵
"تم لڑو گی؟"
وہ اسکی آنکھوں کی شدت جیسی شدت اپنی شربتی مدہوش کرتی آنکھوں میں جگا گیا۔
"ہمم۔۔بہت زیادہ۔تمہاری سوچ ہے"
وہ اپنے اندر کی تکلیف چاہ کر بھی چھپا نہ سکی۔
"یہ سننے کے بعد اب بھوک لگ رہی ہے مجھے۔تم نے بہت دیر لگائی واپس آنے میں۔تمہارا شوٹ کیسا رہا؟عصر بتا رہا تھا"
وہ اسکو دور ہونے نہ دیتا اسکے یہ کھول کر رکھے بالوں کو ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے سے ہٹائے بولا تو عرشیہ نے حلق سے تھوک نگلا پھر ڈرتے ہوئے انیس کی آنکھوں میں جھانکی،کیا بتاتی وہ یوں بال کھول کر اسی کے لیے تو آئی ہے پر مزید خود سے ہی انیس کا سامنا برداشت نہ ہو رہا تھا،وہ اپنی کیفیت کے آگے نڈھال و ہلکان تھی۔
"اچھا تھا۔اٹھو نیچے چلیں"
وہ اسکے پاس سے ہڑبڑا کر اٹھی لیکن وہ اسکا پٹی والا ہاتھ پکڑ کر انیس کو اٹھانا چاہتی تھی جس نے اپنی ٹانگ سے لپٹا کمبل نکالا اور عرشیہ کو اپنی آنکھوں کا محور بناتا اٹھ کھڑا ہوا۔
دونوں کے بیچ پھر نزدیکی آن ٹھہری جو اس وقت سراسر زہر قاتل اور شدید مہلک ثابت ہو رہی تھی،منظروں کو تپش پہنچ رہی تھی،آس پاس کا درجہ حرارت اٹھ رہا تھا۔
"کیا تم دوسرے کمرے میں مستقل شفٹ ہو گئی ہو خاتون؟"
وہ جوتے پہننے کے بیچ نظریں چراتی عرشیہ کو پکارا جو اب تک اپنا وہ ہاتھ مٹھی میں بھینچے ہوئے سحر ناک کیفیت میں تھی،وہی ہاتھ جس سے اس نے انیس کے ہونٹوں پر فقل لگایا تھا۔
"ہاں۔تم نے کل خود نکالا تھا مجھے۔جب تک میرے والے روم میں آ کر مجھے پورے پروٹوکول کے ساتھ لینے نہیں آو گے میں نہیں آنے والی۔"
وہ اپنا اعتماد انیس کے ہمراہ کمرے سے نکلتے ہی بحال کر گئی تو انیس کی آنکھیں تھوڑا سا مسکرائیں لیکن بہت مختصر!
"وہیں ٹھیک ہو۔اپنی مرضی اور پرائیویسی کے ساتھ رہو۔ہاتھ چھوڑ دو میں کہیں نہیں بھاگ رہا"
عرشیہ نے اسکے ہاتھ کو کس کر پکڑ لیا تھا تبھی انیس کو اسے ہوش دلانی پڑی جبکہ عرشیہ کے رخسار دہک گئے جب اس نے انیس کے ہاتھ کو دیکھا جسے اس نے زور سے پکڑ رکھا تھا،وہ فورا اسکا ہاتھ چھوڑتی سیڑھیاں اترتی نیچے چلی گئی تو انیس نے بھی اپنی مس ہوتی ہارٹ بیٹس کو بلکل اگنور مارتے اسکے قدموں کی پیروی کی۔
26 Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵
https://youtu.be/L_RyYbhlPzQ
Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.
2 days ago | [YT] | 125
View 3 replies
S Merwa Mirza Novels
دل کی دھڑکنوں کو قابو رکھیے گا قسط آ رہی ہے۔۔آج جلدی دے دوں گی🔥😍🙈🥵 اہمم اہممم ناول میں رومینس اور جذبات کا تڑکا آج سے شروع ہو جائے گا۔۔۔۔ رینڈر لگا دی ہے قسط لگ بھگ 40 منٹ کی ہے۔تین ساڑھے تین تک مل جائے گی آپکو۔
مروہ
2 days ago | [YT] | 142
View 12 replies
S Merwa Mirza Novels
کل کی قسط کے لیے آپکی کیا امیدیں ہیں؟؟؟؟🙈🔥 کیا کچھ دھماکے دار امید کر رہے ہیں آپ؟؟؟؟؟ چلیں آئیں زرا گپ شپ کرتے ہیں۔ عدین کو کیا مان جانا چاہیے؟؟؟ یا ابھی اور روٹھنا چاہیے؟؟؟ اور کیا خیال ہے وہ پچیس سال کی لڑکی کون ہوگی؟؟؟ کیا مہویر دوسری وڈیو کبھی دیکھ سکے گا؟؟؟ آپ لوگ تبصرہ کھل کر کیوں نہیں کرتے؟ اتنے پوائنٹس ہوتے ہیں پر آپکی چپ۔۔۔۔۔۔ عجیب بات ہے ناں۔۔جب میں پورا دن لگا کر قسط دیتی تو آپ چند منٹس لگا کر ایک اچھا تبصرہ بھی نہیں کر سکتے؟؟؟ مجھے سوچ کر دکھ ہوتا کہ جو پہلے لمبے مزے دار تبصرے کرتے تھے اب وہ بھی چپ ہو گئے۔۔۔۔ پارس والے یہی سمجھیں کہ اسکا ایک ہی سیزن تھا پیارو۔ میں اسے نہیں لکھ سکتی شاید۔۔۔اسکا پہلا سیزن ہی مکمل سٹوری ہے۔۔۔ اگر کبھی زندگی میں موڈ بنا تو اسکا سیزن ضرور لکھوں گی لیکن ابھی کے لیے سیزن ٹو کا انتظار آپ سب ختم کر دیں۔ شاید کچھ چیزیں ادھوری ہی رہنے کے لیے ہوتی ہیں تو آپ سمجھ لیں اسکا مقدر بھی یہی تھا۔۔۔۔۔۔ خیر اداس ہونے کی ضرورت نہیں مکمل انکار نہیں کیا۔جب جب مجھ سے لکھا جائے گا میں اس پر کام کرتی رہوں گی اور تو آئینہ ہے میرا کے سیزن ٹو پر بھی۔۔لیکن آپ لوگ امیدیں لگا کر مت بیٹھیں۔۔۔۔۔ ہم جو کچھ سوچتے ہیں ضروری نہیں وہ کر بھی پائیں۔۔۔۔ تو ابھی بس حلف جان کی بات کرتے ہیں ہیپی ہیپی ہو کر♥️🔥
مروہ
3 days ago | [YT] | 175
View 60 replies
S Merwa Mirza Novels
"یہ دو رنگ میرے فیورٹ ہیں، میرے ساتھ ساتھ تم پر بھی خوب سجتے ہیں پارٹنر۔ لیکن آنکھوں میں نمی کس لیے، میری محبت کچھ زیادہ ہو گئی کیا"
اسکے شریں شکوے پر وہ گھومتی ہوئی، اپنے خوبصورت وجود کی راعنائیاں بکھرتی اسکے روبرو ہوئی، وہ بہت پیارا ڈریس تھا جس میں اس لڑکی کا نازک وجود بہت خوبصورتی سے چھپا ہوا تھا، وہ آج ولی اور شہیر کے اعزاز میں رکھی جانے والی پارٹی میں مسز ولی زمان خان بن کر جانے والی تھی سو اتنا سجنا تو بنتا تھا۔
"بہت زیادہ، میرے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی ہے، میرے تھکے ٹوٹے وجود میں ہمت بھر رہی ہے۔ خود کو اتنی مکمل تو کبھی نہیں لگی تھی ولی، لیکن اب ہوں"
وہ اسکے اعتراف پر اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھر گیا، پیشانی دل دھڑکاتے انداز اور شدت سے چومی۔
"تو تم ہو ناں ، تم وہ مکمل جہاں ہو جو کسی کو نہیں ملتا لیکن مجھے ملا۔ ہم ساتھ رہ کر محبت کی بہت سی شکلیں دریافت کریں گے، اور میں اس سفر کے لیے بہت ایکسائٹڈ ہوں"
وہ اسکے لیے بہت مہربان اور پیارا تھا، تبھی ونیزے نے لپک کر اسکی گال چومی ، اس لڑکی کی پیش قدمی ہمیشہ ولی کو سرشار کرتی اور ابھی بھی وہ اسے محبت سے گلے لگائے سامنے لاتے مسکرایا۔
"ڈی آئی جی بن کر بزی ہو جائیں گے آپ کے مجھے بھی آپائنٹمنٹ لے کر ملنا پڑے گا، پھر محبت کی شکلیں کیسے دریافت ہوں گی ولی"
مسکراتے مسکراتے وہ اداس سی ہوئی اور ولی اسکی ناک دباتا بیوی کی ابھی سے فکر پر قہقہہ لگا گیا۔
"جی جی میں ایسا کروں گا تمہاری فکروں کو ختم کرنے کے لیے ہڈ حرام سا ڈی آئی جی بن جاوں گا جو سارا کام اپنے جونئیرز پر ڈالے خود ویلا مسٹنڈا بن کر پھرے گا، ہاہا جیسے تم ولی کو جانتی نہیں، میں ملک کا پریذیڈنٹ بھی بن گیا تو تم وہ واحد ہوگی جو بنا آپائنٹمنٹ کبھی بھی مجھ سے مل سکو گی۔ لہذا پارٹنر اپنی چھوٹی سی عقل کے گھوڑے مت دوڑاو"
وہ اسکے سراپے پر بہکی نگاہ دوڑائے اسکے ننگے پیروں کو دیکھ کر جھکا تو وہ شرمندگی کے سنگ پیچھے سرکی مگر ولی نے اسکا ہاتھ پکڑے واپس کھڑا کیا اور ونیزے کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے ہیلز پہنائے واپس اٹھ کھڑا ہوا، چادر اٹھا کر اس لڑکی کے وجود کے گرد محبت سے اوڑھائی۔
اسکے ائم بالوں کو پکڑ کر چادر سے نکالے کمر پر پھینکا۔
"ایسا نہیں ہوں کہ کہوں تم پر پڑتی غیر نگاہیں برداشت نہیں مگر مکمل تم صرف مجھے دیکھائی دو یہی بہتر ہے، یو لک گارجئیس پارٹنر۔۔۔ سب جل بھن جائیں گے ولی کی قسمت سے، ایک تو ڈی آئی جی اوپر سے دنیا جہاں کا سکون پہلو میں لیے پھرتا ہوا۔۔۔۔۔رکو تم پر اپنی محبت پھونک لوں"
وہ اسکے روپ کا حسن اپنی محبت کی چادر اوڑھا کر چھپا چکا تھا اور جب وہ اس پر خفاظت کی دعا پھونک رہا تھا تو اس پھونک پر وہ خوشی کی زیادتی سے کھلھلائی، جی چاہا شرارت سے واپس پھونکے، مگر یہ تو ناممکن تھا کہ وہ بھی بدلے میں کچھ نہ پڑھ کر پھونکتی، آخر آج زمانے کی نظریں ان دو کو لگنے کو بے قرار تھیں۔
"کتنی محبت پھونکیں گے، میں تو پہلے ہی دیوانی ہوں"
وہ اسکے سینے سے لگتی لاڈ سے بولی اور ولی نے گرفت سی بنائے اسکے احساس کی خوشبو خود میں اتاری۔
"میں کچھ اور بنانا چاہتا ہوں"
وہ پراسرار ہوا تو وہ اس سے الگ ہو کر تجسس سے دیکھنے لگی۔
"کیا؟"
بے اختیار اسکے یاقوتی لب وارفتگی سے اسے تکتے ہلے اور بڑی مشکل سے ولی نے خود کو کچھ کر گزرنے سے روکا۔
"اپنے دس بارہ بچوں کی اماں"
قہقہہ لگاتا وہ جب ہنسا تو شرم و خفت کے مارے ونیزے کا چہرہ سرخ پڑا اور کتنی ہی دیر وہ شرارت سے مسکراتا رہا۔
کس کس نے پڑھ لیا میرا یہ مکمل ناول👇؟
Complete Pdf Of Atish E Janoon
By S Merwa Mirza ♥️❣
www.smerwamirzanovels.com/2024/05/atish-e-janoon-c…
3 days ago (edited) | [YT] | 100
View 23 replies
S Merwa Mirza Novels
آجائیں جلدی سے ایپی آگئی🔥🥵
"تمہیں کتنی بار کہا ہے سر پر یا گردن میں کچھ لپیٹا کرو۔یہ موسم تمہیں سوٹ نہیں کرتا۔ادھر دیکھو بارش میں تو نہیں نکلے باہر؟"
انیس نے اسکی پھیری صورت اپنی جانب گمائی پر عدین نے اسکا جبڑے پر ٹکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا۔
"مجھے آپکی یہ فکر محبت پگھلا نہیں سکتی بھیو۔تو پلیز خود کو مت تھکائیں۔آپکا امتحان ہو چکا ہے اور آپ فیل ہو گئے ہیں۔اب یہ سفارشی طریقے سے پاسنگ مارکس لینے کے حربے مت آزمائیں۔علیم خان کو کیوں بھیجا؟مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا۔اس بارش میں اکیلے پیدل چلا جاوں گا پر آپکی لینڈ کروزر کی لفٹ کا احسان نہیں لوں گا۔"
وہ انیس کو بری طرح اگنور کرتا آگے بڑھا تو انیس نے اسکے برابر قدم اٹھاتے ساتھ چلتے بازو کے حصار میں عدین کو لیا۔
"میری لینڈ کروزر کہاں جونئئر،تم اٹھارہ کے ہو جاو،ڈرائیونگ لائسنس بن جائے تو تمہارے نام کر دوں گا۔میں کوئی سائکل یا معمولی بائیک لے لوں گا۔میرا کیا ہے۔سیدھا سادھا آدمی ہوں"
وہ بھیو کی اس بات پر رک کر کاٹ کھاتی خفا نظروں سے انیس کو گھورنے لگا۔
"سیدھے سادھے یس،جلیبی کی طرح۔بات سنیں!آپکو اگر مجھ سے یہ امید ہے کہ میں آپ سے تعلقات بہتر کروں گا تو یہ آپکی بھول ہے۔میں ہمارا یہ رشتہ ختم کر چکا ہوں کل۔اس لیے مجھ سے چپکنے کی کوشش مت کریں۔دور ہٹیں"
انیس کی بازو کا وہ حصار جسے پا کر وہ خود کو محفوظ سمجھتا تھا،آج اتنا ناراض تھا کہ خود ہی جھٹک گیا،انیس کا دل شدید غمگین ہوا،انیس نے خود جا کر اسکے لیے اپنی وی آئی پی گاڑی کا پیسنجر ڈور کھولا تو عدین منہ بنا کر کھڑا نفی میں گردن ہلا گیا۔
"ہمارا یہ رشتہ اللہ نے بنایا ہے۔اسے میں یا تم توڑ نہیں سکتے۔تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو عدین،مجھے تمہارے ہر بار جھکنے کی عادت تھی اچھا کیا میری عادت ختم کر کے۔کوئی کتنا ہی کسی کے آگے بچھ سکتا ہے چمپئین۔اس لیے میں جھک رہا ہوں اس بار۔مجھے معاف کر دو۔تمہاری بے رخی مجھے بہت تکلیف دے رہی ہے۔آجاو بیٹھو۔۔میرا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ گھر،یہ گاڑی۔۔میرے تمام بینکس میں پڑے پیسے سب تمہارے لیے ہیں،تم نے صبح جو باتیں کیں میرے اندر ان سے زخم بن گئے۔بدلہ پورا ہو گیا۔اب اپنے رویے میں تھوڑی لچک پیدا کرو"
وہ پگھل تو یہیں گیا تھا لیکن اپنے دل کا کیا کرتا جو اس بار بہت زیادہ دکھی تھا،وہ اپنے بھائی کے لیے مرتا تھا،وہ انیس کے لیے جیتا تھا پھر بھیو کا ایسا بے خبر رویہ اسے چھلنی کرنے کا سبب بنا تھا،اسکا انیس کو بھی احساس تھا لیکن ابھی عدین کا دل ماننے پر راضی نہ تھا۔
وہ کچھ نہ بولا اور چپ چاپ آ کر پیسنجر سیٹ پر چڑھ کر کار ڈور بند کر گیا تو انیس نے بھی اپنے حلق تک اتر آتے درد پر فوری قابو پایا اور اپنی جانب آ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے کار ڈور بند کیے سیٹ بیلڈ فکس کیے جب عدین کو دیکھا تو وہ اپنی بھیگتی آنکھوں کو چھپائے منہ ونڈو سائیڈ پھیر گیا۔
25 Episode of Halaf E Jaan posted..🔥🥵
https://youtu.be/7IttfdW2ipQ
Ager link open na ho to youtube py ja k
S Merwa Mirza Novels likh k search kar lain.
3 days ago | [YT] | 97
View 1 reply
Load more