Welcome to the Official YouTube Channel of HQ Writer, Editor & Influencer!
I create original short stories with my own voiceover and professional editing to provide my audience with valuable life lessons.
"My mission is to bring a positive change to society through the power of storytelling and to deliver high-quality, creative content that resonates with my audience."
📢 Connect with Me 😍💐
If you like my work, please Subscribe and hit the bell icon 🔔 to stay updated with my latest stories.
For inquiries or feedback 👇
www.facebook.com/share/17JVU8czgy/
or
www.facebook.com/share/1891bLh9nt/
www.instagram.com/horainfiction?igsh=MWo3N2I3Nmxkd…
#QHWriter #ShortStories #LifeLessons #UrduStories #MoralStories #OriginalContent #Influencer #VoiceoverArtist
Reader Choice
دا جی نے حویلی کے تمام افراد کو ہنگامی حالات میں اپنے کمرے میں بلوایا اور فیصلہ یہ طے پایا کہ آج نکاح اور سادگی سے رخصتی کر دیتے ہیں اور ولیمے پہ سب خاندان والوں کو دعوت دیں گے۔
اور پھر شام تک اس کا عروسی جوڑا بھی آ چکا تھا۔
اب مسئلہ لائبہ کو اس نکاح کے بارے میں آگاہ کرنا اور تیار کرنا تھا جو ایک مشکل امر تھا۔ اسے تو یہ خبر سن کر ہی حیرت اور صدمے کا شدید جھٹکا لگا تھا کہ وہ جس سے دور بھاگنے کی جستجو میں تھی اسے اسی شخص سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
"اماں یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ جانتی بھی ہیں کہ وہ عمر میں مجھ سے کتنے بڑے ہیں۔ انہیں شادی کا اتنا ہی شوق چڑھا ہے تو امینہ آپی سے کروا دیں۔ مجھے ہی قربانی کا بکرا کیوں بنایا جا رہا ہے؟ مجھے نہیں کرنی ان سے شادی!"
وہ غم و غصّے کا اظہار کرتے بولی۔
"دیکھو بیٹا ہمارے ہاں لڑکیوں کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ بڑے جو فیصلہ کر دیں پھر ہمیں اس پہ سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ اور شادی کا بخار اسے نہیں تجھے ہی چڑھا ہوا تھا پھر اب پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے؟ تمہاری خواہش پہ ہی اس نے ہاں کہی ہو گی ورنہ وہ تو تمہاری عمر کا لحاظ کیے تمہیں وقت دے رہا تھا کہ تم پڑھائی مکمل کر لو۔ اب جب تم پڑھنا ہی نہیں چاہتیں تو وہ کس جواز پہ تمہیں وقت اور ڈھیل دے۔"
زیتون بانو اسے کب سے منانے اور سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ تھی کہ کچھ بھی سننے سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔
"کیا مطلب ہے ان سب باتوں کا؟ وہ مجھے وقت دے رہا تھا!"
اس نے حیرت زدہ انہیں دیکھا۔
بابا جان نے جہانزیب کے حویلی لوٹتے ہی اس سے تمہاری اور اس کی شادی کی بات کر دی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ تم اپنی پڑھائی مکمل کر لو اور پھر تمہاری عمر کا لحاظ کرتے ان سے کچھ وقت مانگا۔ اب جب تم خود اس کی شادی کرانے پہ تلی ہو تو پھر اب انکار کاہے کا؟"
زیتون بانو کے انکشاف پہ اسے ایک بار پھر سے حیرت ہوئی۔
"آپ جس سے مرضی میری شادی کرا دیجئے لیکن اپنے اس کھڑوس بھتیجے سے نہیں۔ وہ تو مجھے میری مرضی سے سانس بھی نہیں لینے دے گا۔ بس مجھے کتابیں ہی رٹواتا رہے گا۔ مجھے شادی اس لیے تو نہیں کرنی تھی۔ بلکہ اس لیے شادی کرنا چاہتی تھی کہ وہ میرا ہر طرح سے خیال رکھے، مجھے دنیا گھمائے۔ اور مجھے نئے نئے کپڑے اور جوتوں کے جوڑے ملیں گے، ڈھیر ساری کاسمیٹکس اور جیولری لیکن یہاں تو سادگی سے نکاح ہو رہا ہے جیسے کوئی سوگ کا سماں ہو، نہ لائٹنگ ، نہ ڈھول باجے، یہ بھی کوئی شادی ہے بھلا۔۔بس مجھے نہیں کرنی شادی۔"
وہ روہانسی ہوتے بولی۔
"میری جان یہ فیصلہ تمہارے نانا جی نے کچھ سوچ کے ہی کیا ہے۔ دیکھ میری بچی انہوں نے تجھے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ تمہاری ہر خوشی کا مان رکھا، تو کیا تم ان کے فیصلے کا احترام نہیں کرو گی؟ کتنا دکھ ہو گا انہیں یہ سن کر کہ تم نے ان کے فیصلے کو رد کر دیا۔"
اب وہ لائبہ کو ایمشنلی بلیک میل کرنے لگی تھیں اور پھر ان کی اس کوشش کے بعد وہ اپنے لبوں کو سی گئی۔
اسے سرخ عروسی جوڑے میں تیار کر کے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ وہ کب سے گھونگھٹ میں بے آواز رو رہی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھر جیسے ہی نانا جی، تایا ابا اور چچا کے ہمراہ مولوی صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو اس کے رونے میں روانی آ گئی۔
"لائبہ خان ولد نعمان خان آپ کا نکاح جہانزیب خان ولد شہباز خان بعوض دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"
مولوی صاحب نے نکاح کا آغاز کرتے ہوئے اس کی رضامندی پوچھی تو وہ سسکی بھر کے رہ گئی۔ نانا جی کا شفقت بھرا کپکپاتا ہاتھ سر پہ آیا تو لبوں میں لرزش ہوئی۔
"ججج۔ جی قبول ہے۔"
وہ بمشکل بولی۔
پھر دوسری اور تیسری بار پوچھا گیا۔ ویسی ہی کمزور آواز گھونگھٹ تلے سے آئی۔ پھر دستخط کرتے ہوئے بھی ہاتھ کپکپائے۔ اسے کیا معلوم تھا اتنی جلدی اس کی زندگی بدل جائے گی اور اسے اس جلاد کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس کی سسکیوں میں تیزی آئی تو پریشے اور امینہ اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے آگے بڑھیں۔
مولوی صاحب اب ان لوگوں کے ہمراہ جہانزیب کے پاس بیٹھے اس سے رضامندی لے رہے تھے۔ سفید شلوار قمیض سوٹ میں ملبوس وہ سنجیدہ سا شخص اور بھی وجیہہ لگ رہا تھا۔ اس کی طرف سے رضامندی ملتے ہی مولوی صاحب نے دعا کی اور ہر طرف مبارک سلامت کا شور بلند ہوا اور ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرایا گیا۔
لائبہ کو اپنے کمرے سے رخصت کر کے اسی حویلی میں جہانزیب خانزادہ کے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔
اس کا دم گھٹ رہا تھا، اس شخص کا خوف الگ طاری تھا۔ اور پھر سوچوں کا تانا بانا بنتے ہوئے جب دروازے پہ آہٹ محسوس ہوئی تو اس کا دل اس قدر زور سے دھڑکنے لگا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔
دروازہ بند کر کے وہ جیسے ہی اسکی جانب پیش قدمی کرنے لگا اس نے گھونگھٹ تلے خوف سے آنکھیں میچ لیں۔
اب وہ اس کے سامنے آ کر بیٹھ چکا تھا۔ کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی پھر جہانزیب نے رخ مکمل اس کی جانب موڑا تاکہ اسکا گھونگھٹ اٹھا سکے۔
گھونگھٹ پلٹا تو وہ ابھی تک کبوتر کی طرح آنکھیں موندے ڈری سہمی سی بیٹھی تھی۔
وہ نازک سی لڑکی اس وقت سرخ عروسی جوڑے میں اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ کچھ پل وہ کھڑوس شخص پلکیں جھپکانا بھول گیا۔ دن والا سارا غصہ اب جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا۔ اس کی جگہ اب محبت نے لے لی تھی۔ اسے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنی جلدی بدل جائے گا اور محبت اپنے رنگ دکھانے لگے گی۔
"بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔" جہانزیب نے اس کے رخسار کو چھوتے ہوئے بہت محبت سے کہا جس پر لائبہ پیچھے کو کھسکتی اس سے دور ہونے کی جستجو میں تھی۔ اس شخص کی قربت اسکی جان لینے کے در پہ تھی۔
جہانزیب جانتا تھا کہ ابھی وہ اٹھارہ سال کی نہیں ہوئی اور جن حالات میں اس کی شادی ہوئی تھی تو اسے وقت چاہیے تھا اس سب کو تسلیم کرنے میں۔
اس لیے مزید کچھ کہے بنا وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھا اور ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا وہ چینج کیے کمرے میں لوٹا تو وہ ابھی تک گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے یونہی ڈری سہمی سی بیٹھی تھی۔
"جاؤ چینج کر لو اور آرام کرو، تھک گئی ہو گی، کافی دیر سے اس بھاری جوڑے اور زیورات میں یونہی بیٹھی ہو۔"
جہانزیب نے بیڈ کی سمت قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ مزید بیڈ کراؤن سے جا لگی۔
"اتنا ڈر کس بات سے رہی ہو؟ وہی جہانزیب ہی ہوں کوئی بھوت تو نہیں۔ اور بیوی ہو اب تم میری۔۔یقینا تمہیں نقصان پہنچانے کی بجائے تمہاری حفاظت مجھ پہ فرض ہے۔ ویسے بھی دن کو مجھ پہ جو تبصرے کر رہی تھیں، بہت جلدی بھول گئیں۔ تمہارے بقول میں تو رن مرید بنوں گا۔"
جہانزیب نے سینے پہ بازو باندھے کہا تو وہ خفت زدہ ہوتی نظریں جھکا گئی۔
"کوئی اور ہوتی تو آپ یقیناً رن مریدی ہی کرتے۔"
اس نے شکوہ کناں لہجے میں کہا۔ وہ ہمیشہ اسے ڈانٹ ہی پلاتا آیا تھا پھر شکوہ کرنا تو بنتا تھا۔
جہانزیب کے نرم رویے نے لائبہ کی قوت گویائی لوٹا دی تھی۔ اب وہ اپنے خوف پہ کسی حد تک قابو پا چکی تھی۔ اسے یہ خوف ستا رہا تھا کہ جانے وہ اس کے ساتھ کیسے پیش آئے گا۔ لیکن جہانزیب کا نرم رویہ اس کی سوچ کے برعکس تھا۔
"کیوں تمہاری نہیں کر سکتا کیا؟"
جہانزیب نے ابرو اٹھائے سوال داغا۔
جہانزیب کی بات پہ اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا کہ کیا یہ وہی جہانزیب ہے۔ اور پھر اس کے چہرے پہ مسکان سجی دیکھ کر وہ تو صدمے سے بے ہوش ہونے کو تھی، کیا یہ شخص مسکراتا بھی ہے۔وہ سوچ کے رہ گئی۔
"آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ میں تو آپ کے نزدیک بہت نالائق اور پھوہڑ تھی ناں۔"
لائبہ نے پھر سے شکوہ کیا۔ کیونکہ اب اسے زبان واپس مل چکی تھی، تو خاموش رہنا مشکل تھا۔
"فیصلہ تو یہ دا جی کا تھا مگر پھر میرے دل کو بھی یہ پھوہڑ لڑکی پسند آ گئی۔"
جہانزیب نے مسکراتے ہوئے اعتراف محبت کیا تو لائبہ نے ایک ںیٹ مس کی۔
"لیکن آپ مجھے پسند نہیں ہیں۔"
اپنے تاثرات کو چھپاتے وہ منہ بسورے بولی۔
جہانزیب نے قہقہہ لگایا۔
"کیا کمی ہے مجھ میں؟ جانتی ہو ولایت میں یونیورسٹی کی بہت سی لڑکیاں تمہارے شوہر پہ فدا تھیں اور ایک تم ہو جو کہتی ہو میں تمہیں پسند نہیں ہوں۔ وجہ جان سکتا ہوں۔"
جہانزیب نے ایک بار پھر اس کے روبرو بیڈ پہ بیٹھتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
"ہاں کیونکہ آپ ہر وقت پڑھائی کی باتیں کرتے ہیں۔"
لائبہ نے منہ بسورے وجہ بھی بیان کر دی۔
"تو یہ بات ہے۔ جب تک تم اٹھارہ سال کی نہیں ہو جاتیں تب تک تو پڑھائی کی ہی باتیں کروں گا، اس کے بعد۔۔"
وہ بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہو چکا تھا۔
"کیا مطلب؟ اور اس کے بعد؟" اس نے ناسمجھی سے جہانزیب کو دیکھا۔
"بعد کی باتیں بعد میں ہی سمجھاؤں گا، فی الوقت تو تم چینج کر لو اس سے پہلے کہ میں اپنا ارادہ بدل دوں اور میرے دل میں تمہاری طلب جاگ اٹھے۔"
جہانزیب کی بے باک بات پہ وہ شرم سے لال گلال ہوئی تو وہ کھلکھلا اٹھا۔
"بعد میں یہی باتیں ہوں گی مسز جہانزیب خانزادہ۔ سمجھ رہی ہیں ناں!"
جہانزیب نے اسے دیکھتے ایک آنکھ ونک کی اور بیڈ سے تکیہ اٹھا کر کاوچ پہ جا لیٹا۔
لائبہ کا دل اتنی شدت سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنی دھڑکنیں اپنے کانوں میں سنائی دینے لگیں۔ جہانزیب کے آنکھیں موندنے پر اس نے سکھ کا سانس لیا۔ اپنے لرزتے وجود کو سنبھالتے وہ اٹھی پھر کسی خیال کے تحت رکی اور مڑ کے جہانزیب کی جانب دیکھا۔
"میں چینج کیسے کروں۔۔۔؟"
اس نے رونی شکل بناتے جہانزیب سے سوال کیا۔
لائبہ کے سوال پر اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور تب تک لائبہ کو اپنے سوال کی نوعیت کا احساس ہوا۔
"میرا مطلب ہے، یہ آپ کا کمرہ ہے تو ڈریسنگ میں میرے کپڑے تھوڑی ہوں گے۔ کیونکہ جن حالات میں یہ شادی ہوئی، یہ عروسی جوڑا مل گیا یہ بھی غنیمت ہے۔ اب کیا میں آپ کے کپڑے پہنوں گی ؟"
لائبہ نے توضیح پیش کرتے ساتھ ہی سوال بھی داغا۔
"مسز آپ خود جا کر کیوں نہیں دیکھ لیتیں۔ آپ کے سارے سوالوں کے جواب آپ کو مل جائیں گے۔"
جہانزیب نے مسکراتے ہوئے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا
"اب بار بار میرے سامنے اس روپ میں آؤ گی تو میں سمجھوں گا یہ کھلے عام دعوت دے رہی ہو مجھے۔ پھر خود کو روک نہیں پاؤں گا۔"
جہانزیب کی اگلی بات پہ لائبہ کے کانوں کی لو تک سرخ ہو گئی، وہ نظریں جھکائے اپنا لہنگا سنبھالتی ڈریسنگ کی سمت دوڑی تھی۔
اور پھر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی وہاں کئی خوبصورت اور بیش قیمت جوڑے لٹکے ہوئے تھے۔
اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے، وہ اتنا بھی برا نہیں تھا جتنا وہ اسے سمجھ بیٹھی تھی۔ بلکہ وہ خوبصورت دل والا ایک سلجھا ہوا مرد تھا۔ جو آج کی رات بھی اپنے جذبات سے بڑھ کر اس کی عمر کا لحاظ کر رہا تھا، اسے وقت دے رہا تھا اور یہی پل تھا جب لائبہ کو اپنے اس کھڑوس شہزادے سے محبت ہو گئی تھی۔
جب وہ چینج کر کے کمرے میں لوٹی تو لائٹ آف کرنے سے قبل اس نے جہانزیب کی سمت دیکھا جو آنکھیں موندیں لیٹا ہوا تھا۔ لائبہ کی آنکھوں میں نہ اب کوئی خوف باقی تھا، نہ نفرت بلکہ وہاں اب صرف محبت باقی تھی۔
.
.
کمپلیٹ ناول کے لیے ہمارے چینل کو سب سبسکرائب کر لیں اور بیل آئیکن کو پریس کر لیں تاکہ ناول کا نوٹیفکیشن آپ کو مل سکے شکریہ 💖
خوش رہے خوشیاں بانٹتیں رہیں۔
#urdunovels
#romanticnovel
#ForcedMarriage
#horainfiction
#urdureaders
#noveladdict
#lovestory
#facebooknovel
#novellover
#RomanticFeelings
#RomanticThriller
#dramalovers
1 month ago | [YT] | 22
View 5 replies