Asaan Zindagi 11M

" ہمارے یوٹیوب چینل Asaan Zindagi 11M میں خوش آمدید"
یہ چینل ان تمام مسلمانوں کے لیے ہے جو قرآنِ پاک کو سمجھنا، سننا اور اپنی زندگی میں اس کی روشنی لانا چاہتے ہیں۔

ہمارے چینل پر آپ کو ملیں گے:

قرآن کی خوبصورت تلاوت

اردو ترجمہ کے ساتھ مکمل سورتیں

دل کو چھو لینے والی قرآنی شارٹس

نیچرل ویڈیو clip کے ساتھ شارٹس (Relaxing Nature + Quranic Ayat)

روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹس


ہماری کوشش ہے کہ قرآنِ پاک کی تعلیمات کو ہر دل تک پہنچایا جائے، ایک خوبصورت اور مؤثر انداز میں۔

سبسکرائب کریں آج ہی، اور اپنے ایمان کو تازہ کریں۔
اسلامی مواد کو عام کریں، ثواب کمائیں، اور ہماری یوٹیوب فیملی کا حصہ بنیں۔

#سبسکرائب_کریں #QuranTilawat #UrduTranslation #IslamicShorts #QuranShorts #IslamicVideos #DailyQuran #BeautifulTilawat #QuranInNature #IslamicContent #LearnQuran #SurahWithTranslation #TafseerUrdu #QuranWithNature #PeacefulQuran #HeartTouchingTilawat


Asaan Zindagi 11M

سوال :
میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ خود سپردگی کے بعد ہوش بھی نہیں رہتا۔ تو پھر میں کیا کروں؟

جواب :
لاہوش انسان بے ہوش انسان یا اللہ کی راہ میں محو انسان جو ہے وہ ایک خطرے کا ضرور شکار ہو سکتا ہے کہ وہ خیر اور شر میں Discriminate یعنی تمیز نہ کر سکنے کی وجہ سے گناہ میں ملوث ہو سکتا ہے۔ اللہ کی یاد میں گم ہو جانے والا پورا مجذوب ہو سکتا ہے لیکن گناہگار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس حالت میں گناہ کی تمیز نہیں ہوتی، اس لیے گناہ کا امکان ہو سکتا ہے۔
اس لیے آپ اس بات کا ہوش کرنا اور خبردار رہنا! کہیں پھر یہ نہ کہنا کہ ہمیں تو گناہ ثواب کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ یہ ہوشیار رہنے کا مقام ہے کیونکہ اس حالت میں گناہ کے قریب جانے کا امکان ختم نہیں ہوتا۔ پھر یہ نہ کہنا کہ میں اس کے خیال میں گم تھا اور پاؤں کے نیچے کوئی چیز کچلی گئی۔ یہ خیال رہے۔ ہوش قائم رکھنا! تو "اللہ" کے خیال میں ہمہ حال گم رہنے والا لاعلمی میں گناہ میں ہاتھ ڈال سکتا ہے، محبت کی حالت میں یہ کر سکتا ہے،
فنافی اللہ کی حالت میں یہ کرسکتا ہے اور خانہ کعبہ کے اندر یہ غلطی ہو سکتی ہے۔ آپ میری یہ وارننگ یاد رکھنا! اس لئے میں آپ کو ساتھ ساتھ ہوشیار کرتا رہتا ہوں۔
“ ان الشيطن للانسان علومبین ” بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

اس لئے آپ ہوش قائم رکھیں اور اللہ کے حوالے سے سفر کرتے جائیں۔ سفر الی اللہ کا مطلب ہے سفر مع اللہ یعنی اللہ کی طرف جانا اللہ کے ساتھ ہی جاتا ہے۔ آپ یہ دعا کیا کریں کہ یا اللہ ہم گناہ نہیں چھوڑ سکتے تو گناہوں کو حکم دے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں ۔۔۔۔
آپ یہ دیکھیں کہ ہم اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ محفل ہم کسی اور جگہ بھی منعقد کرتے رہتے ہیں، جگہ بدلتی رہتی ہے، کبھی کسی بزرگ کے ساتھ ، کبھی کسی اور بزرگ کی محفل ہوتی ہے، جو مہربانی کرتا ہے، یہ اسی کی محفل ہوتی ہے۔ ہم بھی یہاں آکر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ بھی۔ آپ خالی ہاتھ آکر بیٹھ جاتے ہیں، اسی طرح ہم بھی آ جاتے ہیں۔
پھر آکے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ اس واقعہ کے بارے میں مہربانی فرما تو وہ واقعہ سمجھ آجاتا ہے، کبھی کوئی روح ہوتی ہے اور کبھی کوئی اور میں یہ بتا رہا ہوں کہ یہ کمرہ مبارک ہوتا ہے اور پھر یہاں بیٹھی ہوئی نگاہیں بعض اوقات قریب کے منظر کے اندر اتنا گم ہو سکتی ہیں کہ وہ نیکی اس کے لیے وبال بن جائے۔ میں یہ سمجھا رہا ہوں کہ یہاں بیٹھنے کا لطف جو ہے وہ لذت نفس بھی ہو سکتا ہے یعنی میرے ساتھ تعلق کے بعد اگر آپ کو یہ خیال آئے کہ اسی محفل میں بیٹھے ہوئے کسی اور شخص سے میری اطلاع کے بغیر ملا جائے تو یہ تمنا لذت نفس ہو گی اور خطرہ ہو گا۔
تو ایسا خطرہ خانہ کعبہ تک تعاقب کر سکتا ہے۔ اس لیے آپ یہ خیال رکھیں
کہ نیکی کا نشہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات ہم آپ کو بڑے وثوق سے بتا رہے ہیں۔ کہیں آپ نیکی کے نشے میں نہ آ جانا اور اس نشے سے آپ ضرور بچ جائیں۔ اللہ کے بتائے ہوئے احکامات یاد رکھنا اور ،،،،
““ لا تقربا لهذه الشجرہ ”” آپ اس ممنوعہ درخت کے قریب مت جانا۔
پرانے احکام جاری رہیں گے۔

آپ اپنی نیکی کو تحریک بناؤ Movement بناؤ اور اسے نشہ نہ بناؤ۔ نیکی تحریک کب بنے گی؟ اجتماعی شکل میں ۔ وگرنہ میں اپنی تنہائی چھوڑ کے آپ کے پاس کیوں آتا۔ جب میری تنہائی آباد ہو گئی تو پھر میں اس شہر میں آبادی کے لئے آیا ہوں۔ شہر تو ویسے آباد ہوتے ہیں۔

اور وہاں بھر پور آبادی ہوتی ہے لیکن وہ آبادی کچھ نہیں ہے۔ سمجھانے والے نے یہ کہا کہ جلوہ تو ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جلوے کو آواز دی جائے۔ ہم یہاں جلوؤں کو الفاظ دیتے ہیں اور یہ سفر بڑا Important ہے، بہت اہم ہے اور آپ اگر الفاظ کو چھوڑ کر جلوے میں داخل ہو جائیں تو بہتر تو یہ ہے کہ ہم واپس اپنے گھر چلے جائیں ۔
آپ میرے ساتھ اس سفر میں الفاظ کی نسبت سے شامل ہیں ورنہ آپ کی اور میری نسبت کوئی نہیں ہے۔ میں اس حد تک آپ کو واضح بات بتا رہا ہوں کہ میری اور آپ کی نسبت "الفاظ" کے ذریعے سے ہے۔ اگر یہ نسبت جلوے کی ہوتی تو میرے لئے جلوہ تو تنہا ہے۔ جلوہ اگر اہم ہوتا تو وہ جلوہ ہی رہتا۔ اللہ نے کہا ہے کہ میں جلوہ تھا اور میں نور تھا، پھر میں نے ارادہ کیا کہ ظاہر ہو جاؤں۔ پھر وہ جلوہ مخفی نہیں رہ سکا۔
تو جلوے کا روبرو رہنا Enough Achievement نہیں ہے، یہ حاصل کافی نہیں ہے۔

اگر ” امت “ گمراہ ہو جائے اور ایک آدمی صاحب جلوہ ہو جائے تو یہ اس شخص کا حاصل نہیں ہے۔ اس لئے آپ لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہوش قائم رہے اور اللہ کی طرف سفر جاری رہے۔
اللہ ہم سب پر کرم فرمائے۔
وصلى الله تعالی علی خیر خلقه و نور عرشه سيدنا و مولنا حبيبنا و شفيعنا محمد و آله واصحابه اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین

گفتگو 6 صفحہ نمبر 119 تا 116
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ

4 days ago | [YT] | 10

Asaan Zindagi 11M

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم!
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
صلی اللہ علیک یا احمد نور من نور اللہ!
شہنشاہوں نے ہمیں جھک کے سلامی دی ہے
کیونکہ ہم نے محمد ﷺ کی غلامی کی ہے

غازی اہلسنت غازی ملک ممتاز حسین قادری رحمتہ اللہ علیہ ❤

4 days ago | [YT] | 7

Asaan Zindagi 11M

: آپ غور سے سن لو کہ دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ،
بہت سارے انسان ایسے ہوتے ہیں کہ

اگر ان کی زندگی میں بہت سے ”خوشگوار واقعات“ ہوں ،
اور کبھی ایک آدھ واقعہ ”ناخوشگوار یا تلخ“ ہو جائے تو ، ”گلہ“ کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔

اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ،
: جن کی ” تلخ زندگی کے باوجود کوئی ایک آدھ واقعہ خوشگوار “ ہو جائے تو وہ ” شکر “ ادا کرتے رہتے ہیں ۔

: اس طرح کے لوگ" پہلے کی زندگی میں بھی شکر "ادا کرتے رہتے ہیں
کہ یا ربّ العالمین تیرا شکر ہے کہ " جگنو کی روشنی تو ملی ۔ "
شکر الحمدلللّہ ۔

: اور جو ” دوسری قسم کے لوگ “ ہیں اگر ان کی روشنی میں ایک " داغ " آگیا
تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا " داغ آگیا اور بڑے افسوس کی بات ہے ,,, آج پھر " اندھیرا ہو گیا۔ "

تو یہ آپ کا ” مزاج “ ہے کہ,,,
" آپ کس انداز سے چلتے ہیں ، "

: اگر آپ thankful رہیں تو ،
: نہ خوشی ، خوشی ہوتی ہے
: اور نہ غم ، غم ہے ۔

: آپ الحمدللّہ پڑھتے جاوٴ ،
: غم آگیا تو الحمداللّہ ،
: کوئی اچھا واقعہ ہو گیا تو الحمد اللّہ ،
: نہیں ہوا تو بھی الحمد الله ۔

: واقعہ خراب ہو گیا تو بھی الحمد اللّہ ۔

پھر آپ کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ آپ تو " کچھ بھی نہیں کر رہے ہو ,, "
" بلکہ کرنے والی ذات تو وہ خود ہے ۔ "

: اگر آپ کو یہ اختیار ہوتا تو پھر آپ یہ بات ضرور کر سکتے
مگر یہ ” سب کچھ کرنے والا تو وہ خود ہے۔ “
______ تو وہ آپ ہی آپ ہے ۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو نمبر 5

1 week ago | [YT] | 17

Asaan Zindagi 11M

: عدل اور میزان کا صحیح میدان تو میدانِ حشر ہی ہو گا ، لیکن ،،،،،،
اس میدان میں اترنے سے پہلےایک ”نکتہ قابلِ غور“ ہے ۔

: ادب کا حکم دینے والی ذات ، ”ادب کے علاوہ بھی مسائل کے حل کا ایک انداز عطا فرماتی ہے ۔ “
عدل کرو ، بڑی اچھی بات ہے
لیکن ،،،،،،،،،،،
_______ اگر ”فضل کرو تو بہت ہی اچھا “۔ _________

: اللہ ہی کا ارشاد ہے کہ
"میری رحمت ، میرے غضب سے زیادہ وسیع ہے"
غضب تو یہ ہے کہ
انسان کو اس کے عمل کی عبرت کے حوالے کر دیا جائے
لیکن،،،،،،
_____ فضل کہتا ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے ۔ _____
: رحمت ہوتی ہی ہے اعمال کی عبرت سے بچانے کیلئے ۔۔۔! : اگر اعمال کے ساتھ صرف ””انصاف““ ہی ہونا ہے
_________ تو رحمت کیا ہے ۔۔۔! _________
: انصاف یہ ہے کہ جب معاشرہ باغی اور مُجرم ہو جائے تو اسے تباہ کر دیا جاتا ہے ۔
: پرانی امتیں اسی طرح نیست و نابود ہو گئیں ۔۔ ““““““
کسی کو آواز نے آ لیا ۔۔۔ ،
: کوئی آندھی کی زد میں آگیا ۔۔۔۔،
: کسی کو رعد ۔۔۔،
: کسی کو برق کا عذاب دیا گیا ۔
: کسی کو زمین نگل گئی ،
: اور کسی کو آسمان کھا گیا ۔۔۔۔،
لیکن، عرب کا معاشرہ ، اسلام سے قبل تمام خامیوں کے باوجود ۭ””” تباہ نہیں کیا گیا ۔ “““
اللہ ، مالک ہے عدل کا ۔۔۔۔ ، ”””” فضل کا ۔ ““““

: اس نے خیال کیا ،،،،،
: چلو اس معاشرے پر رحم بھیج دیا جائے ، بلکہ ان پر رحمت اللعالمینﷺ کو بھیج دیا جائے ۔ "
: پس وہ معتُوب معاشرہ ، ”مقبول معاشرہ بنا دیا گیا ۔“
______ بلکہ کائنات کا افضل ترین معاشرہ !! ________


سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب: حرف حرف حقیقتa

1 week ago | [YT] | 16

Asaan Zindagi 11M

ایک درویش جھاڑو دینے والے کے پاس سے گزرے ، اس کا کُوڑا ٹوکرے میں تھا ۔ تو درویش نے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر اس کے سر پر رکھ دیا درویش کے مرید بڑے ناراض ہو گئے اور بڑے چیں بہ چیں ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ سرکار آپ نے یہ کیا غضب فرما دیا ، آپ ہمیں حکم فرماتے ۔
تو انہوں نے فرمایا آپ لوگ بات سمجھے نہیں ، یہ اللّٰہ کی تقسیم ہے کہ اِسے اُس حال میں رکھا اور ہمیں اِس حال میں رکھا ،
اور ۔۔۔ اِس حال میں رہنے کا شکریہ ہے کہ میں اس حال کے ساتھ نیکی کروں ۔۔۔۔

تو آپ لوگ یہ کِیا کرو کہ "اس" حال کے رہنے والے کے ساتھ نیکی کِیا کرو ، جس کا Sub human brain ہے ، کم دماغ ہے اس کے ساتھ نیکی کیا کرو ، جو بیچارہ معمولی زندگی گزار رہا ہے اس کے ساتھ نیکی کیا کرو ۔

آپ کی بلندیاں آسمانوں کے کام آ رہی ہیں مگر آسمان تو آپ سے پہلے ہی بلند ہیں ۔ تو آپ جس آسمان کے بھی رہنے والے ہو، جس آسمان کے بھی ستارے ہو ، آپ زمین والوں کے ساتھ تھوڑی سی نیکی کر گزرو ۔
نیکی یہ کیا کرو کہ "آپ کو میں نے معاف کر دیا" اور کمزور کے ساتھ آپ دستِ شفقت رکھو ، برا نہ مناوٴ ، نااہل انسان کے ساتھ رعایت کرو اور جس کا حق نہیں بنتا اس کے ساتھ رعایت کرو ۔

ایسا اسلام نافذ نہ کرو کہ آج اللّٰہ کے نام پر تجھے قتل کر دوں گا ۔۔ تُو اللّٰہ کے نام پر اسے کیوں قتل کرے گا؟
کیا تُو اللّٰہ کو بچا رہا ہے ؟ تم اللّٰہ کو کیا بچاوٴ گے ۔

آپ نے اسلام کو نہیں بچانا ، بلکہ اسلام نے آپ کو بچانا ہے ۔

اللّٰہ کا فرمان ہے "اللّٰه جنُود السّمٰوات والارض" اللّٰہ کہتا ہے کہ میرے پاس آسمانوں اور زمینوں کے لشکر ہیں۔"
اللّٰہ کہتا ہے میں وہ اللّٰہ ہوں کہ میرے پاس بہت کچھ ہے اور تم کیا جانو کہ میرے پاس کیا ہے ۔
تو آپ ناراض نہ ہوا کرو، Offend مشتعل نہ ہوا کرو ۔ یہاں آکر فقراء نے یہ بات کہی ہے کہ آپ مسجد کو مندر کو بےشک گرا دو لیکن انسان کے دل کی حفاظت کرو، شکستہ دل جو ہے یہ اللّٰہ کے قریب ہوتا ہے ۔ یقینا قریب ہوتا ہو گا ۔ اس لئے شکستہ دل سے بچو ، بلکہ انسان کی آہ سے بچو ،
اور آپ دوسروں کی اصلاح کرنے سے بچو ۔ اگر اصلاح کرنے کا آپ کے اندر جذبہ پیدا ہو جائے تو پھر اپنی اصلاح کر لو ۔
اگر نقائص دیکھنے ہوں تو اپنے آپ میں دیکھو ۔ مگر آپ Otherwise ، اُلٹ ہو کر خوبی اپنے اندر دیکھتے ہو اور خامی دوسروں کے اندر دیکھتے ہو ۔ آپ ٹھیک ہو جاو تو آسانی پیدا ہو جائے گی اور اس طرح نیکی پیدا ہو جائے گی ۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
(گفتگو11تا15/گفتگو15 صفحہ:563، 564)

1 week ago | [YT] | 23

Asaan Zindagi 11M

دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو تو موت سے بھی ڈر نہیں لگتا ! ختم نبوت تحریک میں پھانسی کی سزا سننے کے بعد مولانا عبد الستار نیازیؒ ، جیسے کوئی بادشاہ وقت چل کر آ رہا ہے .

ایمان کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو دنیا کے بڑے سے بڑے خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ جب دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ گھر کر جائے تو تخت، تاج، جیل، زنجیریں اور پھانسی کا پھندا بھی اس کے سامنے اپنی ہیبت کھو دیتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں تحریکِ ختمِ نبوت کے وہ دن بھی اسی جذبۂ عشقِ رسول ﷺ کی ایک روشن داستان ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے علماء، مشائخ اور عام مسلمان میدان میں نکل آئے تھے۔ حالات سخت تھے، گرفتاریاں ہوئیں، مقدمات چلے اور کئی لوگوں کو موت کی سزائیں سنائی گئیں۔

انہی ناموں میں ایک نام مولانا عبد الستار نیازیؒ کا بھی تھا۔

کہتے ہیں کہ جب تحریکِ ختمِ نبوت ﷺ کے دوران مولانا عبد الستار نیازیؒ کو سزائے موت سنائی گئی تو عام انسان کے لیے شاید یہ خبر قیامت سے کم نہ ہوتی۔ موت کا نام ہی جسم پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ مگر جس سینے میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہو، وہاں موت بھی اپنی دہشت کھو دیتی ہے۔

مولانا عبد الستار نیازیؒ سزا سننے کے بعد جب باہر آئے تو انکی چال میں ایسا فاتح انداز تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بادشاہ وقت چل کر آ رہا ہے .

سر بلند، قدم مضبوط، چہرے پر اطمینان اور دل میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت۔

وہ جانتے تھے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، مگر رسولِ اکرم ﷺ سے وفا کا راستہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

یہی تو عشق ہے!

عاشق اپنے محبوب کے لیے اپنی جان کی قیمت بھی بھول جاتا ہے۔

جس دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو، وہاں موت انجام نہیں رہتی، ایک سفر بن جاتی ہے۔ پھر انسان یہ نہیں سوچتا کہ "میں مر جاؤں گا"، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ "اگر میری جان میرے نبی ﷺ کی محبت اور دین کی سربلندی کے راستے میں چلی جائے تو اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے؟"

مولانا عبد الستار نیازیؒ کے کردار میں یہی بے خوفی دکھائی دیتی ہے۔

وہ دور یاد کیجیے جب عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے لوگ اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ کسی کے پاس طاقت نہیں تھی، کسی کے پاس لشکر نہیں تھا، کسی کے پاس دنیاوی اقتدار نہیں تھا۔

ان کے پاس صرف ایک چیز تھی:

عشقِ رسول ﷺ۔

اور عشقِ رسول ﷺ وہ طاقت ہے جو نہ تلوار کی محتاج ہے، نہ تخت کی، نہ تاج کی۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ دنیا سے چلے گئے، ان کے محلات خاک ہوگئے، ان کے تاج عجائب گھروں میں رہ گئے، مگر عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے نام آج بھی زندہ ہیں۔

مولانا عبد الستار نیازیؒ بھی انہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے یہ پیغام دیا کہ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ وقت آنے پر اپنے عقیدے کے لیے ثابت قدم رہنے کا نام بھی ہے۔

سزائے موت سامنے ہو اور قدم نہ ڈگمگائیں، تو سمجھ لیجیے دل میں کوئی دنیاوی طاقت نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ بول رہا ہے۔

موت تو ایک دن ہر انسان کو آنی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی موت کے نام سے کانپتا ہوا دنیا سے جاتا ہے، اور کوئی اپنے ایمان، اپنے عقیدے اور اپنے محبوب ﷺ کی محبت کو سینے سے لگائے ہوئے رخصت ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے:

دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو تو موت سے بھی ڈر نہیں لگتا۔

یہ عشق انسان کو باغی نہیں، باکردار بناتا ہے۔ یہ عشق انسان کو ظالم نہیں، ثابت قدم بناتا ہے۔ یہ عشق انسان کو نفرت نہیں، ایمان کی روشنی دیتا ہے۔

مولانا عبد الستار نیازیؒ کی بلند قامت شخصیت ہمیں آج بھی یہی سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر دل میں اپنے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی محبت زندہ ہو تو انسان تنہا ہو کر بھی ایک پوری دنیا کے برابر کھڑا ہوسکتا ہے۔

وہی سر جو سجدۂ الٰہی میں جھکتا ہے، باطل کے خوف سے نہیں جھکتا۔

اور وہی دل جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت سے آباد ہو جائے، اسے دنیا کی کوئی دھمکی شکست نہیں دے سکتی۔

یہی عشق ہے۔
یہی وفا ہے۔
اور یہی وہ طاقت ہے جس نے مولانا عبد الستار نیازیؒ کو سزائے موت کے سائے میں بھی بادشاہوں جیسی شان کے ساتھ چلنے کا حوصلہ دیا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو بھی سچی محبتِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

2 weeks ago | [YT] | 9

Asaan Zindagi 11M

*آپ سب درود شریف پڑھو اور ہر آدمی حضور پاک ﷺ سے دعا کرے
کہ یارسول اللہ ﷺ اُمت پر رحم فرمائیں ۔

اب وقت ایسا آ گیا ہے کہ انتشار ہو گیا ہے ،
آدمی ، آدمی سے الگ ہو گیا ہے ،
فرقہ ، فرقے سے الگ ہو گیا ہے ،
ایک دوسرے سے طبقے الگ الگ ہو گئے ہیں ،
کہیں ایسا نہ ہو کہ ملت مٹ جائے ۔۔۔۔۔۔

دعا یہ کرو کہ یارب العالمین! یارسول اللہ ﷺ اُمت کو اکٹھا فرمائیں ، ملت کو اکٹھا فرمائیں ،
ان کو پھر عہدِ رفتہ کی طرف رجوع عطا فرمایا جائے ،

جس طرح آپ ﷺ پہلے رحمتہ اللعالمین بن کے تشریف لائے ہیں اسی طرح آج آپ ﷺ کی یاد رحمتہ اللعالمینی کرے

”تاکہ ہمارے اندر سارے انتشار دُور ہو جائیں ۔ “

یہ دعا کرو کہ یارب العالمین رحم فرما! یااللہ اس اُمت پر ، ملت پر رحم فرما ۔


: حضور پاک ﷺ کی سب سے بڑی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ غریبوں میں غریب ہیں اور بادشاہوں میں بادشاہ ۔
جس انداز سے Approach کرو گے آپ کو حضور پاک ﷺ کی شان ملے گی ۔

: محبت سے کرو ،
: دل سے دنیاوی آرزو نکال دو ،
: پھر اللہ تعالیٰ اور اللہ کے حبیب ﷺ رحم فرمائیں گے ۔۔۔۔

: سب سے بڑی دعا یہ ہے کہ یااللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی محبت فرما!
حضور پاک ﷺ کی محبت کے چراغ روشن ہوں !
واقعی چراغوں میں حضور پاک ﷺ کی محبت روشن ہو!

: یااللہ ہم خالی تقریب منانے والی قوم نہ بن جائیں ،
خالی جلوس نکالنے والی قوم نہ بن جائیں ،
: خالی جلسے کرنے والی قوم نہ بن جائیں ،
ان جلسوں اور جلوسوں میں اگر وہ روح ہے تو یہ جاری رہیں ، اگر نہیں ہے تو انہیں بند کرا ۔

: یارب العالمین! یااللہ یااللہ ! روح والی بات نافذ فرما
تاکہ صداقت کے ساتھ اسلام کا بول بالا ہو ۔ آمین


(گفتگو والیم 2 صفحہ نمبر 202)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

2 weeks ago | [YT] | 14

Asaan Zindagi 11M

*اخباروں میں لکھا ہوا ہے اور تاریخ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ دنیا کروڑوں سال سے چل رہی ہے ، اور آپ یہاں پر نہیں تھے ، پھر بھی دنیا چل رہی تھی ۔ تو کیا تیرے بعد نہیں چلے گی ۔ آپ کے والد صاحب کے بعد چل گئی ہے تو کیا آپ کے بعد نہیں چلے گی ۔ تو یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ۔ تو یہ دنیا پیغمبروں کے بعد چل گئی ، ولیوں کے بعد چل گئی اور آپ کے والدین کے بعد چل گئی ہے تو کیا تیرے بعد نہیں چلے گی ، کیا تو کوئی بہت ہی افلاطون ہے ۔ اس لیے یہ دنیا چلتی رہے گی ۔
بچوں کا کیا ہو گا؟ ٹھیک ہوتا ہی رہے گا ، انہیں پالنے والا پالتا ہی رہے گا ۔ بس اپنی جان بچائیں ۔ اس طرح پھر آپ کو سکون مل جائے گا ۔

(گفتگو والیم 11 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 29)
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

3 weeks ago | [YT] | 12

Asaan Zindagi 11M

: کوئی فارمولا ایسا نہیں جو ٹوٹا نہ ہو۔
: کوئی علم ایسا نہیں جو آخری ہو۔

صرف ایک علم آخری ہے اور وہ یہ کہ حضور پاک ﷺ کی محبت والا کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
فائنل کی محبت فائنل ہے۔
” باقی یہ کہ فارمولے تو بدلتے رہتے ہیں۔ “
” آپ ایسی کتابیں پڑھنا بند کر دو ۔
” کیا پڑھنا چاہیے؟ استغفار پڑھو ۔
” اور اس سے اچھا وظیفہ یعنی استغفار سے اچھا وظیفہ ہے ” الحمد للہ۔ “

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب۔ گفتگو 24 صفحہ نمبر 38

3 weeks ago | [YT] | 16