جزیہ سے متعلق متقدمین و معاصرین کی تعبیرات کا اختلاف: اسلامی فقہ میں اہل الذمہ سے متعلق احکام کا ایک مضبوط و مستحکم نظام پایا جاتا ہے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے۔ ان احکام میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف تعبیرات سامنے آئی ہیں، جن کی تفہیم کے لیے جزیہ ایک نہایت اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ متقدمین فقہاء نے جزیہ کو اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کی ایک ذمہ داری کے طور پر بیان کیا، جو ان کے جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی ضمانت کے بدلے میں عائد کی جاتی تھی۔ فقہاء کی کتب میں جزیہ کی شرح، ادائیگی کی کیفیت اور اس کے مستحقین پر تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ امام ابو یوسف، امام شافعی اور امام سرخسی جیسے جلیل القدر فقہاء نے جزیہ کو ایک قانونی و مالی ذمہ داری کے طور پر دیکھا، جسے جنگی حالات، ریاستی نظم اور معاشرتی استحکام کے تناظر میں نافذ کیا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک جزیہ کی ادائیگی سے غیر مسلم رعایا کو ایک محفوظ سماجی و معاشی مقام حاصل ہوتا، اور وہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں شریک رہتے۔ مگر جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھا، سیاسی، سماجی اور معاشی تغیرات نے فقہاء کو نئے اجتہادی افق کی طرف متوجہ کیا۔ جدید اسلامی ریاستوں میں شہریت کے جدید تصورات اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات نے جزیہ کی عملی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔ معاصر اسلامی مفکرین، جیسے ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی اور دیگر علماء نے اس موضوع پر نئی تعبیرات پیش کیں۔ ان کے مطابق جزیہ کا اصل مقصد ایک منصفانہ سماجی توازن برقرار رکھنا تھا، اور اگر جدید ریاستیں غیر مسلم شہریوں پر ٹیکس عائد کر کے انہیں مساوی تحفظ فراہم کر رہی ہیں تو روایتی جزیہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بعض معاصر علماء نے جزیہ کی تطبیق کو تاریخی سیاق و سباق میں دیکھا اور استدلال کیا کہ اسلامی فقہ کی روح، یعنی عدل و مساوات، اس امر کی متقاضی ہے کہ غیر مسلم شہریوں کو وہی حقوق حاصل ہوں جو مسلم شہریوں کو حاصل ہیں، اور ان پر کوئی ایسا مالی بوجھ نہ ڈالا جائے جو سماجی تفریق کا باعث بنے۔ اس تعبیر میں فقہ اسلامی کی وہ لچک نمایاں ہوتی ہے جو ہر دور میں انسانی سماج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر شرعی احکام کی تعبیر و تفہیم کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ ارتقاء درحقیقت اسلامی فقہ کی اسی صلاحیت کا مظہر ہے جو حالات کے تغیر کے ساتھ تعبیرات میں وسعت اور نرمی کی اجازت دیتی ہے۔ متقدمین کے ہاں جزیہ ایک لازمی مالی ذمے داری تھی، جبکہ معاصر علماء نے اس کے متبادل کی جستجو میں فقہ کے اصولوں سے رہنمائی لے کر عصری نظام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا۔ یہ فرق محض نظری نہیں، بلکہ عملی میدان میں بھی واضح نظر آتا ہے، جہاں آج کی اسلامی ریاستیں اس مسئلے کو جدید قانونی، سیاسی اور اقتصادی تناظر میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محمد ریحان 17 فروری 2025ء
قیامِ خلافت کا وجوب اور اس پر اجماع ہونے کی حقیقت:(قسط 1) الاحکام السلطانیہ کے مصنف علامہ ماوردی جو کہ پانچویں صدی کے ایک مشہور مصنف گزرے ہیں ،ان کے نزدیک قیامِ خلافت کے وجوب پر امت کا اجماع ہے،امت میں اگر کوئی بھی خلافت کا قیام نہیں کرتا،تو پوری امت گنہگار ہوگی۔ باب اول کے بالکل ابتداء میں مصنف اس بات کا ذکر کرتے ہیں :
‘‘وعقدها لمن یقوم بها فی الاٴمة واجب بالاجماع (1)
ترجمہ: قیامِ خلافت ان پر جو اس کو قائم کریں،اجماعی طور پر واجب ہے۔
جہاں تک مصنف کی اس بات کا تعلق ہے کہ قیامِ خلافت کے وجوب پر اجماع ہے،تو یہ بات درست ہے کہ قدیم فقہاء نے قیامِ خلافت کے وجوب پر صحابہ کرام کا اجماع نقل کیا ہے۔(2)عقدِ خلافت کے وجوب پر امت کا اجماع ہے،اور امت پر لازم ہے کہ وہ ایسے عادل حاکم کو مقرر کریں،جو اللہ کے احکام کو قائم کرے،اور جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے،ان سے لوگوں کو روکے۔(3)
مذکورہ حضرات کا استدلال اجماعِ صحابہ اور تعابعین ہے،کیونکہ صحابہ کرام سے یہ بات ثابت ہے کہ جونہی انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر پہنچی ،تو انہوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں فورا عقدِ خلافت کے لئے لوگوں کو بلایا،جس میں کبار صحابہ نے شرکت کی،حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے انہوں نے اہم امور جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کو بھی موخر کردیا۔اگرچہ ان کے مابین اس شخص کے بارے میں اختلاف تھا،جس کو خلیفہ بنایاجائے،لیکن مجموعی طور پر سب اس بات پر متفق تھے کہ کسی نہ کسی شخص کو خلافت کے لئے نامزد کیا جائے۔جوکہ قیامِ خلافت کے وجوب پر صحابہ کے اجماع کی مثال ہے۔(4)
یہاں تک تو بات درست ہے،لیکن دورٕ حاضر میں کئی انتہاء پسند تنظیمیں اور جماعتیں قیامِ خلافت کے لئے مذکورہ فقہاء کے بیان کردہ اجماع کو ہی بنیاد بناتے ہوئے،لوگوں کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ دورٕ حاضر میں خلافت کا قیام امت پر واجب ہے۔دورِ حاضر میں قیامِ خلافت کے وجوب کا کئی حضرات نے جواب دینے کی کوشش کی ہے،لیکن کوئی بھی جواب قابلِ تشفی نہیں ہے۔قدیم فقہاء کی عبارات سے مجھے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فقہاء نے جس مفہوم میں خلافت کے قیام کو فرض قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کے لئے باقاعدہ نظامِ حکومت قائم کریں،اور اس کے تحت زندگی بسر کریں،کیونکہ شریعت نے بحیثیت جماعت مسلمانوں کو جو احکام دئے ہیں،ان میں سے بہت سے احکامات پر عمل در آمد حکومت کے قیام پر موقوف ہے،جیسے عدلیہ کا قیام،قانون کی تنفیذ کا قیام وغیرہ،جبکہ دیکھا جائے ،تو افراد اپنی انفرادی حیثیت سے ان احکامات پر عمل نہیں کرسکتے۔اسی وجہ سے اگر مسلمان کسی علاقے میں آزاد اور خود مختار ہوں اور اس کے باوجود اپنا کوئی نظم اجتماعی قائم نہ کریں،تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی اجتماعی زندگی میں شریعت کے بہت سے احکامات پر عمل ہی نہیں کرسکیں گے،اور یوں ایک شرعی فریضے کے تارک اور گناہگار قرار پائیں گے۔فقہائے کرام نے اسی کو ‘‘نصب امام’’ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔یعنی مسلمانوں پر اپنا کوئی حکمران منتخب کرنا لازم ہے جو ان کے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کی ذمہ داری ادا کرسکے،اور دورِ حاضر میں پاکستان یا دیگر اسلامی ریاستوں میں آنے والے حکمران ریاست کے اس اسلامی نظم کے پابند ہوتے ہیں،جس میں مسلمان اپنے دینی کام اجتماعی طور پر سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔(5)
چنانچہ ابوطاھر بن عبد اللہ بغدادی المتوفیٰ 429ھ قیام خلافت کی علت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَقَالُوا فِي الرُّكْن الثانى عشر الْمُضَاف الى الْخلَافَة والامامة ان الامامة فرض وَاجِب على الامة لاجل إِقَامَة الامام ينصب لَهُم الْقُضَاة والامناء ويضبط ثغورهم ويغزى جيوشهم وَيقسم الفىء بَينهم وينتصف لمظلومهم من ظالمهم(6)
یہ کہتے ہیں کہ بارہویں رکن، جو خلافت اور امامت سے متعلق ہے، یہ ہے کہ امامت امت پر فرض اور واجب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام کی تنصیب کے ذریعے قاضی اور محافظ اور نگراں مقرر کیے جاتے ہیں، اور امام ہی ان کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کی فوجوں کو روانہ کرتا ہے، اور ان کے درمیان فَیْء کی تقسیم کرتا ہے۔ نیز، امام مظلوم کو ظالم سے انصاف دلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
علامہ بغدادی کی عبارت سے معلوم ہوا کہ قیامِ خلافت کا مقصد ایک ایسی لیڈر اور رہنما کا موجود ہونا ہے،جو لوگوں کے لئے قاضی کو مقرر کرے،ان کے لئے محافظ اور نگرانوں کا بندوبست کرے،اور ان کی سرحدوں کی حفاظت اور مظالم سے نجات کے لئے فوج تیار کرے۔
اور یحییٰ بن ابو الخیر شافعی المتوفیٰ 558ھ فرماتے ہیں:
ومذهب أصحاب الحديث وأكثر أهل العلم إلى أن نصب الإمام واجب،وقال بعض المتكلمين لو تكاف الناس عن الظلم لم يجب نصب الإمام، وهذا خطأ لأن الصحابة - رضي الله عنهم - أجمعوا على نصب الإمام، ولأن تكاف الناس عن المظالم مستحيل، لأن الظلم من شيم النفوس وإنما يظهره القدرة ويخفيه العجز. إذا ثبت هذا فليس من شرط الإمام الاختصاص بشيء من العلوم لا يشاركه فيها غيره، بل هو وسائر الخلق في علم الشريعة وأحكامها شيء واحد، لأن الأئمة في عصر الصحابة رضي الله عنهم لا يدعون لأنفسهم ولا يدعي لهم مدع منهم اختصاصاً بشيء من العلوم لا يشاركهم غيرهم فيه فإن قيل: إذا لم يكن الإمام يختص بشيء من ذلك فما المقصود، وما المعنى الذي نصب لأجله؟ قيل: المعنى الذي نصب الإمام أجله هو انتظام أمر الدنيا والدين، لأن نظام الدين لا يحصل إلا بانتظام الدنيا من تدبير الجيوش، وسد الثغور، وردع الظالم، وأخذ الحق للمظلوم، ونصب القضاة وجمع شتات الآراء وإقامة الحدود، فجملة الدنيا في حق الإمام كبلدة في حق قاض من القضاة.(8)
ترجمہ: مذہب اہل حدیث اور اکثر اہل علم یہ ہے کہ امام کا نصب واجب ہے۔ بعض متکلمین نے کہا کہ اگر لوگ ظلم سے بچ جائیں تو امام کا نصب واجب نہیں ہوتا، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم - کا اجماع ہے کہ امام کا نصب ضروری ہے۔ اور لوگوں کا ظلم سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ ظلم نفوس کی خصلت ہے اور یہ صرف قدرت سے ظاہر ہوتا ہے اور عاجز لوگوں سے چھپتا ہے۔
اگر یہ ثابت ہو جائے تو امام کے لیے کسی خاص علم کا ہونا شرط نہیں ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہ ہو۔ امام اور دیگر لوگوں کے لیے علم شریعت اور اس کے احکام میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم - اپنے زمانے میں کسی خاص علم کا دعویٰ نہیں کرتے تھے جس میں ان کا کوئی شریک نہ ہو۔
اگر کہا جائے کہ امام کسی خاص علم کا حامل نہیں ہوتا تو اس کی تنصیب کا مقصد کیا ہے؟ تو کہا جائے گا کہ امام کی تنصیب کا مقصد دنیا اور دین کا انتظام ہے، کیونکہ دین کا نظام دنیا کے انتظام سے ہی حاصل ہوتا ہے، جیسے کہ فوجوں کی تدبیر، سرحدوں کی حفاظت، ظالم کو روکنا، مظلوم کے حق کو واپس کرنا، قاضیوں کا نصب، مختلف آراء کو جمع کرنا، اور حدود کا قیام۔ پس دنیا کا مجموعہ امام کے لیے ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے جیسے کسی قاضی کے لیے ایک شہر(ترجمہ ختم)
علامہ ابو الخیر شافعی کی عبارات سے درج ذیل باتیں مستفا دہوئیں:
۱۔خلافت کا قیام امت پر فرض ہے،جمہور اصحابِ حدیث اور اکثر اہل علم کا نظریہ یہی ہے۔
۲۔خلیفہ کے لئے کسی ایسے علم کی کوئی خاص شرط نہیں،جو لوگوں میں کسی کے پاس ہونے کا امکان نہ ہو۔
۳۔خلافت کا مقصد دین اور دنیا کا انتظام ہے،اور دین کا انتظام دنیا کے انتظام کے بنا ممکن نہیں،لہذا اصل دنیا کا انتظام ہے۔جیسا کہ قاضیوں کا نصب،حدود کا قیام وغیرہ۔
علامہ ابو الخیر شافعی کے مذکورہ پوائنٹس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامِ خلافت کا اصل مقصد دینی امور کا قیام ہے۔بیعنیہ یہی وہ چیز ہے ،جس کو کئی حضرات نے یہ کہہ کربیان کیا ہے کہ خلافت کا اصل مقصد دینی تعلیمات کا قیام ہے،پھر چاہے وہ خلافت کے نظام کے تحت ہو ،یا پھر کسی اور سیاسی وسماجی نظام کے تحت ہو۔اب یہاں دو باتیں قابلِ اعتراض ہوسکتی ہیں:
1۔ایک یہ کہ پھر صحابہ کے دور میں خلافت کے نظام کو کیوں اپنایا گیا؟ 2۔دوسرا یہ کہ اس خلافت کے نظام پر تو صحابہ کا اجماع ہے،پھر اس سےخلافت کے نظام کو چھوڑنا تو جائز نہیں ہوگا،کیونکہ اجماع دینِ اسلام میں احکامات کے ادلہ اربعہ میں سے ایک رکن ہے۔
ان دونوں اعتراضات کا جواب ان شاء اللہ اگلی اقساط میں آئے گا۔
(1) ماوردی،ابو الحسن علی بن محمد،احکام السلطانیة(دارالکتب العلمیة بیروت،لبنان الطبعة الاولیٰ 1985)ص5
(2) الطحطاوی،احمد بن محمد،حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار(دارالکتب العلمیة بیروت،لبنان، الطبعة الاولیٰ 2017)ج1ص238
(3) الازھری،صالح عبد السمیع،جواھر الاٴکلیل، المکتبة التفاقیة،بیروت،ج1ص251
(4) الشربینی،محمد الخطیب،مغنی المحتاج الی معرفة معانی الفاظ المنھاج(دارالکتب العلمیة،2000)ج4ص229
(5) تقی عثمانی،اسلام اور سیاسی نظریات(مکتبة معارف القرآن کراچی)ص226
(6)بغدادی ،عبد القاھر بن طاہر،الفرق بین الفرق وبیان الفرقة الناجئة (دارالآفاق الجدیدة ،بیروت )ص340
(7)یمنی،یحییٰ بن ابو الخیر ،الانتصار في الرد على المعتزلة القدرية الأشرار(أضواء السلف، الرياض، المملكة العربية السعودية،الطبعة الاولیٰ 1419)ج3ص816
سوال کا جواب: عقیقہ کا وقت پیدا ہونے کے بعد پیدائش کے ساتویں دن ہوتا ہے۔اگر ساتویں دن کسی وجہ سے نہ کیا جاسکے تو بعض فقہاء کے نزدیک اس کا وقت گزرنے کے بعد وہ عقیقہ نہیں رہتا،بلکہ اس کی حیثیت ایک نفلی قربانی کی رہ جاتی ہے، اور حنفیہ کے نزدیک اگر ساتویں دن ادا نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن،وگرنہ اکیسویں دن اسی طرح زندگی میں کسی بھی عمر میں پیدائش کا جودن ہو اس سے اگلے دن کیاجاسکتا ہے۔جیسے کسی کی پیدائش منگل کی ہے تو اس نے جب بھی عقیقہ کرنا ہو تو بدھ کے دن کرے گا۔ اور ہاں ہر ایک فرد کی طرف سے ایک جانور کرنا ہوگا، اور حنفیہ کے نزدیک ایک بڑے جانور میں ایک فرد کی طرف سے ایک حصہ بھی کافی ہے۔
Muhammad Rehan khan
جزیہ سے متعلق متقدمین و معاصرین کی تعبیرات کا اختلاف:
اسلامی فقہ میں اہل الذمہ سے متعلق احکام کا ایک مضبوط و مستحکم نظام پایا جاتا ہے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے۔ ان احکام میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف تعبیرات سامنے آئی ہیں، جن کی تفہیم کے لیے جزیہ ایک نہایت اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ متقدمین فقہاء نے جزیہ کو اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کی ایک ذمہ داری کے طور پر بیان کیا، جو ان کے جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی ضمانت کے بدلے میں عائد کی جاتی تھی۔
فقہاء کی کتب میں جزیہ کی شرح، ادائیگی کی کیفیت اور اس کے مستحقین پر تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ امام ابو یوسف، امام شافعی اور امام سرخسی جیسے جلیل القدر فقہاء نے جزیہ کو ایک قانونی و مالی ذمہ داری کے طور پر دیکھا، جسے جنگی حالات، ریاستی نظم اور معاشرتی استحکام کے تناظر میں نافذ کیا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک جزیہ کی ادائیگی سے غیر مسلم رعایا کو ایک محفوظ سماجی و معاشی مقام حاصل ہوتا، اور وہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں شریک رہتے۔
مگر جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھا، سیاسی، سماجی اور معاشی تغیرات نے فقہاء کو نئے اجتہادی افق کی طرف متوجہ کیا۔ جدید اسلامی ریاستوں میں شہریت کے جدید تصورات اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات نے جزیہ کی عملی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔ معاصر اسلامی مفکرین، جیسے ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی اور دیگر علماء نے اس موضوع پر نئی تعبیرات پیش کیں۔ ان کے مطابق جزیہ کا اصل مقصد ایک منصفانہ سماجی توازن برقرار رکھنا تھا، اور اگر جدید ریاستیں غیر مسلم شہریوں پر ٹیکس عائد کر کے انہیں مساوی تحفظ فراہم کر رہی ہیں تو روایتی جزیہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
بعض معاصر علماء نے جزیہ کی تطبیق کو تاریخی سیاق و سباق میں دیکھا اور استدلال کیا کہ اسلامی فقہ کی روح، یعنی عدل و مساوات، اس امر کی متقاضی ہے کہ غیر مسلم شہریوں کو وہی حقوق حاصل ہوں جو مسلم شہریوں کو حاصل ہیں، اور ان پر کوئی ایسا مالی بوجھ نہ ڈالا جائے جو سماجی تفریق کا باعث بنے۔ اس تعبیر میں فقہ اسلامی کی وہ لچک نمایاں ہوتی ہے جو ہر دور میں انسانی سماج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر شرعی احکام کی تعبیر و تفہیم کا تقاضا کرتی ہے۔
یہ ارتقاء درحقیقت اسلامی فقہ کی اسی صلاحیت کا مظہر ہے جو حالات کے تغیر کے ساتھ تعبیرات میں وسعت اور نرمی کی اجازت دیتی ہے۔ متقدمین کے ہاں جزیہ ایک لازمی مالی ذمے داری تھی، جبکہ معاصر علماء نے اس کے متبادل کی جستجو میں فقہ کے اصولوں سے رہنمائی لے کر عصری نظام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا۔ یہ فرق محض نظری نہیں، بلکہ عملی میدان میں بھی واضح نظر آتا ہے، جہاں آج کی اسلامی ریاستیں اس مسئلے کو جدید قانونی، سیاسی اور اقتصادی تناظر میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
محمد ریحان
17 فروری 2025ء
11 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
قیامِ خلافت کا وجوب اور اس پر اجماع ہونے کی حقیقت:(قسط 1)
الاحکام السلطانیہ کے مصنف علامہ ماوردی جو کہ پانچویں صدی کے ایک مشہور مصنف گزرے ہیں ،ان کے نزدیک قیامِ خلافت کے وجوب پر امت کا اجماع ہے،امت میں اگر کوئی بھی خلافت کا قیام نہیں کرتا،تو پوری امت گنہگار ہوگی۔ باب اول کے بالکل ابتداء میں مصنف اس بات کا ذکر کرتے ہیں :
‘‘وعقدها لمن یقوم بها فی الاٴمة واجب بالاجماع (1)
ترجمہ: قیامِ خلافت ان پر جو اس کو قائم کریں،اجماعی طور پر واجب ہے۔
جہاں تک مصنف کی اس بات کا تعلق ہے کہ قیامِ خلافت کے وجوب پر اجماع ہے،تو یہ بات درست ہے کہ قدیم فقہاء نے قیامِ خلافت کے وجوب پر صحابہ کرام کا اجماع نقل کیا ہے۔(2)عقدِ خلافت کے وجوب پر امت کا اجماع ہے،اور امت پر لازم ہے کہ وہ ایسے عادل حاکم کو مقرر کریں،جو اللہ کے احکام کو قائم کرے،اور جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے،ان سے لوگوں کو روکے۔(3)
مذکورہ حضرات کا استدلال اجماعِ صحابہ اور تعابعین ہے،کیونکہ صحابہ کرام سے یہ بات ثابت ہے کہ جونہی انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر پہنچی ،تو انہوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں فورا عقدِ خلافت کے لئے لوگوں کو بلایا،جس میں کبار صحابہ نے شرکت کی،حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے انہوں نے اہم امور جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کو بھی موخر کردیا۔اگرچہ ان کے مابین اس شخص کے بارے میں اختلاف تھا،جس کو خلیفہ بنایاجائے،لیکن مجموعی طور پر سب اس بات پر متفق تھے کہ کسی نہ کسی شخص کو خلافت کے لئے نامزد کیا جائے۔جوکہ قیامِ خلافت کے وجوب پر صحابہ کے اجماع کی مثال ہے۔(4)
یہاں تک تو بات درست ہے،لیکن دورٕ حاضر میں کئی انتہاء پسند تنظیمیں اور جماعتیں قیامِ خلافت کے لئے مذکورہ فقہاء کے بیان کردہ اجماع کو ہی بنیاد بناتے ہوئے،لوگوں کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ دورٕ حاضر میں خلافت کا قیام امت پر واجب ہے۔دورِ حاضر میں قیامِ خلافت کے وجوب کا کئی حضرات نے جواب دینے کی کوشش کی ہے،لیکن کوئی بھی جواب قابلِ تشفی نہیں ہے۔قدیم فقہاء کی عبارات سے مجھے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فقہاء نے جس مفہوم میں خلافت کے قیام کو فرض قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کے لئے باقاعدہ نظامِ حکومت قائم کریں،اور اس کے تحت زندگی بسر کریں،کیونکہ شریعت نے بحیثیت جماعت مسلمانوں کو جو احکام دئے ہیں،ان میں سے بہت سے احکامات پر عمل در آمد حکومت کے قیام پر موقوف ہے،جیسے عدلیہ کا قیام،قانون کی تنفیذ کا قیام وغیرہ،جبکہ دیکھا جائے ،تو افراد اپنی انفرادی حیثیت سے ان احکامات پر عمل نہیں کرسکتے۔اسی وجہ سے اگر مسلمان کسی علاقے میں آزاد اور خود مختار ہوں اور اس کے باوجود اپنا کوئی نظم اجتماعی قائم نہ کریں،تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی اجتماعی زندگی میں شریعت کے بہت سے احکامات پر عمل ہی نہیں کرسکیں گے،اور یوں ایک شرعی فریضے کے تارک اور گناہگار قرار پائیں گے۔فقہائے کرام نے اسی کو ‘‘نصب امام’’ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔یعنی مسلمانوں پر اپنا کوئی حکمران منتخب کرنا لازم ہے جو ان کے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کی ذمہ داری ادا کرسکے،اور دورِ حاضر میں پاکستان یا دیگر اسلامی ریاستوں میں آنے والے حکمران ریاست کے اس اسلامی نظم کے پابند ہوتے ہیں،جس میں مسلمان اپنے دینی کام اجتماعی طور پر سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔(5)
چنانچہ ابوطاھر بن عبد اللہ بغدادی المتوفیٰ 429ھ قیام خلافت کی علت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَقَالُوا فِي الرُّكْن الثانى عشر الْمُضَاف الى الْخلَافَة والامامة ان الامامة فرض وَاجِب على الامة لاجل إِقَامَة الامام ينصب لَهُم الْقُضَاة والامناء ويضبط ثغورهم ويغزى جيوشهم وَيقسم الفىء بَينهم وينتصف لمظلومهم من ظالمهم(6)
یہ کہتے ہیں کہ بارہویں رکن، جو خلافت اور امامت سے متعلق ہے، یہ ہے کہ امامت امت پر فرض اور واجب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام کی تنصیب کے ذریعے قاضی اور محافظ اور نگراں مقرر کیے جاتے ہیں، اور امام ہی ان کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کی فوجوں کو روانہ کرتا ہے، اور ان کے درمیان فَیْء کی تقسیم کرتا ہے۔ نیز، امام مظلوم کو ظالم سے انصاف دلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
علامہ بغدادی کی عبارت سے معلوم ہوا کہ قیامِ خلافت کا مقصد ایک ایسی لیڈر اور رہنما کا موجود ہونا ہے،جو لوگوں کے لئے قاضی کو مقرر کرے،ان کے لئے محافظ اور نگرانوں کا بندوبست کرے،اور ان کی سرحدوں کی حفاظت اور مظالم سے نجات کے لئے فوج تیار کرے۔
اور یحییٰ بن ابو الخیر شافعی المتوفیٰ 558ھ فرماتے ہیں:
ومذهب أصحاب الحديث وأكثر أهل العلم إلى أن نصب الإمام واجب،وقال بعض المتكلمين لو تكاف الناس عن الظلم لم يجب نصب الإمام، وهذا خطأ لأن الصحابة - رضي الله عنهم - أجمعوا على نصب الإمام، ولأن تكاف الناس عن المظالم مستحيل، لأن الظلم من شيم النفوس وإنما يظهره القدرة ويخفيه العجز.
إذا ثبت هذا فليس من شرط الإمام الاختصاص بشيء من العلوم لا يشاركه فيها غيره، بل هو وسائر الخلق في علم الشريعة وأحكامها شيء واحد، لأن الأئمة في عصر الصحابة رضي الله عنهم لا يدعون لأنفسهم ولا يدعي لهم مدع منهم اختصاصاً بشيء من العلوم لا يشاركهم غيرهم فيه
فإن قيل: إذا لم يكن الإمام يختص بشيء من ذلك فما المقصود، وما المعنى الذي نصب لأجله؟ قيل: المعنى الذي نصب الإمام أجله هو انتظام أمر الدنيا والدين، لأن نظام الدين لا يحصل إلا بانتظام الدنيا من تدبير الجيوش، وسد الثغور، وردع الظالم، وأخذ الحق للمظلوم، ونصب القضاة وجمع شتات الآراء وإقامة الحدود، فجملة الدنيا في حق الإمام كبلدة في حق قاض من القضاة.(8)
ترجمہ: مذہب اہل حدیث اور اکثر اہل علم یہ ہے کہ امام کا نصب واجب ہے۔ بعض متکلمین نے کہا کہ اگر لوگ ظلم سے بچ جائیں تو امام کا نصب واجب نہیں ہوتا، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم - کا اجماع ہے کہ امام کا نصب ضروری ہے۔ اور لوگوں کا ظلم سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ ظلم نفوس کی خصلت ہے اور یہ صرف قدرت سے ظاہر ہوتا ہے اور عاجز لوگوں سے چھپتا ہے۔
اگر یہ ثابت ہو جائے تو امام کے لیے کسی خاص علم کا ہونا شرط نہیں ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہ ہو۔ امام اور دیگر لوگوں کے لیے علم شریعت اور اس کے احکام میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ صحابہ کرام - رضی اللہ عنہم - اپنے زمانے میں کسی خاص علم کا دعویٰ نہیں کرتے تھے جس میں ان کا کوئی شریک نہ ہو۔
اگر کہا جائے کہ امام کسی خاص علم کا حامل نہیں ہوتا تو اس کی تنصیب کا مقصد کیا ہے؟ تو کہا جائے گا کہ امام کی تنصیب کا مقصد دنیا اور دین کا انتظام ہے، کیونکہ دین کا نظام دنیا کے انتظام سے ہی حاصل ہوتا ہے، جیسے کہ فوجوں کی تدبیر، سرحدوں کی حفاظت، ظالم کو روکنا، مظلوم کے حق کو واپس کرنا، قاضیوں کا نصب، مختلف آراء کو جمع کرنا، اور حدود کا قیام۔ پس دنیا کا مجموعہ امام کے لیے ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے جیسے کسی قاضی کے لیے ایک شہر(ترجمہ ختم)
علامہ ابو الخیر شافعی کی عبارات سے درج ذیل باتیں مستفا دہوئیں:
۱۔خلافت کا قیام امت پر فرض ہے،جمہور اصحابِ حدیث اور اکثر اہل علم کا نظریہ یہی ہے۔
۲۔خلیفہ کے لئے کسی ایسے علم کی کوئی خاص شرط نہیں،جو لوگوں میں کسی کے پاس ہونے کا امکان نہ ہو۔
۳۔خلافت کا مقصد دین اور دنیا کا انتظام ہے،اور دین کا انتظام دنیا کے انتظام کے بنا ممکن نہیں،لہذا اصل دنیا کا انتظام ہے۔جیسا کہ قاضیوں کا نصب،حدود کا قیام وغیرہ۔
علامہ ابو الخیر شافعی کے مذکورہ پوائنٹس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامِ خلافت کا اصل مقصد دینی امور کا قیام ہے۔بیعنیہ یہی وہ چیز ہے ،جس کو کئی حضرات نے یہ کہہ کربیان کیا ہے کہ خلافت کا اصل مقصد دینی تعلیمات کا قیام ہے،پھر چاہے وہ خلافت کے نظام کے تحت ہو ،یا پھر کسی اور سیاسی وسماجی نظام کے تحت ہو۔اب یہاں دو باتیں قابلِ اعتراض ہوسکتی ہیں:
1۔ایک یہ کہ پھر صحابہ کے دور میں خلافت کے نظام کو کیوں اپنایا گیا؟
2۔دوسرا یہ کہ اس خلافت کے نظام پر تو صحابہ کا اجماع ہے،پھر اس سےخلافت کے نظام کو چھوڑنا تو جائز نہیں ہوگا،کیونکہ اجماع دینِ اسلام میں احکامات کے ادلہ اربعہ میں سے ایک رکن ہے۔
ان دونوں اعتراضات کا جواب ان شاء اللہ اگلی اقساط میں آئے گا۔
(1) ماوردی،ابو الحسن علی بن محمد،احکام السلطانیة(دارالکتب العلمیة بیروت،لبنان الطبعة الاولیٰ 1985)ص5
(2) الطحطاوی،احمد بن محمد،حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار(دارالکتب العلمیة بیروت،لبنان، الطبعة الاولیٰ 2017)ج1ص238
(3) الازھری،صالح عبد السمیع،جواھر الاٴکلیل، المکتبة التفاقیة،بیروت،ج1ص251
(4) الشربینی،محمد الخطیب،مغنی المحتاج الی معرفة معانی الفاظ المنھاج(دارالکتب العلمیة،2000)ج4ص229
(5) تقی عثمانی،اسلام اور سیاسی نظریات(مکتبة معارف القرآن کراچی)ص226
(6)بغدادی ،عبد القاھر بن طاہر،الفرق بین الفرق وبیان الفرقة الناجئة (دارالآفاق الجدیدة ،بیروت )ص340
(7)یمنی،یحییٰ بن ابو الخیر ،الانتصار في الرد على المعتزلة القدرية الأشرار(أضواء السلف، الرياض، المملكة العربية السعودية،الطبعة الاولیٰ 1419)ج3ص816
محمد ریحان خان۔
1 year ago | [YT] | 3
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
آج ہمارا انٹرنیٹ خراب ہے جس کی وجہ سے آج کی ویڈیو اپلوڈ نہیں ہوپائی، ان شاء اللہ کل زکاۃ سے متعلق ایک بڑی ویڈیو آئے گی۔
2 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
Masnoi Zalzala mumkin hai?
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
27 Rajab ka roza.
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
Kia 27 Rajab hi Shabe meraj hai?
2 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
شب معراج اور معراج سے متعلق ہماری پوری پلے لسٹ یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
youtube.com/playlist?list=PLA...
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
SHAB-E-BARAT AND SHABAN questions session would be uploaded IN SHA ALLAH on 1st of SHABAN.
2 years ago | [YT] | 6
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
سوال کا جواب:
عقیقہ کا وقت پیدا ہونے کے بعد پیدائش کے ساتویں دن ہوتا ہے۔اگر ساتویں دن کسی وجہ سے نہ کیا جاسکے تو بعض فقہاء کے نزدیک اس کا وقت گزرنے کے بعد وہ عقیقہ نہیں رہتا،بلکہ اس کی حیثیت ایک نفلی قربانی کی رہ جاتی ہے، اور حنفیہ کے نزدیک اگر ساتویں دن ادا نہ کیا جاسکے تو چودہویں دن،وگرنہ اکیسویں دن اسی طرح زندگی میں کسی بھی عمر میں پیدائش کا جودن ہو اس سے اگلے دن کیاجاسکتا ہے۔جیسے کسی کی پیدائش منگل کی ہے تو اس نے جب بھی عقیقہ کرنا ہو تو بدھ کے دن کرے گا۔
اور ہاں ہر ایک فرد کی طرف سے ایک جانور کرنا ہوگا، اور حنفیہ کے نزدیک ایک بڑے جانور میں ایک فرد کی طرف سے ایک حصہ بھی کافی ہے۔
2 years ago | [YT] | 8
View 0 replies
Muhammad Rehan khan
Valentine's day and 14th of February
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more