Qadim Tibbe Unani


( Qadim Tibbe Unani )

یوٹیوب چینل میں خوش آمدید!
یہ چینل طبِ یونانی (Unani Medicine) کے قدیم اصولوں، قدرتی علاج، جڑی بوٹیوں، اور صحت بخش طرزِ زندگی پر مبنی ویڈیوز پیش کرتا ہے۔

چینل کی خاص بات:
ہمارے ساتھ جُڑیں حکیم حبیب اللہ نقشبندی کے خصوصی لائیو سیشنز میں، جہاں وہ آپ کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں، نسخے شیئر کرتے ہیں اور مفید مشورے دیتے ہیں — براہِ راست، آپ سے!

ہماری ویڈیوز میں آپ سیکھیں گے:

طبِ یونانی کے اصول اور مزاج شناسی

جڑی بوٹیوں کا استعمال اور گھریلو نسخے

مختلف بیماریوں کے قدرتی علاج

اخلاط، مزاج، اور طب کا نظریہ

حکیم حبیب اللہ نقشبندی کے تجربات و مشورے

اگر آپ قدرتی، محفوظ اور سستا علاج چاہتے ہیں تو یہ چینل آپ کے لیے ہے!

ابھی سبسکرائب کریں اور بیل آئیکون دبائیں تاکہ ہر نئی ویڈیو اور لائیو سیشن کی اطلاع فوری مل سکے۔

طبِ یونانی سے شفا کی طرف پہلا قدم آج ہی اٹھائیں!





Qadim Tibbe Unani

انسانی مصائب ہم پر دو طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں، اور ہم ان مصائب کو لے کر کسی ایک مزاج (رویے) میں ہوتے ہیں.
ان دونوں مزاجوں (رویوں) میں سے پہلی قسم یہ ہے کہ، ان انسانی مصائب (تکلیفوں) میں ہم بذات خود مبتلا ہوں. اس دکھ کو ہم اپنے اندر محسوس کررہے ہوں، اس درد کو اپنی شدید ترین خواہشات میں محسوس کر رہے ہوں، ہماری وہ ادھوری خواہشات جو کہ ہر طرف سے ٹوٹ کر بکھر رہی ہوں کبھی پوری نہ ہورہی ہوں. اور یہ وہ عمل ہے جو ہمارے لیے نہایت تکلیف اور درد کا باعث بنتا ہے. ان خواہشات کے پورا نہ ہونے کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ ہماری یہ خواہشات اور زیادہ شدت کی صورت اختیار کرلیتی ہیں ، جیسا کہ اس کا اظہار ہمارے جذبات اور احساسات (محبت دوستی رشتہ داری) کے کیسز میں ہوتا ہے، اور خواہشات پوری ہونے کی یہ شدید تمنائیں صرف اسی صورت میں رک سکتی ہیں جب ہم ان خواہشات سے اپنا رخ پھیر لیں اور ان سے مکمل طور پر مستعفی ہوجائیں، دوسرے لفظوں میں ان سے خود کو آزاد کروا لیں. وہ آدمی جو اپنے مزاج(رویے) کے کنٹرول میں ہوتا ہے. جب وہ کسی کو بھی خوشحالی میں دیکھے گا تو وہ اس کو حسد کی نظر سے ہی دیکھے گا، دوسروں کو اگر تکلیف میں مبتلا دیکھے گا تو وہ ان کے ساتھ ہمدردی نہیں کرے گا.

اس کے برعکس دوسرے مزاج (موڈ رویے) میں، انسانی مصائب (دکھ) ہمارے ساتھ أن ڈائریکٹلی علم کے ذریعے وابستہ ہوتے ہیں،
ہم بنیادی طور پر دوسرے انسانوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور ہماری خود اپنے آپ پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے، اس طرح سے ہم اس شخص کے ذریعے انسانی تکلیفوں کو جانتے ہیں، اور ہمارے اندر ہمدردی کے جذبات بھر جاتے ہیں، اور پھر اس مزاج کے نتائج انسانوں کے ساتھ دوستی اور ان کی فلاح کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں.
ساری دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، اور ہم اس دشمنی کے اثرات کو محسوس کرنے کے بجائے، الٹا ہم خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں جب ہم اذیت میں مبتلا کسی ہم نسل انسان کو اس درد سے نجات پاتا ہوا یا خوش دیکھتے ہیں.

دو اور انسانی مزاج (رویے) ؛
اسی طرح میں ہم دو مزاجوں (رویوں) میں سے کسی ایک کے حامل ہوتے ہیں جب ہم انسانوں کا کمینہ پن اور اس کی بدکرداری (بد اخلاقی) دیکھتے ہیں. ان دو میں میں سے پہلے مزاج میں؛
ہم انسانوں کا کمینہ پن دوسروں کے ذریعے بالواسطہ طور پر محسوس کرتے ہیں (کسی کمینے بدکردار بداخلاق انسان کو دیکھتے ہیں) . اس پہلے مزاج کے زیر اثر ہمارے اندر ایسے انسانوں کے لئے غصہ پیدا ہوتا ہے، ان سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ان کے خلاف حقارت جنم لیتی ہے -

جبکہ دوسرے مزاج (رویے) میں؛
ہم انسانوں کے کمینے پن بد کرداری کے اثرات براہ راست اپنے اندر محسوس کرتے ہیں. جس سے ہمارے اندر ایسا بننے سے بھی شرمندگی پیدا ہوتی ہے، ان جیسا بننے سے انکار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، دوسرے انسانوں کا کمینہ پن اور بدکرداری دیکھ کر پھر انسان ان جیسا بننے سے سچی توبہ کرتا ہے.

اگر کسی انسان کی اخلاقی حالت کو جج کرنا ہو، تو اس کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم اس انسان میں مذکورہ بالا ان چاروں مزاجوں (رویوں) کا جائزہ لیں. یہ چاروں مزاج دو دو جوڑوں (pairs) کی صورت میں ہیں، ان میں سے ہر مزاج(رویہ) باقی سب مزاجوں (رویوں) کو تقسیم(ختم) کر دیتا ہے، ان چاروں مزاجوں (رویوں) میں سے ہر دوسری قسم والا مزاج(رویہ) ایک شاندار کردار کے حامل انسان میں پایا جاتا ہے!

جرمن فلسفی
آرتھر شوپنہاؤر
بحوالہ: اخلاقیات کے عکس

15 hours ago | [YT] | 12

Qadim Tibbe Unani

6 days ago | [YT] | 50

Qadim Tibbe Unani

فضیل بن عیاض رح کا قول ہے: "اس امت میں جو لوگ رتبہ ہائے بلند پاکر گئے، امت میں ان کو یہ رتبہ محض ان کی کثرت صلاة و صيام کے دم سے نہیں ملا۔ یہ تو قلوب کی وسعت کے دم سے تھا ، اور بغض و حسد سے سلامت سینوں کی بدولت اور امت کی خیر خواہی کے نتیجے میں۔
(جامع العلوم والحکم لإبن رجب رح)

1 week ago | [YT] | 29

Qadim Tibbe Unani

غلط جگہ سے صحیح چیز نہ لو اور صحیح جگہ سے غلط چیز نہ لو۔داتا صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ، بڑا تلاش کیا کہ بات کیا ہے ، اصل کیا ہے ، راز کیا ہے ، یہ کیا ہے ، وہ کیا ہے ۔ تو مکاشفہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ہم ایک مزار پہ چلے گئے کیونکہ وہ راز نہیں کھُلتا تھا ۔
‎یہ واقعہ "کشف المحجوب" میں ہے ۔ میں ایک طرف بیٹھا تھا ۔ وہاں کچھ درویش نما لوگ بیٹھے تھے جو خربوزے کھا رہے تھے ۔ وہ خربوزے کھاتے اور چھِلکے مجھ پر پھینکتے گئے ۔ میں چُپ کر گیا اور بات کو پی گیا ۔ جب بات کو پی گیا تو مجھے راز مل گیا ۔
‎وہ سوال یہ تھا کہ روشنی کے آستانوں پر تاریکی کیوں ہوتی ہے؟ تو جواب یہ ملا کہ تیری استقامت کو پختہ کرنے کے لئے ۔
‎حضرت واصف علی واصف رح
‎(کتاب :- گفتگو ۔16)

3 weeks ago | [YT] | 33