شادی کے اکیس برس بعد، ایک دن میری بیوی نے مجھے ایک طرف بلایا۔ وہ نرمی سے میری طرف دیکھنے لگی اور کہا کہ وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے: وہ چاہتی تھی کہ میں ایک شام کسی اور عورت کے ساتھ گزاروں۔ اسے کھانے پر لے جاؤں اور شاید بعد میں کوئی فلم بھی دیکھ لیں۔
’’میں تم سے محبت کرتی ہوں،‘‘ اس نے کہا، ’’لیکن مجھے پتا ہے کہ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم اسے اپنے وقت میں سے تھوڑا سا دو۔‘‘
وہ دوسری عورت میری ماں تھی۔ وہ انیس سال سے اکیلی رہ رہی تھیں، جب سے میرے والد کا انتقال ہوا تھا۔ نوکری، روزمرہ کی زندگی اور تین بچوں کی ذمہ داریوں کے درمیان، میں صرف کبھی کبھار ہی ان سے ملنے جاتا تھا۔
اسی شام میں نے انہیں فون کیا۔ میں نے پوچھا کیا وہ میرے ساتھ کھانے پر چلنا چاہیں گی۔ ’’کیا کوئی خاص بات ہے؟‘‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’نہیں، کچھ خاص نہیں،‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’بس میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کچھ وقت گزاروں۔ صرف ہم دونوں۔‘‘
دوسری طرف طویل خاموشی چھا گئی۔ پھر ان کی بھرائی ہوئی آواز آئی: ’’مجھے یہ بہت اچھا لگے گا۔‘‘
اگلے جمعہ کو میں انہیں لینے گیا۔ مجھے ہلکی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی؛ کافی عرصے بعد ہم دونوں اکیلے کہیں جا رہے تھے۔ انہوں نے بڑے اہتمام سے تیار ہوکر بال سنوارے تھے، وہی لباس پہنا تھا جو انہوں نے پاپا کے ساتھ اپنی شادی کی آخری سالگرہ پر پہنا تھا۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھیں، ان کی مسکراہٹ ایک ننھی بچی کی سی تھی۔ ’’میں نے اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ آج رات میں اپنے بیٹے کے ساتھ باہر جا رہی ہوں… سب بہت حیران تھیں۔ وہ سب کچھ جاننا چاہتی ہیں!‘‘
ہم نے ایک سادہ سا چھوٹا ریستوران چُنا، جس کا ماحول بہت مانوس اور پر سکون تھا۔ وہ میرے بازو کو ایسے تھامے ہوئے تھیں جیسے کسی بڑی محفل میں آئی ہوں۔ میز پر بیٹھے میں نے مینو اونچی آواز میں پڑھا: ان کی نظر اب کمزور ہو گئی تھی اور مینو کارڈ پر چھپے الفاظ واضح نظر نہیں آتے تھے۔ جب میں نے سر اُٹھایا تو وہ مجھے بڑی محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ ’’جب تم چھوٹے تھے تو میں تمہیں مینو پڑھ کر سنایا کرتی تھی…‘‘ ’’تو اب یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کے لیے پڑھوں،‘‘ میں نے مسکرا کے جواب دیا۔
ہم نے کھانا کھایا، باتیں کیں—کوئی غیر معمولی بات نہیں، بس ہم تھے، ہماری زندگیاں، ہماری یادیں۔ ہم اتنی دیر باتوں میں لگے رہے کہ فلم کا خیال ہی نہیں رہا۔ مگر اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ شام ویسے ہی مکمل تھی۔
جب میں انہیں گھر چھوڑنے گیا تو انہوں نے کہا: ’’میں یہ پھر کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن اگلی بار… دعوت میری طرف سے ہوگی۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا: ’’وعدہ۔‘‘
گھر واپس آیا تو بیوی نے پوچھا: ’’کیسا رہا؟‘‘ میں نے کہا: ’’جتنا سوچا تھا، اس سے کہیں بہتر۔‘‘
مگر دوسری ملاقات کبھی نہ ہو سکی۔ چند دن بعد میری ماں اچانک دل کے دورے سے چل بسیں۔
کچھ ہفتوں بعد مجھے ایک لفافہ ملا۔ اندر ریستوران کی رسید تھی۔ انہوں نے پہلے ہی دو افراد کا بل ادا کر رکھا تھا۔ ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی تھی، ان کی اپنی لکھائی میں: ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلی بار موقع ملے گا یا نہیں، اس لیے پہلے ہی ادا کر دیا۔ یہ تم اور تمہاری بیوی کے لیے ہے۔ وہ شام میرے لیے بہت قیمتی تھی۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں، میرے بیٹے۔‘‘
اسی دن میں نے سچ مچ سمجھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ کتنا ضروری ہے کہ ہم وقت پر ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘ کہہ سکیں، اور ان کے لیے وقت نکالیں جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز یہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک انگریزی کہانی سے ماخوذ
یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی خلافت کا دور تھا جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ ایرانی سلطنت کے بارڈر کے علاقوں میں موجود چھوٹے شہروں کو یکے بعد دیگرے فتح کرتے جا رہے تھے کہ مرکز سے حکم ملا کہ شام پہنچیں نارمل طریقہ تو یہ تھا کہ فوج وہاں سے واپس آتی اور فلسطین سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی لیکن خالد بن ولید رضی اللہ وہیں سے اپنی فوج لے کر صحرا کی طرف روانہ ہو گئے یہ صحرا ایرانی سلطنت کے علاقے عراق اور شام کے درمیان موجود تھا اس صحرا کو پار کرنے میں کئی دن لگ گئے راستے میں اونٹ ذبح کر کے ان کا گوشت اور اونٹوں میں موجود پانی سے سیراب ہوتے رہے حتی کہ شام پہنچ گئے
ان دنوں سلطنت ایران اور بازنطین کے درمیان صلح کا دور چل رہا تھا اس لئے بازنطینیوں نے شام کے علاقوں کو ایرانی سلطنت والی سائیڈ سے بالکل اوپن رکھا ہوا تھا یعنی وہاں کوئی بڑی فوج دفاع کیلئے موجود نہیں تھی بس تھوڑے بہت سپاہی شہروں کی دیواروں کے اندر موجود تھے چنانچہ مسلمان فوج نے آسانی کے ساتھ کئی علاقے فتح کئے بازنطانیوں کو اس طرف سے حملے کی بالکل توقع نہ تھی اس لئے وہ اچانک حملے پر اپنا دفاع نہ کر سکے خیر مسلمان فوج نے شام کے شہر دمشق کی طرف پیش قدمی کی دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ کی قیادت میں مسلمان فوجیں عرب سے فلسطین میں داخل ہو کر فتح کرتے ہوئے شام میں داخل ہو چکی تھیں دونوں فوجوں نے مل کر دمشق فتح کر لیا دمشق والوں نے ہتھیار ڈال دئیے ابھی دمشق میں ہی تھے کہ مسلمانوں کی فتوحات کی خبر قیصر روم تک قسطنطنیہ پپہنچ گئی اس نے فوری طور پر ایک بڑا لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ کر دیا یہاں سے خالد بن ولید رضی اللہ کے مشورے کے مطابق مسلمان فوج نے شام کا علاقہ خالی کر دیا اور فلسطین کا علاقہ بھی خالی کرتے ہوئے عرب کی طرف رخ کیا بازنطینی فوج بھی پیچھے تھے
خیر یرموک کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا مسلمان تاریخ دان بازنطینی فوج کی تعداد لاکھ بتاتے ہیں کوئی دو لاکھ بھی بتاتے ہیں اور مسلمان فوج کی تعداد تیس ہزار یا پچیس ہزار بتاتے ہیں لیکن نیوٹرل ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی تعداد تقریباً تیس ہزار اور بازطینیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی یعنی کہ دو گنا لیکن اس جنگ میں بہت مشکل پیش آئی خواتین تک کو لڑنا پڑ گیا لیکن سخت محنت، بہترین قیادت اور خدا کی مدد سے آخرکار اپنے سے طاقتور اور تجربہ کار بازنطینی فوج کو مسلمانوں نے شکست دے دی اور فلسطین اور شام کا سارا علاقہ ہمیشہ کیلئے کنٹرول میں آ گیا
اس لڑائی کو ساتویں صدی کی سب سے اہم ترین لڑائی شمار کی جاتی ہے جس نے ہمیشہ کیلئے مشرق وسطی کی تاریخ بدل کر رکھ دی ۔
یمن کا *شیبام* نامی یہ قدیم شہر 2000 سال پرانا ہے جو 1982 سے یونیسکو عالمی ورثے کا حصہ بھی ہے اسے Manhattan of the Desert بھی کہا جاتا ہے یہ قدیم شہر اپنے زمانے میں آبادی کو پلاننگ سے بسانے کے حوالے سے مشہور ہے جہاں مٹی سے لگ بھگ 500 گھر تعمیر کئے گئے
شہر کی تاریخ کا آغاز تو 300 عیسوی کے لگ بھگ ہوتا ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس شہر کی زیادہ تر تعمیرات 1532 میں ہوئیں جب دنیا بھر میں بڑی اور پکی عمارات تعمیر ہو چکی تھیں لیکن یمن کے اس قدیم شہر میں وہی قدیم دور کے فن تعمیر کو برقرار رکھا گیا شاید ایسا صحرائی موسم کی مناسبت سے کیا گیا۔
ریاضی میں حروف کے استعمال کی تاریخ نہایت دلچسپ اور طویل ہے۔ ابتدا میں قدیم مصری، بابلی اور یونانی ریاضی دان حساب اور جیومیٹری کے مسائل صرف مخصوص نمبروں کے ذریعے حل کرتے تھے۔ مگر اس میں ایک بڑی کمی یہ تھی کہ ہر مسئلہ کو الگ الگ اعداد کے ساتھ دوبارہ ثابت کرنا پڑتا تھا۔
قدیم یونانی ریاضی دان ڈایوفینٹس (Diophantus) کو بعض اوقات "الجبراء کا باپ" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے تیسری صدی عیسوی میں "Arithmetica" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں نامعلوم مقداروں کو ظاہر کرنے کے لیے علامتوں کا استعمال کیا گیا۔ اگرچہ ان کے حروف آج کے الجبرا سے کافی مختلف تھے، لیکن یہ ایک بڑی پیش رفت تھی۔
بعد ازاں اسلامی سنہری دور میں، نویں صدی کے مشہور مسلمان ریاضی دان محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے "الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ" لکھی۔ یہ وہی کتاب ہے جس سے لفظ "الجبر" نکلا اور بعد میں "Algebra" کہلایا۔ الخوارزمی نے مساوات میں نامعلوم مقداروں کو منظم طریقے سے ظاہر کرنے کا طریقہ دیا اور مسائل کو حل کرنے کے عمومی اصول وضع کیے۔
یورپ میں یہ روایت آگے بڑھاتے ہوئے سولہویں صدی میں فرانسیسی عالم فرانسوا ویئٹ (François Viète) نے پہلی بار واضح طور پر حروف کو دو حصوں میں تقسیم کیا:
حروف علت (consonants) کو معلوم مقداروں کے لیے
اور حروف علت (vowels) کو نامعلوم مقداروں کے لیے استعمال کیا۔
اس کے بعد سترہویں صدی میں رینی ڈیکارٹ (René Descartes) نے ریاضی کو مزید ترقی دی اور مساوات میں نامعلوم مقداروں کے لیے آخر کے حروف (x, y, z) اور معلوم مقداروں کے لیے ابتدائی حروف (a, b, c) کا استعمال رواج دیا۔ آج بھی یہی طریقہ پوری دنیا میں پڑھایا جاتا ہے۔
یوں یونانیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر مسلمانوں کی کاوشوں سے گزرتا ہوا یورپ تک پہنچا اور آج کی جدید الجبرا کی بنیاد بنا۔
پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی. بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا آخر تم میں ایسا کیا ہے جو سارے بازار سے تمہاری قیمت زیادہ ہے. لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت یہ میری ذہانت ہے جس کی قیمت طلب کی جا رہی ہے.
بادشاہ نے کہا اچھا میں تم سے کچھ سوالات کرتا ہوں. اگر تم نے درست جواب دئے تو تم آزاد ہو لیکن اگر جواب نہ ہوا تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا. لڑکی آمادہ ہوگئی تب بادشاہ نے پوچھا : سب سے قیمتی لباس کونسا ہے.؟ سب سے بہترین خوشبو کونسی ہے.؟ سب سے لذیذ کھانا کونسا ہے.؟ سب سے نرم بستر کونسا ہے.؟ اور سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟
لڑکی نے غلاموں کے بازار کے تاجر سے کہا میرا گھوڑا تیار کرو کیونکہ میں آزاد ہونے لگی ہوں. پھر پہلے سوال کا جواب دیا. سب سے قیمتی لباس کسی غریب کا وہ لباس ہے جس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو. یہ لباس پھر سردی گرمی عید تہوار ہر موقع ہر چلتا ہے. سب سے خوبصورت خوشبو ماں کی ہوتی ہے بھلے وہ مویشیوں کا گوبر ڈھونے والی مزدور ہی کیوں نہ ہو اس کی اولاد کیلئے اس کی خوشبو سے بہترین کوئی نہ ہوگی.
لڑکی نے کہا سب سے بہترین کھانا بھوکے پیٹ کا کھانا ہے. بھوک ہو تو سوکھی روٹی بھی لذیذ لگتی ہے. دنیا کا نرم ترین بستر بہترین انصاف کرنے والے کا ہوتا ہے. ظالم کو ململ و کمخواب سے آراستہ بستر پر بھی سکون نہیں ملتا. یہ کہہ کر لڑکی گھوڑے پر بیٹھ گئی. بادشاہ جو مبہوت یہ سُن رہا تھا اچانک اس نے چونک کر کہا لڑکی تم نے ایک سوال کا جواب نہیں دیا. سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟
لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت دنیا کا سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو. جہاں کوئی غلام نہ ہو اور جہاں کے حکمران ظالم اور جاہل نہ ہوں. لڑکی کے اس آخری جواب میں انسانیت کی ساری تاریخ کا قصہ تمام ہوتا ہے.
*تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے۔ دستر خوان پر پڑے انڈے ،جیم اور مکھن نہیں*
یہ 1973ء کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔۔۔۔۔وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔
گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا۔ اور اسے اپنے کچن میں لے گئیں۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا۔ اور خود بھی وہیں آ بیٹھیں۔ اور اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کے سودے پر بات شروع کر دی۔
ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی، اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی، اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔
چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھیں، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹیں اور بولیں۔۔ !
"مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے"۔
واضح رہے کہ۔۔۔۔۔۔ اسرائیل اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار تھا، جنگ میں اس وقت اسکی شکست یقینی تھی۔ حالات اس حد تک اسرائیل کے خلاف تھے۔ کہ امریکہ تک نے اسرائیل سے منہ موڑ لیا تھا۔
مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اس جنگ کو جیتنے کی خاطر اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے پہلے پہل اس بھاری سودے کو رد کر دیا تھا۔ کابینہ کا موقف تھا، کہ اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو 20 برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔
گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا، اور کہا ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے، اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے، کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے۔ اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں، اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے، یا انکی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ یاد رکھئیے فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔
گولڈہ مائیر کی دلیل میں اتنا وزن تھا، کہ اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی متفقہ طور پر منظوری دینا پڑی۔ اور آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا۔
اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں کی آناً فاناً خریداری کے بعد یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ ان پر زبردست بمباری اور پیش قدمی کررہے تھے۔ اور جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا۔ عرب جنگ ہار گئے، اسرائیل جیت گیا۔ عربوں کے کئی علاقے اسرائیل کے قبضے میں آگئے۔ جو کہ آج تک ہیں۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا، اور سوال کیا۔ ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“
گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ آج کی مسلم دنیا کیلئے باعث عبرت ہے۔ وہ بولیں ”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔
"جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی۔ کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں جو انکی ذاتی تھیں۔ لٹک رہی تھیں۔"
میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے ؟ لیکن مسلمان اسوقت آدھی دنیا کے فاتح تھے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے ! لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا بھی رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“
دلچسپ بات یہ ہے کہ گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھادیا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اس بات کو ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔
وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبیﷺ کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئیں۔ اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔
اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا۔ جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔
*گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نامہ نگار نے مزید کہا:*
”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس تک نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ ”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔"
گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا۔ تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے تھے۔
ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے !
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کے بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے.
*ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ، ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے انکھیں بند کر لیں ، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا " ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"*
کارلا کی ماں دھندہ کرنے والی عورت تھی ، بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگ پڑی ، 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ، سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی ، موقع واردات پر مزاحمت ھوئی اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ، کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کہ چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ، اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کی زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا ، وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔ ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ، اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کی فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی۔ سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا" ، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا " نہیں بلکہ میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی" امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی" موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہینچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہہ دے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا" جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے تو مجھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول یاد آ جاتا ھے " معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ھیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں ".
انسانی تکلیفوں کی دو ہی وجوہات ہیں؛ "درد" اور "بوریت" لوگ اپنے اس اندرونی خلا کو پُر کرنے اور اپنی بوریت کو دور کرنے کے لیے سیر و تفریح کے مقامات پر جاتے ہیں، رشتہ داروں اور عزیزوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ایسی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کا مرکز صرف چار چیزیں ہوتی ہیں؛ 1 - مال و دولت؛ کتنا پیسا کمایا، کہاں انوسیٹ کیا، کتنا جمع کیا اور کہاں کہاں خرچ کیا… 2 -مادی سامان؛ لباس، جوتے، گھر، میک اپ، جیولری اور گاڑی پر گفتگو 3 - بچے؛ کس کلاس میں ہیں اور ان کی مصروفیات پر گفتگو 4 - طعام؛ کھانے پینے کی لذیذ ڈشز کے بارے میں گفتگو اور آخر میں کھانے پر ہی ملاقات کا اختتام !
ان ملاقاتوں سے بعض اوقات انسان کی بوریت وقتی طور پر دور ہوتا ہوگی اور درد بھی کم بھی ہوتا ہوگا لیکن اکثر ایسی ملاقاتوں میں انسان کا درد کم ہونے کے بجائے مزید اس کے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے - مثلاً؛ ایک شخص اچھا کماتا ہے تو یہ جان کر سامعین اس سے حسد کرتے ہیں ، اور جس آدمی کی آمدن کم ہے وہ زیادہ آمدنی کی باتیں سن کر پریشان ہوتا ہے، خود کو مفلس اور کمتر محسوس کرتا ہے… غرض یہ کہ ان ملاقاتوں میں ہوئی کوئی بات کسی کے لیے ہنسی کا سبب بنتی ہے تو کسی کے لیے اذیت کا سبب بن جاتی ہے … لہٰذا پھر لوگوں کے تعلقات قطع تعلقی میں بدل جاتے ہیں، اس کے بعد پھر کسی ہم مزاج کی تلاش اور بوریت دور کرنے کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ…
دراصل بوریت کو دور کرنے کے یہ تمام راستے انسانی ذہن کے خالی پن اور لاچاری کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں- یعنی ایسا انسان لوگوں میں اور مادی چیزوں میں اپنی خوشی کو تلاش کرتا رہتا ہے اور جب لوگوں کہ طرف سے مایوسی یا چیزوں کا نقصان ہوتا ہے تو اس کی خوشی غم میں بدل جاتی ہے، ایسے انسان کی خوشی کا مرکز اس کے اندر، اس کی اپنی ذات کے اندر نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی ذات سے باہر موجود ہر چیز میں پایا جاتا ہے - بوریت اور اس لاچاری کو دور کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ انسان کے اپنے اندر خالی پن نہ ہو، اس کا باطن امیر ہو، اس کا ذہن امیر ہو اور اس کا دل امیر ہو ان میں علم و ادب ، نظریات اور فکروں کی بھرمار ہو اور مزید کی جستجو اور تلاش میں انسان مصروف رہے- ایسا امیر شخص کبھی بھی "بوریت" کا شکار نہیں ہوتا - نہ ہی بوریت کی اس کے ذہن و قلب میں کوئی جگہ ہوتی ہے - چونکہ اس کی خوشی کا مرکز اس کی اپنی ذات کے اندر موجود ہے -
کیوں کہ اس کی سوچ اور فکر کی نہ تھکنے والی ایکٹویٹی ہمیشہ جاری رہتی ہے ، یہ امیر ذہن اپنے کام کی مصروفیت کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کر لیتا ہے - اپنی سوچ کو تخلیق کا رنگ دیتا ہے؛ تحریر اور شاعری لکھتا ہے ، پینٹنگ اور متفرق آرٹ بناتا رہتا ہے… یہ علمی اور فکری مصروفیت ہر وقت ذہن کو متحرک رکھتی ہیں، سکون اور نیند ایسے ذہن کی امیری میں اضافہ کر دیتے ہیں، اور ایسا ذہن بوریت کی پہنچ سے بہت اوپر نکل چکا ہوتا ہے... !!
زیادہ ذہنی قابلیت (high degree Intelligence) کا مطلب یہ ہے کہ فرد بہت زیادہ حساس فطرت کا مالک ہے ، اور یہ حساسیت زیادہ ارادے کی قوت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور زیادہ جذباتیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے - ان تمام خوبیوں کے جمع ہونے سے ایک انتہائی مضبوط جذبات والا انسان تخلیق پاتا ہے... ! لہٰذا تمام تکلیفوں، پریشانیوں اور دردوں کو سہنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے اس امیر ذہن کی قابلیت کئی گنا بڑھ چکی ہوتی ہے - پھر اسے لوگوں کی ملاقاتوں، مادی چیزوں کی فراوانی میں دلچسپی نہیں ہوتی - لوگوں کا زندگی میں آنا اور چھوڑ کر چلے جانا اس امیر ذہن کے لیے عام سی بات ہوتی ہے - چنانچہ جتنا زیادہ ارد گرد کی چیزوں کی طرف جھکاؤ ہوگا اتنا ہی زیادہ ذہن میں خالی پن ہوگا اور اتنا ہی زیادہ انسان کی خوشی کا مرکز بیرونی چیزیں ہوں گی- اور جتنا زیادہ انسان کا باطن امیر ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کی خوشی کا مرکز اس کے اندر ہوگا، لہٰذا قلب و ذہن کی امیری مادی رشتوں اور مادی چیزوں کی امیری سے ہزار درجہ بہتر ہے!!
آپ نے مشہور فلم 300 دیکھی ہو گی اس میں جس فارسی بادشاہ کو دکھایا گیا ہے یہ اس بادشاہ Xerxes کا مقبرہ ہے جو چٹانوں کو کاٹ کر تعمیر کیا گیا ہے اور فن تعمیر میں اپنی مثال آپ ہے آپ قدیم دور میں جدید مشینری کے بغیر انسان کی مہارت دیکھ سکتے ہیں
مشہور Hollywood فلم 300 میں بادشاہ کی شخصیت اور حلیہ انتہائی منفی دکھایا گیا تھا لیکن ایرانی ریکارڈز کے مطابق وہ ایک عظیم بادشاہ تھا جسے Xerxes the Great بھی کہا جاتا ہے ۔
یہ مقبرہ ایران میں مشہور Archaeological Site نقش رستم کا ایک حصہ ہے عظیم فارسی بادشاہ Xerxes سن 519 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 465 قبل مسیح میں اس کے گارڈ نے اسے قتل کر دیا تھا۔
Test Styles
Audio my story, and feel it
1 month ago | [YT] | 0
View 1 reply
Test Styles
شادی کے اکیس برس بعد، ایک دن میری بیوی نے مجھے ایک طرف بلایا۔ وہ نرمی سے میری طرف دیکھنے لگی اور کہا کہ وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے: وہ چاہتی تھی کہ میں ایک شام کسی اور عورت کے ساتھ گزاروں۔ اسے کھانے پر لے جاؤں اور شاید بعد میں کوئی فلم بھی دیکھ لیں۔
’’میں تم سے محبت کرتی ہوں،‘‘ اس نے کہا، ’’لیکن مجھے پتا ہے کہ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم اسے اپنے وقت میں سے تھوڑا سا دو۔‘‘
وہ دوسری عورت میری ماں تھی۔ وہ انیس سال سے اکیلی رہ رہی تھیں، جب سے میرے والد کا انتقال ہوا تھا۔
نوکری، روزمرہ کی زندگی اور تین بچوں کی ذمہ داریوں کے درمیان، میں صرف کبھی کبھار ہی ان سے ملنے جاتا تھا۔
اسی شام میں نے انہیں فون کیا۔ میں نے پوچھا کیا وہ میرے ساتھ کھانے پر چلنا چاہیں گی۔
’’کیا کوئی خاص بات ہے؟‘‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں، کچھ خاص نہیں،‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’بس میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کچھ وقت گزاروں۔ صرف ہم دونوں۔‘‘
دوسری طرف طویل خاموشی چھا گئی۔ پھر ان کی بھرائی ہوئی آواز آئی: ’’مجھے یہ بہت اچھا لگے گا۔‘‘
اگلے جمعہ کو میں انہیں لینے گیا۔ مجھے ہلکی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی؛ کافی عرصے بعد ہم دونوں اکیلے کہیں جا رہے تھے۔
انہوں نے بڑے اہتمام سے تیار ہوکر بال سنوارے تھے، وہی لباس پہنا تھا جو انہوں نے پاپا کے ساتھ اپنی شادی کی آخری سالگرہ پر پہنا تھا۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھیں، ان کی مسکراہٹ ایک ننھی بچی کی سی تھی۔
’’میں نے اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ آج رات میں اپنے بیٹے کے ساتھ باہر جا رہی ہوں… سب بہت حیران تھیں۔ وہ سب کچھ جاننا چاہتی ہیں!‘‘
ہم نے ایک سادہ سا چھوٹا ریستوران چُنا، جس کا ماحول بہت مانوس اور پر سکون تھا۔ وہ میرے بازو کو ایسے تھامے ہوئے تھیں جیسے کسی بڑی محفل میں آئی ہوں۔
میز پر بیٹھے میں نے مینو اونچی آواز میں پڑھا: ان کی نظر اب کمزور ہو گئی تھی اور مینو کارڈ پر چھپے الفاظ واضح نظر نہیں آتے تھے۔
جب میں نے سر اُٹھایا تو وہ مجھے بڑی محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
’’جب تم چھوٹے تھے تو میں تمہیں مینو پڑھ کر سنایا کرتی تھی…‘‘
’’تو اب یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کے لیے پڑھوں،‘‘ میں نے مسکرا کے جواب دیا۔
ہم نے کھانا کھایا، باتیں کیں—کوئی غیر معمولی بات نہیں، بس ہم تھے، ہماری زندگیاں، ہماری یادیں۔ ہم اتنی دیر باتوں میں لگے رہے کہ فلم کا خیال ہی نہیں رہا۔ مگر اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ شام ویسے ہی مکمل تھی۔
جب میں انہیں گھر چھوڑنے گیا تو انہوں نے کہا: ’’میں یہ پھر کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن اگلی بار… دعوت میری طرف سے ہوگی۔‘‘
میں نے مسکرا کر کہا: ’’وعدہ۔‘‘
گھر واپس آیا تو بیوی نے پوچھا: ’’کیسا رہا؟‘‘
میں نے کہا: ’’جتنا سوچا تھا، اس سے کہیں بہتر۔‘‘
مگر دوسری ملاقات کبھی نہ ہو سکی۔ چند دن بعد میری ماں اچانک دل کے دورے سے چل بسیں۔
کچھ ہفتوں بعد مجھے ایک لفافہ ملا۔ اندر ریستوران کی رسید تھی۔ انہوں نے پہلے ہی دو افراد کا بل ادا کر رکھا تھا۔ ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی تھی، ان کی اپنی لکھائی میں:
’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلی بار موقع ملے گا یا نہیں، اس لیے پہلے ہی ادا کر دیا۔ یہ تم اور تمہاری بیوی کے لیے ہے۔ وہ شام میرے لیے بہت قیمتی تھی۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں، میرے بیٹے۔‘‘
اسی دن میں نے سچ مچ سمجھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔
کتنا ضروری ہے کہ ہم وقت پر ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘ کہہ سکیں، اور ان کے لیے وقت نکالیں جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔
کیونکہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز یہی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک انگریزی کہانی سے ماخوذ
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
جنگ یرموک
(ساتویں صدی کی سب سے اہم ترین لڑائی)
یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی خلافت کا دور تھا جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ ایرانی سلطنت کے بارڈر کے علاقوں میں موجود چھوٹے شہروں کو یکے بعد دیگرے فتح کرتے جا رہے تھے کہ مرکز سے حکم ملا کہ شام پہنچیں نارمل طریقہ تو یہ تھا کہ فوج وہاں سے واپس آتی اور فلسطین سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی لیکن خالد بن ولید رضی اللہ وہیں سے اپنی فوج لے کر صحرا کی طرف روانہ ہو گئے یہ صحرا ایرانی سلطنت کے علاقے عراق اور شام کے درمیان موجود تھا اس صحرا کو پار کرنے میں کئی دن لگ گئے راستے میں اونٹ ذبح کر کے ان کا گوشت اور اونٹوں میں موجود پانی سے سیراب ہوتے رہے حتی کہ شام پہنچ گئے
ان دنوں سلطنت ایران اور بازنطین کے درمیان صلح کا دور چل رہا تھا اس لئے بازنطینیوں نے شام کے علاقوں کو ایرانی سلطنت والی سائیڈ سے بالکل اوپن رکھا ہوا تھا یعنی وہاں کوئی بڑی فوج دفاع کیلئے موجود نہیں تھی بس تھوڑے بہت سپاہی شہروں کی دیواروں کے اندر موجود تھے چنانچہ مسلمان فوج نے آسانی کے ساتھ کئی علاقے فتح کئے بازنطانیوں کو اس طرف سے حملے کی بالکل توقع نہ تھی اس لئے وہ اچانک حملے پر اپنا دفاع نہ کر سکے خیر مسلمان فوج نے شام کے شہر دمشق کی طرف پیش قدمی کی دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ کی قیادت میں مسلمان فوجیں عرب سے فلسطین میں داخل ہو کر فتح کرتے ہوئے شام میں داخل ہو چکی تھیں دونوں فوجوں نے مل کر دمشق فتح کر لیا دمشق والوں نے ہتھیار ڈال دئیے ابھی دمشق میں ہی تھے کہ مسلمانوں کی فتوحات کی خبر قیصر روم تک قسطنطنیہ پپہنچ گئی اس نے فوری طور پر ایک بڑا لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ کر دیا یہاں سے خالد بن ولید رضی اللہ کے مشورے کے مطابق مسلمان فوج نے شام کا علاقہ خالی کر دیا اور فلسطین کا علاقہ بھی خالی کرتے ہوئے عرب کی طرف رخ کیا بازنطینی فوج بھی پیچھے تھے
خیر یرموک کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا مسلمان تاریخ دان بازنطینی فوج کی تعداد لاکھ بتاتے ہیں کوئی دو لاکھ بھی بتاتے ہیں اور مسلمان فوج کی تعداد تیس ہزار یا پچیس ہزار بتاتے ہیں لیکن نیوٹرل ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی تعداد تقریباً تیس ہزار اور بازطینیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی یعنی کہ دو گنا لیکن اس جنگ میں بہت مشکل پیش آئی خواتین تک کو لڑنا پڑ گیا لیکن سخت محنت، بہترین قیادت اور خدا کی مدد سے آخرکار اپنے سے طاقتور اور تجربہ کار بازنطینی فوج کو مسلمانوں نے شکست دے دی اور فلسطین اور شام کا سارا علاقہ ہمیشہ کیلئے کنٹرول میں آ گیا
اس لڑائی کو ساتویں صدی کی سب سے اہم ترین لڑائی شمار کی جاتی ہے جس نے ہمیشہ کیلئے مشرق وسطی کی تاریخ بدل کر رکھ دی ۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
یمن کا *شیبام* نامی یہ قدیم شہر 2000 سال پرانا ہے جو 1982 سے یونیسکو عالمی ورثے کا حصہ بھی ہے اسے Manhattan of the Desert بھی کہا جاتا ہے یہ قدیم شہر اپنے زمانے میں آبادی کو پلاننگ سے بسانے کے حوالے سے مشہور ہے جہاں مٹی سے لگ بھگ 500 گھر تعمیر کئے گئے
شہر کی تاریخ کا آغاز تو 300 عیسوی کے لگ بھگ ہوتا ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس شہر کی زیادہ تر تعمیرات 1532 میں ہوئیں جب دنیا بھر میں بڑی اور پکی عمارات تعمیر ہو چکی تھیں لیکن یمن کے اس قدیم شہر میں وہی قدیم دور کے فن تعمیر کو برقرار رکھا گیا شاید ایسا صحرائی موسم کی مناسبت سے کیا گیا۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
ریاضی میں حروف کے استعمال کی تاریخ نہایت دلچسپ اور طویل ہے۔ ابتدا میں قدیم مصری، بابلی اور یونانی ریاضی دان حساب اور جیومیٹری کے مسائل صرف مخصوص نمبروں کے ذریعے حل کرتے تھے۔ مگر اس میں ایک بڑی کمی یہ تھی کہ ہر مسئلہ کو الگ الگ اعداد کے ساتھ دوبارہ ثابت کرنا پڑتا تھا۔
قدیم یونانی ریاضی دان ڈایوفینٹس (Diophantus) کو بعض اوقات "الجبراء کا باپ" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے تیسری صدی عیسوی میں "Arithmetica" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں نامعلوم مقداروں کو ظاہر کرنے کے لیے علامتوں کا استعمال کیا گیا۔ اگرچہ ان کے حروف آج کے الجبرا سے کافی مختلف تھے، لیکن یہ ایک بڑی پیش رفت تھی۔
بعد ازاں اسلامی سنہری دور میں، نویں صدی کے مشہور مسلمان ریاضی دان محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے "الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ" لکھی۔ یہ وہی کتاب ہے جس سے لفظ "الجبر" نکلا اور بعد میں "Algebra" کہلایا۔ الخوارزمی نے مساوات میں نامعلوم مقداروں کو منظم طریقے سے ظاہر کرنے کا طریقہ دیا اور مسائل کو حل کرنے کے عمومی اصول وضع کیے۔
یورپ میں یہ روایت آگے بڑھاتے ہوئے سولہویں صدی میں فرانسیسی عالم فرانسوا ویئٹ (François Viète) نے پہلی بار واضح طور پر حروف کو دو حصوں میں تقسیم کیا:
حروف علت (consonants) کو معلوم مقداروں کے لیے
اور حروف علت (vowels) کو نامعلوم مقداروں کے لیے استعمال کیا۔
اس کے بعد سترہویں صدی میں رینی ڈیکارٹ (René Descartes) نے ریاضی کو مزید ترقی دی اور مساوات میں نامعلوم مقداروں کے لیے آخر کے حروف (x, y, z) اور معلوم مقداروں کے لیے ابتدائی حروف (a, b, c) کا استعمال رواج دیا۔ آج بھی یہی طریقہ پوری دنیا میں پڑھایا جاتا ہے۔
یوں یونانیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر مسلمانوں کی کاوشوں سے گزرتا ہوا یورپ تک پہنچا اور آج کی جدید الجبرا کی بنیاد بنا۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی. بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا آخر تم میں ایسا کیا ہے جو سارے بازار سے تمہاری قیمت زیادہ ہے. لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت یہ میری ذہانت ہے جس کی قیمت طلب کی جا رہی ہے.
بادشاہ نے کہا اچھا میں تم سے کچھ سوالات کرتا ہوں. اگر تم نے درست جواب دئے تو تم آزاد ہو لیکن اگر جواب نہ ہوا تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا. لڑکی آمادہ ہوگئی تب بادشاہ نے پوچھا :
سب سے قیمتی لباس کونسا ہے.؟
سب سے بہترین خوشبو کونسی ہے.؟
سب سے لذیذ کھانا کونسا ہے.؟
سب سے نرم بستر کونسا ہے.؟ اور سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟
لڑکی نے غلاموں کے بازار کے تاجر سے کہا میرا گھوڑا تیار کرو کیونکہ میں آزاد ہونے لگی ہوں. پھر پہلے سوال کا جواب دیا. سب سے قیمتی لباس کسی غریب کا وہ لباس ہے جس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو. یہ لباس پھر سردی گرمی عید تہوار ہر موقع ہر چلتا ہے.
سب سے خوبصورت خوشبو ماں کی ہوتی ہے بھلے وہ مویشیوں کا گوبر ڈھونے والی مزدور ہی کیوں نہ ہو اس کی اولاد کیلئے اس کی خوشبو سے بہترین کوئی نہ ہوگی.
لڑکی نے کہا سب سے بہترین کھانا بھوکے پیٹ کا کھانا ہے. بھوک ہو تو سوکھی روٹی بھی لذیذ لگتی ہے. دنیا کا نرم ترین بستر بہترین انصاف کرنے والے کا ہوتا ہے. ظالم کو ململ و کمخواب سے آراستہ بستر پر بھی سکون نہیں ملتا. یہ کہہ کر لڑکی گھوڑے پر بیٹھ گئی. بادشاہ جو مبہوت یہ سُن رہا تھا اچانک اس نے چونک کر کہا لڑکی تم نے ایک سوال کا جواب نہیں دیا. سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے.؟
لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت دنیا کا سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو. جہاں کوئی غلام نہ ہو اور جہاں کے حکمران ظالم اور جاہل نہ ہوں. لڑکی کے اس آخری جواب میں انسانیت کی ساری تاریخ کا قصہ تمام ہوتا ہے.
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
*تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے۔ دستر خوان پر پڑے انڈے ،جیم اور مکھن نہیں*
یہ 1973ء کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔۔۔۔۔وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔
گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا۔ اور اسے اپنے کچن میں لے گئیں۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا۔ اور خود بھی وہیں آ بیٹھیں۔ اور اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کے سودے پر بات شروع کر دی۔
ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی، اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی، اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔
پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔
چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھیں، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹیں اور بولیں۔۔ !
"مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے"۔
واضح رہے کہ۔۔۔۔۔۔
اسرائیل اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار تھا، جنگ میں اس وقت اسکی شکست یقینی تھی۔ حالات اس حد تک اسرائیل کے خلاف تھے۔ کہ امریکہ تک نے اسرائیل سے منہ موڑ لیا تھا۔
مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اس جنگ کو جیتنے کی خاطر اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے پہلے پہل اس بھاری سودے کو رد کر دیا تھا۔
کابینہ کا موقف تھا، کہ اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو 20 برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔
گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا، اور کہا
”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے، اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے، کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے۔ اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں، اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے، یا انکی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔
یاد رکھئیے فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔
گولڈہ مائیر کی دلیل میں اتنا وزن تھا، کہ اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی متفقہ طور پر منظوری دینا پڑی۔
اور آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا۔
اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں کی آناً فاناً خریداری کے بعد یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ ان پر زبردست بمباری اور پیش قدمی کررہے تھے۔ اور جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا۔
عرب جنگ ہار گئے، اسرائیل جیت گیا۔ عربوں کے کئی علاقے اسرائیل کے قبضے میں آگئے۔ جو کہ آج تک ہیں۔
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا، اور سوال کیا۔
”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“
گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ آج کی مسلم دنیا کیلئے باعث عبرت ہے۔ وہ بولیں
”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ۔۔
"جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی۔ کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو یا سات تلواریں جو انکی ذاتی تھیں۔ لٹک رہی تھیں۔"
میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے ؟
لیکن مسلمان اسوقت آدھی دنیا کے فاتح تھے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے !
لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا بھی رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“
دلچسپ بات یہ ہے کہ
گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھادیا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اس بات کو ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔
وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبیﷺ کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔
چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئیں۔ اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔
اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا۔ جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔
اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔
*گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نامہ نگار نے مزید کہا:*
”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس تک نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ
”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔"
گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا۔ تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے تھے۔
ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے !
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔ مگر مسلمان اِس پہلو سے نا آشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کے بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے.
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
*ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ، ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے انکھیں بند کر لیں ، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا " ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"*
کارلا کی ماں دھندہ کرنے والی عورت تھی ، بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگ پڑی ، 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ، سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی ، موقع واردات پر مزاحمت ھوئی اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ، کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کہ چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ، اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کی زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا ، وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔
ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ، اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کی فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی۔
سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا" ، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا " نہیں بلکہ میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی"
امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی"
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہینچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہہ دے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا"
جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے تو مجھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول یاد آ جاتا ھے " معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ھیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں ".
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
انسانی تکلیفوں کی دو ہی وجوہات ہیں؛ "درد" اور "بوریت"
لوگ اپنے اس اندرونی خلا کو پُر کرنے اور اپنی بوریت کو دور کرنے کے لیے سیر و تفریح کے مقامات پر جاتے ہیں، رشتہ داروں اور عزیزوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ایسی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کا مرکز صرف چار چیزیں ہوتی ہیں؛
1 - مال و دولت؛ کتنا پیسا کمایا، کہاں انوسیٹ کیا، کتنا جمع کیا اور کہاں کہاں خرچ کیا…
2 -مادی سامان؛ لباس، جوتے، گھر، میک اپ، جیولری اور گاڑی پر گفتگو
3 - بچے؛ کس کلاس میں ہیں اور ان کی مصروفیات پر گفتگو
4 - طعام؛ کھانے پینے کی لذیذ ڈشز کے بارے میں گفتگو اور آخر میں کھانے پر ہی ملاقات کا اختتام !
ان ملاقاتوں سے بعض اوقات انسان کی بوریت وقتی طور پر دور ہوتا ہوگی اور درد بھی کم بھی ہوتا ہوگا لیکن اکثر ایسی ملاقاتوں میں انسان کا درد کم ہونے کے بجائے مزید اس کے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے -
مثلاً؛
ایک شخص اچھا کماتا ہے تو یہ جان کر سامعین اس سے حسد کرتے ہیں ، اور جس آدمی کی آمدن کم ہے وہ زیادہ آمدنی کی باتیں سن کر پریشان ہوتا ہے، خود کو مفلس اور کمتر محسوس کرتا ہے…
غرض یہ کہ ان ملاقاتوں میں ہوئی کوئی بات کسی کے لیے ہنسی کا سبب بنتی ہے تو کسی کے لیے اذیت کا سبب بن جاتی ہے …
لہٰذا پھر لوگوں کے تعلقات قطع تعلقی میں بدل جاتے ہیں، اس کے بعد پھر کسی ہم مزاج کی تلاش اور بوریت دور کرنے کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ…
دراصل بوریت کو دور کرنے کے یہ تمام راستے انسانی ذہن کے خالی پن اور لاچاری کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں- یعنی ایسا انسان لوگوں میں اور مادی چیزوں میں اپنی خوشی کو تلاش کرتا رہتا ہے اور جب لوگوں کہ طرف سے مایوسی یا چیزوں کا نقصان ہوتا ہے تو اس کی خوشی غم میں بدل جاتی ہے، ایسے انسان کی خوشی کا مرکز اس کے اندر، اس کی اپنی ذات کے اندر نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی ذات سے باہر موجود ہر چیز میں پایا جاتا ہے -
بوریت اور اس لاچاری کو دور کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ انسان کے اپنے اندر خالی پن نہ ہو، اس کا باطن امیر ہو، اس کا ذہن امیر ہو اور اس کا دل امیر ہو ان میں علم و ادب ، نظریات اور فکروں کی بھرمار ہو اور مزید کی جستجو اور تلاش میں انسان مصروف رہے-
ایسا امیر شخص کبھی بھی "بوریت" کا شکار نہیں ہوتا - نہ ہی بوریت کی اس کے ذہن و قلب میں کوئی جگہ ہوتی ہے - چونکہ اس کی خوشی کا مرکز اس کی اپنی ذات کے اندر موجود ہے -
کیوں کہ اس کی سوچ اور فکر کی نہ تھکنے والی ایکٹویٹی ہمیشہ جاری رہتی ہے ، یہ امیر ذہن اپنے کام کی مصروفیت کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کر لیتا ہے - اپنی سوچ کو تخلیق کا رنگ دیتا ہے؛ تحریر اور شاعری لکھتا ہے ، پینٹنگ اور متفرق آرٹ بناتا رہتا ہے…
یہ علمی اور فکری مصروفیت ہر وقت ذہن کو متحرک رکھتی ہیں، سکون اور نیند ایسے ذہن کی امیری میں اضافہ کر دیتے ہیں، اور ایسا ذہن بوریت کی پہنچ سے بہت اوپر نکل چکا ہوتا ہے... !!
زیادہ ذہنی قابلیت (high degree Intelligence) کا مطلب یہ ہے کہ فرد بہت زیادہ حساس فطرت کا مالک ہے ، اور یہ حساسیت زیادہ ارادے کی قوت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور زیادہ جذباتیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے - ان تمام خوبیوں کے جمع ہونے سے ایک انتہائی مضبوط جذبات والا انسان تخلیق پاتا ہے... !
لہٰذا تمام تکلیفوں، پریشانیوں اور دردوں کو سہنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے اس امیر ذہن کی قابلیت کئی گنا بڑھ چکی ہوتی ہے -
پھر اسے لوگوں کی ملاقاتوں، مادی چیزوں کی فراوانی میں دلچسپی نہیں ہوتی - لوگوں کا زندگی میں آنا اور چھوڑ کر چلے جانا اس امیر ذہن کے لیے عام سی بات ہوتی ہے -
چنانچہ جتنا زیادہ ارد گرد کی چیزوں کی طرف جھکاؤ ہوگا اتنا ہی زیادہ ذہن میں خالی پن ہوگا اور اتنا ہی زیادہ انسان کی خوشی کا مرکز بیرونی چیزیں ہوں گی-
اور جتنا زیادہ انسان کا باطن امیر ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کی خوشی کا مرکز اس کے اندر ہوگا، لہٰذا قلب و ذہن کی امیری مادی رشتوں اور مادی چیزوں کی امیری سے ہزار درجہ بہتر ہے!!
تحریر: موسیٰ پاشا۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Test Styles
آپ نے مشہور فلم 300 دیکھی ہو گی اس میں جس فارسی بادشاہ کو دکھایا گیا ہے یہ اس بادشاہ Xerxes کا مقبرہ ہے جو چٹانوں کو کاٹ کر تعمیر کیا گیا ہے اور فن تعمیر میں اپنی مثال آپ ہے آپ قدیم دور میں جدید مشینری کے بغیر انسان کی مہارت دیکھ سکتے ہیں
مشہور Hollywood فلم 300 میں بادشاہ کی شخصیت اور حلیہ انتہائی منفی دکھایا گیا تھا لیکن ایرانی ریکارڈز کے مطابق وہ ایک عظیم بادشاہ تھا جسے Xerxes the Great بھی کہا جاتا ہے ۔
یہ مقبرہ ایران میں مشہور Archaeological Site نقش رستم کا ایک حصہ ہے عظیم فارسی بادشاہ Xerxes سن 519 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 465 قبل مسیح میں اس کے گارڈ نے اسے قتل کر دیا تھا۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more