Islamic Tube Channel

Attractive Islamic and Historical Places Videos with Details


Islamic Tube Channel

زم زم کا کنواں تقریباً 30 میٹر گہرا ہے اور یہ مکہ مکرمہ میں کعبہ کے قریب واقع ہے۔ یہ پانی زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھروں کی تہوں سے آتا ہے، جو بارش کے پانی سے ریچارج ہوتا ہے اور مسلسل بہاؤ کو برقرار رکھتا ہے۔

🌍 سائنسی تفصیلات

📍 مقام اور ساخت
زم زم کا کنواں مسجد الحرام کے اندر، کعبہ سے تقریباً 20 میٹر مشرق میں واقع ہے۔
اس کی گہرائی تقریباً 30 میٹر اور قطر 1.08 سے 2.66 میٹر تک ہے۔
زم زم کے کنویں کے اردگرد پتھریلا گرینائٹ اور چونے کے پتھر کی تہیں ہیں جو پانی کو ذخیرہ اور فلٹر کرتی ہیں۔

💧 پانی کا ماخذ
زم زم کے پانی کا بنیادی ماخذ مکہ مکرمہ کے زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھروں کے ایکویفرز ہیں۔ یہ ایکویفرز بارش کے پانی سے ریچارج ہوتے ہیں اور قدرتی دراڑوں اور چینلز کے ذریعے کنویں میں پانی پہنچاتے ہیں۔

- پانی قدرتی ایکویفرز (Aquifers) سے آتا ہے جو بارش کے پانی سے ریچارج ہوتے ہیں۔
- یہ علاقہ خشک ہے لیکن بارش جب ہوتی ہے تو شدید اور مختصر مدت کی ہوتی ہے، جو زیرِ زمین تہوں میں محفوظ ہو جاتی ہے۔
- کنواں ایک خود کو دوبارہ بھرنے والا چشمہ ہے، یعنی پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔

🧪 کیمیائی خصوصیات
- زم زم کا پانی الکلائن (Alkaline) ہے، یعنی اس کا pH عام پانی سے زیادہ ہے۔
- اس میں معدنیات کی مقدار نمایاں ہے:
- کیلشیم: 93 mg/L
- میگنیشیم: 42 mg/L
- فلورائیڈ: 0.74 mg/L
- یہ خصوصیات اسے عام نلکے کے پانی سے مختلف بناتی ہیں۔
- سائنسی ٹیسٹوں کے مطابق یہ پانی جراثیم سے پاک ہے۔

⚙️ انتظام اور تحقیق
- سعودی حکومت نے Zamzam Studies and Research Center قائم کیا ہے جو کنویں کی دیکھ بھال، فلٹریشن، ذخیرہ اور تقسیم کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرتا ہے۔
- جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے پانی کے معیار اور بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔

📊 زم زم پانی کی نمایاں خصوصیات
| پہلو | تفصیل |
|--------------------|--------|
| گہرائی | 30 میٹر |
| مقام | کعبہ سے 20 میٹر مشرق |
| ماخذ | زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھر کے ایکویفرز |
| ریچارج ذریعہ | بارش کا پانی |
| pH | الکلائن |
| کیلشیم | 93 mg/L |
| میگنیشیم | 42 mg/L |
| فلورائیڈ | 0.74 mg/L |
| جراثیم کی موجودگی | نہیں |

زم زم کا کنواں صرف مذہبی لحاظ سے نہیں بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی منفرد ہے۔ یہ ایک قدرتی فلٹر شدہ چشمہ ہے جو خشک علاقے میں مسلسل پانی فراہم کرتا ہے، اور اس کے معدنیات اسے عام پانی سے مختلف بناتے ہیں۔

#نوٹ
زم زم کا پانی لیبارٹری میں "بنایا" نہیں جا سکتا۔

🔹 وجہ:
1. قدرتی منبع: زم زم ایک مخصوص زیرِ زمین چشمے سے نکلتا ہے جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ اس کا منبع زمین کی گہرائی میں موجود قدرتی آبی ذخائر ہیں، جو انسانی عمل یا ٹیکنالوجی سے پیدا نہیں کیے جا سکتے۔
2. یونیک کیمیائی ساخت: اس پانی میں معدنیات اور نمکیات کا ایک خاص تناسب ہے جو عام پانی سے مختلف ہے۔ لیبارٹری میں اگرچہ پانی کو فلٹر یا منرلائز کیا جا سکتا ہے، لیکن زم زم کی اصل ساخت اور خصوصیات کو بالکل ویسا دہرانا ممکن نہیں۔
3. روحانی و تاریخی پہلو: زم زم کی اہمیت صرف سائنسی نہیں بلکہ مذہبی و تاریخی ہے۔ اس کی برکت اور تقدس کسی مصنوعی عمل سے پیدا نہیں ہو سکتا۔
4. قدرتی تسلسل: یہ چشمہ ہزاروں سال سے جاری ہے اور اس کی روانی ایک قدرتی نظام کا حصہ ہے، جسے انسان کنٹرول یا دوبارہ تخلیق نہیں کر سکتا۔

یعنی اگر کوئی سائنسدان اس کے معدنی اجزاء کو نقل بھی کرے، تب بھی وہ "زم زم" نہیں ہوگا، بلکہ صرف ایک مصنوعی محلول ہوگا۔ اصل زم زم صرف اسی چشمے سے آتا ہے۔

2 hours ago | [YT] | 0

Islamic Tube Channel

بے نیازی کے رنگوں پر بھی مسکرایا جاتا ہے۔۔۔۔لیکن ہمت بہت چاہیے اور وہ بھی محبوب سے مانگیں

3 days ago | [YT] | 0

Islamic Tube Channel

آپ ﷺ کا جسمِ اطہر اتنا نورانی تھا کہ دھوپ میں چلتے ہوئے زمین پر آپ ﷺ کا سایہ نظر نہیں آتا تھا ، تاکہ کسی کا پاؤں آپﷺ کے سائے پر نہ پڑے۔ 🤍

1 week ago | [YT] | 48

Islamic Tube Channel

⚫ لکھتا ہے وہی ہر بشر کی تقدیر
♥️ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ

⚫ جس کے تابع ہیں جنّات و انسان
♥️ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

⚫ ابتدا ہے وہی اور وہی انتہا
♥️ وَتُعِزُّ من تشاء وَتُذِلُّ من تشاء

⚫ تنہائی میں بھی رہو گناہ سے دور
♥️ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺑِﺬَﺍﺕِ ﺍﻟﺼُّﺪُﻭﺭِ

⚫ ہے تجھکو بس طلب کی جوت
♥️ کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ

⚫ انساں کو ہے لاحاصل کا جنون
♥️ قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ

⚫ غیب سے نکال دیتا ہے وہ سبیل
♥️ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

⚫ ہر ایک کو دیتا ہے صلہ بہترین
♥️ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

⚫ اس سے مانگو وہ ہے بڑا کریم
♥️ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

⚫ تخلیقِ انسانی کا ہے مقصد
♥️ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ

⚫ تیری رضا میں ہی ہے سکون
♥️ فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ

1 week ago | [YT] | 1

Islamic Tube Channel

Guess who? 🤔

1 week ago | [YT] | 17

Islamic Tube Channel

ایک سال اور گزر گیا جس میں تم ایک رات بھی بھوکے نہیں سوئے تو اپنے اس عظیم رب کا شکر ادا کرو🤲

3 weeks ago | [YT] | 0

Islamic Tube Channel

ستونِ حرس (Guard) اور ستونِ وفود (Delegations) کے درمیان ایک دروازہ واقع ہے جو حجرۂ مبارک کی طرف کھلتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ راستہ قرآنِ مجید کی الماری کے پیچھے واقع ہے، تاہم عہدِ نبوی میں یہی راستہ رسولِ اکرم ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کا ذریعہ تھا۔ یہ دروازہ “بابِ نبی ﷺ” کے نام سے معروف ہے اور اسے “بابِ عائشہؓ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مقام تقریباً اسی جگہ ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوتے اور وہاں سے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ یہ دروازہ مسجدِ نبوی کے مغربی جانب روضۂ اقدس کے بالمقابل ہے۔
Between the Pillar of the Guard (Ḥaras) and the Pillar of Delegations (Wufūd) lies a doorway that leads into the Sacred Chamber. Presently concealed behind the Qur’an bookshelf, this passage historically served as the entrance to the residence of the Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) during his lifetime. It is traditionally known as the “Door of the Prophet” and is also referred to as the “Door of ʿĀʾishah” (may Allah be pleased with her). This location corresponds closely to the point from which the Prophet customarily entered and exited the Mosque, situated on its western side, facing the Noble Rawḍah.

3 weeks ago | [YT] | 14

Islamic Tube Channel

یہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کنواں ہے جسکا پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم شوق سے نوش فرماتے اگر اپ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں 22 نمبر گیٹ سے داخل ہوتے ہیں تو دائیں جانب یہ دونوں کے درمیان میں واقع ہے لیکن مسجد انتظامیہ کی جانب سے اس کے اوپر صفیں بچھا دی جاتی ہیں اور یہ لوگوں کی انکھوں سے اوجھل ہوتا ہے اگر اللہ رب العزت اپ کو بھی موقع دے اور اپ حج یا عمرہ کے لیے جائیں تو اس کی زیارت لازمی کریں۔

4 weeks ago | [YT] | 36

Islamic Tube Channel

(سبز گنبد – مدینہ منورہ)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں، جس کا قد تقریباً چار اڑھائی میٹر لمبا اور ساڑھے تین میٹر چوڑا ہے، رسول اللہ ﷺ آرام فرما ہیں، اور ان کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی مدفون ہیں۔

جگہ کی تنگی کے باوجود، اس کمرے کی عظمت اس میں آرام فرمانے والی ہستیوں کی وجہ سے پوری دنیا سے وسیع محسوس ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو حجرے کے جنوبی حصے کے درمیان دفن کیا گیا۔ آپ ﷺ کا سر مغرب کی طرف، قدم مشرق کی طرف، اور چہرہ مبارک قبلہ شریف کی جانب تھا۔ قبر اور دیوارِ قبلہ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ ہے، جسے دیکھ کر ہر زائر کا دل ہیبت و خشوع سے بھر جاتا ہے، جبکہ مغربی دیوار تک صرف دو ہاتھ کا فاصلہ ہے، جیسے یہ جگہ اپنے اندر اس مقدس جسم کو ماں کی طرح سمیٹے ہوئے ہو۔

آپ ﷺ کے کندھوں کے پیچھے فوراً حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر ہے—وہی ہستی جنہوں نے اپنی پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گزاری، ہجرت، غارِ ثور اور دعوت کے ہر مرحلے میں ساتھ رہے۔ اور پھر آخری آرام گاہ میں بھی اسی محبوب مربی اور رہنما کے پیچھے جگہ پائی۔

پھر اس کے پیچھے، حضرت ابو بکر کے کندھوں کے پیچھے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر ہے—وہ جگہ جو ان کے لیے مقدر تھی، تاکہ وہ زندگی میں بھی صف کے آخری مرد تھے اور یہاں بھی نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق کے بعد صف میں کھڑے ہوں—قائد، رسول، اور دو خلفاء، سب اسی ترتیب میں جیسے دنیا میں تھے۔

جب ہم اس چھوٹے سے حجرے کے رقبے پر نظر ڈالتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ قبروں کی یہ ترتیب کوئی انسانی منصوبہ نہیں بلکہ ایک مقدر کا انتظام تھا؛ ایک قبر کے لیے کم از کم ایک میٹر جگہ درکار ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی قبر کے لیے تقریباً 1.30 میٹر، ابو بکر صدیق کے لیے ایک میٹر، اور عمر فاروق کے لیے ایک میٹر… تو حجرے میں ان تین بزرگوں کے سوا کسی اور کے لیے جگہ باقی ہی نہیں بچتی، جیسے یہ جگہ صرف انہی کے لیے بنائی گئی ہو۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ آرام فرما ہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں صدیق ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں فاروق ہیں—تین عظیم شخصیات جنہوں نے ایک امت کی بنیاد رکھی اور دنیا کو ایسا نور دیا جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ، مگر حرَمینِ شریفین کے بعد روئے زمین کی سب سے عظیم جگہ—جہاں تاریخ سانس لیتی ہے، ایمان دلوں میں اترتا ہے، اور روح وہ خشوع محسوس کرتی ہے جو دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔

🕌💚 مدینہ منورہ 💚🕌

1 month ago | [YT] | 46