"Unlock the treasures of Islam with us! Gems of Islam is a platform where we share inspiring stories, insightful lectures, and informative videos about Islam. Join us on this journey of discovery and growth!"
Subscribe now and let's explore the gems of Islam together!"
tiktok.com/@recite_the_durood
Gems of Islam
*ایک عـــرب کہـــاوت ہے،*
*کسی مشـــکیزے سے ٹپکنے والا ہر قطــرہ*
*اس بات کی گــواہی دیتا ہے کہ اس مشـــکیزے میں*
*آخر بھرا کیا گیا تھا* !
*بالــکل اسی طرح* ،
*انسان جب کُچھ بولتا ہے تو اسکے الفـــاظ بتا دیتے ہیں*
*کہ آخر اس میں علـــم بھرا ہوا ہے یا جہـــالت …* ❣️
گفتگو محتاط اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر کریں
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Gems of Islam
فرمان امام جعفر صادق علیہ السلام ,
تیرا راز تیرا خون ہے، اسے صرف تیری ہی رگوں میں دوڑنا چاہیے۔
راز کبھی بیان نہیں ہوتے مگر اشاروں میں جبکہ حکمتیں بیان کی جاتی ہیں۔ امام المکاشفین سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتب میں بہت مقامات پر اشارہ دے کر بس اتنا لکھا کہ یہاں راز ہے پس تفکر کر۔
امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو مقام ملا ہے مخلوق میں انبیاء کے بعد سب سے افضل ہونے کا تو اس افضلیت کا سبب انکی عبادت، ریاضت و تقوی نہیں سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اسکا سبب وہ راز ہے جو انکے قلب میں رکھا گیا ہے۔
اب وہ ہے کیا اسکا کوئی اشارہ نہیں کتابوں میں لیکن ایک بات بس مجھے ملی کہ حضرت منصور بن حلاج رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "طواسین" میں لکھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو حقیقت میں سواۓ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی نے نہیں دیکھا۔
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
Gems of Islam
نماز میں سارا ذکر انسان کا ہے ، الحمداللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ اللہ کی تعریف ہو گئی ،
پھر ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم یہ درخواست ہو گئی انعام والے لوگوں کے راستے کی _ صراط الذین انعمت علیھم یہاں انسانوں کا ذکر آگیاہے ۔
پہلے خدا تھااور اب کیا ذکر آگیا ؟ انسان!
تو انعمت علیھم والے بندے ڈھونڈے جائیں کہ یہ کون انسان ہیں ! یعنی کہ آدمیوں کی راہ ، خدا کی راہ ہے ۔
خدا کہتا ہے کہ میرا راستہ ، ان انسانوں کا راستہ ہے جن پر میرا انعام ہوا یعنی انعمت علیھم ۔ پھر غیر المغضوب علیھم اور وہ لوگ بھی ہیں جن پر اُس کا غضب ہوا ۔ اور اس کے بعد التحیات شروع کر دو التحیات اللہ والصلوٰت والطیبات السلام علیک ایھاالنبی ۔۔۔
تو نماز میں اللہ کے ساتھ حضورپاکﷺ کا ذکر ہو رہا ہے ۔ وہ لوگ کہیں گے کہ نماز اللہ کی ، اور ذکر غیر اللہ کا ۔ مگر یہ غیر نہیں ہے ، بلکہ یہی نماز ہے ۔ کہ السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین ۔ اور اب نماز میں عباد الصالحین ، نیک بندے بھی شامل ہو گئے ۔ اپنا بھی احترام تیری بندگی کے ساتھ یہ کئی بندے ہونگے جنہیں صالحین کہا جا سکتا ہے ۔
اشھدان لا الہ اللہ واشھدان محمداً عبدہ ورسولہ
یہاں پھر ایک بار حضورپاکﷺ نام آگیا ۔ اور یہ نماز کے اندر آیا ہے ، یعنی کہ خدا کی نماز میں انسان کا نام ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
الھم صل علی محمد و علی اٰل محمد ۔
یہ اٰل محمد کیا ہے ؟ یہ بھی انسان ہیں ۔ کما صلیت علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت ابراھیمؑ انسان اور آپ کی اٰل انسان ۔
الھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید
یہ سارا انسان کا ذکر ہے ۔ پھر رب اجعلنی مقیم الصلوٰة و من ذریتی ربنا و تقبل دعا ۔ تو اس میں آپ اور ذریّت ، اور اولاد سارے آگئے ۔ بیٹے بیٹیاں ، نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں ۔ سارے آگئے ۔ کیونکہ پندرہ بیس سال میں آپکی ذریّت کچھ اور بن جائےگی ۔
اور کبھی آپ سوچو کہ اگر دو سو سال بعد آپ واپس آؤ تو آپ کی ذریّت جو ہے وہ کم از کم ایک شہر بنائے بیٹھے ہونگے ۔ اور اگر پانچ سو سال بعد آ جاؤ تو آپکی ذریّت میں لاکھوں کروڑوں بندے ہونگے ۔ تو ذریّت ، اولاد بڑھتی جائے گی ۔
ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب ۔
میرے رب میری دعا قبول فرما، تُو مجھے بھی معاف کر اور میرے والدین کو بھی معاف فرما اور والدین کے اوپر جو قبیلہ ہے ، ان سب کی مغفرت فرما ۔
تو نماز میں آپ خدا کی بات کر رہے تھے اور یہ غیر کہاں سے آگئے ؟ تو غیر کا ذکر اللہ کریم نے آپ کو سکھایا ہے ۔
بس یہی خاص بات ہے اور یہی راز ہے کہ آپ عبادت میں داخل ہو جائیں ۔ اور عبادت کے یہ الفاظ ہیں جو اللہ نے آپ کو سکھائے ہیں کہ یااللہ ہمارے والدین کو بخش دے ۔
تو بات یہ ہے کہ اللہ نے خود آپکو الفاظ سکھا کر بتایا ہے کہ تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔ پھر یہ دعا سکھائی کہ میری اولاد کو بھی نماز کا پابند بنا ۔
تو آپ نے خود ان کو نماز کا پابند بنانا ہے مگر آپ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور حضورپاکﷺ کے حوالے سے مدد مانگتے ہیں ۔ جو کچھ بتایا گیا ہے آپ ، وہ کام کریں۔ اسی کو آپ نے کرنا ہے اور یہی بات میں آپ کو بتا رہا رہا تھا۔
یہ نہ کرنا کہ اللہ سے یہ کہو کہ
اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم
کہ جن پر تیرا انعام ہوا انکا راستہ دکھا اور جب ، اس انعام والا شخص ملے ، تو آپ اسے نماز کے آداب سکھانے لگ جاؤ ، حالانکہ وہ انعمت علیھم والوں میں شامل ہے ۔ اور اس پر اللہ کا انعام ہو گیا ہے ۔تو اب آپ بھی وہ راستہ ڈھونڈو اور آپ اس کو قرآن نہ سکھانا شروع کر دینا ، کیونکہ وہ تو آپ کے لئے راستہ بن کر آگیا ہے ۔
تو اللہ کی راہ کون سی ہے ؟ انسانوں کی راہ ، کون سے انسان ؟ جن پر اللہ کا انعام ہوا ۔ تو آپ اس راز کو دریافت کرو
1 year ago | [YT] | 2
View 0 replies
Gems of Islam
یہ قصہ ایک ایسی عظیم عورت خَولہ بنت ثعلبہ کا ہے، جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا۔
واقعہ کی تفصیل:
ایک دن خولہ کے شوہر اوس بن صامت نے غصے میں ان سے کہا:
"تم مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہو"۔
یہ جملہ اس وقت ظہار کہلاتا تھا اور اس کا مطلب تھا کہ شوہر بیوی سے ہمیشہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے، جس کے بعد رجوع ممکن نہیں ہوتا تھا۔
جب خولہ نے یہ بات سنی، تو وہ سخت پریشان ہوئیں اور فوراً نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
انہوں نے اپنے شوہر کی غربت، اپنی قربانیوں، اور بچوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے ظہار کے حکم کے بارے میں سوال کیا۔
رسول اللہ ﷺ ان کے سوالات کو سنتے رہے، اور خولہ کی بے بسی اور دکھ سن کر خود بھی غمگین ہو گئے۔
قرآن میں ظہار کا حکم:
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی، جس میں اس مسئلے کا حل پیش کیا گیا۔
سورۃ المجادلہ کی آیات میں کہا گیا:
> "اللہ نے اس عورت کی بات سن لی، جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔ اور اللہ تم دونوں کے مکالمے کو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔"
(المجادلہ: 1)
کفارہ ظہار:
اللہ تعالیٰ نے ظہار کا کفارہ مقرر فرمایا:
1. ایک غلام آزاد کرنا۔
2. اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنا۔
3. اگر روزے بھی نہ رکھ سکے تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا۔
خولہ کی عظمت:
خولہ کی قربانیوں اور استقامت کو دیکھتے ہوئے یہ حکم نازل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اوس بن صامت کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا، اور ان کے نکاح کو برقرار رکھا۔
عمر بن خطاب اور خولہ:
خولہ کا رتبہ اتنا بلند تھا کہ جب وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے آئیں اور ان سے مخاطب ہوئیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انتہائی احترام سے ان کی بات سنی۔ جب کسی نے پوچھا کہ آپ اس عورت کے لیے اتنا وقت کیوں دے رہے ہیں؟ تو حضرت عمر نے فرمایا:
> "یہ وہ عورت ہے جس کی بات اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے سنی۔ تو کیا عمر اس کی بات نہ سنے؟"
سبق:
یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عورت کے حقوق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کی فریاد سنتا ہے، اور ظالم کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ یہ خولہ بنت ثعلبہ کی استقامت، صبر، اور عزت نفس کی اعلیٰ مثال ہے۔
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Gems of Islam
درودشریف کی برکت
درود شریف کا فیض نسلوں تک جاری رہتا ہے
جیسے ایک شخص درخت لگاتا ہے اور فائدہ آنے والے لوگ اٹھاتے ہیں
اسی طرح جو شخص درود شریف سے لو لگا لیتا ہے اسکی آنے والی نسلیں درود شریف کی برکات سے فیض یاب ہوتی رہتی ہیں۔ 🥀🥀 سیدناکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم💚
💚اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَـــِلّمُ ۔ ❤️
شبِ جمعہ ہے محبت و عقیدت کے ساتھ درود شریف کا اہتمام فرمائیے! 🌹الصلواة والسلام علیک یا رسول اللہ ﷺ 🌹
🌹الصلواة والسلام علیک یا حبیب اللہ ﷺ🌹
اَللٌٰھْمٌَ صَلٌِ عَلٰی سَیٌِدِناَ مُحَمٌدٍ وٌَاٰلہٖ وَعِتْرَتِہٖ بِعدَدِ کُلٌِ مَعْلُوْمٍ لٌَکَ اَسْتَغفِرُاللہَ الٌَذِیْ لاَاِلٰہَ اِلٌَا ھُوَْالْحَیٌُ القَیٌومْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ یَاحَیٌُ یَاقَیٌُومُ💖
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Gems of Islam
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Gems of Islam
تقلید کیا ھے۔
بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہم خود قرآن و حدیث پڑھ سکتے ہیں اور احادیث کی کتابوں سے اور قرآن سے اپنے مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں تو پھر ہمیں مجتہدین کی تقلید کی کیا ضرورت ہے؟
جواب
اگر کسی کو علوم قرآن اور علوم حدیث میں اتنی ہی نظر ہو تو پھر وہ شخص خود مجتہد ہے اور اسے واقعی کسی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر کوئی قرآن میں ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مطلق و مشروط آیات، لغات عرب کا عالم ہو اور حدیث کے مندرجہ ذیل علوم کا ماہر ہوتو پھر حقیقتاً اس پر سے تقلید ساقط ہی ہو جائے گی اور وہ علوم احادیث درج ذیل ہیں جن کو مجتہد بننے کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے ۔
1 محدث کی صداقت کا علم
2 اسناد حدیث کا علم
3 حدیث عالی کا علم
4 حدیث نازل کا علم
5 روایات موقوفہ کا علم
6 ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو
7 صحابہ کے مراتب کا علم
8 احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کی معرفت
9 تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم
10 اسناد مسلسل کا علم
11 احادیث معنعنہ کا علم
12 روایات معضل کا علم
13 احادیث مدرج کی پہچان کا علم
14 تابعین کی شناخت کا علم
15 تباع تابعین کی معرفت
16 اکابر و اصاغر کی معرفت
17 اولاد اصحاب کی معرفت
18 علم جرح و تعدیل کی معرفت
19 صحیح و سقیم کی پہچان
20 فقہ الحدیث کا علم
21 ناسخ و منسوخ احادیث کا علم
22 متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم
23 احادیث مشہور کا علم
24 غریب اور نامانوس احادیث کا علم
25 احادیث مفرد کی پہچان کا علم
26 ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں
27 حدیث کی علتوں کا پہچاننا
28 شاذ روایات کا علم
29 پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو
30 ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو
31 احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت
32 محدیثین کے مذہب کی اطلاع
33 متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی
34 مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راستگو کی معرفت
35 اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع
36 صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں کی عصر حاضر تک معرفت
37 ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو
38 ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرئووں میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت
39 صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم
40 محدثین کے ناموں کا علم
41 صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا
42 روایان حدیث کے وطن کی پہچان
43 صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت
44 محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک
45 حدثین کے القابات کی معرفت
46 ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں
47 راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان
48 غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے
49 اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے
50 اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔
1 صحیح
2 حسن
3 ضعیف
4 مسند
5 متصل
6 مرفوع
7 موقوف
8 مقطوع
9 مرسل
10 معضل
11 تدلیس
12 شاذ
13 غریب
14 معنعن
15 معلق
16 مفرد
17 مدرج
18 مشہور
19 مصحف
20 عالی
21 نازل
22 مسلسل
23 معروف
24 منکر
25 مزید
26 ناسخ
27 منسوخ
28 مقبول
29 مشکل
30 مشترک
31 موتلف
32 مختلف
33 مطروح
34 متروک
35 مول
36 مبین
37 مجمل
38 معلل
39 مضطرب
40 مہمل
41 مجہول
42 موضوع
43 مقلوب
44 حدیث ماثور
45 قدسی
46 عزیز
47 زائد الثقہ
48 موثوق
49 متواتر
اب اگر کوئی شخص تقلید نہ کرنا چاہے تو ٹھیک ہے وہ ان تمام علوم کوحاصل کرے اور احادیث و قرآن سے اپنے مسائل کا حل نکالے اور جو ایسا نہ کرسکے یا اس کے پاس اتنا وقت نہ ہو تو اس کے پاس سوائے تقلید کرنے کا اور کونسا راستہ رہ جاتا ہے؟
مفتی اعظم احناف متحدہ عرب امارات
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Gems of Islam
.......... فرشتے کو سزا کیوں دی گئی؟
ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السّلام دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:'' یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے ایک عجیب و غریب واقعہ دیکھا ہے۔ ''حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:'' وہ واقعہ کیا ہے؟ ''جبرئیل علیہ السّلام نے عرض کی:'' یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے کوہ قاف جانے کا اِتفاق ہُوا،مجھے وہاں آہ اور فُغاں رونے چِلّانے کی آوازیں سُنائی دیں۔ جدھر سے آوازیں آ رہی تھیں میں اُدھر کو گیا تو مجھے ایک فرشتہ دِکھائی دیا جس کو میں نے اس سے پہلے آسمان پر دیکھا جو کہ اس وقت بڑے اعزاز و کرام سے رہتا تھا۔
وہ ایک نُورانی تخت پر بیٹھارہتا،ستّر ہزار فرشتے اس کے گِرد صف بستہ کھڑے رہتے تھے۔وہ فرشتہ سانس لیتا تو اللّہ تعالیٰ اس سانس کے بدلے ایک فرشتہ پیدا کر دیتاتھا۔لیکن آج میں نے اسی فرشتہ کو کوہ قاف کی وادی میں سرگرداں و پریشان آہ و زاری کَنِندہ دیکھا ہے۔میں نے اس پوچھا کیا حال ہےاور کیا ہو گیا ہے؟ اس نے بتایا! معراج کی رات جب میں اپنے نُورانی تخت پر بیٹھا تھا،میرے قریب سے اللّہ تعالیٰ کے حبیب نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم گُزرے تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی پرواہ نہ کی۔ اللّہ تعالیٰ کو میری یہ ادا،یہ بڑائی پسند نہ آئی اور اللّہ تعالیٰ نے مجھے ذلیل کر کے نِکال دیا۔
پِھر اس نے کہا اے جبرئیل ( علیہ السّلام )! اللّہ کے دربار میں میری سفارش کر دو کہ اللّہ تعالیٰ اس غلطی کو معاف فرمائے اور مجھے بحال کر دے۔یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے اللّہ تعالیٰ کے دربارِ بے نیاز میں نہایت عاجزی کے ساتھ معافی کی درخواست کی۔دربارِاِلٰہی سے اِرشاد ہُوا اے جبرئیل ( علیہ السّلام )! اس فرشتہ کو بتا دو اگر یہ معافی چاہتا ہے تو میرے نبی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھے۔یارسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم! جب میں نے اس فرشتہ کو فرمانِ اِلٰہی سُنایا تووہ سُنتے ہی حضور ( صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذاتِ گرامی پر درود پاک پڑھنے میں مشغول ہو گیا اور پِھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے بال و پر نِکلنا شروع ہو گئے اور پِھر وہ ذِلّت و پستی سے اُڑ کر آسمان کی بُلندیوں میں جا پہنچا اور اپنی مسند ( یعنی تخت ) پر براجمان ( یعنی تشریف رکھ لی ) ہو گیا۔
''( معارج النبوۃ،جِلد ۱،صفحہ ۳۱۷
اللہ اکبر
کوئ حد ھے ان کے عروج کی
❤️صلی اللہ علیہ وآلہ وازواجہ واصحابہ وبارک وسلم ❤️
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies