Umaima Shafeeq Qureshi

Aslam o Alaikum Everyone!
All types of novels are available on my channel except bold novels.✖️
💞 Spiritual novels
💞 Funny novels
💞 Suspicious novels
💞 Sad and Happy novels
💞 Love stories
You are not allowed to upload my novels on any channel or any website without my permission.


Umaima Shafeeq Qureshi

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیسے ہیں آپ سب؟
آج ایک موضوع پر بات کرنے کو دل چاہا، ایک ایسی غلط فہمی جو ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ اکثر ڈراموں اور ناولز میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ جیسے ہی ہیرو یا ہیروئن اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے، لکھاری اسے انسان سے فرشتہ بنا دیتے ہیں۔ یعنی اب وہ کبھی کوئی گناہ نہیں کرے گا، اس کے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح ہوگی اور اس کے منہ سے ہمیشہ پھول جھڑیں گے۔
اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ عمائمہ! ایسا کون سا کردار ہے جو تم کبھی نہیں لکھو گی؟ تو میرا جواب ہوگا: ایک پرفیکٹ مسلمان کا کردار۔
کیونکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ضروری نہیں کہ جو لڑکی پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہو، اسے کبھی غصہ نہ آئے، یا وہ کبھی اونچی آواز میں بات نہ کرے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ جو لڑکا قرآن پڑھ رہا ہو، وہ کبھی کوئی غلطی نہ کرے۔ یہ ہمارا اپنا مائنڈ سیٹ ہے، اور یہ سراسر غلط ہے۔
ہم انسان کو فرشتے کا درجہ دے دیتے ہیں، پھر جب اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً اسے شیطان قرار دے دیتے ہیں۔ اگر کوئی مولوی سفید کرتا شلوار پہن کر منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو ہمیں اچھا لگتا ہے، لیکن اگر وہی مولوی اپنی فیملی کے ساتھ پینٹ شرٹ پہن کر کہیں گھومنے جا رہا ہو اور ہماری نظر اس پر پڑ جائے تو فوراً "استغفراللہ" کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
کیوں؟
کیا آپ ایک پرفیکٹ مسلمان ہیں؟
نہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ مسلمان نہیں ہے، اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ کاملیت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے، انسان کے لیے نہیں۔
لہٰذا اگر آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص ہے جو اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اس پر طنز نہ کریں، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اسے سپورٹ کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ آج اس موضوع پر بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
دراصل، میں نے غلطی سے کل کچھ کمنٹس پڑھ لیے تھے۔ اس لیے مجھے لگا کہ جہاں کسی غلط فہمی کی نشاندہی ہو رہی ہو، وہاں رہنمائی کرنا بھی میری ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ حقیقی زندگی میں بھی کسی کو ٹارگٹ کر کے اس کا دل دکھا دیں۔
ایک اور بات...
میرے کمنٹس سیکشن میں کوئی بھی slang language استعمال نہیں کرے گا۔
آپ کی کرداروں سے محبت مجھے سمجھ آتی ہے، اور یقین کریں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو کون سا کردار پسند ہے اور کون سا ناپسند۔ ایک مصنف کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کے لکھے ہوئے کرداروں پر بحث کریں، اختلاف کریں، اپنے پسندیدہ کردار کا دفاع کریں۔
ضرور کریں، لیکن بغیر گالیوں کے۔ورنہ مجھے آپ کو چینل سے ہائیڈ (بلاک) کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ میرے چینل پر مؤثر طریقے سے کمنٹ نہیں کر سکیں گے، اس لیے براہِ کرم گفتگو کا معیار برقرار رکھیں۔
اور ہاں، کمنٹس آپ نے لازماً کرنے ہیں۔کیوں؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہی یوٹیوب کا algorithm ہے۔ جتنے زیادہ لوگ کمنٹ کرتے ہیں، اتنا ہی ویڈیو کے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے کمنٹ سیکشن بھر دیا کریں۔
اور ایک اور شکوہ...
میں نے نیا چینل بنایا ہے اور تم لوگوں نے ابھی تک سبسکرائب بھی نہیں کیا۔ کس قدر بےمروتی کا مظاہرہ کیا ہے! ذرا سی سپورٹ بھی نہیں کر سکتے تم لوگ؟نالائقوں! (مذاق کر رہی ہوں۔)
چلو، اب جاؤ اور گھر میں موجود سارے موبائلز سے سبسکرائب کرو، لائک کرو اور کمنٹ بھی۔ جتنے زیادہ کمنٹس ہوں گے، اتنا ہی چینل آگے بڑھے گا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کرو، حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی بھیجو جو ناولز نہیں پڑھتے، کیونکہ اس چینل کا ناولز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف دین کو بہتر انداز میں سمجھنا اور سمجھانا ہے۔
(لنک کمنٹ میں پن کر رہی ہوں۔)
اس کے علاوہ بھی ایک اہم موضوع پر بات کرنی تھی، لیکن ماشاءاللہ سے اتنی ذہین ہوں کہ بھول گئی ہوں۔
یاد آیا تو اگلی پوسسٹ میں ضرور بات کریں گے۔
اللہ حافظ!
شب بخیر!
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔🖤✨

2 weeks ago | [YT] | 80

Umaima Shafeeq Qureshi

(Note: Next episode will be uploading tomorrow
ان شاءاللہ)

2 weeks ago | [YT] | 53

Umaima Shafeeq Qureshi

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کافی عرصے سے آپ لوگ میری تحریروں اور ویڈیوز کو محبت دیتے آئے ہیں۔ اب میں نے ایک نیا YouTube چینل شروع کیا ہے، جہاں میں قرآن، اسلامی تاریخ، عام غلط فہمیوں، احادیث اور برصغیر میں رائج مشہور توہمات پر بات کروں گی۔
اگر آپ کو ایسا مواد پسند ہے جو سوچنے پر مجبور کرے اور دین کو سمجھنے میں مدد دے، تو امید ہے آپ اس نئے سفر میں بھی میرا ساتھ دیں گے۔ ❤️
چینل کا لنک شیئر کر رہی ہوں۔ آپ کی دعائیں اور سپورٹ میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔
youtube.com/@LearnwithUmaima-c2l
جزاکم اللہ خیراً!

3 weeks ago (edited) | [YT] | 94

Umaima Shafeeq Qureshi

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
چند دن پہلے ایک تبصرہ نظر سے گزرا۔ کسی نے پوچھا تھا کہ اسلام میں بیوی کے جیب خرچ کی کیا حیثیت ہے؟ سوچا، اس موضوع پر تفصیل سے بات کی جائے۔ لیکن اس سے پہلے آپ سب سے ایک خبر شیئر کرنا چاہتی ہوں۔
کافی عرصے سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ہم اسلام سے متعلق مختلف موضوعات پر سکون اور تفصیل کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔میں اپنے چینل پر کبھی کبھار اس حوالے سے پوسٹس کر دیتی ہوں لیکن نہ تو یہ میرے چینل کا بنیادی موضوع ہے اور نہ ہی ایک پوسٹ میں کسی مسئلے کو مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔
اسی لیے میں نے واٹس ایپ چینل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان شاء اللہ، وہاں ہم قرآنِ کریم کی آیات پر تدبر، ان کی حکمت، معتبر تفاسیر اور مختلف اہم اسلامی موضوعات پر گفتگو کریں گے۔مقصد صرف علم بانٹنا اور خود بھی سیکھنا ہے۔
واٹس ایپ کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ تقریباً ہر کسی کے پاس موجود ہوتا ہے اور چینل کی صورت میں یہ کافی محفوظ بھی ہے۔ ان شاء اللہ، جلد ہی اس کا آغاز کریں گے لیکن اس سے پہلے میں کم از کم ایک ماہ کا مواد تیار کرنا چاہتی ہوں۔ آپ سب جانتے ہی ہیں کہ میں وقت کی کتنی پابندی ہوں۔(اہم اہممم....)
اور ہاں! مجھے معلوم ہے کہ اب کچھ لوگ ضرور کہیں گے
"ناول تو مکمل ہو نہیں رہا اور محترمہ نیا چینل بنانے چلی ہیں۔"
تو عرض ہے کہ "میرا ناول، میری مرضی!" وہ اپنی رفتار سے ہی مکمل ہوگا، کیونکہ جلد بازی میں اکثر بہت کچھ چھوٹ جاتا ہے۔البتہ باقاعدگی سے اپلوڈ کرنے کی کوشش ضرور رہے گی۔
ویسے جو لوگ آج پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ ناول کب ختم ہوگا، وہی لوگ آخری قسط پر کہتے ہیں
"ارے! اتنی جلدی ختم ہو گیا؟ ابھی تو یہ ہونا تھا، وہ ہونا تھا!"
رگ رگ سے واقف ہوں میں تم لوگوں کی، آخر تین سال کا ساتھ ہے۔ اور ہاں، آج ہمارے چینل کو بھی تین سال مکمل ہو گئے ہیں اور مجھے لکھتے ہوئے بھی تین سال بیت چکے ہیں۔ الحمد للہ!
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔
اگر شریعت کی بات کی جائے تو شوہر پر اپنی بیوی کا نان و نفقہ، رہائش اور بنیادی ضروریات پوری کرنا فرض ہے۔لیکن اگر وہ یہ سب ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے تو الگ سے جیب خرچ دینا اس پر شرعاً فرض نہیں۔
البتہ اگر نکاح کے وقت باہمی رضامندی سے نکاح نامے میں کسی مخصوص رقم کی شرط طے کر لی جائے تو پھر اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شادی شدہ خواتین، جنہوں نے ایسی کوئی شرط طے نہیں کی، جیب خرچ کی حق دار نہیں؟
شرعاً اسے فرض تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن اخلاقاً اور حسنِ معاشرت کے اعتبار سے یہ ایک نہایت خوبصورت عمل ہے۔
اسلام صرف حقوق کا نام نہیں بلکہ احساس، محبت اور احسان کا بھی نام ہے۔
اسی طرح ہمارے معاشرے میں بہت سے کام ایسے ہیں جو شرعاً لازم نہیں، لیکن محبت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے انجام دیے جاتے ہیں۔
برصغیر میں بہت سی ایسی روایات ہیں جن کا براہِ راست شریعت سے تعلق نہیں۔مثال کے طور پر ساس سسر کی خدمت۔ شرعاً یہ عورت پر فرض نہیں۔ اگر کوئی خاتون اس سے انکار کرتی ہے تو اسے گنہگار نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ہمارے معاشرے کی اکثریت خواتین یہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، کچھ خوش دلی سے اور کچھ مجبوری کے تحت۔
یہاں خواتین بجا طور پر یہ کہہ سکتی ہیں کہ یہ ہماری شرعی ذمہ داری نہیں، لیکن دوسری طرف اسلام ہمیں حسنِ سلوک اور بزرگوں کے احترام کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ آخر وہ آپ کے شوہر کے والدین ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو، ان کے ساتھ اچھے اخلاق، عزت اور نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انسان اپنے والدین کی عزت کرتا ہے۔
اور میرے خیال میں اکثر خواتین کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔خواتین پیچھے تب ہٹتی ہیں جب ان کے احترام کو نظر انداز کیا جائے۔ان کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی جائے یا انہیں صرف خدمت کے لیے سمجھ لیا جائے۔اس کے علاوہ میرا نہیں خیال کہ اکثریت خواتین کو محبت اور عزت کے ساتھ رشتے نبھانے میں کوئی اعتراض ہوتا ہے۔
اب گھر کے کاموں کی بات کر لیتے ہیں۔
شرعاً جھاڑو، برتن، کھانا پکانا اور گھر کے دیگر معاملات عورت پر فرض نہیں کیے گئے۔کمانا مرد کی ذمہ داری ہے لیکن گھر کے کام کاج گھر کے تمام افراد کے ذمے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین ہی یہ تمام کام انجام دیتی ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کا شوہر سارا دن باہر محنت اور مشقت کرتا ہے۔وہ چاہتی ہیں کہ جب وہ گھر لوٹے تو اسے سکون ملے،اچھا کھانا ملے اور صاف ستھرا ماحول ملے۔
شریعت نے اگرچہ ان کاموں کو عورت پر بطورِ فرض عائد نہیں کیا لیکن محبت، احساس اور باہمی تعاون کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔
بالکل اسی طرح بیوی کو جیب خرچ دینا بھی محبت اور احساس کی ایک خوبصورت صورت ہے۔
سوچیے، اگر گھر کے باہر آئس کریم والا گزرے اور ایک خاتون صرف اس لیے نہ خرید سکے کہ اس کے پاس اپنے چند روپے بھی نہ ہوں، یا بازار میں چوڑیاں پسند آ جائیں مگر وہ دس بار سوچے کہ لوں یا نہ یا نہ لوں، تو یہ کیفیت یقیناً خوش گوار نہیں۔
یہ کہنا کہ "میں سب کچھ لا کر تو دیتا ہوں، تمہیں پیسوں کی کیا ضرورت ہے؟" یا "مجھے بتا دو کیا چاہیے، میں خود لے آؤں گا" بظاہر درست محسوس ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات انسان کو چیزوں سے زیادہ اختیار کی ضرورت ہوتی ہے۔
لہٰذا، اگر اللہ نے شوہر کو جتنی استطاعت دی ہے اس کے مطابق اسے چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے ماہانہ کچھ رقم ضرور مختص کرے۔چاہے وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔اور پھر اس سے یہ نہ پوچھے کہ اس نے وہ رقم کہاں اور کیسے خرچ کی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو"
یہی وجہ ہے کہ اسلام مردوں کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی اور عدل کی تلقین کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، ایک دوسرے کا احساس کرنے، اور اپنے گھروں کو محبت اور رحمت کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
اللہ حافظ۔ ❤️✨

1 month ago | [YT] | 100

Umaima Shafeeq Qureshi

فرض کریں آج آپ کو اپنا نام بدلنے کا موقع مل جائے... تو آپ کس ناول کے کردار کا نام چنیں گے اور کیوں؟ 👀📚

1 month ago | [YT] | 44

Umaima Shafeeq Qureshi

Drop your questions!
I reply to ALL of them...
except "Novel kab end ho ga?" 🙈📖
(Consistency se upload krti rhi to within two months ho jye ga ان شاءاللہ)

1 month ago | [YT] | 51

Umaima Shafeeq Qureshi

Happy Birthday!
آج میں اُس وجود کو سالگرہ کی مبارک باد دے رہی ہوں جس کے ساتھ میری پوری زندگی کا سفر لکھا گیا ہے۔
میں نے تمہیں ہمیشہ محبت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ تم میری سب سے محفوظ پناہ ہو، میری سب سے سچی رفاقت اور وہ ہستی جس کا ساتھ مجھے زندگی کی آخری سانس تک نبھانا ہے۔پھر بھلا تمہاری قدر کرنا، تم سے محبت کرنا اور تمہیں سنبھال کر رکھنا کیوں نہ سیکھتی؟
تمہاری خامیاں بھی تمہاری پہچان ہیں اور خوبیاں بھی۔تمہاری سوچ میں وسعت ہے، دل میں نرمی ہے، خوابوں میں روشنی ہے، اور ارادوں میں وہ خاموش استقامت جو شور نہیں مچاتی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
"بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے۔"
(سورۃ التین، آیت نمبر 4)
اس آیت نے مجھے خود کو نئے زاویے سے دیکھنا سکھایا۔جب میرا رب میری تخلیق کو "أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ" قرار دیتا ہے تو پھر مجھے اپنے وجود سے محبت کرنے کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ میں اپنی قدر اس لیے جانتی ہوں کہ میرا خالق میری قدر جانتا ہے۔
اے میرے عزیز وجود...
اپنی روشنی کبھی مدھم نہ ہونے دینا۔اپنے خوابوں کو دوسروں کی رائے کے حوالے نہ کرنا۔اپنی مسکراہٹ کو حالات کی محتاج نہ بنانا۔ اور ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہاری سب سے خوبصورت صفت یہ نہیں کہ لوگ تمہیں پسند کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تم ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے رب کی پسندیدہ بندی بننے کی کوشش کرتی ہو۔
مجھے تمہاری یہی ادا پسند ہے کہ تم ہر نئی صبح کو ایک نئے امکان کی طرح قبول کرتی ہو۔ تمہارا قلم صرف لفظ نہیں لکھتا، احساسوں کو زندگی دیتا ہے۔تمہارا دل صرف اپنے لیے نہیں دھڑکتا، دوسروں کے لیے بھی دعا کرنا جانتا ہے۔ اور تمہاری روح... وہ ہر بار اللہ کی رحمت پر پہلے سے زیادہ یقین کرنا سیکھ لیتی ہے۔
Happy Birthday to Me! ❤️✨
یا اللہ! میرے آنے والے برس کو میری گزشتہ دعاؤں کا سب سے خوبصورت جواب بنا دے۔ میرے ایمان کو وہ مضبوطی عطا فرما جو حالات سے نہیں بدلتی، میرے دل کو وہ سکون عطا فرما جو صرف تیرے قرب سے ملتا ہے، اور میرے قلم کو وہ تاثیر عطا فرما کہ اس کے لفظ دلوں میں امید، خیر اور روشنی بو دیں۔
سالگرہ مبارک، میری عزیز روح! دعا ہے کہ جب اگلی بار یہی دن آئے تو میں صرف عمر میں ایک سال بڑی نہ ہوئی ہوں، بلکہ کردار میں زیادہ خوبصورت، ایمان میں زیادہ مضبوط اور اپنے رب کی رضا کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب کھڑی ہوں۔
With Love,
Me. 🤍🌿

1 month ago | [YT] | 119

Umaima Shafeeq Qureshi

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کے سامنے سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔"
(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر 3255)
سب سے پہلا سوال یہ کہ کیا یہ حدیث مسند ہے؟ جی بالکل، یہ حدیث مسند ہے۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ آخر اس کے پیچھے کی حکمت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے، لیکن بظاہر اس حدیث کو پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مرد برتر ہے اور عورت کمتر۔
اس قسم کے سوالات میرے ذہن میں بھی اٹھتے تھے، جب میں اس طرح کی باتیں اپنے بڑوں سے سنتی تھی۔ کبھی یہ خیال بھی آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے، لیکن... یہ تمام خیالات صرف اس وقت تک تھے جب تک میں نے خود دین کو پڑھنا اور سمجھنا شروع نہیں کیا تھا۔
آج میں پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ دین تو دراصل خواتین کا ہی دین ہے۔ جتنے حقوق اسلام نے خواتین کو دیے ہیں، اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے۔
اب آتے ہیں اس حدیث کی طرف۔
حدیث کا پہلا لفظ کیا ہے؟ "اگر"...
اسی ایک لفظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ شوہر کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ محض شوہر کے حقوق کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔
جیسے قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ:
"کہہ دیجیے، اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔"
(سورۃ الزخرف، آیت 81)

کفار فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انہیں بتا دیجیے کہ اگر اللہ کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا۔
اب اس آیت کو پڑھ کر کسی بھی صاحبِ عقل مسلمان کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے۔

اسی طرح ایک حدیث ہے:
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔"
(جامع ترمذی، حدیث نمبر 3686)
اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نبوت کی پیش گوئی کی گئی ہے، بلکہ صرف ان کی عظمت اور اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔
اور کسی ایک کی اہمیت اجاگر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرا کمتر ہے۔
جیسے اولاد کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، تو کیا اس سے اولاد کمتر ہو گئی؟ ہرگز نہیں۔ والدین کو بھی اولاد کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، اور وہ بھی اولاد کی تربیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ البتہ دونوں کے حقوق اور فرائض الگ الگ بیان کیے گئے ہیں۔
لہٰذا یہ حدیث شوہر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہے، نہ کہ بیوی کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے۔
اب آتے ہیں سجدے کی طرف کہ آخر سجدے ہی کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ یہ بھی تو کہا جا سکتا تھا کہ بیویاں شوہروں کی فرمانبرداری کریں یا ان کا کہا مانیں وغیرہ۔
دیکھیے، سجدے دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک سجدۂ عبادت اور دوسرا سجدۂ تعظیمی۔
پچھلی شریعتوں میں تعظیم اور سلام کے طور پر سجدہ کرنا جائز تھا، جیسے فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔
اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے، پھر ایک نورانی مخلوق نے مٹی سے بنے انسان کو کیوں سجدہ کیا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ سجدۂ عبادت نہیں تھا بلکہ سجدۂ تعظیمی تھا۔
اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔
(سورۃ یوسف، آیات 99، 100)
سننے والا فوراً کہہ سکتا ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو سجدہ کیا؟
نہیں، یہ سجدۂ عبادت نہیں تھا بلکہ تعظیم اور سلام کا طریقہ تھا۔
اس حدیث میں بھی جس سجدے کا ذکر ہے، وہ سجدۂ تعظیمی ہے۔
یعنی آسان الفاظ میں کہ آدمی provider ہے، وہ protector ہے، تو عورت کو چاہیے کہ ان تمام ذمہ داریوں کے بدلے اپنے شوہر کا بہترین انداز میں احترام کرے،اسے سلام کرے۔
بس اتنی سی بات ہے۔
ہوا یوں تھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن سے مدینہ تشریف لائے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے عرض کیا کہ یمن میں اہلِ کتاب اپنے پادریوں کو اسی طرح سجدہ کرتے ہیں، اور میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حق دار ہیں۔
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیویوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔
آسان الفاظ میں ہم کہتے ہیں: السلام علیکم۔
اس سے بہتر سلام ہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
اور سب سے مکمل سلام ہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یعنی بیویوں سے صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ اپنے شوہر کو بہترین انداز میں سلام کرو۔ میرا نہیں خیال کہ کسی بھی بیوی کو اس پر کوئی اعتراض ہوگا۔
سجدے کا لفظ ہمارے ذہن کو اس لیے زیادہ trigger کرتا ہے کہ اب سجدۂ تعظیمی جائز نہیں رہا۔ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں، اس لیے ہمارا ذہن فوراً سجدۂ عبادت کی طرف چلا جاتا ہے۔
حالانکہ یہاں مراد وہ سجدہ نہیں ہے۔ یہ پہلے تعظیم اور سلام کا ایک معروف طریقہ تھا، جو اب جائز نہیں رہا۔ اس کی بھی کئی حکمتیں ہیں، جن میں ایک یہ ہے کہ اس سے شرک کی طرف جانے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں، لیکن فی الحال اتنا سمجھ لینا کافی ہے۔
آئندہ اگر آپ کے شوہر رعب جمانے کے لیے خود کو "مجازی خدا" کہیں یا اس حدیث کا حوالہ دیں، تو انہیں بہترین انداز میں سلام کر دیجیے، اور بتا دیجیے کہ اس حدیث کا مطلب بس اتنا ہی ہے۔
اگلی پوسسٹ کس موضوع پر ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیجیے۔

شب بخیر۔ ❤️✨

1 month ago | [YT] | 107

Umaima Shafeeq Qureshi

برصغیر میں ایک جملہ بہت عام ہے اور وہ ہے شوہر کو "مجازی خدا" کہہ کر پکارنا۔ "مجازی" کے معنی ہیں عارضی اور خدا سے برصغیر میں مراد اللہ تعالیٰ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً شوہر کو مجازی خدا کہنا درست ہے؟ جواب ہے، نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
سچ یہ ہے کہ مسلمان کئی صدیوں تک دوسری اقوام کے ساتھ رہے اور دین میں بگاڑ کی جڑ بھی یہی اختلاط بنا۔ ہم نے لاشعوری طور پر بہت سی روایات دوسری قوموں سے اپنا لیں۔ ہندوازم میں شوہر کو "پتی پرمیشور" کہا جاتا ہے اور ہم نے وہیں سے یہ لفظ "مجازی خدا" اخذ کر لیا۔ شوہر کی پوجا، اسے سجدہ کرنا یا اس کے نام کا ورت یعنی روزہ رکھنا، یہ سب انہی کی رسومات ہیں۔ البتہ اسلام میں شوہر کے حقوق اپنی جگہ مسلم ہیں۔ اسلام نے مرد کو گھر کا سربراہ ضرور بنایا ہے،اسے عزت و مقام سے ضرور نوازا ہے مگر اسے خدائی کا منصب ہرگز نہیں دیا۔ افسوس کہ "مجازی خدا" کے تصور نے کئی شوہروں کو واقعی خود کو خدا سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے، اور وہ بیوی پر ظلم و ستم کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔
آپ کو اکثر ایسے مرد و خواتین ملیں گے جو اس بات پر ڈٹ جائیں گے کہ شوہر کو مجازی خدا کہنا غلط نہیں ہے۔ اصل میں وہ اپنے اسلاف کی روایات سے اس قدر بندھے ہوئے ہیں کہ اسلام کو خود سے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ چلیں، ان کے ذہن کی تسلی کے لیے ایک لمحے کو مان لیتے ہیں کہ شوہر مجازی خدا ہوتا ہے، تو پھر اس میں خدائی کی کچھ جھلک بھی تو ہونی چاہیے۔
اللہ غنی ہے۔ جب دینے پر آتا ہے تو بے حساب عطا کرتا ہے۔ کیا اس سوچ کے حامل شوہر بھی اپنی بیویوں کو بے حساب نوازتے ہیں؟ نہیں۔ وہ تو پائی پائی کا حساب رکھتے ہیں کہاں خرچ ہوا، کیسے ہوا، کتنا ہوا۔
اللہ غفور و رحیم ہے۔ ہم دن بھر گناہ کریں تو رات کی ایک سچی توبہ، ندامت کا ایک آنسو سب دھو دیتا ہے۔ کیا یہ "مجازی خدا" اپنی بیوی کی لغزشیں بھی یوں معاف کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ بیوی ساری رات روتی رہے اور خاوند بے نیازی سے کروٹ بدل کر سو جائے۔
اس لیے خدارا، انسان کو خدا کا درجہ مت دیجیے۔ اسے انسان ہی رہنے دیجیے۔
اور اس "مجازی خدا" کے نظریے کو سہارا دینے کے لیے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے۔ مفہوم: "اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو میں(صلی اللہ علیہ وسلم) عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔" ماشاءاللہ یہ حدیث ہر منبر سے سنائی جاتی ہے، مگر اس کا پس منظر کوئی نہیں بتاتا۔
یقین کیجیے، یہ حدیث اپنے اندر بے پناہ حکمت رکھتی ہے، مگر برصغیر میں اس کے مفہوم کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ان شاءاللہ اس پر بھی جلد تفصیلی بات ہوگی تاکہ ساری غلط فہمیاں مٹ جائیں۔
اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی اور Myth یا موضوع ہے جس پر بات ہونا ضروری ہے تو کمنٹ کیجیے۔ کمنٹ میں بات کرنا مشکل لگے تو انسٹا پر ڈی ایم بھی کر سکتے ہیں۔ شکریہ۔

1 month ago | [YT] | 106