My name is Abdul Majid Fazil Darul Uloom Shergarh Channel name is Majid KhanPalaw
Our channel is about On this channel you will find answers to Islamic issues Such as prayer issues Shariah Issues of Divorce - Shariah Issues of Selling Proper pronunciation of the words of the prayers. A literal translation of the Qur'an. Translation of Surah Al-Fatihah. Urdu translation of Quran. Pashto translation of Quran with English subtitles.
You will also find speeches by Islamic scholars.
other playlis: youtube.com/playlist?list=PL1wbXJ7migUPorjGXPFrUbm…
Contact us on majid1990597@gmail.com
FOLLOW US ON SOCIAL
Get updates or reach out to Get updates on our Social Media Profiles!
Twitter: twitter.com/majid96573644?s=09
Facebook: www.facebook.com/profile.php?id=100011269293835i
Instagram: www.instagram.com/majid1990597/
majid khanpalaw
آپ کمنٹ میں اپنے مساٸل پوچھ لیا کریں ۔ قران و حدیث کی روشنی میں آپ کو فورا جواب ملے گا۔
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
majid khanpalaw
میراچینل سبسکراٸب کریں اس پر آپ روزمرہ شرعی مساٸل علماء کے بیانات دیکھنے کو ملے گی
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
majid khanpalaw
دجال کس کے ہاتھوں قتل ہوگا
2 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
majid khanpalaw
انجیل شریف کونسے رسول پر نازل ہوٸی
3 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
majid khanpalaw
حضور صلى الله عليه واله وسلم کاأحمد نام کس نےرکھا؟
3 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
majid khanpalaw
بصورتِ مسئولہ جو نوٹ ایک ہی ملک کے ہوتے ہیں اورایک ہی قسم کی مالیت رکھتے ہیں اگرچہ پرانےاورنئےہوں ان کاآپس میں تبادلہ مساوی طور پر ہاتھ در ہاتھ جائزہے، کمی زیادتی کے ساتھ تبادلہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائزہے، لہٰذا نئے نوٹوں کو پرانے نوٹوں کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدنا یا فروخت کرنا ناجائز اور سود ہے۔
اگر ایسا عقد کرنا ضروری ہو تو جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ نئے نوٹ دینے والا شخص نئے نوٹوں کے ساتھ مثلاً ہزار روپے کی مالیت نوٹ کے ساتھ کوئی اضافی چیز ملاکر ایک ہی عقد میں فروخت کرے، مثلاً: ایک قلم ساتھ رکھ دے، چناں چہ ایک ہزار روپے کے عوض ایک ہزار روپے ہوجائیں گے، اور اضافی رقم قلم کے عوض ہوجائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا .
(قوله: وإن اختلفا جودة وصياغة) قيد إسقاط الصفقة بالأثمان؛ لأنه لو باع إناء نحاس بمثله وأحدهما أثقل من الآخر جاز مع أن النحاس وغيره مما يوزن من الأموال الربوية أيضا؛ لأن صفة الوزن في النقدين منصوص عليها فلا تتغير بالصنعة ولا يخرج عن كونه موزونا بتعارف جعله عدديا لو تعورف ذلك بخلاف غيرهما، فإن الوزن فيه بالعرف فيخرج عن كونه موزونا بتعارف عدديته إذا صيغ وصنع كذا في الفتح، حتى لو تعارفوا بيع هذه الأواني بالوزن لا بالعدد لا يجوز بيعها بجنسها إلا متساويا، كذا في الذخيرة نهر."
(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5، ص:257، ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144209202234
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
3 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
majid khanpalaw
اسلامی مساٸل کےلیے چینل سبسکراٸب کریں
3 years ago | [YT] | 7
View 0 replies
majid khanpalaw
جواب
اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں قے (اُلٹی) ہو جائے تو اس کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں:
1۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر نہیں تھی، بلکہ کم تھی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
2۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر ہوئی، اس کا حکم بھی یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
3۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر نہیں کی تو اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
4۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر کی تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا۔
5۔ قے منہ بھر کر ہوئی اور ساری قے یا اس میں سے چنے کے برابر مقدار یا اس سے زائد کو روزہ یاد ہوتے ہوئے خود جان بوجھ کر اپنے اختیار سے اندر اتار دیا تو اس سے روزہ فاسد ہو جا ئے گا۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144008201258
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
3 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
majid khanpalaw
صورتِ مسئولہ میں روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛ کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ خلقی راستوں سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن میں جاتی ہے، جب کہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بدن کے خلقی راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں ہوتا؛ لہٰذا روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ تاہم صرف اس لیے طاقت کا انجکش لگوانا کہ روزہ محسوس نہ ہو، مکروہ ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو أقطر شيئًا من الدواء في عينه لايفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لايفسد صومه، كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين."
(کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج: 1، صفحہ: 203، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144209200328
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
3 years ago | [YT] | 1
View 0 replies
majid khanpalaw
شرعی مساٸل علماء کے بیانات اور تقاریر کےلیےچینل سبسکراٸب کریں۔
3 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more