Islamic Information
Islamic Videos
About Our Prophet Hazrat Muhammad (S A A W ) Life Information.
So Stay Tuned To This Channel For learning Life's Most Precious Lessons...
And Share This Channel With Your Family & Friends So That They Can Also Avail From It...
Thanks
Zohaib Sohoo
گاؤں سے لاہور تک ایک روحانی سفر، دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو کی شفقت میں داتا گنج بخشؒ کی بارگاہ تک”
یہ سفر جمعرات کے دن ہمارے گاؤں سے شروع ہوتا ہے ،میں،ابو ،میری دادی اور دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو ،ہم چاروں ایک ساتھ سفر کے لیے نکلے ،
سفر کا آغاز کسی راستے سے نہیں، بلکہ آستانے سے ہوا،دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو نے سب سے پہلے درگاہ عالیہ ھیتم سوھو حاضری دی ،
پھر ایک روحانی محفل قائم ہوئی، جس میں ذکر و اذکار کی صدائیں بلند ہوئیں۔
جب ذکر و اذکار کی محفل اختتام کو پہنچی تو فضا میں ایک عجیب سا سکون رہ گیا،ایسا سکون جو دعا کی قبولیت اور سفر کی حفاظت کی علامت ہوتا ہے۔
یوں یہ سفر زمین پر قدم رکھنے سے پہلے روح میں شروع ہو چکا تھا۔ جب دعا قبولیت کی خوشبو لے کر لوٹی، تب قافلہ روانہ ہوا۔ یہ صرف گاؤں سے لاہور کا سفر نہ تھا، بلکہ آستانے سے آستانے تک، اور دل سے دل تک کا صوفیانہ سفر تھا،جس کی رہنمائی دعا کر رہی تھی اور جس کا رخ فیضانِ داتاؒ کی طرف تھا۔
گاؤں سے سکھر اور سکھر سے لاھور جانے والی ٹرین پر یہ روحانی سفر شروع ہوا ،مگر یہ سفر صرف فاصلوں کا نہیں تھا، یہ دلوں اور روحوں کا سفر تھا۔
ٹرین میں بیٹھے بیٹھے دادا جان مولوی عبد القادر سوھو مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ وہ تصوف کا ذکر کرتے، کہتے کہ سچی عبادت دل کی صفائی ہے، اور محبت وہ راستہ ہے جو بندے کو خدا تک لے جاتا ہے۔ وہ بتاتے کہ روحانیت کسی خاص لباس یا لفظوں کی محتاج نہیں، بلکہ عاجزی، خدمت، اور خلوص میں چھپی ہوتی ہے۔ میں خاموشی سے سنتا رہتا، اور ان کی ہر بات میرے دل میں اترتی چلی جاتی۔
آخرکار ہم لاہور پہنچ گئے، لاہور کی رونق، اس کی گلیاں، اور اس کی فضا میں بسی ہوئی روحانیت کچھ اور ہی تھی۔ وہاں ہم داتا دربار پر حاضر ہوئے۔ دربار کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا، جب دادا جان دربار میں داخل ہوئے تو میں نے ان کے چہرے پر عاجزی دیکھی، وہی دادا جو سفر میں مجھے سمجھاتے تھے، یہاں خود مولا کے حضور جھک گئے تھے۔
انہوں نے میرے لیے دعا کی، وہ دعا الفاظ سے زیادہ دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس لمحے میرے اور دادا جان کے درمیان صرف رشتہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، اور روحانی وابستگی کی ایک مضبوط ڈور بندھ چکی تھی۔
یہ سفر ختم ہو گیا، مگر دادا جان کی باتیں، ان کی دعائیں، اور ان کا خلوص آج بھی میرے ساتھ ہے،یہ کہانی صرف گاؤں سے شہر، اور شہر سے لاہور تک کا سفر نہیں، بلکہ ایک دل سے دوسرے دل تک، اور ایک روح سے دوسری روح تک کا سفر ہے،جس میں محبت ہی اصل راستہ ہے۔
از قلم : زوھیب احمد سوھو
2 days ago | [YT] | 6
View 0 replies
Zohaib Sohoo
گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب،
دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب۔
علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے ،
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلد ہی لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن صرف رسم کے طور پر استعمال ہوگا،انکی مساجد بظاہر آباد ہونگیں ،مگر ہدایت کے اعتبار سے خراب ہونگی ،اور ان (مساجد) کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے ،انہیں سے فتنے نکلیں گے اور انہیں میں فتنے واپس لوٹائے جائے گے ،،
آج ہمارے معاشرے میں ایک disturbing reality بار بار سامنے آ رہی ہے کہ بعض مولوی اور مذہبی شخصیات ہر اُس سرکاری افسر، حاکم یا صاحبِ اختیار کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار ہو جاتی ہیں جو وقتی طور پر power اور authority میں ہو۔ سوال یہ نہیں کہ وہ افسر کون ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کل جب کرسی بدلے گی تو قبلہ بھی بدل جائے گا؟
دوستوں یہ بات ذھن نشین کر لیں حق ہمیشہ اصول پر قائم ہوتا ہے، عہدوں اور منصبوں پر نہیں۔ انبیاء کے وارث وہی ہیں جو ہر حال میں جرأت اور دیانت کے ساتھ سچ بولیں۔ ہر دور کے طاقتور کے لیے نئی نئی تاویلات گھڑنے والا شخص عالمِ حق نہیں، بلکہ محض مصلحت پسند ہے، اور مصلحت پسند کبھی قوم کا حقیقی راہنما نہیں ہو سکتا۔
یہ مسئلہ دراصل دین کا نہیں، کردار کے بحران کا ہے۔ جب تک علماء خود کو طاقت کی پرستش اور اقتدار کی غلامی سے آزاد نہیں کریں گے، اس وقت تک دین ایک آلے کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا اور حق تنہا کھڑا رہے گا۔
یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ دین اقتدار کا تابع نہیں، بلکہ اقتدار دین کا محتاج ہے۔ جو عالم اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے وہ دین کی خدمت نہیں کرتا بلکہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دین
کی کمزوری کا سبب بنتا ہے،
یاد رکھیں!
جو عالم اقتدار کے در پر سجدہ کرے، وہ منبر پر حق بولنے کا حق کھو دیتا ہے؛
اور جب منبر خاموش ہو جائے تو تاریخ گواہ بنتی ہے کہ زوالِ امت کا فتویٰ خود علماء نے لکھا تھا۔
از قلم : زوھیب احمد سوھو
1 week ago | [YT] | 2
View 0 replies
Zohaib Sohoo
گاؤں سے لاہور تک ایک روحانی سفر، دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو کی شفقت میں داتا گنج بخشؒ کی بارگاہ تک”
یہ سفر جمعرات کے دن ہمارے گاؤں سے شروع ہوتا ہے ،میں،ابو ،میری دادی اور دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو ،ہم چاروں ایک ساتھ سفر کے لیے نکلے ،
سفر کا آغاز کسی راستے سے نہیں، بلکہ آستانے سے ہوا،دادا جان مولوی عبدالقادر سوھو نے سب سے پہلے درگاہ عالیہ ھیتم سوھو حاضری دی ،
پھر ایک روحانی محفل قائم ہوئی، جس میں ذکر و اذکار کی صدائیں بلند ہوئیں۔
جب ذکر و اذکار کی محفل اختتام کو پہنچی تو فضا میں ایک عجیب سا سکون رہ گیا،ایسا سکون جو دعا کی قبولیت اور سفر کی حفاظت کی علامت ہوتا ہے۔
یوں یہ سفر زمین پر قدم رکھنے سے پہلے روح میں شروع ہو چکا تھا۔ جب دعا قبولیت کی خوشبو لے کر لوٹی، تب قافلہ روانہ ہوا۔ یہ صرف گاؤں سے لاہور کا سفر نہ تھا، بلکہ آستانے سے آستانے تک، اور دل سے دل تک کا صوفیانہ سفر تھا،جس کی رہنمائی دعا کر رہی تھی اور جس کا رخ فیضانِ داتاؒ کی طرف تھا۔
گاؤں سے سکھر اور سکھر سے لاھور جانے والی ٹرین پر یہ روحانی سفر شروع ہوا ،مگر یہ سفر صرف فاصلوں کا نہیں تھا، یہ دلوں اور روحوں کا سفر تھا۔
ٹرین میں بیٹھے بیٹھے دادا جان مولوی عبد القادر سوھو مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ وہ تصوف کا ذکر کرتے، کہتے کہ سچی عبادت دل کی صفائی ہے، اور محبت وہ راستہ ہے جو بندے کو خدا تک لے جاتا ہے۔ وہ بتاتے کہ روحانیت کسی خاص لباس یا لفظوں کی محتاج نہیں، بلکہ عاجزی، خدمت، اور خلوص میں چھپی ہوتی ہے۔ میں خاموشی سے سنتا رہتا، اور ان کی ہر بات میرے دل میں اترتی چلی جاتی۔
آخرکار ہم لاہور پہنچ گئے، لاہور کی رونق، اس کی گلیاں، اور اس کی فضا میں بسی ہوئی روحانیت کچھ اور ہی تھی۔ وہاں ہم داتا دربار پر حاضر ہوئے۔ دربار کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا، جب دادا جان دربار میں داخل ہوئے تو میں نے ان کے چہرے پر عاجزی دیکھی، وہی دادا جو سفر میں مجھے سمجھاتے تھے، یہاں خود مولا کے حضور جھک گئے تھے۔
انہوں نے میرے لیے دعا کی، وہ دعا الفاظ سے زیادہ دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس لمحے میرے اور دادا جان کے درمیان صرف رشتہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، اور روحانی وابستگی کی ایک مضبوط ڈور بندھ چکی تھی۔
یہ سفر ختم ہو گیا، مگر دادا جان کی باتیں، ان کی دعائیں، اور ان کا خلوص آج بھی میرے ساتھ ہے،یہ کہانی صرف گاؤں سے شہر، اور شہر سے لاہور تک کا سفر نہیں، بلکہ ایک دل سے دوسرے دل تک، اور ایک روح سے دوسری روح تک کا سفر ہے،جس میں محبت ہی اصل راستہ ہے۔
از قلم : زوھیب احمد سوھو
1 week ago | [YT] | 8
View 0 replies
Zohaib Sohoo
اسرائیل فلسطین کے خلاف نہیں ہے۔ اس کی دشمنی شام سے بھی نہیں ہے۔
اس کی دشمنی Iran،Pakistan،Yemen، اور Saudi Arabia سے بھی نہیں ہے۔
اس کی اصل دشمنی Islam سے ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی Hope کسی نہ کسی طریقے سے ختم کر دی جائےاور مسلمان کو No-Hope بنا دیا جائے۔دوستو! آج ہم اپنی Life میں بھی busy ہیں اور اپنے Works میں بھی busy ہیں،مگر کفار کو پتا ہے کہ جب مسلمان جاگتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے۔
ان کو معلوم ہے کہ یہ وہ امت ہے جو کہتی ہے اگر تم نے یہ ظلم ختم نہ کیا تو ہم وہ مرد لے کر آئیں گے تمہاری طرف جنہیں موت سے ویسی ہی محبت ہے،جیسے تمہیں دنیا کی زندگی سے محبت ہے۔ہم شاید بھول گئے ہیں،لیکن وہ لوگ نہیں بھولے۔
کافروں کو پتا ہے کہ Muslims جب جاگتا ہے تو پوری دنیا پر حکومت کرتا ہے۔اور یاد رکھیں اسلام نہ کبھی کمزور تھا، نہ ہے، اور نہ کبھی کمزور رہے گا۔اسلام کا تعارف صرف نماز، روزوں، زکوٰۃ اور حج کے ساتھ ساتھ Sharia Law System بھی ہے۔
آپ کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ پاک کیا فرماتے ہیں؟اللہ پاک فرماتے ہیں: “خبردار! جب میرا نظام نافذ کرنا ہے، تو خبردار! اس میں کسی قسم کی mixing نہ کرنا!ادھر آپ European Secular System نافذ کر رہے ہو،
اور اُدھر آپ مسجدوں میں اللہ کی Azan دے رہے ہو۔یہ کہاں کی logic ہے؟دنیا کے تمام systems اپنے اندر کسی دوسری ideology کو برداشت نہیں کرتے۔کیا Capitalism اپنے اندر Socialism یا Communism برداشت کرے گا؟ Answer is NO
لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی wisdom پروردگار نے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دی ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے اندر دوسرے systems کی participation ضروری ہے،
کیونکہ یہ اسلام کو جانتے ہی نہیں! اسلام کسی دوسرے نظام کا مہمان نہیں، خود ایک مکمل حاکم نظام ہے۔
اور جو قوم اپنے رب کے قانون کو چھوڑ دے، وہ پھر انسانوں کے بنائے ہوئے زنجیروں میں ہی جکڑی رہتی ہے۔"
✍️ : Zohaib Ahmed Sohoo
2 weeks ago | [YT] | 0
View 0 replies
Zohaib Sohoo
آج پوری دنیا میں بالخصوص پاکستان میں جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے کیونکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد نہیں رہا ہے آج لوگ زیادہ باخبر ہوچکے ہیں اور عوامی شعور میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر ریاستی کارکردگی میں کمی ہوتی جا رہی ہے ،عوام جمہوریت سے مزید مایوس ہو چکی ہے کیونکہ ملک میں مہنگائی غربت بے روزگاری معاشی بحران نے جمہوری نظام کی افادیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں ،
مجموعی طور پر پاکستان میں جمہوریت اپنی سب سے کمزور حالت میں داخل ہو چکی ہے کیونکہ عوام کا عدم اعتماد اداروں کی کمزوری معاشی دباؤ اور سیاسی انتشار اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں نے جمہوریت کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں ,اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو آنے والے سالوں میں پاکستان میں جمہوری نظام ختم ہو جائے گا ،یہ میرا سیاسی مشاہدہ ہے حالات حاضرہ کے تناظر میں جو میں دیکھ رہا ہوں ،
✍️: ابو احمد زوھیب احمد سوھو
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Zohaib Sohoo
انسانی فطرت جمہوریت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اور خلافت انسانی فطرت کا تقاضہ ہیں ،
جس Democracy کی بات آج United State کرتا ہے یا مغربی دنیا کرتی ہیں بخدا وہ آج بھی کتاب تک محدود ہے ،آج تک مغربی لوگوں نے دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے حقیقی Democracy زمین پر Implement کردی ہے ،اسکی وجہ یہ ہے کہ قوت ہونے کے باوجود Political power and military power ہونے کے باوجود وہ زمین پر بلکہ خود امریکہ اپنے آپ پر وہ نظام Completed طور پر قائم نہ کر سکا جو انکی کتابوں میں موجود ہے،
اور ایک ہے نظام خلافت
قربان جاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر کہ انہوں نے 23 سال Struggle کر کے پورے معاشرے کو Anti Parallel Knowledge میں تبدیل کر کے پھر اللّٰہ کے قوانین کو نافذ کر کے اسکے اوپر جو چھت تھا وہ نظام خلافت کا تھا ،جزیرہ نما عرب پر 100 Percentage جو چیز کتاب میں تھی اسی کو Practical کر کے دکھایا ،پھر خلفاء راشدین نے اسکو مزین کر کے اور بڑھایا ،
صحابہ کرام نے جزیرہ نما عرب سے آگے جا کر Roman Empire،Persian umpire،تک آ نکلے ،ہمارے ہاں لوگ جمہوریت کے پیچھے لگے ہیں اور اب تو اسلام کیساتھ جمہوریت کے نام کو Touch کیا جا رہا ہے ،آپ اپنے ریاست کے نام پر ذرا غور کریں (اسلامی جمہوریہ پاکستان) عجیب تصور ہے اسلام اور جمہوریت یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہے
اسلام اور جمہوریت یہ دونوں الگ نظام ہے
✍️,,, زوھیب احمد سوھو ،
1 month ago | [YT] | 2
View 0 replies
Zohaib Sohoo
لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ ہم اللہ کی طرف سفر کیسے شروع کریں؟ یا اللہ سے محبت کا آغاز کیسے ہو؟
حضرات!
یاد رکھیں محبت کا اصل امتحان وصال (ملنے) میں نہیں، فراق (دوری) میں ہوتا ہے۔
جب کوئی چیز مل جائے تو پھر محبت کم ہو جاتی ہے اور صرف تعلق باقی رہ جاتا ہے۔
لیکن جب کوئی چیز نہ مل رہی ہو، دور ہو—تب پتہ چلتا ہے کہ اصل محبت کس سے ہے۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کو کسی سے کتنی محبت ہے تو خود کو تھوڑا سا اکیلا کر لیں…
جو چیز یا شخص آپ کو اُس وقت بار بار یاد آئے، ہر جگہ یاد آئے—وہی آپ کی اصل محبت ہے۔
اگر بازار میں ہوں، گھر کی چھت پر ہوں، گلی میں ہوں—اور ایک ہی یاد ہر جگہ ستاتی رہے—تو بس سمجھ لیں محبت وہی ہے۔
اسی طرح جب انسان اللہ کی تسبیح ہر جگہ اور ہر وقت کرتا ہے تو یہ اصل میں اللہ کو جواب دینے جیسا ہے۔
اللہ نے ہمیں یاد کرنے کی "گینند" ہماری طرف پھینکی، اور ہم تسبیح کرکے وہ اللہ کی طرف واپس پھینک دیتے ہیں۔
گویا ہم کہتے ہیں:
“اے اللہ! ہم نے تیری محبت میں کوئی کمی نہیں کی۔
آج کھانا نہ کھا سکے، مگر تیری یاد کی تسبیح کی۔
آج ضروری کام رہ گیا، مگر تیری یاد نہیں چھوڑی۔
ہم نے تجھے کبھی نہیں بھلایا۔”
حدیث میں ہے کہ اللہ کا بندہ پر یہ حق ہے کہ
جو اسے سچے دل سے ایک مانے، اللہ اسے عذاب نہیں دیتا۔
اور جو بندہ صبح شام اللہ کو یاد کرتا ہے—اُسے نہ دنیا کا خوف رہتا ہے نہ آخرت کا ڈر۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے پچاس ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔
پوچھا گیا: ’’وہ کون ہوں گے؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو فال نہیں لیتے، اندازوں پر نہیں چلتے—
اور یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں،
اللہ سے محبت کرتے ہیں۔”
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Zohaib Sohoo
“اسلام میں کوئی بھی شخص، خواہ وہ جتنا بھی بڑا عہدہ رکھتا ہو، عدالت اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔”
یہ بات صرف ایک رائے نہیں، بلکہ اسلامی شریعت، خلفائے راشدین
کی سیرت، اور آئینی اصولوں کی روح سے مطابقت رکھتی ہے۔
فرمان باری تعالیٰ
اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا، وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ"
(سورۃ النساء: 58)
یعنی:
“اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے اہل لوگوں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔”
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ عدل سب پر لاگو ہوتا ہے —
چاہے حاکم ہو یا عوام، امیر ہو یا غریب۔
حضرت عمرؓ کا عدل:
ایک عام شہری نے حضرت عمرؓ پر عدالت میں مقدمہ کیا۔
جب قاضی زید بن ثابتؓ نے امیرالمؤمنین کو نام سے پکارا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:
“میرے اور میرے مدّعی کے درمیان برابری کرو، ورنہ یہ عدل نہیں ہوگا۔”
یہ وہ اصول تھا جہاں حاکم اور رعایا ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔
حضرت علیؓ اور یہودی کا مقدمہ:
ایک یہودی نے خلیفۂ وقت حضرت علیؓ پر مقدمہ کیا کہ یہ زرہ میری ہے۔
قاضی شریحؓ نے گواہوں کی عدم موجودگی پر فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔
حضرت علیؓ نے فیصلہ تسلیم کرلیا —
یہ ہے اسلامی احتساب کا اصل معیار۔
حضرت ابو بکرؓ کا قول:
“اگر میں درست چلوں تو میری مدد کرو، اور اگر میں عدل سے ہٹ جاؤں تو مجھے سیدھا کردو۔”
یہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جس میں احتساب، شفافیت، اور برابری بنیادی اصول تھے۔
“تاحیات کسی کو عدالتی کارروائی سے تحفظ دینا شریعت اور آئین دونوں کے خلاف ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسلام میں خلفائے راشدین جیسے عظیم حاکم بھی عدلیہ کے سامنے پیش ہوئے،
تو آج کوئی صدر یا آرمی چیف اپنے آپ کو قانون سے بالاتر کیسے سمجھ سکتا ہے؟
“یہ استثناء ملک کے لیے شرمناک ہے، اور پارلیمنٹ کے ارکان اس گناہ کو اپنے سر نہ لیں۔”
یہ بیان دراصل اسلامی مساوات اور ریاستی انصاف کا آئینہ دار ہے۔
اسلام میں عدل سب کے لیے ہے — چاہے صدر ہو یا سپاہی، قاضی ہو یا عوام۔
اگر ہم نے قانون کو چند ہاتھوں میں قید کر لیا،
تو یاد رکھیں، قوموں کی تباہی ظلم اور ناانصافی سے شروع ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم سے پہلے امتیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ امیر کو چھوڑ دیتی تھیں اور غریب کو سزا دیتی تھیں۔” (صحیح بخاری)
لہٰذا ہمیں وہی نظام اپنانا ہوگا جو عدل و مساوات پر مبنی ہو —
جہاں حکمران بھی قانون کے تابع ہوں، اور عوام بھی۔
"اگر خلفائے راشدینؓ عدل کے سامنے جھک سکتے ہیں،
تو آج کے حکمران کیوں نہیں؟
اسلام کہتا ہے — عدل سب کے لیے
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Zohaib Sohoo
علامہ اقبالؒ صرف شاعر نہیں تھے — وہ روحِ ملت کے ترجمان تھے۔
انہوں نے ہمیشہ ایسے علماء کی ضرورت پر زور دیا،
جو صرف ماضی کی بات نہ کریں، بلکہ حال کو سمجھیں اور مستقبل کی راہ دکھائیں۔
اقبالؒ کے نزدیک عالم وہ نہیں جو محض کتابوں کا حافظ ہو،
بلکہ وہ ہے جو زمانے کی روح کو پہچان سکے۔
جو قرآن کے نور سے قوم کے مستقبل کو دیکھے،
اور امت کو بتائے کہ آنے والے زمانے کے چیلنجز کیا ہیں۔
"تقدیرِ امم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ"
اقبال کہتے ہیں کہ اگر ایک عالم کے پاس مومن کی فراست ہو،
تو وہ زمانے کے بدلتے ہوئے رخ کو سمجھ سکتا ہے —
وہ مستقبل کے اشارے پڑھ سکتا ہے۔
"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا"
اقبالؒ کا یہ دیدہ ور دراصل وہی عالم ہے —
جو بصیرت، علم، اور شعور کے ساتھ قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔
ایسے علماء بہت کم پیدا ہوتے ہیں،
لیکن جب پیدا ہوتے ہیں تو قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
امتِ مسلمہ کو دوبارہ اقبالؒ کے مطلوب علماء کی ضرورت ہے —
ایسے علماء جو قرآن کے پیغام کو سمجھیں، زمانے کے مسائل کا حل بتائیں،
اور قوم کو صرف فتوؤں سے نہیں بلکہ عمل، علم، اور بصیرت سے جگائیں۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Zohaib Sohoo
((ریاست))
اسلام مسجد تک محدود عقیدے کا نام نہیں ہے اسلام تو رب کی زمین پر رب کے اس نظام کا نام ہے جسمیں بر وقت مظلوم کو عدالت کی صورت میں انصاف ملتا ہے ،اسلام
اس نظام کا نام ہے جسمیں رعایا دیکھ کر اسکے interest کو دیکھ کر عین شرعی قوانین کے مطابق policy بنا دی جائیں ،
اسلام ایک ریاست کا تصور دیتا ہے ایک welfare کا تصور دیتا ہے ،جسمیں مظلوم کی مدد کی جاتی ہیں اور جسمیں غریبوں کا خیال رکھا جاتا ہو جسمیں ہر عام و خاص شخص کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کہ برابر سوالات پوچھے جاتے ہو ،اسلام صرف مساجد و مدارس میں بیٹھ کر اللّٰہ اللّٰہ کرنے کا نام نہیں ہے،بلکہ ایک مضبوط ریاست بنانے میں اپنا قلیدی کردار ادا کرنا جیسے محسن انسانیت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عقیدہ بھی سکھایا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت بھی فرمائیے ،
لیکن اس عقیدے اور تربیت کا Result پھر مدینے میں ایک زبردست ریاست اور ایک مضبوط State کی صورت میں آیا ،،
اگر کسی مدرسے یا تعلیم اداروں میں کوئی شخص عقیدہ بھی سکھا رہا ہے اور تربیت بھی کر رہا ہے لیکن اسکا Result اسکی ڈائریکشن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر ایک زبردست نظام کے قیام کی صورت میں نہیں آتا پھر وہ عقیدہ بھی فیل ہے پھر وہ تربیت بھی فیل ہے
Wr,
Zohaib Sohoo,
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more