Let's Explore Our Deen

Just Creating & Sharing Daily Islamic Reminders (Remider to myself first & then for you)
" No Reward do I ask of you for it ; My Reward is only from the Lord of the Worlds". Quran (26:145)
Sadqa e Jaria In'sha'Allah

Me: A Highly Sensitive Introvert ✨


Let's Explore Our Deen

*وطن کی فکر کر ناداں ! مصیبت آنے والی ہے*
*تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں*

اے میرے عزیز! تو کتنا نادان ہے کہ اپنے وطن کے تحفظ کا خیال نہیں کرتا جب کہ آسمانوں پر تیری بربادیوں کے مشورے جاری ہیں ۔

*ذرا دیکھ اس کو ، جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے*
*دَھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں*

ذرا اس منظر کا جائزہ لے کہ اب تک یہاں کیا ہو چکا ہے اورآئندہ کیا ہونے والا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ تو ماضی کی داستانوں میں گھرا ہوا ہے ۔ حالانکہ عصر نو میں ان داستانوں کی اہمیت ہی ختم ہو چکی ہے ۔

*نہ سمجھو گے تو مٹ جاوَ گے اے ہندوستاں والو*
*تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں*

اس شعر میں اقبال اہل ہند سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرے انتباہ کے باوجود اب بھی تم بیدار نہ ہوئے اور اپنے معاملات کو نمٹانے کے لیے جدوجہد کا آغاز نہ کیا تو جان لو کہ ماضی اور حال سے متعلق داستانوں میں تمہاری داستان کا ذکر تک نہ ہو گا ۔

تصویرِ درد - بانگِ درا
علامہ محمد اقبال

14 hours ago | [YT] | 111

Let's Explore Our Deen

اللہ نے جو آپ کو دیا ہے اور جو حالات انسان کو نصیب ہوئے ہوں، اس پر اللہ سے راضی ہونا اور راضی رہنا توکل ہے۔ مگر اگر انسانی حالات کا ذمہ دار کوئی فرد یا انسانوں کا گروہ ہے، ان سے راضی رہنا ہرگز ضروری نہیں ہے۔ دولت اور لوگوں کی جان و مال پر قابض اُمرا سے تو راضی نہ رہنا ضروری ہے۔ امام ابن المبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ تواضع کیا ہے؟ تو آپؒ نے جواب دیا:

التَّكَبُّرُ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ
"امیروں پر (یعنی ان کے سامنے) تکبر کرنا!"
[شعب الإيمان للبيهقي، جلد ۱۰، صفحہ نمبر ۵۰۴، رقم: ۷۸۸۵، إسناده حسن]

1 day ago | [YT] | 162

Let's Explore Our Deen

*مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی*
*کہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری*

آج کل کی تہذیب نے جو آزادی بخشی ہے، وہ صرف ظاہر میں آزادی ہے، باطن میں اسے آزادی نہیں قید و بند سمجھنا چاہیے۔ (تہذیب حاضر یا دانش حاضر یا تہذیب مغرب یا تہذیب فرنگ سے مراد ہے یورپ کی وہ تہذیب جس کی بنیاد مادیت اور انکار خدا پر رکھی گئی ہے اور چونکہ یہ تہذیب اسلام کی روح کے خلاف ہے اس لیے اقبال اس کے اشد مخالف ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس کی تردید میں اپنا سارا زورِ قلم صرف کر دیا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ انہوں نے اس ناپاک اور نام نہاد تہذیب کے مفاسد کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح کر دیا ہے۔
کہتے ہیں کہ تہذیب مغرب نے جو آزادی مسلمانوں کو عطا کی ہے وہ ظاہر میں تو آزادی ہے لیکن باطن میں گرفتاری ہے یعنی اس تہذیب نے انہیں ہر برے کام کی آزادی عطا کر دی ہے، شریعت اسلامیہ جن باتوں سے روکتی ہے یہ تہذیب ان تمام باتوں کو جائز ہی نہیں بلکہ معیار ترقی قرار دیتی ہے)

علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: بالِ جبریل (غزلیات حصہ دوم)
غزل نمبر ۱۴ (دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری)
شعر نمبر ۶

2 days ago | [YT] | 129

Let's Explore Our Deen

الامام ابن رجب الحنبلی رحمة الله علیه(ت ٧٩٥هـ) فرماتے ہیں:
بے شک مؤمن کو ضرور کسی نہ کسی دردناک اور دشوار آزمائش سے گزارا جاتا ہے، تاکہ اُس کے ایمان کی آزمائش ہو.
لیکن الله تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر ان آزمائشوں میں لطف و کرم فرماتا ہے، اُنہیں ان پر صبر عطا کرتا ہے اور اُنہیں ان میں اجر دیتا ہے۔ وہ اُنہیں ایسی ہلاک کرنے والی اور گمراہ کر دینے والی آزمائش میں نہیں ڈالتا جو اُن کے دین کو لے ڈوبے، بلکہ فتنے اُن پر سے گزر جاتے ہیں۔

(روائع التفسير،ج،۲،ص،۲۱۱،دار العاصمة،المملكة العربية السعودية)

4 days ago | [YT] | 282

Let's Explore Our Deen

اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں مسلمانوں نے روم کو فارس کے اوپر ترجیح دی اگرچہ دونوں ہی مسلمانوں کے دشمن تھے۔ شیخ عبد العزیز الطریفی (فك الله أسره) اسی پسِ منظر میں کہتے ہیں:

إنَّ الأعداءَ ليسوا على بابٍ واحدٍ في الشرِّ والعَدَاءِ، ولا يَتعامَلُ مع الأعداءِ على أنَّهم شيءٌ واحدٌ إلَّا وهو يتعاملُ مع الحُلَفاءِ على أنَّهم شيءٌ واحدٌ، فيُؤتَى مِن مَأْمَنِه، ويجتمِعُ أعداؤُهُ عليه فيَستأصِلُونَه؛ وهذا جهلٌ بالسياسةِ، وليس مِن الفِقْهِ في الدِّينِ.
"بے شک دشمن شر اور دشمنی کے اعتبار سے ایک ہی درجے کے نہیں ہوتے، اور دشمنوں کے ساتھ یہ سمجھ کر معاملہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سب ایک ہی چیز ہیں۔ اور جو شخص دشمنوں کے ساتھ انہیں ایک ہی قسم سمجھ کر برتاؤ کرتا ہے، وہ دراصل حلیفوں/اتحادیوں کے ساتھ بھی انہیں ایک ہی قسم سمجھ کر ہی برتاؤ کرتا ہے؛ چنانچہ وہ اپنے مقامِ امن ہی سے مارا جاتا ہے، اور اس کے دشمن اس پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے جڑ سے مٹا دیتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر سیاست سے ناواقفیت ہے، اور دین کے فہم (فقہ) میں سے نہیں ہے۔"

[التفسير والبيان لأحكام القرآن، جلد ۴، صفحہ نمبر ۱۹۳۶]

جو جو مدخلی شیطان کی کامیابیوں پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں، ان کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ فلاں یا فلاں نے بہت مظالم ڈھائے ہیں۔ اس لیے کہ جتنے بھی ڈھائے ہوں، وہ ان مظالم کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو شیطان نے بلادِ مسلمین پر ڈھائے۔ پھر امریکہ آج بھی اتنا طاقتور ہے کہ وہ چاہے تو مزید مظالم ڈھاسکتا ہے۔

پھر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ مدخلیوں میں نہ دین کا تفقہ ہے اور نہ سلف کے اقوال کا فہم ہے بلکہ ان کی جانوں کو تو شیطان نے خرید لیا ہے۔ وہ جہاں جہاں کامیاب ہوتا ہے، یہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے جاتے۔ اگر یہ لوگ امامیہ کو مسلمان نہیں سمجھتے تو یہ پہلوی کو کیا سنی مسلمان سمجھتے ہیں؟ اگر ولایتِ فقیہ کے نظریے کے یہ حاملین جائیں گے تو کون آئے گا؟ سنی مسلمان؟ اتنے کم عقل ہونے کا تو اندیشہ ان کے حوالے سے نہیں ہے، یہ یقیناََ فروخت ہوچکے ہیں۔
سید عکاشہ

5 days ago | [YT] | 105

Let's Explore Our Deen

اس وقت جب پوری امت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے اور ایک اسلامی ملک کے سربراہ کو سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے، یہ نہایت افسوس ناک امر ہے کہ کچھ فرقہ پرست عناصر اس موقع پر بھی اپنی کم فہمی اور متعصبانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکے اور اظہارِ مسرت میں مشغول ہیں۔ ایسے حالات میں جذباتی نعروں کے بجاے اہلِ علم کی حکیمانہ بصیرت کی طرف رجوع کرنا چاہیے، خصوصاً شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی یہ نہایت بصیرت افروز بات غور کے لائق ہے جس میں اُنھوں نے خیر و شر کے باب میں وہ اصول بیان کیا ہے جو کتاب و سنت کے جوہر کی ترجمانی کرتا ہے۔
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
عاقل کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دو بھلائیوں میں سے بہتر کو دیکھتا ہے اور دو برائیوں میں سے کم تر کو اختیار کرتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اہلِ سنت، اگرچہ خوارج اور روافض اور دیگر اہلِ بدعت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، سو کہتے ہیں لیکن وہ ان کے دین کے خلاف کفار کی مدد نہیں کرتے اور نہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ کفر اور اس کے علم برداروں کو غلبہ حاصل ہو، خواہ اس کے مقابلے میں کسی بدعت ہی کا ظہور کیوں نہ ہو..!!
(منهاج السنة النبوية، 6/ 375)

5 days ago | [YT] | 264

Let's Explore Our Deen

*سورۃ الأنفال73*
جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد بر پا ہو گا۔

*تفہیم القرآن : سید ابو الاعلیٰ مودودی*
اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح ک فار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اہل ایمان اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔ اور اگر اس کا تعلق ان تمام ہدایات سے مانا جائے جو آیت 72 سے یہاں تک دی گئی ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے ولی نہ بنیں، اور اگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہ آنے والے اور دارالکفر میں مقیم رہنے والے مسلمانوں کو اہل دارالاسلام اپنی سیاسی ولایت سے خارج نہ سمجھیں، اور اگر باہر کے مظلوم مسلمانوں کے مدد مانگنے پر ان کی مدد نہ کی جائے، اور اگر اس کے ساتھ ساتھ اس قاعدے کی پابندی بھی نہ کی جائے کہ جس قوم سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو اس کے خلاف مدد مانگنے والے مسلمانوں کی مدد نہ کی جائے گی، اور اگر مسلمان ک اف ر و ں سے موالاة کا تعلق ختم نہ کریں، تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔

#exploreourdeen #reminder

6 days ago | [YT] | 280

Let's Explore Our Deen

" مساجد میں نمازیوں کے چہروں کے قریب کیمرہ لے جا کر ان کے جذبات اور کیفیات کو منظرِ عام پر لانا ایک اذیت ناک جسارت ہے، بلکہ بندگانِ خدا کی خلوتِ عبادت میں مداخلت ہے،،
اور اس سے بھی بڑھ کر باعثِ تشویش یہ ہے کہ امام کے چہرے کے عین سامنے کیمرہ جما دیا جائے، تاکہ اس کے رخساروں پر ڈھلکتے آنسو سب کو دکھائے جائیں،،گویا خشوع و گریہ بھی نمائش کا سامان بن جائے،،
یاد رکھو! مقامِ اخلاص نہایت بلند اور نازک ہے۔
اے ائمۂ مساجد! اللہ سے ڈرو۔ نفس کمزور ہے، اور شیطان تاک میں رہتا ہے،،وہ دل کی باریک لغزش کو بھی شہرت اور ریا کی راہ بنا دیتا ہے "

شیخ عبداللہ الشھری

1 week ago | [YT] | 260

Let's Explore Our Deen

حالیہ افغانستان اور پاکستان جھڑپوں کے حوالے سے، غزہ کے ایک بھائی لکھتے ہیں:

"تمہیں اپنے آپ پر شرم آنی چاہئیے، اور اپنے اس طرزِ عمل پر ندامت محسوس کرنی چاہیے۔ تم نے کئی طویل مہینوں تک غزہ کو تنہا چھوڑے رکھا، اور جب کہ اس کا خون اب بھی بہہ رہا ہے اور ابھی تک خشک نہیں ہوا، تو تم سب اب اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہو، اپنے ہتھیار تیار کر رہے ہو، اور ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو۔

اللہ کی قسم! یہ ذلت اور رسوائی کی انتہا ہے!

"لا إله إلا الله" کے کلمے کی عزت رکھو، جو تمہیں متحد کرتا ہے!!!

مبارک مہینے رمضان کی حرمت کا خیال رکھو!!!

اس بات پر غور کرو کہ تمہارے درمیان فساد کی آگ بھڑکانے سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے، اور کون تمہاری سرزمینوں میں انتشار اور تباہی چاہتا ہے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمہارا خون بہانا بند کر دے، تمہیں آپس میں صلح و صفائی عطا فرمائے، اور تم میں سے جو جارح ہے اس کی سازشوں کو ناکام بنا دے۔"

1 week ago | [YT] | 281