Just Creating & Sharing Daily Islamic Reminders (Remider to myself first & then for you)
" No Reward do I ask of you for it ; My Reward is only from the Lord of the Worlds". Quran (26:145)
Sadqa e Jaria In'sha'Allah
Me: A Highly Sensitive Introvert ✨
Let's Explore Our Deen
امام ابن رجب رحمہ اللہ کے عید سے متعلق خوبصورت اشعار
* ليس العيد لمَن لبس الجديد
عید اس کی نہیں کہ جس نے نیا لباس پہن لیا
* إنّما العيد لمَن طاعاته تزيد
بلکہ عید تو اس کی ہے کہ جو فرمانبرداری میں بڑھ گیا
* ليس العيد لمَن تجمَّل باللباس والركوب
نہ عید اس کی ہے جو لباس اور سواری سے سنور گیا
* إنّما العيد لمن غفرت له الذنوب
بلکہ عید تو اسکی ہے کہ جس کے گناہوں کو بخش دیا گیا
لطائف المعارف لابن رجب 371
*تقبل الله منا ومنكم صالح الاعمال*💗
1 week ago | [YT] | 313
View 9 replies
Let's Explore Our Deen
زندگی اور حرکت کا یہ عالمگیر کارخانہ وجود ہی میں نہ آتا اگر اپنے ہر فعل میں بننے بنانے سنورنے سنوارنے اور ہر طرح بہتر و اصلح ہونے کا خاصہ نہ رکھتا ۔ فطرت کائنات میں یہ خاصہ کیوں ہے؟ اس لیے کہ بناؤ ہو بگاڑ نہ ہو۔ درستگی ہو برہمی نہ ہو لیکن کیوں ایسا ہوا کہ فطرت بناۓ اور سنوارے، بگاڑے اور الجھاۓ نہیں؟ یہ کیا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے درست اور بہتر ہی ہوتا ہے۔خراب اور بدتر نہیں ہوتا ؟ انسان کے علم و دانش کی کاوشیں آج تک یہ عقدہ حل نہ کرسکیں۔فلسفۂ نظر کا قدم جب بھی اس حد تک پہنچا دم بخود ہوکر رہ گیا لیکن قرآن کہتا ہے یہ اس لیے ہے کہ فطرت کائنات میں رحمت ہے اور رحمت کا مقتضا ہی ہے کہ خوبی اور درستگی ہو بگاڑ اور خرابی نہ ہوا.!
ابوالکلام آزاد
1 week ago | [YT] | 167
View 3 replies
Let's Explore Our Deen
امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
الْيَقِينُ عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ: عَلَى غَائِصِ الْفَهْمِ , وَغَمْرَةِ الْعِلْمِ , وَزَهْرَةِ الْحُكْمِ , وَرَوْضَةِ الْحِلْمِ , فَمَنْ فَهِمَ فَسَّرَ جَمِيلَ الْعِلْمِ , وَمَنْ فَسَّرَ جَمِيلَ الْعِلْمِ عَرَفَ شَرَائِعَ الْحُكْمِ , وَمَنْ عَرَفَ شَرَائِعَ الْحُكْمِ حَلُمَ
ترجمہ: یقین چار قسم کے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے:
(۱) وہ جو فہم میں غوطہ زن ہو۔
(۲) اور وہ جس کے پاس علم کا سمندر ہو۔
(۳) اور حکمت کے پھول ہوں۔
(۴) اور حلم (برداشت، تحمل) کے باغ ہوں۔
جس نے فہم حاصل کرلیا، اس نے علم کی خوبصورتی کو حاصل کرلیا۔ جس نے علم کی خوبصورتی کو حاصل کرلیا، اس نے حکمت کے قوانین جان لیے اور جس نے حکمت کے قوانین جان لیے، وہ متحمل ہوگیا۔
[اليقين لابن أبي الدنيا، صفحہ نمبر ۳۲، رقم: ۴]
1 week ago | [YT] | 205
View 3 replies
Let's Explore Our Deen
مغرب کی تاریخ ہے کہ پہلے معاشی فوائد کے حصول کے لیے بدترین اقدامات اٹھاتے ہیں۔ پھر جب وہ معاشی فوائد حاصل ہونا بند ہونے لگتے ہیں، 'اخلاقیات' اور 'حقوق' کا نعرہ لگا کر اس کو ختم کرکے اس کا کریڈٹ اپنے سر لے لیتے ہیں۔
یہ ممالک پر صرف معاشی اغراض کے لیے قبضے کرتے رہے۔ ان کو اپنی کالونی بنا کر اس سے ہر طرح کے فوائد حاصل کرتے تھے۔ جب یہ سب سنبھلنا مشکل ہوگیا تو اپنا دل بڑا کرکے دنیا کے کئی ممالک کو آزاد کردیا اور بڑے بن گئے۔
صرف رنگ و نسل کی بنیاد پر سیاہ فام غلام پکڑ پکڑ کر اپنے معاشی فوائد کے لیے لائے جاتے تھے۔ اس سے خوب فائدہ اٹھایا گیا۔ پھر اس سے فائدہ کم ہوتا گیا اور متبادل آتے گئے تو 'انسانیت' کا نعرہ لگا کر اس کو ختم کردیا۔
جب عراق پر حملہ کیا گیا، اکثر امریکی عوام اس کی حمایت کرتی تھی۔ سب بہت خوش تھے کہ صدام پر کامیاب حملہ ہوا ہے۔ پھر جب خود معاشی نقصان اور بدنامی کا سامنا ہوا تو اسی اکثریت کو بش پر دباؤ ڈالنا پڑا کہ یہ سب ختم کرو۔
انہوں نے جو جو ستم آج تک لوگوں پر ڈھائے ہیں، یہ احتجاجوں اور اخلاقی تصورات کے احیا کے سبب نہیں رکے۔ یہ ہمیشہ مختلف طرح کے نقصان اور دباؤ کے سبب ہی رکے ہیں۔ آج بھی اگر ان کے کسی ستم کو ٹالا یا ختم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف ایک مؤثر مزاحمت ہے۔ باقی تمام چیزیں صرف سننے دیکھنے میں اچھی لگتی ہیں۔
-----
مغرب کی جن تدبیروں سے ان کو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ان پر عمل کرنا قابلِ فہم معلوم ہوتا ہے۔ سب سے بڑی کامیابی ان کا دنیا پر غلبہ ہے جو انہوں نےبہت سی تدبیروں سے ہی حاصل کیا ہے:
۱۔ اپنے دشمنوں میں پھوٹ ڈالی ۔
۲۔ اپنی لڑائیاں دوسروں سے لڑوائیں ۔
۳۔دوسرے علاقوں کے قیمتی وسائل پر معاہدوں اور قبضوں کے ذریعےاپنی اجارہ داریاں قائم کیں ۔
۴۔ اہم تجارتی راستوں اور بندر گاہوں پر عملاََقبضے اور اثر و رسوخ قائم کیے۔
۴۔ دنیا میں تجارت کے لیے اپنی کرنسی کا نفاذ کیا۔
۵۔ اپنے حریفوں کے لیے تجارتی رکاوٹیں پیدا کیں۔
سید عکاشہ
2 weeks ago | [YT] | 259
View 8 replies
Let's Explore Our Deen
جو لوگ بڑے ہی تکبر اور تحقیر کے انداز کے ساتھ امّتِ مسلمہ کو 'چورن' کہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی مدد و نصرت کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ یہ صرف گمراہی نہیں ہے، یہ اتنی سنگین بات ہے کہ اس میں اندیشہ بڑا ہے۔ اگر ایک پاکستانی پاکستان کا نقصان چاہے تو اس کو آپ 'غداری' سمجھتے ہیں تو جو شخص مسلم اجتماعیت کو 'چورن' کہتا ہو اور اس اجتماعیت کے نقصان کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہو، وہ کون ہوا پھر؟ یہ کس سے 'غداری' ہوئی؟ اسی غداری کو ہماری فقہی روایت میں ارتداد کا نام دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی وطنیت میں کس قدر اندھے ہوچکے ہیں!
سید عکاشہ
2 weeks ago | [YT] | 196
View 6 replies
Let's Explore Our Deen
آنے والا ہر زمانہ پہلے سے برا ہو گا۔ (صحیح بخاری)۔
اس فرمان رسول کے مطابق زندگی گزارنا سیکھ لیں تو فتنوں سے بہت سی بچت ہو سکتی ہے۔
پہلی چیز یہ ہے کہ دنیا میں امیدیں کم کر دیں اور اس توقع کے ساتھ رہیں کہ اب دن بدن دنیا کے حالات فنا کی طرف لپکنے ہیں۔ ایسے دگرگوں حالات میں کوئی بھی عقلمند صرف دنیا ہی میں جی لگانے کی بہت لمبی پلاننگ نہیں کر سکتا۔
دوسری چیز فتنوں کا علم ہے۔ فتنوں سے آگاہی ان سے بچنے میں سب سے زیادہ مددگار ہے۔ خاص طور پر صحیح احادیث میں وارد فتنے اور ان سے بچنے کے نبوی طریقے مومن کے لئے راحت کا سامان ہیں۔
تیسری چیز دعا کو لازم پکڑنا ہے۔ خدا کی توفیق اور رحمت کے بغیر کوئی بھی آدم زاد کسی بھی وقت بھٹک سکتا ہے۔
چوتھی چیز دین پر استقامت ہے۔ دین پر سختی سے کار بند رہنے والے کو بڑی سے بڑی آزمائشوں میں بھی کامیابی ملتی ہے اور مشکل ترین وقت میں بھی صبر کا مرہم نصیب ہو جاتا ہے۔
پانچویں چیز ہے خیر خواہی اخلاص اور ہمدردی ہے۔ فتنوں سے مسلمانوں کو بچانے کی فکر اہل ایمان کا شیوہ ہے اور اسکے لئے شرعی راہنمائی کی طرف راغب کرنا لازمی ہے۔
اسی خیر خواہی ، ہمدردی اور اخلاص کا اہم ترین تقاضا ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ نہ ڈالی جائے۔ تکفیریت اور خارجیت جیسے بد ترین رجحانات سے متاثر ہونا سراسر انتشار کا پیش خیمہ ہے جبکہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد اسوقت لازمی حل ہے۔
چھٹی چیز مسلمانوں کے اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ذاتی آراء ، افکار اور میلانات یا نسبتوں اور تعصبات کو اسلام کے تعلق پر غالب نہیں آنا چاہیے۔
ساتویں چیز مفتون علماء، زعماء اور مفکرین و لیڈروں سے دوری ہے۔ جو لوگ اہل اسلام کی صف کو چیر کر باہم دست و گریبان ہوں یا امت کو در پیش مسائل پر سنجیدگی اور فکر مندی کی بجائے فرقہ واریت کے تماشے لگائے بیٹھے ہوں، ان سے علیحدگی لازم ہے۔
اگر ان باتوں پر توجہ کی جائے تو ہم بہتر انداز سے فتنوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
خزیمہ ظاہری
2 weeks ago | [YT] | 272
View 7 replies
Let's Explore Our Deen
*وطن کی فکر کر ناداں ! مصیبت آنے والی ہے*
*تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں*
اے میرے عزیز! تو کتنا نادان ہے کہ اپنے وطن کے تحفظ کا خیال نہیں کرتا جب کہ آسمانوں پر تیری بربادیوں کے مشورے جاری ہیں ۔
*ذرا دیکھ اس کو ، جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے*
*دَھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں*
ذرا اس منظر کا جائزہ لے کہ اب تک یہاں کیا ہو چکا ہے اورآئندہ کیا ہونے والا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ تو ماضی کی داستانوں میں گھرا ہوا ہے ۔ حالانکہ عصر نو میں ان داستانوں کی اہمیت ہی ختم ہو چکی ہے ۔
*نہ سمجھو گے تو مٹ جاوَ گے اے ہندوستاں والو*
*تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں*
اس شعر میں اقبال اہل ہند سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرے انتباہ کے باوجود اب بھی تم بیدار نہ ہوئے اور اپنے معاملات کو نمٹانے کے لیے جدوجہد کا آغاز نہ کیا تو جان لو کہ ماضی اور حال سے متعلق داستانوں میں تمہاری داستان کا ذکر تک نہ ہو گا ۔
تصویرِ درد - بانگِ درا
علامہ محمد اقبال
3 weeks ago | [YT] | 189
View 2 replies
Let's Explore Our Deen
اللہ نے جو آپ کو دیا ہے اور جو حالات انسان کو نصیب ہوئے ہوں، اس پر اللہ سے راضی ہونا اور راضی رہنا توکل ہے۔ مگر اگر انسانی حالات کا ذمہ دار کوئی فرد یا انسانوں کا گروہ ہے، ان سے راضی رہنا ہرگز ضروری نہیں ہے۔ دولت اور لوگوں کی جان و مال پر قابض اُمرا سے تو راضی نہ رہنا ضروری ہے۔ امام ابن المبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ تواضع کیا ہے؟ تو آپؒ نے جواب دیا:
التَّكَبُّرُ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ
"امیروں پر (یعنی ان کے سامنے) تکبر کرنا!"
[شعب الإيمان للبيهقي، جلد ۱۰، صفحہ نمبر ۵۰۴، رقم: ۷۸۸۵، إسناده حسن]
3 weeks ago | [YT] | 180
View 2 replies
Let's Explore Our Deen
*مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی*
*کہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری*
آج کل کی تہذیب نے جو آزادی بخشی ہے، وہ صرف ظاہر میں آزادی ہے، باطن میں اسے آزادی نہیں قید و بند سمجھنا چاہیے۔ (تہذیب حاضر یا دانش حاضر یا تہذیب مغرب یا تہذیب فرنگ سے مراد ہے یورپ کی وہ تہذیب جس کی بنیاد مادیت اور انکار خدا پر رکھی گئی ہے اور چونکہ یہ تہذیب اسلام کی روح کے خلاف ہے اس لیے اقبال اس کے اشد مخالف ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس کی تردید میں اپنا سارا زورِ قلم صرف کر دیا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ انہوں نے اس ناپاک اور نام نہاد تہذیب کے مفاسد کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح کر دیا ہے۔
کہتے ہیں کہ تہذیب مغرب نے جو آزادی مسلمانوں کو عطا کی ہے وہ ظاہر میں تو آزادی ہے لیکن باطن میں گرفتاری ہے یعنی اس تہذیب نے انہیں ہر برے کام کی آزادی عطا کر دی ہے، شریعت اسلامیہ جن باتوں سے روکتی ہے یہ تہذیب ان تمام باتوں کو جائز ہی نہیں بلکہ معیار ترقی قرار دیتی ہے)
علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: بالِ جبریل (غزلیات حصہ دوم)
غزل نمبر ۱۴ (دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری)
شعر نمبر ۶
3 weeks ago | [YT] | 138
View 4 replies
Let's Explore Our Deen
الامام ابن رجب الحنبلی رحمة الله علیه(ت ٧٩٥هـ) فرماتے ہیں:
بے شک مؤمن کو ضرور کسی نہ کسی دردناک اور دشوار آزمائش سے گزارا جاتا ہے، تاکہ اُس کے ایمان کی آزمائش ہو.
لیکن الله تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر ان آزمائشوں میں لطف و کرم فرماتا ہے، اُنہیں ان پر صبر عطا کرتا ہے اور اُنہیں ان میں اجر دیتا ہے۔ وہ اُنہیں ایسی ہلاک کرنے والی اور گمراہ کر دینے والی آزمائش میں نہیں ڈالتا جو اُن کے دین کو لے ڈوبے، بلکہ فتنے اُن پر سے گزر جاتے ہیں۔
(روائع التفسير،ج،۲،ص،۲۱۱،دار العاصمة،المملكة العربية السعودية)
3 weeks ago | [YT] | 284
View 2 replies
Load more