Just Creating & Sharing Daily Islamic Reminders (Remider to myself first & then for you)
" No Reward do I ask of you for it ; My Reward is only from the Lord of the Worlds". Quran (26:145)
Sadqa e Jaria In'sha'Allah
Me: A Highly Sensitive Introvert ✨
Let's Explore Our Deen
عیدالفطر، عید الاضحیٰ اور ایام تشریق (11، 12 اور 13 ذی الحجہ) میں لوگوں کو کھانے کے لیے جمع کرنا سنت ہے اور شعائر اسلام میں شامل ہے جسے رسول اللّٰہ ﷺ نے جاری فرمایا ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
قَالَ شَيْخُ الإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَىٰ: جَمْعُ النَّاسِ لِلطَّعَامِ فِي العِيْدَيْنِ، وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ سُنَّةٌ، وَهُوَ مِنْ شَعَائِرِ الإِسْلَامِ الَّتِيْ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ.
(مَـجْـمُـوعُ الـفَـتَـاوىٰ، ٢٩٨/٢٥)
أضحى مبارك 🩵
تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
3 days ago | [YT] | 199
View 3 replies
Let's Explore Our Deen
عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ میں عرفہ کے پچھلے پہر (عصر و مغرب کے درمیان) محدث امام سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؛ وہ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اس پورے مجمعے میں کون سب سے بدترین حالت سے دوچار ہے؟
فرمایا: جس کا گمان ہے کہ اللّٰہ اس کی مغفرت نہیں فرمائے گا!
(یعنی خدا سے حسن ظن رکھو اور یقین کے ساتھ بخشش کی دعا مانگو!
(لطائف المعارف، ص: 632)
4 days ago | [YT] | 253
View 2 replies
Let's Explore Our Deen
حافظ ابن رجب رحمه الله نے فرمایا :
اللہ کی راہ میں دل کا سفر بدن کے سفر سے زیادہ اہم ہے.
کتنے ہی مسافر ایسے ہیں جو اللہ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر گھر کے رب سے دور ہوتے ہیں.
کتنے ایسے بھی ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں مگر ان کے دل رب سے جڑے ہوئے ہیں.
[ لطائف المعارف - 2/252 ]
4 days ago | [YT] | 260
View 3 replies
Let's Explore Our Deen
سیدنا ابو قتادہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ. "یوم عرفہ کے روزے کے متعلق مجھے اللّٰہ عزوجل سے امید ہے کہ وہ اس سے گذشتہ اور آیندہ (دو) برسوں کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔" (صحیح مسلم)
شرح:
1- اس حدیث کی رو سے جن گناہوں کی بخشش ہو گی، وہ صغیرہ گناہ ہیں کہ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ لازم ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ [النساء 4: 31] "اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی بُرائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے۔"
2- سابقہ گناہوں کی بخشش کا مفہوم تو ظاہر ہے کہ جو گذشتہ برس گناہ سرزد ہوئے، ان کو معاف کر دیا جائے گا مگر آیندہ برس کے گناہوں کی بخشش یا کفارے کا کیا مطلب ہے؟ اس کے متعلق علما نے کئی توجیہات کی ہیں:
ایک یہ کہ اللّٰہ تعالٰی اسے آنے والے سال میں اسے گناہوں سے محفوظ رکھیں گے۔
دوسری یہ کہ پروردگار اسے اپنی رحمت سے اس قدر ثواب عطا فرمائے گا کہ پچھلے سال کے گناہ بھی بخشے جائیں گے اور آیندہ برس بھی جو گناہ اس سے سرزد ہوں، ان کی بخشش بھی ہو جائے گی۔ (تحفة الأحوذي)
علامہ مناوی رحمہ اللّٰہ نے فیض القدیر (4: 230) میں تیسری توجیہ بھی نقل کی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی آیندہ برس کے گناہ حقیقتا بخش دے گا۔
5 days ago | [YT] | 136
View 1 reply
Let's Explore Our Deen
*امام الأوزاعي رحمہ اللہ نے فرمایا:*
“میں نے ایسے لوگوں کو پایا جو اپنی حاجتوں کو یومِ عرفہ کے لیے محفوظ رکھتے تھے تاکہ اُس دن اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔
اور اُن میں سے بعض کہتے تھے:
‘میں پچاس سال سے یومِ عرفہ میں دعائیں مانگ رہا ہوں، اور سال گزرنے سے پہلے پہلے اُن کی قبولیت کو صبحِ صادق کی طرح ظاہر ہوتا دیکھ لیتا ہوں۔’”
لطائف المعارف (ص ٤٩٤)
اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"بہترین دن وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے،،
پھر ان سے پوچھا گیا:
اے اُمّ المؤمنین! وہ کون سا دن ہے؟
فرمایا:
(عرفہ کا دن)"
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي]
5 days ago | [YT] | 206
View 4 replies
Let's Explore Our Deen
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے دن بندے سے کہا جائے گا:
'اٹھو اور فلاں شخص سے اپنا حق (بدلہ) لے لو۔'
وہ بندہ کہے گا: 'میرا تو اس پر کوئی حق نہیں ہے!'
تو اس سے کہا جائے گا: 'کیوں نہیں! اس نے فلاں فلاں دن تمہارا تذکرہ اس اس طرح (برائی کے ساتھ/ غیبت کر کے) کیا تھا۔'"
[شعب الإيمان للبيهقي: (6313)]
1 week ago | [YT] | 322
View 8 replies
Let's Explore Our Deen
حکمران اگر اللہ کے دین اور شرع سے واضح متصادم کام کریں تو نام لے کر ان کو غلط کہنا بالکل جائز بلکہ صحابہ کا طریقہ ہے۔ اس معاملے میں سختی کرنا بھی درست ہے۔
حضرتِ ابو ہریرہؓ کے سامنے ایک شخص نے للکارا:
يا مروانُ خالفتَ السُّنَّةَ
"اے مروان! تم نے سنّت کی مخالفت کی ہے!"
حضرتِ ابو ہریرہؓ نے اس شخص کی تعریف کی اور فرمایا:
أمَّا هذا فقد قضى ما عليْهِ سمعتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يقولُ من رأى منْكرًا فاستطاعَ أن يغيِّرَهُ بيدِهِ فليغيِّرْهُ بيدِهِ فإن لم يستطع فبلسانِهِ فإن لم يستطع فبقلبِهِ وذلِكَ أضعفُ الإيمانِ
"اس شخص نے اپنا حق ادا کردیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔"
[سنن ابو داود، رقم: ۱۱۴۰، صحیح]
حضرتِ کعب بن عجرہؓ نے عبد الرحمن بن ام الحکم کے متعلق یہ تک کہہ دیا:
انْظُرُوا إلى هذا الخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا
"ذرا اس خبیث کی طرف تو دیکھو، یہ بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے!"
[صحيح مسلم، رقم: ۸۶۴]
بشر بن مروان خطبہ دے رہا تھا کہ حضرتِ عمارہ بن رویبہؓ نے فرمایا:
قَبَّح اللهُ هاتَينِ اليَديْنِ!
"اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے!"
[صحيح مسلم، رقم: ۸۷۴]
ایک موقع پر عبد اللہ بن عمرؓ نے حجاج بن یوسف کو کہا:
يا عَدوَّ اللهِ، استُحِلَّ حَرَمُ اللهِ، وخُرِّبَ بَيتُ اللهِ.
"اے اللہ کے دشمن! اللہ کے حرم کی حرمت پامال کر دی گئی اور اللہ کے گھر کو برباد کر دیا گیا۔"
[سير أعلام النبلاء، جلد ۳، صفحہ نمبر ۲۳۰، رجاله ثقات]
اب یہ کیسے ممکن ہے کہ حکام دین کے فرائض معطل کردیں، حدود کو ساقط کردیں، مسلمانوں کے اعدا کی ان کے خلاف مناصرت کریں اور اس کے بعد بھی ان کے متعلق آپ کا ایک لفظ تک نہ نکلے؟ اگر حکام کے خلاف ہی بات نہ کی جائے تو دین اپنی اصلی حالت میں برقرار ہی نہیں رہ سکتا کیونکہ سب سے زیادہ تحریف ان ہی کے تو ہاتھوں ہوتی ہے۔
سید عکاشہ
1 week ago | [YT] | 187
View 6 replies
Let's Explore Our Deen
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“قلوب کی بھی موت ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں قلوب کو صرف فرائض کا پابند بناؤ، پھر جب ان میں زندگی لوٹ آئے تو انہیں نوافل سے مزین کرو۔”
الزهد للإمام أحمد (ص: 262)
1 week ago | [YT] | 367
View 2 replies
Let's Explore Our Deen
عامر الشعبي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرما رہے تھے:
"یہ کلیجے کو کتنی ٹھنڈک پہنچانے والی بات ہے!"
ان سے پوچھا گیا: وہ کیا بات ہے؟
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہ تم ایسی چیز کے بارے میں جس کا تمہیں علم نہ ہو، یہ کہہ دو کہ 'اللہ بہتر جانتا ہے' (اللہ أعلم)۔
جامع بیان العلم لابن عبد البر (2/49)
2 weeks ago | [YT] | 372
View 2 replies
Let's Explore Our Deen
”اگر تم غور سے ان سات خوش نصیب لوگوں کے بارے میں سوچو جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا، تو تم یہ حقیقت پاؤ گے کہ انہوں نے یہ عظیم مقام اپنے نفس کی خواہشات کی مخالفت کر کے حاصل کیا ہے۔“
(ابن القیم رحمه الله)
2 weeks ago | [YT] | 387
View 6 replies
Load more