The Muhammad Shams ul Hassan, YouTube Islamic and Educational Videos Channel.
Subscribe our YouTube Channel Muhammad Shams ul Hassan, for more videos...as well as you can Connect us on WHATSAPP: +923222545725
wa.me//+923222545725
EMAIL: muhammadshamsulhassan8@gmail.com
Mhammad Shams ul Hassan
youtube.com/@muhammadshamsulhassan
Muhammad Shams ul Hassan
😀انڈے دو ہی اچھے😆
ایک مولوی صاحب مدرسے سے فارغ التحصیل ہوکر گھر پہنچے تو صبح ناشتے میں 2انڈے ابال کر ان کے سامنے رکھ دئیے گئے تو مولوی صاحب نے کہا کہ ابو جان میں ایسا علم سیکھ کر آیا ہوں کہ 2 انڈوں کو 3بنا سکتا ہوں ۔ والد صاحب نے پوچھا کہ وہ کسطرح ؟
منطقی مولوی صاحب نے بتایا کہ یہ 2انڈے ہیں تیسرا ان کا مجموعہ ہے ۔ تو والد نے ایک اٹھا کر بیگم کو دیا دوسرا اٹھاکر خود کھانے لگا اور مولوی صاحب کو کہا کہ آپ مجموعہ کھائیں 😛 تو فارغ التحصیل ہونے کے بعدتصورات کی دنیا سے باھر نکل کر حصول رزق حلال کے لئے کوئی فن سیکھیں 🙏
کمال حکایت ہے! نہایت دلچسپ انداز میں ایک سبق آموز بات کہہ دی گئی۔ اس کہانی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ صرف خیالی دنیا میں رہنے کے بجائے عملی زندگی کے لیے کوئی ہنر یا مہارت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ انسان رزق حلال کما سکے اور زندگی کے تقاضے پورے کر سکے۔ والد صاحب کا جواب نہایت ذہانت پر مبنی تھا😁😅
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
*حضرت صالح علیه السلام کی اونٹنی*
حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا تعالیٰ کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو ان سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا ؟ کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔ چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فورا ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔ اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ :
يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَ تَكُمْ بَيْنَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَا كُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔
(پ ۸، الاعراف: ۷۳)
ترجمہ : اے میری قوم اللہ کو پو جو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔
چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کو پانی نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی۔ اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔
قدار بن سالف :
چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا۔ ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا۔ پھر اس کو ذبح کر دیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يُصْلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا
إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ۔
(پ ۸، الاعراف ۷۷)
ترجمہ : پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہوا گر تم رسول ہو۔
زلزلہ کا عذاب:
قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذاب خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی۔ پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہوگئی۔ تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ:
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جثِمينَ۔
(پ ۸، الاعراف: ۷۸)
ترجمہ : تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہو گئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا۔ اور آپ کو قوم ثمود اور اُن کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہوگئی کہ آپ نے اُن لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اور اُس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہو گئے کہ:
يُقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النصِحِينَ ۔
(پ ۸، الاعراف: ۷۹)
ترجمہ : اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی ( پسند کرنے والے ) ہی نہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی بر باد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئی کہ آج اُن کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔ (تفسير الصاوى، ج ۲، ص ۶۸۸ ، پ ۸ ، الاعراف: ۷۳ - ۷۷ تا ۷۹ ملخصاً)
درس ہدایت:
اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب ایک نبی کی ایک اونٹنی کو قتل کر دینے والی قوم عذاب الہی کی تباہ کاریوں سے اس طرح فنا ہوگئی کہ ان کی نسل کا کوئی انسان بھی روئے زمین باقی نہ رہ گیا تو جو قوم اپنے نبی کی آل و اولاد کو قتل کر ڈالے گی بھلا وہ عذاب الہی کے قہر
سے کب اور کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے؟ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ کربلا میں اہل بیت نبوت کو شہید کرنے والے یزیدی کوفیوں اور شامیوں کا یہی حشر ہوا کہ مختار بن عبید کے دور حکومت میں یزیدیوں کا بچہ بچہ قتل کر دیا گیا اور ان کے گھروں کو تاخت و تاراج کر کے ان پر گدھوں کے ہل چلائے گئے اور آج روئے زمین پر ان یزیدیوں کی نسل کا کوئی ایک بچہ بھی باقی نہیں رہ گیا۔
ایک لاکھ چالیس ہزار یزیدی مقتول:
حاکم محدث نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی تھی کہ قوم یہود نے حضرت زکریا علیہ السلام کو قتل کر دیا تو ان کے ایک خون کے بدلے ستر ہزار یہودی قتل ہوئے اور آپ کے نواسہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک خون کے بدلے ستر ستر ہزار یعنی ایک لاکھ چالیس ہزار کوفی و شامی مقتول ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس طرح پورا ہوا کہ مختار بن عبید کی لڑائی میں ستر ہزار کوفی و شامی قتل ہوئے اور پھر عباسی سلطنت کے بانی عبداللہ سفاح کے حکم سے ستر ہزار کوفی و شامی مارے گئے ۔ کل مل کر ایک لاکھ چالیس ہزار مقتول ہو گئے ۔
(المستدرک ، کتاب التفسير ، باب اخبار القتل عوض الحسین .. الخ، ج ۳، ص ۷ ، رقم : ۲۳۰۱)
بہر حال یہ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی ہر ہر چیز کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ لہٰذا خدا تعالیٰ کے محبوبوں کی آل وازواج ہوں یا اصحاب و احباب یا ان سے نسبت و تعلق رکھنے والی کوئی بھی چیز ہو ان میں سے کسی کی بھی تو ہین اور بے ادبی سے خداوند قہار کا قہر و غضب ضرور کسی نہ کسی عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لہذا ہر وہ چیز جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے محبوبوں سے نسبت حاصل ہو جائے اس کی تعظیم و تکریم لازم و ضروری ہے اور اس کی تو ہین و بے ادبی عذاب الہی کی ہری جھنڈی اور تباہی و بربادی کا سگنل ہے۔ (والعياذ بالله منه)
عذاب کی زمین منحوس :
روایت ہے کہ جب جنگ تبوک کے موقع پر سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ خبر دار کوئی شخص اس گاؤں میں داخل نہ ہو اور نہ اس گاؤں کے کنویں کا کوئی شخص پانی پئے اور تم لوگ اس عذاب کی جگہ سے خوف الہی میں ڈوب کر روتے ہوئے اور منہ ڈھانپے ہوئے جلد سے جلد گزر جاؤ کہیں ایسانہ ہو کہ تم پربھی عذاب اتر پڑے۔ ( روح البیان، ج ٣ ، س ١٩٤ ، پ ۸ ، الاعراف: ۷۹ و ملخصا عجائب القرآن صفحہ۱۰۳ تا ۱۰۷)
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
انسانیت وہاں اوندھے منہ مر گئی ہے
جہاں انسانیت پر سب سے زیادہ درس دئیے جاتے ہیں۔
"ہیروشیما میں ایٹم بم گِرنے سے جو تباہی پھیلی ہے اُس کی تفصیلات ایک کِتاب میں مَحفوظ کی گئی ہیں جو 1971ء میں ہیروشیما سِٹی ہال کی طرف سے پانچ جِلدوں اور چار ہزار صفحات میں شائع کی گئی تھی اور اِس کا جاپانی نام ہے "Hiroshima Genbaku Sensai Shi" یعنی "ہیروشیما کی ایٹمی جنگ کی تباہی کا ریکارڈ"۔ یہاں میوزیم میں اِس ریکارڈ کے خاص خاص اِقتباسات پر مُشتمِل ایک کتابچہ فروخت ہو رہا تھا جو ہم نے بھی لیا۔
ایٹم بم کا یہ المیہ دوسری جنگِ عظیم میں پیش آیا اور ہیروشیما پر امریکہ نے ایٹم بم کیوں گِرایا؟ اِس سوال کا جواب اُس مُختصر تعارُفی کتابچے میں دیا گیا ہے جو ہیروشیما یادگار اَمن میوزیم میں ہر آنے والے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اِس میں لِکھا ہے کہ 1945ء میں جنگ کے دوران جاپان کی طاقت بہت کمزور ہو چُکی تھی اور امریکہ چاہتا تھا کہ یہ لمبی جنگ اب کِسی طرح اِختتام تک پہنچے۔ اِس مقصد کو حاصِل کرنے کے لیے اُس کے پاس کئی راستے تھے۔ ایک راستہ یہ تھا کہ وہ خُود جاپان کے اندر اپنی فوجیں بھیج کر ایک فیصلہ کُن حملہ کرے اور اِس کام کے لیے اپنے اِتحادی روس سے مدد حاصِل کرے اور بِالآخر جاپانی حُکومت کو یہ یقین دہانی کرا دے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دے تو اُن کا شِہنشاہی نِظام باقی رکھا جائے گا اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ جاپان پر ایٹمی حملہ کرکے ایسی تباہی پھیلائے کہ جاپان ہتھیار ڈالنے پر مجبُور ہو جائے۔ امریکہ نے اِن دو راستوں میں سے ایٹم بم گِرانے کا راستہ اِس لیے اِختیار کیا کہ اگر پِہلی صُورت اِختیار کی جاتی تو اُسے اندیشہ تھا کہ فتح کے بعد جاپان میں روس کا اثر ونُفوذ بہت بڑھ جائے گا جِسے روکنے کا اُس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اِس لیے اُس نے وہ راستہ اِختیار کیا جو سیاسی اِعتبار سے اُس کے لیے زیادہ مَحفوظ تھا۔ اِس کتابچے کے مُطابِق ایٹم بم کا نشانہ بنانے کے لیے ہیروشیما کے شہری عِلاقے کا اِنتخاب اِس لیے کیا گیا کہ اِس شہری عِلاقے میں اِتحادی فوجوں کا کوئی قیدی موجود نہیں تھا جِسے ایٹم بم سے نُقصان پُہنچنے کا خطرہ ہو۔
بہر کیف! ہُوا یہ کہ 15 اگست 1945ء کی رات کو ہیروشیما پر رات بھر وقفے وقفے سے عام قِسم کی بمباری ہوتی رہی، جِس کی بِنا پر لوگ سو نہیں سکے۔ یہاں تک کہ صُبح ہوئی تو آسمان کے صاف ہونے کا اِعلان ہُوا اور لوگ اپنے اپنے کام پر جانے لگے لیکن سَوا آٹھ بجے کے قریب ریڈیو سے اِعلان ہُوا کہ تین دُشمن طیارے سائیجو تک پُہنچ چُکے ہیں۔ ابھی یہ اِعلان مُکمّل نہیں ہُوا تھا کہ تمام لوگ بیک وقت خوفناک دھماکے، زلزلے، تیز روشنی، جُھلسا دینے والی گرمی، غرض ایٹم بم کی تمام تباہ کاریوں کا شِکار ہو گئے۔
یہ بم ایک امریکی جنگی جہاز بی۔29 نے گِرایا تھا جِس کا نام Enola Gay تھا۔ اِس بم کی لمبائی ایک سو بیس اِنچ، قُطر 28 اِنچ اور وزن 9000 پونڈ تھا۔ یہ گِرنے کے 43 سیکنڈ بعد پھٹا اور اِس سے پانچ کروڑ سینٹی گریڈ گرمی خارِج ہُوئی، گِرتے ہی ایک سیکنڈ کے دس ہزارویں حِصّے میں ایک سو اَسّی فیٹ قُطر کا ایک آگ کا گولہ پیدا ہُوا جِس کا اندرونی درجہ حرارت تین لاکھ سینٹی گریڈ تھا۔ اِسی کے ساتھ پُورے شہر پر 8.2 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زلزلے کی شدید لہر آئی جِس میں بیس ہزار ٹن کے برابر تباہ کُن طاقت تھی۔
اِس دھماکے کے نتیجے میں ڈھائی کلومیٹر کے عِلاقے کی تمام عمارتیں تو راکھ بن گئیں، ہر جگہ آگ بھڑک اُٹھی، کھڑکیوں کے شیشے دو میل دور تک بِکھر گئے، زلزلے کے جھٹکے سینتیس میل تک مَحسوس کیے گئے۔ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی رُوشنی کم اَز کم آٹھ میل تک نظر آئی۔ پُورے شہر پر دھویں کا بادل ایک چھتری کی شکل میں چھا گیا۔ وقفے وقفے سے زمین سے آگ کے سُتون فِضاء میں بُلند ہوتے رہے۔ لوگوں نے پناہ لینے کے لیے شہر کے وسط سے گُزرتے ہوئے دریا میں چھلانگیں لگائیں لیکن دریا میں گرداب پیدا ہو چُکا تھا، اِس لیے وہ سب وہیں ڈوب کر مَر گئے اور بعد میں دریا میں اِتنی لاشیں بِکھری پڑی تھیں کہ ہر طرف سطح سے پانی بمُشکِل نظر آتا تھا۔ سڑکوں پر لاشیں بِکھری پڑی تھیں، بعض حاملہ عورتوں کی لاشیں اِس طرح پائی گئیں کہ اُن کا پیٹ پَھٹا ہُوا تھا اور وہ بچہ اُن کے برابر پڑا ہُوا تھا جو پیدا ہونے سے پہلے ہی رُخصت ہو چُکا تھا۔
بم گِرنے کے پندرہ مِنٹ بعد ایک عجیب قِسم کی سیاہ بارِش برسنی شروع ہُوئی جِس میں کالے کالے اُولے تھے، یہ بارِش مِیلوں تک سَوا چار گھنٹے برستی رہی اور جِن کے سروں پر یہ بارِش زیادہ مِقدار میں پڑی اُن کے سروں کے بال اُڑ گئے اور جِن لوگوں کے پیٹ میں اِس کا پانی چلا گیا وہ چھ مہینے تک پیٹ کی بیماریوں میں مُبتلا رہے۔ گیارہ بجے دوپہر سے دو بجے سہ پہر تک شہر میں ہوا کے بگولے رَقص کرتے رہے جِن سے آس پاس کی آبادیوں کی چھتیں اُڑ گئیں۔ ایک اِنچ مُوٹی پلیٹیں بھی اِن بگولوں کی زَد میں آکر اُڑتی نظر آئیں اور بعض انسان بھی ہوا میں اُڑ کر ایک دریا کے پُل سے جا ٹکرائے۔ دریاؤں میں پیدا ہونے والے بگولوں نے پانی کو آٹھ آٹھ فُٹ اُوپر اُٹھا دیا۔
بم گِرنے کی جگہ سے کم اَز کم ڈھائی کلومیٹر دور جو لوگ زندہ بچ رہے تھے، وہ بھی یا تو مَذکورہ بالا تباہ کاریوں کے نتیجے میں زخمی ہُوئے یا تابکاری کے اثرات سے اُن کے جِسم جُھلس گئے، جِن تک تابکاری اثرات زیادہ شِدّت کے ساتھ پُہنچے، اُن کے جِسم کا گوشت بہنے لگا۔ بہت سے شدید بُخار، دَستوں اور اُلٹیوں میں مُبتلا ہوئے جو بکثرت جان لیوا ثابت ہوئیں۔ چونکہ بیشتر ہسپتال تباہ اور اُن کے ڈاکٹر ہلاک ہو چُکے تھے، اِس لیے اِن زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ہنگامی طور پر جو اِمدادی مراکِز قائم کئے گئے وہ سراسر ناکافی تھے۔
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کے تین دن بعد امریکہ نے دوسرا ایٹم بم ناگاساکی پر گِرایا۔ یہ چونکہ نِسبتاً چھوٹا عِلاقہ تھا، اِس لیے اِس میں ہیروشیما کے مُقابلے میں کم تباہی ہُوئی، ہلاک ہونے والوں کی تعداد اُنتالیس ہزار اور زخمیوں کی تعداد پچّیس ہزار تھی اور شہر کا چالیس فیصد حِصّہ تباہ ہُوا تھا۔
جِس میوزیم میں ہم تھے اُس میں ایٹم بم کی تباہ کاریوں کے مُختلِف مناظِر دِکھانے کے ساتھ یہ لِکھا ہے کہ اِن مناظِر اور حالات کو دِکھانے کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں ہیروشیما سے سبق حاصِل کرکے اِس بات کی کوشِش کریں کہ ہیروشیما کا اَلمیّہ دُنیا کی کِسی اور جگہ رُونُما نہ ہُو اور پُوری اِنسانیت مِل کر دُنیا کو ایٹمی حملوں کا نشانہ بننے سے روکنے کے لیے کام کرے۔
میرے پاس انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کا جو قدیم ایڈیشن (مطبوعہ 1950ء) تھا، اُس میں ایٹم بم کا تعارُف کراتے ہُوئے اِس کی تباہ کاری کا حال تو بعد میں بیان کِیا گیا تھا لیکن مقالے کا آغاز چرچل کے اِس جُملے سے کِیا گیا تھا کہ پِہلا ایٹم بم جو ہیروشیما پر گِرایا گیا تھا۔ اُس کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ اُس نے دس لاکھ امریکیوں کی جان بَچائی۔کیونکہ اگر ایٹم بم نہ گِرتا تو جنگ جاری رِہتی اور اِس میں دس لاکھ امریکی مَر جاتے۔ اندازہ لگائیے کہ اپنی ہلاکت خِیز کارروائیوں کی تاوِیل کرنے کے لیے یہ لوگ کِس حد تک جا سکتے ہیں۔(از مُفتی تقی عُثمانی) "
انسانی حقوق عالمی طاقتوں کا ڈھکوسلا ہے جو کمزوریوں کو بیوقوف بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے......
"اگر نیورمبرگ کے قوانین لاگو ہوتے تو جنگ کے بعد ہر امریکی صدر کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔"
نوم چومسکی
"If the Nuremberg laws were applied, then every post-war American president would have been hanged.
فرانسیسی فلسفی پروڈھون(Proudhon) نے کہا تھا:
Whoever invokes humanity, wants to cheat.
"جو بھی انسانیت کا نام لیوا ہے، وہ دھوکہ دینا چاہتا ہے۔"
کارل شمٹ( Carl Schmitt) بھی ایک بہت گہری بات کہتے ہیں:
To confiscate the word humanity, to invoke and monopolize such a term probably has certain incalculable effects, such as denying the enemy the quality of being human and declaring him to be an outlaw of humanity.
"انسانیت کے لفظ کو غضب کرلینا، اس کے نام پر نعرے بازی کرنا اور اس کا سچّےعلمبردار بن جانے کے کئی ناقابلِ بیان اثرات ہیں،مثال کے طور پر آپ اپنے دشمن کو انسان ہونے کی خصوصیت سے ہی خارج کردیتے ہیں اور اس کو انسانیت کا ایک مجرم بنا کر پیش کردیتے ہیں۔"
[The Concept of the Political, 54]
دوسرے ممالک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر
پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جبکہ خود یہ سب سے بڑے انسانیت کے مجرم ہیں۔
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
"
کیا تم نے نہیں دیکھا
جنہوں نے موت سے بچنے کے لئے
ایمان چھوڑا، ج ھ ہ اد چھوڑا اور ک اف روں کی مدد کی،
مگر وہ موت سے نہ بچ سکے
جبکہ جنہوں نے موت کو للکارا
اور اپنے دین پر قائم رہے،
مگر موت ان پر فوراً نہیں آئی،
بلکہ اپنے وقت پر آئی اور وہ بھی زندگی کا پیغام بن کر۔۔۔۔۔۔
.
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
*ﻣﺠﺎﮨﺪ اﻭر ﻓﻮﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ و ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ۔*
ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﮍﻭﯼ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ہی ہے ،
90 ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ 10 ﻓﯿﺼﺪ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﺠﺎﮨﺪ 100 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﻮﺟﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺟﺐ ﻟﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﺎﻟﺺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ
ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻓﻮﺟﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ۔
ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ مخصوص دورانیہ کی۔
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ۔ 24 ﮔﮭﻨﭩﮯ کی
ﻓﻮﺟﯽ کے ہتھیار کیﮔﻮﻟﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﺳﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ کے ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﻓﻮﺟﯽ ﺟﺐ ﺩﻝ ﮐﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺧﻂ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﻮﺟﯽ اپنے افسر ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔. . . . . . . . . . . . . انشاءاللہ ایکــٓ جمعــٓہ بیت المقدســٓ میں ⚔️*🇵🇸🇵🇸🇵🇸 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
Subscribe my YouTube channel @92islamzindabad
@muhammadshamsulhassan
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
Subscribe. @92islamzindabad
@muhammadshamsulhassan
1 year ago | [YT] | 4
View 0 replies
Muhammad Shams ul Hassan
@92islamzindabad @muhammadshamsulhassan
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more