چولہے کی آگ جیسے دل کی حرارت بن گئی تھی، اور مٹی کی دیواروں کے اندر ایک سادہ سی عورت کی محبت نے ایک عام سی شام کو یادگار بنا دیا تھا۔
چھوٹے سے گاؤں کی ایک کچی مٹی کی جھونپڑی، جس کی دیواروں پر پیلے رنگ کی مٹی لیپی گئی تھی، اور چھت کھجور کی پتوں سے بنی ہوئی تھی۔ شام کا وقت تھا، سورج دھیرے دھیرے مغرب کی طرف جھک رہا تھا اور ہلکی سی ٹھنڈی ہوا جھونپڑی کے پردے کو ہلکا سا ہلا رہی تھی۔
صفیہ بی بی، جو کہ پچاس برس کی ایک دیہاتی خاتون تھیں، ہاتھ میں پیتل کی پرانی دیگچی لیے چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں۔ ان کے چہرے پر محنت کی جھریاں تھیں، مگر آنکھوں میں سکون اور محبت کی چمک تھی۔ آج انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کے لیے میٹھے چاول بنائیں گی، وہی چاول جو ان کے مرحوم شوہر کو بہت پسند تھے۔
چولہے میں لکڑیاں دھیمی دھیمی آگ سے سلگ رہی تھیں۔ صفیہ نے سب سے پہلے چاول دھو کر ایک طرف رکھے۔ پھر گڑ کا ٹکڑا مٹی کے ہنڈے میں پانی کے ساتھ گرم ہونے کے لیے رکھ دیا۔ گڑ کی خوشبو نے جیسے ہی فضا میں اپنی مٹھاس پھیلائی، جھونپڑی میں ایک الگ سی رونق آ گئی۔
صفیہ چاولوں کو دیگچی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں، اور گڑ کا شیرہ اس میں شامل کر کے چمچ آہستہ آہستہ ہلاتی رہیں۔ چولہے کی آنچ، گڑ کی مہک، اور چاولوں کا بھاپ میں پکنا، سب کچھ جیسے ایک سادہ مگر خوبصورت نغمہ بن چکا تھا۔
باہر بچے گلی میں کھیلتے ہوئے کہہ رہے تھے،
"دادی اماں میٹھے چاول بنا رہی ہیں! دادی اماں کے چاول دنیا کے سب سے مزیدار ہوتے ہیں!"
چاول تیار ہونے پر صفیہ نے ایک پرانی تھالی میں انہیں نکالا، اوپر سے تھوڑے سے بادام اور کشمش ڈالے جو ان کے لیے بہت قیمتی تھے، کیونکہ وہ مہینے میں ایک ہی بار بازار سے آتے تھے۔
جب سب گھر والے دسترخوان پر جمع ہوئے، تو صفیہ کی آنکھوں میں خوشی کی نمی تھی۔ وہ خوش تھیں کہ محبت سے بنائے گئے چاول صرف بھوک ہی نہیں مٹاتے، بلکہ رشتوں کو بھی جوڑتے ہیں۔
ایسی عورتیں ہمارے معاشرے کی خاموش طاقت ہوتی ہیں، جو بغیر کسی شکایت کے ہر دن کو محبت سے جیتی ہیں، اور دوسروں کے لیے زندگی کو مزیدار بنا دیتی ہیں۔
صبح جب سورج نے نرم روشنی بکھیرنی شروع کی، گاؤں کی فضا میں مٹی، دھوئیں، اور تازہ دودھ کی خوشبو گھلنے لگی۔ گایوں کے باڑے میں حرکت شروع ہوئی، اور ان کے ساتھ ہی جاگی ایک محنتی عورت — دیسی لباس میں ملبوس، گہرے جامنی اور سبز رنگ کے خوبصورت کپڑے پہنے، آنکھوں میں سکون اور ہاتھوں میں ذمہ داری لیے۔
وہ عورت چولہے کے قریب بیٹھی تھی، جہاں لکڑیاں سلگ رہی تھیں اور چولہے کی آنچ گرم ہو چکی تھی۔ پاس رکھے مٹی کے برتنوں میں ہر وہ شے موجود تھی جو ایک بھرپور دیسی ناشتے کے لیے درکار ہوتی ہے: اُبلے ہوئے آلو، انڈے، دھنیا، مصالحے، ڈبل روٹی کے قتلے، بریڈ کرمز، نمک، لال مرچ، ہلدی، اور ایک پیالے میں چائے بھی۔
وہ آلو چھیل کر احتیاط سے ایک نیلے پیالے میں رکھ رہی تھی، جیسے ہر آلو میں وہ اپنے بچوں کے لیے محبت تراش رہی ہو۔ اُس کے سامنے رکھا کڑاہی نما دیگچی میں تیل گرم ہونے کو تیار تھا۔ آج شاید آلو کے کباب یا انڈے کے کٹلس بننے والے تھے — وہ بھی لکڑی کے چولہے پر، جہاں ہر چیز کا ذائقہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی ہوٹل یا مہنگی جگہ کا ناشتہ نہیں تھا۔ یہ خالص محبت سے بننے والا، خالص دیسی کھانا تھا۔ جہاں چولہے کی آنچ صرف لکڑی سے نہیں، عورت کے دل کی گرمی سے جلتی تھی۔ جہاں مصالحے ہاتھ سے پیسے جاتے ہیں، اور ہر نوالے میں خلوص شامل ہوتا ہے۔
یہ عورت صرف ناشتہ نہیں بنا رہی تھی — وہ ایک پورے خاندان کے دن کی شروعات کو خوشیوں سے بھر رہی تھی۔
کلیجی پکی، خوشبو پھیلی، فضا میں جیسے ماں کی دعاؤں کی سوغات جھلکی۔
اک مٹی کا پیالہ، اک ذائقہ بھرپور، یہ کوئی کھانا نہیں، محبت کا ہے ظہور۔
ایک گاؤں کی سادہ مگر خوبصورت صبح تھی۔ دھوپ نے ابھی زمین کو چھوا ہی تھا اور فضا میں تازہ مٹی، گائے کے باڑے اور دھوئیں کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔ پس منظر میں گائیں چر رہی تھیں اور ایک معصوم بچہ گایوں کے پاس کھیل رہا تھا۔ اسی پرسکون ماحول میں ایک محنتی عورت، جو دیسی لباس میں ملبوس تھی، اپنے ہاتھوں سے لکڑی کے چولہے پر ناشتہ تیار کر رہی تھی — دیسی طریقے سے بنی ہوئی "کلیجی"۔
وہ عورت، جس کا چہرہ دھوپ اور محنت کی جھریوں سے مزین تھا، بڑے سکون اور محبت سے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ سامنے مٹی کے برتنوں میں ہر چیز ترتیب سے رکھی تھی: کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچیں، ہلدی، لال مرچ، دھنیا اور تازہ کلیجی۔ ایک طرف دیسی گھی کا پیالہ بھی رکھا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آج کا کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ ذائقے اور محبت سے بھرپور ہونے والا ہے۔
چولہے کی آگ میں لکڑیاں سلگ رہی تھیں، شعلے ناچتے ہوئے برتن کے نیچے اپنی گرمی دے رہے تھے۔ وہ عورت برتن کو چولہے پر رکھ کر ہلکی آنچ پر پیاز سنہری کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی مہارت بتا رہی تھی کہ اسے یہ کام برسوں سے آتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ٹماٹر اور مصالحے بھی شامل کیے گئے اور جلد ہی کلیجی کی خوشبو پورے ماحول میں پھیلنے لگی۔
کچھ ہی وقت میں، وہ لذیذ کلیجی تیار ہو چکی تھی۔ عورت نے بڑے پیار سے ایک مٹی کے چھوٹے پیالے میں کلیجی نکالی اور خود بھی تسلی سے چکھا، جیسے وہ صرف ایک کھانا نہیں، بلکہ اپنی محبت اور محنت کا صلہ چکھ رہی ہو۔
یہ صرف ایک عام دن کا کھانا نہیں تھا، بلکہ اس عورت کی زندگی کا عکس تھا — سادگی، محنت، محبت، اور اپنی جڑوں سے جڑا ہوا کلچر۔
گاؤں کی مٹی سے جُڑی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خوشی ہمیشہ بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان چھوٹے چھوٹے لمحات میں چھپی ہوتی ہے جہاں محبت، خلوص اور سچائی سے زندگی بسر کی جاتی ہے۔
ایک کچے گاؤں میں، جہاں وقت جیسے تھم سا گیا تھا، مٹی کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی، دیواریں مٹی سے لیپی گئی تھیں، اور صحن میں ایک طرف مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا۔ اسی مٹی کے چولہے پر دوپہر کے کھانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
زلیخا بی بی، جن کے ہاتھوں میں محنت کی خوشبو رچی ہوئی تھی، آج دوپہر کے کھانے کے لیے ہرے چنے پکا رہی تھیں۔ صبح ہی صبح وہ قریبی کھیت سے ہرے بھرے چنے توڑ لائی تھیں — بالکل تازہ، جیسے سبز موسم خود کسی برتن میں آ گیا ہو۔
انہوں نے چولہے میں لکڑیاں سلگائیں، ہلکی ہلکی آگ جلنے لگی، اور ایک مٹی کی ہانڈی چولہے پر رکھ دی۔ تھوڑی دیر بعد، پیاز، لہسن اور ہلدی کی خوشبو ہوا میں گھلنے لگی۔ زلیخا بی بی نے ہرے چنے ہانڈی میں ڈالے، اور دھیمی آنچ پر پکنے کے لیے چھوڑ دیے۔ وہ چنے ہولے ہولے اپنی خوشبو بکھیرنے لگے، جیسے بچپن کی کوئی بھولی بسری یاد واپس آ گئی ہو۔
آس پاس کے صحن میں مرغیاں چہچہا رہی تھیں، کہیں دور سے کسی بیل کی گھنٹیوں کی آواز آ رہی تھی، اور زلیخا بی بی ایک پرانے کپڑے سے پنکھا جھلتے ہوئے، اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھیں:
"بیٹا، دیکھو، یہ چنے جب اچھی طرح گل جائیں، تو اوپر سے ہرا دھنیا ڈال دینا۔ خوشبو اور بڑھ جائے گی۔"
دوپہر ہوتے ہی ان کے شوہر کھیتوں سے لوٹے، اور کچے فرش پر بیٹھ کر ہری چنوں کے ساتھ تازہ تندور کی روٹی کھانے لگے۔ سادہ زندگی، سادہ کھانا — مگر اس میں جو سکون تھا، وہ کسی شہر کے مہنگے ہوٹل کے کھانے میں کہاں؟
زلیخا بی بی نے مسکرا کر سب کو کھاتے دیکھا۔ ان کی محنت، محبت، اور مٹی کے چولہے سے اٹھی خوشبو سب کے دلوں کو گرما گئی۔
نانی اماں نہ صرف کھانا پکا رہی تھیں، بلکہ اپنے پوتے کو صبر، محنت، اور محبت کا سبق بھی دے رہی تھیں۔ کچے چولہے پر پکی وہ خوشبو، سادگی میں چھپی ہوئی ایک پوری دنیا کی کہانی سنا رہی تھی۔
ایک خوشگوار صبح تھی۔ سورج کی روشنی کھیتوں پر پھیل چکی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ ایک چھوٹی سی کچی دیوار کے سائے میں، نانی اماں اپنے پوتے کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
نانی اماں مٹی کے چولہے پر قلیجی برگر تیار کر رہی ہیں۔ لکڑیوں سے جلتا ہوا آگ کا شعلہ گرم توے پر تیل کو اُبال کر۔ نانی نے مٹی کے پیالے سے تازہ سبزیاں نکالیں ۔ شملہ مرچ، گاجر، پیاز ۔ اور احتیاط سے تیل میں ڈال دیں۔ پوتا اُن کے پاس بیٹھا، دلچسپی سے دیکھ رہا تھا، جیسے ہر قدم سیکھ رہا ہو۔
نانی اماں نے سبزیاں توا پر اچھی طرح بھون لیں۔ وہ ہاتھ سے روایتی طریقے سے چمچہ چلا رہی تھیں، اور اُن کے چہرے پر شفقت کی جھلک نمایاں تھی۔ بچہ اب بھی اُسی انہماک سے دیکھ رہا تھا، جیسے وہ جانتا ہو کہ نانی کے ہاتھ کا کھانا سب سے لذیذ ہوتا ہے۔ جب نانی نے نرم گرم بن کو کھولا، اور اندر تازہ تیار شدہ سبزی کا مصالحہ بھر دیا۔ یہ کوئی عام سینڈوچ نہ تھا، یہ نانی کی محبت سے بھرا ناشتہ تھا۔ مٹی کی پلیٹوں میں رکھا یہ کھانا، کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی ڈش سے کم نہ لگ رہا تھا۔
گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ صحن میں نیم کا درخت سایہ کیے کھڑا تھا اور اس کے نیچے مٹی کا چولہا دھواں اگل رہا تھا۔ دھوپ نرم سی پھیلی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا میں مٹی کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
بی بی رقیہ آج بینگن کا بھرتا بنانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ وہ ہاتھ میں چھری اور ٹوکری لیے باورچی خانے میں داخل ہوئیں جہاں تازہ سبزیاں رکھی تھیں۔ انہوں نے دو بڑے گول بینگن نکالے اور انہیں دھو کر لکڑی کی تختی پر رکھ دیا۔ پھر دھیرے دھیرے انہیں گول گول قتلے میں کاٹنا شروع کر دیا۔
ایک طرف پرانا لوہے کا توا چولہے پر چڑھا ہوا تھا، جس پر ہلکی آنچ جل رہی تھی۔ بی بی رقیہ نے بینگن کے قتلے تھوڑے سے نمک اور لال مرچ لگا کر ایک ایک کر کے تیل میں توا پر ڈالنے شروع کر دیے۔ چٹ چٹ کی آواز کے ساتھ خوشبو فضا میں پھیلنے لگی۔ پاس سے گزرتے بچے رک کر سونگھتے اور مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
دوسری طرف، بی بی رقیہ نے دوسرے بینگن کو دہکتے ہوئے مٹی کے چولہے پر بھوننے کے لیے رکھ دیا۔ چولہے سے لکڑی جلنے کی خوشبو آ رہی تھی اور دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ بینگن کی جلد جلنے لگی، لیکن اندر کا گودا نرم ہوتا جا رہا تھا۔
جب بینگن پوری طرح گل گیا، تو بی بی رقیہ نے اسے چولہے سے نکالا، ٹھنڈا کیا، اور ہاتھ سے چھیل کر کچلنا شروع کر دیا۔ ساتھ میں ہری مرچ، لہسن، نمک اور ہرا دھنیا ملا کر ایک زبردست دیسی بھرتا تیار کیا۔
پھر پاتوں میں لپٹا ہوا تازہ پتاؤ بھی چولہے سے اتارا گیا، جس کی بھاپ اڑتی ہوئی خوشبو دار تھی۔ پتاؤ کے ساتھ بینگن کا بھرتا اور توے والے قتلے، ایک مٹی کی پلیٹ میں رکھ کر وہ صحن میں بیٹھ گئیں۔
ہوا میں کھیتوں کی مہک، چولہے کا دھواں، اور کھانے کی خوشبو مکس ہو کر ایک مکمل دیہاتی تصویر بنا رہی تھی — سادگی، محبت، اور محنت سے بھرپور۔
یہ کہانی عورت کے کھانا پکانے کی نہیں، بلکہ دیہات کی زندگی، سادگی، فطرت کے قریب رہنے، اور خاندانی محبت کی عکاسی ہے۔ گرمیوں کی دوپہر تھی۔ سورج سر پر چمک رہا تھا، لیکن آموں کے گھنے باغ میں ٹھنڈی چھاؤں نے موسم کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔ آموں کے درختوں سے ہلکی ہلکی خوشبو آ رہی تھی، اور درختوں پر کوئل اپنی مدھر آواز میں گنگنا رہی تھی۔ ایسے میں ایک دیہاتی عورت، جس نے سادہ سا لباس اور سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا، باغ کے ایک کونے میں مٹی کے چولہے پر بیٹھ کر ٹنڈے پکا رہی تھی۔ وہ روز صبح سویرے اپنے صحن سے آموں کے باغ تک آتی، لکڑیاں جمع کرتی، اور مٹی کا چولہا جلا کر دن کا کھانا تیار کرتی۔ آج اس نے تازہ ٹنڈے کاٹ کر پیاز، ٹماٹر، لہسن اور مصالحوں کے ساتھ پکانے کا سوچا تھا۔ ٹنڈے کے ساتھ تھوڑی سی ہری مرچیں بھی شامل کر دی تھیں تاکہ سالن میں دیسی ذائقہ آ جائے۔
چولہے کے نیچے لکڑیاں جل رہی تھیں، دھواں آم کے درختوں کے پتوں میں سے نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔ خدیجہ اپنے ہاتھوں سے ہنڈیا کو چمچ سے ہلاتی، کبھی کبھی ڈھکن اٹھا کر خوشبو سونگھتی، اور پھر مسکرا دیتی۔ یہ وہ خوشبو تھی جو صرف مٹی، لکڑی، اور محبت سے پکے کھانے میں آتی ہے۔
ساتھ ہی ایک بچی، غالباً اس کی بیٹی، زمین پر بیٹھی آم چھیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پیلے ہو چکے تھے، لیکن چہرے پر خوشی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ تندے کے ساتھ آم کا اچار بھی ہوگا، جو اس کی ماں نے خود بنایا ہے۔
جب سالن تیار ہو گیا، تو خدیجہ نے تازہ پکی روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹیں، سالن کی ہنڈیا اٹھائی، اور آموں کے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھ کر سب کو آواز دی:
"چلو بھئی، کھانے کا وقت ہو گیا ہے!"
سب نے بیٹھ کر آموں کے باغ میں وہ دیسی کھانا کھایا ۔ مٹی کی خوشبو، لکڑی کی آنچ، اور ماں کے ہاتھ کا ذائقہ۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے وقت رک گیا ہو، اور سادگی، محبت، اور قدرتی ماحول نے ایک مکمل تصویر بنا دی ہو۔
جب پہلا نوالہ لیا… تو سب حیران رہ گئے۔ یہ صرف مولی کا پراٹھا نہیں تھا، یہ یادوں میں لپٹا ہوا ایک نیا تجربہ تھا۔
صبح کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی، اور گاؤں کی گلیوں میں ہلکی ہلکی سی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ اماں کچھ بدل کر پکا رھی تھیں۔
پچھلے کئی برسوں سے ناشتہ میں مولی کا چٹپٹا سالن بنتا تھا، جو سب کو بے حد پسند تھا۔ مگر آج… کچھ الگ تھا۔ چولہے پر وہی ہانڈی، وہی لکڑیاں، وہی کچی مٹی کی خوشبو… لیکن سالن کی مہک نہیں آ رہی تھی۔
پوتے پوتیاں سب اُٹھ کر انتظار میں بیٹھے تھے۔ ایک نے پوچھا،
"اماں، آج مولی کا سالن نہیں بن رہا؟"
اماں مسکرائیں، مگر جواب نہ دیا۔ صرف اپنے ہاتھ تیز تیز ہلاتی رہیں۔ آٹے میں مولی، ہری مرچ، دھنیا، اور پیاز گوندھ چکی تھیں۔ ہاتھوں میں مہارت تھی، اور دل میں ایک خاموش خوشی۔
پہلا پراٹھا جب تندور سے نکلا، تو سارا آنگن خوشبو سے مہک گیا۔ گھی میں تلا ہوا خستہ پراٹھا، جس میں مولی کی بھرپور خوشبو تھی، جیسے روایات اور ذائقے کا نیا روپ ہو۔
تب اماں نے کہا:
"آج سوچا… ایک ہی مولی کو ہر سال سالن بنا کر تھک گئی تھی، اب ذرا پراٹھے کا مزہ لو۔"
سب ہنس پڑے۔ اور جب پہلا نوالہ لیا… تو سب حیران رہ گئے۔ یہ صرف مولی کا پراٹھا نہیں تھا، یہ یادوں میں لپٹا ہوا ایک نیا تجربہ تھا۔
🍽️ مولی کا پراٹھا — پرانی خوشبو، نئی پہچان۔
یہ سادہ سا منظر، ایک خاتون کا اپنے صحن میں بیٹھ کر کلیجی پکانا، ہمیں بتاتا ہے کہ کھانے صرف ذائقے کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ثقافت، روایت، اور ماں کے ہاتھ کے پیار کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔
ایک گرم دوپہر تھی۔ سبز کھیتوں کے درمیان مٹی کی دیواروں سے بنی ایک جھونپڑی کے باہر ایک عمر رسیدہ خاتون، جنہوں نے روایتی کپڑے پہنے تھے، چولہے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے پر وقت کی لکیرے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جو ان کی محنت اور تجربے کی گواہی دیتی تھیں۔
ان کے سامنے مختلف مٹی کے پیالوں میں توا کلیجی کے اجزاء سجے ہوئے تھے
ایک بڑے پیالے میں تازہ کلیجی رکھی ہے۔
کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، ہرا دھنیا
نمک، ہلدی، لال مرچ، دھنیا پاؤڈر
اور ایک پیالے میں سرسوں کا تیل
انہوں نے پیاز اور ٹماٹر کلیجی میں شامل کیے، پھر تمام مصالحے، ہری مرچیں اور ہرا دھنیا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اس آمیزے کو خوب اچھی طرح مکس کیا۔ ہاتھوں پر لگا مصالحہ ان کے تجربے کا نشان تھا ۔ یہ کام ان کے لیے صرف کھانا پکانا نہیں، بلکہ ایک روایت کو زندہ رکھنا تھا۔
چولہا لکڑیوں سے جلایا گیا، اور کالی توا کو آگ پر رکھا گیا۔ جیسے ہی تیل گرم ہوا، کلیجی اور مصالحے والا آمیزہ توا پر ڈال دیا گیا۔ تیز چٹخنے کی آواز اور مصالحوں کی خوشبو نے فضا کو مہکا دیا۔
وہ ایک ہاتھ سے کڑچھی سے کلیجی کو الٹ پلٹ کر رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے چولہے کی آنچ کو سنبھال رہی تھیں۔ آنکھوں میں سکون اور دل میں فخر تھا، کیونکہ یہ صرف کھانا نہیں، بلکہ محبت اور مہارت کا امتزاج تھا۔
تھوڑی دیر بعد کلیجی سنہری رنگ میں بدل چکی تھی، مصالحے خوب بھن چکے تھے، اور تیل اوپر آ چکا تھا — یہ دیہی طرز کی "توا کلیجی" تیار ہو چکی تھی۔
یہ سادہ سا منظر، ایک خاتون کا اپنے صحن میں بیٹھ کر کلیجی پکانا، ہمیں بتاتا ہے کہ کھانے صرف ذائقے کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ثقافت، روایت، اور ماں کے ہاتھ کے پیار کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔
ایک گرم دوپہر تھی۔ سبز کھیتوں کے درمیان مٹی کی دیواروں سے بنی ایک جھونپڑی کے باہر ایک عمر رسیدہ خاتون، جنہوں نے روایتی کپڑے پہنے تھے، چولہے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے پر وقت کی لکیرے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جو ان کی محنت اور تجربے کی گواہی دیتی تھیں۔
ان کے سامنے مختلف مٹی کے پیالوں میں توا کلیجی کے اجزاء سجے ہوئے تھے
ایک بڑے پیالے میں تازہ کلیجی رکھی ہے۔
کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، ہرا دھنیا
نمک، ہلدی، لال مرچ، دھنیا پاؤڈر
اور ایک پیالے میں سرسوں کا تیل
انہوں نے پیاز اور ٹماٹر کلیجی میں شامل کیے، پھر تمام مصالحے، ہری مرچیں اور ہرا دھنیا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اس آمیزے کو خوب اچھی طرح مکس کیا۔ ہاتھوں پر لگا مصالحہ ان کے تجربے کا نشان تھا ۔ یہ کام ان کے لیے صرف کھانا پکانا نہیں، بلکہ ایک روایت کو زندہ رکھنا تھا۔
چولہا لکڑیوں سے جلایا گیا، اور کالی توا کو آگ پر رکھا گیا۔ جیسے ہی تیل گرم ہوا، کلیجی اور مصالحے والا آمیزہ توا پر ڈال دیا گیا۔ تیز چٹخنے کی آواز اور مصالحوں کی خوشبو نے فضا کو مہکا دیا۔
وہ ایک ہاتھ سے کڑچھی سے کلیجی کو الٹ پلٹ کر رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے چولہے کی آنچ کو سنبھال رہی تھیں۔ آنکھوں میں سکون اور دل میں فخر تھا، کیونکہ یہ صرف کھانا نہیں، بلکہ محبت اور مہارت کا امتزاج تھا۔
تھوڑی دیر بعد کلیجی سنہری رنگ میں بدل چکی تھی، مصالحے خوب بھن چکے تھے، اور تیل اوپر آ چکا تھا — یہ دیہی طرز کی "توا کلیجی" تیار ہو چکی تھی۔
Yariیاری
چولہے کی آگ جیسے دل کی حرارت بن گئی تھی، اور مٹی کی دیواروں کے اندر ایک سادہ سی عورت کی محبت نے ایک عام سی شام کو یادگار بنا دیا تھا۔
چھوٹے سے گاؤں کی ایک کچی مٹی کی جھونپڑی، جس کی دیواروں پر پیلے رنگ کی مٹی لیپی گئی تھی، اور چھت کھجور کی پتوں سے بنی ہوئی تھی۔ شام کا وقت تھا، سورج دھیرے دھیرے مغرب کی طرف جھک رہا تھا اور ہلکی سی ٹھنڈی ہوا جھونپڑی کے پردے کو ہلکا سا ہلا رہی تھی۔
صفیہ بی بی، جو کہ پچاس برس کی ایک دیہاتی خاتون تھیں، ہاتھ میں پیتل کی پرانی دیگچی لیے چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں۔ ان کے چہرے پر محنت کی جھریاں تھیں، مگر آنکھوں میں سکون اور محبت کی چمک تھی۔ آج انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کے لیے میٹھے چاول بنائیں گی، وہی چاول جو ان کے مرحوم شوہر کو بہت پسند تھے۔
چولہے میں لکڑیاں دھیمی دھیمی آگ سے سلگ رہی تھیں۔ صفیہ نے سب سے پہلے چاول دھو کر ایک طرف رکھے۔ پھر گڑ کا ٹکڑا مٹی کے ہنڈے میں پانی کے ساتھ گرم ہونے کے لیے رکھ دیا۔ گڑ کی خوشبو نے جیسے ہی فضا میں اپنی مٹھاس پھیلائی، جھونپڑی میں ایک الگ سی رونق آ گئی۔
صفیہ چاولوں کو دیگچی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں، اور گڑ کا شیرہ اس میں شامل کر کے چمچ آہستہ آہستہ ہلاتی رہیں۔ چولہے کی آنچ، گڑ کی مہک، اور چاولوں کا بھاپ میں پکنا، سب کچھ جیسے ایک سادہ مگر خوبصورت نغمہ بن چکا تھا۔
باہر بچے گلی میں کھیلتے ہوئے کہہ رہے تھے،
"دادی اماں میٹھے چاول بنا رہی ہیں! دادی اماں کے چاول دنیا کے سب سے مزیدار ہوتے ہیں!"
چاول تیار ہونے پر صفیہ نے ایک پرانی تھالی میں انہیں نکالا، اوپر سے تھوڑے سے بادام اور کشمش ڈالے جو ان کے لیے بہت قیمتی تھے، کیونکہ وہ مہینے میں ایک ہی بار بازار سے آتے تھے۔
جب سب گھر والے دسترخوان پر جمع ہوئے، تو صفیہ کی آنکھوں میں خوشی کی نمی تھی۔ وہ خوش تھیں کہ محبت سے بنائے گئے چاول صرف بھوک ہی نہیں مٹاتے، بلکہ رشتوں کو بھی جوڑتے ہیں۔
2 months ago | [YT] | 34
View 0 replies
Yariیاری
ایسی عورتیں ہمارے معاشرے کی خاموش طاقت ہوتی ہیں، جو بغیر کسی شکایت کے ہر دن کو محبت سے جیتی ہیں، اور دوسروں کے لیے زندگی کو مزیدار بنا دیتی ہیں۔
صبح جب سورج نے نرم روشنی بکھیرنی شروع کی، گاؤں کی فضا میں مٹی، دھوئیں، اور تازہ دودھ کی خوشبو گھلنے لگی۔ گایوں کے باڑے میں حرکت شروع ہوئی، اور ان کے ساتھ ہی جاگی ایک محنتی عورت — دیسی لباس میں ملبوس، گہرے جامنی اور سبز رنگ کے خوبصورت کپڑے پہنے، آنکھوں میں سکون اور ہاتھوں میں ذمہ داری لیے۔
وہ عورت چولہے کے قریب بیٹھی تھی، جہاں لکڑیاں سلگ رہی تھیں اور چولہے کی آنچ گرم ہو چکی تھی۔ پاس رکھے مٹی کے برتنوں میں ہر وہ شے موجود تھی جو ایک بھرپور دیسی ناشتے کے لیے درکار ہوتی ہے: اُبلے ہوئے آلو، انڈے، دھنیا، مصالحے، ڈبل روٹی کے قتلے، بریڈ کرمز، نمک، لال مرچ، ہلدی، اور ایک پیالے میں چائے بھی۔
وہ آلو چھیل کر احتیاط سے ایک نیلے پیالے میں رکھ رہی تھی، جیسے ہر آلو میں وہ اپنے بچوں کے لیے محبت تراش رہی ہو۔ اُس کے سامنے رکھا کڑاہی نما دیگچی میں تیل گرم ہونے کو تیار تھا۔ آج شاید آلو کے کباب یا انڈے کے کٹلس بننے والے تھے — وہ بھی لکڑی کے چولہے پر، جہاں ہر چیز کا ذائقہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی ہوٹل یا مہنگی جگہ کا ناشتہ نہیں تھا۔ یہ خالص محبت سے بننے والا، خالص دیسی کھانا تھا۔ جہاں چولہے کی آنچ صرف لکڑی سے نہیں، عورت کے دل کی گرمی سے جلتی تھی۔ جہاں مصالحے ہاتھ سے پیسے جاتے ہیں، اور ہر نوالے میں خلوص شامل ہوتا ہے۔
یہ عورت صرف ناشتہ نہیں بنا رہی تھی — وہ ایک پورے خاندان کے دن کی شروعات کو خوشیوں سے بھر رہی تھی۔
2 months ago | [YT] | 39
View 0 replies
Yariیاری
کلیجی پکی، خوشبو پھیلی، فضا میں جیسے ماں کی دعاؤں کی سوغات جھلکی۔
اک مٹی کا پیالہ، اک ذائقہ بھرپور، یہ کوئی کھانا نہیں، محبت کا ہے ظہور۔
ایک گاؤں کی سادہ مگر خوبصورت صبح تھی۔ دھوپ نے ابھی زمین کو چھوا ہی تھا اور فضا میں تازہ مٹی، گائے کے باڑے اور دھوئیں کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔ پس منظر میں گائیں چر رہی تھیں اور ایک معصوم بچہ گایوں کے پاس کھیل رہا تھا۔ اسی پرسکون ماحول میں ایک محنتی عورت، جو دیسی لباس میں ملبوس تھی، اپنے ہاتھوں سے لکڑی کے چولہے پر ناشتہ تیار کر رہی تھی — دیسی طریقے سے بنی ہوئی "کلیجی"۔
وہ عورت، جس کا چہرہ دھوپ اور محنت کی جھریوں سے مزین تھا، بڑے سکون اور محبت سے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ سامنے مٹی کے برتنوں میں ہر چیز ترتیب سے رکھی تھی: کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچیں، ہلدی، لال مرچ، دھنیا اور تازہ کلیجی۔ ایک طرف دیسی گھی کا پیالہ بھی رکھا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آج کا کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ ذائقے اور محبت سے بھرپور ہونے والا ہے۔
چولہے کی آگ میں لکڑیاں سلگ رہی تھیں، شعلے ناچتے ہوئے برتن کے نیچے اپنی گرمی دے رہے تھے۔ وہ عورت برتن کو چولہے پر رکھ کر ہلکی آنچ پر پیاز سنہری کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی مہارت بتا رہی تھی کہ اسے یہ کام برسوں سے آتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ٹماٹر اور مصالحے بھی شامل کیے گئے اور جلد ہی کلیجی کی خوشبو پورے ماحول میں پھیلنے لگی۔
کچھ ہی وقت میں، وہ لذیذ کلیجی تیار ہو چکی تھی۔ عورت نے بڑے پیار سے ایک مٹی کے چھوٹے پیالے میں کلیجی نکالی اور خود بھی تسلی سے چکھا، جیسے وہ صرف ایک کھانا نہیں، بلکہ اپنی محبت اور محنت کا صلہ چکھ رہی ہو۔
یہ صرف ایک عام دن کا کھانا نہیں تھا، بلکہ اس عورت کی زندگی کا عکس تھا — سادگی، محنت، محبت، اور اپنی جڑوں سے جڑا ہوا کلچر۔
گاؤں کی مٹی سے جُڑی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خوشی ہمیشہ بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان چھوٹے چھوٹے لمحات میں چھپی ہوتی ہے جہاں محبت، خلوص اور سچائی سے زندگی بسر کی جاتی ہے۔
2 months ago | [YT] | 30
View 1 reply
Yariیاری
ایک کچے گاؤں میں، جہاں وقت جیسے تھم سا گیا تھا، مٹی کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی، دیواریں مٹی سے لیپی گئی تھیں، اور صحن میں ایک طرف مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا۔ اسی مٹی کے چولہے پر دوپہر کے کھانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
زلیخا بی بی، جن کے ہاتھوں میں محنت کی خوشبو رچی ہوئی تھی، آج دوپہر کے کھانے کے لیے ہرے چنے پکا رہی تھیں۔ صبح ہی صبح وہ قریبی کھیت سے ہرے بھرے چنے توڑ لائی تھیں — بالکل تازہ، جیسے سبز موسم خود کسی برتن میں آ گیا ہو۔
انہوں نے چولہے میں لکڑیاں سلگائیں، ہلکی ہلکی آگ جلنے لگی، اور ایک مٹی کی ہانڈی چولہے پر رکھ دی۔ تھوڑی دیر بعد، پیاز، لہسن اور ہلدی کی خوشبو ہوا میں گھلنے لگی۔ زلیخا بی بی نے ہرے چنے ہانڈی میں ڈالے، اور دھیمی آنچ پر پکنے کے لیے چھوڑ دیے۔ وہ چنے ہولے ہولے اپنی خوشبو بکھیرنے لگے، جیسے بچپن کی کوئی بھولی بسری یاد واپس آ گئی ہو۔
آس پاس کے صحن میں مرغیاں چہچہا رہی تھیں، کہیں دور سے کسی بیل کی گھنٹیوں کی آواز آ رہی تھی، اور زلیخا بی بی ایک پرانے کپڑے سے پنکھا جھلتے ہوئے، اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھیں:
"بیٹا، دیکھو، یہ چنے جب اچھی طرح گل جائیں، تو اوپر سے ہرا دھنیا ڈال دینا۔ خوشبو اور بڑھ جائے گی۔"
دوپہر ہوتے ہی ان کے شوہر کھیتوں سے لوٹے، اور کچے فرش پر بیٹھ کر ہری چنوں کے ساتھ تازہ تندور کی روٹی کھانے لگے۔ سادہ زندگی، سادہ کھانا — مگر اس میں جو سکون تھا، وہ کسی شہر کے مہنگے ہوٹل کے کھانے میں کہاں؟
زلیخا بی بی نے مسکرا کر سب کو کھاتے دیکھا۔ ان کی محنت، محبت، اور مٹی کے چولہے سے اٹھی خوشبو سب کے دلوں کو گرما گئی۔
2 months ago | [YT] | 26
View 1 reply
Yariیاری
نانی اماں نہ صرف کھانا پکا رہی تھیں، بلکہ اپنے پوتے کو صبر، محنت، اور محبت کا سبق بھی دے رہی تھیں۔ کچے چولہے پر پکی وہ خوشبو، سادگی میں چھپی ہوئی ایک پوری دنیا کی کہانی سنا رہی تھی۔
ایک خوشگوار صبح تھی۔ سورج کی روشنی کھیتوں پر پھیل چکی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ ایک چھوٹی سی کچی دیوار کے سائے میں، نانی اماں اپنے پوتے کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
نانی اماں مٹی کے چولہے پر قلیجی برگر تیار کر رہی ہیں۔ لکڑیوں سے جلتا ہوا آگ کا شعلہ گرم توے پر تیل کو اُبال کر۔ نانی نے مٹی کے پیالے سے تازہ سبزیاں نکالیں ۔ شملہ مرچ، گاجر، پیاز ۔ اور احتیاط سے تیل میں ڈال دیں۔ پوتا اُن کے پاس بیٹھا، دلچسپی سے دیکھ رہا تھا، جیسے ہر قدم سیکھ رہا ہو۔
نانی اماں نے سبزیاں توا پر اچھی طرح بھون لیں۔ وہ ہاتھ سے روایتی طریقے سے چمچہ چلا رہی تھیں، اور اُن کے چہرے پر شفقت کی جھلک نمایاں تھی۔ بچہ اب بھی اُسی انہماک سے دیکھ رہا تھا، جیسے وہ جانتا ہو کہ نانی کے ہاتھ کا کھانا سب سے لذیذ ہوتا ہے۔ جب نانی نے نرم گرم بن کو کھولا، اور اندر تازہ تیار شدہ سبزی کا مصالحہ بھر دیا۔ یہ کوئی عام سینڈوچ نہ تھا، یہ نانی کی محبت سے بھرا ناشتہ تھا۔ مٹی کی پلیٹوں میں رکھا یہ کھانا، کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی ڈش سے کم نہ لگ رہا تھا۔
2 months ago | [YT] | 35
View 1 reply
Yariیاری
گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ صحن میں نیم کا درخت سایہ کیے کھڑا تھا اور اس کے نیچے مٹی کا چولہا دھواں اگل رہا تھا۔ دھوپ نرم سی پھیلی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا میں مٹی کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
بی بی رقیہ آج بینگن کا بھرتا بنانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ وہ ہاتھ میں چھری اور ٹوکری لیے باورچی خانے میں داخل ہوئیں جہاں تازہ سبزیاں رکھی تھیں۔ انہوں نے دو بڑے گول بینگن نکالے اور انہیں دھو کر لکڑی کی تختی پر رکھ دیا۔ پھر دھیرے دھیرے انہیں گول گول قتلے میں کاٹنا شروع کر دیا۔
ایک طرف پرانا لوہے کا توا چولہے پر چڑھا ہوا تھا، جس پر ہلکی آنچ جل رہی تھی۔ بی بی رقیہ نے بینگن کے قتلے تھوڑے سے نمک اور لال مرچ لگا کر ایک ایک کر کے تیل میں توا پر ڈالنے شروع کر دیے۔ چٹ چٹ کی آواز کے ساتھ خوشبو فضا میں پھیلنے لگی۔ پاس سے گزرتے بچے رک کر سونگھتے اور مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
دوسری طرف، بی بی رقیہ نے دوسرے بینگن کو دہکتے ہوئے مٹی کے چولہے پر بھوننے کے لیے رکھ دیا۔ چولہے سے لکڑی جلنے کی خوشبو آ رہی تھی اور دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ بینگن کی جلد جلنے لگی، لیکن اندر کا گودا نرم ہوتا جا رہا تھا۔
جب بینگن پوری طرح گل گیا، تو بی بی رقیہ نے اسے چولہے سے نکالا، ٹھنڈا کیا، اور ہاتھ سے چھیل کر کچلنا شروع کر دیا۔ ساتھ میں ہری مرچ، لہسن، نمک اور ہرا دھنیا ملا کر ایک زبردست دیسی بھرتا تیار کیا۔
پھر پاتوں میں لپٹا ہوا تازہ پتاؤ بھی چولہے سے اتارا گیا، جس کی بھاپ اڑتی ہوئی خوشبو دار تھی۔ پتاؤ کے ساتھ بینگن کا بھرتا اور توے والے قتلے، ایک مٹی کی پلیٹ میں رکھ کر وہ صحن میں بیٹھ گئیں۔
ہوا میں کھیتوں کی مہک، چولہے کا دھواں، اور کھانے کی خوشبو مکس ہو کر ایک مکمل دیہاتی تصویر بنا رہی تھی — سادگی، محبت، اور محنت سے بھرپور۔
2 months ago | [YT] | 33
View 1 reply
Yariیاری
یہ کہانی عورت کے کھانا پکانے کی نہیں، بلکہ دیہات کی زندگی، سادگی، فطرت کے قریب رہنے، اور خاندانی محبت کی عکاسی ہے۔ گرمیوں کی دوپہر تھی۔ سورج سر پر چمک رہا تھا، لیکن آموں کے گھنے باغ میں ٹھنڈی چھاؤں نے موسم کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔ آموں کے درختوں سے ہلکی ہلکی خوشبو آ رہی تھی، اور درختوں پر کوئل اپنی مدھر آواز میں گنگنا رہی تھی۔ ایسے میں ایک دیہاتی عورت، جس نے سادہ سا لباس اور سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا، باغ کے ایک کونے میں مٹی کے چولہے پر بیٹھ کر ٹنڈے پکا رہی تھی۔ وہ روز صبح سویرے اپنے صحن سے آموں کے باغ تک آتی، لکڑیاں جمع کرتی، اور مٹی کا چولہا جلا کر دن کا کھانا تیار کرتی۔ آج اس نے تازہ ٹنڈے کاٹ کر پیاز، ٹماٹر، لہسن اور مصالحوں کے ساتھ پکانے کا سوچا تھا۔ ٹنڈے کے ساتھ تھوڑی سی ہری مرچیں بھی شامل کر دی تھیں تاکہ سالن میں دیسی ذائقہ آ جائے۔
چولہے کے نیچے لکڑیاں جل رہی تھیں، دھواں آم کے درختوں کے پتوں میں سے نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔ خدیجہ اپنے ہاتھوں سے ہنڈیا کو چمچ سے ہلاتی، کبھی کبھی ڈھکن اٹھا کر خوشبو سونگھتی، اور پھر مسکرا دیتی۔ یہ وہ خوشبو تھی جو صرف مٹی، لکڑی، اور محبت سے پکے کھانے میں آتی ہے۔
ساتھ ہی ایک بچی، غالباً اس کی بیٹی، زمین پر بیٹھی آم چھیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پیلے ہو چکے تھے، لیکن چہرے پر خوشی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ تندے کے ساتھ آم کا اچار بھی ہوگا، جو اس کی ماں نے خود بنایا ہے۔
جب سالن تیار ہو گیا، تو خدیجہ نے تازہ پکی روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹیں، سالن کی ہنڈیا اٹھائی، اور آموں کے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھ کر سب کو آواز دی:
"چلو بھئی، کھانے کا وقت ہو گیا ہے!"
سب نے بیٹھ کر آموں کے باغ میں وہ دیسی کھانا کھایا ۔ مٹی کی خوشبو، لکڑی کی آنچ، اور ماں کے ہاتھ کا ذائقہ۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے وقت رک گیا ہو، اور سادگی، محبت، اور قدرتی ماحول نے ایک مکمل تصویر بنا دی ہو۔
2 months ago | [YT] | 22
View 1 reply
Yariیاری
جب پہلا نوالہ لیا… تو سب حیران رہ گئے۔ یہ صرف مولی کا پراٹھا نہیں تھا، یہ یادوں میں لپٹا ہوا ایک نیا تجربہ تھا۔
صبح کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی، اور گاؤں کی گلیوں میں ہلکی ہلکی سی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ اماں کچھ بدل کر پکا رھی تھیں۔
پچھلے کئی برسوں سے ناشتہ میں مولی کا چٹپٹا سالن بنتا تھا، جو سب کو بے حد پسند تھا۔ مگر آج… کچھ الگ تھا۔ چولہے پر وہی ہانڈی، وہی لکڑیاں، وہی کچی مٹی کی خوشبو… لیکن سالن کی مہک نہیں آ رہی تھی۔
پوتے پوتیاں سب اُٹھ کر انتظار میں بیٹھے تھے۔ ایک نے پوچھا،
"اماں، آج مولی کا سالن نہیں بن رہا؟"
اماں مسکرائیں، مگر جواب نہ دیا۔ صرف اپنے ہاتھ تیز تیز ہلاتی رہیں۔ آٹے میں مولی، ہری مرچ، دھنیا، اور پیاز گوندھ چکی تھیں۔ ہاتھوں میں مہارت تھی، اور دل میں ایک خاموش خوشی۔
پہلا پراٹھا جب تندور سے نکلا، تو سارا آنگن خوشبو سے مہک گیا۔ گھی میں تلا ہوا خستہ پراٹھا، جس میں مولی کی بھرپور خوشبو تھی، جیسے روایات اور ذائقے کا نیا روپ ہو۔
تب اماں نے کہا:
"آج سوچا… ایک ہی مولی کو ہر سال سالن بنا کر تھک گئی تھی، اب ذرا پراٹھے کا مزہ لو۔"
سب ہنس پڑے۔ اور جب پہلا نوالہ لیا… تو سب حیران رہ گئے۔ یہ صرف مولی کا پراٹھا نہیں تھا، یہ یادوں میں لپٹا ہوا ایک نیا تجربہ تھا۔
🍽️ مولی کا پراٹھا — پرانی خوشبو، نئی پہچان۔
2 months ago | [YT] | 29
View 0 replies
Yariیاری
یہ سادہ سا منظر، ایک خاتون کا اپنے صحن میں بیٹھ کر کلیجی پکانا، ہمیں بتاتا ہے کہ کھانے صرف ذائقے کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ثقافت، روایت، اور ماں کے ہاتھ کے پیار کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔
ایک گرم دوپہر تھی۔ سبز کھیتوں کے درمیان مٹی کی دیواروں سے بنی ایک جھونپڑی کے باہر ایک عمر رسیدہ خاتون، جنہوں نے روایتی کپڑے پہنے تھے، چولہے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے پر وقت کی لکیرے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جو ان کی محنت اور تجربے کی گواہی دیتی تھیں۔
ان کے سامنے مختلف مٹی کے پیالوں میں توا کلیجی کے اجزاء سجے ہوئے تھے
ایک بڑے پیالے میں تازہ کلیجی رکھی ہے۔
کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، ہرا دھنیا
نمک، ہلدی، لال مرچ، دھنیا پاؤڈر
اور ایک پیالے میں سرسوں کا تیل
انہوں نے پیاز اور ٹماٹر کلیجی میں شامل کیے، پھر تمام مصالحے، ہری مرچیں اور ہرا دھنیا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اس آمیزے کو خوب اچھی طرح مکس کیا۔ ہاتھوں پر لگا مصالحہ ان کے تجربے کا نشان تھا ۔ یہ کام ان کے لیے صرف کھانا پکانا نہیں، بلکہ ایک روایت کو زندہ رکھنا تھا۔
چولہا لکڑیوں سے جلایا گیا، اور کالی توا کو آگ پر رکھا گیا۔ جیسے ہی تیل گرم ہوا، کلیجی اور مصالحے والا آمیزہ توا پر ڈال دیا گیا۔ تیز چٹخنے کی آواز اور مصالحوں کی خوشبو نے فضا کو مہکا دیا۔
وہ ایک ہاتھ سے کڑچھی سے کلیجی کو الٹ پلٹ کر رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے چولہے کی آنچ کو سنبھال رہی تھیں۔ آنکھوں میں سکون اور دل میں فخر تھا، کیونکہ یہ صرف کھانا نہیں، بلکہ محبت اور مہارت کا امتزاج تھا۔
تھوڑی دیر بعد کلیجی سنہری رنگ میں بدل چکی تھی، مصالحے خوب بھن چکے تھے، اور تیل اوپر آ چکا تھا — یہ دیہی طرز کی "توا کلیجی" تیار ہو چکی تھی۔
2 months ago | [YT] | 20
View 0 replies
Yariیاری
یہ سادہ سا منظر، ایک خاتون کا اپنے صحن میں بیٹھ کر کلیجی پکانا، ہمیں بتاتا ہے کہ کھانے صرف ذائقے کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ثقافت، روایت، اور ماں کے ہاتھ کے پیار کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔
ایک گرم دوپہر تھی۔ سبز کھیتوں کے درمیان مٹی کی دیواروں سے بنی ایک جھونپڑی کے باہر ایک عمر رسیدہ خاتون، جنہوں نے روایتی کپڑے پہنے تھے، چولہے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے پر وقت کی لکیرے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جو ان کی محنت اور تجربے کی گواہی دیتی تھیں۔
ان کے سامنے مختلف مٹی کے پیالوں میں توا کلیجی کے اجزاء سجے ہوئے تھے
ایک بڑے پیالے میں تازہ کلیجی رکھی ہے۔
کٹی ہوئی پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، ہرا دھنیا
نمک، ہلدی، لال مرچ، دھنیا پاؤڈر
اور ایک پیالے میں سرسوں کا تیل
انہوں نے پیاز اور ٹماٹر کلیجی میں شامل کیے، پھر تمام مصالحے، ہری مرچیں اور ہرا دھنیا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اس آمیزے کو خوب اچھی طرح مکس کیا۔ ہاتھوں پر لگا مصالحہ ان کے تجربے کا نشان تھا ۔ یہ کام ان کے لیے صرف کھانا پکانا نہیں، بلکہ ایک روایت کو زندہ رکھنا تھا۔
چولہا لکڑیوں سے جلایا گیا، اور کالی توا کو آگ پر رکھا گیا۔ جیسے ہی تیل گرم ہوا، کلیجی اور مصالحے والا آمیزہ توا پر ڈال دیا گیا۔ تیز چٹخنے کی آواز اور مصالحوں کی خوشبو نے فضا کو مہکا دیا۔
وہ ایک ہاتھ سے کڑچھی سے کلیجی کو الٹ پلٹ کر رہی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے چولہے کی آنچ کو سنبھال رہی تھیں۔ آنکھوں میں سکون اور دل میں فخر تھا، کیونکہ یہ صرف کھانا نہیں، بلکہ محبت اور مہارت کا امتزاج تھا۔
تھوڑی دیر بعد کلیجی سنہری رنگ میں بدل چکی تھی، مصالحے خوب بھن چکے تھے، اور تیل اوپر آ چکا تھا — یہ دیہی طرز کی "توا کلیجی" تیار ہو چکی تھی۔
2 months ago | [YT] | 27
View 1 reply
Load more