Welcome to Melody of Divine
A soul-soothing corner of YouTube where spirituality, Sufi wisdom, and inner peace meet.

Guided by the teachings of Qalandar Baba Auliya (RA) and Khawaja Shamsuddin Azeemi (RA), this channel brings you reflections on divine love, meditative thought, and the mystical path of inner awakening.

Join me on a journey of silent healing, deep zikr, and soulful awareness through the Azeemi Sufi Path. Let every word, every voice, every pause… be a melody of the Divine 💫

#MelodyOfDivine
#SufiWisdom
#SpiritualHealing
#QalandarBabaAuliya
#AzeemiPath
#DivineConnection
#NoFearNoGrief
#SufiSoulmate
#ZikrOfAllah
#InnerLight
#SilsilaAzeemia


Melody of Divine

ایک شخص بھوک سے مر گیا مگر اس کے جنازے میں کھانا موجود تھا.

3 minutes ago | [YT] | 0

Melody of Divine

اللہ کے کیے کو خوش دلی سے قبول کر لینا ہی درحقیقت قلبی اطمینان اور حقیقی مسرت کا سرچشمہ ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی طرزِ فکر یہی تھی کہ وہ ہر معاملے کو “اللہ کی نسبت” سے دیکھتے تھے۔ جب انسان کی فکر 

 ہر واقعے، ہر حالت اور ہر مشاہدے میں اللہ کی کارفرمائی کو دیکھنے اور سمجھنے لگتی ہے تو رفتہ رفتہ یہ طرز فکر اس کے اندر راسخ ہو جاتی ہے۔


پھر انسان غیر ارادی طور پر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کے معاملات سے اس کا تعلق ذاتی یا نفسانی بنیادوں پر نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور اس کے مقصدِ تخلیق کے تحت ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ محض ایک کردار ہے، جبکہ اصل فاعل اور مدبر اللہ تعالیٰ ہے۔ تمام چیزوں سے میرا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ 


کُل کائنات دراصل اطلاعات کا ایک وسیع نظام ہے۔ ہر لمحہ، ہر منظر، ہر آواز، ہر احساس اور ہر واقعہ ایک اطلاع ہے۔ ہم انہی اطلاعات کو معنی پہناتے ہیں اور انہی معانی کی بنیاد پر اپنی دنیا تعمیر کرتے ہیں۔ انسان کا کام صرف اطلاع وصول کرنا ہی نہیں، بلکہ اس کا تجزیہ کرنا بھی ہے۔ اسے یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ یہ اطلاع کہاں سے آ رہی ہے؟ کیا یہ ماحول کا اثر ہے؟ کیا یہ نفس کے تقاضوں سے وابستہ ہے؟ کیا یہ مقصدِ حیات کی طرف رہنمائی کر رہی ہے؟ یا پھر شیطانی وسوسوں کا عکس ہے؟


اطلاع کو پہچاننا شعور کا کام ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا انسان کی صلاحیتوں کا اظہار ہے۔ زندگی دراصل انہی چھوٹے چھوٹے لمحوں اور نقطوں کا مجموعہ ہے۔ ایک وقت میں ایک ہی لمحہ زیرِ بحث ہوتا ہے اور وہی لمحہ درحقیقت اس پل میں کل کائنات ہوتاہے۔


جتنا انسان کا ذہن وسیع ہوتا جاتا ہے اور جتنا اس کا شعور لاشعور کی گہرائیوں سے ہم آہنگ ہوتا جاتا ہے، اتنی ہی خوب صورتی اور حقیقت کے ساتھ وہ اطلاعات کو وصول کرتا ہے۔ پھر اس کا عمل محض عمل نہیں رہتا بلکہ احسنِ تقویم کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے؛ ایسا عمل جس میں بیداری، محبت اور اللہ کی طرف رجوع شامل ہوتا ہے۔ جس کے تحت انسان کائنات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کو سمجھ لیتا ہے۔ جب وہ صرف صورت نہیں بلکہ معنی کو دیکھنے لگتا ہے، صرف مادّہ نہیں بلکہ معنویت کو پہچاننے لگتا ہے، تو وہ اپنی اصل “احسنِ تقویم” کی طرف لوٹنے لگتا ہے


قرآنِ کریم مومن کی پہلی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:


﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾

(وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔) — سورۃ البقرہ 2:3


غیب سے مراد صرف وہ چیزیں نہیں جو آنکھ سے اوجھل ہیں، بلکہ وہ حقیقتیں ہیں جو ظاہری صورتوں کے پسِ پردہ کارفرما ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، غیب معنویت کا نام ہے۔ کسی شے کے صرف ظاہری وجود کو دیکھنا علم کا ظاہری درجہ ہے، لیکن اس کے معنی، مقصد اور حقیقت کو سمجھنا غیب کی طرف سفر ہے۔


جوں جوں ذہن مادّیت کی گرفت سے آزاد ہوتا جاتا ہے، توں توں وہ اشیاء کی معنویت سے آشنا ہوتا جاتا ہے۔ وہ ہر شے میں اللہ کے نظام، اس کی صفات اور اس کی حکمت کے جلوے دیکھنے لگتا ہے۔ پھر کائنات اس کے لیے محض مادی اجسام کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ربِّ کائنات کی نشانیوں کی ایک زندہ کتاب بن جاتی ہے۔


مومن کی نگاہ چیزوں کے ظاہر پر نہیں رُکتی، بلکہ ان کے باطن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی وہ سفر ہے جو انسان کو اپنے نفس کی محدود دنیا سے نکال کر اللہ کی معرفت کے وسیع آفاق تک لے جاتا ہے، اور یہی سفر قلب کو اطمینان، فکر کو وسعت اور روح کو سکون عطا کرتا ہے


کائنات میں رونما ہونے والا ہر واقعہ ایک پیغام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ واقعات کو اپنی خواہش کے مطابق بدل دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ان واقعات میں پوشیدہ اللہ کی منشا کو پہچان لے۔ جب یہ پہچان حاصل ہو جاتی ہے تو شکوہ ختم ہو جاتا ہے، مزاحمت ختم ہو جاتی ہے، اور زندگی رضا، شکر اور معرفت کا سفر بن جاتی ہے۔

1 hour ago | [YT] | 1

Melody of Divine

We are very happy to say that our beloved Murshad-e-Karim is well aware of this Channel and our work.

3 days ago | [YT] | 9

Melody of Divine

Kitaab Shaoor ne La-Shaoor se kaha by Dr. Maqsood ul Hassan Azeemi's Podcasts are under processing...

3 days ago | [YT] | 2

Melody of Divine

تڑپ لگی ہے اُلٹی اُسی کو، کہ جب وہ!
مانگتا ہے پانی ، تو جاگ اُٹھتی ہے پیاس

3 days ago | [YT] | 6

Melody of Divine

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ روحانیت یا تصوف کوئی دنیا سے کٹی ہوئی، غاروں اور جنگلوں میں آنکھیں بند کر کے بیٹھنے والی چیز ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ روحانیت ہماری روزمرہ کی جیتی جاگتی زندگی، ہمارے بیدار حواس اور متحرک طرزِ فکر کا نام ہے۔ یہ وہ علم ہے جو انسان کو خود شناسی کے ذریعے خدا شناسی کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔

صوفیاء کا یہ بنیادی قانون ہمیشہ ذہن نشین رکھیے:

« مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ »

(جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔)

کائنات کا سب سے بڑا کمپیوٹر اور لیبارٹری خود انسان کا وجود ہے، اور اس وجود میں ودیعت کی گئی الٰہی صفات کا ادراک ہی خالقِ کائنات سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر کائنات کے تخلیقی فارمولے پر غور کریں تو اس کا نقطہِ آغاز اللہ تعالیٰ کا وہ مخفی خیال تھا کہ "میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں"۔ اس ارادے کے تحت کائنات کا ایک تفصیلی پروگرام ذہنِ باری تعالیٰ میں مرتب ہوا، اور جیسے ہی صفتِ کلام متحرک ہوئی اور آواز گونجی—'کُن'—تو یہ پوری کائنات اپنے تمام مادی اور غیر مادی وجود کے ساتھ ڈسپلے پر آگئی۔

اس کائناتی پروگرام میں بنی نوع انسان کو 'خلیفۃ اللہ' کے طور پر ایک مرکزی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ اللہ رب العزت نے کائنات کی تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو اپنی صفات کا امین بنایا، اپنی روح میں سے (کچھ) اس کے اندر پھونکا، اور اسے 'علم الاسماء' کا شاہکار علم عطا کیا۔ علم الاسماء دراصل وہ صلاحیت، وہ فریکوئنسی اور وہ الٰہی ہنر ہے جس کے ذریعے انسان ان مخفی صفات اور انرجی کو استعمال کرنا سیکھتا ہے۔

یہ کائنات اور کچھ نہیں، صرف حواس (Senses) کا ایک کھیل ہے۔ بیداری کی حالت میں ہمارے مادی حواس کی رفتار بہت دھیمی ہوتی ہے، اسی لیے ہم ہر شے کو وقت اور فاصلے (Time and Space) کے فریم میں قید دیکھتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ہم نیند کی وادی میں قدم رکھتے ہیں، مادی حواس معطل ہو جاتے ہیں اور ہمارے باطنی لطائف (لطیفہِ سری، لطیفہِ خفی اور لطیفہِ اخفیٰ) متحرک ہو جاتے ہیں، جہاں نہ کوئی وقت ہے اور نہ کوئی فاصلہ۔

اگر کوئی سالک مراقبے کی مسلسل مشق سے جاگتے ہوئے بھی ان نیند کے حواس کو بیدار کر لے، تو وہ چلتے پھرتے بھی کائناتی شعور سے جڑا رہتا ہے۔ لسانِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکلے ہوئے ان الفاظ کی اصل سائنس یہی ہے:

« مُوتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا »

(مرنے سے پہلے مر جاؤ۔)

اس کا سائنسی مفہوم یہ ہے کہ اپنے مادی حواس کی رفتار کو اتنا تیز اور لطیف کر لیا جائے کہ روح اس مادی لباس کی محتاج رہے بغیر، موت سے پہلے ہی غیر مرئی حقیقتوں اور ماورائی دنیاؤں کا مشاہدہ کرنے لگے۔

اسی حواس کے قانون کے تحت جنت اور دوزخ کا تصور بھی بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ جنت اور دوزخ کوئی مادی مقامات نہیں بلکہ ہمارے اپنے ذہن کی دو متضاد کیفیات اور فریکوئنسیز ہیں۔ اگر انسان کا طرزِ فکر الٰہی قوانین کے تحت پرسکون، مطمئن اور خوش ہے، تو یہی فریکوئنسی جنت ہے۔ اور اگر ذہن اضطراب، خوف، ڈپریشن، حسد اور منفی جذبوں کی آگ میں جل رہا ہے، تو یہی ذہنی کیفیت دوزخ ہے۔

موت کے وقت یہ مادی لباس (جسم) تو یہیں خاک کا حصہ بن جائے گا، لیکن انسان اپنے 'نسمہ' (روحانی وجود) کے ساتھ اپنا یہی بنایا ہوا ذہن اور طرزِ فکر لے کر اگلی دنیا میں منتقل ہوگا۔ جس کا طرزِ فکر اس دنیا میں اسوہِ حسنہ کی روشنی میں متوازن ہو گیا، اسے یہیں جنتِ ارضی کا سکون حاصل ہو جاتا ہے۔

روحانیت کے مسافروں کا اصل ہدف جنت کا لالچ یا دوزخ کا خوف نہیں ہوتا، کیونکہ یہ دونوں کیفیات تو انسان کے اعمال کی گواہی بن کر اسی دنیا میں اس کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں۔ ایک سچے صوفی کا اصل ہدف صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے۔ وہ ذات جہاں سے ہماری روح کے سفر کی پہلی کرن پھوٹی تھی، جہاں سے ہم مختلف اسٹیشنز سے گزرتے ہوئے اس مادی دنیا کے اسٹیشن پر پہنچے ہیں، اور جہاں ہمیں اپنے اس نسلی اور باطنی سفر کو مکمل کر کے واپس لوٹنا ہے اور اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ صوفی کائنات کی ہر شے کو نظر انداز کر کے صرف ذاتِ حق کے مرکز پر نظر رکھتا ہے۔

6 days ago | [YT] | 23

Melody of Divine

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ رہو۔”

اس مختصر سی آیت میں انسانی زندگی کی ایک عظیم حقیقت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف تقویٰ اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ تقویٰ حاصل کرنے کا راستہ بھی متعین فرما دیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ صادقین کے ساتھ رہو۔ گویا تقویٰ محض ایک نظریہ نہیں، ایک کیفیت ہے؛ اور کیفیت کتابوں کے صفحات سے زیادہ زندہ دلوں سے منتقل ہوتی ہے۔

کائنات کا نظام اطلاع پر قائم ہے۔ ہر شئے اپنے اندر ایک مخصوص نوع کی اطلاع رکھتی ہے اور یہی اطلاع اس کی پہچان بنتی ہے۔ انسان بھی اطلاعات کا ایک مجموعہ ہے۔ جب کوئی بندہ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے اندر خشیت، محبت، اخلاص اور صداقت کی اطلاعات کو قبول کر لیتا ہے تو اس کا باطن نور سے منور ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص دوسروں کے لیے محض ایک انسان نہیں رہتا بلکہ ایک روشن مرکز بن جاتا ہے جہاں سے نورانی اطلاعات مسلسل صادر ہوتی رہتی ہیں۔

اسی لیے اہلِ دل نے ہمیشہ صحبت کو اہمیت دی ہے۔ صحبت کا مطلب صرف کسی کے قریب بیٹھ جانا نہیں بلکہ اپنے اندر ایسی قبولیت پیدا کرنا ہے کہ دوسرے کے دل میں جاری نور کی لہریں ہمارے باطن میں بھی منتقل ہو سکیں۔ جب دو دل محبت اور اخلاص کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں تو ان کے درمیان اطلاعات کا تبادلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک دل کی روشنی دوسرے دل کی تاریکی کو کم کرنا شروع کر دیتی ہے۔

اگر ایک چراغ سونے کا بنا ہوا ہو، اس پر ہیرے اور جواہرات جڑے ہوں، اس کی بتی نہایت قیمتی ہو اور اس میں اعلیٰ ترین تیل موجود ہو، تب بھی وہ چراغ اس وقت تک تاریکی میں رہے گا جب تک کسی روشن چراغ سے اس کا اتصال نہ ہو جائے۔ روشنی پیدا کرنے کے لیے چراغ کو ایک روشن چراغ کی مس درکار ہوتی ہے۔

انسان بھی ایسا ہی ایک چراغ ہے۔ اس کا جسم چراغ کا برتن ہے، اس کی عقل بتی ہے، اس کی صلاحیتیں تیل ہیں اور دنیاوی کامیابیاں اس کے جواہرات ہیں۔ لیکن اگر اس کے اندر نورِ معرفت روشن نہیں ہوا تو یہ تمام ظاہری خوبیاں اسے حقیقی زندگی سے آشنا نہیں کر سکتیں۔

مرشد، صادق اور اہلِ دل کی حیثیت اسی روشن چراغ کی سی ہے۔ جب طالبِ حق محبت، ادب اور اخلاص کے ساتھ ان کے قریب آتا ہے تو اس کے اندر بھی وہی نورانی اطلاعات منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو ان کے باطن کو روشن کیے ہوئے ہیں۔ یہ عمل الفاظ سے زیادہ دلوں کی زبان میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

قریب جلتے ہوئے دل کے اپنا دل کر دے
یہ آگ لگتی نہیں ہے، لگائی جاتی ہے

یہ آگ دراصل اللہ کی محبت کی آگ ہے، معرفت کی آگ ہے، بیداریِ شعور کی آگ ہے۔ یہ بازار سے خریدی نہیں جا سکتی، نہ محض مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک زندہ دل سے دوسرے زندہ دل میں منتقل ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم کی آیت “وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ” دراصل انسان کو اسی قانونِ فطرت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جس طرح اندھیرا روشنی کے قرب سے ختم ہوتا ہے، اسی طرح دل کی غفلت اہلِ صدق کی معیت سے دور ہوتی ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، رفتہ رفتہ انہی کی سوچ، انہی کے احساسات اور انہی کی کیفیات اس کے اندر منتقل ہونے لگتی ہیں۔

تقویٰ کسی ظاہری لباس کا نام نہیں بلکہ شعور کی ایک کیفیت ہے۔ جب بندہ صادقین کی صحبت میں رہ کر ان کے نورانی احوال کو قبول کرتا ہے تو اس کے اندر بھی اللہ کی طرف رجوع، محبت اور حضوری کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہی کیفیت رفتہ رفتہ اس کے باطن کو روشن کرتی ہے اور وہ خود بھی ایک چراغ بن جاتا ہے۔

پھر یہی چراغ آگے کسی اور چراغ کے روشن ہونے کا سبب بنتا ہے، کیونکہ اللہ کے نور کا سفر ہمیشہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

چراغ سے چراغ جلتے ہیں، اور یہی روحانی تربیت کا ازلی قانون ہے

#Melodyofdivine #azeemi #Spiritualism #MurshadeKamil #Neeshoo

1 week ago | [YT] | 21

Melody of Divine

Kisi ka gussa ksi or per nikalna boht galat bat hai. Awal to gussa krna hi haram hai. Or phir gussay per qabu na rkhna mazeed galti per galti krny k brabar hota h.

Dusaro k baray mai acha socho, acha bolo or un k liye acha bayan karo.

Choty choty lamhon k tukrey mil kr zindagi bana rhy hen or ager hum in lamhon ko baratna nhi seekhein gy to kamyab kesy hongy ?

Jo apney haalat se nimaat naa paaye woh dusaron k muamlaat sey kesy nimtey ga ???

Pursakoon tareeky se muamlaat ko dekhna, smjhna or analysis ki base per amal krna hi behtreen tareeka hai muamlaat se nimatney ka.

Kisi eik ki waja se sab se naraaz hona galat hai !

1 week ago | [YT] | 8

Melody of Divine

زندگی کو عام طور پر انسان سالوں، مہینوں اور دنوں کی پیمائش سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ وقت کا یہ تصور ذہن کی ایک حد بندی ہے۔ اصل وقت وہ نہیں جو گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے بلکہ اصل وقت وہ شعور ہے جو ہر لمحہ نقطۂ ذات سے وارد ہو رہا ہے۔ انسان جسے عمر کا بڑھنا یا گھٹنا کہتا ہے، دراصل زمانی تقسیمات کا مشاہدہ ہے۔ روح نہ بوڑھی ہوتی ہے، نہ جوان۔ عمر کا تعلق جسم سے ہے اور جسم مکان کی حدود میں بند ایک مظہر ہے۔

جوں جوں جسم زمان و مکان کے تقاضوں سے آزاد ہونے لگتا ہے، شعور پر مادی حواس کی گرفت کمزور پڑتی جاتی ہے۔ انسان اسے بڑھاپا یا زوال سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک انتقال ہے۔ ایک ایسی منتقلی جس میں شعور مکان کی محدود اطلاع سے نکل کر لاامکاں کی وسیع اطلاع سے آشنا ہونے لگتا ہے۔ جب ظاہری حواس کی آواز دھیمی پڑتی ہے تو باطن کے دریچے کھلتے ہیں اور انسان پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کائنات باہر نہیں بلکہ اس کے اپنے شعور کے اندر ایک مسلسل وارد ہونے والی اطلاع ہے۔

قلم جب باطن کی ترجمانی کرتا ہے تو یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام شکلیں اور صورتیں اطلاع کے مختلف رخ ہیں۔ جسم ایک عارضی لباس ہے، لیکن شعور کی دنیا لامحدود ہے۔ فانی وجود کے صفحات پلٹتے رہتے ہیں مگر شعور کی کتاب ختم نہیں ہوتی۔ انسان جتنا اپنے باطن میں اترتا ہے اتنا ہی اس پر واضح ہوتا ہے کہ زندگی کا تعلق جسمانی حرکات سے کم اور شعوری واردات سے زیادہ ہے۔

کائنات کا ہر ذرہ اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ فنا اور بقا دو الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ مٹی کا جسم تحلیل ہوتا ہے لیکن شعور اپنی اصل کی طرف سفر جاری رکھتا ہے۔ جسے ہم موت کہتے ہیں وہ دراصل اطلاع کے ایک نظام سے دوسرے نظام میں منتقلی ہے۔ اس سفر میں زمان و مکان کی دیواریں پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان اس عالم سے آشنا ہوتا ہے جہاں فاصلے نہیں ہوتے، جہاں وقت تقسیم نہیں ہوتا، اور جہاں شعور اپنے منبع کے ساتھ براہِ راست نسبت میں آ جاتا ہے۔

اصل زندگی جسم کے قائم رہنے کا نام نہیں بلکہ شعور کے بیدار ہونے کا نام ہے۔ جب یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے تو عمر کا گھٹنا خوف نہیں رہتا بلکہ ایک نئی وسعت کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ انسان سمجھ لیتا ہے کہ وہ مکان کا رہنے والا نہیں، لاامکاں کا مسافر ہے، اور اس کا سفر کسی انتہا پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر لمحہ ایک نئی اطلاع، ایک نئی معرفت اور ایک نئے انکشاف میں تبدیل ہوتا رہتا ہے

1 week ago | [YT] | 18