Writer Umme Hania

Welcome to the official YouTube channel of Writer Umme Hania, a place where stories breathe life, emotions speak louder than words, and every episode takes you on a journey you’ll never forget.
This is not just a reading channel — it's a personal diary of imagination, where the writer Umme Hania shares her original Urdu novels,
📚 Self-written Urdu fiction
💫 Emotional, spiritual & meaningful storytelling
🖊️ Characters that inspire, challenge, and reflect reality
🌸 Peaceful screen reading experience — no background music
📖 Stories that blend love, purpose, struggles & hope
🌙 A voice for truth, identity, and healing through fiction
🔔 Don’t forget to Subscribe, Like, and Share to support original Urdu writing

#UrduWriter #EmotionalStories #IslamicFiction #PeacefulReading #ScreenReading #NoVoiceover #SelfWritten #SpiritualJourney #HeartTouchingTales #UrduLiterature #PakistaniFiction
#motivationalnovels #Urdunovels #romanticnovels
For further quries Email address
crana757@gmail.com


Writer Umme Hania

A Sad News 💔
With profound sadness, we share the news that Writer Umme Hania’s young nephew has passed away by the will of Allah.
This is yet another heartbreaking loss for the family, following the passing of her beloved mother and aunt within the past month and a half.
May Allah forgive the deceased, elevate his ranks in Jannah, and grant Writer Umme Hania and her family Sabr-e-Jameel and strength to bear this great loss. 🤲🖤
Please remember the deceased and the family in your prayers.

1 week ago | [YT] | 11

Writer Umme Hania

"کچھ دن کہانی نہیں لکھی… کیونکہ زندگی خود ایک ایسی کہانی لکھ رہی تھی جس کے لفظ بہت بھاری تھے۔ 💔
اب واپسی کی کوشیش ہے…
دعا ہے اس بار قلم ساتھ نہ چھوڑے۔ 🤍✍️"

"Missed you all, my readers. 🥺❤️"

1 week ago (edited) | [YT] | 39

Writer Umme Hania

Inna Lillahi Wa Inna Ilayhi Raji’un 🖤
With deep sorrow, we share that Umme Hania’s beloved (Khala) aunt has passed away.
May Allah forgive her, elevate her ranks, and grant her a beautiful place in Jannat-ul-Firdous.
May Allah grant patience and strength to the entire family during this difficult time.
Please remember her in your prayers. Ameen. 🤲

3 weeks ago | [YT] | 13

Writer Umme Hania

یکدم ایک برقی رو زوہان کے اندر دور گئ۔۔۔ غم و غصّے سے اسکے ماتھے کی رگیں پھڑکنے لگیں۔وھاٹ از دس نان سینس سلی گرل۔۔۔

یہاں کیا کر رہی ہو تم۔۔۔

زوہان  ایک دم اپنے پاؤں پیچھے کھینچتا غرایا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔

مجھے معاف کر دیں بھائی۔۔۔ خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں۔۔۔ وہ زارو قطار روتی ہوئی اسکے سامنے کپکپاتے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔ آنسو مسلسل اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔ 

شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ۔۔۔ پیچھے ہٹو راستے سے۔۔۔

______
https://youtu.be/NjN8rbA9UKc

3 weeks ago | [YT] | 2

Writer Umme Hania

نور الہدی۔۔۔ میں نے اندر کہا کے تم میری بہن ہو۔۔۔ وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا چبا چبا کر گویا ہوا۔۔
ہدی ٹھٹھکی۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہی ہے کے تم میری بہن نہیں ہو۔۔ کیونکہ بہن یا بھائی محض وہی ہوتے ہیں جسے اللہ آپکا بہن یا بھائی بنائے۔۔۔ میری صرف ایک ہی بہن ہے۔۔ میرل جاوید۔۔۔
ہدی الجھی الجھی سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے اسکی باتوں کا مفہوم سمجھنے کی کوشیش کر رہی ہو۔۔۔
لیکن اسکے باوجود میں تمہیں وارن کرنا چاہتا ہوں ہدی کے مائیکل جیمز ایک اچھا انسان نہیں۔۔۔ وہ ایک کرپٹ شخصیت ہے۔۔ دشمن دین ہے۔۔ منکر خدا ہے ۔۔۔ اور اسکے ساتھ ساتھ وہ بہت شاطر انسان ہے۔۔۔ پاور پیسہ اور پوزیشن کے ساتھ بہت تیز دماغ رکھتا ہے۔۔۔
آج اسکی آنکھوں میں میں نے تمہارے لئے حرص دیکھا ہے۔۔۔ لحاضہ میں تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ۔۔ اس شخص سے بچ کر رہا۔۔۔ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا۔۔۔ ہر اس جگہ سے دور رہنا جہاں اس شخص کی موجودگی کے اثرات ہوں ۔۔ اس شخص کی جانب سے محتاط رہنا ورنہ بہتتتت نقصان اٹھاؤ گی۔۔۔ محمد عثمان غنی کی آنکھیں سرخ اور لہجے میں سرد پن سا تھا۔۔۔
بے ساختہ ہدی نے تھوک نگلا۔۔۔
تم مجھے ڈرا رہے ہو۔۔۔
اور تمہیں ڈرنا بھی چاہیے۔۔ کیونکہ بات تشویشناک ہے۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا چل پڑا ۔۔۔ گم صم سی ہدی بھی سینے پر ہاتھ باندھے اسکے ہمقدم ہوئی۔۔۔
اسنے تمہیں مارنے کی تمہارے سامنے کھلی دھمکی دی ہے۔۔
مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا نورالہدی۔۔۔ کیونکہ میں روز تہجد کی نماز پڑھ کر بالخصوص یہ دعا کرتا ہوں کے اے اللہ میری جان اور میرا مال تجھ پر قربان۔۔۔۔
ایسے میں میں ہر وقت اس چیز کے لئے تیار ہوں۔۔۔
ایک گلٹی سی ہدی کی گردن میں ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا۔۔۔ سب کو واپس جانا ہے۔۔ حتکی سب کی جان قبض کرنے والے فرشتے عزرائیل کو بھی موت ہے۔۔۔ باقی صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔ جو ہمیشہ سے تھی۔۔۔ ہے اور رہے گی۔۔۔۔
اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سب آگاہ ہو کر بھی نگاہیں چراتے ہیں۔۔
اور وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کے انہوں نے اس دنیا میں دل بہت لگا لیا ہے۔۔ اس دنیا سے محبت اور اسکی لگزریز سے محبت انکے دل میں اسقدر پختہ ہو چکی ہے کے وہ موت جیسی حقیقت کو جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتے ہیں۔۔۔
وہ حقیقت تب دل و دماغ میں واضح رہتی ہے جب محبت محض اللہ کی ذات سے ہو اور دنیا کو دل میں نا بسایا جائے۔۔۔ تب ہمہ وقت دل میں یہ خیال چلتا ہے کے اب بھی واپس اسی کی طرف لوٹنا ہے تب بھی۔۔۔۔
تب انسان دلیر ہو جاتا ہے ۔۔ تب کم از کم اسے کوئی موت سے نہیں ڈرا سکتا۔۔ اس حقیقت سے جسے وہ دن میں بارہا یاد کرتا ہے اور وہاں جانے کی تیاری کرتا ہے۔۔
مرنا طے ہے اور یہ جان بھی اللہ کی راہ میں ہی قربان ہونی ہے آج یا کل جب بھی بلاوا آجائے۔۔۔
کیونکہ مجھے اس دنیا کی طلب نہیں۔۔۔ یہ تو محض بہت تھوڑا دورانیہ ہے جس میں مجھے اپنے اللہ اور اسکے رسول کی محبت میں انکے لئے بہت بہترین پرفارمینس دینی ہے۔۔۔
کیونکہ حقیقی زندگی گزارنے کا طریقہ تو وہی ہے جسے گزارنے کا طریقہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عملی طور پر سیکھا گئے۔۔۔
اس دنیا کا مال اور فائدہ پائیدار ہوتا تو وہ کئ کئ دن فاقے کاٹ کر امت کو صبر کی تلقین نا کرتے۔۔۔ وہ اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دے کر ایثار کا پیغام نا دیتے۔۔۔
ہر انسان اس دنیا میں اپنے حصے کا کام کرنے آتا ہے۔۔۔ جب میرا یہاں کام مکمل ہو گیا تو مجھے واپس جانا ہے ۔۔
لیکن میرا اور تمہارا کیس بالکل الٹ ہے۔۔۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔
لیکن کسی پاکباز عورت پر لگنے والے بہتان سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔
عورت کی عزت کسی نازک آبگینے کی طرح ہوتی ہے جس میں ڈرار اسے بدصورت اور ناقابل قبول بنا دیتی ہے۔۔ اس لئے مائیکل جیمز سے ہوشیار رہنا۔۔
پتہ نہیں کیوں لیکن میری سکس سینس کہہ رہی ہے کے تم اسکی جانب سے نقصان اٹھاؤ گی۔۔۔
محمد عثمان غنی کی باتیں سنتی ہدی گم صم سی تھی۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ ہاسٹل کے کافی قریب آ گئے تھے۔۔ مغرب کے بعد آسمان گہرا جامنی ہو رہا تھا
۔۔ اس سے پہلے کے وہ اسے کوئی جواب دیتی عین اسی وقت انکے پاس کسی گاڑی کے ٹائرز چڑچڑائے۔۔
#Zulmat_e_Noor
#by_umme_Hania
Complete 💯✅ novel available here 👇
youtube.com/playlist?list=PLv...

3 weeks ago | [YT] | 4

Writer Umme Hania

جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ بے بس ہوتا ہے۔۔۔ خاندان کا انتخاب کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔۔۔ زندگی میں بہت سے مقامات ایسے بھئ آتے ہیں جب مجھ جیسے کمزور انسان خودکشی کو گلے سے لگانا بہتر اور آسان سمجھتے ہیں۔۔۔

میرا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے ہے۔۔۔ اس فیملی سے جہاں ماں کے علاج کے لئے بھی آپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔۔۔

آگر میں یہ کہوں کے میری ماں وقت پر پراپر علاج نا ہونے کے باعث اور دوائیوں کی قلت کے باعث اس دنیا سے چلی گئ تو بے جا نا ہوگا۔۔۔

بات کرتے اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔

اسنے بدقت خود پر قابو پاتے نم آنکھ کا کونا صاف کیا۔۔۔

دنیا کے سامنے آپنا آپ کھولنا آسان نا تھا۔۔۔

ہال میں مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سبھی سانس تک روکے اسے سن رہے تھے۔۔۔

پھر میں نے جانا کے یہ سب زندگی کی فیزز ہیں۔۔۔ آزمائشیش۔۔۔ کہ ہم آزمائے جا سکیں کے ہم میں سے کون بہتر ہے۔۔۔ کون اللہ کی رضا کو سمجھتے اسکے آگے سیرنڈر کرتا ہے۔۔۔

پھر میں نے جانا کے زندگی تو نام ہی جہد مسلسل کا ہے۔۔۔

اگر کامیاب ہونا ہے تو کمفرٹ زون کو تو چھوڑنا ہی چھوڑنا ہے۔۔۔ 

نرم بستر پر بیٹھ کر دن کا بیشتر وقت آرام کر کے آپ کامیابی کے خواب تو دیکھ سکتے ہو مگر کامیاب نہیں ہو سکتے وہ مسکرایا۔۔۔

کامیابی کے لئے بھوک پیاس آرام سب نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔۔۔

میں نے کندھے پر کیمرا اٹھا کر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے سرکوں کی خاک چھانی ہے۔۔۔ گلی میں چلتے بچوں کو بھی روک روک کر انکی فری فوٹوگرافی کر کے اپنے ہنر کو نکھارا ہے۔۔۔ تب اس جنون میں بھوک پیاس کی خبر نہیں ہوتی تھی۔۔۔ رات کو جب بستر پر جاتا تھا تو دردیں ہوتی تھیں مگر تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔۔۔

اور آج میں یہاں انٹرنیشنل سٹیج پر کھڑا دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں کامیاب ہو سکتا ہوں نا تو دنیا کا کوئی بھی شخص۔۔۔ کامیاب ہو سکتا ہے۔۔۔

جوش سے اسکی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔۔

کیونکہ اس دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط انسان کا قوت ارادہ ہوتا ہے۔۔۔ ایک مضبوط قوت ارادہ کے ساتھ اپنے کمفرٹ زون کو چھوڑ کر اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے پہلی کوشیش کرنا ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔۔۔

وہ بول رہا تھا اور ہال میں بنا رکے تالیاں بج رہی تھیں۔۔۔

اس ایشائی مرد کو کئ آنکھیں حسرت سے تک رہی تھیں۔۔۔

سپیچ ختم کر کے وہ سٹیج سے اترنے لگا جب وہی لڑکی مائیک میں گویا ہوئی۔۔۔

مسٹر حماد۔۔۔

وہ رک کر پلٹا۔۔۔

اتنی کامیابی کے بعد جب کے آپ ایک سٹار بن چکے ہیں تب اگر یہاں موجود کوئی لڑکی۔۔۔۔ وہ رکی اور مسکرا کر ارد گرد دیکھا۔۔۔۔ آپ پر دل ہارتے آپکو پرپوز کردے تو۔۔۔۔

ساتھ ہی ہال میں ہوٹنگ کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔۔۔ وہ کھل کر مسکرا دیا۔۔۔

سوری میم۔۔۔ ایم میرڈ۔۔۔  

کچھ خدا کا خوف کھائیں ۔۔۔ میں نے واپس بھی جانا ہے اور میری بیوی یہ شو دیکھ رہی ہو گئ۔۔۔ وہ دلکشی سے مسکراتا بات کو ہلکا پھلکا سا رخ دیتا کئ دل ڈھرکا گیا۔۔۔

ویسے بھی مشرقی مرد بہت باوفا ہوتے ہیں سو نو چانس۔۔۔

مسکرا کر کہتا وہ مضبوط قدم اٹھاتا شان سے سر اٹھائے ہزاروں کے مجمعے میں چلتا جا رہا تھا۔۔

میلوں دور بیٹھی یمنہ سب کے سامنے اپنی بے ساختہ ابھرتی مسکراہٹ کو دابتی سر جھکا گئ۔۔۔

#مکمل-ناول-سکیم 

#از_ام_ہانیہ 

Complete 💯 ✅ novel available here👇

https://youtu.be/f98E57aOM6s

3 weeks ago | [YT] | 7

Writer Umme Hania

This episode had been written before the loss I am going through, which is why I was able to upload it.
However, starting to write again after such an irreparable loss is not easy for me.
I now have to gather myself and begin writing again, and I will do my best to gradually get back into my routine.
Thank you for your patience, understanding, and prayers during this difficult time. 🤍

1 month ago | [YT] | 18

Writer Umme Hania

یہ ملک میرے لئے اجنبی ہے زوہان۔۔۔ میں یہاں تنہا کیسے رہوں گی۔۔۔ 

زوہان کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال ابھرنے لگا۔۔۔

کیا مطلب تمہاری بات کا۔۔۔

 تنہا نہیں رہ سکتی تو میرے ساتھ بھی کیسے رہو گی۔۔۔ وہاں مجبوری تھی جنت فاطمہ ۔۔۔ تمہیں سیکیورٹی ایشوز تھے جسکی وجہ سے مجھے نا چاہتے ہوئے بھی تمہیں ساتھ رکھنا پڑا۔۔۔ یہاں ایسا کوئی اشو نہیں ہے۔۔۔

ویسے بھی اس رشتے کے بارے میں یہاں کوئی آگاہ نہیں ہے اور یہ بات صیغہ راز ہی رہنی چاہیے ۔۔۔۔ یہ رشتہ کیا ہے کیوں ہے اور اسکی کیا حیثیت ہے اس سے تم باخوبی آگاہ ہو۔۔۔ زوہان کا دو ٹوک اور برہم انداز خفا چہرا اور اجنبی آنکھیں۔۔۔

______
https://youtu.be/1iHC1ZHJbA0

1 month ago | [YT] | 0

Writer Umme Hania

3 اگست 2026 ایک ایسا دن ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔۔۔ اس دن کے نقش میرے ذہن کی سلیٹ سے کبھی دھندلا نہیں سکتے۔۔۔ اس دن صبح 7:30 سے دوپہر 2:51 تک کا ایک ایک واقعہ میرے دماغ میں اپنی پوری جزئیات کے ساتھ نقش ہے۔۔۔
2 اگست کی شام تقریبا چھ بجے کے قریب میری ماں میرے گھر آتی ہیں۔۔۔ ہم نے اکھٹے مغرب پڑھی۔۔۔اکھٹے کوکنک کی ۔۔۔ کھانا کھایا۔۔۔ ہستے کھیلتے ڈھیروں باتیں کرتے۔۔۔ اکھٹے عشاء پڑھی۔۔۔
بالکل ایک نارمل دن۔۔۔ جیسے باقی سبھی دن ہوتے ہیں۔۔۔ رات دس بجے کے قریب میری ماں میرے بھائی کے ساتھ چلے گی۔۔۔
میں انہیں باقاعدہ گیٹ تک چھوڑنے آئی۔۔۔ جاتے جاتے انہوں نے مجھے گلے لگایا۔۔۔ پیار کیا۔۔۔ میں نے آیت الکرسی پڑھ کر ان پر پھونکی۔۔ زرا ایک لمحے کے لئے مجھے احساس نہیں ہوا کے میری ماں آخری مرتبہ میرے گھر آئی ہے۔۔۔ یہ آخری لمحات ہیں جو بہت خوشی خوشی ہم نے جئے ہیں۔۔۔ یا میں آخری دفعہ اپنی ماں کو اپنے گھر سے الوداع کر رہی ہوں۔۔۔ اس کے بعد نا کبھی مجھے یہ پرسکون لمس میسر آئے گا نا یہ خوبصورت لمحات میرے حصے میں آئیں گے۔۔۔
صبح اپنے گھر روٹین کے مطابق ماما اٹھیں۔۔ تہجد پڑھی۔۔۔ پھر فجر پڑھی۔۔۔ صبح کے ازکار۔۔۔
میرے چھوٹے بھائی کو ناشتہ کروا کر گھر سے بھیجا۔۔ یہاں تک سب کچھ ہی نارمل تھا ایک روٹین کے مطابق۔۔۔
پھر یکدم صبح 7:30 پر مجھے میرے بھائی کی کال آتی ہے روتے ہوئے کے آپی ماما کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔وہ واپس گھر آچکا تھا۔۔۔
یکدم میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئ۔۔۔ مجھ سے اسکی مزید بات سنی ہی نا گئ میں نے کہا میں آ رہی ہوں۔۔۔ ہزبینڈ کو بتایا ۔۔ اور ہم فورا گھر سے نکلے۔۔۔ راستے میں کال آئی کے آپ ڈائریکٹ ہاسپٹل آجائیں ہم وہیں جا رہے ہیں۔۔۔
ہاسپٹل پہنچے۔۔۔ ماما سٹریچر پر تھیں۔۔۔ میں بھاگ کر انکے پاس گی۔۔۔ انکا ہاتھ تھاما۔۔ وہ ہوش میں تھیں۔۔۔ میں نے پوچھا ماما کیا ہوا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا میرے سینے میں درد ہو رہی ہے مجھے سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔۔ میرا جسم بے جان ہو رہا ہے۔۔۔
فورا انکا ٹریٹمنٹ شروع ہوا۔۔۔ بہت سے ٹیسٹ اور ناجانے کیا کیا۔۔۔
ٹریٹمنٹ شروع ہوتے ہی مجھے حوصلہ ہوگیا کے اب سب ٹھیک ہو جائے گا اتنا کوئی مسلہ نہیں بنے گا کیونکہ ماما تو بالکل ٹھیک تھیں۔۔۔
رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹرز نے انہیں ایک سٹی سے دوسرے سٹی ریفر کر دیا۔۔۔کے ہارٹ کا اشو شو ہو رہا ہے ۔۔۔ ہم تینوں بہن بھائی بنا تاخیر کئے انہیں وہاں لے گئے۔۔۔
ماما مجھ سے نارمل باتیں کرتی رہیں۔۔۔ مجھے بھوک لگ رہی کچھ کھلا دو۔۔ میں بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس جاتی کے ماما کو کیا کھلاوں ۔۔۔ ڈاکٹرز کی ریکمنڈیش پر میں نے انہیں شیک پلاہا۔۔۔ کچھ دیر بعد چائے پلائی۔۔۔
وہ کہتیں میرا حلق خشک ہو رہا ہے میں بار بار انہیں گھونٹ گھونٹ پانی پلاتی۔۔۔
بار بار ان سے پوچھتی ماما ٹریٹمنٹ ہو رہا ہے۔۔۔ پین کلرز لگ رہے ہیں۔۔ کیا آپکے درد میں کمی آئی۔۔۔
وہ کہتیں ہاں اب کچھ افاقہ ہے۔۔۔ میں اسقدر حوصلے میں رہی کے زیادہ سے زیادہ ہم یہاں ایک دو دن رہیں گے پھر ماما صحتیاب ہو جائینگی ہم واپس چلے جائیں گے۔۔۔
میرے دونوں بھائی ہاسپٹل کی بھاگ دوڑ سنبھال رہے تھے۔۔ کبھی بلڈ ٹیسٹ کبھی پیپر ورک ناجانے کیا کیا۔۔
میں اندر ماما کے پاس تھی۔۔۔
آخری وقت پر انہوں نے مجھ سے کال کروا کر دونوں بھائیوں کو اپنے پاس بلایا۔۔۔ ڈاکٹرز پاس کھڑے تھے کیونکہ وہ بار بار انکی مانیٹرنگ دیکھ رہے تھے۔۔ مجھے پھر اندازہ نا ہو سکا کے انکی کنڈیشن اسقدر سیریس ہے۔۔۔
ہم تینوں بہن بھائی اپنی ماں کے پاس کھڑے تھے۔۔۔ چند منٹ پہلے میں نے اپنی ماں کو پانی پلایا ۔۔۔ درمیان میں کچھ نا کچھ ڈاکٹر سے ڈسکس ہو رہا تھا۔۔۔ جب بالکل خاموشی سے میری ماں نے دو سانس لئے ہیں۔۔۔ صرف دو سانس۔۔۔ وہ سانس قدرے گہرے تھے۔۔۔ اور وہیں میری ماں ختم ہوگئ۔۔مانٹرنگ سکرین پر دیکھتی ڈاکٹرز کی ٹیم بھاگ کر ان تک آئی۔۔۔ ہر مشین ہر ہربہ ہر تدبیر۔۔۔ ڈاکٹرز نے لمحوں میں سب آزما لیا لیکن ماما جا چکی تھی۔۔۔
اتنی خاموش موت۔۔۔ اتنی خاموش موت میں نے اپنی زندگی میں پہلی دیکھی کے پاس کھڑی اولاد کو پتہ تک نا چل سکا کے روح پرواز کر گی۔۔۔ ہاتھ سیدھے آنکھیں بند لب خاموش اور روح پرواز کر گئ۔۔ یوں اتنی اچانک اور اتنی خاموشی سے موت آ جاتی ہے بھلا ۔۔
وہ لمحہ قیامت تھا۔۔۔
وہ لمحہ میری پوری دنیا الٹ گیا۔۔۔ میرے اس عظیم نقصان کے بعد مجھے اپنی ہی ہوش نہیں رہی۔۔۔ دماغ ماؤف ہوگیا۔۔۔
پورے دو دن لگے مجھے اس حقیقت کو قبول کرنے میں کے میری ماں جا چکی ہے۔۔۔
یہ میرے اللہ کی رضا ہے اور ہم اسکی رضا میں راضی ہیں۔۔۔
بظاہر میں نے بہت حوصلے سے کام لیا لیکن درحقیقت میرے سارے ہی معاملات زندگی ڈسٹرب ہو کر رہ گئے۔۔۔ میں چیزیں بھول جاتی ہوں۔۔۔ کام بھول جاتی ہوں۔ پہروں ایک ہی جگہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہ جاتی ہوں۔۔
یہ غم بڑا ہے ۔۔ بہت بڑا۔۔۔ لیکن ان شااللہ میرا اللہ ہمیں اس غم کے ساتھ بھی جینا سیکھا دے گا۔۔۔ لیکن اس کے لئے ناجانے ابھی کتنا وقت درکار ہے۔۔۔
لیکن اس سے میں نے یہ ہی سیکھا کے موت اسقدر ناقابل یقین امر ہے کے حقیقتا انسان نہیں جانتا کے وہ اگلا سانس لے گا بھی یا نہیں۔۔۔ اور وہ آپکے پلانز کے درمیان ایک دن چپکے سے آئے گی اور آپکو لے جائے گی اور آپکے منصوبے ادھورے رہ جائینگے۔۔۔
آپ سب سے التجا ہے کے جب بھی دعا کریں میری ماں کی مغفرت کے لئے دعا ضرور کریں۔۔ اللہ وہاں انکے درجات بلند کرے اور انکی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے(امین)

1 month ago | [YT] | 32