Welcome to the official YouTube channel of Writer Umme Hania, a place where stories breathe life, emotions speak louder than words, and every episode takes you on a journey you’ll never forget.
This is not just a reading channel — it's a personal diary of imagination, where the writer Umme Hania shares her original Urdu novels,
📚 Self-written Urdu fiction
💫 Emotional, spiritual & meaningful storytelling
🖊️ Characters that inspire, challenge, and reflect reality
🌸 Peaceful screen reading experience — no background music
📖 Stories that blend love, purpose, struggles & hope
🌙 A voice for truth, identity, and healing through fiction
🔔 Don’t forget to Subscribe, Like, and Share to support original Urdu writing
#UrduWriter #EmotionalStories #IslamicFiction #PeacefulReading #ScreenReading #NoVoiceover #SelfWritten #SpiritualJourney #HeartTouchingTales #UrduLiterature #PakistaniFiction
#motivationalnovels #Urdunovels #romanticnovels
For further quries Email address
crana757@gmail.com
Writer Umme Hania
نہیں مجھے سمجھ نہیں آتا داجی کو حمزہ میں نظر کیا آیا جو وہ میری قسمت اس سے پھوڑنے کے در پر ہیں۔۔ وہ روہانسی ہوتی رائقہ کے سامنے آئی۔۔۔
کیوں کیا کمی ہے میرے خوبرو سے بھائی میں جو تم یوں انکی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہو۔۔۔ اچھے خاصے ڈیسنٹ پڑھے لکھے گھبرو جوان ویل سیٹلڈ شخص ہیں بس ایک تم ہی ہو جسے ان میں کسی خوبی کی بجائے محض خامیاں ہی نظر آتی ہیں ورنہ باقی سب کی بینائی ابھی ٹھیک ہے۔۔
رائقہ کو عائلہ کا یوں اپنے عزیز از جان بھائی کی شان میں قصیدے پڑھنا قطعاً پسند نا آیا تھا اسی لئے پنجے گاڑھتی میدان میں کودی۔۔۔
چپ کرو بھیا کی چمچی۔۔۔۔ اس میں کوئی خوبی ہو تو نظر آئے نا۔۔۔ ہلاکو خان نا ہو تو۔۔۔۔ دنیا جہاں کی غلط عادات اسے مجھ میں نظر آتی ہیں۔۔۔ عائلہ آنچل ٹھیک سے اوڑھو۔۔۔ آئلہ یوں اتنے اونچے قہقے لگا کر مت ہسو۔۔۔ عائلہ یہ کپڑے مت پہنو۔۔۔ یہ مت کرو ۔۔ وہاں مت جاو۔۔۔ بلکہ عائلہ تم سانس ہی مت لو۔۔۔ وہ منہ کے زاویے ٹیڑھے کرتی غصے سےحمزہ کی نقلیں اتار رہی تھی جبکہ رائقہ اپنی ہسی چھپانے کو پیٹ پکڑے دوہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
اوپر سے ستم یہ کے ماما بھی اسکی حمایت میں مجھے ڈانٹنا شروع ہو جاتی ہیں انہیں بھی اپنے اس لاڈلے کے سامنے میں ہی احمق عظیم نظر آتی ہوں۔۔ ابھی تک تو میں جیسے تیسے اس ہلاکو خان کی پابندیاں اپنی ننھی سی جان پر ظلم کرتے سہہ رہی ہوں مگر میں مستقل اسکی غلامی میں جاتی یہ پابندیاں برداشت کرتی خود پر ظلم نہیں کروں گئ ۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاوں وہ دور اپنے مستقبل کر سوچتی حوفزدہ ہو کر جھرجھری لے اٹھی۔۔ مجھے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔ پلیز کچھ سوچو رائقہ وہ روہانسی ہو اٹھی
یہ فیصلہ دادا جی کا ہے عائلہ اور تم جانتی ہو کہ ان کے فیصلے سے انحراف کرنا کسی کے بس کا کام نہیں ہے رائقہ نے مصلحت کا دامن تھامتے اسے سمجھانے کی ادنیٰ سی کوشش کی جب کہ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی ۔۔۔
میں کروں گی ان کے فیصلے سے انحراف مجھے نہیں کرنی شادی اس ہلاکو خان سے بلکہ میں ابھی اس ہلاکو خان کا دماغ درست کر کے آتی ہوں۔۔۔ غصے سے اسے کہتی وہ کمرے سے نکلتی باہر جا چکی تھی جبکہ اسے یوں باہر جاتا دیکھ رائقہ اپنا سر تھام کر رہ گئ نہ جانے اب وہ کیا حماقت کرنے والی تھی ۔
Complete 💯 ✅ novel available here 👇
https://youtu.be/86Aoiz1DWPI?si=toniG...
1 day ago | [YT] | 2
View 0 replies
Writer Umme Hania
مجھے نہیں ہونا تیار شیار۔ ۔۔ یہ بڑا میری آمادگی سے نکاح ہو رہا ہے نہ جو میں بنوں سنوروں۔ ۔۔۔ عائلہ رائقہ کو اپنے نکاح کا جوڑا لاتے دیکھ ہاتھ مار کر جوڑا نیچے پھینکتے ہذیانی انداز میں چلائی۔ ۔۔۔
پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوتیں فرزانہ بیگم اور فرحانہ بیگم نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔ ۔۔ فرزانہ بیگم تو بیٹی کی اس خودسری پر اسے دوہتڑ لگانے طیش میں اسکی جانب بڑھیں تھیں جبکہ فرحانہ بیگم نے سرعت سے عائلہ کو اپنے پیچھے چھپاتے بچ بچاو کروایا۔ ۔
عائلہ بھی ماں کے جارحانہ تیور دیکھ کر سہم گئ تھی۔ ۔۔ جبکہ فرحانہ بیگم بپھری ہوئی بہن کو بامشکل کمرے سے باہر لے کر گئیں۔ ۔۔
کیا ہو گیا ہے فرزانہ۔ ۔۔ بچی ہے نا سمجھ ہے پر تم تو عقل سمجھ رکھتی ہو نا۔ اوپر سے اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ آپا آپکو اسکی خودسری نہیں دکھائی دی۔ ۔۔ فرزانہ بیگم کا بس نا چل رہا تھا کہ لمحوں میں بیٹی کے کس بل نکال دیتیں۔ ۔۔
__________
لائٹ بند کر دو رائقہ اور دفع ہو جاو یہاں سے۔ ۔۔ پہلے دروازہ وا ہونے اور پھر کمرے کی لائٹ چلنے کی آواز پر وہ ویسے ہی لیٹے لیٹے غصے سے گویا ہوئی۔ ۔۔
رائقہ تم۔ ۔۔ رائقہ کو اپنے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتا محسوس کر کے وہ آنکھوں سے بازو ہٹاتی اسے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتی کچھ کہنے والی تھی جب وہاں رائقہ کی جگہ اسکے ہلاکو خان بھیا کو بیٹھے دیکھ وہ ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھی تھی۔ ۔۔
آپ۔ ۔۔۔ کیوں آئے ہیں آپ یہاں۔ ۔۔ میری بے بسی کا تماشا دیکھنے۔ ۔۔ بہت خوش ہونگے نا آج آپ مجھے زیر کر کے۔ ۔۔۔ لمحوں میں اسکی غزال سی آنکھیں آنسووں سے لبالب بھری تھیں۔ ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ چہکوں پہکوں رونے لگی تھی۔ ۔۔
Complete 💯 ✅ novel available here 👇
https://youtu.be/86Aoiz1DWPI?si=toniG...
2 days ago | [YT] | 6
View 0 replies
Writer Umme Hania
پھوپھو اپنے کمرے میں ہیں میں چائے بنا دیتی ہوں اور۔۔۔
چائے کے لئے کیبنٹس کھولتے یکدم اسنے پلٹ کر زوہان کو دیکھتے کچھ کہنا چاہا جب اسکی بے ساختہ نگاہ زوہان پر جم گی۔۔ بڑی سبک روی سے نگاہوں نے نیچے سے چند انچ اوپر اسکے چہرے تک کا سفر کیا تھا۔۔۔ اسکے چہرے کی رنگت یکدم ہی فق ہو گئ اور حواس گم ہونے لگے۔۔۔ الفاظ وہیں کہیں۔ کھو گئے گویا بولنے کو کچھ بچا ہی نا ہو۔۔۔ دل بڑی گہرائیوں سے ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔۔ وہ اس احساس کو جھٹکنا چاہتی تھی مگر باوجود کوشیش کے بھی یہ احساس اسے کسی آکٹوپس کی مانند جھکڑ رہا تھا یوں کے اسکا دل چاہا سر راہ بیٹھ کر دھاریں مارتی رو دے۔۔۔
یس افکورس تم بنا دو چائے۔۔ وہ اسکی بدلتی کیفیت کو بھانپ گیا تھا لیکن وجہ جاننے سے قاصر رہا تھا۔۔
خولہ کا چہرا دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔۔اسنے وہیں کیبنٹس بند کر دئیے۔۔
دراصل میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں میں پھوپھو سے کہہ دیتی ہوں وہ آپکو چائے بنا دینگی۔۔ وہ خفیف سا کہتی زوہان پر ایک چور نگاہ ڈالتی کچن سے نکل گئ ۔۔ جبکہ زوہان پریشانی سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔اسے خولہ کی یہ حرکت کھلی تو بہت لیکن وہ ضبط کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ جو بھی تھا۔۔۔ اسے خولہ کی یہ حرکت قطعا نا بھائی تھی۔۔۔
وہ ماں سے بنا ملے بنا انہیں چائے کا کہے ہی اپنے کمرے میں آگیا۔۔ کچھ دیر پہلے والی خوش کن کیفیت جاتی رہی تھی طبیعت پہلے سے بھی شیادہ مکدر ہو گئ تھی۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اسنے دروازہ بند کیا اور اپنی جھنجھلاہٹ میں اپنی شرٹ اتارنے لگا۔۔۔ شرٹ اتار کر وہ لانڈری باسکٹ کی جانب بڑھا جب باسکٹ میں شرٹ پھینکنے سے پہلے اسکی ایک لاشعوری نگاہ شرٹ کی جانب اٹھی اور گویا وہیں فریز ہوگئ۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اسنے بعجلت شرٹ سیدھی کی اور نگاہوں کے سامنے کرتے اس حصے کو دیکھا۔۔۔ سفید شرٹ پر کارلر سے زرا نیچے واضح سرخ لپ اسٹک کا نشان تھا۔۔۔ اسکا دماغ بھک سے اڑا اور شام وقوع پزیر ہوا مال والا واقعہ پوری جزئیات سے نگاہوں کے سامنے لہرا گیا۔۔ جب مال سے نکلتے وقت ایک لڑکی تیزی سے اسکے قریب سے گزرتی بے طرح اس سے ٹکرائی۔۔ تصادم اتنا زبردست تھا کے بے ساختہ زوہان کے رگ و پے میں ناگواری کی شدید لہر دور گئ
۔ اس سے پہلے کے وہ اس لڑکی کا دماغ درست کر پاتا وہ ہوا کے جھونکے کی مانند اسکے پاس سے گزرتی کہیں گم ہو گئ۔۔
یا اللہ۔۔ وہ پریشانی سے سر تھامتا وہیں بیٹھ گیا۔۔۔شٹٹٹٹ
۔شٹٹٹٹ۔۔ شٹٹٹ۔۔ تو گویا خولہ کے بدلتے رویے کی وجہ یہ تھی۔۔ وہ اسکی شرٹ پر یہ نشان دیکھ چکی تھی۔۔ مائے گاڈ۔۔ اسنے کوفت سے آنکھیں بند کرتے اپنے بال جھکڑے ۔۔۔ ناجانے اسے اس طرح اس شرٹ میں ملبوس کس کس نے دیکھا ہو گا۔۔۔ اس پھر اسکے بارے میں کیا کیا سوچا ہو گا۔۔۔
#جنت-سےـپہلے
#از-ام-ہانیہ
4 days ago | [YT] | 7
View 0 replies
Writer Umme Hania
جب ساتھ چلنے والے بیچ راہ میں ہاتھ چھرا جائیں نا تب چھوڑ جانے والوں کے ساتھ زندگی چھوڑ نہیں دی جاتی۔۔۔ زندگی کے دن کاٹنے ہی پڑتے ہیں۔۔۔ اور ان دنوں کو کاٹنے کے لئے سروائیول کی جنگ بھی لڑنی پڑتی ہے۔۔۔
وہ آنکھوں کی نمی حلق میں اتارتی بڑی ہمت سے گویا ہوئی ۔
شاہزیب پہلو بدل کر رہ گیا۔۔۔ تمہیں نہیں لگتا کے تم مجھ سے کوئی شکوہ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔۔۔ میرا خدا گواہ ہے کے میں جو تمہارے لئے کرسکتا تھا میں نے کیا۔۔۔ شاہزیب کی آواز میں گہرا کرب نمایاں تھا۔۔۔ وہ نورالہدی کو دیکھنے سے گریزہ تھا۔۔۔
شکوہ نہیں کر رہی ایڈوکیٹ صاحب۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
بلکہ میں تو آپکی شکر گزار ہوں کے آپ نے میرے لئے اتنا کیا۔۔۔
میرا سوال ہنوز وہیں قائم ہے نورالہدی تم اسے گھما نہیں سکتی۔۔۔ وہ بے چینی سے ہدی کی بات کاٹ گیا۔۔۔ پرانے حوالے تکلیف دیتے تھے۔۔۔۔ اتنے دنوں سے دل میں سرائیت کرتی بے چینی اسے یوں دیکھ کر مزید دو چند ہوئی تھی۔۔۔
تم رات کے اس پہر عالمگیر تایا کے پورشن میں کیا کر رہی تھی۔۔۔ اور یوں چوروں کی طرح سے چھپ کر کھڑی کے راستے باہر کیوں کودی ہو ۔۔
اسکی آواز میں سختی نمایاں ہونے لگی۔۔۔
کہا نا سروائیول کی جنگ لڑ رہی ہوں۔۔
نورالہدی بات کو گھمانا چھوڑ دو۔۔۔ ورنہ میں ابھی عالمگیر تایا کے پاس جاؤں گا اور تمہاری ساری کارستانی انکے گوش گزاروں گا۔۔ پھر وہ جانے اور تم۔۔۔ شاہزیب کے لہجے میں دھمکی کی آمیزش تھے۔۔۔
اچھا۔۔۔ وہ استہزائیہ ہسی۔۔۔ جائیں یہ بھی کر دیکھیں۔۔ میں بھی تو دیکھوں آپ ایسا کیسے کرتے ہیں۔۔۔
مجھے چیلنج مت کرو ہدی۔۔۔
چیلنج نہیں کر رہی ایڈوکیٹ شاہزیب ۔۔ بتا رہی ہوں کے آپ شادی کر کے آگے بڑھ چکے ہیں لیکن میں نور الہدی کسی صورت کسی قیمت پر ایک بدکردار زانی اور شرابی سے شادی نہیں کروں گی۔۔
مجھ پر لگے سبھی الزامات اپنی جگہ۔۔۔ لیکن اسکے باوجود اپنے ساتھ ہوتی یہ ناانصافی مجھے قطعا نا منظور ہے
نور الہدی سب کچھ ہو سکتی ہے لیکن اتنی بری نہیں ہو سکتی کے مقدر لکھنے والا اسکے مقدر میں ایک زانی اور شرابی کا ساتھ لکھے۔۔۔
نو نیور۔۔۔ ہدی کے لہجے میں عزم کیساتھ ساتھ گہری کاٹ اور چنگاریاں سی تھیں۔۔۔
ایڈوکیٹ شاہزیب نے اچھنبے سے اسکے ہنوز ازلی نڈر اور باغیانہ انداز دیکھے۔۔
وہ ٹھٹھک گیا۔۔۔ جھوٹوں کے چہرے اتنے روشن انداز اتنے نڈر اور آنکھیں اتنی پرعزم نہیں ہوتیں۔۔۔
سب میرے ساتھ غلط کر سکتے ہیں لیکن میں خود خود کے ساتھ غلط نہیں کرسکتی۔۔۔ میں یہ سروائیول کی جنگ زندگی کی آخری سانس تک لڑوں گی۔۔
سبطین عالمگیر سے شادی کسی قیمت پر نہیں کروں گی پھر چاہیے اسکی قیمت مجھے زندگی دے کر کیوں نا چکانی پڑے۔۔۔
اور خوب کہی آپ نے شاہزیب ۔۔ کے آپ میرے لئے جو کر سکتے تھے آپ نے وہ میرے لئے کیا۔۔۔
لبوں پر زبان پھیرتے ہدی نے خود کو کمپوز کیا۔۔۔
کچھ پل لگے اسے خود کو کمپوز کرنے میں۔۔۔ آنکھیں میچ کر گہری سانس بھر کر خارج کرتے اسنے آنکھیں کھولیں اور انگلی کی پور سے آنکھ کا نم کونا صاف کیا۔۔۔
شاہزیب لب کترتے سر جھکائے جوتے کی نوک سے مٹی کھرچ رہا تھا ۔۔
مجھے۔۔۔ مجھے آپکی مدد درکار ہے شاہزیب۔۔۔ ہدی نے رک کر آواز کی لغزش پر قابو پایا۔۔۔
شاہزیب نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔۔
آپ نے میری مدد تب بھی کی تھی شاہیزب جب ہم میں کوئی واضح رشتہ نا تھا۔۔۔ مجھے آج بھی آپکی مدد درکار ہے ۔ اور مجھے امید ہے کے آپ انسانیت کے ناطے سہی میری مدد ضرور کریں گے ۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر ہدی کی آنکھ سے پھسلا۔۔۔
شاہزیب نے جھٹکے سے سر اٹھاتے ہدی کو دیکھا۔۔
نہیں۔۔۔ عزم سے آنسو صاف کرتی وہ چند قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ اپنے کرادر کی صفائی ہرگز پیش نہیں کروں گی کے اب ہمارے درمیاں وضاحت طلب کوئی رشتہ نہیں رہا۔۔
وقت میری پاکیزگی خود ثابت کرے گا۔۔ ابھی تو مجھے یہ سروائیول کی جنگ جیتنی ہے۔۔۔
شاہزیب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
وہ چند قدم شاہزیب کے جانب بڑھی۔۔
یہ دو کارڈز ہیں جن میں سبطین عالمگیر کے خلاف استعمال ہونے والے چند ثبوت ہیں۔۔
اسکے ڈیرے کی ریکارڈنگ میں دیکھ چکی ہوں اس میں کافی کچھ ہے اسے پھنسانے کو۔۔۔ البتہ اسکے کمرے کی ریکارڈنگ میں نہیں دیکھ سکی کے ابھی میں اسکے کمرے سے وہی لے کر آ رہی ہوں۔۔
تم نے سبطین کے کمرے اور ڈیرے پر کیمراز لگوائے تھے۔۔۔ شاہزیب کی حیرت تھی کے ختم ہونے کا نام نہیں کے رہی تھی۔۔۔ یہ لڑکی کیا کیا کرتی پھر رہی تھی۔۔۔
کہا نا میں موت کے دہانے پر کھڑی سروائیول کی جنگ لڑ رہی ہوں۔۔۔اور مجھے یہ جنگ جیتنے کے لئے کسی بھی حد تک جانا پڑا میں جاؤں گی۔۔ میں ہار نہیں مان سکتی۔۔۔
اور مجھے امید ہے کے آپ میری مدد ضرور کریں گے۔۔ اتنے کانٹیکٹس تو ہیں ہی اپکے کے جلد از جلد سبطین عالمگیر کے خلاف کاروائی کروا کر اسے اریسٹ کروا سکیں۔۔۔
کل میرے نکاح سے پہلے وہ سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔۔۔اور اگر ایسا نا ہوا ۔۔۔ وہ شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتی تلختی سے کہتے کچھ توقف کو رکی۔۔۔
تو کبھی معاف نہیں کروں گی آپکو۔۔۔
وہ شاہیزب کو کیمراز کے کارڈز دے کر یک ٹک اسے
#Zulmat_e_Noor
#by_umme_Hania
Complete 💯✅ novel available here 👇
youtube.com/playlist?list=PLv...
5 days ago | [YT] | 9
View 1 reply
Writer Umme Hania
اسکے فلیٹ میں جگہ جگہ کیمرے لگے تھے وہ یہاں بیٹھا بھی عائزل کی ایک ایک حرکت پر نگاہ رکھ سکتا تھا مگر غصے کے شدید غلبے تلے وہ اسکی صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
لیکن آج معاملہ کچھ اور تھا۔۔۔ وہ خود پر اختیار کھوتا جا رہا تھا۔۔ بلآخر انا دل کی دیواروں سے سر پٹخ پٹخ کر فنا ہرو گئ اوردل فتحیاب ٹھہرا۔۔۔
اسنے موبائل کی فوٹیج کھولی۔۔۔
اصولاً تو وہ رات کے اس پہر سو ہی رہی ہوگئ۔۔۔
چلو وہ سوئی ہوئی کو دیکھ کر ایک دفعہ تسلی کر لے گا۔۔۔
اسنے سب سے پہلے کمرے کی فوٹیج کھولی۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ بستر تو نفاست سے بچھا ہوا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر یہ کہنا تو ناممکن تھا کے یہاں کوئی آرام کر رہا ہو اور آنکھ کھلنے پر واش روم یا کچن میں گیا ہو۔۔۔۔
کمرے کی فوٹیج میں واش روم کا دروازہ بھی کھلا تھا وہاں اندھیرا تھا مطلب کے وہ وہاں بھی نا تھی۔۔۔
دائم یکدم ہی سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ وہ کمرے میں نا تھی تو کہاں تھی۔۔۔
دل میں الگ الگ سے وسوسے جنم لینے لگے تھے۔۔۔
کہیں بھاگ تو نہیں گئ۔۔ اسکے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہوا۔۔۔
نہیں۔۔ نہیں۔۔۔ یہ تو ممکن نہیں۔۔ وہ فلیٹ باہر سے لاک کر کے آیا تھا ۔۔۔ اور مین دروازے کے سوا وہاں سے نکلنے کا کوئی اور طریقہ نا تھا۔۔۔
پھر۔۔۔
اپنے اندر جنم لیتے ہر وسوسے کو جھٹکتے اسنے کچن کی فوٹیج کھولی۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔ کچن بھی نفاست سے سیٹ تھا۔۔۔ وہاں کسی زی روح کا نام و نشان تک نا تھا۔۔۔
وہیں اسی پوزیشن میں بیٹھے اسنے سٹڈی روم اور ٹیرس کی فوٹیج بھی دیکھ ڈالی۔۔۔ وہاں کوئی نا تھا۔۔۔
غصے سے دائم کے ماتھے کی رگیں تک ابھرنے لگی۔۔۔
اسنے غصے سے اٹھتے جوتا پہنیں۔۔ اب وہ صورتحال وہیں جا کر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات طے تھی۔۔۔ ابکی بار وہ اس لڑکی کی کوئی غلطی معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
******
اسنے غصے سے اٹھتے جوتا پہنا۔۔۔۔ اب وہ صورتحال وہیں جا کر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات طے تھی۔۔۔ ابکی بار وہ اس لڑکی کی کوئی غلطی معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
یکدم یاد آنے پر اسنے موبائل جیب میں ڈالتے ڈالتے پھر سے نکالا۔۔۔
لاوئنج اور انٹرس کی فوٹیج تو اسنے چیک کی ہی نہیں۔۔۔
اسنے وہیں کھڑے کھڑے انٹرس کی فوٹیج نکالی۔۔۔ دروازہ ہنوز لاک تھا۔۔۔ شش و پنج میں مبتلا اس نے لاوئنج کی فوٹیج نکالی اور اسے دیکھتے ہی وہ تھم گیا۔۔۔
جیسے ایک پل کو کوئی اسے اندر تک جھنجھوڑ گیا ہو۔۔۔
وہ گھبرا کر وہیں بیٹھ گیا۔۔۔
رات کے دوسرے پہر زیرو پاور کی مدہم لائٹ میں وہ دوپٹہ حجاب کی صورت لپیٹے جائے نماز پر بیٹھی ہاتھ اٹھائے اپنے رب کے حضور رو رہی تھی۔۔۔۔
نہیں بلکہ وہ رو نہیں رہی تھی۔۔۔ جس چیز نے دائم خان کو جھنجھوڑا تھا وہ اسکے دعا مانگنے کا طریقہ تھا۔۔۔ وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہی تھی۔۔۔
یا یہ کہا جاتا کے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔
دائم کے اندر توڑ پھوڑ سی ہونے لگی تھی۔۔۔ اسنے آج تک اس لڑکی کو اتنی ٹوٹی پھوٹی حالت میں نا دیکھا تھا۔۔۔
اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے ہیڈفون اٹھا کر کانوں کو لگایا۔۔۔
یوں وہ اسکی کلیئر آواز سن نہیں پا رہا تھا۔۔۔
یا اللہ وہ شخص ظالم ہے۔۔۔ بہت بہت ظالم۔۔۔۔ اللہ اسکے دل میں میرے لئے رحم ڈال دے۔۔۔۔ اسکی آواز ٹوٹ رہی تھی۔۔۔۔
وہ میری بے گناہی پر یقین لے آئے۔۔۔ اللہ میں بے گناہ ہوں۔۔۔ تو تو جانتا ہے نا۔۔۔ تو جانتا ہے نا اللہ۔۔۔ جیسے وہ اللہسے اپنی بے گناہی کی یقین دہانی چاہتی ہو۔
اللہ وہ شخص جسے تو نے میرا محافظ مقرر کیا ہے۔۔۔ وہ مجھے بدکردار بے حیا اور دھوکے باز کہتا ہے۔۔۔
اللہ تو جانتا ہے نا میں ایسی نہیں۔۔۔ میں اچھی لڑکی ہوں اللہ۔۔۔ اس شخص کو بھی اس بات کو یقین ڈلا دے۔۔۔ اسکا دل زخمی زخمی ہوا پڑا تھا جہاں سے درد کی بے شمار ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں ۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں اللہ۔۔۔ میں خود کو ایک بند اندھیری کوٹھری میں کھڑا پاتی ہوں جہاں میرے پاس میری واحد امید تو ہے۔۔۔ اور تو تو سب کر سکتا ہے نا اللہ ۔۔۔ تیرے لئے کیا مشکل
تو کوئی سبیل نکال دے۔۔۔ کوئی وسیلہ بنا دے میرے مالک۔۔۔ درد آنسووں کی صورت بے ساختہ بہہ رہا تھا
تو گواہ ہے کے نکاح سے پہلے میں اس شخص کو جانتی تک نا تھی۔۔۔ پھر اسکے پاس تمام ثبوت۔۔۔ وہ کہاں سے آئے۔۔۔
وہ تمام ثبوت مجھے جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔۔۔ حالانکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔۔۔ میں نے کب بات کی کسی نا محرم سے۔۔۔
کیوں اس ظالم شخص کو مجھ پر یقین نہیں آجاتا اللہ۔۔۔ کیوں ہے وہ اتنا ظالم۔۔۔
اللہ میری پارسائی ثابت کردے۔۔۔ کردے نا اللہ۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو دی تھی۔۔۔ جیسے آج اپنے رب کو راضی کر کے ہی اٹھنے کا ارادہ ہو۔۔۔
اس ظالم شخص کو احساس دلا دے کے اسنے میرے ساتھ کتنا غلط کیا ہے۔۔۔ کتنا ظلم کیا ہے اسنے مجھ پر۔۔۔
اسکی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔۔
رسوائی کا وہ منظر یاد کرتی ہوں تو میرا دل بند ہونے لگتا ہے اللہ۔۔۔ پوری دنیا عائزل کو جھوٹا فریبی اور بد کردار سمجھ رہی ہے۔۔۔ پر کیا میں ایسی ہوں اللہ۔۔۔
وہ کہتا ہے کے میرے ایمان کی قیمت چار لاکھ ہے۔۔۔ اللہ وہ کیسے بار بار میرا دل توڑ سکتا ہے۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
بار بار کیسے وہ میرے دل پر اتنے کاری وار کر سکتا ہے۔۔
کیا اسے احساس نہیں ہوتا کے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ یا اسے مجھے تکلیف دے کر خوشی ہوتی ہے۔۔
اللہ کیا میں اپنا ایمان بیچ سکتی ہوں۔۔۔ میں ایسا کر سکتی ہوں اللہ۔۔۔
اللہ میرے دل کو سکون عطا کر۔۔۔ میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔ اللہ۔۔۔ اللہ اپنی ذات کے بارے میں اتنے غلط الفاظ سنے ہیں نا میں نے کے اب تو یقین ہونے لگا ہے ۔۔۔ کہ۔۔۔ کہ میں ہوں ہی ایسی۔۔۔ بری لڑکی۔۔۔ وہ شدت گریہ سے سرخ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی بلکی۔۔۔۔
جبکہ دوسری جانب شاید آج انکشاف کا دن تھا۔۔۔
دائم کے ہاتھ میں تھاما موبائل بھی ہاتھوں کی لغزش کے باعث کپکپا اٹھا تھا۔۔۔۔
اسکی ذات جھٹکوں کی زد پر تھی۔۔۔
وہ اس واقعہ کو پری پلین نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔
وہ لڑکی رات کے اس پہر اپنے رب کے حضور اداکاری نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
ناجانے کس قوت نے آج اسے اسکی فوٹیج دیکھنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔
اسکا بلکنا سسکنا گڑگڑانا۔۔۔ کچھ بھی جھوٹا نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ رات کے دوسرے پہر اپنے رب کے حضور اسی کی شکایتیں لگا رہی تھی۔۔۔ اسے ظالم کہہ رہی تھی۔۔۔
دائم کے دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے۔۔۔
موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔۔۔
اسنے چکراتا سر ہاتھوں مین تھام لیا۔۔۔۔
#مکمل-ناول-سکیم
#از_ام_ہانیہ
Complete 💯 ✅ novel available here👇
https://youtu.be/f98E57aOM6s
6 days ago | [YT] | 10
View 0 replies
Writer Umme Hania
جیپ کے ٹائر آ کر عین انکے قریب چڑچڑائے۔۔۔ جسکی پیسنجر سیٹ پر ڈری سہمی خود میں سمٹتی ہوئی اینجل بیٹھی تھی۔۔ خوف و ہراس جسکے چہرے سے ہوا دیدہ تھا۔۔۔جیپ رکتے ہی اینجل تیزی سے جیپ سے اتری۔۔۔ وجیہہ بھاگ کر اسکی جانب لپکی جب اینجل کسی خوفزدہ بچے کی مانند اس سے لپٹ گئ۔۔
وجیہہ نے حیرت سے جیپ کی جانب دیکھا جہاں ڈرائیونگ ڈور کھول کر اپنی تمام تر وجاہت سمیٹ وقاص درانی اتر رہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کی چمک سے ہی پتہ چلتا تھا کے گویا وہ فاتح ٹھہرا ہو۔۔۔
پروفیسرز تیزی سے اسکی جانب لپکے جب وہ ان سے مصافحہ کرتا انہیں اینجل سے ملنے اور مقامی لوگوں کی مدد حاصل کر کے یہاں تک پہنچنے کی مختصر روداد سنا رہا تھا۔۔۔
پلیز سر آپ اینجل سے کچھ نا کہیں وہ پہلے ہی بہت ڈری ہوئی ہے۔۔۔
اینجل وجیہہ کے ساتھ تیزی سے اندر چلی گئ اور اپنی کمرے میں آتے ہی وہ وجیہہ سے لپٹتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ بس اینجل بس۔۔۔ خدا کا شکر ہے کے تم مل گئ۔۔ تمہیں پتہ ہے ہم کتنے پریشان۔۔۔۔جب بات کرتے ہوئے اسکی کمر سہلاتے وجیہہ کا ہاتھ اسکے بالوں سے ٹکرایا۔۔اور وہ بے ساختہ تھمی
مائے گاڈ اینجل تم نے اتنی ٹھنڈ میں شاور لیا ہے۔۔۔
اسکی حیرت زدہ آواز سن کر اینجل وہیں دم سادھ گئ۔۔۔
خوف و حراس کی پر شدت لہر اسکے اندر دور گی۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی۔۔
میں بہت تھک گئ ہوں وجیہہ میں سونا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ بعجلت اپنے بستر کی جانب بڑھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے لحاف کھولتی خود پر اوڑھنے لگی۔۔۔ گویا کچھ چھپانا چاہ رہی ہو۔۔۔
ٹھیک ہے پر مجھے بتاو تو سہی کے تم کھو کیسے گئ تھی اور وقاص سر سے کیسے ملی مطلب ۔۔
نیچے انہوں نے ساری بات بتا تو دی ہے وجیہہ اب مجھ سے کیا سننا چاہتی ہو تم۔۔۔ وہ ایک دم چڑ کر کہتی پھٹ پڑی۔۔۔ یوں کے وجیہہ بونچکا رہ گئ ۔
اینجل ہوا کیا ہے کیوں تم ایسا رویہ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا مجھے بس سونا ہے۔۔۔ تم کمرے کی لائٹ آف کر دو۔۔۔ وہ بستر پر چت لیٹی لحاف سر تک اوڑھ گئ۔۔۔
اسکا جسم خزاں رسید پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔ اور آنکھوں سے مسلسل سیل رواں تھا۔۔۔
یہ مجھ سے کیا ہو گیا اللہ تعالی۔۔۔ میں اب کیا کروں۔۔ میری مدد فرما اللہ۔۔ میری مدد فرما۔۔۔
کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا۔۔۔ میں ممی۔۔ کو کیسے فیس کروں گی۔۔۔ اور۔۔ اور بھائی اور ڈیڈ۔۔۔
وہ بے طرح کپکپاتے ہاتھوں سے چہرا صاف کرتی اپنے حواس بحال رکھنے کی جستجو میں ہلقان تھی ۔۔ اسکا دل مسلسل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔
ممی ٹھیک تھیں وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھیں اسے کسی صورت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔ کاش وہ اسے زبردستی وہیں روک لیتی۔۔۔ اسکی پشیمانی تھی کے ختم ہونے کا نام تک نا لے رہی تھی۔۔۔ لیکن اب پچھتانے کا فائدہ بھلا۔۔۔
ـــــــ
#جنت-سےـپہلے
#از_ام_ہانیہ
1 week ago | [YT] | 13
View 0 replies
Writer Umme Hania
Nest episodes of #Jannat_say_pehly will be uploaded tomorrow morning 🌄 8am Inshallah...
And episode will grab your attentions badly..
Stay tuned
1 week ago | [YT] | 12
View 0 replies
Writer Umme Hania
https://youtu.be/65LEd66rCzc?si=OtEUP...
2 weeks ago | [YT] | 2
View 1 reply
Writer Umme Hania
لاوئنج میں کھڑا غضنفر لال بھبھوکا چہرا لئے غصے سے جرح کر رہا تھا جبکہ عینا بے جان ہوتے وجود کے ساتھ صوفے پر سر تھامے بیٹھی تھی۔۔۔ آج کا یہ ٹکراو سب سے غیر متوقع تھا جو ایک ہی جھٹکے میں اسکی ساری توانائیاں نچوڑ لے گیا تھا ۔
اذیت ناک ماضی زندگی کے کس حصے میں کسی خوفناک عفریت کی مانند اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ کے وہ بونچکا رہ گئ تھی۔
ارحم کا دھوکہ۔۔۔ وہ خوفناک شب و روز جب وہ ہر ہر آہٹ سے ڈرنے لگی تھی۔۔۔ غضنفر سے شادی کے ابتدائی ایام۔۔۔ جب وہ خود سے ہی نفرت محسوس کرتی خود کو غضنفر کا مجرم سمجھتی تھی۔۔ سب کچھ یک باریگی ہی سامنے آتا اسے آدھ موا کر گیا تھا۔۔
کیونکہ مجھے نہیں پتہ تھا کے ہمارے گھر آنے والے شخص ارحم خان ہوگا ۔۔ خود سے لڑتے لڑتے وہ چٹخ اٹھی۔۔۔۔ عجیب بے بسی سی بے بسی تھی کے وہ کھل کر یہ بات کسی سے شئیر بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے کیا عینا۔۔۔ تمہیں ارحم سے کیا مسلہ ہے۔۔ وہ تو تمہارا کلاس فیلو رہ چکا ہے نا۔۔ عینا نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔کاش وہ بتا سکتی کے اسے ارحم سے کیا مسلہ تھا کاش کوئی دور کر دے یہ پرانے حوالے اسکی زندگی سے۔۔۔ پرانے زخموں سےخون رسنے لگا تھا اور انکی اذیت ناقابل برداشت تھی۔۔۔
اور پھر بھول گئ کیا۔۔۔ کے کتنے احسانات تھے اس شخص کے ہم پر ۔۔۔
بس یہ ہی بات ہے غضنفر ۔۔۔ وہ ایک دم سد اٹھاتی چٹخ اٹھی۔۔۔ کے بہت فرق ہے ان میں اور ہم میں۔۔۔ وہ گھرانہ میری بیٹی کے لئے ہرگز موزوں نہیں۔۔۔ پوری زندگی میں اپنی بیٹی کو کسی کے احسانوں کے بوجھ تلے دبتا نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ لحاظہ فجر کی شادی وہاں نہیں ہوگی۔۔۔ موسی بہت اچھا لڑکا ہے۔۔ دیکھا بالا ہے۔۔۔ سب سے بڑھ کر۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا عینا۔۔ اس رشتے کو مسترد کرنے کے لئے کوئی ویلڈ جواز تو دو۔۔۔ اور کونسے سے زمانے میں جی رہی ہو تم۔۔۔ وہ شخص تمہاری بیٹی کی پسند ہے اور پھر۔۔۔
میری بیٹی نادان ہے۔۔۔ وہ چٹخ چٹخ گئ۔۔ نا سمجھ ہے بے وقوف ہے وہ۔۔۔ (اپنی ماں کی طرف) خون آشام آنکھیں لئے وہ زندگی میں پہلی مرتبہ شوہر کے روبرو گئ۔۔۔
آپکو کیا لگتا ہے۔۔ میں سوتیلی ماں ہوں اسکی۔۔۔ دشمن ہوں اسکی۔۔۔ غضنفر ٹھٹھک کر اسکا جارحانہ انداز دیکھنے لگا۔۔۔
کیا مجھے اس سے محبت نہیں۔۔۔ میرے جگر کا ٹھرا ہے وہ غضنفر۔۔۔ مجھے بھی اسکی خوشی عزیز ہے۔۔۔ اسی لئے کہہ رہی ہوں کے اسکی شادی اس لڑکے سے نہیں ہو سکتی ۔۔ کسی صورت نہیں۔۔۔
نو نیور۔۔۔ اسکا لہجہ اسقدر اٹل تھا کے اندر کسی ساکت و جامد مجسمے کی مانند بیٹھی فجر بھی جی جان سے کانپ اٹھی۔۔۔۔
یہ اسکی سب سے پیاری ماں بھلا کیا بول رہی تھی۔۔۔ اسکی ڈھرکنیں سست پڑنے لگیں۔۔۔
تو پھر میری بھی ایک بات سن لو۔۔ دفعتا باپ کا ٹھنڈا لہجہ اسکے کانوں سے ٹکرایا۔۔۔
فجر کی شادی کہاں ہوگی اسکا فیصلہ تم نہیں خود فجر کرے گی۔۔۔ اور میں دیکھتا ہوں کے میری موجودگی میں کون اسکے ساتھ زبردستی کرتا ہے۔۔۔ باپ کی مستحکم آواز پر فجر کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ اسکے حواس قدرے بحال ہونے لگے ۔ جب بابا اسکے ساتھ تھے تو اسے بھلا کس چیز کی فکر۔۔ بابا سب سمبھال لیں گے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں کب کہہ رہی ہوں کے فجر کے ساتھ زیادتی ہوگی۔۔۔ ماں کی آواز میں کچھ ایسا ضرور تھا کے فجر ٹھٹھکی۔۔۔ اسے شدت سے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔۔
موسی سے فجر کی شادی تبھی ہوگی جب فجر خود اس سے شادی کے لئے رضامندی دے گی۔۔۔ کیا پتہ وہ موسی کو ہی اپنے لئے بطور ہمسفر چن لے۔۔۔ ماں کی پراسرار آواز پر فجر وہیں تھم گئ۔۔ ارد گرد کہیں کچھ الارمنگ سا شدت سے بجنے لگا تھا ۔۔۔ کچھ ایسا جسے وہ فلحال سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
ـــــــ
#جنت-سےـپہلے
#از_ام_ہانیہ
2 weeks ago | [YT] | 4
View 0 replies
Writer Umme Hania
میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کے تم جو رومینس لکھ رہی ہو۔۔۔ مطلب اسے پڑھنے والے پندرہ سال کے ناسمجھ بچے بھی ہیں۔۔۔ اور یہ مواد انکے کچے ذہنوں پر غلط اثر ڈال سکتا ہے زخرف اور یہ چیز ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کے ہماری وجہ سے۔۔۔
ہمارے لئے لمحہ فکریہ کیوں ہے ایمان۔ وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹ گئ کے ایمان کو یکدم خاموش ہونا پڑا۔۔۔
آج کے فاسٹ دور میں کم عقل کوئی بھی نہیں۔۔۔ چاہے وہ پھر پندرہ سال کی بچی ہے یا تیرہ سال کی۔۔۔ آج کل بچوں کو ہر چیز کی سمجھ ہے ہر چیز کے بارے میں آگاہ ہیں وہ۔۔۔ ان سے کچھ مخفی نہیں۔۔۔۔۔۔ باشعور ہیں وہ۔۔۔ انہیں سب پتہ ہے۔۔۔ اور وہ سب اپنی مرضی سے پڑھتے ہیں۔۔۔ جنہیں میرے لکھنے سے مسلہ ہے وہ مت پڑھے۔۔۔ میرے پیج اور چینل سے دور رہے۔۔۔۔سمپل۔۔۔۔
زخرف کے اتنی آسانی سے بات ہی ختم کر دینے پر وہ کتنے ہی پل گم صم سی اسے دیکھتی رہ گی۔۔۔
جس بات نے اسے رات سے بے چین کر رکھا تھا وہ کتنے آسانی سے اسے ہوا میں اڑا چکی تھی۔۔۔
کیسے بات ختم زخرف۔۔۔ وہ بچے ناسمجھ ہیں۔۔۔ اس لئے اس کانٹینٹ کو کنزیوم کرتے ہیں جس میں اٹریکشن محسوس کرتے ہیں۔۔۔ اور یہ چیز تو سائنس بھی ثابت کر چکی ہے کے ٹین ایج میں بدلتے ہارمونز کے باعث ٹین ایجرز ایسی چیزوں میں اٹریکشن محسوس کرتے اس جانب مائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ اسی لئے تو ٹین ایج کو زندگی کا سب سے حساس حصہ کہا گیا ہے جہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جہاں قدم لڑکھڑائے وہیں وہ ایک گڑھے میں گر جائیں گے۔۔۔ یار یہ ہماری یوتھ ہے۔۔۔ ہماری قوم ہے۔۔۔ ہمارا فرض ہے کہ۔۔
اوہ پلیز ایمان۔۔۔ کیا میں تنہا ہوں جو یہ رومینٹک ناولز لکھ رہی ہوں۔۔۔ جاو جا کر ایف بی اور یوٹیوب چینل سرچ کرو۔۔۔ میرا لکھا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ رائٹرز نے اسقدر بولڈ اور اوپن رومینس لکھ ڈالا ہے کے حد نہیں۔۔۔ اور دیکھو وہاں کتنی بھیر ہے۔۔۔ پڑھنے والے سراہنے والے موجود ہیں تو ہم لکھ رہے ہیں نا۔۔۔ نا پڑھیں لوگ ہمیں ۔۔۔ ہم نہیں لکھیں گے۔۔۔
وہ ایمان کے انداز سے تلخ ہو اٹھی تھی۔۔۔
ایمان کو اسکے سامنے ان لفظوں کا فقدان محسوس ہونے لگا جن سے وہ اسے قائل کر سکتی تھی۔۔۔
اسے بے ساختہ وہ آیت یاد آئی۔۔۔
کے آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
زخرف اگر ہر کوئی ٹرینڈ کو فالو کرتے ایک ان دیکھی بھیڑ میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے تو کیا ضروری ہے اسی بھیڑ کی اندھی تقلید کی جائے۔۔۔ ۔بھیر کا حصہ تو سبھی بن جاتے ہے۔۔ اس میں کیا خاص بات ہے۔۔۔ خاص بات تو ہے تنہا حق کا سفر طے کیا جائے۔۔۔ اور حق کا سفر ہر کوئی نہیں طے کر سکتا۔۔۔ یہ محض انہی گنے چنے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو چن لئے جاتے ہیں۔۔۔۔ بے ہودہ ٹرینڈ کو فالو کرنے کی بجائے ہم آج ایک نئے ٹرینڈ کی بنیاد کیوں نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔
لوگ اس فحش کانٹینٹ کو اس لئے کنزیوم کر رہے ہیں کیونکہ ایف بی رائٹرز نے سستی فیم کے لئے اسے ایزی تو ایکسس بنایا ہے۔۔۔ ہم گھٹیا مواد فراہم کرتے ہیں تو وہ پڑھتے ہیں نا۔۔۔
اگر انہیں وہ گھٹیا مواد نا ملے تو وہ کیسے پڑھیں گے۔۔۔
اور تم یہ وعظ مجھے اس لئے دے رہی ہو کیونکہ اس معاشرے میں فحش اور گھٹیا مواد صرف میں ہی پھیلا رہی ہوں ہے نا۔۔ بھڑک کر کہتے زخرف کی آواز بلند ہونے لگی۔۔۔ لفظ فحش اور گھٹیا مواد اسکے خون میں ابال اٹھا رہا تھا۔۔۔
اور جو میں یہ نا لکھوں تو تمہارا معاشرہ لفظ تمہارے پر زور دیا گیا اور تمہاری یوتھ بالکل صاف ستھری ہو جائے گی گند سے پاک رائٹ۔۔۔۔
وہ طنزیہ گویا ہوئی۔۔
ایمان تحمل سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
نہیں سارا معاشرہ صاف نہیں ہو جائے گا۔۔۔ اگر تم اپنی تھیم بدل کر پازیٹیویٹی پر لکھنے لگو تو اتنے سارے فحش اور گھٹیا مواد کے درمیاں ایک امپیکٹ ضرور پیدا ہوگا۔۔۔ جہاں فحش مواد کی بہتات ہوگئ وہاں لوگوں کو صاف ستھرا معیاری مواد بھی دکھے گا۔۔۔ پھر چوائس سبکی اپنی اپنی جو اسے پڑھنا چاہیے۔۔۔
کم از کم روز محشر تم اپنے رب کے سامنے یہ تو کہ سکو گی کے تم نے بساط بھر جہاد بالقلم کرنے کی کوشیش کی۔۔۔
دادا دینی پڑے گی تمہاری ۔۔۔ واو۔۔ یار یو آر گریٹ۔۔۔
وہ طنزیہ ستائشی انداز میں تالی بجاتی تمسخرانہ بولی۔۔۔
ویسے یہ خناس آ کہاں سے رہا ہے تمہارے دماغ میں۔۔۔ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔۔ ابھی تک تو تم میرے ناولز بڑے چسکے لے کر پڑھتی تھی۔۔۔ اب یکدم سے پاک بی بی بن گئ۔۔۔ اسقدر طنزیہ تیروں پر ایمان کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔
ہدایت جب نصیب ہو قبول کر لینی چاہیے نا۔۔۔ اور نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو ہی جائے گی۔۔۔ کیونکہ ہماری جائے پناہ ہی اس ذات کے پاس ہے۔۔۔ تو اس میں طعنہ کیساپ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ایمان اسقدر تحمل کا مظاہرہ کر پا رہی تھی۔۔۔
پلیز زخرف تم میری باتوں کا غلط مطلب مت لو۔۔۔ ان سب چیزوں سے لوگ ٹرگر ہو کر کن غلط راہوں کے مسافر بن رہے ہیں تمہیں اندازہ ہی نہیں۔۔۔ اور انکی۔۔۔
تم نے پوری دنیا کا تھیکہ لے رکھا ہے کیا۔۔۔ کم عمر بچے کم عمر بچے۔۔۔ ارے انکے ماں باپ ہیں انہیں دیکھنے کے لگی۔۔۔ تم سب کی ماں کیوں بن رہی ہو۔۔۔ وہ غصے سے چٹختی اٹھ کھڑی ہوئی کے ایمان حق دق سی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ اور تمہاری باتوں کا تو بہت اچھے سے مطلب سمجھ چکی ہوں میں۔۔۔ جل رہی ہو تم میری کامیابی سے۔۔ کے تمہاری جیسی عام سی لڑکی اسقدر مقبول کیسے ہو رہی ہے۔۔۔ کیسے لوگ اسے جاننے لگے ہیں۔۔۔
مائے گاڈ۔۔ ایمان سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
ٹھیک ہے میں گھٹیا میرا کانٹینٹ گھٹیا۔۔۔ مجھے پڑھنے والے ہم سے بھی گھٹیا۔۔۔ تم تو پاکباز ہو نا۔۔۔ تو جو تنہا راستہ تم مجھے چننے کو بول رہی ہو وہ خود کیوں نہیں چن لیتی۔۔۔ زخرف کی نگاہوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔ ہاتھ تو تمہارے پاس بھی ہیں اور ساتھ میں دماغ بھی۔۔۔ تو لکھو جو لکھنا چاہتی ہو۔۔۔ کس نے روکا ہے۔۔۔
کرو کریٹ امپیکٹ اس معاشرے پر۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں زرا تمہیں اور تمہارے امپیکٹ کو۔۔۔ اور جب تم امپیکٹ کریٹ کر لو تب شاید میری فالونگ مجھے چھوڑ کر تمہارا یونیققققق اور معیاری کانٹینٹ کنزیوم کرنے آ جائے۔۔۔ تب تک جان چھوڑو میری۔۔۔ وہ زوردار انداز میں اسکے سامنے ہاتھ جورٹی انتہائی حقارت سے کہتی واپس پلٹ گی جبکہ ایمان جہاں کی تہاں رہ گی۔۔۔
اسکی آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا اور کانوں میں محض ایک ہی آواز گھونج رہی تھی۔۔۔
نصیحت سب کے لئے ایک سی نہیں ہوتی۔۔۔
جب یہ ہی آگ کچھ سالوں بعد گھوم پھر کر آ کر اپنے ہی گھر کو لگے گی۔۔۔ جب اس آگ نے اپنے ہی دامن جلائے نا کلیجے پر ہاتھ تب پڑے گا۔۔۔ ابھی غلط راہ اختیار کرنے والی دوسروں کی بچیاں ہیں اور بدلے میں ڈالرز مل رہے ہیں کل جب غلط راہ اختیار کرنے والی اپنی بچی ہوئی نا دل تب دہلیں گے۔۔۔
اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
راہِ_حق
از_ام_ہانیہ
راہِ_حق
از_ام_ہانیہ
#2nd_part_of_this_novel_is #Jannat_say_pehly ongoing a
Novel #راہِ_حق
#از_ام_ہانیہ
Complete novel link 🖇️👇
youtube.com/@ummehania786?si=-jT_BXCCxaWBC5Nb to
2 weeks ago | [YT] | 6
View 0 replies
Load more