لفظِ پٹواری کے اوصاف و کمالات دوسروں کی زبانی تو سن رکھے تھے مگر کبھی کسی پٹواری سے پالا نہ پڑا مگر اب جب کسی پٹواری سے پالا پڑا ہے تو باخدا دلی تمنا ہے کہ کسی دشمن کا بھی کسی پٹواری سے پالا نہ پڑے ۔ برصغیر میں شیر شاہ سوری نے زمینوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک نظام قائم کیا۔ پھر مغلیہ دور میں یہی نظام ترامیم کے بعد جاری رہا اور انگریزوں نے آکر اس کے لئے قوانین بنائے۔ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہی نظام مختصر ترامیم و تنسیخ کے بعد جاری ہے۔ انگریز دور میں انگریزوں نے آکر برصغیر پر ناجائز قبضہ کیا اور اپنے وفاداروں ( بوٹ پالشیوں ) کو مراعات دیں ،باقی غریب عوام پر ظلم روا رکھا انکی زمینوں پر ناجائز قبضے وغیرہ سر فہرست ہیں اور ایسے کسی کی زمین پر قبضہ اور اسکی ملکیت میں تبدیلی پٹواری کی ملی بھگت کے بغیر ناممکن ہے۔ خیر پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہی نظام وہی غریب کے ساتھ ظلم آج بھی جاری و ساری ہے۔ اسی طرح با اثر ورسوخ اور ڈنڈہ بردار شخصیات کے جائز و ناجائز کام جاری ہیں مگر غریب اپنے جائز کام کے لئے بھی دھکے دھوکے کھاتا دکھائی دیتا ہے۔ اتنا ہی نہیں گالم گلوج ، بد گفتاری ، بد سلوکی اور ذلت و رسوائی اسکا مقدر بنتی ہے ۔ اس کی سسکیاں و آہ زاری کو رد کیا جاتا ہے بلکہ بد گفتاری کے ساتھ اسکو بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ میں مختلف محکموں میں مختلف اغراض کی خاطر گیا مگر تمام محکموں میں ایک ہی حال ہے ، افسران میں دور دور تک انسانیت کی بو نہیں رہی ، ہر آفسر اپنی جگہ خدا بنا بیٹھا ہے۔ اثر ورسوخ والے کا ہر جائز و ناجائز کام کیا جاتا ہے ، جبکہ غریب کے مقدر میں ذلت و پستی لکھی ہوتی ہے ۔دل خون کے آنسوں روتا ہے جب غریب ہر محکمہ میں اپنے جائز کام کے لیے رسوا ہوتا ہوا ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غریب اپنا جائز حق مانگنے سے بھی کتراتا ہے۔ اس کے مد مقابل اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو ان سب میں انسان کی قدر ہے۔ وہاں ذات پات ، رنگ نسل اور مذہب یا اثر ورسوخ کو فوقیت نہیں دی جاتی بلکہ انصاف کا بول بالا ہوتا ہے ۔ غریب کے لیے بھی وہی قانون وہی انصاف وہی رویہ وہی سلوک جوکہ امیر کے لئے ۔ دیکھا جائے تو جو اسلام کی اصل تعلیم تھی اس پر وہ عمل پیرا ہوکر معزز ہیں وہ صرف کلمہ گو نہیں کیونکہ ان تک اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچی ہی نہیں ، پہنچتا بھی کون ہم صرف نام نہاد مسلمان ۔ اس لئے میں بھی جلد ایسے دیار کوچ کر جاؤں گا جہاں ''میں" کی نہیں بلکہ انسان کی قدر ہوگی ۔ #Pakistan#patwari
STAY TUNED US. InshAllah , New episode will be uploaded on YouTube( AHSAN SODAI 2.0 ) tomorrow at 7 pm. Now we're coming back to YouTube with new energy and new faces to fill the gaps .
AHSAN SODAI 2.0
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی
ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
.
.
.
.
.
.
.
.
#village #villagelife #villagelifestyle #villagevlog
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
AHSAN SODAI 2.0
لفظِ پٹواری کے اوصاف و کمالات دوسروں کی زبانی تو سن رکھے تھے مگر کبھی کسی پٹواری سے پالا نہ پڑا مگر اب جب کسی پٹواری سے پالا پڑا ہے تو باخدا دلی تمنا ہے کہ کسی دشمن کا بھی کسی پٹواری سے پالا نہ پڑے ۔
برصغیر میں شیر شاہ سوری نے زمینوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک نظام قائم کیا۔ پھر مغلیہ دور میں یہی نظام ترامیم کے بعد جاری رہا اور انگریزوں نے آکر اس کے لئے قوانین بنائے۔
اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہی نظام مختصر ترامیم و تنسیخ کے بعد جاری ہے۔
انگریز دور میں انگریزوں نے آکر برصغیر پر ناجائز قبضہ کیا اور اپنے وفاداروں ( بوٹ پالشیوں ) کو مراعات دیں ،باقی غریب عوام پر ظلم روا رکھا انکی زمینوں پر ناجائز قبضے وغیرہ سر فہرست ہیں اور ایسے کسی کی زمین پر قبضہ اور اسکی ملکیت میں تبدیلی پٹواری کی ملی بھگت کے بغیر ناممکن ہے۔
خیر پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہی نظام وہی غریب کے ساتھ ظلم آج بھی جاری و ساری ہے۔
اسی طرح با اثر ورسوخ اور ڈنڈہ بردار شخصیات کے جائز و ناجائز کام جاری ہیں مگر غریب اپنے جائز کام کے لئے بھی دھکے دھوکے کھاتا دکھائی دیتا ہے۔ اتنا ہی نہیں گالم گلوج ، بد گفتاری ، بد سلوکی اور ذلت و رسوائی اسکا مقدر بنتی ہے ۔ اس کی سسکیاں و آہ زاری کو رد کیا جاتا ہے بلکہ بد گفتاری کے ساتھ اسکو بے دخل کر دیا جاتا ہے۔
میں مختلف محکموں میں مختلف اغراض کی خاطر گیا مگر تمام محکموں میں ایک ہی حال ہے ، افسران میں دور دور تک انسانیت کی بو نہیں رہی ، ہر آفسر اپنی جگہ خدا بنا بیٹھا ہے۔
اثر ورسوخ والے کا ہر جائز و ناجائز کام کیا جاتا ہے ، جبکہ غریب کے مقدر میں ذلت و پستی لکھی ہوتی ہے ۔دل خون کے آنسوں روتا ہے جب غریب ہر محکمہ میں اپنے جائز کام کے لیے رسوا ہوتا ہوا ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غریب اپنا جائز حق مانگنے سے بھی کتراتا ہے۔
اس کے مد مقابل اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو ان سب میں انسان کی قدر ہے۔ وہاں ذات پات ، رنگ نسل اور مذہب یا اثر ورسوخ کو فوقیت نہیں دی جاتی بلکہ انصاف کا بول بالا ہوتا ہے ۔ غریب کے لیے بھی وہی قانون وہی انصاف وہی رویہ وہی سلوک جوکہ امیر کے لئے ۔
دیکھا جائے تو جو اسلام کی اصل تعلیم تھی اس پر وہ عمل پیرا ہوکر معزز ہیں وہ صرف کلمہ گو نہیں کیونکہ ان تک اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچی ہی نہیں ، پہنچتا بھی کون ہم صرف نام نہاد مسلمان ۔
اس لئے میں بھی جلد ایسے دیار کوچ کر جاؤں گا جہاں ''میں" کی نہیں بلکہ انسان کی قدر ہوگی ۔
#Pakistan #patwari
1 year ago | [YT] | 1
View 0 replies
AHSAN SODAI 2.0
STAY TUNED US.
InshAllah , New episode will be uploaded on YouTube( AHSAN SODAI 2.0 ) tomorrow at 7 pm.
Now we're coming back to YouTube with new energy and new faces to fill the gaps .
2 years ago | [YT] | 2
View 0 replies
AHSAN SODAI 2.0
Kiya mujhy mazeed Exposing Karni chaiye ??
2 years ago | [YT] | 1
View 0 replies