Welcome to Yasin Burji — a serious and intellectual YouTube channel where we discuss viral social issues, Islamic perspectives, intellectual debates, and reality-based discussions.
This channel is dedicated to people who want truth, logic, and meaningful content instead of entertainment noise. Here you will find:
✔ Intellectual discussions
✔ Islamic viewpoints on modern issues
✔ Social & viral topics analysis
✔ Logical answers to atheism & doubts
✔ Motivational and awareness content
ہمارا مقصد معاشرے میں سوچ، شعور اور حق بات کو فروغ دینا ہے۔
اگر آپ سنجیدہ، با مقصد اور علم پر مبنی گفتگو پسند کرتے ہیں تو Yasin Burji چینل کو سبسکرائب کریں اور ویڈیوز کو شیئر کریں۔
📌 New videos regularly
📌 Subscribe & support for spreading truth


Yasin Burji

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عنوان:
🕊 سانحہ مریدکے — خاموش چیخیں اور زندہ سوالات


---

تمہید:

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی، طاقت کے ایوانوں نے اسے دبانے کی کوشش کی۔
پاکستان جیسے اسلامی ملک میں جب عاشقانِ رسول ﷺ نے فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لیے “ملین اقصیٰ مارچ” کا اعلان کیا، تو یہ جذبہ دراصل امت کے درد کی ترجمانی تھی۔ مگر افسوس کہ یہی جذبہ 13 اکتوبر کے دن خون میں نہلا دیا گیا — وہ دن جو سانحہ مریدکے کے نام سے تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔


---

اقصیٰ مارچ کا مقصد اور نیت:

“ملین اقصیٰ مارچ” کوئی سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ اسلامی حمیت اور غیرت ایمانی کا اظہار تھا۔
یہ امت کے مرکز اول، قبلہ اوّل “مسجدِ اقصیٰ” کے ساتھ وابستگی کا پیغام تھا۔
تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان اور علماء کا مقصد صرف یہ تھا کہ دنیا کو بتایا جائے:

> “پاکستان کے عاشقانِ رسول ﷺ، فلسطین کے بچوں کے آنسوؤں کو محسوس کرتے ہیں۔”



یہ ایک پُرامن اجتماع ہونا تھا، مگر طاقت کے ایوانوں نے اسے خطرہ سمجھا — اور یہی وہ مقام ہے جہاں ظلم نے سیاست کا روپ دھار لیا۔


---

13 اکتوبر — خون سے لکھی گئی تاریخ:

قوم یہ سوال آج بھی دہرا رہی ہے:
آخر 13 اکتوبر کو ہی گولیاں کیوں چلائی گئیں؟
یہ دن کیوں چنا گیا؟
کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا؟

پُرامن کارکنان جن کے ہاتھوں میں صرف جھنڈے اور درود پاک کے نعرے تھے، ان پر بندوقوں کے رخ موڑ دیے گئے۔
زمین پر لاشیں تھیں، فضا میں “لبیک یا رسول اللہ ﷺ” کی صدائیں تھیں،
اور انسانیت شرمسار تھی۔
یہ گولیاں صرف بدنوں کو نہیں، قوم کے ضمیر کو بھی چھلنی کر گئیں۔


---

مذاکرات اور سعد رضوی صاحب کی اپیل:

سانحے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سعد رضوی صاحب کی مذاکرات کی اپیل کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
جب قیادت بات چیت کے لیے تیار تھی تو طاقت کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ وہ لمحہ تھا جہاں امن کو ترجیح دی جا سکتی تھی، مگر ریاست نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
یہ قدم نہ صرف غیر سیاسی تھا بلکہ غیر انسانی بھی۔


---

علمائے کرام کی خاموشی — ایک دردناک سوال:

سانحہ مریدکے کے بعد جب لاشیں مٹی میں دفن ہوئیں،
تو قوم نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بڑے بڑے علماء و مفتیانِ کرام خاموش رہے۔
یہ خاموشی چیخ بن گئی۔
یہ وہ وقت تھا جب ایک عالم کو نہیں، ہر عالمِ دین کو حق کے لیے بولنا چاہیے تھا۔

قرآن کہتا ہے:

> “وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ”
(گواہی مت چھپاؤ، جو چھپائے گا اس کا دل گناہگار ہے) — (البقرہ: 283)



مگر افسوس، کچھ نے گواہی چھپا لی،
اور کچھ نے ظلم کو “ریاستی اقدام” کہہ کر جواز دینے کی کوشش کی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب حق کے مبلغین نے خاموشی کو ڈھال بنا لیا۔


---

میڈیا کا کردار — “خاموش جرم”:

13 اکتوبر کے دن جب شہداء کے جسم زمین پر پڑے تھے،
اسی وقت ملک کے بڑے ٹی وی چینلز پر اسرائیلی پارلیمنٹ کے مناظر لائیو نشر کیے جا رہے تھے۔
یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ ملکی سانحے پر پردہ ڈال کر دشمن ریاست کی پارلیمنٹ کو دکھایا جا رہا تھا؟

یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈیا اب عوامی ترجمان نہیں، طاقتور طبقے کا ترجمان بن چکا ہے۔
سانحہ مریدکے کو دبانا، دراصل عوامی شعور کو دبانے کی منظم کوشش تھی۔


---

طاقتوروں کا پیغام — اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک:

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سانحہ مریدکے دراصل ایک پیغام رسانی کا عمل تھا۔
طاقتور طبقے نے اندرونِ ملک عوام کو یہ پیغام دیا کہ

> “ریاست کے مقابلے میں کوئی مذہبی قوت سر نہیں اٹھا سکتی۔”
اور بیرونِ ملک اپنے سرپرستوں کو دکھایا کہ
“ہم نے مذہبی آواز کو قابو میں رکھا ہے۔”



یہ پیغام یقیناً وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے،
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز کبھی دفن نہیں ہوتی۔


---

اختتامیہ — خون کی خوشبو دب نہیں سکتی:

سانحہ مریدکے صرف ایک دن کا واقعہ نہیں،
یہ قوم کی اجتماعی غیرت کا امتحان ہے۔
یہ شہداء کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
حق کی راہ میں گولی کھانے والے کبھی ہار نہیں مانتے۔

طاقت کے ایوان شاید خبر روک سکتے ہیں،
لیکن شہید کے خون کی خوشبو نہیں روک سکتے۔
یہ خوشبو ہر دور میں یاد دہانی بن کر اٹھے گی کہ

> “یہ ملک عاشقانِ رسول ﷺ کا ہے،
اور لبیک کی صدا کبھی خاموش نہیں ہو سکتی۔”

3 months ago | [YT] | 1

Yasin Burji

آج زبان ساتھ نہیں دے رہی…
آج ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جنہوں نے دل چیر کر رکھ دیا۔
ہم نے دیکھا کہ عام مسلمان، بے گناہ پاکستانی — سڑکوں پر سرِ عام شہید کیے گئے۔
ان پر گاڑیاں چڑھائی گئیں، انہیں روند ڈالا گیا، اور پھر ان کی لاشیں نالوں اور گلیوں میں پھینک دی گئیں۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے:
مارنے والے بھی پاکستانی، اسلحہ بھی پاکستانی، اور شہید ہونے والے بھی پاکستانی ہیں۔

🔥 گلیاں لاشوں سے بھری ہوئی، جلتی ہوئی گاڑیاں، اٹھتا ہوا دھواں — یہ منظر دل خون کے آنسو رلاتا ہے۔
یہ لمحہ صرف ایک قوم کا نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا زخم ہے۔

آج میرا دل اتنا بوجھل ہے کہ بس

🤲 اے اللہ! امتِ مسلمہ پر رحم فرما، ہمارے دلوں کو جوڑ دے، ہمیں بھائی چارے اور انصاف کی توفیق عطا فرما، شہداء کی مغفرت فرما اور پاکستان پر اپنا کرم نازل فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🇵🇰

3 months ago | [YT] | 0

Yasin Burji

پاکستان پائندہ باد — پاک فوج زندہ باد

"یہ وطن ہمہارا ہے، ہم ہیں پاسبان اس کے"

ہماری پاک سرزمین کی حفاظت میں دن رات سرحدوں پر پہرہ دینے والے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے، امن و امان کے محافظ، قدرتی آفات میں امدادی کاموں کے ہیرو، اور ہر میدان میں قربانی کی مثال قائم کرنے والے ہمارے بہادر سپاہی، تمہیں سلام!

پاک فوج صرف ایک ادارہ نہیں، یہ ملتِ اسلامیہ پاکستان کی غیرت، جرات، اور فخر کی علامت ہے۔
ہمارے سپاہی جب سرحد پر کھڑے ہوتے ہیں تو ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔
جب قوم پر مشکل آتی ہے، تو یہی شیر دل جوان ہماری ڈھال بنتے ہیں۔

آج ہم سب مل کر تجدید عہد کرتے ہیں:
ہم وطن سے محبت کریں گے، یکجہتی قائم رکھیں گے، اور اپنے محافظوں کا حوصلہ بڑھائیں گے۔
اللہ رب العزت ہمارے ملک پاکستان کو سلامت رکھے، ترقی دے، اور پاک فوج کو مزید قوت و نصرت عطا فرمائے۔ آمین۔

پاکستان پائندہ باد! پاک فوج زندہ باد!
قاری یاسین رضوی

8 months ago | [YT] | 1

Yasin Burji

بے ضمیر حکمرانوں سے کوئی امید باقی نہیں رہی!
جب ظلم کے خلاف آواز دب جائے،
جب معصوم بچوں کا خون زمین پر بہے،
جب انسانیت دم توڑتی نظر آئے…
تو سمجھ لو کہ ضمیر مر چکے ہیں!

اے اللہ!
تو ہی ہے جو مظلوموں کا سہارا ہے،
تو ہی ہے جو اندھیروں میں روشنی عطا کرتا ہے،
فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما،
انہیں صبر، ہمت اور کامیابی عطا فرما،
اور ظالم اسرائیل کو نیست و نابود فرما۔

آمین یا رب العالمین

#PrayForPalestine
#FreePalestine
#StandWithPalestine
#غزہ_جل_رہا_ہے
#امت_کی_خاموشی

9 months ago | [YT] | 0

Yasin Burji

1 year ago | [YT] | 6

Yasin Burji

اہل سنت و جماعت کے حالیہ مباحثوں، مناظروں، مجادلوں اور مباہلوں کے عام مسلمانوں پر اثرات ؟

ان مباحثوں اورمناظروں کی وجہ سےکئی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں شامل ہیں:

1. فرقہ واریت میں اضافہ: جب مختلف علماء یا گروہ آپس میں مناظرے کرتے ہیں، تو عام عوام میں فرقہ واریت اور تقسیم کی روح پیدا ہوتی ہے۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو کمتر یا غلط سمجھنے لگتے ہیں، جس سے اتحاد میں کمی آتی ہے۔


2. مسلمانوں کی توانائی کا ضیاع: مباحثے اور مجادلے اکثر وقت اور توانائی کا ضیاع ہوتے ہیں۔ اس میں عموماً اصل مسئلہ (مثلاً اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا) نظرانداز ہو جاتا ہے اور محض فلسفیانہ یا عقلی اختلافات پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔


3. دینی سمجھ بوجھ میں کمی: جب مختلف نظریات کی بحث کی جاتی ہے تو بہت ساری پیچیدہ مسائل عوام کے لئے سمجھنا مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس سے عوام کی دینی سمجھ میں بھی گڑبڑ آ سکتی ہے۔


4. نفسیاتی اثرات: مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تکرار بعض اوقات غصے، اضطراب یا دل آزاری کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس سے دلی سکون اور روحانیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


5. دشمنی کا فروغ: مباہلہ اور مباحثہ بعض اوقات نفرت اور دشمنی کے ماحول کو جنم دیتے ہیں، جس سے مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ناپسندیدہ جذبات پیدا کرتے ہیں۔



ان کا حل:

1. اتحاد کی اہمیت پر زور دینا: علماء اور مسلم رہنماں کو عوام میں اتحاد اور محبت کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ان کی توجہ دینی تعلیمات پر مرکوز کرنی چاہیے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے احترام کی ترغیب دینی چاہیے۔


2. علمی اور مثبت مکالمہ: اختلافات کو براہ راست اور عزت و احترام کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ مناظرے کی بجائے مثبت مکالمہ اور علمی تبادلہ خیال کی طرف بڑھنا چاہیے، جس سے سب کو فائدہ پہنچے۔


3. دینی تعلیمات کی صحیح تشریح: مسلمانوں کو دینی مسائل پر درست اور سادہ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کسی بھی مسئلے کے بارے میں صحیح طریقے سے آگاہ ہوں اور اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کر سکیں۔


4. مفاہمت اور معافی کی روح کو فروغ دینا: اختلافات کے باوجود مسلمانوں میں مفاہمت کی روح پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ مباحثے اور مجادلے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آئیں۔


5. روحانیت اور عبادات پر توجہ: مسلمانوں کو نماز، روزہ، ذکر، اور عبادات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ ان کا دل اور ذہن صاف ہو اور وہ دینی اختلافات سے بلند ہو کر اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں۔



اس طرح، اگر ان مسائل کا حل منطقی اور مثبت طریقے سے نکالا جائے تو اس سے اہل سنت و جماعت کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے اور ان کے اثرات عام مسلمانوں پر مفید ثابت ہوں گے۔
یاسین رضوی آن لائن

1 year ago (edited) | [YT] | 54

Yasin Burji

Qeemti baat

2 years ago | [YT] | 2