My Channel Name Is [Religion Of Islam Channel]For Islamic Video, Islamic Bayan, Naat, Islamic History, Holey Quran Pak, Islamic Wazif,Plz Subscribe My Channel. جزاک اللّٰہ
شبِ معراج اسلام کی اُن عظیم اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسا عظیم الشان اعزاز عطا فرمایا جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ یہ وہ مقدس رات ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ کو مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کروائی گئی، یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔
یہ واقعہ ایمان والوں کے لیے ایمان کی تازگی، روحانی ترقی اور قربِ الٰہی کا پیغام لے کر آیا۔
---
شبِ معراج کا معنی
معراج عربی لفظ “عُروج” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں بلندی کی طرف جانا۔ شبِ معراج وہ رات ہے جب نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی بلندیوں تک لے جا کر اپنی خاص نشانیاں دکھائیں۔
---
واقعۂ معراج کا پس منظر
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نبی کریم ﷺ اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔ طائف کے لوگوں نے سخت تکلیف پہنچائی تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو معراج کا عظیم تحفہ عطا فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کا دل مطمئن ہو جائے اور آپ کو اپنی عظمت اور قرب کا احساس ہو۔
---
اسراء — مکہ سے بیت المقدس تک
حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بُراق پر سوار کر کے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گئے۔ یہ سفر لمحوں میں مکمل ہوا۔ مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔
---
معراج — آسمانوں کی سیر
مسجدِ اقصیٰ سے نبی کریم ﷺ کو آسمانوں پر لے جایا گیا۔ وہاں آپ ﷺ کی ملاقات مختلف انبیاء کرام سے ہوئی:
پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ
دوسرے پر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ
تیسرے پر حضرت یوسفؑ
چوتھے پر حضرت ادریسؑ
پانچویں پر حضرت ہارونؑ
چھٹے پر حضرت موسیٰؑ
ساتویں پر حضرت ابراہیمؑ
اس کے بعد آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جہاں فرشتوں کی بھی رسائی ختم ہو جاتی ہے۔
---
اللہ تعالیٰ سے ملاقات
یہ وہ مقام تھا جہاں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی قرب نصیب ہوا۔ یہاں آپ ﷺ کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئیں، جن میں سب سے عظیم تحفہ نماز تھا۔
---
نماز کا تحفہ
پہلے 50 نمازیں فرض ہوئیں، مگر حضرت موسیٰؑ کے مشورے پر بار بار کمی ہوئی، یہاں تک کہ 5 نمازیں رہ گئیں، لیکن اجر 50 کا ہی رکھا گیا۔ یہ نماز کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
---
شبِ معراج کے پیغامات
شبِ معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
مشکلات کے بعد اللہ کی مدد ضرور آتی ہے
نماز مومن کا معراج ہے
نبی کریم ﷺ تمام انسانیت کے رہنما ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بلندی عطا فرماتا ہے
---
ہمیں اس رات کیا کرنا چاہیے؟
شبِ معراج میں ہمیں چاہیے کہ:
نفل نماز ادا کریں
قرآنِ پاک کی تلاوت کریں
درود شریف پڑھیں
گناہوں سے توبہ کریں
امتِ مسلمہ کے لیے دعا کریں
---
نتیجہ
شبِ معراج ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرب، نبی کریم ﷺ کی عظمت اور نماز کی اہمیت کا پیغام دیتی ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم اللہ کی اطاعت اور رسول ﷺ کی سنت پر چلیں تو ہمیں بھی روحانی بلندی نصیب ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ معراج کی برکتوں سے حصہ عطا فرمائے اور ہمیں سچی نماز اور سچی محبتِ رسول ﷺ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 🤲
سورۃ الاخلاص قرآنِ مجید کی ان مختصر مگر نہایت عظیم سورتوں میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور وحدانیت کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ سورت مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کی بنیاد ہے۔ سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ کی ایسی پہچان کروائی گئی ہے جو ہر قسم کے شرک، تشبیہ اور تمثیل سے پاک ہے۔ یہ سورت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمارا رب کیسا ہے، وہ کیسا نہیں ہے، اور ہم اس پر کس طرح ایمان رکھیں۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، جب کفارِ مکہ حضور اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوال کرتے تھے کہ آپ ہمیں اپنے رب کی حقیقت بتائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص نازل فرمائی، جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک کامل عقیدہ فراہم کرتی ہے۔
سورۃ الاخلاص کا تعارف
سورۃ الاخلاص قرآنِ کریم کی 112ویں سورت ہے۔ یہ چار آیات پر مشتمل ہے، لیکن اپنے معنی اور پیغام کے اعتبار سے پورے قرآن کے خلاصے کے برابر ہے۔ اسے “اخلاص” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ بندے کے عقیدے کو خالص کر دیتی ہے، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی اور کی عبادت یا الوہیت کا تصور باقی نہیں رہتا۔
اس سورت کے دوسرے نام بھی ہیں، جیسے:
سورۃ التوحید
سورۃ الاساس
سورۃ النجاة
یہ سب نام اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سورت ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔
سورۃ الاخلاص کا متن اور ترجمہ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کہہ دیجئے: وہ اللہ ایک ہے۔
اللَّهُ الصَّمَدُ اللہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں۔
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے۔
سورۃ الاخلاص کی شانِ نزول
روایات میں آتا ہے کہ کفارِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: “اے محمد ﷺ! ہمیں اپنے رب کا نسب بتائیے۔ وہ کس سے پیدا ہوا؟ اس کا باپ کون ہے؟ اس کی ماں کون ہے؟” اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔
یہ سورت تمام باطل عقائد کا رد ہے، خواہ وہ مشرکینِ مکہ کے ہوں، یہودیوں کے ہوں یا عیسائیوں کے۔ اس میں اللہ کی ایسی پہچان دی گئی ہے جو ہر غلط تصور کو ختم کر دیتی ہے۔
آیت بہ آیت تشریح
1. قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
یہ آیت اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے۔ “احد” کا مطلب ہے وہ واحد جو نہ کسی میں تقسیم ہو، نہ اس جیسا کوئی ہو۔ اللہ ایک ہے، اس کی ذات میں بھی، صفات میں بھی اور اختیارات میں بھی۔ وہ اکیلا ہے، بے مثال ہے۔
2. اللَّهُ الصَّمَدُ
“الصمد” کا مطلب ہے وہ ذات جس پر سب کا انحصار ہو اور جو کسی پر انحصار نہ کرے۔ پوری کائنات اللہ کی محتاج ہے، لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہماری زندگی، رزق، صحت، کامیابی، سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
3. لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
یہ آیت ان تمام عقائد کی نفی کرتی ہے جو اللہ کے لیے اولاد یا والدین مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس نے کسی کو جنا۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
4. وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اللہ کا کوئی ہمسر، شریک یا برابر نہیں۔ کوئی طاقت، کوئی ہستی، کوئی وجود اللہ جیسا نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنی ذات میں یکتا اور بے مثال ہے۔
سورۃ الاخلاص کی فضیلت
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سورۃ الاخلاص قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت توحید کے اس بنیادی عقیدے کو بیان کرتی ہے جو پورے قرآن کا مرکزی موضوع ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص سورۃ الاخلاص سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔
سورۃ الاخلاص اور ہماری زندگی
سورۃ الاخلاص ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چاہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ میرا رب واحد ہے، بے نیاز ہے اور سب پر قادر ہے، تو اس کا دل خوف اور مایوسی سے آزاد ہو جاتا ہے۔
یہ سورت ہمیں شرک سے بچاتی ہے، ہمیں دکھاتی ہے کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اسی سے دعا مانگنی چاہیے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے۔
نتیجہ
سورۃ الاخلاص اگرچہ بہت مختصر ہے، لیکن اپنے مفہوم میں نہایت وسیع ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی ایسی پہچان کراتی ہے جو انسان کے دل کو ایمان سے بھر دیتی ہے۔ اگر ایک مسلمان اس سورت کے مفہوم کو سمجھ کر پڑھ لے، تو اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سورۃ الاخلاص کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور خالص توحید کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے، "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" یعنی "صبر کرو جیسے صبر کیا اولوالعزم پیغمبروں نے کیا تھا"۔ صبر ایمان کا آدھا حصہ ہے، اور صبر کی کامل ترین مثال اگر کسی نے پیش کی ہے تو وہ حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ صبر، برداشت اور اللہ پر بھروسے سے عبارت ہے۔
مکہ کے ظلم و ستم میں صبر:
نبی ﷺ نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں وہ مصیبتیں برداشت کیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی۔ مگر آپ ﷺ نے کبھی بددعا نہ کی، بلکہ فرمایا، "اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" یعنی "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے"۔ یہ وہ صبر ہے جو دشمن کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے۔
طائف کا واقعہ:
جب آپ ﷺ طائف تشریف لے گئے، وہاں کے لوگوں نے پتھروں سے لہولہان کر دیا، حتیٰ کہ جوتیاں خون سے بھر گئیں، تب بھی آپ ﷺ نے فرمایا، "اگر وہ آج ایمان نہیں لاتے تو مجھے امید ہے ان کی نسلیں ایمان لے آئیں گی"۔ یہ صبر صرف برداشت نہیں، بلکہ رحمت کے جذبے کے ساتھ صبر تھا۔
اولاد کے غم پر صبر:
آپ ﷺ کے کئی بیٹے بچپن ہی میں وفات پا گئے، خاص طور پر حضرت ابراہیم کے انتقال پر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہے، مگر زبان سے یہ الفاظ نکلے، "اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" یعنی "ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں، مگر ہم وہی کہیں گے جو اللہ کو راضی کرے"۔ یہ صبر محبت اور رضا کا حسین امتزاج تھا۔
فتح مکہ کا منظر:
وہی دشمن جنہوں نے ظلم کیا، جلاوطن کیا ہے، جب آپ ﷺ کے سامنے مغلوب کھڑے تھے تو آپ نے فرمایا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو"۔ یہ عفو و درگزر دراصل صبر کی انتہا ہے۔
نبی ﷺ کے صبر کے نتیجے میں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" یعنی "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ مصیبت میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا صبر ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینا صبر ہے، اور دل ٹوٹنے کے بعد بھی اللہ سے امید نہ چھوڑنا حقیقی صبر ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو، تو ہمیں بھی نبی ﷺ کے صبر جیسا صبر سیکھنا ہوگا۔ اللہ ہمیں نبی ﷺ کے صبر، حلم اور برداشت کا حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
دجال ایک ایسی شخصیت ہے جس کا ذکر احادیث اور اسلامی روایات میں بار بار آیا ہے۔ یہودی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے، لیکن وہاں اسے مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، دجال ایک جھوٹا مسیحا ہوگا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
دجال کی خصوصیات:
احادیث کے مطابق، دجال کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسے پہچاننے میں مدد کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں:
1. دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس کی پیشانی پر "کافر" لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا، چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا نہیں۔ 2. دجال مشرق کی سمت سے ظاہر ہوگا اور پوری دنیا کا سفر کرے گا، لیکن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ وہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ 3. دجال خود کو مسیح ظاہر کرے گا، لیکن وہ جھوٹا مسیحا ہوگا۔ وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے عجیب و غریب طاقتیں دکھائے گا۔
دجال کا فتنہ:
دجال کا فتنہ قیامت کی سب سے بڑی اور خطرناک نشانیوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ، خاص طور پر کمزور ایمان والے، اس کے فریب میں آ جائیں گے۔ یہودی اس کے سب سے بڑے حمایتی ہوں گے اور اسے اپنا نجات دہندہ سمجھیں گے۔ اس کے ساتھ شیاطین کی ایک فوج ہوگی جو لوگوں کو بہکائے گی۔
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر:
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے ہمیں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ان میں سے کچھ اہم تدابیر یہ ہیں:
1. سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے گا، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم) 2. ہر جمعے کو سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا: ہر جمعے کو سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا ایک مستحب عمل ہے جو ہمیں دجال کے فتنے سے بچنے میں مدد کر سکتا ہے۔ 3. ایمان کو مضبوط کرنا: ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہئے اور دجال کے فتنے کے بارے میں آگاہ رہنا چاہئے۔ 4. علم حاصل کرنا: ہمیں علم حاصل کرنا چاہئے اور دجال کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم اس کے فتنے سے بچ سکیں۔
نتیجہ:
دجال کا فتنہ ایک بہت بڑا امتحان ہے جس کے لئے ہمیں تیار رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہئے، علم حاصل کرنا چاہئے، اور دجال کے فتنے کے بارے میں آگاہ رہنا چاہئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دجال کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
حج اور عمرہ اسلام کے دو اہم سفر ہیں جو مسلمانوں کے لیے روحانی پاکیزگی، بخشش اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہیں۔ یہ دونوں عبادتیں مکہ مکرمہ میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن ان میں وقت، رسومات اور اہمیت کے اعتبار سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، جبکہ عمرہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال کے کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔
اس مضمون کا مقصد نہ صرف ان دونوں عبادات کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے، بلکہ ان کی تاریخی اہمیت، شرائط، اور روحانی فوائد سے قارئین کو روشناس کرانا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آسان اردو زبان میں یہ معلومات پیش کی جائیں تاکہ ہر پڑھنے والے کے لیے اس مقدس سفر کی تیاری میں مدد مل سکے۔
حج اور عمرہ کی تعریف اور اہمیت؛
حج کی تعریف اور فضیلت:
حج کا لغوی معنی ہے "کسی مقصد کے لیے سفر کرنا"۔ شریعت کی اصطلاح میں، یہ ذوالحجہ کے مہینے میں مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے مقدس مقامات پر مخصوص اعمال اور رسومات ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے ۔
حج کی فرضیت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہے:
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو" (سورہ آل عمران: 97)۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور کوئی فحش بات یا گناہ کا کام نہیں کیا، وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا" (بخاری و مسلم)۔
عمرہ کی تعریف اور فضیلت:
عمرہ کو "چھوٹی زیارت" یا "قاصر حج" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال کے کسی بھی وقت (سوائے حج کے ایام کے) ادا کیا جا سکتا ہے ۔ عمرہ حج کی نسبت کم رسومات پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے چند گھنٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (قبول شدہ حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں" (بخاری و مسلم)۔
حج اور عمرہ میں بنیادی فرق:
حج اور عمرہ دونوں مقدس سفر ہیں جو مسلمانوں کو اللہ کے قریب لے جاتے ہیں، لیکن ان میں کئی اہم فرق ہیں۔ ذیل کے جدول میں ان فرق کو واضح کیا گیا ہے:
پہلو حج عمرہ: حیثیت اسلام کا پانچواں رکن، ہر مستطیع پر زندگی میں ایک بار فرض سنت موکدہ، اختیاری لیکن بہت ثواب والی عبادت وقت صرف ذوالحجہ کی 8 سے 13 تاریخوں تک سال کا کوئی بھی وقت، سوائے حج کے 5 دنوں کے مدت 5 سے 6 دن چند گھنٹے سے لے کر ایک دن رسومات احرام، طواف، سعی، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، رمی جمرات، قربانی احرام، طواف، سعی، حلق یا تقصیر مکمل کرنے کا ثواب گناہوں سے پاک ہو کر لوٹنا، جنت کا حصول گناہوں کی معافی اور روحانی پاکیزگی تاریخی اہمیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، اسلام کا بنیادی رکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، نبی ﷺ نے اس کی تجدید فرمائی
حج کے ارکان اور طریقہ کار؛
احرام:
حج کا آغاز احرام سے ہوتا ہے، جو ایک خاص روحانی حالت ہے۔ مرد دو سفید بے سلے کپڑے (ازار اور رداء) پہنتے ہیں، جبکہ خواتین عام شرعی پردے میں ہوتی ہیں، البتہ ان کے لیے دستانے اور نقاب ممنوع ہے ۔ احرام کی نیت کرنے سے پہلے غسل کرنا، خوشبو لگانا اور دو رکعات نفل پڑھنا مسنون ہے۔
احرام کی حالت میں کئی چیزیں ممنوع ہو جاتی ہیں، جن میں سے اہم یہ ہیں:
· بال منڈوانا یا کٹوانا · ناخن تراشنا · خوشبو لگانا · شکار کرنا · جنسی تعلقات قائم کرنا · لڑائی جھگڑا کرنا
طواف:
طواف کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کو کہتے ہیں۔ ہر چکر حجر اسود کے بوسے یا اشارے سے شروع ہوتا ہے۔ طواف کی سات شوطے ہوتے ہیں، جن کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعات نماز پڑھی جاتی ہے ۔
سعی:
سعی صفا اور مروہ کے دو پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگانے کو کہتے ہیں۔ یہ حضرت ہاجرہ کے عمل کی یاد میں کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں ان دو پہاڑیوں کے درمیان سات بار سفر کیا تھا ۔
وقوف عرفات:
وقوف عرفات حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ 9 ذوالحجہ کو یوم عرفہ کے دن حجاج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور دوپہر سے غروب آفتاب تک اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "حج عرفات ہے" ۔
رمی جمرات؛
رمی جمرات منیٰ میں تین ستونوں (جمرات) کو کنکریاں مارنے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے شیطان کو کنکریاں ماری تھیں ۔
قربانی:
قربانی حج کے ایام میں جانور ذبح کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے، جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کی قربانی دینے کا ارادہ کیا تھا ۔
حلق یا تقصیر:
حج کے اختتام پر مرد اپنے سر منڈواتے ہیں (حلق) یا بال مختصر کرتے ہیں (تقسیر)، جبکہ خواتین انگلی کے پور کے برابر بال کٹواتی ہیں ۔
عمرہ کے ارکان اور طریقہ کار:
عمرہ کے لیے چار ارکان ہیں:
احرام:
حج کی طرح عمرہ کے لیے بھی احرام باندھنا ضروری ہے۔ میقات (مقررہ حدود) سے پہلے احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھا جاتا ہے: "لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک، لا شریک لک" ۔
طواف:
کعبہ کا طواف عمرہ کا دوسرا رکن ہے۔ حج کے طواف کی طرح یہاں بھی سات شوطے ہوتے ہیں ۔
سعی؛
صفا اور مروہ کے درمیان سعی عمرہ کا تیسرا رکن ہے۔ سات چکروں کے بعد یہ رکن مکمل ہوتا ہے ۔
حلق یا تقصیر:
عمرہ کے اختتام پر حلق یا تقصیر کر کے احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور عمرہ مکمل ہو جاتا ہے ۔
حج اور عمرہ کی مشترکہ باتیں:
اگرچہ حج اور عمرہ میں کئی فرق ہیں، لیکن کئی چیزیں دونوں میں مشترک ہیں:
1. روحانی مقاصد: دونوں عبادتوں کا بنیادی مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنا ہے ۔ 2. مقام: دونوں مکہ مکرمہ میں ادا کیے جاتے ہیں ۔ 3. کچھ رسومات: طواف، سعی، احرام، اور حلق یا تقصیر دونوں عبادتوں میں شامل ہیں ۔ 4. لباس: دونوں کے لیے احرام necessary ہے ۔ 5. اہمیت: دونوں اسلام میں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان کے بے شمار روحانی فوائد ہیں ۔
حج اور عمرہ کی تیاری کے مشورے
جسمانی تیاری:
حج اور عمرہ جسمانی طور پر کافی محنت طلب سفر ہیں، اس لیے ان کی تیاری کے لیے:
· پہلے سے چہل قدمی اور ورزش کو اپنی روزمرہ کی عادات میں شامل کریں · آرام دہ جوتے پہننے کی عادت ڈالیں · اگر آپ کو کوئی بیماری ہے تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
مالی تیاری:
حج کے لیے خاصی مالی استطاعت درکار ہوتی ہے۔ عمرہ نسبتاً سستا ہے ۔ دونوں سفروں کے لیے:
· قانونی اور معتبر ٹریول ایجنٹس سے رابطہ کریں · تمام اخراجات پہلے سے طے کر لیں · اضافی رقم ہمراہ رکھیں
روحانی تیاری:
· نمازوں کی پابندی کریں · قرآن مجید کی تلاوت کریں · نبی کریم ﷺ کی سیرت پڑھیں · حج اور عمرہ کے مسائل سیکھیں
اختتامیہ:
حج اور عمرہ دونوں اسلام کی عظیم عبادتیں ہیں جو مسلمانوں کے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، جبکہ عمرہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔
ان دونوں عبادتوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق انہیں صحیح طریقے سے ادا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان مقدس سفروں کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ آمین۔
"اور (احکامِ حج کی) یہ بات ہے، اور جو شخص اللہ کی (مقرر کردہ) حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے" (سورہ الحج: 30)۔
چودہ اگست صرف ایک دن نہیں، یہ ایک تاریخ ہے… یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دھرتی ہمیں یوں ہی نہیں ملی، اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ لاکھوں مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بہنوں کی عصمتیں قربان ہوئیں، بوڑھے والدین اپنے جوانوں کو دفنا کر بھی "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا کو بتایا گیا کہ ہم آزاد ہیں، ہمارا پرچم آزاد ہے، ہماری پہچان آزاد ہے۔
آج ہم پر فرض ہے کہ اس وطن کو صرف لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے سنواریں۔ اس کی مٹی کو علم، ایمان، اور خدمت سے مہکائیں۔ یاد رکھیں! پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہمارے ایمان، ہماری عزت اور ہماری پہچان کا دوسرا نام ہے.
اے اللہ! ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، انہیں امن و سکون والا بنا، ہر قسم کے نقصان اور فتنے سے بچا، اس کے باسیوں کو پاکیزہ رزق عطا فرما، اور ہمیں اس کی خدمت تیری اطاعت میں کرنے کی توفیق دے۔
Religion Of Islam Channel
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شبِ معراج شریف — ایک جامع اور ایمان افروز مضمون
تمہید
شبِ معراج اسلام کی اُن عظیم اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسا عظیم الشان اعزاز عطا فرمایا جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ یہ وہ مقدس رات ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ کو مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کروائی گئی، یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔
یہ واقعہ ایمان والوں کے لیے ایمان کی تازگی، روحانی ترقی اور قربِ الٰہی کا پیغام لے کر آیا۔
---
شبِ معراج کا معنی
معراج عربی لفظ “عُروج” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں بلندی کی طرف جانا۔
شبِ معراج وہ رات ہے جب نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی بلندیوں تک لے جا کر اپنی خاص نشانیاں دکھائیں۔
---
واقعۂ معراج کا پس منظر
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نبی کریم ﷺ اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔ طائف کے لوگوں نے سخت تکلیف پہنچائی تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو معراج کا عظیم تحفہ عطا فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کا دل مطمئن ہو جائے اور آپ کو اپنی عظمت اور قرب کا احساس ہو۔
---
اسراء — مکہ سے بیت المقدس تک
حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بُراق پر سوار کر کے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گئے۔
یہ سفر لمحوں میں مکمل ہوا۔ مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔
---
معراج — آسمانوں کی سیر
مسجدِ اقصیٰ سے نبی کریم ﷺ کو آسمانوں پر لے جایا گیا۔ وہاں آپ ﷺ کی ملاقات مختلف انبیاء کرام سے ہوئی:
پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ
دوسرے پر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ
تیسرے پر حضرت یوسفؑ
چوتھے پر حضرت ادریسؑ
پانچویں پر حضرت ہارونؑ
چھٹے پر حضرت موسیٰؑ
ساتویں پر حضرت ابراہیمؑ
اس کے بعد آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جہاں فرشتوں کی بھی رسائی ختم ہو جاتی ہے۔
---
اللہ تعالیٰ سے ملاقات
یہ وہ مقام تھا جہاں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی قرب نصیب ہوا۔ یہاں آپ ﷺ کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئیں، جن میں سب سے عظیم تحفہ نماز تھا۔
---
نماز کا تحفہ
پہلے 50 نمازیں فرض ہوئیں، مگر حضرت موسیٰؑ کے مشورے پر بار بار کمی ہوئی، یہاں تک کہ 5 نمازیں رہ گئیں، لیکن اجر 50 کا ہی رکھا گیا۔
یہ نماز کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
---
شبِ معراج کے پیغامات
شبِ معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
مشکلات کے بعد اللہ کی مدد ضرور آتی ہے
نماز مومن کا معراج ہے
نبی کریم ﷺ تمام انسانیت کے رہنما ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بلندی عطا فرماتا ہے
---
ہمیں اس رات کیا کرنا چاہیے؟
شبِ معراج میں ہمیں چاہیے کہ:
نفل نماز ادا کریں
قرآنِ پاک کی تلاوت کریں
درود شریف پڑھیں
گناہوں سے توبہ کریں
امتِ مسلمہ کے لیے دعا کریں
---
نتیجہ
شبِ معراج ہمیں اللہ تعالیٰ کے قرب، نبی کریم ﷺ کی عظمت اور نماز کی اہمیت کا پیغام دیتی ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم اللہ کی اطاعت اور رسول ﷺ کی سنت پر چلیں تو ہمیں بھی روحانی بلندی نصیب ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ معراج کی برکتوں سے حصہ عطا فرمائے اور ہمیں سچی نماز اور سچی محبتِ رسول ﷺ نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
3 days ago | [YT] | 4
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورۃ الاخلاص – ایک جامع اور تفصیلی مضمون
تمہید
سورۃ الاخلاص قرآنِ مجید کی ان مختصر مگر نہایت عظیم سورتوں میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور وحدانیت کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ سورت مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کی بنیاد ہے۔ سورۃ الاخلاص میں اللہ تعالیٰ کی ایسی پہچان کروائی گئی ہے جو ہر قسم کے شرک، تشبیہ اور تمثیل سے پاک ہے۔ یہ سورت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمارا رب کیسا ہے، وہ کیسا نہیں ہے، اور ہم اس پر کس طرح ایمان رکھیں۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، جب کفارِ مکہ حضور اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوال کرتے تھے کہ آپ ہمیں اپنے رب کی حقیقت بتائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص نازل فرمائی، جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک کامل عقیدہ فراہم کرتی ہے۔
سورۃ الاخلاص کا تعارف
سورۃ الاخلاص قرآنِ کریم کی 112ویں سورت ہے۔ یہ چار آیات پر مشتمل ہے، لیکن اپنے معنی اور پیغام کے اعتبار سے پورے قرآن کے خلاصے کے برابر ہے۔ اسے “اخلاص” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ بندے کے عقیدے کو خالص کر دیتی ہے، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی اور کی عبادت یا الوہیت کا تصور باقی نہیں رہتا۔
اس سورت کے دوسرے نام بھی ہیں، جیسے:
سورۃ التوحید
سورۃ الاساس
سورۃ النجاة
یہ سب نام اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سورت ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔
سورۃ الاخلاص کا متن اور ترجمہ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
کہہ دیجئے: وہ اللہ ایک ہے۔
اللَّهُ الصَّمَدُ
اللہ سب سے بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں۔
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے۔
سورۃ الاخلاص کی شانِ نزول
روایات میں آتا ہے کہ کفارِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: “اے محمد ﷺ! ہمیں اپنے رب کا نسب بتائیے۔ وہ کس سے پیدا ہوا؟ اس کا باپ کون ہے؟ اس کی ماں کون ہے؟” اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔
یہ سورت تمام باطل عقائد کا رد ہے، خواہ وہ مشرکینِ مکہ کے ہوں، یہودیوں کے ہوں یا عیسائیوں کے۔ اس میں اللہ کی ایسی پہچان دی گئی ہے جو ہر غلط تصور کو ختم کر دیتی ہے۔
آیت بہ آیت تشریح
1. قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
یہ آیت اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے۔ “احد” کا مطلب ہے وہ واحد جو نہ کسی میں تقسیم ہو، نہ اس جیسا کوئی ہو۔ اللہ ایک ہے، اس کی ذات میں بھی، صفات میں بھی اور اختیارات میں بھی۔ وہ اکیلا ہے، بے مثال ہے۔
2. اللَّهُ الصَّمَدُ
“الصمد” کا مطلب ہے وہ ذات جس پر سب کا انحصار ہو اور جو کسی پر انحصار نہ کرے۔ پوری کائنات اللہ کی محتاج ہے، لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہماری زندگی، رزق، صحت، کامیابی، سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
3. لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
یہ آیت ان تمام عقائد کی نفی کرتی ہے جو اللہ کے لیے اولاد یا والدین مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس نے کسی کو جنا۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
4. وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اللہ کا کوئی ہمسر، شریک یا برابر نہیں۔ کوئی طاقت، کوئی ہستی، کوئی وجود اللہ جیسا نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنی ذات میں یکتا اور بے مثال ہے۔
سورۃ الاخلاص کی فضیلت
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سورۃ الاخلاص قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت توحید کے اس بنیادی عقیدے کو بیان کرتی ہے جو پورے قرآن کا مرکزی موضوع ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص سورۃ الاخلاص سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔
سورۃ الاخلاص اور ہماری زندگی
سورۃ الاخلاص ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چاہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ میرا رب واحد ہے، بے نیاز ہے اور سب پر قادر ہے، تو اس کا دل خوف اور مایوسی سے آزاد ہو جاتا ہے۔
یہ سورت ہمیں شرک سے بچاتی ہے، ہمیں دکھاتی ہے کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اسی سے دعا مانگنی چاہیے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے۔
نتیجہ
سورۃ الاخلاص اگرچہ بہت مختصر ہے، لیکن اپنے مفہوم میں نہایت وسیع ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی ایسی پہچان کراتی ہے جو انسان کے دل کو ایمان سے بھر دیتی ہے۔ اگر ایک مسلمان اس سورت کے مفہوم کو سمجھ کر پڑھ لے، تو اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سورۃ الاخلاص کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور خالص توحید کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲
3 weeks ago | [YT] | 2
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
نبی ﷺ کا صبر ایک مثالی نمونہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے، "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" یعنی "صبر کرو جیسے صبر کیا اولوالعزم پیغمبروں نے کیا تھا"۔ صبر ایمان کا آدھا حصہ ہے، اور صبر کی کامل ترین مثال اگر کسی نے پیش کی ہے تو وہ حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ صبر، برداشت اور اللہ پر بھروسے سے عبارت ہے۔
مکہ کے ظلم و ستم میں صبر:
نبی ﷺ نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں وہ مصیبتیں برداشت کیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی۔ مگر آپ ﷺ نے کبھی بددعا نہ کی، بلکہ فرمایا، "اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" یعنی "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے"۔ یہ وہ صبر ہے جو دشمن کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے۔
طائف کا واقعہ:
جب آپ ﷺ طائف تشریف لے گئے، وہاں کے لوگوں نے پتھروں سے لہولہان کر دیا، حتیٰ کہ جوتیاں خون سے بھر گئیں، تب بھی آپ ﷺ نے فرمایا، "اگر وہ آج ایمان نہیں لاتے تو مجھے امید ہے ان کی نسلیں ایمان لے آئیں گی"۔ یہ صبر صرف برداشت نہیں، بلکہ رحمت کے جذبے کے ساتھ صبر تھا۔
اولاد کے غم پر صبر:
آپ ﷺ کے کئی بیٹے بچپن ہی میں وفات پا گئے، خاص طور پر حضرت ابراہیم کے انتقال پر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہے، مگر زبان سے یہ الفاظ نکلے، "اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" یعنی "ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں، مگر ہم وہی کہیں گے جو اللہ کو راضی کرے"۔ یہ صبر محبت اور رضا کا حسین امتزاج تھا۔
فتح مکہ کا منظر:
وہی دشمن جنہوں نے ظلم کیا، جلاوطن کیا ہے، جب آپ ﷺ کے سامنے مغلوب کھڑے تھے تو آپ نے فرمایا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو"۔ یہ عفو و درگزر دراصل صبر کی انتہا ہے۔
نبی ﷺ کے صبر کے نتیجے میں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" یعنی "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔ نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ مصیبت میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا صبر ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینا صبر ہے، اور دل ٹوٹنے کے بعد بھی اللہ سے امید نہ چھوڑنا حقیقی صبر ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو، تو ہمیں بھی نبی ﷺ کے صبر جیسا صبر سیکھنا ہوگا۔ اللہ ہمیں نبی ﷺ کے صبر، حلم اور برداشت کا حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
3 months ago (edited) | [YT] | 3
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
دجال: قیامت کی سب سے بڑی نشانی:
دجال ایک ایسی شخصیت ہے جس کا ذکر احادیث اور اسلامی روایات میں بار بار آیا ہے۔ یہودی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے، لیکن وہاں اسے مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، دجال ایک جھوٹا مسیحا ہوگا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
دجال کی خصوصیات:
احادیث کے مطابق، دجال کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسے پہچاننے میں مدد کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں:
1. دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس کی پیشانی پر "کافر" لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا، چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا نہیں۔
2. دجال مشرق کی سمت سے ظاہر ہوگا اور پوری دنیا کا سفر کرے گا، لیکن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ وہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔
3. دجال خود کو مسیح ظاہر کرے گا، لیکن وہ جھوٹا مسیحا ہوگا۔ وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے عجیب و غریب طاقتیں دکھائے گا۔
دجال کا فتنہ:
دجال کا فتنہ قیامت کی سب سے بڑی اور خطرناک نشانیوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ، خاص طور پر کمزور ایمان والے، اس کے فریب میں آ جائیں گے۔ یہودی اس کے سب سے بڑے حمایتی ہوں گے اور اسے اپنا نجات دہندہ سمجھیں گے۔ اس کے ساتھ شیاطین کی ایک فوج ہوگی جو لوگوں کو بہکائے گی۔
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر:
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے ہمیں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ان میں سے کچھ اہم تدابیر یہ ہیں:
1. سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے گا، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم)
2. ہر جمعے کو سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا: ہر جمعے کو سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا ایک مستحب عمل ہے جو ہمیں دجال کے فتنے سے بچنے میں مدد کر سکتا ہے۔
3. ایمان کو مضبوط کرنا: ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہئے اور دجال کے فتنے کے بارے میں آگاہ رہنا چاہئے۔
4. علم حاصل کرنا: ہمیں علم حاصل کرنا چاہئے اور دجال کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم اس کے فتنے سے بچ سکیں۔
نتیجہ:
دجال کا فتنہ ایک بہت بڑا امتحان ہے جس کے لئے ہمیں تیار رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہئے، علم حاصل کرنا چاہئے، اور دجال کے فتنے کے بارے میں آگاہ رہنا چاہئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دجال کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
3 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
حج اور عمرہ: ایک مقدس سفر:
حرفِ آغاز:
حج اور عمرہ اسلام کے دو اہم سفر ہیں جو مسلمانوں کے لیے روحانی پاکیزگی، بخشش اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہیں۔ یہ دونوں عبادتیں مکہ مکرمہ میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن ان میں وقت، رسومات اور اہمیت کے اعتبار سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، جبکہ عمرہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال کے کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔
اس مضمون کا مقصد نہ صرف ان دونوں عبادات کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے، بلکہ ان کی تاریخی اہمیت، شرائط، اور روحانی فوائد سے قارئین کو روشناس کرانا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آسان اردو زبان میں یہ معلومات پیش کی جائیں تاکہ ہر پڑھنے والے کے لیے اس مقدس سفر کی تیاری میں مدد مل سکے۔
حج اور عمرہ کی تعریف اور اہمیت؛
حج کی تعریف اور فضیلت:
حج کا لغوی معنی ہے "کسی مقصد کے لیے سفر کرنا"۔ شریعت کی اصطلاح میں، یہ ذوالحجہ کے مہینے میں مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے مقدس مقامات پر مخصوص اعمال اور رسومات ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے ۔
حج کی فرضیت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہے:
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو" (سورہ آل عمران: 97)۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور کوئی فحش بات یا گناہ کا کام نہیں کیا، وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا" (بخاری و مسلم)۔
عمرہ کی تعریف اور فضیلت:
عمرہ کو "چھوٹی زیارت" یا "قاصر حج" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال کے کسی بھی وقت (سوائے حج کے ایام کے) ادا کیا جا سکتا ہے ۔ عمرہ حج کی نسبت کم رسومات پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے چند گھنٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (قبول شدہ حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں" (بخاری و مسلم)۔
حج اور عمرہ میں بنیادی فرق:
حج اور عمرہ دونوں مقدس سفر ہیں جو مسلمانوں کو اللہ کے قریب لے جاتے ہیں، لیکن ان میں کئی اہم فرق ہیں۔ ذیل کے جدول میں ان فرق کو واضح کیا گیا ہے:
پہلو حج عمرہ:
حیثیت اسلام کا پانچواں رکن، ہر مستطیع پر زندگی میں ایک بار فرض سنت موکدہ، اختیاری لیکن بہت ثواب والی عبادت
وقت صرف ذوالحجہ کی 8 سے 13 تاریخوں تک سال کا کوئی بھی وقت، سوائے حج کے 5 دنوں کے
مدت 5 سے 6 دن چند گھنٹے سے لے کر ایک دن
رسومات احرام، طواف، سعی، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، رمی جمرات، قربانی احرام، طواف، سعی، حلق یا تقصیر
مکمل کرنے کا ثواب گناہوں سے پاک ہو کر لوٹنا، جنت کا حصول گناہوں کی معافی اور روحانی پاکیزگی
تاریخی اہمیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، اسلام کا بنیادی رکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت، نبی ﷺ نے اس کی تجدید فرمائی
حج کے ارکان اور طریقہ کار؛
احرام:
حج کا آغاز احرام سے ہوتا ہے، جو ایک خاص روحانی حالت ہے۔ مرد دو سفید بے سلے کپڑے (ازار اور رداء) پہنتے ہیں، جبکہ خواتین عام شرعی پردے میں ہوتی ہیں، البتہ ان کے لیے دستانے اور نقاب ممنوع ہے ۔ احرام کی نیت کرنے سے پہلے غسل کرنا، خوشبو لگانا اور دو رکعات نفل پڑھنا مسنون ہے۔
احرام کی حالت میں کئی چیزیں ممنوع ہو جاتی ہیں، جن میں سے اہم یہ ہیں:
· بال منڈوانا یا کٹوانا
· ناخن تراشنا
· خوشبو لگانا
· شکار کرنا
· جنسی تعلقات قائم کرنا
· لڑائی جھگڑا کرنا
طواف:
طواف کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کو کہتے ہیں۔ ہر چکر حجر اسود کے بوسے یا اشارے سے شروع ہوتا ہے۔ طواف کی سات شوطے ہوتے ہیں، جن کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعات نماز پڑھی جاتی ہے ۔
سعی:
سعی صفا اور مروہ کے دو پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگانے کو کہتے ہیں۔ یہ حضرت ہاجرہ کے عمل کی یاد میں کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں ان دو پہاڑیوں کے درمیان سات بار سفر کیا تھا ۔
وقوف عرفات:
وقوف عرفات حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ 9 ذوالحجہ کو یوم عرفہ کے دن حجاج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور دوپہر سے غروب آفتاب تک اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "حج عرفات ہے" ۔
رمی جمرات؛
رمی جمرات منیٰ میں تین ستونوں (جمرات) کو کنکریاں مارنے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کی یاد دلاتا ہے، جب انہوں نے شیطان کو کنکریاں ماری تھیں ۔
قربانی:
قربانی حج کے ایام میں جانور ذبح کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے، جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کی قربانی دینے کا ارادہ کیا تھا ۔
حلق یا تقصیر:
حج کے اختتام پر مرد اپنے سر منڈواتے ہیں (حلق) یا بال مختصر کرتے ہیں (تقسیر)، جبکہ خواتین انگلی کے پور کے برابر بال کٹواتی ہیں ۔
عمرہ کے ارکان اور طریقہ کار:
عمرہ کے لیے چار ارکان ہیں:
احرام:
حج کی طرح عمرہ کے لیے بھی احرام باندھنا ضروری ہے۔ میقات (مقررہ حدود) سے پہلے احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھا جاتا ہے: "لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک، لا شریک لک" ۔
طواف:
کعبہ کا طواف عمرہ کا دوسرا رکن ہے۔ حج کے طواف کی طرح یہاں بھی سات شوطے ہوتے ہیں ۔
سعی؛
صفا اور مروہ کے درمیان سعی عمرہ کا تیسرا رکن ہے۔ سات چکروں کے بعد یہ رکن مکمل ہوتا ہے ۔
حلق یا تقصیر:
عمرہ کے اختتام پر حلق یا تقصیر کر کے احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور عمرہ مکمل ہو جاتا ہے ۔
حج اور عمرہ کی مشترکہ باتیں:
اگرچہ حج اور عمرہ میں کئی فرق ہیں، لیکن کئی چیزیں دونوں میں مشترک ہیں:
1. روحانی مقاصد: دونوں عبادتوں کا بنیادی مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنا ہے ۔
2. مقام: دونوں مکہ مکرمہ میں ادا کیے جاتے ہیں ۔
3. کچھ رسومات: طواف، سعی، احرام، اور حلق یا تقصیر دونوں عبادتوں میں شامل ہیں ۔
4. لباس: دونوں کے لیے احرام necessary ہے ۔
5. اہمیت: دونوں اسلام میں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان کے بے شمار روحانی فوائد ہیں ۔
حج اور عمرہ کی تیاری کے مشورے
جسمانی تیاری:
حج اور عمرہ جسمانی طور پر کافی محنت طلب سفر ہیں، اس لیے ان کی تیاری کے لیے:
· پہلے سے چہل قدمی اور ورزش کو اپنی روزمرہ کی عادات میں شامل کریں
· آرام دہ جوتے پہننے کی عادت ڈالیں
· اگر آپ کو کوئی بیماری ہے تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
مالی تیاری:
حج کے لیے خاصی مالی استطاعت درکار ہوتی ہے۔ عمرہ نسبتاً سستا ہے ۔ دونوں سفروں کے لیے:
· قانونی اور معتبر ٹریول ایجنٹس سے رابطہ کریں
· تمام اخراجات پہلے سے طے کر لیں
· اضافی رقم ہمراہ رکھیں
روحانی تیاری:
· نمازوں کی پابندی کریں
· قرآن مجید کی تلاوت کریں
· نبی کریم ﷺ کی سیرت پڑھیں
· حج اور عمرہ کے مسائل سیکھیں
اختتامیہ:
حج اور عمرہ دونوں اسلام کی عظیم عبادتیں ہیں جو مسلمانوں کے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، جبکہ عمرہ ایک ایسی سنت عبادت ہے جسے سال میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔
ان دونوں عبادتوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق انہیں صحیح طریقے سے ادا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان مقدس سفروں کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ آمین۔
"اور (احکامِ حج کی) یہ بات ہے، اور جو شخص اللہ کی (مقرر کردہ) حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے" (سورہ الحج: 30)۔
3 months ago (edited) | [YT] | 0
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
سورۃ الاحزاب،۵۶
3 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
جشنِ آزادی — میرا پاکستان 🌺
چودہ اگست صرف ایک دن نہیں، یہ ایک تاریخ ہے…
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دھرتی ہمیں یوں ہی نہیں ملی، اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ لاکھوں مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بہنوں کی عصمتیں قربان ہوئیں، بوڑھے والدین اپنے جوانوں کو دفنا کر بھی "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا کو بتایا گیا کہ ہم آزاد ہیں، ہمارا پرچم آزاد ہے، ہماری پہچان آزاد ہے۔
آج ہم پر فرض ہے کہ اس وطن کو صرف لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے سنواریں۔ اس کی مٹی کو علم، ایمان، اور خدمت سے مہکائیں۔ یاد رکھیں! پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہمارے ایمان، ہماری عزت اور ہماری پہچان کا دوسرا نام ہے.
اللّٰهُمَّ احْفَظْ بِلادَنَا وَبِلادَ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْهَا آمنَةً مُطْمَئِنَّةً، وَادْفَعْ عَنْهَا كُلَّ سُوءٍ وَفِتْنَةٍ، وَارْزُقْ أَهْلَهَا رِزْقًا طَيِّبًا، وَوَفِّقْنَا لِخِدْمَتِهَا فِي طَاعَتِكَ.
اے اللہ! ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما، انہیں امن و سکون والا بنا، ہر قسم کے نقصان اور فتنے سے بچا، اس کے باسیوں کو پاکیزہ رزق عطا فرما، اور ہمیں اس کی خدمت تیری اطاعت میں کرنے کی توفیق دے۔
اللہم آمین.
جشن آزادی مبارک 🌺
5 months ago | [YT] | 10
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
Eid UL-Adha Mubarak,,,,
7 months ago | [YT] | 5
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
پیار ے نبی مُحَمَّدﷺ پر کڑوڑوں درود وسلام ،،،جمعہ مبارک ،،،
10 months ago | [YT] | 7
View 0 replies
Religion Of Islam Channel
پلیز آج کی رات سب مسلمانوں کلیے دعا کیجۓ گا،،،
11 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
Load more